1. اس فورم پر جواب بھیجنے کے لیے آپ کا صارف بننا ضروری ہے۔ اگر آپ ہماری اردو کے صارف ہیں تو لاگ ان کریں۔

لاجواب غزل

'اردو شاعری' میں موضوعات آغاز کردہ از مخلص انسان, ‏4 جنوری 2016۔

  1. صحیح انسان
    آف لائن

    صحیح انسان ممبر

    شمولیت:
    ‏14 اکتوبر 2016
    پیغامات:
    141
    موصول پسندیدگیاں:
    42
    ملک کا جھنڈا:
    میں لوگوں سے ملاقاتوں کے لمحے یاد رکھتا ہوں
    میں باتیں بھول بھی جاؤں تو لہجے یاد رکھتا ہوں
    سر محفل نگاہیں مجھ پہ جن لوگوں کی پڑتی ہیں
    نگاہوں کے معانی سے وہ چہرے یاد رکھتا ہوں
    ذرا سا ہٹ کے چلتا ہوں زمانے کی روایت سے
    کہ جن پہ بوجھ میں ڈالوں وہ کاندھے یاد رکھتا ہوں
    میں یوں تو بھول جاتا ہوں خراشیں تلخ باتوں کی
    مگر جو زخم گہرے دیں وہ رویے یاد رکھتا ہوں
     
  2. حنا شیخ
    آف لائن

    حنا شیخ ممبر

    شمولیت:
    ‏21 جولائی 2016
    پیغامات:
    2,709
    موصول پسندیدگیاں:
    1,565
    ملک کا جھنڈا:
    قاصد جو تھا بہار کا، نامعتبر ہُوا
    گُلشن میں بندوبست برنگِ دِگر ہُوا
    خواہش جو شاخِ حرف پہ چَٹکی، بِکھر گئی
    آنسو جو دِل میں بند رہا، وہ گُہر ہُوا
    اِک منحرف گواہ کی صُورت، چراغِ شام
    اُس کی گلی میں رات مرا ہمسفر ہوا
    آواز کیا، کہ شکل بھی پہچانتا نہیں
    غافل ہمارے حال سے وہ اِس قدر ہوا
    عُمرِ رواں کے رَخت میں ایسا نہیں کوئی
    جو پَل تُمہاری یاد سے باہر بسر ہُوا
    خُوشبو تھی جو خیال میں، رِزقِ اَلم ہُوئی
    جو رنگِ اعتبار تھا، گردِ سفر ہُوا
    دل کی گلی میں حدِّ نظر تک تھی روشنی
    کِرنیں سفیر، چاند ترا نامہ بر ہُوا
    تارے مِرے وکیل تھے، خُوشبو تِری گواہ
    کل شب عجب معاملہ، پیشِ نظر ہُوا
    امجدؔ! اگر وہ دورِ جنُوں جا چُکا، تو پِھر
    لہجے میں کیوں یہ فرق کسی نام پر ہُوا

    امجد اسلام امجدؔ​
     
  3. صحیح انسان
    آف لائن

    صحیح انسان ممبر

    شمولیت:
    ‏14 اکتوبر 2016
    پیغامات:
    141
    موصول پسندیدگیاں:
    42
    ملک کا جھنڈا:
    تو نے دیکھا ہے کبھی ایک نظر شام کے بعد
    کتنے چپ چاپ سے لگتے ہیں شجر شام کے بعد

    اتنے چپ چاپ کے رستے بھی رہیں گے لا علم
    چھوڑ جائیں گے کسی روز نگر شام کے بعد

    میں نے ایسے ہی گناہ تیری جدائی میں کیے
    جیسے طوفاں میں کوئی چھوڑ دے گھر شام کے بعد

    شام سے پہلے وہ مست اپنی اڑانوں میں رہا
    جس کے ہاتھوں میں تھے ٹوٹے ہوئے پر شام کے بعد

    رات بیتی تو گنے آبلے اور پھر سوچا
    کون تھا باعث آغاز سفر شام کے بعد

    تو ہے سورج تجھے معلوم کہاں رات کا دکھ
    تو کسی روز میرے گھر میں اتر شام کے بعد

    لوٹ آئے نہ کسی روز وہ آوارہ مزاج
    کھول رکھتے ہیں اسی آس پہ در شام کے بعد
    ( بشکریہ : فرحت عباس شاہ )
     
  4. حنا شیخ
    آف لائن

    حنا شیخ ممبر

    شمولیت:
    ‏21 جولائی 2016
    پیغامات:
    2,709
    موصول پسندیدگیاں:
    1,565
    ملک کا جھنڈا:
    یہاں کسی کو بھی کچھ حسبِ آرزو نہ ملا
    کسی کو ہم نہ ملے اور ہم کو تُو نہ ملا

    غزالِ اشک سرِ صبح دوبِ مژگاں پر
    کب آنکھ اپنی کھلی اور لہو لہو نہ ملا

    چمکتے چاند بھی تھےشہرِِ شب کے ایواں میں
    نِگارِ غم سا مگر کوئی شمع رو نہ ملا

    انہی کی رمز چلی ہے گلی گلی میں یہاں
    جنہیں اُدھر سے کبھی اِذنِ گفتگو نہ ملا

    پِھر آج مے کدہء دل سے لوٹ آئے ہیں
    پِھر آج ہم کو ٹھکانے کا ہم سُبو نہ ملا

    ظفر اقبال​
     
  5. صحیح انسان
    آف لائن

    صحیح انسان ممبر

    شمولیت:
    ‏14 اکتوبر 2016
    پیغامات:
    141
    موصول پسندیدگیاں:
    42
    ملک کا جھنڈا:
    کل رات اس سے خواب میں یوں سامنا ہوا
    نظریں ملیں تو مجھ سے میرا دل جدا ہوا

    ایک پل بھی تیری یاد سے غافل نہیں تھے ہم
    کہنے کو دل تو بارہا تجھ سے جدا ہوا

    پہلے تو ٹھیس لگتی نہ تھی اعتماد کو
    ہر چند بار بار وہ مجھ سے خفا ہوا

    ہم مفلسی کے بوجھ تلے دب کے رہ گئے
    ارمان جو بھی دل میں تھا آخر فنا ہوا

    دشمن کی دشمنی تو عیاں سب پہ تھی مگر
    ایک تیر دوستی کا ہے دل میں لگا ہوا

    خون حنا جناب کے سر پر نہ آئے گا
    کہئے کہ ہاتھ سرخ برنگ حنا ہوا
    ( بشکریہ : صابرہ خاتون حنا )
     
  6. حنا شیخ
    آف لائن

    حنا شیخ ممبر

    شمولیت:
    ‏21 جولائی 2016
    پیغامات:
    2,709
    موصول پسندیدگیاں:
    1,565
    ملک کا جھنڈا:
    عشق میں جان سے گذرتے ہیں گذرنے والے
    موت کی راہ نہیں دیکھتے مرنے والے
    آخری وقت بھی پورا نہ کیا وعدۂ وصل
    آپ آتے ہی رہے، مر گئے مرنے والے
    اُٹھے اور کوچۂ محبوب میں پہنچے عاشق
    یہ مسافر نہیں رَستے میں ٹھہرنے والے
    جان دینے کا کہا میں نے تو ہنس کر بولے
    تم سلامت رہو، ہر روز کے مرنے والے
    آسماں پہ جو ستارے نظر آئے امیرؔ
    یاد آئے مجھے داغ اپنے اُبھرنے والے

    امیرؔ مینائی
     
  7. صحیح انسان
    آف لائن

    صحیح انسان ممبر

    شمولیت:
    ‏14 اکتوبر 2016
    پیغامات:
    141
    موصول پسندیدگیاں:
    42
    ملک کا جھنڈا:
    دستور یہاں بھی گونگے ہیں فرمان یہاں بھی اندھے ہیں
    اے دوست خدا کا نام نہ لے ایمان یہاں بھی اندھے ہیں

    تقدیر کے کالے کمبل میں عظمت کے فسانے لپتے ہیں
    مضمون یہاں بھی بہرے ہیں عنوان یہاں بھی اندھے ہیں

    زردار توقع رکھتا ہے نادار کی گاڑھی محنت پہ
    مزدور یہاں بھی دیوانے ذیشان یہاں بھی اندھے ہیں

    کچھ لوگ بھروسہ کرتے ہیں تسبیح کے چلتے دانوں پر
    بے چین یہاں یزداں کا جنوں انسان یہاں بھی اندھے ہیں

    بے نام جفا کی راہوں پر کچھ خاک سی اڑھتی دیکھی ہے
    حیران ہیں دلوں کے آئینے نادان یہاں بھی اندھے ہیں

    بے رنگ شفق سی ڈھلتی ہے بے نور سویرے ہوتے ہیں
    شاعر کا تصور بھوکا ہے سلطان یہاں بھی اندھے ہیں
    ( ساغر صدیقی )
     
  8. شانی
    آف لائن

    شانی ممبر

    شمولیت:
    ‏18 فروری 2012
    پیغامات:
    3,129
    موصول پسندیدگیاں:
    241
    ملک کا جھنڈا:
    نہ ہارا ہے عشق اور نہ دنیا تھکی ہے
    دیا جل رہا ہے ،ہوا چل رہی ہے

    سکون ہی سکون ہے خوشی ہی خوشی ہے
    تیرا غم سلامت مجھے کیا کمی ہے

    چراغوں کے بدلے مکاں جل رہے ہیں
    نیا ہے زمانہ نئی روشنی ہے

    ارے او جفائوں پہ چپ رہنے والو
    خاموشی جفائوں کی تائید بھی ہے

    میرا رہبر مجھ کو گمراہ نہ کر دے
    سنا ہے کہ منزل قریب آ رہی ہے

    خمار بالا نوش کی تو اور توبہ
    تجھے زائدوں کی نظر لگ گئی ہے
     
  9. اخری انسان
    آف لائن

    اخری انسان ممبر

    شمولیت:
    ‏24 اکتوبر 2016
    پیغامات:
    192
    موصول پسندیدگیاں:
    36
    ملک کا جھنڈا:
    سلسلے توڑ گیا ، وہ سبھی جاتے جاتے
    ورنہ اتنے تو مراسم تھے ، کہ آتے جاتے

    شکوہ ظلمت شب سے ، تو کہیں‌ بہتر تھا
    اپنے حصے کی کوئی شمع جلاتے جاتے

    کتنا آساں تھا تیرے ہجر میں مرنا جاناں
    پھر بھی اک عمر لگی ، جان سے جاتے جاتے

    جشن مقتل ہی نہ برپا ہوا ، ورنہ ہم بھی
    پابجولاں ہی سہی ، ناچتے گاتے جاتے

    اس کی وہ جانے اسے پاس وفا تھا کہ نہ تھا
    تم فراز ! اپنی طرف سے تو ، نبھاتے جاتے
     
  10. اخری انسان
    آف لائن

    اخری انسان ممبر

    شمولیت:
    ‏24 اکتوبر 2016
    پیغامات:
    192
    موصول پسندیدگیاں:
    36
    ملک کا جھنڈا:
    کانٹے ہیں خشک ریت میں اور آب میں کنول
    صحرا میں خارزار ہیں تالاب میں کنول
    وہ دیکھ میرے دیدہ پر آب میں کنول
    وہ دیکھ میرے جام ، مئے ناب میں کنول
    حافظ ہے عشق حسن ہے محفوظ کیا ہے ڈر ؟
    کانٹوں میں ہے گلاب تو تالاب میں کنول
    مدت کے بعد حسن نے انگڑائی لی ہے پھر
    پھر کھل رہے ہیں اس دل بیتاب میں کنول
    جب تک رہے گی حسن کی نظر کرم
    کھلتے رہیں گے یوں ہی میرے خواب میں کنول
     
  11. اخری انسان
    آف لائن

    اخری انسان ممبر

    شمولیت:
    ‏24 اکتوبر 2016
    پیغامات:
    192
    موصول پسندیدگیاں:
    36
    ملک کا جھنڈا:
    دل ناشاد کے بجھتے ہوئے ارمان کی مانند
    سبھی سپنے ہوئے جاتے ہیں قبرستان کی مانند
    دیار دل کے موسم میں خزاں ہے اب مکیں ایسے
    میں اپنے گھر میں بھی لگتا ہوں ایک مہمان کی مانند
    یہ جو ہجر مسلسل ہے مجھے جینے نہیں دیتا
    کسی بیمار کے بگڑے ہوئے سرطان کی مانند
    ہوئی مدت رہ دنیا پہ لاوارث پڑا ہوں میں
    مسافر کے کسی بھولے ہوئے سامان کی مانند
    میرا ہمدم بھی پاگل ہے ہمیشہ درد دیتا ہے
    سمجھتا ہی نہیں میری دل نادان کی مانند
    کبھی ملتے تھے ہم گنگا میں جمنا کی طرح لیکن
    بچھڑ کر ہو گئے ہیں ہجر کے عنوان کی مانند
    جگر چھلنی سہی غم میں ہنسی ہونٹوں پہ اب بھی ہے
    کڑی مشکل سے بچنے کے کسی امکان کی مانند
    بڑا دم ہے تجھے کھو کر بھی زندہ ہوں اسد لیکن
    کسی حالات سے ہارے ہوئے انسان کی مانند
     
  12. اخری انسان
    آف لائن

    اخری انسان ممبر

    شمولیت:
    ‏24 اکتوبر 2016
    پیغامات:
    192
    موصول پسندیدگیاں:
    36
    ملک کا جھنڈا:
    اور تو کوئی بس نہ چلے گا ہجر کے ماروں کا
    صبح کا ہونا دوبھر کر دیں رستہ روک کرستاروں کا

    جھوٹے سکوں میں بھی اٹھا دیتے ہیں یہ اکثر سچا مال
    شکلیں دیکھ کے سودے کرنا کام ہے ان بنجاروں کا

    اپنی زبان سے کچھ نہ کہیں چپ ہی رہیں گے عاشق لوگ
    تم سے تو اتنا ہو سکتا ہے پوچھو حال بچاروں کا

    جس جپسی کا ذکر ہے تم سے دل سے دل کو اس کی کھوج رہی
    یوں تو ہمارے شہر میں اکثر میلا لگا نگاروں کا

    انشاء جی اب اجنبیوں میں چین سے باقی عمر کٹے
    جن کی خاطر بستی چھوٹی نام نہ لو ان پیاروں کا
    ابن انشاء
     
  13. حنا شیخ
    آف لائن

    حنا شیخ ممبر

    شمولیت:
    ‏21 جولائی 2016
    پیغامات:
    2,709
    موصول پسندیدگیاں:
    1,565
    ملک کا جھنڈا:

    گلبرگ سی زباں سے بلبل نے کیا فغاں کی
    سب جیسے اڑ گئی ہے رنگینی گلستاں کی
    مطلوب گم کیا ہے تب اور بھی پھرے ہے
    بے وجہ کچھ نہیں ہے گردش یہ آسماں کی
    مائل ستم کے ہونا جور و جفا بھی کرنا
    انصاف سے یہ کہنا یہ رسم ہے کہاں کی
    ہے سبزئہ لب جو اس لطف سے چمن میں
    جوں بھیگتی مسیں ہوں کوئی سرو نوجواں کی
    میں گھر جہاں میں اپنے لڑکوں کے سے بنائے
    جب چاہا تب مٹایا بنیاد کیا جہاں کی
    صوم و صلوٰۃ یکسو میخانے میں جو تھے ہم
    آواز بھی نہ آئی کانوں میں یاں اذاں کی
    جب سامنے گئے ہم ہم نے اسے دعا دی
    شکل ان نے دیکھتے ہی غصہ کیا زباں کی
    دیکھیں تو میر کیونکر ہجراں میں ہم جیے ہیں
    ہے اضطراب دل کا بے طاقتی ہے جاں کی
    میر تقی میر​
     
  14. تیسرا انسان
    آف لائن

    تیسرا انسان ممبر

    شمولیت:
    ‏7 نومبر 2016
    پیغامات:
    454
    موصول پسندیدگیاں:
    97
    ملک کا جھنڈا:
    وہ اپنے ہاتھ میں جب چوڑیاں گھماتی ہے
    تو ایک یاد اسے دیر تک رلاتی ہے
    جبیں شناس نہیں آستاں کی رقاصہ
    نشان سجدہ ہر کس اٹھائے لاتی ہے
    جو لوگ آ کے کنارے پہ مر گئے پیاسے
    ندی انہیں کے لیے گیت گنگناتی ہے
    جہاں جبل نے گریبان آسماں پکڑا
    سیاہ بدلی وہیں بجلیاں گراتی ہے
    وہ ڈال جس کے پرندے گئے تھے جاڑے میں
    ہلا کے ہاتھ انہیں دور سے بلاتی ہے
    ( بشکریہ : تنویر حسین )
     
  15. حنا شیخ
    آف لائن

    حنا شیخ ممبر

    شمولیت:
    ‏21 جولائی 2016
    پیغامات:
    2,709
    موصول پسندیدگیاں:
    1,565
    ملک کا جھنڈا:
    ہم ہوں تنہا، تو نہیں دشت کی پنہائی بہت
    ساتھ تیرا ہو تو چھوٹی سی یہ انگنائی بہت
    اِک یہی ہے مِرا سرمایہ، اِسے بھی لے لے
    تیری بے مِہری سلامت ہے تو رُسوائی بہت
    چاندنی شب بھی نہ تھی آج، نہ رُت پُھولوں کی
    کیوں چلی ایسی ہوا، یاد تِری آئی بہت
    یہ نہ تھی پہلی دفعہ کی تو جُدائی کوئی
    جانے کیوں آج طبیعت مِری گھبرائی بہت
    تجھ سے بچھڑیں کہ کوئی اور بہانہ مِل جائے
    ہم کو رہتی ہے سدا غم سے شناسائی بہت

    اعجازؔ عبید
     
  16. تیسرا انسان
    آف لائن

    تیسرا انسان ممبر

    شمولیت:
    ‏7 نومبر 2016
    پیغامات:
    454
    موصول پسندیدگیاں:
    97
    ملک کا جھنڈا:
    ایک بات کہوں گر سنتے ہو
    تم مجھ کو اچھے لگتے ہو
    کچھ چپ چپ سے
    کچھ چنچل سے
    کچھ پاگل پاگل لگتے ہو
    ہیں چاہنے والے اور بہت
    پر تم میں ہے ایک بات بہت
    تم اپنے اپنے سے لگتے ہو
    ایک بات کہوں گر سنتے ہو
    تم مجھ کو اچھے لگتے ہو !!
     
  17. حنا شیخ
    آف لائن

    حنا شیخ ممبر

    شمولیت:
    ‏21 جولائی 2016
    پیغامات:
    2,709
    موصول پسندیدگیاں:
    1,565
    ملک کا جھنڈا:
    کیا ضروری ہے وہ ہمرنگِ نوا بھی ہو جائے
    تم جدھر چاہو، اُدھر کو یہ ہوا بھی ہو جائے
    اپنے پر نوچ رہا ہے تیرا زندانیٔ دل
    اِسے ممکن ہے رِہائی کی سزا بھی ہو جائے
    دل کا دامانِ دریدہ نہیں سلِتا، تو میاں
    بھاڑ میں جائے اگر چاک رِدا بھی ہو جائے
    تم یقیں ہو، تو گماں ہجر کا کم کیا ہو گا؟
    چشمِ بے خواب، اگر خواب نُما بھی ہو جائے
    کہیں ایسا نہ ہو، اِس ڈُوبتے خُورشید کے ساتھ
    تیری آواز میں گُم میری صدا بھی ہو جائے
    ہم اسیرِ دل و جاں خُود سے بھی سہمے ہوئے ہیں
    خلقتِ شہر تو ہونے کو خُدا بھی ہو جائے
    مجلسِ شاہ کے ہیں سارے مصاحب خاموش
    ہمنوا دل کا امیر الامراء بھی ہو جائے

    خالدؔ علیم
     
  18. تیسرا انسان
    آف لائن

    تیسرا انسان ممبر

    شمولیت:
    ‏7 نومبر 2016
    پیغامات:
    454
    موصول پسندیدگیاں:
    97
    ملک کا جھنڈا:
    روح کے اس غبار سے اپنا بدن اتار کر
    جان بھی دل بھی وار کر ، کس نے کہا تھا پیار کر
    کیسے تھمے کسک نہاں ، ٹھہرے تو کیسے کرب جاں
    جاؤں تو میں بھلا کہاں ، بازی عشق ہار کر
    میں کہ غریق تو ہوا ، پھر بھی نہ سرخرو ہوا
    دل کہ لہو لہو ہوا ، آنکھ بھی خون بار کر
    زعم خلوص تھا عبث ، دل پہ کہاں تھی دسترس
    پلٹی تو بازگشت بس ، دیکھا تجھے پکار کر
    لمحہ بہ لمحہ امتحاں ، عمر بہ عمر بے نشاں
    ساری حیات رائیگاں ، چند ہی پل شمار کر
    چاہے نہ دے قرار تو ، بخش نہ اعتبار تو
    عمر نہ کر نثار تو ، ایک گھڑی نثار کر
    ہونٹوں پہ بے زبانیاں ، آنکھوں میں بد گمانیاں
    اپنی یہ مہربانیاں مجھ پہ نہ بار بار کر
    درد کی ہے نظر ابھی ، دور ہے خواب در ابھی
    نجم شمار کر ابھی ، نیند کا انتظار کر
     
  19. حنا شیخ
    آف لائن

    حنا شیخ ممبر

    شمولیت:
    ‏21 جولائی 2016
    پیغامات:
    2,709
    موصول پسندیدگیاں:
    1,565
    ملک کا جھنڈا:
    دُشمنِ جاں کئی قبیلے ہُوئے
    پھر بھی خُوشبو کے ہاتھ پِیلےہُوئے

    بد گُمانی کے سَرد موسم میں
    میری گُڑیا کے ہاتھ نِیلے ہُوئے

    جب زمیں کی زباں چٹخنے لگی
    تب کہیں بارشوں کے حیلے ہُوئے

    وقت نے خاک وہ اُڑائی ہے
    شہر آباد تھے جو ٹِیلے ہُوئے

    جب پرندوں کی سانس رُکنے لگی
    تب ہواؤں کے کُچھ وسیلے ہُوئے

    کوئی بارش تھی بد گُمانی کی
    سارے کاغذ ہی دِل کے گَیلے ہُوئے
    نوشی گیلانی
     
  20. شانی
    آف لائن

    شانی ممبر

    شمولیت:
    ‏18 فروری 2012
    پیغامات:
    3,129
    موصول پسندیدگیاں:
    241
    ملک کا جھنڈا:
    نزدیکیوں میں دور کا منظر تلاش کر
    جو ہاتھ میں نہیں ہے وہ پتھر تلاش کر

    سورج کے ارد گرد بھٹکنے سے فائدہ
    دریا ھوا ہے غم تو سمندر تلاش کر

    تاریخ میں محل بھی ہیں حاکم بھی تخت بھی
    گمنام جو ھوئے ہیں وہ لشکر تلاش کر

    رہتا نہیں ہے کچھ بھی یہاں ایک سا صدا
    دروازہ گھر کا کھول کر پھر گھر تلاش کر

    کوشش بھی کر امید بھی رکھ رستہ بھی چن
    پھر اسکے بعد تھوڑا مقدر تلاش کر
     
  21. تیسرا انسان
    آف لائن

    تیسرا انسان ممبر

    شمولیت:
    ‏7 نومبر 2016
    پیغامات:
    454
    موصول پسندیدگیاں:
    97
    ملک کا جھنڈا:
    ایک دیوانے سے بھرے شہر کو جا لگتی ہے
    یہ محبت تو مجھے کوئی وبا لگتی ہے
    روز آتی ہے میرے پاس تسلی دینے
    شب تنہائی ! بتا ، تو میری کیا لگتی ہے
    ایک فقط تو ہے جو بدلا ہے دنوں میں ورنہ
    لگتے لگتے ہی زمانے کی ہوا لگتی ہے
    آنکھ سے اشک گرا ہے سو میاں ! ہاتھ اٹھا
    تارہ ٹوٹے پہ جو کی جائے دعا ، لگتی ہے
    تیری آنکھوں کے ستاروں کے طفیل اے میرے دوست
    دشت پر ہول کی ظلمت بھی ضیا لگتی ہے
    وہ جو ملتی ہی نہیں عالم بیداری میں
    آنکھ لگتے ہی میرے سینے سے آ لگتی ہے
    بات جتنی بھی ہو بے جا مگر اے شیریں سخن !
    جب تیرے لب سے ادا ہو تو بجا لگتی ہے
    خوش گمانی کا یہ عالم ہے کہ فارس اکثر
    یار کرتے ہیں جفا ، ہم کو وفا لگتی ہے !!
    ( بشکریہ : رحمان فارس )
     
  22. تیسرا انسان
    آف لائن

    تیسرا انسان ممبر

    شمولیت:
    ‏7 نومبر 2016
    پیغامات:
    454
    موصول پسندیدگیاں:
    97
    ملک کا جھنڈا:
    میں خزاں رسیدہ گلاب ہوں مجھے چاہتوں کی بہار دے
    میرے ہم نفس میرے پاس آ ، مجھے چند سانسیں ادھار دے

    میں محبتوں کی کتاب ہوں مجھے اپنے دل کی نظر سے پڑھ
    میرا حرف حرف اجال دے ، میرا لفظ لفظ نکھار دے

    مجھے آنکھ بھرکے تو دیکھ لے ، میرے واسطے ہے تو آئینہ
    میری سادگی میں بھی حسن ہو ، میرا روپ ایسا نکھار دے

    تیری کشتی پر میں سوار ہوں ، تیری مرضی اب میرے نا خدا
    تو جدھر سے چاہے گزار دے ، تو جہاں بھی چاہے اتار دے

    جسے تو لکھے اسے میں پڑھوں جسے میں لکھوں اسے تو پڑھے
    میں تیری غزل کو سنوار دوں تو میری غزل کو سنوار دے

    مجھے گلستانوں سے کیا غرض ، مجھے دشت و صحرا کا خوف کیا
    اسی راستے پہ میں چل پڑوں تو جہاں سے مجھ کو پکار دے

    میں کروں گی دل سے قبول اسے ، مجھے نذر جو بھی کرے گا تو
    مجھے دے سکے نہ تو پھول اگر تیرے پاس خار ہے خار دے

    میرا ظرف تو نہ یوں آزما ، میرا غم ہے نغمہ جاوداں
    میرے ضبط کی کوئی حد نہیں ، مجھے زخم چاہے ہزار دے
    ( بشکریہ : نغمہ نور )
     
  23. تیسرا انسان
    آف لائن

    تیسرا انسان ممبر

    شمولیت:
    ‏7 نومبر 2016
    پیغامات:
    454
    موصول پسندیدگیاں:
    97
    ملک کا جھنڈا:
    غلط معانی دیے جاتے ہیں زیر لب تبسم کو
    سمجھ پائے نہ اب تک لوگ اس خاموش قلزم کو

    بڑا دھوکہ دیا ہم کو ہماری خوش خیالی نے
    نہ جانے کیا سمجھ بیٹھے نگاہوں کے تصادم کو

    محبت میں خطائیں ایک جانب سے نہیں ہوتیں
    نہ تم الزام دو ہم کو ، نہ ہم الزام دیں تم کو

    زباں خاموش ، ماتھے پر شکن ، آنکھوں میں افسانے
    کوئی سمجھائے کیا کہتے ہیں اس طرز تکلم کو

    تمھیں ناراض ہونے کا سلیقہ بھی نہیں آتا
    شکن ماتھے پی ڈالو ، اور روکو اس تبسم کو

    زمانہ ہو گیا اقبال ہم ایک ساتھ رہتے ہیں
    تعجب ہے سمجھ پائے نہ تم ہم کو ، نہ ہم تم کو
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ( اقبال عظیم )
     
  24. تیسرا انسان
    آف لائن

    تیسرا انسان ممبر

    شمولیت:
    ‏7 نومبر 2016
    پیغامات:
    454
    موصول پسندیدگیاں:
    97
    ملک کا جھنڈا:
    رہ طلب میں کسے آرزوئے منزل ہے
    شعور ہو تو سفر خود سفر کا حاصل ہے
    نہ دے سکے گا میرے عشق بے مقام کا ساتھ
    فروغ حسن کہ اب تک اسیر محفل ہے
    خطا پہ ناز سزا پر غور کیا کیجئے
    کوئی دلیل نہ منطق عجیب شئے دل ہے
    جہاں سے رکھتے ہیں ربط نیاز رکھتے ہیں
    جبیں جھکائیں ہر ایک آستاں پہ مشکل ہے
    نہ سیکھ پائے جو آداب بے سوالی کے
    وہ ہاتھ کب تیرے دست کرم کے قابل ہے
    خود اپنے شوق پہ ہے انحصار مرگ و حیات
    ہمارا کوئی مسیحا نہ کوئی قاتل ہے
    چھٹے کشاکش امید و بیم سے تاباں
    سواد عشق میں بے حاصلی بھی حاصل ہے
    ( غلام ربانی تابا )
     
  25. تیسرا انسان
    آف لائن

    تیسرا انسان ممبر

    شمولیت:
    ‏7 نومبر 2016
    پیغامات:
    454
    موصول پسندیدگیاں:
    97
    ملک کا جھنڈا:
    اے رات
    آ اور میرے گلے لگ جا
    آ میں تمھاری آنکھیں ، تمہارے ہونٹ
    تمہارے رخسار اور تمہاری پیشانی چوموں
    تمہاری ٹھوڑی پہ بوسہ دوں
    تمھیں کاجل لگاؤں
    تمھارے بال سنواروں
    اور تمہاری مانگ میں ستارے بھر دوں
    اور تمہارے شانوں پہ سر رکھ کے
    بچھڑے ہوئے لوگوں
    اور بیتے ہوئے لمحوں کو یاد کروں
    اور ٹوٹ کے چاروں طرف بکھر ے ہوئے آئینوں کی کرچیاں
    چن چن کے
    تمہیں اپنی زخمی پوریں دکھاؤں
    اے رات
    آ اور میرے وجود میں اتر
    آ اور میری ہتھیلیوں پہ آہستہ آہستہ
    اپنا تمام روپ پھیلا دے
    ( فرحت عباس شاہ )
     
  26. تیسرا انسان
    آف لائن

    تیسرا انسان ممبر

    شمولیت:
    ‏7 نومبر 2016
    پیغامات:
    454
    موصول پسندیدگیاں:
    97
    ملک کا جھنڈا:
    زندگی تجھ کو یہ سوجھی ہے شرارت کیسی
    دیکھ گزری ہے میرے دل پہ قیامت کیسی


    اپنے پتوں سے درختوں کو شکایت کیسی
    ساتھ جب چھوڑ دیا ہے تو وضاحت کیسی


    مجھ سے مت پوچھ میری جان میرے دل سے پوچھ
    میں نے فرقت میں اٹھائی ہے اذیت کیسی


    کوئی کب تک کرے برداشت ، زباں بند رکھے
    ہو گئی ہے گل و گل زار کی حالت کیسی


    درد خوشبو سے معطر ہے میری دل دنیا
    تیری الفت نے بدل دی میری قسمت کیسی


    دوڑتے پھرتے ہیں صحرا میں بگولوں کی طرح
    کیا بتائیں کہ ہماری ہے طبیعت کیسی


    لوگ ظاہر پہ بھی کر لیں گے بھروسا پھر بھی
    دیکھ لیں آپ کہ ہے آپ کی نیت کیسی


    میں نے کب مانگا ہے تجھ سے تیری چاہت کا ثبوت
    گر محبت نہیں مجھ سے تو شکایت کیسی


    جی رہا ہوں تیری یادوں کے سہارے لیکن
    رفتہ رفتہ میری اب ہوگئی حالت کیسی


    ہوتی ہی رہتی ہے اشعار کی بارش راغب
    موسم ہجر کی مجھ پر ہے عنایت کیسی

    ( افتخار راغب )
     
  27. تیسرا انسان
    آف لائن

    تیسرا انسان ممبر

    شمولیت:
    ‏7 نومبر 2016
    پیغامات:
    454
    موصول پسندیدگیاں:
    97
    ملک کا جھنڈا:
    ﺭﮨﻨﮯ ﺩﻭ ﭼﭗ ﻣﺠﮭﮯ ﻧﮧ ﺳﻨﻮ ﻣﺎﺟﺮﺍﺋﮯ ﺩﻝ
    ﻣﯿﮟ ﺣﺎﻝ ﺩﻝ ﮐﮩﻮﮞ ﺗﻮ ﺍﺑﮭﯽ ﻣﻨﮧ ﮐﻮ ﺁﺋﮯ ﺩﻝ
    ﺳﻤﺠﮭﮯ ﮐﻮﻥ ﮐﺲ ﺳﮯ ﮐﮩﻮﮞ ﺭﺍﺯ ﮨﺎﺋﮯ ﺩﻝ
    ﺩﻝ ﮨﯽ ﺳﮯ ﮐﮩﮧ ﺭﮨﺎ ﮨﻮﮞ ﻣﺎﺟﺮﺍﺋﮯ ﺩﻝ
    ﮐﺐ ﺗﮏ ﯾﮧ ﮨﺎﺋﮯ ﮨﺎﺋﮯ ﺟﮕﺮ ﮨﺎﺋﮯ ﮨﺎﺋﮯ ﺩﻝ
    ﮐﺮ ﺭﺣﻢ ﺍﮮ ﺧﺪﺍﺋﮯ ﺟﮕﺮ ، ﺍﮮ ﺧﺪﺍﺋﮯ ﺩﻝ
    ﺩﻭ ﻟﻔﻈﻮﮞ ﮨﯽ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺪﯾﺎ ﺳﺐ ﻣﺎﺟﺮﺍﺋﮯ ﺩﻝ
    ﺧﺎﻣﻮﺵ ﮨﻮﮔﯿﺎ ﮨﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﮐﮩﮧ ﮐﮯ ﮨﺎﺋﮯ ﺩﻝ
    ﺁﺗﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﯿﮟ ﺳﻨﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﺏ ﻧﺎﻟﮩﺎﺋﮯ ﺩﻝ
    ﺳﻨﺴﺎﻥ ﮐﯿﻮﮞ ﭘﮍﯼ ﮨﮯ ﯾﮧ ﻣﺎﺗﻢ ﺳﺮﺍﺋﮯ ﺩﻝ
    ﮨﻮﺗﺎ ﮨﻮﮞ ﻣﺤﻮ ﻟﺬﺕ ﺩﯾﺪ ﻗﻀﺎﺋﮯ ﺩﻝ
    ﺑﺎﻍ ﻭ ﺑﮩﺎﺭ ﺯﯾﺴﺖ ﮨﯿﮟ ﯾﮧ ﺩﺍﻍ ﮨﺎﺋﮯ ﺩﻝ
    ﺍﺏ ﮨﻮﭼﮑﯽ ﮨﮯ ﺟﺮﻡ ﺳﮯ ﺯﺍﺋﺪ ﺳﺰﺍﺋﮯ ﺩﻝ
    ﺟﺎﻧﮯ ﺩﻭ ﺑﺲ ﻣﻌﺎﻑ ﺑﮭﯽ ﮐﺮﺩﻭ ﺧﻄﺎﺋﮯ ﺩﻝ
    ﮨﺮ ﮨﺮ ﺍﺩﺍ ﺑﺘﻮﮞ ﮐﯽ ﮨﮯ ﻗﺎﺗﻞ ﺑﺮﺍﺋﮯ ﺩﻝ
    ﺁﺧﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﺑﭽﺎﺋﮯ ﺗﻮ ﮐﯿﻮﻧﮑﺮ ﺑﭽﺎﺋﮯ ﺩﻝ
    ﺍﺗﻨﺎ ﺑﮭﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﮨﻮﮔﺎ ﻧﮧ ﺻﺒﺮ ﺁﺯﻣﺎﺋﮯ ﺩﻝ
    ﺳﺐ ﺳﮯ ﻟﮕﺎﺋﮯ ﺗﻢ ﺳﮯ ﻧﮧ ﮐﻮﺋﯽ ﻟﮕﺎﺋﮯ ﺩﻝ
    ﺍیﮎ ﺳﯿﻞ ﺑﮯ ﭘﻨﺎﮦ ﮨﮯ ﮨﺮ ﺍﻗﺘﻀﺎﺋﮯ ﺩﻝ
    ﺍﯾﺴﺎ ﺑﮭﯽ ﮨﺎﺋﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﻧﮧ ﭘﺎﺋﮯ ﺟﻮ ﭘﺎﺋﮯ ﺩﻝ
    ﻣﺠﺬﻭﺏ ﺗﻮ ﺑﮭﯽ ﻏﯿﺮ ﺧﺪﺍ ﺳﮯ ﻟﮕﺎﺋﮯ ﺩﻝ
    ﻋﺸﻖ ﺑﺘﺎﮞ ﮨﮯ ﺑﻨﺪﮦ ﺣﻖ ﻧﺎﺳﺰﺍﺋﮯ ﺩﻝ
    ( بشکریہ : علی حیدر )
     
  28. تیسرا انسان
    آف لائن

    تیسرا انسان ممبر

    شمولیت:
    ‏7 نومبر 2016
    پیغامات:
    454
    موصول پسندیدگیاں:
    97
    ملک کا جھنڈا:
    وہ کون ہیں جو غم کا مزا جانتے نہیں
    بس دوسروں کے درد کو پہچانتے نہیں

    اس جبر مصلحت سے تو رسوائیاں بھلی
    جیسے کے ہم انہیں ، وہ ہمیں جانتے نہیں

    کم بخت آنکھ اٹھتی نہ کبھی ان کے رو برو
    ہم ان کو جانتے تو ہیں ، پہچانتے نہیں

    واعظ خلوص ہے تیرے انداز فکر میں
    ہم تیری گفتگو کا برا مانتے نہیں

    حد سے بڑھے تو علم بھی ہے جہل دوستو
    سب کچھ جو جانتے ہیں وہ کچھ جانتے نہیں

    رہتے ہیں عافیت سے وہی لوگ اے خمار
    جو زندگی میں دل کا کہا مانتے نہیں
    ( خمار بارہ بنکوی ) ۔
     
  29. تیسرا انسان
    آف لائن

    تیسرا انسان ممبر

    شمولیت:
    ‏7 نومبر 2016
    پیغامات:
    454
    موصول پسندیدگیاں:
    97
    ملک کا جھنڈا:
    ظلمت ہے بے پناہ مگر جانتے ہیں ہم
    اس رات کی بھی ہوگی سحر جانتے ہیں ہم
    لفظوں سے کھیلنے کا ہنر جانتے ہیں ہم
    پر شاعری ہے کار دگر جانتے ہیں ہم
    حصے میں جب سے آیا ہے سوز غم حیات
    ہوتا ہے کیسا درد جگر جانتے ہیں ہم
    چلنے لگے تو ماں کی دعا لے لی اپنے ساتھ
    ہر سمت پرخطر ہے ڈگر جانتے ہیں ہم
    مانا تیری نگاہ میں قیمت نہیں مگر
    اشکوں کو اپنے لعل و گہر جانتے ہیں ہم
    قائم ہے دوستوں سے محبت کا سلسلہ
    انجام دوستی کا مگر جانتے ہیں ہم
    طالب ! نہیں ہے کوئی ٹھکانہ تو کیا ہوا
    ٹھہرے ہیں جس جگہ ، اسے گھر جانتے ہیں ہم
    ( طالب صدیقی ) ۔
     
  30. تیسرا انسان
    آف لائن

    تیسرا انسان ممبر

    شمولیت:
    ‏7 نومبر 2016
    پیغامات:
    454
    موصول پسندیدگیاں:
    97
    ملک کا جھنڈا:
    ﻭﮦ ﻣﯿﺮﮮ ﮔﮭﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﺗﺎ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﺎﺗﺎ
    ﻣﮕﺮ ﺍﺣﺘﯿﺎﻃﻮﮞ ﺳﮯ ﺗﻌﻠﻖ ﻣﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﺎﺗﺎ

    ﺑﺮﮮ ﺍﭼﮭﮯ ﮨﻮﮞ ﺟﯿﺴﮯ ﺑﮭﯽ ﮨﻮﮞ ﺳﺐ ﺭﺷﺘﮯ ﯾﮩﯿﮟ ﮐﮯ ﮨﯿﮟ
    ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﺳﺎﺗﮫ ﺩﻧﯿﺎ ﺳﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﻟﮯ ﮐﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﺎﺗﺎ

    ﮔﮭﺮﻭﮞ ﮐﯽ ﺗﺮﺑﯿﺖ ﮐﯿﺎ ﺁﮔﺌﯽ ﭨﯽ ﻭﯼ ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ﻣﯿﮟ
    ﮐﻮﺋﯽ ﺑﭽﮧ ﺍﺏ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﺎﭖ ﮐﮯ ﺍﻭﭘﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﺎﺗﺎ

    ﮐﮭﻠﮯ ﺗﮭﮯ ﺷﮩﺮ ﻣﯿﮟ ﺳﻮ ﺩﺭ ﻣﮕﺮ ﺍﯾﮏ ﺣﺪ ﮐﮯ ﺍﻧﺪﺭ ﮨﯽ
    ﮐﮩﺎﮞ ﺟﺎﺗﺎ ﻣﯿﮟ ﺍﮔﺮ ﻟﻮﭦ ﮐﮯ ﭘﮭﺮ ﮔﮭﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﺎﺗﺎ

    ﻣﺤﺒﺖ ﮐﮯ ﯾﮧ ﺁﻧﺴﻮﮞ ﮨﯿﮟ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺭﮨﻨﮯ ﺩﻭ
    ﺷﺮﯾﻔﻮﮞ ﮐﮯ ﮔﮭﺮﻭﮞ ﮐﺎ ﻣﺴﺌﻠﮧ ﺑﺎﮨﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﺎﺗﺎ
    ( ﻭﺳﯿﻢ ﺑﺮﯾﻠﻮﯼ )
     

اس صفحے کو مشتہر کریں