1. اس فورم پر جواب بھیجنے کے لیے آپ کا صارف بننا ضروری ہے۔ اگر آپ ہماری اردو کے صارف ہیں تو لاگ ان کریں۔

لاجواب غزل

'اردو شاعری' میں موضوعات آغاز کردہ از مخلص انسان, ‏4 جنوری 2016۔

  1. تیسرا انسان
    آف لائن

    تیسرا انسان ممبر

    شمولیت:
    ‏7 نومبر 2016
    پیغامات:
    454
    موصول پسندیدگیاں:
    95
    ملک کا جھنڈا:
    شعلہ بن کر لہک رہا ہے کوئی
    کتنا اندر سے پک رہا ہے کوئی
    پھر صدا آرہی ہے " شوخ صفت "
    دل کے اندر چہک رہا ہے کوئی
    خوشبوؤں سے مہک رہا ہے بدن
    عرق گل چھڑک رہا ہے کوئی
    چاندنی موج زن ہے آنکھوں میں
    چاند بن کر چمک رہا ہے کوئی
    جسم کندن سا ہوتا جاتا ہے
    دل میں گویا دہک رہا ہے کوئی
    بے خبر دل مچل اٹھا اختر
    بے تحاشہ لپک رہا ہے کوئی
    ( کلیم اختر )
  2. تیسرا انسان
    آف لائن

    تیسرا انسان ممبر

    شمولیت:
    ‏7 نومبر 2016
    پیغامات:
    454
    موصول پسندیدگیاں:
    95
    ملک کا جھنڈا:
    چلو اچھا ہی ہوا بھول گئے تم مجھ کو
    ورنہ الزام تمہارے میں کہاں تک سہتا
    اپنی خود داری الفت کا جنازہ لے کر
    بے وفا تم کو نہ کہتا تو بھلا کیا کہتا
    درمیاں فاصلے کچھ کم نہیں ہونے پائے
    زخم بڑھتے گئے کچھ کم نہیں ہونے پائے
    خون کرنا ہی تھا گر عہد وفا کا تم کو
    ڈھونگ الفت کا رچانے کی ضرورت کیا تھی
    اپنے احساس گرانبار کی تسکیں کے لیئے
    مجھ کو دیوانہ بنانے کی ضرورت کیا تھی
    دشت غربت میں کسی دن مجھے آرام نہ تھا
    جز دل آزاری کے تم کو بھی کوئی کام نہ تھا
    جو بھی ہونا تھا ہوا ، بھول ہی جاؤ سب کچھ
    داستان گل و بلبل نہ سناؤ مجھ کو
    تم سے کہتی ہے یہ بیداری چشم پرنم
    پھر خدارا نہ کوئی خواب دکھاؤ مجھ کو
    خوب واقف ہوں جہاں میں غم و آلام سے میں
    مر نہ جاؤں گا محبت کے اس انجام سے میں
    ( عبد اللہ ناظر )
  3. تیسرا انسان
    آف لائن

    تیسرا انسان ممبر

    شمولیت:
    ‏7 نومبر 2016
    پیغامات:
    454
    موصول پسندیدگیاں:
    95
    ملک کا جھنڈا:
    گل جسم و جاں کو جلائے گی
    کوئی آگ رنگ دکھائے گی

    لب و لہجہ اور ہے آنکھ کا
    جو کہے گی اسی کو چھپائے گی

    میرے گائوں گھر سے اڑی ہے جو
    وہی خاک شہر پہ چھائے گی

    میں جہاں جہاں بھی قدم رکھوں
    وہ زمین ہاتھ نہ آئے گی

    میں کتاب رکھ بھی دوں ہاجرہ
    مجھے نیند پھر بھی نہ آئے گی
    ( ہاجرہ رحمان )
  4. چوتھا انسان
    آف لائن

    چوتھا انسان ممبر

    شمولیت:
    ‏1 دسمبر 2016
    پیغامات:
    237
    موصول پسندیدگیاں:
    46
    ملک کا جھنڈا:
    خدا کے واسطے دل کی لگی کا حال نہ پوچھ
    میں بے خودی میں ہوں میری خودی کا حال نہ پوچھ

    تیری تلاش ، تیری جستجو میں رہتا ہوں
    میرے ندیم میری زندگی کا حال نہ پوچھ

    وہ دور ماضی بہت خوب دور تھا لیکن
    اب حال نو کی ستم پروری کا حال نہ پوچھ

    کسی کا کوئی بھی پرساں نہیں زمانے میں
    اب آدمی سے دل آدمی کا حال نہ پوچھ

    نہ جانے کتنوں کے ارمان لٹ گئے اے دوست
    مریض ہجر سے ان کی گلی کا حال نہ پوچھ

    چڑھا رہا ہوں مگر تشنگی نہیں جاتی
    میں تشنہ لب ہوں میری تشنگی کا حال نہ پوچھ

    غموں کا ذکر کروں یہ بھی نامناسب ہے
    خوشی کی بات تو یہ ہے خوشی کا حال نہ پوچھ
  5. چوتھا انسان
    آف لائن

    چوتھا انسان ممبر

    شمولیت:
    ‏1 دسمبر 2016
    پیغامات:
    237
    موصول پسندیدگیاں:
    46
    ملک کا جھنڈا:
    برسوں کے بعد دیکھا ایک شخص دل ربا سا
    اب ذہن ميں نہيں ہے پر نام تھا بھلا سا

    ابرو کھنچے کھنچے سے آنکھيں جھکی جھکی سی
    باتيں رکی رکی سی لہجہ تھکا تھکا سا

    الفاظ تھے کہ جگنو آواز کے سفر ميں تھے
    بن جائے جنگلوں ميں جس طرح راستہ سا

    خوابوں ميں خواب اس کے يادوں ميں ياد اس کی
    نيندوں ميں گھل گيا ہو جيسے رتجگا سا

    پہلے بھی لوگ آئے کتنے ہی زندگی ميں
    وہ ہر طرح سے ليکن اوروں سے تھا جدا سا

    اگلی محبتوں نے وہ نا مرادياں ديں
    تازہ رفاقتوں سے دل تھا ڈرا ڈرا سا

    کچھ يہ کہ مدتوں سے ہم بھی نہيں تھے روئے
    کچھ زہر ميں بجھا تھا احباب کا دلاسا

    پھر يوں ہوا کے ساون آنکھوں ميں آ بسے تھے
    پھر يوں ہوا کہ جيسے دل بھی تھا آبلہ سا

    اب سچ کہيں تو يارو ہم کو خبر نہيں تھی
    بن جائے گا قيامت ایک واقع ذرا سا

    تيور تھے بے رخی کے انداز دوستی کے
    وہ اجنبی تھا ليکن لگتا تھا آشنا سا

    ہم دشت تھے کہ دريا ہم زہر تھے کہ امرت
    ناحق تھا زعم ہم کو جب وہ نہيں تھا پياسا

    ہم نے بھی اس کو ديکھا کل شام اتفاقا
    اپنا بھی حال ہے اب لوگو فراز کا سا
    ( بشکریہ ، شعیب صفدر )
  6. چوتھا انسان
    آف لائن

    چوتھا انسان ممبر

    شمولیت:
    ‏1 دسمبر 2016
    پیغامات:
    237
    موصول پسندیدگیاں:
    46
    ملک کا جھنڈا:
    کاجل تیری آنکھوں کا میری آنکھوں میں در آئے
    میں بات کروں تجھ سے اور شام اتر آئے

    کچھ روز تلک آنگن بھیگا ہوا رہتا ہے
    بادل کی سی شال اوڑھے جب تو میرے گھر آئے

    ہم دیکھتے ہیں تجھ کو بارش کے مہینوں میں
    بھیگے ہوئے بالوں میں تو اور نکھر آئے

    یہ لوگ میرے دل کو پیارے ہیں بہت لیکن
    اس شہر سے کچھ پہلے تو مجھ کو نظر آئے

    جس ہاتھ پہ دھرنا تھی قندیل حنا ہم کو
    ہم اپنی سیاہی بھی اس ہاتھ پہ دھر آئے

    سر پھوڑتی پھرتی تھی رخصت کی ہوا ہر سو
    سو ہم تیرے کوچے سے چپ چاپ گزر آئے

    سرسبز شجر تجھ کو گھیرے ہوئے رہتے ہیں
    ہاں یاد یہ پیلا سا دل تجھ کو اگر آئے
  7. چوتھا انسان
    آف لائن

    چوتھا انسان ممبر

    شمولیت:
    ‏1 دسمبر 2016
    پیغامات:
    237
    موصول پسندیدگیاں:
    46
    ملک کا جھنڈا:
    ﺑﮩﺖ ﭘﮩﻠﮯ ﺳﮯ ﺍﻥ ﻗﺪﻣﻮﮞ ﮐﯽ ﺁﮨﭧ ﺟﺎﻥ ﻟﯿﺘﮯ ﮨﯿﮟ
    ﺗﺠﮭﮯ ﺍﮮ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮨﻢ ﺩﻭﺭ ﺳﮯ ﭘﮩﭽﺎﻥ ﻟﯿﺘﮯ ﮨﯿﮟ

    میری ﻧﻈﺮﯾﮟ ﺑﮭﯽ ﺍﯾﺴﮯ ﻗﺎﺗﻠﻮﮞ ﮐﺎ ﺟﺎﻥ ﻭ ﺍﯾﻤﺎﮞ ﮨﯿﮟ
    ﻧﮕﺎﮨﯿﮟ ﻣﻠﺘﮯ ﮨﯽ ﺟﻮ ﺟﺎﻥ ﺍﻭﺭ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﻟﯿﺘﮯ ﮨﯿﮟ

    ﻃﺒﯿﻌﺖ ﺍﭘﻨﯽ ﮔﮭﺒﺮﺍﺗﯽ ﮨﮯ ﺟﺐ ﺳﻨﺴﺎﻥ ﺭﺍﺗﻮﮞ ﻣﯿﮟ
    ﮨﻢ ﺍﯾﺴﮯ ﻣﯿﮟ تیری ﯾﺎﺩﻭﮞ ﮐﯽ ﭼﺎﺩﺭ ﺗﺎﻥ ﻟﯿﺘﮯ ﮨﯿﮟ

    ﺧﻮﺩ ﺍﭘﻨﺎ ﻓﯿﺼﻠﮧ ﺑﮭﯽ ﻋﺸﻖ ﻣﯿﮟ ﮐﺎﻓﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ
    ﺍﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﮐﯿﺴﮯ ﮐﺮ ﮔﺰﺭﯾﮟ ﺟﻮ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﭨﮭﺎﻥ ﻟﯿﺘﮯ ﮨﯿﮟ

    ﺟﺴﮯ ﺻﻮﺭﺕ ﺑﺘﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﭘﺘﺎ ﺩﯾﺘﯽ ﮨﮯ ﺳﯿﺮﺕ ﮐﺎ
    ﻋﺒﺎﺭﺕ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﺟﺲ ﻃﺮﺡ ﻣﻌﻨﯽ ﺟﺎﻥ ﻟﯿﺘﮯ ﮨﯿﮟ

    ﺗﺠﮭﮯ ﮔﮭﺎﭨﺎ ﻧﮧ ﮨﻮﻧﮯ ﺩﯾﮟ ﮔﮯ ﮐﺎﺭﻭﺑﺎﺭ ﺍﻟﻔﺖ ﻣﯿﮟ
    ﮨﻢ ﺍﭘﻨﮯ ﺳﺮ تیرا ﺍﮮ ﺩﻭﺳﺖ ﮨﺮ ﺍﺣﺴﺎﻥ ﻟﯿﺘﮯ ﮨﯿﮟ

    ﻓﺮﺍﻕ ﺍﮐﺜﺮ ﺑﺪﻝ ﮐﺮ ﺑﮭﯿﺲ ﻣﻠﺘﺎ ﮨﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﮐﺎﻓﺮ
    ﮐﺒﮭﯽ ﮨﻢ ﺟﺎﻥ ﻟﯿﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﺒﮭﯽ ﭘﮩﭽﺎﻥ ﻟﯿﺘﮯ ﮨﯿﮟ
    ( ﻓﺮﺍﻕ ﮔﻮﺭﮐﮭﭙﻮﺭﯼ )
  8. چوتھا انسان
    آف لائن

    چوتھا انسان ممبر

    شمولیت:
    ‏1 دسمبر 2016
    پیغامات:
    237
    موصول پسندیدگیاں:
    46
    ملک کا جھنڈا:
    ﺍﺏ ﮐﮯ ﺗﺠﺪﯾﺪ ﻭﻓﺎ ﮐﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﺍﻣﮑﺎﮞ ﺟﺎﻧﺎﮞ
    ﯾﺎﺩ ﮐﯿﺎ ﺗﺠﮫ ﮐﻮ ﺩﻻﺋﯿﮟ ﺗﯿﺮﺍ ﭘﯿﻤﺎﮞ ﺟﺎﻧﺎﮞ

    ﯾﻮﮞ ﮨﯽ ﻣﻮﺳﻢ ﮐﯽ ﺍﺩﺍ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﮯ ﯾﺎﺩ ﺁﯾﺎ ﮨﮯ
    ﮐﺲ ﻗﺪﺭ ﺟﻠﺪ ﺑﺪﻝ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻧﺴﺎﮞ ﺟﺎﻧﺎﮞ

    ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺗﯿﺮﯼ ﻋﻄﺎ ﺗﮭﯽ ﺳﻮ ﺗﯿﺮﮮ ﻧﺎﻡ ﮐﯽ ﮨﮯ
    ﮨﻢ ﻧﮯ ﺟﯿﺴﮯ ﺑﮭﯽ ﺑﺴﺮ ﮐﯽ ﺗﯿﺮﺍ ﺍﺣﺴﺎﮞ ﺟﺎﻧﺎﮞ

    ﺩﻝ یہ ﮐﮩﺘﺎ ﮨﮯ کہ ﺷﺎﯾﺪ ﮨﻮ ﻓﺴﺮﺩﮦ ﺗﻮ ﺑﮭﯽ
    ﺩﻝ ﮐﯽ ﮐﯿﺎ ﺑﺎﺕ ﮐﺮﯾﮟ ﺩﻝ ﺗﻮ ﮨﮯ ﻧﺎﺩﺍﮞ ﺟﺎﻧﺎں

    اول اول کی محبت کے نشے یاد تو کر
    بے پیئے بھی تیرا چہرہ تھا گلستاں جاناں

    آخر آخر تو یہ عالم ہے کہ اب ہوش نہیں
    رگ مینا سلگ اٹھی کہ رگ جاں جاناں

    ﻣﺪﺗﻮﮞ ﺳﮯ ﯾﮩﯽ ﻋﺎﻟﻢ نہ ﺗﻮﻗﻊ نہ ﺍﻣﯿﺪ
    ﺩﻝ ﭘﮑﺎﺭﮮ ﮨﯽ ﭼﻼ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﺟﺎﻧﺎں ﺟﺎﻧﺎﮞ

    اب کے کچھ ایسی سجی محفل یاراں جانا
    سر بہ زانوں ہے کوئی سر بہ گریباں جاناں

    ہر کوئی اپنی ہی آواز سے کانپ اٹھتا ہے
    ہر کوئی اپنے ہی سایے سے ہراساں جاناں

    ﺟﺲ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﻮ ﻭﮦ ﮨﯽ ﺯﻧﺠﯿﺰ ﺑﭙﺎ ﻟﮕﺘﺎ ﮨﮯ
    ﺷﮩﺮ ﮐﺎ ﺷﮩﺮ ﮨﻮﺍ ﺩﺍﺧﻞ ﮨﻮﺍ ﺯﻧﺪﺍﮞ ﺟﺎﻧﺎﮞ

    ہم بھی کیا سادہ تھےہم نے بھی سمجھ رکھا تھا
    غم دوراں سے جدا ہے غم جاناں جاناں

    ﮨﻢ کہ ﺭﻭﭨﮭﯽ ﮨﻮئی ﺭﺕ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﻣﻨﺎ ﻟﯿﺘﮯ ﺗﮭﮯ
    ﮨﻢ ﻧﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮨﯽ نہ ﺗﮭﺎ ﻣﻮﺳﻢ ﮨﺠﺮﺍﮞ ﺟﺎﻧﺎﮞ

    ہوش آیا تو سب ہی خاک تھے ریزہ ریزہ
    جیسے اڑتے ہوئے اوراق پریشاں جاناں
    ( احمد فراز )
  9. چوتھا انسان
    آف لائن

    چوتھا انسان ممبر

    شمولیت:
    ‏1 دسمبر 2016
    پیغامات:
    237
    موصول پسندیدگیاں:
    46
    ملک کا جھنڈا:
    تمھاری رہگزر پہ ایک ستارہ چھوڑ آیا ہوں
    سمجھ لینا تمھارا ہوں اشارہ چھوڑ آیا ہوں
    تمہارے بعد گیلی ریت کا میں کیا بناتا گھر
    ہمیشہ کو سمندر کا کنارہ چھوڑ آیا ہوں
    بھلا ڈالا ہے یکسر میں نے اپنے تلخ ماضی کو
    حسیں یادوں کو بھی میں بےسہارا چھوڑ آیا ہوں
    منانے خود گیا تھا میں کہ وہ شائد سدھر جائے
    مگر افسوس ہے اس کو دوبارہ چھوڑ آیا ہوں
    بچا کچھ بھی نہیں ہے پاس اس کار محبت میں
    اثاثہ میں وہاں سارے کا سارا چھوڑ آیا ہوں
    ( بشکریہ : عابد مہر )
  10. چوتھا انسان
    آف لائن

    چوتھا انسان ممبر

    شمولیت:
    ‏1 دسمبر 2016
    پیغامات:
    237
    موصول پسندیدگیاں:
    46
    ملک کا جھنڈا:
    ﮐﻤﺎﻝ ﺿﺒﻂ ﮐﻮ ﻣﯿﮟ ﺧﻮﺩ ﺑﮭﯽ ﺗﻮ ﺁﺯﻣﺎﺅﮞ ﮔﯽ
    ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﮯ ﮨﺎﺗﮫ ﺳﮯﺍﺱ ﮐﯽ ﺩﻟﮩﻦ ﺳﺠﺎﺅﮞ ﮔﯽ

    ﺳﭙﺮﺩ ﮐﺮ ﮐﮯ ﺍﺳﮯ ﭼﺎﻧﺪﻧﯽ ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ﻣﯿﮟ
    ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﮯ ﮔﮭﺮ ﮐﮯ ﺍﻧﺪﮬﯿﺮﻭﮞ ﮐﻮ ﻟﻮﭦ ﺁﺅﮞ ﮔﯽ

    ﺑﺪﻥ ﮐﮯ ﮐﺮﺏ ﮐﻮ ﻭﮦ ﺑﮭﯽ ﺳﻤﺠﮫ ﻧﮧ ﭘﺎﺋﮯ ﮔﺎ
    ﻣﯿﮟ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﺭﻭﺅﮞ ﮔﯽ ، ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻣﺴﮑﺮﺍﺅﮞ ﮔﯽ

    ﻭﮦ ﮐﯿﺎ ﮔﯿﺎ ﺭﻓﺎﻗﺖ ﮐﮯ ﺳﺎﺭﮮ ﻟﻄﻒ ﮔﺌﮯ
    ﻣﯿﮟ ﮐﺲ ﺳﮯ ﺭﻭﭨﮫ ﺳﮑﻮﮞ ﮔﯽ ، ﮐﺴﮯ ﻣﻨﺎﺅﮞ ﮔﯽ

    ﺍﺏ ﺍﺱ ﮐﺎ ﻓﻦ ﺗﻮ ﮐﺴﯽ ﺍﻭﺭ ﺳﮯ ﮨﻮﺍ ﻣﻨﺴﻮﺏ
    ﻣﯿﮟ ﮐﺲ ﮐﯽ ﻧﻈﻢ ﺍﮐﯿﻠﮯ ﻣﯿﮟ ﮔﻨﮕﻨﺎﺅﮞ ﮔﯽ

    ﻭﮦ ﺍﯾﮏ ﺭﺷﺘﮧ ﺑﮯ ﻧﺎﻡ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﻟﯿﮑﻦ
    ﻣﯿﮟ ﺍﺏ ﺑﮭﯽ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺍﺷﺎﺭﻭﮞ ﭘﮧ ﺳﺮ ﺟﮭﮑﺎﺅﮞ ﮔﯽ

    ﺑﭽﮭﺎ ﺩﯾﺎ ﺗﮭﺎ ﮔﻼﺑﻮﮞ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺍﭘﻨﺎ ﻭﺟﻮﺩ
    ﻭﮦ ﺳﻮ ﮐﮯ ﺍﭨﮭﮯ ﺗﻮ ﺧﻮﺍﺑﻮﮞ ﮐﯽ ﺭﺍﮐﮫ ﺍﭨﮭﺎﺅﮞ ﮔﯽ

    ﺳﻤﺎﻋﺘﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺍﺏ ﺟﻨﮕﻠﻮﮞ ﮐﯽ ﺳﺎﻧﺴﯿﮟ ﮨﯿﮟ
    ﻣﯿﮟ ﺍﺏ ﮐﺒﮭﯽ تیری ﺁﻭﺍﺯ ﺳﻦ ﻧﮧ ﭘﺎﺅﮞ ﮔﯽ

    ﺟﻮﺍﺯ ﮈﮬﻮﻧﮉ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﻧﺌﯽ ﻣﺤﺒﺖ ﮐﺎ
    ﻭﮦ ﮐﮩﮧ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﮐﻮ ﺑﮭﻮﻝ ﺟﺎﺅﮞ ﮔﯽ
    ( ﭘﺮﻭﯾﻦ ﺷﺎﮐﺮ )
  11. چھٹا انسان
    آف لائن

    چھٹا انسان ممبر

    شمولیت:
    ‏13 دسمبر 2016
    پیغامات:
    1,962
    موصول پسندیدگیاں:
    695
    ملک کا جھنڈا:
    کوئی ٹکرا کے سبک سر بھی تو ہو سکتا ہے
    میری تعمیر میں پتھر بھی تو ہو سکتا ہے

    کیوں نہ اے شخص تجھے ہاتھ لگا کر دیکھوں
    تو میرے وہم سے بڑھ کر بھی تو ہو سکتا ہے

    تو ہی تو ہے تو پھر اب جملہ جمال دنیا
    تیرا شک اور کسی پر بھی تو ہو سکتا ہے

    یہ جو ہے پھول ہتھیلی پہ اسے پھول نہ جان
    میرا دل جسم سے باہر بھی تو ہو سکتا ہے

    شاخ پر بیٹھے پرندے کو اڑانے والے
    پیڑ کے ہاتھ میں پتھر بھی تو ہو سکتا ہے

    کیا ضروری ہے کہ باہر ہی نمو ہو میری
    میرا کھلنا میرے اندر بھی تو ہو سکتا ہے

    یہ جو ہے ریت کا ٹیلہ میرے قدموں کے تلے
    کوئی دم میں میرے اوپر بھی تو ہو سکتا ہے

    کیا ضروری ہے کہ ہم ہار کے جیتیں تابش
    عشق کا کھیل برابر بھی تو ہو سکتا ہے
    ( عباس تابش )
  12. چھٹا انسان
    آف لائن

    چھٹا انسان ممبر

    شمولیت:
    ‏13 دسمبر 2016
    پیغامات:
    1,962
    موصول پسندیدگیاں:
    695
    ملک کا جھنڈا:
    اس چمن کو بہار دی ہم نے
    پتی پتی نکھار دی ہم نے
    اپنے خون جگر کے چھینٹوں سے
    زینت لالہ زار دی ہم نے
    یہاں کسے ذوق چاک دامانی
    داد فصل بہار دی ہم نے
    نہ گئیں بے قراریاں نہ گئیں
    دل کو تسکیں ہزار دی ہم نے
    بارہا ان کو بھی شب فرقت
    رحمت انتظار دی ہم نے
    حسن کے بس کی بات کب تھی یہ
    زلف گیتی سنوار دی ہم نے
    جسے کہتے ہیں کائنات سرور
    ان کی آنکھوں پہ وار دی ہم نے
    زندگی کی سیہ پہاڑ سی رات
    مہ رخوں میں گزار دی ہم نے
    خون ناحق بھی کام آہی گیا
    خاک مستقبل نکھار دی ہم نے
    اپنے ہی گھر میں اجنبی ہو کر
    شام غربت گذار دی ہم نے
    قیس و فرہاد کو بھی حسرت ہو
    آج تک عاشقی روایت تھی
    اب حقیقت قرار دی ہم نے
    ہم سے پہلے کہاں تھا یہ عالم
    تیری دنیا سنوار دی ہم نے
    زندگی دور جام تھی ساغر
    گردشوں میں گزار دی ہم نے
    ( ساغر نظامی )
  13. چھٹا انسان
    آف لائن

    چھٹا انسان ممبر

    شمولیت:
    ‏13 دسمبر 2016
    پیغامات:
    1,962
    موصول پسندیدگیاں:
    695
    ملک کا جھنڈا:
    تمہاری انجمن سے اٹھ کے دیوانے کہاں جاتے
    جو وابستہ ہوئے تم سے وہ افسانے کہاں جاتے

    نکل کر دیر و کعبہ سے اگر ملتا نہ مے خانہ
    تو ٹھکرائے ہوئے انساں خدا جانے کہاں جاتے

    تمہاری بے رخی نے لاج رکھ لی بادہ خانے کی
    تم آنکھوں سے پلا دیتے تو پیمانے کہاں جاتے

    چلو اچھا ہوا ، کام آ گئی دیوانگی اپنی
    وگرنہ ہم زمانے بھر کو سمجھانے کہاں جاتے

    قتیل اپنا مقدر غم سے بیگانہ اگر ہوتا
    تو پھر اپنے پرائے ہم سے پہچانے کہاں جاتے
  14. چھٹا انسان
    آف لائن

    چھٹا انسان ممبر

    شمولیت:
    ‏13 دسمبر 2016
    پیغامات:
    1,962
    موصول پسندیدگیاں:
    695
    ملک کا جھنڈا:
    ایک شب بارش ہو ، خنکی ہو اور تم بھی ہو
    میں ہوں ، میری آنکھ میں نمی ہو اور تم بھی ہو
    تیرا انتظار ہر لمحہ بڑھا دیتا ہے میرا اضطراب
    کسی دن میں ہوں ، دل کی لگی ہو اور تم بھی ہو

    تم نے دیکھا ہے کبھی محبت کو نور بنتے ہوئے
    ذات میں حرا ہو ، شعر کی وحی ہو اور تم بھی ہو
    ہجر کی ہر گھڑی میں دھڑکتا رہے گا تیرا دل بھی
    بس گہری تنہائی ہو ، تیرا ذکر ہو اور تم بھی ہو
  15. چھٹا انسان
    آف لائن

    چھٹا انسان ممبر

    شمولیت:
    ‏13 دسمبر 2016
    پیغامات:
    1,962
    موصول پسندیدگیاں:
    695
    ملک کا جھنڈا:
    سلگتی شاخ سے خوشبو کو مہکانا نہیں اچھا
    اگر خود بھی تڑپتے ہو تو تڑپانا نہیں اچھا

    یہاں پستہ قدوں کی بھیڑ ہے لیکن ذرا ٹھہرو
    قدو قامت کا نظروں میں یہ پیمانہ نہیں اچھا

    اگر ترک تعلق میں یہ دنیا چھوڑ دی وشمہ
    محبت کے نگر پھر سے پلٹ آنا نہیں اچھا

    خوشی کا ایک لمحہ بھی کئی صدیوں پہ بھاری ہے
    مگر تیرا یہاں سے روٹھ کر جانا نہیں اچھا

    سروں پہ دھوپ رہتی ہے مگر سایہ ہی دیتے ہیں
    یہاں اشجار کی راہوں میں ویرانہ نہیں اچھا

    فسردہ شہر میں ہر آدمی خوف وبا میں ہے
    کسی کی بے بسی پہ اتنا مسکانا نہیں اچھا

    یقیں کی حد میں رہ کر ہی خدا کے آدمی ہیں ہم
    زمیں کے عشق میں جنت کو ٹھکرانا نہیں اچھا

    نگاہوں میں اداسی ہے لبوں پہ گہری خاموشی
    سکوت ذات کو اتنا بھی تڑپانا نہیں اچھا

    چلے جانے پہ اس کے رو رہی ہوں آج لاحاصل
    غموں کو دل کی وادی میں یوں ٹھہرانا نہیں اچھا
    ( وشمہ خان وشمہ )
  16. چھٹا انسان
    آف لائن

    چھٹا انسان ممبر

    شمولیت:
    ‏13 دسمبر 2016
    پیغامات:
    1,962
    موصول پسندیدگیاں:
    695
    ملک کا جھنڈا:
    اے جذبہ دل گر میں چاہوں ہر چیز مقابل آ جائے
    منزل کیلئے دو گام چلوں اور سامنے منزل آ جائے

    اے دل کی خلش چل یوں ہی سہی چلتا تو ہوں ان کی محفل میں
    اس وقت مجھے چونکا دینا جب رنگ پہ محفل آ جائے

    آتا ہے جو طوفاں آنے دے کشتی کا خدا خود حافظ ہے
    مشکل تو نہیں ان موجوں میں بہتا ہوا ساحل آ جائے

    اس عشق میں جان کو کھونا ہے ماتم کرنا ہے رونا ہے
    میں جانتا ہوں جو ہونا ہے پر کیا کروں جب دل آ جائے

    اے راہبر کامل چلنے کو تیار تو ہوں پر یاد رہے
    اس وقت مجھے بھٹکا دینا جب سامنے منزل آ جائے

    ہاں یاد مجھے تم کر لینا آواز مجھے تم دے لینا
    اس راہ محبت میں کوئی درپیش جو مشکل آ جائے

    اب کیا ڈھونڈوں گا چشم کرم ہونے دے ستم بالائے ستم
    میں چاہوں اے جذبہ غم کہ مشکل پس مشکل آ جائے
    ( بھزاد لکھنوی )
  17. چھٹا انسان
    آف لائن

    چھٹا انسان ممبر

    شمولیت:
    ‏13 دسمبر 2016
    پیغامات:
    1,962
    موصول پسندیدگیاں:
    695
    ملک کا جھنڈا:
    ﺟﮭﺠﮭﮑﺘﮯ ﺭہنا ﻧﮩﯿﮟ ہے ﺍﺩﺍ ﻣﺤﺒﺖ ﮐﯽ
    ﺳﻮ ﮈﺭﺗﮯ ﮈﺭﺗﮯ ﺍﮔﺮ ﮐﯽ ﺗﻮ ﮐﯿﺎ ﻣﺤﺒﺖ ﮐﯽ

    ﻣﯿﺎﮞ ! ﯾﮧ ﺳﻮﭺ ﮐﮯ ﮐﺮﻧﺎ ﺧﻄﺎ ﻣﺤﺒﺖ ﮐﯽ
    ﺷﮑﺴﺖ ﺩﻝ ہے ﮐﻢ ﺍﺯﮐﻢ ﺳﺰﺍ ﻣﺤﺒﺖ ﮐﯽ

    ﮔﻨﮯ ﭼﻨﮯ ہوئے ﺳﯿﻨﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺟﮭﺎﻧﮑﺘﺎ ہے ﯾﮧ ﻧﻮﺭ
    ہر ﺍﯾﮏ ﭘﺮ ﻧﮩﯿﮟ ہوﺗﯽ ﻋﻄﺎ ﻣﺤﺒﺖ ﮐﯽ

    تمھاﺭﮮ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺭﮐﮭﯽ ہیں ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺭﺍہیں ﺩﻭ
    ﺳﻮ ﺍﯾﮏ ﭼﻦ ﻟﻮ ، ﻣﺤﺒﺖ ﮐﯽ ﯾﺎ ﻣﺤﺒﺖ ﮐﯽ ؟

    ﺑﮩﺖ ﺣﺴﯿﻦ ہے ﺗﻮ ﭘﮭﺮ ﺑﮭﯽ ﻧﺎﻣﮑﻤﻞ ہے
    ﺳﻮ ﺩﮮ ﺭہا ہوﮞ ﺗﺠﮭﮯ ﻣﯿﮟ ﺩﻋﺎ ﻣﺤﺒﺖ ﮐﯽ

    ﺗﺠﮭﮯ ﻣﻼ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﺳﺐ ﺍﻋﺘﺪﺍﻝ ﺑﮭﻮﻝ ﮔﯿﺎ
    ﺳﻮ ﺍﺑﺘﺪﺍ ﺳﮯ ہی ﺑﮯ ﺍﻧﺘﮩﺎ ﻣﺤﺒﺖ ﮐﯽ

    ﻭﮦ ﭘﺘﮭﺮﻭﮞ ﮐﺎ ﺯﻣﺎﻧﮧ ﺗﮭﺎ ، ﻟﻮﮒ ﭘﺘﮭﺮ ﺗﮭﮯ
    ﭘﮭﺮ ﺍﯾﮏ ﺭﻭﺯ ہوﺋﯽ ﺍﺑﺘﺪﺍ ﻣﺤﺒﺖ ﮐﯽ

    ﻧﺌﮯ ﺳﺮﮮ ﺳﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﺑﮭﺎ ﮔﯿﺎ ﻭﮦ ﺟﺐ ﺑﮭﯽ ﻣﻼ
    ﺳﻮ ﺍﯾﮏ ﺷﺨﺺ ﺳﮯ ﻣﯿﮟ نے ﺑﺎﺭہا ﻣﺤﺒﺖ ﮐﯽ

    ﯾﮩﺎﮞ ﺗﻮ ہاﺭ ﮐﮯ ﻣﻠﺘﯽ ہے ﺟﯿﺖ ، ﺟﯿﺖ ﮐﮯ ہاﺭ
    ﯾﮧ ﺑﺎﺕ ﺳﻮﭺ ﮐﮯ ﺑﺎﺯﯼ ﻟﮕﺎ ﻣﺤﺒﺖ ﮐﯽ

    ﻣﯿﮟ ﺗﯿﺮﮮ ﺣﺴﻦ ﭘﮧ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﻻ ﮐﮯ ﮐﮩﺘﺎ ہوﮞ
    ﮐﺒﮭﯽ ﻧﻤﺎﺯ ﻧﮧ ہوﮔﯽ ﻗﻀﺎ ﻣﺤﺒﺖ ﮐﯽ

    ﮐﺴﯽ ﺑﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﺻﻠﮯ ﮐﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﻼﺵ ﻣﺠﮭﮯ
    ﻣﺤﺒﺖ ﺁﭖ ہے ﻓﺎﺭﺱ ﺟﺰﺍ ﻣﺤﺒﺖ ﮐﯽ
    ‏( ﺭﺣﻤﺎﻥ ﻓﺎﺭﺱ )
  18. چھٹا انسان
    آف لائن

    چھٹا انسان ممبر

    شمولیت:
    ‏13 دسمبر 2016
    پیغامات:
    1,962
    موصول پسندیدگیاں:
    695
    ملک کا جھنڈا:
    دل میں چبھے نہ جن کو کبھی خار زیست کے
    کیا ان پہ آشکار ہوں اسرار زیست کے
    سیکھا نہیں جنھوں نے سلیقہ کلام کا
    تعلیم کرنے آئے ہیں اطوار زیست کے
    زیبا تھی جن کو زیست جہاں سے گزر گئے
    ہم مفت میں ہوئے ہیں سزاوار زیست کے
    کیوں ہم پہ ہی تمام ہوئیں غم کی نعمتیں ؟
    کیا ایک ہمی ہوئے تھے گنہگار زیست کے ؟
    دیکھی ہے ہم نے رونق نیرنگی حیات
    منظر بدل چکے ہیں کئی بار زیست کے
    چکھی ہے ہم نے موت کی ّلذت ہزار بار
    گزرے ہیں ہم پہ حادثے دوچار زیست کے
    کار حیات ریشمی دھاگوں کا کھیل تھا
    الجھے تو پھر سلجھ نہ سکے تار زیست کے
    ایک ایک سانس کے لیے کاسہ لیے پھریں
    ایسے بھی ہم نہیں ہیں طلب گار زیست کے
    رنگین ہے ہمارے لہو سے نصاب زیست
    عنواں رقم کیے ہیں ، سردار زیست کے
    اب آس ہے نہ کوئی تمنا نہ جستجو
    باقی نہیں ہیں زیست میں آثار زیست کے
    کیا زندگی کا رنگ ہو جانے ہمارے بعد
    ہم آخری امیں ہیں ، طرحدار زیست کے
    ( مشتاق عزیز )
  19. چھٹا انسان
    آف لائن

    چھٹا انسان ممبر

    شمولیت:
    ‏13 دسمبر 2016
    پیغامات:
    1,962
    موصول پسندیدگیاں:
    695
    ملک کا جھنڈا:
    میں خود زمیں ہوں مگر ظرف آسمان کا ہے
    کہ ٹوٹ کر بھی میرا حوصلہ چٹان کا ہے

    برا نہ مان میرے حرف زہر زہر سہی
    میں کیا کروں کہ یہی ذائقہ زبان کا ہے

    ہر ایک گھر پہ مسلط ہے دل کی ویرانی
    تمام شہر پہ سایہ میرے مکان کا ہے

    بچھڑتے وقت سے اب تک میں یوں نہیں رویا
    وہ کہہ گیا تھا یہی وقت امتحان کا ہے

    مسافروں کی خبر ہے نہ دکھ ہے کشتی کا
    ہوا کو جتنا بھی غم ہے وہ بادبان کا ہے

    یہ اور بات عدالت ہے بےخبر ورنہ
    تمام شہر میں چرچہ میرے بیان کا ہے

    اثر دکھا نہ سکا اس کے دل میں اشک میرا
    یہ تیر بھی کسی ٹوٹی ہوئی کمان کا ہے

    بچھڑ بھی جائے مگر مجھ سے بدگمان بھی رہے
    یہ حوصلہ ہی کہاں میرے بدگمان کا ہے

    قفس تو خیر مقدر میں تھا مگر محسن
    ہوا میں شور ابھی تک میری اڑان کا ہے
  20. چھٹا انسان
    آف لائن

    چھٹا انسان ممبر

    شمولیت:
    ‏13 دسمبر 2016
    پیغامات:
    1,962
    موصول پسندیدگیاں:
    695
    ملک کا جھنڈا:
    بھڑکے ہوئے شعلوں کو ہوائیں نہیں دیتے
    جاتے ہوئے لمحوں کو صدائیں نہیں دیتے
    مانا یہی فطرت ہے مگر اس کو بدل دو
    بدلے میں وفاؤں کے جفائیں نہیں دیتے
    گر پھول نہیں دیتے تو کاٹتے بھی تو مت دو
    مسکان نہ دینی ہو تو آہیں نہیں دیتے
    تم نے جو کیا ، اچھا کیا ، ہاں یہ گلا ہے
    منزل نہ ہو جس کی تو وہ راہیں نہیں دیتے
    یہ بار کہیں خود ہی اٹھانا نہ پڑے کل
    اوروں کو بچھڑنے کی دعائیں نہیں دیتے
    ( فاخرہ بتول )
  21. چھٹا انسان
    آف لائن

    چھٹا انسان ممبر

    شمولیت:
    ‏13 دسمبر 2016
    پیغامات:
    1,962
    موصول پسندیدگیاں:
    695
    ملک کا جھنڈا:
    نہ وہ فرشتہ ہو نہ فرشتے جیسا ہو
    مجھے تلاش ہے اس کی جو میرے جیسا ہو
    میرے خلوص کو پہچانتا ہو بس کافی ہے
    وہ کوئی بھی ہو ، کہیں بھی ہو ، کیسا بھی ہو
    میری خاطر مرنے کا حوصلہ بھی رکھتا ہو
    اگر کبھی روٹھ جاؤ میں اس سے تو
    مسکرا کر منائے ، وہ ایسا ہو
    جو بات کرے وہ نبھا بھی سکے
    ارادوں میں وہ اپنی چاہتوں جیسا ہو
    دکھوں میں ہنسنے کا ہنر جانتا ہو
    ایک ایسا ہمسفر جو سمندر کی طرح گہرا ہو
    اس کی پیار کی ٹھنڈک ہو میرے لیے ایسی
    کہ وہ تو بالکل آسمان کے چاند جیسا ہو
    وہ صرف میرا ہو ، جو نگاہوں میں حیا رکھتا ہو
    عمر بھر ساتھ چلنے کا عزم وفا رکھتا ہو
    جو خواب دینے کو قادر ہو میری آنکھوں کو
    میری محبت کو پہچان سکے وہ ایسا ہو
  22. چھٹا انسان
    آف لائن

    چھٹا انسان ممبر

    شمولیت:
    ‏13 دسمبر 2016
    پیغامات:
    1,962
    موصول پسندیدگیاں:
    695
    ملک کا جھنڈا:
    وہ عکس بن کے میری چشم تر میں رہتا ہے
    عجیب شخص ہے پانی کے گھر میں رہتا ہے

    وہی تو میری شب غم کا ایک ستارہ ہے
    وہ ایک ستارہ جو چشم سحر میں رہتا ہے

    جو میرے ہونٹوں پہ آئے تو گنگناؤں اسے
    وہ شعر بن کے بیاض نظر میں رہتا ہے

    گزرتا وقت میرا غمگسار کیا ہوگا ؟
    یہ خود تعاقب شام و سحر میں رہتا ہے

    میرا ہی روپ ہے تو غور سے اگر دیکھے
    بگولہ سا جو تری رہگزر میں رہتا ہے

    نہ جانے کون ہے جس کی تلاش میں بسمل
    ہر ایک سانـس میرا اب سفر میں رہتا ہے
    ( بشکریہ : بسمل صابری )
  23. چھٹا انسان
    آف لائن

    چھٹا انسان ممبر

    شمولیت:
    ‏13 دسمبر 2016
    پیغامات:
    1,962
    موصول پسندیدگیاں:
    695
    ملک کا جھنڈا:
    آپ کی یاد آتی رہی رات بھر
    چشم نم مسکراتی رہی رات بھر

    رات بھر درد کی شمع جلتی رہی
    غم کی لو تھرتھراتی رہی رات بھر

    بانسری کی سریلی سہانی صدا
    یاد بن بن کے آتی رہی رات بھر

    یاد کے چاند دل میں اترتے رہے
    چاندنی جگمگاتی رہی رات بھر

    کوئی دیوانہ گلیوں میں پھرتا رہا
    کوئی آواز آتی رہی رات بھر
  24. چھٹا انسان
    آف لائن

    چھٹا انسان ممبر

    شمولیت:
    ‏13 دسمبر 2016
    پیغامات:
    1,962
    موصول پسندیدگیاں:
    695
    ملک کا جھنڈا:
    شریک زندگی ، ہم دم کہوں ، یا ہم سفر لکھوں
    نفس ٹھراؤں تجھ کو اپنا یا جان جگر لکھوں
    کہوں گم راہ خود کو اور تجھ کو راہ بر لکھوں
    تری خاطر ، یہ ایک دو نظم کیا ، میں عمر بھر لکھوں
    یہ دل چاہے کہ اپنا سارا فن تجھ پر فدا کر دوں
    میں تیری ہر ادا کو نظم کا پیکر عطا کر دوں
    میں اپنی ہر غزل ہر شعر تیرا ماجرا کر دوں
    تخیل سے بھی بڑھ کر کچھ کہوں ، اور جان کیا کر دوں
    یوں اپنے دل کو مسلوں ، جذب دل سب کچھ بیاں کر دوں
    جو حرف و لفظ سے ہے ماورا ، وہ سب عیاں کر دے
    خدا سے یہ دعا کرتا ہوں ، اس دل کو زباں کر دے
    میرے لفظوں کی جوئے مختصر کو بے کراں کر دے
    کہ میرے جذب دل کے سامنے سب لفظ کم تر ہیں
    سو عاجز حسرت اظہار سے لفظوں کے پیکر ہیں
    لگن ، چاہت ، محبت ، عشق سب کے سب فروتر ہیں
    کہ یہ کچھ اور جذبہ ہے ، یہ احساسات دیگر ہیں
    لہذا ، جان جاں ! اظہار سے یکسر تہی ہوں میں
    بس اتنا جان لے تیرے بنا کچھ بھی نہیں ہوں میں
    محمد عثمان جامعی
    پاکستانی55 نے اسے پسند کیا ہے۔
  25. زنیرہ عقیل
    آف لائن

    زنیرہ عقیل ممبر

    شمولیت:
    ‏27 ستمبر 2017
    پیغامات:
    3,202
    موصول پسندیدگیاں:
    2,097
    ملک کا جھنڈا:
    وہ ہمسفر تھا مگر اس سے ہمنوائی نہ تھی
    کہ دھوپ چھاؤں کا عالم رہا جدائی نہ تھی
    نہ اپنا رنج نہ اپنا دکھ نہ اوروں کا ملال
    شبِ فراق کبھی ہم نے یوں گنوائی نہ تھی
    محبتوں کا سفر کچھ اس طرح بھی گزرا تھا
    شکستہ دل تھے مسافر شکستہ پائی نہ تھی
    عداوتیں تھیں ، تغافل تھا، رنجشیں تھیں بہت
    بچھڑنے والے میں سب کچھ تھا ، بے وفائی نہ تھی
    بچھڑتے وقت ان آنکھوں میں تھی ہماری غزل
    غزل بھی وہ جو کسی کو ابھی سنائی نہ تھی
    کبھی یہ حال کہ دونوں میں یک دلی تھی بہت
    کبھی یہ مرحلہ جیسے کہ آشنائی نہ تھی
    عجیب ہوتی ہے راہِ سخن بھی دیکھ نصیر
    وہاں بھی آ گئے آخر جہاں رسائی نہ تھی
    پاکستانی55 نے اسے پسند کیا ہے۔
  26. چھٹا انسان
    آف لائن

    چھٹا انسان ممبر

    شمولیت:
    ‏13 دسمبر 2016
    پیغامات:
    1,962
    موصول پسندیدگیاں:
    695
    ملک کا جھنڈا:
    بے نام سا یہ درد ٹھہر کیوں نہیں جاتا
    جو بیت گیا ہے وہ گزر کیوں نہیں جاتا
    سب کچھ تو ہے کیا ڈھونڈھتی رہتی ہیں نگاہیں
    کیا بات ہے میں وقت پے گھر کیوں نہیں جاتا

    وہ ایک ہی چہرہ تو نہیں سارے جہاں میں
    جو دور ہے وہ دل سے اتر کیوں نہیں جاتا
    میں اپنی ہی الجھی ہوئی راہوں کا تماشہ
    جاتے ہیں جدھر سب میں ادھر کیوں نہیں جاتا

    وہ خواب جو برسوں سے نہ چہرہ نہ بدن ہے
    وہ خواب ہواؤں میں بکھر کیوں نہیں جاتا
    ( ندا فاضلی )
  27. زنیرہ عقیل
    آف لائن

    زنیرہ عقیل ممبر

    شمولیت:
    ‏27 ستمبر 2017
    پیغامات:
    3,202
    موصول پسندیدگیاں:
    2,097
    ملک کا جھنڈا:
    حکم تیرا ہے تو تعمیل کیے دیتے ہیں
    زندگی ہجر میں تحلیل کیے دیتے ہیں

    تو میری وصل کی خواہش پہ بگڑتا کیوں ہے
    راستہ ہی ہے چلو تبدیل کیے دیتے ہیں

    آج سب اشکوں کو آنکھوں کے کنارے پہ بلاؤ
    آج اس ہجر کی تکمیل کیے دیتے ہیں

    ہم جو ہنستے ہوئے اچھے نہیں لگتے تم کو
    تو حکم کر آنکھ ابھی جھیل کیے دیتے ہیں
    حنا شیخ 2 نے اسے پسند کیا ہے۔
  28. ساتواں انسان
    آف لائن

    ساتواں انسان ممبر

    شمولیت:
    ‏28 نومبر 2017
    پیغامات:
    459
    موصول پسندیدگیاں:
    286
    ملک کا جھنڈا:
    تو مجھے کس کے بنانے کو مٹا بیٹھا ہے
    میں کوئی غم تو نہیں تھا جسے کھا بیٹھا ہے
    بات کچھ خاک نہیں تھی جو اڑائی تو نے
    تیر کچھ عیب نہیں تھا جو لگا بیٹھا ہے
    میل کچھ کھیل نہیں تھا جو بگاڑا تو نے
    ربط کچھ رسم نہیں تھا جو گھٹا بیٹھا ہے
    آنکھ کچھ بات نہیں تھی جو جھکائی تو نے
    رخ کوئی راز نہیں تھا جو چھپا بیٹھا ہے
    نام ارمان نہیں تھا جو نکالا تو نے
    عشق افواہ نہیں تھا جو اڑا بیٹھا ہے
    لاگ کچھ آگ نہیں تھی جو لگا دی تو نے
    دل کوئی گھر تو نہیں تھا جو جلا بیٹھا ہے
    رسم کاوش تو نہیں تھی جو مٹا دی تو نے
    ہاتھ پردہ تو نہیں تھا جو اٹھا بیٹھا ہے
    { مضطر خیرآبادی }
    زنیرہ عقیل نے اسے پسند کیا ہے۔
  29. زنیرہ عقیل
    آف لائن

    زنیرہ عقیل ممبر

    شمولیت:
    ‏27 ستمبر 2017
    پیغامات:
    3,202
    موصول پسندیدگیاں:
    2,097
    ملک کا جھنڈا:
    شاعر راشد فرہاد

    غم کے سائے اگر نہیں ہوتے
    ہم بھی جاناں ادھر نہیں ہوتے
    ان سے ناطہ بحی ہم نہیں رکھتے
    جو کہ اہل نظر نہیں ہوتے
    کیسے پنچھی وہاں ٹہریں گے
    جس جگہ پر شجر نہیں ہوتے
    تیری فرقت میں ہم سے جانِ جاں
    تنہا یہ دن بسر نہیں ہوتے
    تو اگر راستہ دکھا جاتا ہمیں
    ہم کبھی دربدر نہیں ہوتے
    اس طرح منزلیں نہیں ملتی
    آپ اگر ہم سفر نہیں ہوتے
    پختہ جن کے ارادے ہوں فرہاد
    وہ کبھی بے ہنر نہیں ہوتے

اس صفحے کو مشتہر کریں