1. اس فورم پر جواب بھیجنے کے لیے آپ کا صارف بننا ضروری ہے۔ اگر آپ ہماری اردو کے صارف ہیں تو لاگ ان کریں۔

لاجواب غزل

'اردو شاعری' میں موضوعات آغاز کردہ از مخلص انسان, ‏4 جنوری 2016۔

  1. مخلص انسان
    آف لائن

    مخلص انسان ممبر

    شمولیت:
    ‏10 اکتوبر 2015
    پیغامات:
    5,415
    موصول پسندیدگیاں:
    2,740
    ملک کا جھنڈا:
    ﺗﻨﮩﺎﺋﯽ ﮐﺎ ﺩﮐﮫ ﮔﮩﺮﺍ ﺗﮭﺎ
    ﻣﯿﮟ ﺩﺭﯾﺎ ﺩﺭﯾﺎ ﺭﻭﯾﺎ ﺗﮭﺎ
    ﺍﮎ ﻟﮩﺮ ﮨﯽ ﻧﮧ ﺳﻨﺒﮭﻠﯽ ﻭﺭﻧﮧ
    ﻣﯿﮟ ﻃﻮﻓﺎﻧﻮﮞ ﺳﮯ ﮐﮭﯿﻼ ﺗﮭﺎ
    ﺗﻨﮩﺎﺋﯽ ﮐﺎ ﺗﻨﮩﺎ ﺳﺎﯾﮧ
    ﺩﯾﺮ ﺳﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﺳﺎﺗﮫ ﻟﮕﺎ ﺗﮭﺎ
    ﭼﮭﻮﮌ ﮔﺌﮯ ﺟﺐ ﺳﺎﺭﮮ ﺳﺎﺗﮭﯽ
    ﺗﻨﮩﺎﺋﯽ ﻧﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺩﯾﺎ ﺗﮭﺎ
    ﺳﻮﮐﮫ ﮔﺌﯽ ﺟﺐ ﺳﮑﮫ ﮐﯽ ﮈﺍﻟﯽ
    ﺗﻨﮩﺎﺋﯽ ﮐﺎ ﭘﮭﻮﻝ ﮐﮭﻼ ﺗﮭﺎ
    ﺗﻨﮩﺎﺋﯽ ﻣﯿﮟ ﯾﺎﺩ ﺧﺪﺍ ﺗﮭﯽ
    ﺗﻨﮩﺎﺋﯽ ﻣﯿﮟ ﺧﻮﻑ ﺧﺪﺍ ﺗﮭﺎ
    ﺗﻨﮩﺎﺋﯽ ﻣﺤﺮﺍﺏ ﻋﺒﺎﺩﺕ
    ﺗﻨﮩﺎﺋﯽ ﻣﻨﺒﺮ ﮐﺎ ﺩﯾﺎ ﺗﮭﺎ
    ﺗﻨﮩﺎﺋﯽ ﻣﯿﺮﺍ ﭘﺎﯾﮧ ﺷﮑﺴﺘﮧ
    ﺗﻨﮩﺎﺋﯽ ﻣﯿﺮﺍ ﺩﺳﺖ ﺩﻋﺎ ﺗﮭﺎ
    ﻭﮦ ﺟﻨﺖ ﻣﯿﺮﮮ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﭼﮭﭙﯽ ﺗﮭﯽ
    ﻣﯿﮟ ﺟﺴﮯ ﺑﺎﮨﺮ ﮈﮬﻮﻧﮉ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ
    ﺗﻨﮩﺎﺋﯽ ﻣﯿﺮﮮ ﺩﻝ ﮐﯽ ﺟﻨﺖ
    ﻣﯿﮟ ﺗﻨﮩﺎ ﮨﻮﮞ ، ﻣﯿﮟ ﺗﻨﮩﺎ ﺗﮭﺎ !
    ناصر کاظمی
     
    بہادر انسان، آصف احمد بھٹی اور پاکستانی55 نے اسے پسند کیا ہے۔
  2. عبدالمطلب
    آف لائن

    عبدالمطلب ممبر

    شمولیت:
    ‏11 اپریل 2016
    پیغامات:
    2,134
    موصول پسندیدگیاں:
    1,726
    ملک کا جھنڈا:
    اب پر ہيں، نہ قفس، نہ صياد، نہ چمن
    جتنے تھے زندگي کے سہارے چلے گۓ
    جن پہ تھا ناز مجھ کو يہ ميرے دوست ہيں
    دامن جھٹک کے ميرا وہ پيارے چلے گۓ
    ہر شب کو آنسوؤں کے جلاتے رہے چراغ
    ہم تيري بزمِ ياد نکھارے چلے گۓ
    لتھڑي ہوئي تھي خون ميں ہر زلفِ آرزو
    جوشِ جنوں ميں ہم مگر سنوارے چلے گۓ
    ہر زخم دل ميں تيرا سنوارے چلے گۓ
    ہم زندگي کا قرض اتارے چلے گۓ
    سو بار موت کو بھي بنايا ہے ہمسفر
    ہم زندگي کے نقش ابھارے چلے گۓ

    خالد حفیظ
     
    آصف احمد بھٹی اور پاکستانی55 .نے اسے پسند کیا ہے۔
  3. مخلص انسان
    آف لائن

    مخلص انسان ممبر

    شمولیت:
    ‏10 اکتوبر 2015
    پیغامات:
    5,415
    موصول پسندیدگیاں:
    2,740
    ملک کا جھنڈا:
    محبت کی دنیا میں مشہور کر دوں
    میرے سادہ دل تجھ کو مغرور کر دوں

    تیرے دل کو خود ملنے کی آرزو ہو
    تجھے اس قدر غم سے رنجور کر دوں

    مجھے زندگی دور رکھتی ہے تم سے
    جو تو پاس ہو تو اسے دور کر دوں

    محبت کے اقرار سے شرم کب تک
    کبھی سامنا ہو تو مجبور کر دوں

    یہ بے رنگیاں کب تک ، اے حسن رنگیں
    ادھر آ ، تجھے عشق میں چور کر دوں

    تو گر سامنے ہو تو میں بے خودی میں
    ستاروں کو سجدے پہ مجبور کر دوں
    ( بشکریہ : اسد اعوان )
     
    بہادر انسان اور آصف احمد بھٹی .نے اسے پسند کیا ہے۔
  4. مخلص انسان
    آف لائن

    مخلص انسان ممبر

    شمولیت:
    ‏10 اکتوبر 2015
    پیغامات:
    5,415
    موصول پسندیدگیاں:
    2,740
    ملک کا جھنڈا:
    منظر تھا ایک اجاڑ نگاہوں کے سامنے
    کیا کیا نہ رنگ بھر دئیے افسوس شام نے
    اس حادثے کی نخوت ساقی کو کیا خبر
    بادہ پیا کہ زہر پیا تشنہ کام نے
    چہرے سے اجنبی تھا وہ میرے لئے مگر
    سب راز اس کے کہہ دیئے طرز خرام نے
    نکلا نہیں ہوں آج بھی اپنے حصار سے
    حد نگاہ آج بھی ہے میرے سامنے
    تھے حادثوں کے وار تو کاری مگر مجھے
    مرنے نہیں دیا خلش انتقام نے
    ایک سانس کی طناب جو ٹوٹی تو اے شکیب
    دوڑے ہیں لوگ جسم کے خیمے کو تھامنے
    ( بشکریہ : شکیب جلالی )
     
    بہادر انسان نے اسے پسند کیا ہے۔
  5. مخلص انسان
    آف لائن

    مخلص انسان ممبر

    شمولیت:
    ‏10 اکتوبر 2015
    پیغامات:
    5,415
    موصول پسندیدگیاں:
    2,740
    ملک کا جھنڈا:
    کوئی سورج جاگے دھرتی پر
    کچھ ایسا ہو یہ رات ڈھلے
    کوئی ہاتھ میں تھامے ہاتھ میرا
    کوئی لے کے مجھ کو ساتھ چلے
    کوئی بیٹھے میرے پہلو میں
    میرے ہاتھ پہ اپنا ہاتھ دھرے
    اور پونجھ کے آنسو انکھوں سے
    وہ دھیرے سے یہ بات کہے
    یوں تنہا سفر اب کٹتا نہیں
    چلو ہم بھی تیرے ساتھ چلے
    ( بشکریہ : فصو گل )
     
    بہادر انسان اور آصف احمد بھٹی .نے اسے پسند کیا ہے۔
  6. مخلص انسان
    آف لائن

    مخلص انسان ممبر

    شمولیت:
    ‏10 اکتوبر 2015
    پیغامات:
    5,415
    موصول پسندیدگیاں:
    2,740
    ملک کا جھنڈا:
    کسی مظلوم کے دل کی صدا کو یاد کرلینا
    کسی بھی ظلم سے پہلےسزا کو یاد کرلینا

    برا جب وقت آتا ہے تو رب کو یاد کرتے ہو
    کبھی اچھی گھڑی میں بھی خدا کو یاد کرلینا

    حقوق عورت کے مردوں سے ہیں گر یہ جاننا ہے تو
    کلام اللہ کی سورۃ نساء کو یاد کرلینا

    کبھی سوچا ہے تم کو لوگ اچھا کیوں نہیں کہتے
    کبھی تنہائی میں اپنی خطاء کو یاد کرلینا

    اگرغافل ہے تو انجام سے اپنے اے اسرائیل !!
    تو قوم لوط کو اور قوم سبا کو یاد کرلینا

    دعا کو ہاتھ جب اٹھیں تو بس اتنی گزارش ہے
    کرو جب یاد اپنوں کے حیا کو یاد کرلینا
    لتا حیا
     
    بہادر انسان نے اسے پسند کیا ہے۔
  7. مخلص انسان
    آف لائن

    مخلص انسان ممبر

    شمولیت:
    ‏10 اکتوبر 2015
    پیغامات:
    5,415
    موصول پسندیدگیاں:
    2,740
    ملک کا جھنڈا:
    وہ دلاور جو سیاہ شب کے شکاری نکلے
    وہ بھی چڑھتے ہوئے سورج کے پجاری نکلے

    سب کے ہونٹوں پہ میرے بعد ہیں باتیں میری !
    میرے دشمن میرے لفظوں کے بھکاری نکلے

    ایک جنازہ اٹھا مقتل سے عجب شان کے ساتھ
    جیسے سج کر کسی فاتح کی سواری نکلے

    ہم کو ہر دور کی گردش نے سلامی دی ہے
    ہم وہ پتھر تھے جو ہر دور میں بھاری نکلے

    عکس کوئی ہو خدوخال تمہارے دیکھوں
    بزم کوئی ہو مگر بات تمہاری نکلے

    اپنے دشمن سے میں بے وجہ خفا تھا محسن
    میرے قاتل تو میرے اپنے حواری نکلے
    محسن نقوی
     
    بہادر انسان اور آصف احمد بھٹی .نے اسے پسند کیا ہے۔
  8. مخلص انسان
    آف لائن

    مخلص انسان ممبر

    شمولیت:
    ‏10 اکتوبر 2015
    پیغامات:
    5,415
    موصول پسندیدگیاں:
    2,740
    ملک کا جھنڈا:
    ﺿﺒﻂ ﻏﻢ ﺩﻝ ﺁﺳﺎﮞ ، ﺍﻇﮩﺎﺭ ﻭﻓﺎ ﻣﻤﮑﻦ
    ﮨﻮﻧﮯ ﮐﻮ ﯾﮧ ﺳﺐ ﻣﻤﮑﻦ ، ﻣﻠﻨﺎ تیرﺍ ﻧﺎ ﻣﻤﮑﻦ

    ﻧﺎﻟﻮﮞ ﮐﺎ ﺍﺛﺮ ﻣﻤﮑﻦ ، ﺗﺎﺛﯿﺮ ﺩﻋﺎ ﻣﻤﮑﻦ
    ﺍﺱ ﮨﻮﻧﮯ ﭘﮧ ﮨﺮ ﺷﮯ ﮐﮯ ، ﮐﭽﮫ ﺑﮭﯽ ﻧﮧ ﮨﻮﺍ ﻣﻤﮑﻦ

    ﺍﺱ ﻋﺎﻟﻢ ﺍﻣﮑﺎﮞ ﻣﯿﮟ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ ، ﺟﻮ ﮨﮯ ﻧﺎ ﻣﻤﮑﻦ
    ﮈﮬﻮﻧﮉﻭ ﺗﻮ ﻣﻠﮯ ﻋﻨﻘﺎ ، ﭼﺎﮨﻮ ﺗﻮ ﺧﺪﺍ ﻣﻤﮑﻦ

    ﺟﺲ ﮐﻮ تیرﯼ ﺧﻮﺍﮨﺶ ﻣﯿﮟ ، ﺩﻧﯿﺎ ﺳﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﻄﻠﺐ
    ﺍﺱ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﯾﮑﺴﺎﮞ ﮨﮯ ، ﮨﺮﻣﻤﮑﻦ ﻭ ﻧﺎ ﻣﻤﮑﻦ

    ﺑﮯ ﺟﺎ ﺑﮭﯽ ﺳﮩﯽ ﺷﮑﻮﮦ ، ﻏﺼﮧ ﺗﻤﮭﯿﮟ ﮐﯿﻮﮞ ﺁﯾﺎ
    ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺗﻮ ﺑﺸﺮ ﮨﯽ ﮨﻮﮞ ، ﺍﻧﺴﺎﮞ ﺳﮯ ﺧﻄﺎ ﻣﻤﮑﻦ

    ﺩﻭ ﮔﺰ ﮨﮯ ﺯﻣﯿﮟ ﮐﺎﻓﯽ ، ﺑﺴﺘﯽ ﮨﻮ ﮐﮧ ﻭﯾﺮﺍﻧﮧ
    ﭘﺮ ﺭﮨﻨﮯ ﮐﻮ ﺟﺎ ﺁﺳﺎﮞ ، ﻣﺮ ﻣﭩﻨﮯ ﮐﻮ ﺟﺎ ﻣﻤﮑﻦ

    ﻣﺮﻧﺎ ﻭﮨﯽ ﭼﺎﮨﮯ ﮔﺎ ﺟﯿﻨﺎ ﺟﺴﮯ ﻣﺸﮑﻞ ﮨﻮ
    ﭘﮭﺮ ﺯﮨﺮ ﮨﯽ ﮐﯿﻮﮞ ﮐﮭﺎﺗﮯ ، ﮨﻮﺗﯽ ﺟﻮ ﺩﻭﺍ ﻣﻤﮑﻦ

    ﺍﮮ ﺁﺭﺯﻭ ﺍﺏ ﻣﯿﮟ ﮨﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﻋﺸﻖ ﮐﯽ ﺭﺳﻮﺍﺋﯽ
    ﺧﺎﻣﻮﺵ ﺑﮭﯽ ﮔﺮ ﺑﯿﭩﮭﻮﮞ ، ﭼﺮﭼﺎ ﻧﮧ ﮨﻮ ، ﮐﯿﺎ ﻣﻤﮑﻦ

    ﺁﺭﺯﻭ ﻟﮑﮭﻨﻮﯼ
     
    بہادر انسان اور آصف احمد بھٹی .نے اسے پسند کیا ہے۔
  9. مخلص انسان
    آف لائن

    مخلص انسان ممبر

    شمولیت:
    ‏10 اکتوبر 2015
    پیغامات:
    5,415
    موصول پسندیدگیاں:
    2,740
    ملک کا جھنڈا:
    کوئی فریاد تیرے دل میں دبی ہو جیسے
    تو نے آنکھوں سے کوئی بات کہی ہو جیسے

    جاگتے جاگتے ایک عمر کٹی ہو جیسے
    جان باقی ہے مگر سانس رکی ہو جیسے

    ہر ملاقات پہ محسوس یہی ہوتا ہے
    مجھ سے کچھ تیری نظر پوچھ رہی ہو جیسے

    راہ چلتے ہوئے اکثر یہ گماں ہوتا ہے
    وہ نظر چھپ کے مجھے دیکھ رہی ہو جیسے

    ایک لمحے میں سمٹ آیا ہے صدیوں کا سفر
    زندگی تیز بہت تیز چلی ہو جیسے

    اس طرح پہروں تجھے سوچتا رہتا ہوں میں
    میری ہر سانس تیرے نام لکھی ہو جیسے
     
    بہادر انسان نے اسے پسند کیا ہے۔
  10. مخلص انسان
    آف لائن

    مخلص انسان ممبر

    شمولیت:
    ‏10 اکتوبر 2015
    پیغامات:
    5,415
    موصول پسندیدگیاں:
    2,740
    ملک کا جھنڈا:
    ﺑﮩﺘﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﮐﯽ ﺭﻭﺍﻧﯽ ﻣﯿﮟ ﻣﺮﮮ ﮨﯿﮟ
    ﮐﭽﮫ ﺧﻮﺍﺏ ﻣﯿﺮﮮ ﻋﯿﻦ ﺟﻮﺍﻧﯽ ﻣﯿﮟ ﻣﺮﮮ ﮨﯿﮟ
    ﺭﻭﺗﺎ ﮨﻮ ﮞ ﻣﯿﮟ ﺍﻥ ﻟﻔﻈﻮﮞ ﮐﯽ ﻗﺒﺮﻭﮞ ﭘﮧ ﮐﺌﯽ ﺑﺎﺭ
    ﺟﻮ ﻟﻔﻆ ﻣﯿﺮﯼ ﺷﻌﻠﮧ ﺑﯿﺎﻧﯽ ﻣﯿﮟ ﻣﺮﮮ ﮨﯿﮟ
    ﮐﭽﮫ ﺗﺠﮫ ﺳﮯ ﯾﮧ ﺩﻭﺭﯼ ﺑﮭﯽ ﻣﺠﮭﮯ ﻣﺎﺭ ﮔﺌﯽ ﮨﮯ
    ﮐﭽﮫ ﺟﺬﺑﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﻧﻘﻞ ﻣﮑﺎﻧﯽ ﻣﯿﮟ ﻣﺮﮮ ﮨﯿﮟ
    ﻗﺒﺮﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻢ ﮐﻮ ﮐﺘﺎﺑﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺍﺗﺎﺭﻭ
    ﮨﻢ ﻟﻮﮒ ﻣﺤﺒﺖ ﮐﯽ ﮐﮩﺎﻧﯽ ﻣﯿﮟ ﻣﺮﮮ ﮨﯿﮟ
    ﺍﺱ ﻋﺸﻖ ﻧﮯ ﺁﺧﺮ ﮨﻤﯿﮟ ﺑﺮﺑﺎﺩ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ
    ﮨﻢ ﻟﻮﮒ ﺍﺳﯽ ﮐﮭﻮﻟﺘﮯ ﭘﺎﻧﯽ ﻣﯿﮟ ﻣﺮﮮ ﮨﯿﮟ
    ﮐﭽﮫ ﺣﺪ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩ ﮦ ﺗﮭﺎ ﮨﻤﯿﮟ ﺷﻮﻕ ﻣﺤﺒﺖ
    ﺍﻭﺭ ﮨﻢ ﮨﯽ ﻣﺤﺒﺖ ﮐﯽ ﮔﺮﺍﻧﯽ ﻣﯿﮟ ﻣﺮﮮ ﮨﯿﮟ
    ( بشکریہ : ﺍﻋﺠﺎﺯ ﺗﻮﮐﻞ )
     
    بہادر انسان اور آصف احمد بھٹی .نے اسے پسند کیا ہے۔
  11. آصف احمد بھٹی
    آف لائن

    آصف احمد بھٹی ناظم خاص سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏27 مارچ 2011
    پیغامات:
    40,593
    موصول پسندیدگیاں:
    6,026
    ملک کا جھنڈا:
    مخلص انسان نے اسے پسند کیا ہے۔
  12. مخلص انسان
    آف لائن

    مخلص انسان ممبر

    شمولیت:
    ‏10 اکتوبر 2015
    پیغامات:
    5,415
    موصول پسندیدگیاں:
    2,740
    ملک کا جھنڈا:
    ﻣﻞ ﮨﯽ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ ﮐﺒﮭﯽ ، ﺩﻝ ﮐﻮ ﯾﻘﯿﮟ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﮯ
    ﻭﮦ ﺍﺳﯽ ﺷﮩﺮ ﮐﯽ ﮔﻠﯿﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﯿﮟ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﮯ

    ﺟﺲ ﮐﯽ ﺳﺎﻧﺴﻮﮞ ﺳﮯ ﻣﮩﮑﺘﮯ ﺗﮭﮯ ﺩﺭ ﻭ ﺑﺎﻡ تیرﮮ
    ﺍﮮ ﻣﮑﺎﮞ ﺑﻮﻝ ، ﮐﮩﺎﮞ ﺍﺏ ﻭﮦ ﻣﮑﯿﮟ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﮯ

    ایک ﺯﻣﺎﻧﮧ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﺳﺐ ﺍﯾﮏ ﺟﮕﮧ ﺭﮨﺘﮯ ﺗﮭﮯ
    ﺍﻭﺭ ﺍﺏ ﮐﻮﺋﯽ ﮐﮩﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ ﮐﮩﯿﮟ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﮯ

    ﺭﻭﺯ ﻣﻠﻨﮯ ﭘﮧ ﺑﮭﯽ ﻟﮕﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﺟﮓ ﺑﯿﺖ ﮔﺌﮯ
    ﻋﺸﻖ ﻣﯿﮟ ﻭﻗﺖ ﮐﺎ ﺍﺣﺴﺎﺱ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﮯ

    ﺩﻝ ﻓﺴﺮﺩﮦ ﺗﻮ ﮨﻮﺍ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﮯ ﺍﺱ ﮐﻮ ﻟﯿﮑﻦ
    ﻋﻤﺮ ﺑﮭﺮ ﮐﻮﻥ ﺟﻮﺍﮞ ، ﮐﻮﻥ ﺣﺴﯿﮟ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﮯ

    ( بشکریہ : ﺍﺣﻤﺪ ﻣﺸﺘﺎﻕ )
     
    بہادر انسان اور آصف احمد بھٹی .نے اسے پسند کیا ہے۔
  13. حنا شیخ
    آف لائن

    حنا شیخ ممبر

    شمولیت:
    ‏21 جولائی 2016
    پیغامات:
    2,709
    موصول پسندیدگیاں:
    1,565
    ملک کا جھنڈا:
    لاجواب جناب ،،
    ڈھل گئی عمر تو غزلوں پہ جوانی آئی
    ٹھہری ٹھہری ہوئی طبیعت میں روانی آئی
    آج پھر یاد محبت کی کہانی آئی
    آجپھر نیند کو آنکھوں سے بچھڑتے دیکھا
    آج پھر یاد کوئی چوٹ پرانی آئی
    مدّتوں بعد چلا اُن پہ ہمارا جادو
    مدّتوں بعد ہمیں بات بنانی آئی
    مدّتوں بعد پشیماں ہوا دریا ہم سے
    مدّتوں بعد ہمیں پیاس چُھپانی آئی
    مدّتوں بعد کھُلی وسعتِ صحرا ہم پر
    مدّتوں بعد ہمیں خاک اُڑانی آئی
    مدّتوں بعد میسر ہوا ماں کا آنچل
    مدّتوں بعد ہمیں نیند سُہانی آئی
    اتنی آسانی سے ملتی نہیں فن کی دولت
    ڈھل گئی عمر تو غزلوں پہ جوانی آئی
     
    مخلص انسان نے اسے پسند کیا ہے۔
  14. مخلص انسان
    آف لائن

    مخلص انسان ممبر

    شمولیت:
    ‏10 اکتوبر 2015
    پیغامات:
    5,415
    موصول پسندیدگیاں:
    2,740
    ملک کا جھنڈا:
    اپنی تاریخ کے افکار کہاں سے لاؤں
    بھول بیٹھا ہوں وہ اطوار کہاں سے لاؤں

    اب تو ماضی ہے فقط قصے سنانے کے لئے
    ہائے افسوس وہ کردار کہاں سے لاؤں

    در بدر پھرتا ہوں انصاف کی خاطر میں یہاں
    عہد فاروق سا دربار کہاں سے لاؤں

    صدق ایسا کہ صداقت بھی جہاں ناز کرے
    وہ ابو بکر سا حقدار کہاں سے لاؤں

    فخر کرتی تھی سخاوت بھی سخا پر ان کی
    میں وہ عثمان سا ایثار کہاں سے لاؤں

    جس نے دروازہ خبر کو اکھاڑا پل میں
    وہ علی حیدر کرار کہاں سے لاؤں

    جس نے حق کے لئے کربلا میں لٹایا گھر کو
    اب شہیدوں کا وہ سردار کہاں سے لاؤں

    مجتمع ہو کہ چلے ساتھ میں امت جس کے
    میں وہ اب قافلہ سالار کہاں سے لاؤں

    منتظر ہوں میں ابھی معجزہ ہو جائے کوئی
    دشمنوں کے لئے یلغار کہاں سے لاؤں

    مجھ کو توفیق عطا کر مرے مولا ایسی
    تھے جو پاکیزہ وہ اطوار کہاں سے لاؤں

    تیری خلقت بڑی مشکل میں گھری ہے یا رب
    میں نہیں جانتا غمخوار کہاں سے لاؤں

    تو ہے قادر تو ہی وہ دور بھی لا سکتا ہے
    میں تو بہت ہوں لاچار کہاں سے لاؤں
    ( بشکریہ : عدیل خان )
     
    بہادر انسان اور حنا شیخ .نے اسے پسند کیا ہے۔
  15. عبدالمطلب
    آف لائن

    عبدالمطلب ممبر

    شمولیت:
    ‏11 اپریل 2016
    پیغامات:
    2,134
    موصول پسندیدگیاں:
    1,726
    ملک کا جھنڈا:
    یا رب غمِ ہجراں میں اتنا تو کیا ہوتا
    جو ہاتھ جگر پر ہے وہ دستِ دعا ہوتا
    اک عشق کا غم آفت اور اس پہ یہ دل آفت
    یا غم نہ دیا ہوتا، یا دل نہ دیا ہوتا
    غیروں سے کہا تم نے، غیروں سے سنا تم نے
    کچھ ہم سے کہا ہوتا، کچھ ہم سے سنا ہوتا
    امید تو بندھ جاتی، تسکین تو ہو جاتی
    وعدہ نہ وفا کرتے، وعدہ تو کیا ہوتا
    ناکامِ تمنا دل، اس سوچ میں رہتا ہے
    یوں ہوتا تو کیا ہوتا، یوں ہوتا تو کیا ہوتا

    شاعر چراغ حسن حسرت
     
    حنا شیخ نے اسے پسند کیا ہے۔
  16. عبدالمطلب
    آف لائن

    عبدالمطلب ممبر

    شمولیت:
    ‏11 اپریل 2016
    پیغامات:
    2,134
    موصول پسندیدگیاں:
    1,726
    ملک کا جھنڈا:
    اب پر ہيں، نہ قفس، نہ صياد، نہ چمن
    جتنے تھے زندگي کے سہارے چلے گۓ
    جن پہ تھا ناز مجھ کو يہ ميرے دوست ہيں
    دامن جھٹک کے ميرا وہ پيارے چلے گۓ
    ہر شب کو آنسوؤں کے جلاتے رہے چراغ
    ہم تيري بزمِ ياد نکھارے چلے گۓ
    لتھڑي ہوئي تھي خون ميں ہر زلفِ آرزو
    جوشِ جنوں ميں ہم مگر سنوارے چلے گۓ
    ہر زخم دل ميں تيرا سنوارے چلے گۓ
    ہم زندگي کا قرض اتارے چلے گۓ
    سو بار موت کو بھي بنايا ہے ہمسفر
    ہم زندگي کے نقش ابھارے چلے گۓ
    خالد حفیظ
     
    حنا شیخ نے اسے پسند کیا ہے۔
  17. حنا شیخ
    آف لائن

    حنا شیخ ممبر

    شمولیت:
    ‏21 جولائی 2016
    پیغامات:
    2,709
    موصول پسندیدگیاں:
    1,565
    ملک کا جھنڈا:

    تم اور فریب کھاؤ بیانِ رقیب سے
    تم سے تو کم گِلا ہے زیادہ نصیب سے

    گویا تمہاری یاد ہی میرا علاج ہے
    ہوتا ہے پہروں ذکر تمہارا طبیب سے

    بربادِ دل کا آخری سرمایہ تھی امید
    وہ بھی تو تم نے چھین لیامجھ غریب سے

    دھندلا چلی نگاہ دمِ واپسی ہے اب
    آ پاس آ کہ دیکھ لوں تجھ کو قریب سے

    شاعرـ آغا حشر
     
    عبدالمطلب نے اسے پسند کیا ہے۔
  18. عبدالمطلب
    آف لائن

    عبدالمطلب ممبر

    شمولیت:
    ‏11 اپریل 2016
    پیغامات:
    2,134
    موصول پسندیدگیاں:
    1,726
    ملک کا جھنڈا:
    تازہ ہوا کا جھونکا بنایا گیا مجھے
    دنیائے بے نمو میں پھرایا گیا مجھے

    میں آنکھ سے گرا تو زمیں کے صدف میں تھا
    بہرِ جمالِ عرش اُٹھایا گیا مجھے

    سازش میں کون کون تھا، مجھ کو نہیں ہے علم
    مُصحَف میں اک ہی نام بتایا گیا مجھے

    بخشی گئی بہشت مجھے کس حساب میں؟
    دوزخ میں کس بنا پہ جلایا گیا مجھے؟

    چیخا کبھی جو دہر کے ظلم و ستم پہ میں
    قسمت کی لوری دے کے سُلایا گیا مجھے

    بیدادِ دہر نے جو کیا سنگ دل ہمیں
    تو کربلا دکھا کے رُلایا گیا مجھے

    تسخیرِ کائنات کا تھا مرحلہ اسد
    یوں ہی نہیں یہ علم سکھایا گیا مجھے

    محمد وارث
     
  19. مخلص انسان
    آف لائن

    مخلص انسان ممبر

    شمولیت:
    ‏10 اکتوبر 2015
    پیغامات:
    5,415
    موصول پسندیدگیاں:
    2,740
    ملک کا جھنڈا:
    راز حیات شمع سے پروانہ کہہ گیا
    فرزانگی کی بات تھی دیوانہ کہہ گیا
    پوچھا تھا آپ نے میرا افسانہ حیات
    میں بے خودی میں آپ کا افسانہ کہہ گیا
    جو بات عشق کہہ نہ سکا کھل کے دار پر
    ایک رند بے نواسر میخانہ کہہ گیا
    پی کر بغیر جام بہ ایں زہد واتقا
    زاہد بھی تیری آنکھ کو پیمانہ کہہ گیا
    منصور کی یہی تھی خطا راہ عشق میں
    جلو سے کو اپنے جلوہ جانا نہ کہہ گیا
    اپنوں کے دل میں مہر و محبت نہ کر تلاش
    یہ بات کس خلوص سے بیگانہ کہہ گیا
    میں اس خیال سے کہ نہ ٹوٹے بتوں کا دل
    کعبے کو احتیاط سے بتخانہ کہہ گیا
    بندہ نواز تجھ کو سمجھ کر طفیل آج
    شعروں میں اپنا حال فقیرانہ کہہ گیا
    ( بشکریہ : طفیل ہوشیارپوری )
     
    بہادر انسان نے اسے پسند کیا ہے۔
  20. عبدالمطلب
    آف لائن

    عبدالمطلب ممبر

    شمولیت:
    ‏11 اپریل 2016
    پیغامات:
    2,134
    موصول پسندیدگیاں:
    1,726
    ملک کا جھنڈا:
    یہ کہاں تھی میری قسمت کہ وصالِ یار ہوتا
    میری طرح کاش انہیں بھی میرا انتظار ہوتا
    یہ ہے میرے دل کی حسرت یہ ہے میرے دل کا ارماں
    ذرا مجھ سے ہوتی الفت ذرا مجھ سے پیار ہوتا
    اسی انتظار میں ہوں کسی دن وہ دن بھی ہوگا
    تجھے آرزو یہ ہوگی کہ میں ہم کنار ہوتا
    تیرا دل کہیں نہ لگتا تجھے چین کیونکر آتا
    تو اداس اداس رہتا جو تو بے قرار ہوتا
    تیری بات مان لیتا کبھی تجھ سے کچھ نہ کہتا
    میرے بے قرار دل کو جو ذرا قرار ہوتا
    یہی میری بے کلی پھر میری بے کلی نہ ہوتی
    جو تو دل نواز ہوتا جو تو غمگسار ہوتا
    کبھی اپنی آنکھ سے وہ میرا حال دیکھ لیتے
    مجھے ہے یقین ان کا یہی حالِ زار ہوتا
    کبھی ان سے جا لپٹتا کبھی ان کے پاوں پڑتا
    سر رہگزر پہ ان کی جو مرا غبار ہوتا
    تری مہربانیوں سے مرے کام بن رہے ہیں
    جو تو مہرباں نہ ہوتا میں ذلیل و خوار ہوتا
    یہ ہے آپ کی نوازش کہ ادھر ہے آپ کا رخ
    نہ تھی مجھ میں‌کوئی خوبی جو امیدوار ہوتا
    تری رحمتوں کی وسعت سرِ حشر دیکھتے ہی
    یہ پکار اٹھا ہے زاہد میں‌گناہ گار ہوتا
    بخدا کس اوج پر پھر یہ ادا نماز ہوتی
    ترے پائے ناز پر جب سرِ خاکسار ہوتا
    جو معین میرا ان سے کسی دن ملاپ ہوتا
    کبھی جان صدقے ہوتی کبھی دل نثار ہوتا


    سید غلام معین الدین شاہ مشتاق
     
  21. حنا شیخ
    آف لائن

    حنا شیخ ممبر

    شمولیت:
    ‏21 جولائی 2016
    پیغامات:
    2,709
    موصول پسندیدگیاں:
    1,565
    ملک کا جھنڈا:

    زندگی آزمائش کے سوا کچھ بھی نہیں
    صدا، صداۓ دل کے سوا کچھ بھی نہیں

    چشم_ حیرت کی بھلا کیا بصیرت؟
    نگاہ، نگاہ_ دل کے سوا کچھ بھی نہیں

    حقیقت_ روح جب سمجھ میں آ جاۓ
    جسم پھر مٹی کے سوا کچھ بھی نہیں

    دنیا اپنے تعاقب میں خوار کرتی ہے
    مگر اک سرگوشی کے سوا کچھ بھی نہیں

    موت شائد بہت حسین حقیقت ہے
    اور زندگی خواب کے سوا کچھ بھی نہیں

     
  22. عبدالمطلب
    آف لائن

    عبدالمطلب ممبر

    شمولیت:
    ‏11 اپریل 2016
    پیغامات:
    2,134
    موصول پسندیدگیاں:
    1,726
    ملک کا جھنڈا:
    اپنی تنہائی مرے نام پہ آباد کرے

    کون ہو گا جو مجھے اس کی طرح یاد کرے

    دل عجب شہر کہ جس پر بھی کھلا در اس کا

    وہ مسافر اسے ہر سمت سے برباد کرے

    اپنے قاتل کی ذہانت سے پریشان ہوں میں

    روز اِک موت نئے طرز کی ایجاد کرے

    اتنا حیراں ہو مری بے طلبی کے آگے

    واقفس میں کوئی در خود میرا صیاد کرے

    سلب بینائی کے احکام ملے ہیں جو کبھی

    روشنی چھونے کی خواہش کوئی شب زاد کرے

    سوچ رکھنا بھی جرائم میں ہے شامل اب تو

    وہی معصوم ہے ہر بات پہ جو صاد کرے

    جب لہو بول پڑے اس کی گواہی کے خلاف

    قاضی شہر کچھ اس بات میں ارشاد کرے

    اس کی مٹھی میں بہت روز رہا میرا وجود

    میرے ساحر سے کہو اب مجھے آزاد کرے

    پروین شاکر
     
  23. حنا شیخ
    آف لائن

    حنا شیخ ممبر

    شمولیت:
    ‏21 جولائی 2016
    پیغامات:
    2,709
    موصول پسندیدگیاں:
    1,565
    ملک کا جھنڈا:
    یہ کیسا رشتہ ہوتا ہے
    جو اپنا نہیں اپنا لگتا ہے

    دل میں اک ٹیس سی اٹھتی ہے
    ہاتھ رکھو میٹھا سا درد لگتا ہے

    سوچوں میں جس کو تراشا ہے
    وہ اپنے دل کا دیوتا سا لگتا ہے

    کبھی وہ جو خواب میں آتا ہے
    تو آنکھوں میں پانی سا لگتا ہے

    میری آنکھوں میں جب جھانکتا ہے
    مجھے کچھ ڈھنڈتا سا لگتا ہے

    آنکھوں میں اسکی کتنی گہرائی ہے
    اپنا سب کچھ ڈوبتا سا لگتا ہے
    حنا شیخ

     
    عبدالمطلب نے اسے پسند کیا ہے۔
  24. عبدالمطلب
    آف لائن

    عبدالمطلب ممبر

    شمولیت:
    ‏11 اپریل 2016
    پیغامات:
    2,134
    موصول پسندیدگیاں:
    1,726
    ملک کا جھنڈا:
    سوزِ غم دے کے مجھے اس نے یہ ارشاد کیا
    جا تجھے کشمکشِ دہر سے آزاد کیا
    وہ کریں بھی تو کن الفاظ میں تیرا شکوہ
    جن کو تیری نگہِ لطف نے برباد کیا
    دل کی چوٹوں نے کبھی چین سے رہنے نہ دیا
    جب چلی سرد ہوا، میں نے تجھے یاد کیا
    اے میں سو جان سے اس طرزِ تکلّم کے نثار
    پھر تو فرمائیے، کیا آپ نے ارشاد کیا
    اس کا رونا نہیں کیوں تم نے کیا دل برباد
    اس کا غم ہے کہ بہت دیر میں برباد کیا
    اتنا مانوس ہوں فطرت سے، کلی جب چٹکی
    جھک کے میں نے یہ کہا، مجھ سے کچھ ارشاد کیا
    مجھ کو تو ہوش نہیں تم کو خبر ہو شاید
    لوگ کہتے ہیں کہ تم نے مجھے برباد کیا

    جوش ملیح آبادی
     
    حنا شیخ نے اسے پسند کیا ہے۔
  25. حنا شیخ
    آف لائن

    حنا شیخ ممبر

    شمولیت:
    ‏21 جولائی 2016
    پیغامات:
    2,709
    موصول پسندیدگیاں:
    1,565
    ملک کا جھنڈا:

    دل پر جو زخم ہیں وہ دکھائیں کسی کو کیا
    اپنا شریکِ درد بنائیں کسی کو کیا

    ہر شخص اپنے اپنے غموں میں ہے مبتلا
    زنداں میں اپنے ساتھ رلائیں کسی کو کیا

    بچھڑے ہوئے وہ یار وہ چھوڑے ہوئے دیار
    رہ رہ کے ہم کو یاد جو آئیں کسی کو کیا

    رونے کو اپنے حال پہ تنہائی ہے بہت
    اس انجمن میں خود پہ ہنسائیں کسی کو کیا

    وہ بات چھیڑ جس سے جھلکتا ہو سب کا غم
    یادیں کسی کی تجھ کو ستائیں کسی کو کیا

    سوئے ہوئے ہیں لوگ تو ہوں گے سکون سے
    ہم جاگنے کا روگ لگائیں کسی کو کیا

    جالب نہ آئے گا کوئی احوال پوچھنے
    دیں شہرِ بے حساں میں صدائیں کسی کو کیا

    حبیب جالب
     
    عبدالمطلب نے اسے پسند کیا ہے۔
  26. حنا شیخ
    آف لائن

    حنا شیخ ممبر

    شمولیت:
    ‏21 جولائی 2016
    پیغامات:
    2,709
    موصول پسندیدگیاں:
    1,565
    ملک کا جھنڈا:
    دل کی بات لبوں پر لا کر، اب تک ہم دُکھ سہتے ہیں
    ہم نے سُنا تھا اس بستی میں، دل والے بھی رہتے ہیں
    بِیت گیا ساون کا مہینہ، موسم نے نظریں بدلیں
    لیکن ان پیاسی آنکھوں سے اب تک آنسو بہتے ہیں
    ایک ہمیں آوارہ کہنا، کوئی بڑا الزام نہیں
    دُنیا والے دل والوں کو اور بہت کچھ کہتے ہیں
    جن کی خاطر شہر بھی چھوڑا، جن کے لیے بدنام ہوئے
    آج وہی ہم سے بیگانے بیگانے سے رہتے ہیں
    وہ جو ابھی اس راہگزر سے چاک گریباں گزرا تھا
    اس آوارہ دیوانے کو جالبؔ جالبؔ کہتے ہیں

    حبیب جالبؔ​
     
    عبدالمطلب نے اسے پسند کیا ہے۔
  27. عبدالمطلب
    آف لائن

    عبدالمطلب ممبر

    شمولیت:
    ‏11 اپریل 2016
    پیغامات:
    2,134
    موصول پسندیدگیاں:
    1,726
    ملک کا جھنڈا:
    گھر سے یہ سوچ کہ نکلا ہوں کہ مر جانا ہے
    اب کوئی راہ دکھا دے کہ کدھر جانا ہے

    جسم سے ساتھ نبھانے کی مت امید رکھو
    اس مسافر کو تو رستے میں ٹھہر جانا ہے

    موت لمحے کی صدا زندگی عمروں کی پکار
    میں یہی سوچ کے زندہ ہوں کہ مر جانا ہے

    نشہ ایسا تھا کہ میخانے کو دُنیا سمجھا
    ہوش آیا، تو خیال آیا کہ گھر جانا ہے

    مرے جذبے کی بڑی قدر ہے لوگوں میں مگر
    میرے جذبے کو مرے ساتھ ہی مر جانا ہے​

     
  28. حنا شیخ
    آف لائن

    حنا شیخ ممبر

    شمولیت:
    ‏21 جولائی 2016
    پیغامات:
    2,709
    موصول پسندیدگیاں:
    1,565
    ملک کا جھنڈا:
    جب ہم کہیں نہ ہوں گے، تب شہر بھر میں ہوں گے
    پہنچے گی جو نہ اُس تک، ہم اُس خبر میں ہوں گے
    تھک کر گریں گے جس دَم، بانہوں میں تیری آ کر
    اُس دَم بھی کون جانے، ہم کس سفر میں ہوں گے
    اے جانِ! عہد و پیماں، ہم گھر بسائیں گے، ہاں
    تُو اپنے گھر میں ہو گا، ہم اپنے گھر میں ہوں گے
    میں لے کے دل کے رِشتے، گھر سے نکل چکا ہوں
    دیوار و دَر کے رِشتے، دیوار و دَر میں ہوں گے
    تِرے عکس کے سِوا بھی، اے حُسن! وقتِ رُخصت
    کچھ اور عکس بھی تو، اس چشمِ تر میں ہوں گے
    ایسے سراب تھے وہ، ایسے تھے کچھ کہ اب بھی
    میں آنکھ بند کر لوں، تب بھی نظر میں ہوں گے
    اس کے نقوشِ پا کو، راہوں میں ڈھونڈنا کیا
    جو اس کے زیرِ پا تھے وہ میرے سر میں ہوں گے
    وہ بیشتر ہیں، جن کو، کل کا خیال کم ہے
    تُو رُک سکے تو ہم بھی اُن بیشتر میں ہوں گے
    آنگن سے وہ جو پچھلے دالان تک بسے تھے
    جانے وہ میرے سائے اب کِس کھنڈر میں ہوں گے

    جونؔ ایلیا​
     
  29. مخلص انسان
    آف لائن

    مخلص انسان ممبر

    شمولیت:
    ‏10 اکتوبر 2015
    پیغامات:
    5,415
    موصول پسندیدگیاں:
    2,740
    ملک کا جھنڈا:
    یہ چند سانسیں جو دی ہیں تو ا ختیار بھی دے
    کہ میرے ہونے کا اب مجھ کو اعتبار بھی دے
    تھکن بلا کی سفر سے ہے ، جسم ٹوٹتا ہے
    شکستہ ناؤ کسی گھاٹ اب اتار بھی دے
    فلک کو پوری خوشی کب کسی کی بھاتی ہے
    گلوں کو رنگ بھی ، خوشبو بھی دے تو خار بھی دے
    کھلائے پھول کچھ ایسے کہ کھل اٹھے چہرہ
    پہ رت ہے ایسی جو اند سے مجھ کو مار بھی دے
    تیرے ہی بس میں ہے خلا ق پالنے والے
    دلوں کو چین بھی دے صبر بھی قرار بھی دے

    ( بشکریہ : ناصر علی سید )
     
  30. حنا شیخ
    آف لائن

    حنا شیخ ممبر

    شمولیت:
    ‏21 جولائی 2016
    پیغامات:
    2,709
    موصول پسندیدگیاں:
    1,565
    ملک کا جھنڈا:
    سائے پھیل جاتے ہیں درد رُت کے ڈھلنے سے
    چہرہ کس کا بدلا ہے، آئینے بدلنے سے
    جنگلوں کے سنّاٹے رُوح میں اُترتے ہیں
    خواہشوں کے موسم میں پافگار چلنے سے
    خواب پِھر سے جاگے ہیں نِیم خواب آنکھوں میں
    گھنٹیاں سی بجتی ہیں آرزو بدلنے سے
    گرد گرد چہرہ ہے وحشتوں کے ڈیرے میں
    تھک گئی ہوں کتنا میں دائروں میں چلنے سے
    آؤ ایسا کرتے ہیں، راہبر بدلتے ہیں
    دیکھیں کون مِلتا ہے منزلیں بدلنے سے
    ظُلمتوں کے چہرے سے آئینے ہٹا ڈالو
    روشنی تو ہو گی کچھ جگنوؤں کے جلنے سے
    رقص ہے شراروں کا آج راہگزاروں پر
    بستیاں نہ جل جائیں راستوں کے جلنے سے
    ذہن کے سُلگنے سے جسم راکھ ہوتا ہے
    زخم جلنے لگتے ہیں چاند کے نِکلنے سے

    شہنازؔ مزمل​
     

اس صفحے کو مشتہر کریں