1. اس فورم پر جواب بھیجنے کے لیے آپ کا صارف بننا ضروری ہے۔ اگر آپ ہماری اردو کے صارف ہیں تو لاگ ان کریں۔

لاجواب غزل

'اردو شاعری' میں موضوعات آغاز کردہ از مخلص انسان, ‏4 جنوری 2016۔

  1. مخلص انسان
    آف لائن

    مخلص انسان ممبر

    شمولیت:
    ‏10 اکتوبر 2015
    پیغامات:
    5,415
    موصول پسندیدگیاں:
    2,740
    ملک کا جھنڈا:
    ﻓﺎﺻﻠﮯ ﺍﯾﺴﮯ ﺑﮭﯽ ﮨﻮﻧﮕﮯ ﯾﮧ ﮐﺒﮭﯽ ﺳﻮﭼﺎ ﻧﮧ ﺗﮭﺎ
    ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺑﯿﭩﮭﺎ ﺗﮭﺎ ﻣﯿﺮﮮ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﻣﯿﺮﺍ ﻧﮧ ﺗﮭﺎ

    ﺧﻮﺩ ﭼﮍﮬﺎ ﺭﮐﮭﮯ ﺗﮭﮯ ﺗﻦ ﭘﺮ ﺍﺟﻨﺒﯿﺖ ﮐﮯ ﻏﻼﻑ
    ﻭﺭﻧﮧ ﮐﺐ ﺍﯾﮏ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﮐﻮ ﮨﻢ ﻧﮯ ﭘﮩﭽﺎﻧﺎ ﻧﮧ ﺗﮭﺎ

    ﻭﮦ ﮐﮯ ﺧﻮﺷﺒﻮ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﭘﮭﯿﻼ ﺗﮭﺎ ﻣﯿﺮﮮ ﭼﺎﺭ ﺳﻮ
    ﻣﯿﮟ ﺍﺳﮯ ﻣﺤﺴﻮﺱ ﮐﺮ ﺳﮑﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﭼﮭﻮ ﺳﮑﺘﺎ ﻧﮧ ﺗﮭﺎ

    ﺭﺍﺕ ﺑﮭﺮ ﭘﭽﮭﻠﯽ ﮨﯽ ﺁﮨﭧ ﮐﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﺁﺗﯽ ﺭﮨﯽ
    ﺟﮭﺎﻧﮏ ﮐﺮ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮔﻠﯽ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ ﺑﮭﯽ ﺁﯾﺎ ﻧﮧ ﺗﮭﺎ

    ﻋﮑﺲ ﺗﻮ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﺗﮭﺎ ﭘﺮ ﻋﮑﺲ ﺗﻨﮩﺎﺋﯽ ﮐﺎ ﺗﮭﺎ
    ﺁﺋﯿﻨﮧ ﺗﻮ ﺗﮭﺎ ﻣﮕﺮ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﺗﯿﺮﺍ ﭼﮩﺮﺍ ﻧﮧ ﺗﮭﺎ

    ﺁﺝ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺩﺭﺩ ﺑﮭﯽ ﺍﭘﻨﮯ ﻋﻠﯿﺤﺪﮦ ﮐﺮ ﻟﯿﺌﮯ
    ﺁﺝ ﻣﯿﮟ ﺭﻭﯾﺎ ﺗﻮ ﻣﯿﺮﺍ ﺳﺎﺗﮫ ﻭﮦ ﺭﻭﯾﺎ ﻧﮧ ﺗﮭﺎ

    ﯾﮧ ﺳﺒﮭﯽ ﻭﯾﺮﺍﻧﯿﺎﮞ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺟﺪﺍ ﮨﻮﻧﮯ ﺳﮯ ﺗﮭﯿﮟ
    ﺁﻧﮑﮫ ﺩﮬﻨﺪﻻﺋﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﺗﮭﯽ ﺷﮩﺮ ﺩﮬﻨﺪﻻﯾﺎ ﻧﮧ ﺗﮭﺎ

    ﺳﯿﻨﮑﮍﻭﮞ ﻃﻮﻓﺎﻥ ﻟﻔﻈﻮﮞ ﮐﮯ ﺩﺑﮯ ﺗﮭﮯ ﺯﯾﺮ ﻟﺐ
    ﺍﯾﮏ ﭘﺘﮭﺮ ﺗﮭﺎ ﺧﻤﻮﺷﯽ ﮐﺎ ﺟﻮ ﮨﻠﺘﺎ ﻧﮧ ﺗﮭﺎ

    ﯾﺎﺩ ﮐﺮ ﮐﮯ ﺍﻭﺭ ﺑﮭﯽ ﺗﮑﻠﯿﻒ ﮨﻮﺗﯽ ﺗﮭﯽ ﻋﺪﯾﻢ
    ﺑﮭﻮﻝ ﺟﺎﻧﮯ ﮐﯽ ﺳﻮﺍ ﺍﺏ ﮐﻮﺋﯽ ﺑﮭﯽ ﭼﺎﺭﮦ ﻧﮧ ﺗﮭﺎ۔
     
    زنیرہ عقیل، حنا شیخ، آصف احمد بھٹی اور 6 دوسروں نے اسے پسند کیا ہے۔
  2. نظام الدین
    آف لائن

    نظام الدین ممبر

    شمولیت:
    ‏17 فروری 2015
    پیغامات:
    1,981
    موصول پسندیدگیاں:
    2,048
    ملک کا جھنڈا:
    واہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بہت عمدہ شیئرنگ
     
    مخلص انسان نے اسے پسند کیا ہے۔
  3. دُعا
    آف لائن

    دُعا ممبر

    شمولیت:
    ‏31 مارچ 2015
    پیغامات:
    5,102
    موصول پسندیدگیاں:
    4,604
    ملک کا جھنڈا:
    واہ۔۔۔ واقعی لاجواب
    مخلص انسان صاحب آپ کی ہر پوسٹ ہی بہت عمدہ ہوتی ہے۔کیپ اٹ اپ۔
     
    آصف احمد بھٹی، سید شہزاد ناصر اور مخلص انسان نے اسے پسند کیا ہے۔
  4. مخلص انسان
    آف لائن

    مخلص انسان ممبر

    شمولیت:
    ‏10 اکتوبر 2015
    پیغامات:
    5,415
    موصول پسندیدگیاں:
    2,740
    ملک کا جھنڈا:
    وصال و ہجر کے جنجال میں پڑا ہوا ہوں
    میں عرش رو کہاں پاتال میں پڑا ہوا ہوں

    وہی گھٹن ، وہی معمول زندگی ، وہی غم
    کہاں میں جشن نئے سال میں پڑا ہوا ہوں

    یہاں سے نکلوں کسی اور کا شکار بنوں
    اسی لئے تو ترے جال میں پڑا ہوا ہوں

    گریباں چاک ، دھواں ، جام ، ہاتھ میں سگریٹ
    شب فراق ، عجب حال میں پڑا ہوا ہوں

    پہونچ چکا ہے زمانہ زمیں سے چاند تلک
    کہاں میں زلف ، نظر، گال میں پڑا ہوا ہوں

    ( بشکریہ ۔ ہاشم رضا جلالپوری )
     
  5. مخلص انسان
    آف لائن

    مخلص انسان ممبر

    شمولیت:
    ‏10 اکتوبر 2015
    پیغامات:
    5,415
    موصول پسندیدگیاں:
    2,740
    ملک کا جھنڈا:
    کون ہے جو زندگی میں حاجتِ منزل نہ تھا
    شکر ہے وہ ریگزاروں سے یہاں غافل نہ تھا

    آپ کے دل پر ذرا سی چوٹ پر اکھڑا گئے

    جب میرا دل ٹوٹتا تھا کیا وہ میرا دل نہ تھا

    ہم کبھی آپس میں اتنے جانے پہچانے لگے

    میں سراپا تھا تلاطم وہ بھی کچھ ساحل نہ تھا

    میرے سر کو دار کے قابل چلو سمجھا نہیں

    دار تو ایسا کہ اپنے سر کے بھی قابل نہ تھا

    ایک تم ہی تھے سراپا قابلِ عشق و نظر

    بارہا کہنا پڑا ہے جس کا میں قائل نہ تھا

    دن کے ماتھے پر ہمارے چلچلاتی دھوپ تھی

    رات کے آنچل پہ اختر ایک بھی جھل مل نہ تھا

    چار پیسے کیا کمایا سارا گھر چھایا رہا

    جب ہوا بوڑھا تو گھر میں دید کے قابل نہ تھا

    اب نثار حق کو حق کی آبرو رکھنی پڑی

    وہ سراپا حق تو میں بھی شاعر باطل نہ تھا
    ( بشکریہ : احمد نثار )
     
    فیاض أحمد، سید شہزاد ناصر اور ملک بلال نے اسے پسند کیا ہے۔
  6. ملک بلال
    آف لائن

    ملک بلال منتظم اعلیٰ سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏12 مئی 2010
    پیغامات:
    22,064
    موصول پسندیدگیاں:
    7,331
    ملک کا جھنڈا:
    بہت خوب انتخاب ہے
     
    سید شہزاد ناصر نے اسے پسند کیا ہے۔
  7. مخلص انسان
    آف لائن

    مخلص انسان ممبر

    شمولیت:
    ‏10 اکتوبر 2015
    پیغامات:
    5,415
    موصول پسندیدگیاں:
    2,740
    ملک کا جھنڈا:
    وہ بھی شامل ہو جائے تو اچھا ہو
    محفل ، محفل ہو جائے تو اچھا ہو

    اسکے ساتھ چلوں تو جی میں آتا ہے
    رستہ منزل ہو جائے تو اچھا ہو

    کب پروا ہے مجھ کو دنیا ونیا کی
    بس وہ حاصل ہو جائے تو اچھا ہو

    مولا !! میرے عاقل کے بھی سینے میں
    تھوڑا دل ول ہو جائے تو اچھا ہو

    میری نظمیں غزلیں جس کی خاطر ہیں
    میرا قائل ہو جائے تو اچھا ہو

    وہ بھی واقف ہو زخموں کی لذت سے
    ظالم بسمل ہو جائے تو اچھا ہو

    شام ہجراں !! میری طرح اب اس کا بھی
    جینا مشکل ہو جائے تو اچھا ہو

    جس بیری کی خاطر ہم نے جوگ لیا
    وہ بھی سائل ہو جائے تو اچھا ہو
    ( بشکریہ : عالم خورشید )
     
    آصف احمد بھٹی، فیاض أحمد اور سید شہزاد ناصر نے اسے پسند کیا ہے۔
  8. مخلص انسان
    آف لائن

    مخلص انسان ممبر

    شمولیت:
    ‏10 اکتوبر 2015
    پیغامات:
    5,415
    موصول پسندیدگیاں:
    2,740
    ملک کا جھنڈا:
    مثال بدر جو حاصل ہوا کمال مجھے
    گھٹا گھٹا کے فلک نے کیا ہلال مجھے

    برنگ سبزئہ بیگانہ باغ دہر میں تھا
    تیرے سحاب کرم نے کیا نہال مجھے

    یہ الفتیں بھی ہیں دنیا میں یادگار اے مرگ
    میرا خیال تجھے اور تیرا خیال مجھے

    کبھی خوشی سے جو دنیا میں ایک پل گزرا
    وہ صدمہ کش ہوں کہ برسوں رہا ملال مجھے

    کسی کے سامنے کیوں جا کہ ہاتھ پھیلاؤں
    میرا کریم تو دیتا ہے بے سوال مجھے
    ( بشکریہ : بابر علی انیس )
     
    آصف احمد بھٹی، فیاض أحمد اور سید شہزاد ناصر نے اسے پسند کیا ہے۔
  9. مخلص انسان
    آف لائن

    مخلص انسان ممبر

    شمولیت:
    ‏10 اکتوبر 2015
    پیغامات:
    5,415
    موصول پسندیدگیاں:
    2,740
    ملک کا جھنڈا:
    جو انگڑائی لوں تو بدن بولتا ہے
    ہوا گدگدائے تو من بولتا ہے

    کبھی وہ پکارے مجھے پھول کہہ کے
    کبھی مجھ کو جان چمن بولتا ہے

    ٹہلتی ہوں چھت پر جو میں چاندنی میں
    مجھے چاندنی کی دلہن بولتا ہے

    میرے حسن کا چاند تاروں میں چرچا
    میں چھپ جو رہوں تو گگن بولتا ہے

    کہکتی ہے جیسے میرے من میں کوئل
    مجھے جب وہ جان چمن بولتا ہے

    گلابوں کی جیسی ہے میری جوانی
    تبھی تو مجھے گلبدن بولتا ہے

    میرے چاند یہ چاندنی ہے تمہاری
    ستاروں بھرا یہ گگن بولتا ہے
    ( بشکریہ : چاندنی شبنم )
     
    سید شہزاد ناصر نے اسے پسند کیا ہے۔
  10. مخلص انسان
    آف لائن

    مخلص انسان ممبر

    شمولیت:
    ‏10 اکتوبر 2015
    پیغامات:
    5,415
    موصول پسندیدگیاں:
    2,740
    ملک کا جھنڈا:
    وہ سو کر اٹھ رہے ہیں اللہ اللہ کیا نظارا ہے
    قیامت نے ابھی کروٹ بدل کر سر ابھاراہے
    جوانی نے اسے اس خوش مذاقی سے سنوارا ہے
    نہ عرض شوق کی جرات ، نہ ضبط غم کا یارا ہے
    سحر ہوتے ہی وہ اس طرح شرما کر سدھارا ہے
    کہ مجھ کو عمر بھر اب رنج محرومی گوارا ہے
    کہاں صحرا نوردی اور کہاں دیدار کی حسرت
    میری دیوانگی تیرے تغافل کا ارشارا ہے
    معطرکو سانس ، چہرہ رشک گل ، مستی بھری آنکھیں
    جوانی ہے کہ اک سیلاب رنگ و بو کا دھارا ہے
    تمہاری یاد ہے میری کتاب غم کا دیباچہ
    خدا رکھے یہی ٹوٹے ہوئے دل کا سہارا ہے
    ستم کو کیا ستم سمجھوں جفا کو کیا جفا جانوں ؟
    وہی جور آشنا جب زندگانی کا سہارا ہے ؟
    ہوا مغموم ، منظر مضمحل ، ماحول افسردہ
    مجھے اے نا خدا کس گھاٹ تونے لا اتارا ہے
    وفا کی آرزو لغزش ہے اک خوش اعتقادی کی
    مجھے احسان اکثر دوستوں نے مل کے مارا ہے
    ( بشکریہ احسان دانش )
     
    آصف احمد بھٹی، فیاض أحمد اور سید شہزاد ناصر نے اسے پسند کیا ہے۔
  11. مخلص انسان
    آف لائن

    مخلص انسان ممبر

    شمولیت:
    ‏10 اکتوبر 2015
    پیغامات:
    5,415
    موصول پسندیدگیاں:
    2,740
    ملک کا جھنڈا:
    ۔
    ۔
    ۔ ۔ ۔
     
    حنا شیخ نے اسے پسند کیا ہے۔
  12. مخلص انسان
    آف لائن

    مخلص انسان ممبر

    شمولیت:
    ‏10 اکتوبر 2015
    پیغامات:
    5,415
    موصول پسندیدگیاں:
    2,740
    ملک کا جھنڈا:
    سرکس کے شیر کا ہی قبیلے پہ راج ہے
    جیسا مرا سماج ہے کس کا سماج ہے
    میں آج خوش بہت ہوں ہر اک غم کے باوجود
    چھبیس جنوری تجھے میرا خراج ہے
    اب تیرا اختیار ہے کیسے بھی گل کھلا
    لیکن ترے نصیب میں کانٹوں کا تاج ہے
    تم بھی نکل ہی جاؤ گے لوگوں کو روند کر
    یہ وقت کا بہت ہی پرانا رواج ہے
    تو روز و شب نفی کا پرستار بن کے جی
    اس شہر بے پناہ کا اپنا مزاج ہے
    ہم سے غزل کا فن کبھی رسوا نہیں ہوا
    اپنا تو کوئی دعوی نہ کل تھا نہ آج ہے
    ( بشکریہ : ف س اعجاز کولکتہ )
     
    آصف احمد بھٹی نے اسے پسند کیا ہے۔
  13. مخلص انسان
    آف لائن

    مخلص انسان ممبر

    شمولیت:
    ‏10 اکتوبر 2015
    پیغامات:
    5,415
    موصول پسندیدگیاں:
    2,740
    ملک کا جھنڈا:
    مسکرا کر وہ محبت کی سزا دیتے ہیں
    زہر میں تھوڑا سا امرت بھی ملا دیتے ہیں

    اپنا افسانہ غم ان کو سنا دیتے ہیں
    باتوں ہی باتوں میں ہر بات بتا دیتے ہیں

    شب غم کاش چراغوں کو بجھا دے کوئی
    شعلگی دل کی یہ کچھ اور بڑھا دیتے ہیں

    اجنبی مجھ کو سمجھتے ہیں بھری محفل میں
    ایک حقیقت کو وہ افسانہ بنا دیتے ہیں

    وہ کبھی غیر سمجھتے ہیں مگر ہم پھر بھی
    جانے کیوں دل کی ہر ایک بات بتا دیتے ہیں

    زندگی بس یونہی کٹتی ہے غزالہ اپنی
    خود بھی ہنستے ہیں کبھی ان کو رلا دیتے ہیں
    ( بشکریہ : غزالہ انور )
     
  14. مخلص انسان
    آف لائن

    مخلص انسان ممبر

    شمولیت:
    ‏10 اکتوبر 2015
    پیغامات:
    5,415
    موصول پسندیدگیاں:
    2,740
    ملک کا جھنڈا:
    توقعات سے باہر نکل سکے نہ کبھی
    خلاف راہ کسی سمت چل سکے نہ کبھی
    بڑے نفیس بتوں کے بھی درمیاں میں رہے
    خوشی ہے اس کی کہ پتھر میں ڈھل سکے نہ کبھی
    حباب سینہ دریا میں خیمہ زن بھی ہوئے
    مگر نشیبی حقیقت بدل سکے نہ کبھی
    بدل بدل کے بھی انداز زندگی دیکھا
    نصیب میں تھے جو چکر وہ ٹل سکے نہ کبھی
    شکار ہونا مقدر تھا ہم شکار رہے
    شریک راہ تھی پھسلن سنبھل سکے نہ کبھی
    معاونت میں رہے میرے ٹھوس استدلال
    کہ آگ بھبھکی گئی اور جل سکے نہ کبھی
    ثمر یہ ان کی ہوئی کس طرح کی نشو و نما
    شجر تو بن گئے لیکن وہ پھل سکے نہ کبھی
    ( بشکریہ : حلیم ثمر آروی )
     
  15. مخلص انسان
    آف لائن

    مخلص انسان ممبر

    شمولیت:
    ‏10 اکتوبر 2015
    پیغامات:
    5,415
    موصول پسندیدگیاں:
    2,740
    ملک کا جھنڈا:
    ہمارا حال بھی یارو ذرا سنورنے دو
    غبار راہ سمجھ کر نہ یوں بکھرنے دو
    قدم قدم پہ ضرورت ہماری بھی ہوگی
    ہمارے ساتھ چلو یوں نہ تم بچھڑنے دو
    بسے ہوئے ہم لوگ کیوں کھٹکتے ہیں
    ضروری کیا ہے کہ ہم کو یونہی اجڑنے دو
    یقین جانو کہ دل کو سنبھال رکھیں گے
    نظر کی راہ سے دل میں ہمیں اترنے دو
    کہاں جگہ ہے نئے زخم کیا لگاؤ گے
    پرانے زخموں کو یارو ذرا سا بھرنے دو
    تمہاری غیرت ملی کو ہو گیا ہے کیا ؟
    میانمار کے لوگوں کو یوں ہی مرنے دو؟
    عظیم سارا زمانہ ہے اپنے لوگوں کا
    ہمیں بھی ان کی طرح جان سے گزرنے دو

    ( بشکریہ : ابن عظیم فاطمی )
     
    آصف احمد بھٹی نے اسے پسند کیا ہے۔
  16. مخلص انسان
    آف لائن

    مخلص انسان ممبر

    شمولیت:
    ‏10 اکتوبر 2015
    پیغامات:
    5,415
    موصول پسندیدگیاں:
    2,740
    ملک کا جھنڈا:
    دیتا نہیں ہے مرنے ، مسیحا قریب ہے
    دشمن میری نجات کا کیسا عجیب ہے
    اس کی نظر سے پاپ یہ کیسے بچائے گا
    ذرہ بھی وہ نہ چھوڑے گا ایسا حسیب ہے
    مخلص ہے دوست اگر تو دکھاتا ہے آئینہ
    ورنہ نہیں ہے دوست وہ ، پکا رقیب ہے
    طالب تیری رضا کا میں عاجز غلام ہوں
    داتا تو لا شریک ہے بے شک مجیب ہے
    غربت کی دھوپ ہے کہیں برسات مال کی
    یا رب تیرے جہاں کا یہ کیسا نصیب ہے
    خوشبو تیرے وجود کی آتی ہے آج بھی
    رہ کر بھی مجھ سے دور ، تو بے حد قریب ہے
    دشمن کا خاتمہ نہ اجالے میں کرسکے
    دانش بچاؤ خود کو اندھیرا مہیب ہے
    ( بشکریہ : ایوب بیگ دانش چکبالا پوری )
     
    آصف احمد بھٹی نے اسے پسند کیا ہے۔
  17. مخلص انسان
    آف لائن

    مخلص انسان ممبر

    شمولیت:
    ‏10 اکتوبر 2015
    پیغامات:
    5,415
    موصول پسندیدگیاں:
    2,740
    ملک کا جھنڈا:
    ہاں اجازت ہے اگر کوئی کہانی اور ہے
    ان کٹوروں میں ابھی تھوڑا سا پانی اور ہے

    مذہبی مزدور سب بیٹھے ہیں ان کو کام دو
    ایک عمارت شہر میں کافی پرانی اور ہے


    خاموشی کب چیخ بن جائے کسے معلوم ہے
    ظلم کر لو جب تلک یہ بے زبانی اور ہے

    خشک پتے آنکھ میں چبھتے ہیں کانٹوں کی طرح
    دشت میں پھرنا الگ ہے باغبانی اور ہے


    پھر وہی اکتاہٹیں ہوں گی بدن چوپال میں
    عمر کے قصے میں تھوڑی سی جوانی اور ہے


    بس اسی احساس کی شدت نے بوڑھا کر دیا
    ٹوٹے پھوٹے گھر میں ایک لڑکی سیانی اور ہے

    ( بشکریہ : منور رانا )
     
    آصف احمد بھٹی نے اسے پسند کیا ہے۔
  18. عبدالمطلب
    آف لائن

    عبدالمطلب ممبر

    شمولیت:
    ‏11 اپریل 2016
    پیغامات:
    2,134
    موصول پسندیدگیاں:
    1,726
    ملک کا جھنڈا:
    اپنی مستی، کہ ترے قرب کی سرشاری میں
    اب میں کچھ اور بھی آسان ہوں دشواری میں

    کتنی زرخیز ہے نفرت کے لیے دل کی زمیں
    وقت لگتا ہی نہیں فصل کی تیاری میں

    اک تعلق کو بکھرنے سے بچانے کے لیے
    میرے دن رات گزرتے ہیں اداکاری میں

    وہ کسی اور دوا سے مرا کرتا ہے علاج
    مبتلا ہوں میں کسی اور ہی بیماری میں

    اے زمانے میں ترے اشک بھی رو لوں گا ، مگر
    ابھی مصروف ہوں خود اپنی عزاداری میں

    اس کے کمرے سے اٹھا لایا ہوں یادیں اپنی
    خود پڑا رہ گیا لیکن کسی الماری میں

    اپنی تعمیر اٹھاتے تو کوئی بات بھی تھی
    تم نے اک عمر گنوادی مری مسماری میں

    ہم اگر اور نہ کچھ دیر ہوا دیں ، تو یہ آگ
    سانس گھٹنے سے ہی مر جائے گی چنگاری میں

    تم بھی دنیا کے نکالے ہوئے لگتے ہو ظہیر
    میں بھی رہتا ہوں یہیں ، دل کی عملداری میں
    ثنااللہ ظہیر
     
    آصف احمد بھٹی نے اسے پسند کیا ہے۔
  19. عبدالمطلب
    آف لائن

    عبدالمطلب ممبر

    شمولیت:
    ‏11 اپریل 2016
    پیغامات:
    2,134
    موصول پسندیدگیاں:
    1,726
    ملک کا جھنڈا:
    یاد میں تیری جہاں کو بھولتا جاتا ہوں میں
    بھولنے والے، کبھی تجھ کو بھی یاد آتا ہوں میں

    اک دھندلا سا تصور ہے کہ دل بھی تھا یہاں
    اب تو سینے میں فقط اک ٹیس سی پاتا ہوں میں

    آرزؤں کا شباب اور مرگ حسرت ہائے ہائے
    جب بہار آئی گلستاں میں تو مرجھاتا ہوں میں

    حشر میری شعر گوئی ہے فقط فریاد شوق
    اپنا غم دل کی زباں میں، دل کو سمجھاتا ہوں میں

    آغا حشر
     
    آصف احمد بھٹی نے اسے پسند کیا ہے۔
  20. عبدالمطلب
    آف لائن

    عبدالمطلب ممبر

    شمولیت:
    ‏11 اپریل 2016
    پیغامات:
    2,134
    موصول پسندیدگیاں:
    1,726
    ملک کا جھنڈا:
    سب مایا ہے، سب ڈھلتی پھرتی چھایا ہے
    اس عشق میں ہم نے جو کھویا جو پایا ہے
    جو تم نے کہا ہے، فیض نے جو فرمایا ہے
    سب مایا ہے

    ہاں گاہے گاہے دید کی دولت ہاتھ آئی
    یا ایک وہ لذت نام ہے جس کا رسوائی
    بس اس کے سوا تو جو بھی ثواب کمایا ہے
    سب مایا ہے

    اک نام تو باقی رہتا ہے، گر جان نہیں
    جب دیکھ لیا اس سودے میں نقصان نہیں
    تب شمع پہ دینے جان پتنگا آیا ہے
    سب مایا ہے

    معلوم ہمیں سب قیس میاں کا قصہ بھی
    سب ایک سے ہیں، یہ رانجھا بھی یہ انشا بھی
    فرہاد بھی جو اک نہر سی کھود کے لایا ہے
    سب مایا ہے

    کیوں درد کے نامے لکھتے لکھتے رات کرو
    جس سات سمندر پار کی نار کی بات کرو
    اس نار سے کوئی ایک نے دھوکا کھایا ہے
    سب مایا ہے

    جس گوری پر ہم ایک غزل ہر شام لکھیں
    تم جانتے ہو ہم کیونکر اس کا نام لکھیں
    دل اس کی بھی چوکھٹ چوم کے واپس آیا ہے
    سب مایا ہے

    وہ لڑکی بھی جو چاند نگر کی رانی تھی
    وہ جس کی الھڑ آنکھوں میں حیرانی تھی
    آج اس نے بھی پیغام یہی بھجوایا ہے
    سب مایا ہے

    جو لوگ ابھی تک نام وفا کا لیتے ہیں
    وہ جان کے دھوکے کھاتے، دھوکے دیتے ہیں
    ہاں ٹھوک بجا کر ہم نے حکم لگایا ہے
    سب مایا ہے

    جب دیکھ لیا ہر شخص یہاں ہرجائی ہے
    اس شہر سے دور ایک کُٹیا ہم نے بنائی ہے
    اور اس کُٹیا کے ماتھے پر لکھوایا ہے
    سب مایا ہے

    ابن انشاء
     
    آصف احمد بھٹی اور مخلص انسان .نے اسے پسند کیا ہے۔
  21. مخلص انسان
    آف لائن

    مخلص انسان ممبر

    شمولیت:
    ‏10 اکتوبر 2015
    پیغامات:
    5,415
    موصول پسندیدگیاں:
    2,740
    ملک کا جھنڈا:
    ﻟﻮﮒ ہر ﻣﻮﮌ ﭘﮧ ﺭﮎ ﺭﮎ ﮐﮯ ﺳﻨﺒﮭﻠﺘﮯ ﮐﯿﻮﮞ ہیں
    ﺍﺗﻨﺎ ﮈﺭﺗﮯ ہیں ﺗﻮ ﭘﮭﺮ ﮔﮭﺮ ﺳﮯ ﻧﮑﻠﺘﮯ ﮐﯿﻮﮞ ہیں

    ﻣﯿﮟ ﻧﮧ ﺟﮕﻨﻮ ہوں ، ﺩﯾﺎ ہوﮞ ﻧﮧ ﮐﻮﺋﯽ ﺗﺎﺭﺍ ہوں
    ﺭﻭﺷﻨﯽ ﻭﺍﻟﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﻧﺎﻡ ﺳﮯ ﺟﻠﺘﮯ ﮐﯿﻮﮞ ہیں

    ﻧﯿﻨﺪ ﺳﮯ ﻣﯿﺮﺍ ﺗﻌﻠﻖ ہی ﻧﮩﯿﮟ ﺑﺮﺳﻮﮞ ﺳﮯ
    ﺧﻮﺍﺏ ﺁ ﺁ ﮐﮯ میرﯼ ﭼﮭﺖ ﭘﮧ ﭨﮩﻠﺘﮯ ﮐﯿﻮﮞ ہیں

    ﻣﻮﮌ ہوتا ہے ﺟﻮﺍﻧﯽ ﮐﺎ ﺳﻨﺒﮭﻠﻨﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﺌﮯ
    ﺍﻭﺭ ﺳﺐ ﻟﻮﮒ ﯾﮩﯿﮟ ﺁ ﮐﮯ ﭘﮭﺴﻠﺘﮯ ﮐﯿﻮﮞ ہیں

    ﻣﯿﮑﺪﮦ ﻇﺮﻑ ﮐﮯ ﻣﻌﯿﺎﺭ ﮐﺎ ﭘﯿﻤﺎﻧﮧ ﮨﮯ
    ﺧﺎﻟﯽ ﺷﯿﺸﻮﮞ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﻟﻮﮒ ﺍﭼﮭﻠﺘﮯ ﮐﯿﻮﮞ ہیں
    ( بشکریہ : ﺭﺍﺣﺖ ﺍﻧﺪﻭﺭﯼ )
     
    آصف احمد بھٹی نے اسے پسند کیا ہے۔
  22. مخلص انسان
    آف لائن

    مخلص انسان ممبر

    شمولیت:
    ‏10 اکتوبر 2015
    پیغامات:
    5,415
    موصول پسندیدگیاں:
    2,740
    ملک کا جھنڈا:
    ﺍﯾﺴﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮧ ﺍﻥ ﺳﮯ ﻣﺤﺒﺖ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮨﯽ
    ﺟﺬﺑﺎﺕ ﻣﯿﮟ ﻭﮦ ﭘﮩﻠﯽ ﺳﯽ ﺷﺪﺕ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮨﯽ

    ﺿﻌﻒ ﻗﻮﯼ ﻧﮯ ﺁﻣﺪ ﭘﯿﺮﯼ ﮐﯽ ﺩﯼ ﻧﻮﯾﺪ
    ﻭﮦ ﺩﻝ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮨﺎ ، ﻭﮦ ﻃﺒﯿﻌﺖ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮨﯽ

    ﺳﺮ ﻣﯿﮟ ﻭﮦ ﺍﻧﺘﻈﺎﺭ ﮐﺎ ﺳﻮﺩﺍ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮨﺎ
    ﺩﻝ ﭘﺮ ﻭﮦ ﺩﮬﮍﮐﻨﻮﮞ ﮐﯽ ﺣﮑﻮﻣﺖ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮨﯽ

    ﮐﻤﺰﻭﺭﯼ ﻧﮕﺎﮦ ﻧﮯ ﺳﻨﺠﯿﺪﮦ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ
    ﺟﻠﻮؤﮞ ﺳﮯ ﭼﮭﯿﮍ ﭼﮭﺎﮌ ﮐﯽ ﻋﺎﺩﺕ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮨﯽ

    ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ﺳﮯ ﺍﻧﺘﻘﺎﻡ ﻟﯿﺎ ﺍﺭﺗﻌﺎﺵ ﻧﮯ
    ﺩﺍﻣﺎﻥ ﯾﺎﺭ ﺳﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﻧﺴﺒﺖ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮨﯽ

    ﭘﯿﮩﻢ ﻃﻮﺍﻑ ﮐﻮﭼہ ﺟﺎﻧﺎﮞ ﮐﮯ ﺩﻥ ﮔﺌﮯ
    ﭘﯿﺮﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﭼﻠﻨﮯ ﭘﮭﺮﻧﮯ ﮐﯽ ﻃﺎﻗﺖ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮨﯽ

    ﭼﮩﺮﮮ ﮐﻮ ﺟﮭﺮﯾﻮﮞ ﻧﮯ ﺑﮭﯿﺎﻧﮏ ﺑﻨﺎ ﺩﯾﺎ
    ﺁﺋﯿﻨﮧ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ﮐﯽ ﺑﮭﯽ ﮨﻤﺖ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮨﯽ

    ﺍﻟﻠﮧ ﺟﺎﻧﮯ ﻣﻮﺕ ﮐﮩﺎﮞ ﻣﺮ ﮔﺌﯽ ﺧﻤﺎﺭ
    ﺍﺏ ﻣﺠﮫ ﮐﻮ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﯽ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮨﯽ
    ( بشکریہ : خمار بارہ بنکوی )
     
    آصف احمد بھٹی نے اسے پسند کیا ہے۔
  23. عبدالمطلب
    آف لائن

    عبدالمطلب ممبر

    شمولیت:
    ‏11 اپریل 2016
    پیغامات:
    2,134
    موصول پسندیدگیاں:
    1,726
    ملک کا جھنڈا:
    ابروئے ابر سے کرتا ہے اشارہ مجھ کو
    جھلک اُس آنکھ کی دکھلا کے ستارہ مجھ کو
    ہوں میں وہ شمع سرِ طاق جلا کر سرِ شام
    بھول جاتا ہے مرا انجمن آرا مجھ کو
    رائگاں وسعتِ ویراں میں یہ کھلتے ہوئے پھول
    ان کو دیکھوں تو یہ دیتے ہیں سہارا مجھ کو
    میری ہستی ہے فقط موجِ ہوا، نقشِ حباب
    کوئی دم اور کریں آپ گوارا مجھ کو
    دام پھیلاتی رہی سود و زیاں کی یہ بساط
    ہاں مگر میرے جنوں نے نہیں ہارا مجھ کو
    کچھ شب و روز و مہ و سال گزر کر مجھ پر
    وقت نے تا بہ ابد خود پہ گزرا مجھ کو
    موجِ بے تاب ہوں میں ، میرے عناصر ہیں کچھ اور
    چاہئے صحبتِ ساحل سے کنارا مجھ کو
    رزق سے میرے مرے دل کو ہے رنجش خورشید
    آسمانوں سے زمینوں پہ اُتارا مجھ کو

    خورشید رضوی
     
    آصف احمد بھٹی اور مخلص انسان .نے اسے پسند کیا ہے۔
  24. مخلص انسان
    آف لائن

    مخلص انسان ممبر

    شمولیت:
    ‏10 اکتوبر 2015
    پیغامات:
    5,415
    موصول پسندیدگیاں:
    2,740
    ملک کا جھنڈا:
    کچھ دور ہمارے ساتھ چلو
    ہم دل کی کہانی کہہ دیں گے
    سمجھے نہ جسے تم آنکھوں سے
    وہ بات زبانی کہہ دیں گے

    پھولوں کی طرح جب ہونٹوں پر
    ایک شوخ تبسم بکھرے گی
    دھیرے سے تمھارے کانوں میں
    ایک بات پرانی کہہ دیں گے

    اظہار وفا تم کیا جانو
    اقرار وفا تم کیا جانو
    ہم ذکر کریں گے غیروں کا
    اور اپنی کہانی کہہ دیں گے
    ( بشکریہ : مظفر احمد )
     
    آصف احمد بھٹی اور عبدالمطلب .نے اسے پسند کیا ہے۔
  25. عبدالمطلب
    آف لائن

    عبدالمطلب ممبر

    شمولیت:
    ‏11 اپریل 2016
    پیغامات:
    2,134
    موصول پسندیدگیاں:
    1,726
    ملک کا جھنڈا:
    پھر کوئی نیا زخم، نیا درد عطا ہو
    اس دل کی خبر لے جو تجھے بھول چلا ہو
    اب دل میں سرِ شام چراغاں نہیں ہوتا
    شعلہ تیرے غم کا کہیں بجھنے نہ لگا ہو
    کب عشق کیا، کس سے کیا، جھوٹ ہے یارو
    بس بھول بھی جاؤ جو کبھی ہم سے سنا ہو
    اب میری غزل کا بھی تقاضہ ہے یہ تجھ سے
    انداز و ادا کا کوئی اسلوب نیا ہو

    اطہر نفیس
     
    آصف احمد بھٹی نے اسے پسند کیا ہے۔
  26. عبدالمطلب
    آف لائن

    عبدالمطلب ممبر

    شمولیت:
    ‏11 اپریل 2016
    پیغامات:
    2,134
    موصول پسندیدگیاں:
    1,726
    ملک کا جھنڈا:
    پہلے تو اپنے دل کی رضا جان جائیے
    پھر جو نگاہِ یار کہے مان جائیے
    پہلے مزاجِ راہ گزر جان جائیے
    پھر گردِ راہ جو بھی کہے مان جائیے
    کچھ کہہ رہی ہیں آپ کے سینے کی دھڑکنیں
    میری سنیں تو دل کا کہا مان جائیے
    اک دھوپ سی جمی ہے نگاہوں کے آس پاس
    یہ آپ ہیں تو آپ پہ قربان جائیے
    شاید حضور سے کوئی نسبت ہمیں بھی ہو
    آنکھوں میں جھانک کر ہمیں پہچان جائیے

    قتیل شفائی
     
    آصف احمد بھٹی اور پاکستانی55 .نے اسے پسند کیا ہے۔
  27. مخلص انسان
    آف لائن

    مخلص انسان ممبر

    شمولیت:
    ‏10 اکتوبر 2015
    پیغامات:
    5,415
    موصول پسندیدگیاں:
    2,740
    ملک کا جھنڈا:
    سنو پھر لوٹ آو نئی تدبیر کر لیں
    وہی پھر خواب دیکھیں فرق تعبیر کر لیں
    تمہیں ڈھونڈا بہت ہے اب آنکھیں چاہتی ہیں
    تمہیں آنکھوں سے دیکھیں وہیں تصویر کر لیں
    لکھیں کیا تم کو ایسا کہ بھولو سب گلے تم
    ہمیں لکھ بھیجو وہ سب وہی تحریر کر لیں
    کہاں قدرت میں میری اگر قدرت میں ہوتا
    سبھی اپنا لٹا کے تمہیں جاگیر کر لیں
    چلو اب آ بھی جاؤ دعا بھی ساتھ لاؤ
    ملیں ، مانگیں دعائیں نئی تقدیر کر لیں
     
    آصف احمد بھٹی نے اسے پسند کیا ہے۔
  28. عبدالمطلب
    آف لائن

    عبدالمطلب ممبر

    شمولیت:
    ‏11 اپریل 2016
    پیغامات:
    2,134
    موصول پسندیدگیاں:
    1,726
    ملک کا جھنڈا:
    یہ جو ہر سو فلک منظر کھڑے ہیں.
    نجانے کس کے پیروں پر کھڑے ہیں.
    تلا ہے دھوپ برسانے پر سورج.
    شجر بھی چھتریاں لے کر کھڑے ہیں.
    انہیں ناموں سے میں پہنچانتا ہوں.
    مرے دشمن مرے اندر کھڑے ہیں.
    کسی دن چاند نکلا تھا یہاں سے.
    اجالے آج بھی چھت پر کھڑے ہیں.
    اجالا سا ہے کچھ کمرے کے اندر.
    زمین وآسماں باہر کھڑے ہیں.

    ڈاکٹر راحت اندوری
     
    آصف احمد بھٹی اور فیاض أحمد .نے اسے پسند کیا ہے۔
  29. مخلص انسان
    آف لائن

    مخلص انسان ممبر

    شمولیت:
    ‏10 اکتوبر 2015
    پیغامات:
    5,415
    موصول پسندیدگیاں:
    2,740
    ملک کا جھنڈا:
    حوصلے کیا ہوئے بتلاؤ مسلمانوں کے
    نام مٹنے لگے کعبے کے نگہبانوں کے


    نا ہی پیمانے کی پہچان نہ مئے کی خواہش
    بند کردیجئے دروازے یہ میخانوں کے


    آبلے دل کے سنبھلنے نہیں دیتے اس کو
    پوچھنے نکلا ہے احوال پریشانوں کے


    قدر کھوجاتے ہیں زر زیور و سونا چاندی
    ہاتھ لگ جاتے ہیں املاک جو نادانوں کے

    بات حق کی نہیں پہنچائی مگر کہتے ہیں
    ہائے افسوس کھلے در ہیں صنم خانوں کے

    آج دانا کو کوئی پوچھنے والا ہی نہیں
    ایسا لگتا ہے کہ دن آگئے نادانوں کے


    کیسے امید کریں سائے کی بے سایوں سے
    سر پہ پگڑی نہ نظر آئی نگہبانوں کے

    ہر کوئی شمع کی دیتا ہے دہائی لیکن
    کیسے حالات ہیں پوچھا نہیں پروانوں کے

    وہ بھی دن تھے کہ بنا کرتی تھی تاریخ اپنی
    آج کل چرچے ہوا کرتے ہیں ویرانوں کے


    کیوں نثار اب کہ نمائش ہی نمائش ہے یہاں
    جیسے دربار سجا کرتے تھے بتخانوں کے

    ( بشکریہ : احمد نثار )
     
    آصف احمد بھٹی اور عبدالمطلب .نے اسے پسند کیا ہے۔
  30. عبدالمطلب
    آف لائن

    عبدالمطلب ممبر

    شمولیت:
    ‏11 اپریل 2016
    پیغامات:
    2,134
    موصول پسندیدگیاں:
    1,726
    ملک کا جھنڈا:
    بہ احتیاطِ عقیدت بہ چشمِ تر کہنا
    صبا حضور سے حالِ دل و نظر کہنا!

    حصارِ جبر میں ہوں اور ہاں سے بھی ہجرت
    مَیں جانتی ہُوں کہ ممکن نہیں مگر، کہنا

    میں خاک شہرِ مدینہ پہن کے جب نکلوں
    تو مُجھ سے بڑھ کے کوئی ہو گا معتبر کہنا

    یہ عرض کرنا کہ آقا مِری بھی سُن لیجے
    بحبزتمُھارے نہیں کوئی چارہ گر کہنا

    مَیں اپنی پَلکوں سے لکھتی ہُوں حرفِ نامِ رسُول
    مُجھے بھی ا گیا لکھنے کا ابہُنر کہنا

    یہ کہنا اب تو ہمیں تابِ انتظار نہیں
    کہ ہم کریں گے مدینے کا کب سفر کہنا

    نوشی گیلانی


     
    آصف احمد بھٹی نے اسے پسند کیا ہے۔

اس صفحے کو مشتہر کریں