1. اس فورم پر جواب بھیجنے کے لیے آپ کا صارف بننا ضروری ہے۔ اگر آپ ہماری اردو کے صارف ہیں تو لاگ ان کریں۔

لاجواب غزل

'اردو شاعری' میں موضوعات آغاز کردہ از مخلص انسان, ‏4 جنوری 2016۔

  1. ساتواں انسان
    آف لائن

    ساتواں انسان ممبر

    شمولیت:
    ‏28 نومبر 2017
    پیغامات:
    6,095
    موصول پسندیدگیاں:
    1,992
    ملک کا جھنڈا:
    تو نہیں تو زندگی میں اور کیا رہ جائے گا
    دور تک تنہائیوں کا سلسلہ رہ جائے گا
    کیجئے کیا گفتگو کیا ان سے مل کر سوچئے
    دل شکستہ خواہشوں کا ذائقہ رہ جائے گا
    درد کی ساری تہیں اور سارے گزرے حادثے
    سب دھواں ہو جائیں گے ایک واقعہ رہ جائے گا
    یہ بھی ہوگا وہ مجھے دل سے بھلا دے گا مگر
    یوں بھی ہوگا خود اسی میں ایک خلا رہ جائے گا
    دائرے انکار کے اقرار کی سرگوشیاں
    یہ اگر ٹوٹے کبھی تو فاصلہ رہ جائے گا
     
  2. ساتواں انسان
    آف لائن

    ساتواں انسان ممبر

    شمولیت:
    ‏28 نومبر 2017
    پیغامات:
    6,095
    موصول پسندیدگیاں:
    1,992
    ملک کا جھنڈا:
    اس کی تمام عمر کا ترکہ خرید لے
    بڑھیا کا دل تھا کوئی تو چرخہ خرید لے
    بچوں کا رزق دے مجھے قیمت کے طور پر
    تو تو میرا خدا ہے نا ، سجدہ خرید لے
    ایک بوڑھا اسپتال میں دیتا تھا یہ صدا
    ہے کوئی جو غریب کا گردہ خرید لے ؟
    مزدور کی حیات اسی کوشش میں کٹ گئی
    ایک بار اس کا بیٹا بھی بستہ خرید لے
    ہم سر کٹا کے بیٹھے ہیں مقتل کی خاک پہ
    دشمن سے کوئی کہہ دے کہ نیزہ خرید لے
    تو نے خریدے ہوں گے موذن عناد میں
    گر بس میں ہے تو آ ! میرا لہجہ خرید لے
    پیاسے کے اطمینان سے لگتا تھا دشت میں
    چاہے تو مشک بیچ کے ، دریا خرید لے
    جب اس سے گھر بنانے کے پیسے نہ بن سکے
    وہ ڈھونڈتا رہا ، کوئی نقشہ خرید لے
    بیٹی کی شادی سر پہ تھی اور دل تھا باپ کا
    زیور کے ساتھ ، چھوٹی سی گڑیا خرید لے
    تو بادشاہ ہے ، فقر کے طعنے نہ دے مجھے
    بس میں نہیں تیرے میرا کاسہ خرید لے
    حیدر وہ صدیاں بیچ کے آیا تھا میرے پاس
    ممکن نہیں ہوا ، میرا لمحہ خرید لے
     
  3. زنیرہ عقیل
    آف لائن

    زنیرہ عقیل ممبر

    شمولیت:
    ‏27 ستمبر 2017
    پیغامات:
    20,230
    موصول پسندیدگیاں:
    9,355
    ملک کا جھنڈا:
    یہ دُنیا ذہن کی بازی گری معلُوم ہوتی ہے
    یہاں جس شے کو جو سمجھو وہی معلُوم ہوتی ہے
    نکلتے ہیں کبھی تو چاندنی سے دُھوپ کے لشکر
    کبھی خود دُھوپ نکھری چاندنی معلُوم ہوتی ہے
    کبھی کانٹوں کی نوکوں پرلبِ گُل رنگ کی نرمی
    کبھی پُھولوں کی خوشبُو میں انی معلُوم ہوتی ہے
    وہ آہِ صُبح گاہی جس سے تارے کانپ اٹھتے ہیں
    ذرا سا رُخ بدل کر راگنی معلُوم ہوتی ہے
    نہ سوچیں تو نہایت لُطف آتا ہے تعلّی میں
    جو سوچیں تو بڑی ناپختگی معلُوم ہوتی ہے
    جو سچ پُوچھو تو وہ اِک ضرب ہے عاداتِ ذہنی پر
    وہ شے جو نوعِ اِنساں کو بُری معلُوم ہوتی ہے
    کبھی جن کارناموں پر جوانی فخر کرتی تھی
    اب اُن کی یاد سے شرمندگی معلُوم ہوتی ہے
    بَلا کا ناز تھا کل جن مسائل کی صلابَت پر
    اب اُن کی نیؤ یک سر کھوکلی معلُوم ہوتی ہے
    کبھی پُر ہول بن جاتا ہے جب راتوں کا سنّاٹا
    سُریلے تار کی جھنکار سی معلُوم ہوتی ہے
    اُسی نسبت سے آرائش پہ ہم مجبُور ہوتے ہیں
    خُود اپنی ذات میں جتنی کجی معلُوم ہوتی ہے
    پئے بیٹھا ہُوں جوش! علم و نظر کے سینکڑوں قُلزم
    ارے پھر بھی بَلا کی تشنگی معلُوم ہوتی ہے


    جوش ملیح آبادی
     
  4. ساتواں انسان
    آف لائن

    ساتواں انسان ممبر

    شمولیت:
    ‏28 نومبر 2017
    پیغامات:
    6,095
    موصول پسندیدگیاں:
    1,992
    ملک کا جھنڈا:
    برباد تمنا پہ عتاب اور زیادہ
    ہاں میری محبت کا جواب اور زیادہ
    روئیں نہ ابھی اہل نظر حال پہ میرے
    ہونا ہے ابھی مجھ کو خراب اور زیادہ
    آوارہ و مجنوں ہی پہ موقوف نہیں کچھ
    ملنے ہیں ابھی مجھ کو خطاب اور زیادہ
    اٹھیں گے ابھی اور بھی طوفاں میرے دل سے
    دیکھوں گا ابھی عشق کے خواب اور زیادہ
    ٹپکے گا لہو اور میرے دیدہ تر سے
    دھڑکے گا دل خانہ خراب اور زیادہ
    ہوگی میری باتوں سے انہیں اور بھی حیرت
    آئے گا انہیں مجھ سے حجاب اور زیادہ
    اسے مطرب بیباک کوئی اور بھی نغمہ
    اے ساقی فیاض شراب اور زیادہ
     
  5. زنیرہ عقیل
    آف لائن

    زنیرہ عقیل ممبر

    شمولیت:
    ‏27 ستمبر 2017
    پیغامات:
    20,230
    موصول پسندیدگیاں:
    9,355
    ملک کا جھنڈا:
    مہاجر ہیں مگر ہم ایک دنیا چھوڑ آئے ہیں
    تمہارے پاس جتنا ہے ہم اتنا چھوڑ آئے ہیں

    کہانی کا یہ حصہ آج تک سب سے چھپایا ہے
    کہ ہم مٹی کی خاطر اپنا سونا چھوڑ آئے ہیں

    نئی دنیا بسا لینے کی اک کمزور چاہت میں
    پرانے گھر کی دہلیزوں کو سوتا چھوڑ آئے ہیں

    عقیدت سے کلائی پر جو اک بچی نے باندھی تھی
    وہ راکھی چھوڑ آئے ہیں وہ رشتہ چھوڑ آئے ہیں

    کسی کی آرزو کے پاؤں میں زنجیر ڈالی تھی
    کسی کی اون کی تیلی میں پھندا چھوڑ آئے ہیں

    پکا کر روٹیاں رکھتی تھی ماں جس میں سلیقے سے
    نکلتے وقت وہ روٹی کی ڈلیا چھوڑ آئے ہیں

    جو اک پتلی سڑک اُنّاو سے موہان جاتی ہے
    وہیں حسرت کے خوابوں کو بھٹکتا چھوڑ آئے ہیں

    یقیں آتا نہیں، لگتا ہے کچّی نیند میں شائد
    ہم اپنا گھر گلی اپنا محلہ چھوڑ آئے ہیں

    ہمارے لوٹ آنے کی دعائیں کرتا رہتا ہے
    ہم اپنی چھت پہ جو چڑیوں کا جتھا چھوڑ آئے ہیں

    ہمیں ہجرت کی اس اندھی گپھا میں یاد آتا ہے
    اجنتا چھوڑ آئے ہیں الورا چھوڑ آئے ہیں

    سبھی تیوہار مل جل کر مناتے تھے وہاں جب تھے
    دوالی چھوڑ آئے ہیں دسہرا چھوڑ آئے ہیں

    ہمیں سورج کی کرنیں اس لئے تکلیف دیتی ہیں
    اودھ کی شام کاشی کا سویرا چھوڑ آئے ہیں

    گلے ملتی ہوئی ندیاں گلے ملتے ہوئے مذہب
    الہ آباد میں کیسا نظارہ چھوڑ آئے ہیں

    ہم اپنے ساتھ تصویریں تو لے آئے ہیں شادی کی
    کسی شاعر نے لکھا تھا جو سہرا چھوڑ آئے ہیں

    کئی آنکھیں ابھی تک یہ شکایت کرتی رہتی ہیں
    کہ ہم بہتے ہوئے کاجل کا دریا چھوڑ آئے ہیں

    شکر اس جسم سے کھلواڑ کرنا کیسے چھوڑے گی
    کہ ہم جامن کے پیڑوں کو اکیلا چھوڑ آئے ہیں

    وہ برگد جس کے پیڑوں سے مہک آتی تھی پھولوں کی
    اسی برگد میں ایک ہریل کا جوڑا چھوڑ آئے ہیں

    ابھی تک بارشوں میں بھیگتے ہی یاد آتا ہے
    کہ ہم چھپر کے نیچے اپنا چھاتا چھوڑ آئے ہیں

    بھتیجی اب سلیقے سے دوپٹہ اوڑھتی ہوگی
    وہی جھولے میں ہم جس کو ہمکتا چھوڑ آئے ہیں

    یہ ہجرت تو نہیں تھی بزدلی شائد ہماری تھی
    کہ ہم بستر میں ایک ہڈی کا ڈھانچا چھوڑ آئے ہیں

    ہماری اہلیہ تو آ گئی ماں چھٹ گئی آخر
    کہ ہم پیتل اٹھا لائے ہیں سونا چھوڑ آئے ہیں

    مہینوں تک تو امی خواب میں بھی بدبداتی تھیں
    سکھانے کے لئے چھت پر پودینہ چھوڑ آئے ہیں

    وزارت بھی ہمارے واسطے کم مرتبہ ہوگی
    ہم اپنی ماں کے ہاتھوں میں نوالہ چھوڑ آئے ہیں

    یہاں آتے ہوئے ہر قیمتی سامان لے آئے
    مگر اقبال کا لکھا ترانہ چھوڑ آئے ہیں

    ہمالہ سے نکلتی ہر ندی آواز دیتی تھی
    میاں آؤ وضو کر لو یہ جملہ چھوڑ آئے ہیں

    وضو کرنے کو جب بھی بیٹھتے ہیں یاد آتا ہے
    کہ ہم جلدی میں جمنا کا کنارہ چھوڑ آئے ہیں

    اتار آئے مروت اور رواداری کا ہر چولا
    جو اک سادھو نے پہنائی تھی مالا چھوڑ آئے ہیں

    جنابِ میر کا دیوان تو ہم ساتھ لے آئے
    مگر ہم میر کے ماتھے کا قشقہ چھوڑ آئے ہیں

    اِدھر کا کوئی مل جائے اُدھر تو ہم یہی پوچھیں
    ہم آنکھیں چھوڑ آئے ہیں کہ چشمہ چھوڑ آئے ہیں

    ہماری رشتے داری تو نہیں تھی، ہاں تعلق تھا
    جو لکشمی چھوڑ آئے ہیں جو درگا چھوڑ آئے ہیں


    ۔ق۔


    کل اک امرود والے سے یہ کہنا آ گیا ہم کو
    جہاں سے آئے ہیں ہم اس کی بغیا چھوڑ آئے ہیں

    وہ حیرت سے ہمیں تکتا رہا کچھ دیر پھر بولا
    وہ سنگم کا علاقہ چھٹ گیا یا چھوڑ آئے ہیں

    ابھی ہم سوچ میں گم تھے کہ اس سے کیا کہا جائے
    ہمارے آنسوؤں نے راز کھولا چھوڑ آئے ہیں

    محرم میں ہمارا لکھنؤ ایران لگتا تھا
    مدد مولیٰ حسین آباد روتا چھوڑ آئے ہیں

    محل سے دور برگد کے تلے نروان کی خاطر
    تھکے ہارے ہوئے گوتم کو بیٹھا چھوڑ آئے ہیں

    تسلی کو کوئی کاغذ بھی ہم چپکا نہیں پائے
    چراغِ دل کا شیشہ یوں ہی چٹخا چھوڑ آئے ہیں

    سڑک بھی شیرشاہی آ گئی تقسیم کی زد میں
    تجھے ہم کرکے ہندوستان چھوٹا چھوڑ آئے ہیں

    ہنسی آتی ہے اپنی ہی اداکاری پہ خود ہم کو
    بنے پھرتے ہیں یوسف اور زلیخا چھوڑ آئے ہیں

    گزرتے وقت بازاروں میں اب بھی یاد آتا ہے
    کسی کو اس کے کمرے میں سنورتا چھوڑ آئے ہیں

    ہمارا راستہ تکتے ہوئے پتھرا گئی ہوں گی
    وہ آنکھیں جن کو ہم کھڑکی پہ رکھا چھوڑ آئے ہیں

    تو ہم سے چاند اتنی بے رخی سے بات کرتا ہے
    ہم اپنی جھیل میں ایک چاند اترا چھوڑ آئے ہیں

    یہ دو کمروں کا گھر اور یہ سلگتی زندگی اپنی
    وہاں اتنا بڑا نوکر کا کمرہ چھوڑ آئے ہیں

    ہمیں مرنے سے پہلے سب کو یہ تاکید کرنا ہے
    کسی کو مت بتا دینا کہ کیا کیا چھوڑ آئے ہیں
     
  6. ساتواں انسان
    آف لائن

    ساتواں انسان ممبر

    شمولیت:
    ‏28 نومبر 2017
    پیغامات:
    6,095
    موصول پسندیدگیاں:
    1,992
    ملک کا جھنڈا:
    ہے عجیب شہر کی زندگی نہ سفر رہا نہ قیام ہے
    کہیں کاروبار سی دوپہر کہیں بد مزاج سی شام ہے
    یونہی روز ملنے کی آرزو بڑی رکھ رکھاؤ کی گفتگو
    یہ شرافتیں نہیں بے غرض اسے آپ سے کوئی کام ہے
    کہاں اب دعاؤں کی برکتیں وہ نصیحتیں وہ ہدایتیں
    یہ مطالبوں کا خلوص ہے یہ ضرورتوں کا سلام ہے
    وہ دلوں میں آگ لگائے گا میں دلوں کی آگ بجھاؤں گا
    اسے اپنے کام سے کام ہے مجھے اپنے کام سے کام ہے
    نہ اداس ہو نہ ملال کر کسی بات کا نہ خیال کر
    کئی سال بعد ملے ہیں ہم تیرے نام آج کی شام ہے
    کوئی نغمہ دھوپ کے گاؤں سا کوئی نغمہ شام کی چھاؤں سا
    ذرا ان پرندوں سے پوچھنا یہ کلام کس کا کلام ہے
     
  7. زنیرہ عقیل
    آف لائن

    زنیرہ عقیل ممبر

    شمولیت:
    ‏27 ستمبر 2017
    پیغامات:
    20,230
    موصول پسندیدگیاں:
    9,355
    ملک کا جھنڈا:
    اُس بزم میں ہر ایک سے کم تر نظر آیا
    وہ حسن کہ خورشید کے عہدے سے بر آیا
    بے فائدہ ہے وہم کہ کیوں بے خبر آیا
    اس راہ سے جاتا تھا ہمارے بھی گھر آیا
    کچھ دور نہیں ان سے کہ نیرنج بتا دیں
    کیا فائدہ گر آنکھ سے لختِ جگر آیا
    گو کچھ نہ کہا، پر ہوئے دل میں متاثر
    شکوہ جو زباں پر مری آشفتہ تر آیا
    بے طاقتیِ شوق سے میں اٹھ ہی چکا تھا
    ناگاہ وہ بے تاب مری قبر پر آیا
    بے قدر ہے مفلس شجرِ خشک کی مانند
    یاں درہم و دینار میں برگ و ثمر آیا
    حالِ دلِ صد چاک پہ کٹتا ہے کلیجہ
    ہر پارہ اک الماس کا ٹکڑا نظر آیا
    دیکھے کہ جدائی میں ہے کیا حال، وہ بدظن
    اس واسطے شب گھر میں مرے بے خبر آیا
    کیا دیر ہے اے ساقیِ گلفام سحر ہے
    کیا عذر ہے اے زاہدِ خشک، ابرِ تر آیا
    احوال میں ہیں شیفتہ کی مختلف اقوال
    پوچھیں گے، وہاں سے جو کوئی معتبر آیا
    مصطفٰی خان شیفتہ
     
  8. ساتواں انسان
    آف لائن

    ساتواں انسان ممبر

    شمولیت:
    ‏28 نومبر 2017
    پیغامات:
    6,095
    موصول پسندیدگیاں:
    1,992
    ملک کا جھنڈا:
    دیکھیں قریب سے بھی تو اچھا دکھائی دے
    ایک آدمی تو شہر میں ایسا دکھائی دے
    اب بھیک مانگنے کے طریقے بدل گئے
    لازم نہیں کہ ہاتھ میں کاسہ دکھائی دے
    نیزے پہ رکھ کے اور میرا سر بلند کر
    دنیا کو ایک چراغ تو جلتا دکھائی دے
    دل میں تیرے خیال کی بنتی ہے ایک دھنک
    سورج سا آئینے سے گزرتا دکھائی دے
    چل زندگی کی جوت جگائے عجب نہیں
    لاشوں کے درمیاں کوئی رستہ دکھائی دے
    کیا کم ہے کہ وجود کے سناٹے میں ظفر
    ایک درد کی صدا ہے کہ زندہ دکھائی دے
     
  9. زنیرہ عقیل
    آف لائن

    زنیرہ عقیل ممبر

    شمولیت:
    ‏27 ستمبر 2017
    پیغامات:
    20,230
    موصول پسندیدگیاں:
    9,355
    ملک کا جھنڈا:
    تسلیم مجھ کو میں ترے پاسنگ تو نہیں

    لیکن تجھے نصیب مرا رنگ تو نہیں

    میں کس لیے فصیل بدن میں چھپا رہوں

    میری کسی کے ساتھ کوئی جنگ تو نہیں

    گھبرا رہے ہو کیوں مری بستی کا فاصلہ

    ہے چند گام سینکڑوں فرسنگ تو نہیں

    بھرتے ہو کس لیے مری تصویر میں یہ رنگ

    موج شفق کا رنگ مرا رنگ تو نہیں

    بے احتیاطیوں سے تری ٹوٹ جائے گا

    دل ایک آئنہ ہے کوئی سنگ تو نہیں

    پھر کیوں کروں خیال کسی اور دیس کا

    میرے لیے زمین وطن تنگ تو نہیں

    دن رات اپنے آپ سے رہنا خفا خفا

    شاہدؔ گزر بسر کا کوئی ڈھنگ تو نہیں
     
  10. ساتواں انسان
    آف لائن

    ساتواں انسان ممبر

    شمولیت:
    ‏28 نومبر 2017
    پیغامات:
    6,095
    موصول پسندیدگیاں:
    1,992
    ملک کا جھنڈا:
    اتنی مدت بعد ملے ہو
    کن سوچوں میں گم پھرتے ہو
    اتنے خائف کیوں رہتے ہو
    ہر آہٹ سے ڈر جاتے ہو
    تیز ہوا نے مجھ سے پوچھا
    ریت پہ کیا لکھتے رہتے ہو
    کاش کوئی ہم سے بھی پوچھے
    رات گئے تک کیوں جاگے ہو
    میں دریا سے بھی ڈرتا ہوں
    تم دریا سے بھی گہرے ہو
    کون سی بات ہے تم میں ایسی
    اتنے اچھے کیوں لگتے ہو
    پیچھے مڑ کر کیوں دیکھا تھا
    پتھر بن کر کیا تکتے ہو
    جاؤ جیت کا جشن مناؤ
    میں جھوٹا ہوں تم سچے ہو
    اپنے شہر کے سب لوگوں سے
    میری خاطر کیوں الجھے ہو
    کہنے کو رہتے ہو دل میں
    پھر بھی کتنے دور کھڑے ہو
    رات ہمیں کچھ یاد نہیں تھا
    رات بہت ہی یاد آئے ہو
    ہم سے نہ پوچھو ہجر کے قصے
    اپنی کہو اب تم کیسے ہو
    محسن تم بدنام بہت ہو
    جیسے ہو پھر بھی اچھے ہو
     
  11. ساتواں انسان
    آف لائن

    ساتواں انسان ممبر

    شمولیت:
    ‏28 نومبر 2017
    پیغامات:
    6,095
    موصول پسندیدگیاں:
    1,992
    ملک کا جھنڈا:
    زندگی دی ہے تو جینے کا ہنر بھی دینا
    پاؤں بخشیں ہیں تو توفیق سفر بھی دینا
    گفتگو تو نے سکھائی ہے کہ میں گونگا تھا
    اب میں بولوں گا تو باتوں میں اثر بھی دینا
    میں تو اس خانہ بدوشی میں بھی خوش ہوں لیکن
    اگلی نسلیں تو نہ بھٹکیں انہیں گھر بھی دینا

    ظلم اور صبر کا یہ کھیل مکمل ہو جائے
    اس کو خنجر جو دیا ہے مجھے سر بھی دینا
     
  12. ساتواں انسان
    آف لائن

    ساتواں انسان ممبر

    شمولیت:
    ‏28 نومبر 2017
    پیغامات:
    6,095
    موصول پسندیدگیاں:
    1,992
    ملک کا جھنڈا:
    اگر یہ کہہ دو بغیر میرے نہیں گزارہ ۔۔۔ تو میں تمہارا
    یا اس پہ مبنی کوئی تاثر کوئی اشارا ۔۔۔ تو میں تمہارا
    غرور پرور انا کا مالک کچھ اس طرح کے ہیں نام میرے
    مگر قسم سے جو تم نے ایک نام بھی پکارا ۔۔۔ تو میں تمہارا
    تم اپنی شرطوں پہ کھیل کھیلو میں جیسے چاہے لگاؤں بازی
    اگر میں جیتا تو تم ہو میرے اگر میں ہارا ۔۔۔ تو میں تمہارا
    تمہارا عاشق تمہارا مخلص تمہارا ساتھی تمہارا اپنا
    رہا نہ ان میں سے کوئی دنیا میں جب تمہارا ۔۔۔ تو میں تمہارا
    تمہارا ہونے کے فیصلے کو میں اپنی قسمت پہ چھوڑتا ہوں
    اگر مقدر کا کوئی ٹوٹا کبھی ستارا ۔۔۔ تو میں تمہارا
    یہ کس پہ تعویذ کر رہے ہو یہ کس کو پانے کے ہیں وظیفے
    تمام چھوڑو بس ایک کر لو جو استخارہ ۔۔۔ تو میں تمہارا
     
  13. ساتواں انسان
    آف لائن

    ساتواں انسان ممبر

    شمولیت:
    ‏28 نومبر 2017
    پیغامات:
    6,095
    موصول پسندیدگیاں:
    1,992
    ملک کا جھنڈا:
    شاخ میری نہ اب شجر میرا
    اختیار اب ہے آنکھ بھر میرا
    آئنے میں تو عکس ہے لیکن
    مار ڈالے گا مجھ کو ڈر میرا
    کون جانے کہاں کہاں جاؤں
    ہم سفر اب کے ہے سفر میرا
    آسمانوں پہ تو رہا خاموش
    گھر گیا تیرے نام پر میرا
    میں نے سجدے میں سر جھکایا تھا
    لے گئے سر اتار کر میرا
    تجھ کو سب سے جدا بنا دوں گا
    چھین مت حرف کا ہنر میرا
    دشت و صحرا اجاڑ آیا ہوں
    ڈھونڈھتا ہوں کہاں ہے گھر میرا
    دست و بازو لیے زباں مت لے
    آخری پر تو مت کتر میرا
    مو بہ مو کچھ سمٹ رہا ہے نظام
    اور چرچا ہے در بہ در میرا
     
    شکیل احمد خان نے اسے پسند کیا ہے۔
  14. زنیرہ عقیل
    آف لائن

    زنیرہ عقیل ممبر

    شمولیت:
    ‏27 ستمبر 2017
    پیغامات:
    20,230
    موصول پسندیدگیاں:
    9,355
    ملک کا جھنڈا:
    گل کو محبوب ہم قیاس کیا
    فرق نکلا بہت جو باس کیا
    دل نے ہم کو مثال آئینہ
    ایک عالم کا روشناس کیا
    کچھ نہیں سوجھتا ہمیں اس بن
    شوق نے ہم کو بے حواس کیا
    عشق میں ہم ہوئے نہ دیوانے
    قیس کی آبرو کا پاس کیا
    دور سے چرخ کے نکل نہ سکے
    ضعف نے ہم کو مور طاس کیا
    صبح تک شمع سر کو دھنتی رہی
    کیا پتنگے نے التماس کیا
    تجھ سے کیا کیا توقعیں تھیں ہمیں
    سو ترے ظلم نے نراس کیا
    دیکھا ڈھہتا ہے جن نے خانہ بنا
    زیر افلاک سست اساس کیا
    ایسے وحشی کہاں ہیں اے خوباں
    میر کو تم عبث اداس کیا

    میر تقی میر
     
    شکیل احمد خان نے اسے پسند کیا ہے۔
  15. شکیل احمد خان
    آف لائن

    شکیل احمد خان ممبر

    شمولیت:
    ‏10 نومبر 2014
    پیغامات:
    1,289
    موصول پسندیدگیاں:
    1,020
    ملک کا جھنڈا:
    واقعی لاجواب غزل،واقعی لاجواب انتخاب۔۔۔۔شیو کشن بسانظامؔ صاحب بذاتِ خود واقعی ایک لاجواب شخصیت،اُن کے علمی
    کارنامے اور اُن کی ادبی خدمات۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اُردُو کے تخلیقی، تنقیدی اورصحافتی ادب کے سفر کی وہ لاجواب منزلیں ہیں
    جوہمیشہ مشعلِ راہ اور قطب نما کا کام انجام دیں گی۔۔۔ یہ وہ سنگ ہاے میل رہیں گی جنھیں کامیابی سے طے کرنازبان وا دب کے
    ہر طالبِ علم کی دلی مراد اور ۔۔۔۔۔۔قلبی قراردادتسلیم کی جائے گی۔۔۔۔۔
     
    Last edited: ‏30 جون 2020
    ملک بلال اور زنیرہ عقیل .نے اسے پسند کیا ہے۔
  16. زنیرہ عقیل
    آف لائن

    زنیرہ عقیل ممبر

    شمولیت:
    ‏27 ستمبر 2017
    پیغامات:
    20,230
    موصول پسندیدگیاں:
    9,355
    ملک کا جھنڈا:
    آپ ہی اپنے ذرا جور و ستم کو دیکھیں
    ہم اگر عرض کریں گے، تو شکایت ہوگی

    ’’غنچۂ آرزو‘‘ (دیوانِ وزیر علی صباؔ)، صفحہ 158۔
     

اس صفحے کو مشتہر کریں