1. اس فورم پر جواب بھیجنے کے لیے آپ کا صارف بننا ضروری ہے۔ اگر آپ ہماری اردو کے صارف ہیں تو لاگ ان کریں۔

اقتباسات

'اردو ادب' میں موضوعات آغاز کردہ از آصف احمد بھٹی, ‏30 اکتوبر 2011۔

  1. آصف احمد بھٹی
    آف لائن

    آصف احمد بھٹی ناظم خاص سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏27 مارچ 2011
    پیغامات:
    40,593
    موصول پسندیدگیاں:
    6,030
    ملک کا جھنڈا:


    السلام علیکم

    ہم لوگ ہر روز کچھ نہ کچھ پڑھتے ہیں ، اس میں سے کچھ باتیں‌ ہمیں بہت متاثر کرتی ہیں ، کچھ تو ہمارے مزاج اور رویوں‌ کی تبدیلی کا سبب بھی بن جاتی ہیں ، آئیے ایسے ہے گوہر پاروں‌ کو باقی دوستوں‌ سے شئیر کریں ، ممکن ہے یہاں لکھی ہوئی ہماری کوئی بات کسی کے دل میں اتر جائے ، کسی کے مزاج اور روئیے میں اچھی تبدیلی کا سبب بن جائے ۔

    اس لڑی میں ہم سب کسی تحریر کا ایسا حصہ اقتباس پیش کرینگے ، جو مطالعہ کے دوران ہمیں اچھا لگا ۔

    یاد رہے ، اقتباس کے ساتھ اس تحریر کا حوالہ ضرور دیجئے گا ۔
     
    ملک بلال نے اسے پسند کیا ہے۔
  2. حسن رضا
    آف لائن

    حسن رضا ممبر

    شمولیت:
    ‏21 جنوری 2009
    پیغامات:
    28,857
    موصول پسندیدگیاں:
    592
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: اقتباسات

    اچھا سلسلہ ہے امید ہے یہاں سے بہت کچھ سیکھنے کو ملے گا
     
  3. آصف احمد بھٹی
    آف لائن

    آصف احمد بھٹی ناظم خاص سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏27 مارچ 2011
    پیغامات:
    40,593
    موصول پسندیدگیاں:
    6,030
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: اقتباسات



    محمد حمید شاہد کے افسانے
    برشور سے منتخب کچھ سطریں​

    کاکڑ ! تمہیں اِن لوگوں کا دُکھ تو بہت نظر آتا ہے جن کے باغ اُجڑ گئے جنہوں نے بہت کچھ دیکھا اور اب بھوک دیکھ کر بوکھلائے پھرتے ہیں دیکھو ! ذرا اِن لوگوں کا دُکھ دیکھو ! انہوں نے بھوک کی گود میں جنم لیا ہے انہوں نے بھوک کے سوا کچھ دیکھا ہی نہیں ہے ۔

    وہ بھاگتا ہوا تھوڑا سا دور گیا جھکا اور ایک ڈھانچے سے ہڈی کو جھٹکا دیکر الگ کرکے پلٹا اُسے کاکڑ کے چہرے کے سامنے لہراتے ہوئے کہا۔
    یہ ہڈی اِنہی بھیڑ بکریوں کی ہے جن کے تھنوں سے یہاں والے بھوک دوہتے رہتے ہیں اس خشک سالی کے ہلے میں تمہیں جتنی ہڈیاں زمین کے اُوپر نظر آرہی ہیں نا ! اتنی ہی زمین میں دفنا دی گئی ہیں ! جانتے ہو کس لیے؟

    اُس نے ایک لمحے کے لیے بھی نگاہیں کاکڑ کے چہرے سے الگ نہ کی تھیں کاکڑ اُس اچانک سوال پر بوکھلا سا گیا تھا اُسے کچھ سوج نہ رہا تھا رودینی نے اُس کے چہرے سے نظریں الگ کیں اور اُنہیں اپنے قدموں والی زمین پر گاڑ کر کہا۔

    تم جو باغوں کے اُجڑنے کا قصہ بار بار لے بیٹھتے ہو تم کیا جانوں زمین میں دبائی گئی ہڈیاں بھیڑ بکریوں کی نہیں ہیں ! تیرے میرے جیسے انسانوں کی ہیں اُن انسانوں کی جنہوں نے بھوک کے علاوہ کچھ نہیں دیکھا ! اور ! جو بھوک سے ہی مرگئے ۔ یہ کہتے ہوئے وہ زمین پر بیٹھ گیا ۔
     
    ملک بلال اور نایاب .نے اسے پسند کیا ہے۔
  4. محبوب خان
    آف لائن

    محبوب خان ناظم سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏28 جولائی 2008
    پیغامات:
    7,126
    موصول پسندیدگیاں:
    1,499
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: اقتباسات

    شیطان

    ایک عالی شان پلازا کے سامنے شیطان کھڑا زاروقطار رورہا تھا اور کہہ رہا تھا کہ انسان بہت احسان فراموش مخلوق ہے۔ ایک راہ گیر نے شیطان کو آہ و زاری کرتے اور انسان کو برا بھلا کہتے دیکھا تو وہ رک گیا اور اس نے شیطان سے اس کی وجہ پوچھی۔ شیطان نے کہا۔ "کروڑوں روپے مالیت کا یہ پلازا دیکھ رہے ہو؟" حاجی خدا بخش نے یہ پلازا میرے مشوروں پر عمل کے نتیجے میں حاصل شدہ سرمائے سے تعمیر کیا مگر جب یہ پلازا مکمل ہوگیا تو میرا شکر ادا کرنے کی بجائے اس کی پیشانی پر موٹے لفظوں میں "ھذا من فضل ربی" لکھوایا۔
    راہ گیر نے "ھذا من فضل ربی" پر ایک نگاہ ڈالی باآواز بلند پڑھا اور آگے چل دیا۔

    (عطاء الحق قاسمی، ہنسنا رونا منع ہے)
     
    ملک بلال اور نایاب .نے اسے پسند کیا ہے۔
  5. ھارون رشید
    آف لائن

    ھارون رشید برادر سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏5 اکتوبر 2006
    پیغامات:
    131,673
    موصول پسندیدگیاں:
    16,911
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: اقتباسات

    کہتے ہیں کہ ایک بادشاہ تھا اس کے دربار میں ایک قیدی کو پیش کیا گیا بادشاہ نے مقدمہ سننے کے بعد اشارہ کیا کہ اسے قتل کردیا جائے ۔
    بادشاہ کے حکم پر جب پیادے اسے قتل گاہ کی طرف لے کے جانے لگے تو وہ شخص غصے سے بادشاہ کو برا بھلا کہنے لگا کسی شخص کیلئے اس سے بڑی سزا کیا ہوگی کہ اسے قتل کردیا جائے اور چونکہ یہ سزا سنائی جاچکی تھی اور اس کے دل سے اس کا خوف دور ہوچکا تھا

    بادشاہ نے جب دیکھا کہ وہ شخص کچھ کہہ رہا ہے تو اس نے اپنے وزیر سے پوچھا یہ کیا کہہ رہا ہے
    بادشاہ کا یہ وزیر نیک دل تھا اس نے سوچا کہ اگر بادشاہ کو درست بات بتا دی تو ہوسکتا ہے بادشاہ غصے سے دیوانہ ہوجائے اور اس کو قتل کروانے کے بجائے زندان میں ڈال کر اس پر ظلم وستم ڈھانے لگے تو اس نے بادشاہ کو جواب دیا کہ حضور یہ شخص کہہ رہا ہے " اللہ ان لوگوں کو پسند کرتا ہے جو غصے کو ضبط کرتے ہیں اور لوگوں کیساتھ بھلائی کرتے ہیں‌"

    بادشاہ یہ سن کر مسکرایا اور اس نے اس شخص کو آزاد کرنے کا حکم دیا

    بادشاہ کا ایک اور وزیر جو نیک دل وزیر کے خلاف دل میں حسد رکھتا تھا وہ بولا " یہ ہر گز درست نہیں کہ بادشاہ کے وزیر اسے دھوکے میں رکھیں اور سچ کے سوا کچھ زبان پر لائیں ، اور کہا کہ حضور یہ شخص آپ کی شان میں گستاخی کر رہا ہے "
    وزیر کی بات سن کر بادشاہ نے کہا " اے وزیر ! تیرے اس سچ سے جس کی بنیاد بغض اور کینے پر ہے
    اس ست تیرے بھائی کی غلط بیانی بہتر ہے اس سے ایک شخص‌کی جاب بچ گئی یاد رکھ اس سچ سے جس سے فساد پھیلتا ہو اس سے ایسا جھوٹ‌بہتر جس سے برائی دور ہونے کی امید ہو "

    وہ سچ جو فساد کا سبب ہو بہتر ہے وہ زبان پر نہ آئے
    اچھا ہے وہ کذب ایسے سچ سے جو فسادکی آگ بجھائے

    بادشاہ کی بات سن کر فسادی وزیر شرمندہ ہوا ۔ بادشاہ نے قیدی آزاد کرنے کا فیصلہ بحال رکھا اور اپنے وزیروں کو نصیحت کی کہ بادشاہ ہمیشہ اپنے وزیروں کے مشوروں پہ عمل کرتے ہیں وزیروں کا فرض ہے ایسی باتیں منھ سے نہ نکالیں جس میں بھلائی کی امید نہ ہو اس نے مزید کہا " یہ دنیا وی زندگی بحرحال ختم ہوجائے گی کوئی بادشاہ ہو یا فقیر اس کا انجام موت ہے اس سے کوئی فرق نہیں‌پڑتا کہ روح تخت پر قبض کی جائے یا فرش پر"

    حکایات شیخ سعدی
     
    ملک بلال اور نایاب .نے اسے پسند کیا ہے۔
  6. محبوب خان
    آف لائن

    محبوب خان ناظم سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏28 جولائی 2008
    پیغامات:
    7,126
    موصول پسندیدگیاں:
    1,499
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: اقتباسات

    ھارون بھائی اگر ماخذ بھی لکھ دیں۔
     
  7. صدیقی
    آف لائن

    صدیقی مدیر جریدہ سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏29 جولائی 2011
    پیغامات:
    3,476
    موصول پسندیدگیاں:
    190
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: اقتباسات

    بہت احسن سلسلہ ہے ۔۔۔۔ان شاءاللہ میں بھی اپنا حصہ ضرور ڈالوں گا
     
  8. احتشام محمود صدیقی
    آف لائن

    احتشام محمود صدیقی مشیر

    شمولیت:
    ‏1 اپریل 2011
    پیغامات:
    4,538
    موصول پسندیدگیاں:
    2,739
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: اقتباسات

    [​IMG]


    حکایات سعدی..
     
  9. آصف احمد بھٹی
    آف لائن

    آصف احمد بھٹی ناظم خاص سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏27 مارچ 2011
    پیغامات:
    40,593
    موصول پسندیدگیاں:
    6,030
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: اقتباسات



    (ممتازمفتی کے افسانے آپاں سے منتخب کچھ سطریں)
    بھائی تصدق اور باجی کی شادی کے دو سال بعد پہلی بار ہمیں اُن کے گھر جانے کا اتفاق ہوا اب باجی وہ پہلی باجی نہ تھی اُس کے وہ قہقہے بھی نہ تھے اُس کا رنگ زرد تھا اور ماتھے پر شکن چڑھی تھی بھائی بھی چُپ چاپ رہتے تھے ایک شام اماں کے علاوہ ہم سب باورچی خانے میں بیٹھے تھے ۔
    بھائی کہنے لگے ۔ بدو ساجو باجی سے باہ کرو گے۔
    اونہہ ! بدو نے کہا ۔ ہم باہ کرینگے ہی نہیں ۔
    میں نے پوچھا ۔ بھائی جان ! یاد ہے جب بدو کہا کرتا تھا ہم تو چھاجو باجی سے باہ کرینگے ۔ اماں نے پوچھا ۔ آپاں سے کیوں نہیں ؟ تو کہنے لگا ۔ بتاؤ آپاں کیسی ہیں ؟ پھر چولہے میں جلے ہوئے اپلے کی طرف اشارہ کر کے کہنے لگا ۔ ایسی ! اور چھاجو باجی ؟ میں نے پوچھا بدو نے بجلی کے روشن بلب کی طرف انگلی سے اشارہ کیا ۔ ایسی ! عین اُسی وقت بجلی بجھ گئی اور کمرے میں انگاروں کی روشنی کے سوا اندھیرا چھا گیا ۔
    ہاں یاد ہے ! بھائی جان نے کہا ۔ پھر جب باجی کسی کام کے لیے باہر چلی گئی تو بھائی کہنے لگے ۔ نہ جانے اب بجلی کو کیا ہو گیا ہے ۔ جلتی بجھتی رہتی ہے ۔ آپاں چُپ چاپ بیٹھی چولھے میں راکھ سے دبی ہوئی چنگاریوں کو کرید رہی تھی بھائی جان نے مغموم سی آواز میں کہا ۔ اُف کتنی سردی ہے ۔ پھر اُٹھ کر آپاں کے قریب چولہے کے سامنے جا بیٹھے اور اُن سلگتے ہوئے اپلوں سے آگ سینکنے لگے ۔ بولے ! ممانی سچ کہتی تھیں کہ جھلسے ہوئے اپلوں میں آگ دبی ہے اوپر سے دکھائی نہیں دیتی ۔ کیوں سجدے ؟ آپاں پرے سرکنے لگی تو چھن سی آواز آئی جیسے کسی دبی ہوئی چنگاری پر پانی کی بوند پڑی ہو ۔ بھائی جان منت بھری آواز میں کہنے لگے ۔ اب اس چنگاری کو تو نہ بجھاؤ سجدے دیکھو تو کتنی ٹھنڈ ہے ۔
     
    نایاب نے اسے پسند کیا ہے۔
  10. حریم خان
    آف لائن

    حریم خان مدیر جریدہ

    شمولیت:
    ‏23 اکتوبر 2009
    پیغامات:
    20,710
    موصول پسندیدگیاں:
    1,291
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: اقتباسات

    اسلام کی تاریخ کون بنائے گا؟
    میں نے جیب سے آٹو گراف بُک نکالی۔ ٹائن بی نے قلم کھولا، دستخط کئے، عیسوی تاریخ لکھی، سَر اُٹھایا اور مُسکرا کر کہا “میں ہجری سن بھی لکھنا چاہتا ہوں۔ آپ ابھی اسلام اور اس کے مُستقبل پہ گفتگو کر رہے تھے۔ بتائیے ہجری سن کون سا ہے؟“
    میں خاموش ہو گیا۔ ٹائن بی نے فوراً سَر جھکا لیا، اس کا اشارہ واضح تھا۔ “اسلام کی تاریخ وہ لوگ کیونکر بنا سکتے ہیں، جنہیں تاریخ تک یاد نہ ہو۔ صرف باتیں بنانے سے تاریخ نہیں بنا کرتی۔“
    ٹائی بی نے 29 فروری 1960ء کے نیچے یکم رمضان 1379 ھ لکھا اور موضوع بدل دیا۔

    (اقتباس۔۔۔۔ “ آواز دوست “)
     
    نایاب نے اسے پسند کیا ہے۔
  11. محبوب خان
    آف لائن

    محبوب خان ناظم سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏28 جولائی 2008
    پیغامات:
    7,126
    موصول پسندیدگیاں:
    1,499
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: اقتباسات

    خوش کلامیاں قلمکاروں کی!

    فیض احمد فیض نے مشتاق یوسفی سے پوچھا "آج کل کچھ لکھ رہے ہیں یا بنک کے کام سے فرصت نہیں ملتی؟ "یوسفی نے جواب دیا فرصت اور فراغت تو بہت ہے مگر کاہل ہوگیا ہوں۔ مطالعے کی عیاشیوں میں‌پڑ گیا ہوں اور جب کسی لکھنے والے کو پڑھنے میں زیادہ مزہ آنے لگے تو سمجھیے حرام خوری پر اتر آیا ہے۔ فیض خاموشی سے سنتے رہے پھر شفقت سے یوسفی کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر بولے۔ بھئی ہم کسی کی غیبت نہیں‌سن سکتے۔ کسی سے کینہ رکھنا اچھا نہیں ہے اپنے آپ کو معاف کردیں۔

    عطاء الحق قاسمی، روزن دیوار، کالم، روزنامہ جنگ۔
     
    نایاب نے اسے پسند کیا ہے۔
  12. حریم خان
    آف لائن

    حریم خان مدیر جریدہ

    شمولیت:
    ‏23 اکتوبر 2009
    پیغامات:
    20,710
    موصول پسندیدگیاں:
    1,291
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: اقتباسات

    محبت کی تعریف مشکل ہے. اس پر کتابیں لکھی گئی. افسانے رقم ہوے. شعرا نے محبت کے قصیدے لکھے. مرثیے لکھے. محبت کی کیفیت کا ذکر ہوا. وضاحتیں ہوئیں. لیکن محبت کی جامع تعریف نہ ہو سکی. واقعہ کچھ اور ہے روایت کچھ اور. بات صرف اتنی سی ہے کہ جب ایک چہرہ انسان کی نظر میں آتا ہے تو اسکا انداز بدل جاتا ہے. کائنات بدلی بدلی سی لگتی ہے. بلکہ ظاہر و باطن کا جہاں بدل جاتا ہے. محبت سے آشنا ہونے والا انسان ہر طرف حسن ہے حسن دیکھتا ہے. اسکی زندگی نثر سے نکل کر شعر میں داخل ہو جاتی ہے. اندیشہء سود و زیاں سے نکل کر انسان جلوہ جاناں میں گم ہو جاتا ہے. اسکی تنہائی میں میلے ہوتے ہیں. وہ ہنستا ہے بے سبب ، روتا ہے بے جواز. محبت کی کیفیت جلوہ محبت کے سوا کچھ نہیں. محب کو محبوب میں کجی یا خامی نظر نہیں آتی. اگر نظر آئے بھی تو محسوس نہیں ہوتی. محسوس ہو بھی تو ناگوار نہیں گزرتی. محبوب کی ہر ادا دلبری ہے. یہاں تک کہ اسکا ستم بھی کرم ہے. اسکی وفا بھی پر لطف اور جفا بھی پر کشش. محبوب کی جفا کسی محب کو ترک وفا پر مجبور نہیں کرتی. دراصل وفا ہوتی ہی بے وفا کے لئے ہے. محبوب کی راہ میں انسان مجبوری یا معذوری کا اظہار نہیں کرتا .
    یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ مجاز کیا ہے اور حقیقت کیا. دراصل مجاز بذات خود ایک حقیقت ہے. اور یہ حقیقت اس وقت تک مجاز ہے جب تک رقیب ناگوار ہو. جس محبت میں رقیب قریب اور ہم سفر ہو، وہ عشق حقیقی ہے. اپنا عشق اپنے محبوب تک ہی محدود رکھا جائے تو مجاز، اور اگر اپنی محبت میں کائنات شریک کرنے کی خواہش ہو تو حقیقت.
    "واصف علی واصف کی کتاب دل دریا سمندر سے اقتباس"
     
    نایاب نے اسے پسند کیا ہے۔
  13. ھارون رشید
    آف لائن

    ھارون رشید برادر سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏5 اکتوبر 2006
    پیغامات:
    131,673
    موصول پسندیدگیاں:
    16,911
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: اقتباسات

    ہمارے ایک دوست حال ہی میں طویل علالت کے بعدصحت یاب ہوئے تھے۔موصوف چلنے پھرنے کے قابل ہوئے توپہلا"بیان"انہوں نے عیادت کرنے والوں کے خلاف داغا۔بولے"تمہیں پتہ ہے بیماری میں مجھے سب سے زیادہ تکلیف کس نے پہنچائی؟''۔
    "کس نے؟''میں نے پوچھا
    "عیادت کرنے والوں نے"دوست نے جوابدیا
    "وہ کیسے؟''
    "وہ ایسے کہ صبح سےشام تک ان کاتانتابندھارہتاتھا،ایک آتا،دوسراجاتاتھا۔''
    "یہ تواچھی بات ہے،اپنوں اورغیروں کاپتہ ایسے مواقع ہی پرچلتاہے!"۔
    "میں نے کب کہاکہ یہ اچھی بات نہیں!"۔
    "تمہاری باتوں سے تومجھے یہی محسوس ہوا!''
    "تم نے ابھی میری بات سنی کب ہے؟ یہ عیادت کرنے والے میری حالت دیکھ کرایسے مغموم چہرے بناتے تھے کہ لگتاتھاکہ مجھ سے زیادہ دکھی یہ ہیں۔''
    "ظاہرہے عزیزواقارب کودکھ توہوتاہی ہے۔''
    ہاں!تمہاری بات اصولی طورپرٹھیک ہے۔غلط تویہ اس وقت ثابت ہوئي جب ان میں سے کچھ نے کہاکہ کوئی مسئلہ ہوتوہمیں بتاؤاس پرمیں نے ان کاشکریہ اداکیالیکن انہوں نے اصرارکیاکہانہیں ہمیں خدمت بتاؤہم تمہیں صحت یاب دیکھناچاہتے ہیں!''
    "پھرکیاہوا؟
    "میں سمجھاکہ وہ خلوص دل سے اس مشکل وقت میں میرے کام آناچاہتے ہیں۔چنانچہ میں نے ایک سے جھجکتے جھجکتے"میری علالت کی وجہ سے بچے سکول نہیں جارہے کیونکہ انہیں لانے لے جانے والاکوئی نہیں جس سے ان کی تعلیم کاحرج ہورہاہے،آپ اپنے بچوں کوسکول چھوڑںۓ جاتے ہیں،رستے میں میری بچوں کوبھی "پک"کرلیاکریں۔''
    "توکیاانہوں نے انکارکردیا۔"
    "نہیں!پورے ایک ہفتے تک بچوں کولے جاتے رہے،اس کے بعدانہوں نے شکل ہی نہیں دکھائی!"
    "یہ توواقعی بری بات ہے!"
    "ابھی تومیں نے تمہیں اوربھی بہت سی بری باتیں سنانی ہیں۔''
    "مثلا"
    "مثلایہ کہ میری بیوی میری دیکھ بھال کرتے کرتے خودبیمارہوگئی،اس پرمیں نے اپنے ایک غم خوارسے کہاکہ آپ آج کی رات میری دیکھ بھال کے لیے یہاں رک جائیں،میں کل کوئی اورانتظام کرلوں گا۔انہوں نے خندہ پیشانی سے کہا
    "کیوں نہیں،کیوں نہیں میں گھراطلاع دے کرابھی آتاہوں"میری تھوڑی دیربعدان کی جگہ ان کی بیوی کافون آیاکہ گھرآتے ہی انہیں تیزبخارہوگیاہے اس لیے وہ نہیں آسکیں گے!"
    "چلوچھوڑویار!کوئی اوربات کرو!"میں نے بدمزہ ہوکرکہا۔
    "کیسے چھوڑوں!مجھے توان خالی عیادت کرنے والوں سے چڑہوگئی ہے۔شکرہے تم ان دنوں بیرون ملک تھے"
    "اچھادفع کرو،کوئی اوربات کرتے ہیں۔"
    "اپنی بات توتم نے کہہ دی۔۔۔۔۔"
    "میں نے ابھی اپنی بات نہیں کہی،کیونکہ یہ عیادت کرنے والےاب بھی سخت پریشان کرتے ہیں"
    "وہ کیوں!تم توٹھیک ہوگئے ہو!"
    "میں توٹھیک ہوگیا،یہ ٹھیک نہیں ہوئے،ابھی کل ایک صحافی دوست آئے،ملکی حالات سے سخت پریشان تھے۔پاکستان کانام ان کی زبان پرآتاتھاتوآب دیدہ ہوجاتے تھے۔میں نے ان کی یہ حالت دیکھی توکہاکہ آپ اگرچاہیں توملک کوان خطرات سے نکال سکتے ہیں بولے وہ کیسے؟میں نے کہاآپ ان تمام افرادکے چہروں پرپردہ اٹھائیں جوحکومت کے اندراورحکومت کے باہرملکی سالمیت کے خلاف کام کررہے ہیں!کہنے لگے حتی المقدوریہ کام کرتارہتاہوں،میں نے کہاحتی المقدورکیاہوتاہے،اگرملک بچاناہے توپوراسچ لکھناہوگا۔کہنے لگے ۔تم ان باتوں کونہیں سمجھتے میں بے عمل ضرورہوں تاہم اس کامطلب یہ نہیں کہ مجھے پاکستان سے محبت نہیں۔۔۔۔اورپاکستان کانام زبان پرآنے پرایک بارپھروہ آبدیدہ ہوگئے!"
    "یہ عیادت کے ذکرمیں پاکستان کہاں سے آگیا!"
    "کیاتمہیں تمہیں۔۔۔۔پتہ یہ کیسے درمیان میں آگیا؟یہ لوگ بیمارپاکستان کی عیادت دن میں کئی بارکرتے ہیں۔مگران میں کوئی اس کی صحت یابی کے لیے اپناکردارادانہیں کرتا۔صحافی سچ نہیں لکھتا۔استادموسی کی بجائےفرعون پیداکرتاہے۔سیاست دان اقتدارکے ملک دشمنوں سے گٹھ جوڑکرلیتاہے،عالم فسادپھیلاتے ہیں،انکم ٹیکس والے لاکھوں کے لیے کروڑوں کاٹیکس چھوڑدیتے ہیں،صنعت کارہوس زرمیں مبتلاہے،حکمران کوحکومت کاچسکہ ہے۔دانش واردل کی باتیں کہنے کی بجائے فیشن ایبل کی باتیں کرتاہے۔جرنیل ہتھیارڈال دیتاہے اوراس کے ساتھ ساتھ یہ سب لوگ پاکستان کی عیادت بھی کرتے رہتے ہیں۔اوراس کے دکھوں میں اضافہ کررہے ہیں۔میں توانہی دنوں میں ایک تختی لکھواکرمینارپاکستان پرلگارہاہوں!"
    "کون سی تختی؟"
    "چندلفظوں پرمشتمل تختی۔۔۔۔ اس پرلکھاہوگا"عیادت کرنامنع ہے۔"
    شایدتختی لوگوں کوعیادت کے آداب سکھائے؟

    (عطاء الحق قاسمی)
     
    نایاب نے اسے پسند کیا ہے۔
  14. آصف احمد بھٹی
    آف لائن

    آصف احمد بھٹی ناظم خاص سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏27 مارچ 2011
    پیغامات:
    40,593
    موصول پسندیدگیاں:
    6,030
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: اقتباسات



    محمد حمید شاہد کے افسانے
    پارینہ لمحوں کا نزول سے منتخب کچھ حصہ​

    مجھے یوں لگا جب وہ دور ہو رہا تھا تو اُس کے ننھے منے ہاتھوں میں پارینہ لمحوں کے بوقے سے بندھی رسی تھی جو بدن کی چرخی سے گھوم کر سارے درد کا پانی باہر نکال لائی تھی ۔ درد کا یہ پانی رکا کب تھا اندر ہی اندر رستا رہا تھا مگر اب کے یوں لگا کہ میرے بیٹے کی جھجھک نے بوقا بھر کر اُس پڑچھے میں ڈال دیا تھا جو سیدھا بدن کے باہر گرتا تھا ۔ میں نے آنکھیں پوری کھول کر پرے کھڑے دیوار سے لگے بیٹے کو دیکھا اور مجھے ایسا محسوس ہونے لگا جیسے وہ میرا بیٹا نہ تھا ، وہ تو وہ تھا جس نے کبھی میرے بدن کی کمانوں کی ڈھیلی تانت تان دی تھی ۔
    میں بھاگ کر وہاں آگئی جہاں ایک کونے میں وہ بیٹھا تھا جس کا عکس میں نے اپنے بیٹے کے چہرے پر دیکھا تھا وہ وہیں کچھ نہ کچھ پڑھتا رہتا تھا کتابوں کے ڈھیر کے بیچ بیٹھا کچھ لکھتا رہتا اُس کے ارگرد کاغذ ہی کاغذ تھے یا پھر بس کتابیں ، ہاں ! ملنے والے آجاتے ( جو اکثر آتے رہتے ) تو اُن سے باتیں کرتا رہتا ، حکمت کی باتیں ، دانش کی باتیں بڑی بڑی باتیں ..... ایسی باتیں جو اُس کا قد میری نظر میں اور پست کرتی رہتی تاہم اُس سے ملنے والے اُسی جیسے لوگوں میں اُس کے لیے عقیدت کی چمک بھرتی رہتیں ۔
    میں دیکھتی ہوں مگر وہ نہیں دیکھتا ۔ یکلخت مجھے یوں لگا کہ اُس کا قد بہت بڑا ہو گیا ہے اس قدر بڑا کہ میں ایک چیونٹی جیسی ہو گئی ہوں اُس کا وجود پورے گھر میں پھیل گیا ہے اور میں کہیں بھی نہیں ہوں حالانکہ اس سے پہلے میں سارے گھر میں تھی اس سارے گھر میں جس کے باہر اُس کے نام کی تختی لگی ہوئی ہے اور وہ کہیں نہیں تھا اُس کونے میں کہ جہاں وہ بیٹھا رہتا شاید وہاں بھی نہیں تھا ۔ اُس نے میرے وجود کے اجنبی پن سے گھبرا کر جہاں پناہ لی تھی وہاں تخلیق کی دیوی اُس پر مہربان ہوئی .... یوں کہ وہ اپنے اندر اور باہر دونوں سمت پھیلتا چلا گیا جبکہ وہ نہ تو میرے اندر تھا اور نہ ہی باہر ۔ نہیں شاید وہ میرے اندر بھی تھا اور میرے باہر بھی ! اپنے اُس جملے کی طرح جو بہت پہلے میرے بدن کی تنی کمان کی تانت بن گیا تھا بس میں ہی اپنی آنکھیں بند کئے ہوئے تھی اندر کی بھی اور باہر کی بھی ۔ وہ میرے لیے ناکارہ ، بحیثیت وجود کی طرح تھا جو ایک کونے میں پڑا ، ایسے لفظ جنم دیتا رہتا تھا جو اُسے میری نظر میں معتبر نہ کر سکتے تھے ۔ مجھے اُس کے لفظوں سے کوئی سروکار نہ تھا مجھے اُس سے بھی کوئی سروکار نہ تھا بس اتنا تھا ( اور یہ کافی تھا ) کہ وہ تھا اور میرے بیٹے کے لیے اُس کا نام جو اس گھر کی چار دیواری سے باہر بہت محترم تھا مگر اُس کا اپنا وجود میرے لیے بے حیثیت تھا بے مصرف۔
    وہ پہلے پہل مجھ سے محبت جتلاتا رہا جسے میں قہقہوں میں اُڑاتی رہی پھر وہ میرے وجود کے گلیشئر سے لگ کر یخ بستہ ہو گیا اور بیچ میں وہ خاص مدت گزر گئی جس میں اب آپ کو مزید اکیس سیکنڈ جمع کرنے ہوں گے ۔ اس سارے دورانئے میں ہم دونوں کے بیچ کچھ نہ رہا ، محبت نہ نفرت ، بے حسی نہ گرم جوشی ، عزت نہ تحقیر ، نہ وہ میرے لیے تھا اور نہ میں اُس کے لیے تھی ، جب کوئی اُس سے ملتا اور میرے لیے تعریف کے کچھ جملے کہہ دیتا تو اُسے خوش ہونا پڑتا حالانکہ یہ اُس کے لیے نہ تو خوشی کی کوئی بات ہوتی اور نہ دکھ کی خبر ، جب اُس کا نام اخبارات میں چھپتا اُس کی تخلیقات کے ساتھ اُس کے اعزاز میں تقاریب ہوتی یا دوست احباب اُس کے بہت اچھا ہونے کی اطلاع دیتے تو میرے چہرے پر خوشی آ جاتی اطلاع دینے والے کے لیے حالانکہ میرے اندر اُس کے لیے کوئی جزبہ نہ تھا ۔
    مگر ابھی ابھی چند لمحے پہلے مجھے بھاگ کر وہاں آ جانا پڑا کہ میرا بیٹا جھجھک کر پرے کھڑا ہو گیا تھا اور اُلٹے قدموں دور چلا گیا تھا اُس کے چہرے سے اِس کا چہرہ جھلک دینے لگا تھا ۔ وہ ایک کتاب پر جھکا ہوا تھا اور میں اُس پر جھک گئی اُس نے حیرت سے میری طرف دیکھا اُس حیرت پر اُن سارے لمحوں کے جالے تنے تھے جن میں اب آپ کو اتنی صدیاں جمع کرنی ہوں گی جن کی گنتی میں اب بھول چکی ہوں میں نے آنکھیں بند کر لیں اور پورا وجود اُس کے سامنے کر دیا یوں کہ بہت پہلے ادا کیا گیا جملہ دوسرے سیارے سے آٹھ ہزار سال کے بعد پہنچنے والے سگنل کی طرح میرے بدن کے فلک کا پاچہ پھاڑتا عین میرے دل کے بیچ اُترا اور سنگلاخ چٹانوں کو توڑتا اندر کی مہکتی سوندھی مٹی کے قطعے میں بیج کی طرح دفن ہو گیا ۔ میں نے آنکھیں بند رکھیں ... اُس لمس کے انتظار میں جس میں مہک تھی اور اُس نمی کے لیے جس سے دھنک رنگ پھوٹتے تھے ۔
     
  15. حریم خان
    آف لائن

    حریم خان مدیر جریدہ

    شمولیت:
    ‏23 اکتوبر 2009
    پیغامات:
    20,710
    موصول پسندیدگیاں:
    1,291
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: اقتباسات

    ہمارے بابا سائیں فرماتے ہیں کہ اللہ کی آواز سننے کی پریکٹس کرنی چاہئے، جو شخض اللہ کی آواز کے ساتھ اپنا دل ملا لیتا ہے، اسے کسی اور سہارے کی ضرورت نہیں رہتی۔ کسی نے بابا جی سے پوچھا کہ ”اللہ کی آواز کے ساتھ اپنا دل ملانا بھلا کیسے ممکن ہے؟“ تو جواب ملا کہ ”انار کلی بازار جاؤ، جس وقت وہاں خوب رش ہو اس وقت جیب سے ایک روپے کا بڑا سکہ (جسے اس زمانے میں ٹھیپہ کہا جاتا تھا) نکالو اور اسے ہوا میں اچھال کر زمین پر گراؤ۔ جونہی سکہ زمین پر گرے گا، تم دیکھنا کہ اس کی چھن کی آواز سے پاس سے گزرنے والے تمام لوگ متوجہ ہوں گے اور پلٹ کر زمین کی طرف دیکھیں گے، کیوں؟ اس لئے کہ ان سب کے دل اس سکے کی چھن کی آواز کے ساتھ ”ٹیون اپ“ ہوئے ہیں۔ لہٰذا اب یہ تمہاری مرضی ہے کہ یا تو تم بھی اپنا دل اس سکے کی آواز کے ساتھ ”ٹیون اپ“ کر لو یا پھر اپنے خدا کی آواز کے ساتھ ملا لو“
    بابا جی کا بیان ختم ہوا تو نوجوانوں کے گروہ نے ان کو گھیر لیا اور سوالات کی بوچھاڑ کر دی۔ کسی نے پوچھا ” سر! ہمیں سمجھائیں کہ ہم کیسے اپنا دل خدا کے ساتھ ”ٹیون اپ“ کریں کیونکہ ہمیں یہ کام نہیں آتا؟“ اشفاق صاحب نے اس بات کا بھی بے حد خوبصورت جواب دیا، فرمانے لگے”یار ایک بات تو بتاؤ، تم سب جوان لوگ ہو، جب تمہیں کوئی لڑکی پسند آ جائے تو تم کیا کرتے ہو؟ کیا اس وقت تم کسی سے پوچھتے ہو کہ تمہیں کیا کرنا چاہئے؟ نہیں، اس وقت تمہیں سارے آئیڈیاز خود ہی سوجھتے ہیں، ان سب باتوں کے لئے تمہیں کسی گائڈینس کی ضرورت نہیں پڑتی کیونکہ اس میں تمہاری اپنی مرضی شامل ہوتی ہے۔ تو پھر کیا وجہ ہے کہ جب خدا کی بات آتی ہے تو تمہیں وہاں رہنمائی بھی چاہئے اور تمہیں یہ بھی پتہ نہیں چلتا کہ خدا کے ساتھ اپنے آپ کو” ٹیون اپ “کیسے کرنا ہے؟

    اشفاق احمد
     
    نایاب نے اسے پسند کیا ہے۔
  16. ملک بلال
    آف لائن

    ملک بلال منتظم اعلیٰ سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏12 مئی 2010
    پیغامات:
    22,404
    موصول پسندیدگیاں:
    7,506
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: اقتباسات

    سب دوست بہت اچھے اور ایک سے بڑھ کر ایک اقتباسات پیش کر رہے ہیں۔
    شکریہ بہت بہت۔
     
  17. محبوب خان
    آف لائن

    محبوب خان ناظم سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏28 جولائی 2008
    پیغامات:
    7,126
    موصول پسندیدگیاں:
    1,499
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: اقتباسات

    ایک گزارش ہے کہ اقتباسات مختصر ہوتے ہیں۔۔۔۔۔۔اگر لمبے لمبے اقتباسات ہونگے کئی لوگ شاید ڈر کے ہاتھ بھی نہ لگائیں۔۔۔۔غور کریں اس تجویز پر۔
     
  18. آصف احمد بھٹی
    آف لائن

    آصف احمد بھٹی ناظم خاص سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏27 مارچ 2011
    پیغامات:
    40,593
    موصول پسندیدگیاں:
    6,030
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: اقتباسات

    محبوب چاچو ! آپ کی ہر بات سر آنکھوں پر ! لیکن اقتباسات کے بارے میں آپ کا ارشاد میرے لیے نیا ہے ، آپ یقینا جانتے ہی ہونگے کہ ہر قاری کی مطعالاتی بالیدگی دوسرے سے مختلف ہوتی ہے ۔
     
  19. آصف احمد بھٹی
    آف لائن

    آصف احمد بھٹی ناظم خاص سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏27 مارچ 2011
    پیغامات:
    40,593
    موصول پسندیدگیاں:
    6,030
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: اقتباسات

    محمد حمید شاہد کے افسانے
    دُکھ کیسے مرتا ہے سے منتخب کچھ سطریں​

    ایمرجنسی سے کارڈ یالوجی وارڈ کی راہداری تک وہ ہمیشہ دکھ کی گرفت میں رہتا تھا مگر اُس روز وہ اندر سے بلکل خالی تھا بینچ پر بھی وہ ارادہ کر کے نہیں یونہی بیٹھ گیا تھا اور اتنی دیر تک اونگتا رہا کہ وقت کے تیزی سے گزرنے کا احساس پوری طرح معدوم ہو گیا ، وہ ٹھیک سے اندازہ نہ کر پایا کہ ایک اسٹریچر کے پوری تیزی سے دھکیلے جانے کے باعث اُٹھنے والے شور نے اُسے کتنی دیر بعد بیدار کیا تھا اسٹریچر وارڈ نمبر تھری سے ہی لایا جارہا تھا اُسے غیر معمولی تجسس ہوا کہ وہ اُس کا چہرہ دیکھے ، اُس نے چہرہ دیکھا بھی مگر یہ اُس کی ماں کا چہر ہنہیں تھا وہ اُلٹے قدموں چلتا بینچ پر ڈھے گیا ، شاید یہ وہ پہلا روز تھا جب نبیل نے اپنی ماں کی مشکل آسان ہونے کی دُعا کی تھی وہ دُعائیں کرتا رہا حتی کے اُس کے ہاں اثاثہ سمجھے جانے والے سارے مقدس لفظ معنوں سے خالی ہو گئے ۔ ۔ ۔ یوں جیسے اُسے باثروت بنانے والے سارے کرنسی نوٹوں کے مارکے اُڑ گئے ہوں ، زبان کی ڈھیری پر کیڑوں کی طرح کلبلانے اور رینگنے والے یہ لفظ ہونٹوں پر آ کر تیرنے لگتے اور اِسی بے خبری میں تالو سے چپک کر بے سُدھ ہو جاتے وہ دیکھ رہا تھا مگر مرنے والوں اور اُن کے ساتھ زندہ درگور رہنے والوں کے بیچ کوئی تمیز نہیں کر پا رہا تھا ، لاشیں اُس کے سامنے سے گزرتی تھیں وہ اُن پر نظر ڈالتا یہ لاشیں اُسے دُکھ کے بجائے تسکین دینے لگی تھیں ! تسکین نہیں اُس کا سا احساس ، ملتا جلتا اور الگ سا بھی ۔ ۔ ۔ اور یہیں احساس شایدخود اُس کے زندہ رہنے کی علامت تھا ، وہ سوچ سکتا تھا کہ مرنے والوں کی نہیں بلکہ انتظار کھینچنے والوں کی مشکلیں آسان ہو رہی تھی ایسے میں اُسے اپنے اندر سے تعفن اُٹھتا ہوا محسوس ہوا اُس نے اپنا سارا بدن ٹٹولنے کے لیے اُدھیڑ ڈالا بہت اندر گُھپ اندھیرے میں دو لاشیں پڑی تھی اُس نے صاف پہچان لیا اُن میں سے ایک اُس کی اپنی محبت تھی اور دوسری کو دیکھے بغیر منہ پھیر لیا اور پورے خلوص سے رونے کی سعی کی مگر تعفن کا ریلا اُسے دُکھ سے دور بہت دور بہائے لیے جاتا تھا ۔
     
  20. محبوب خان
    آف لائن

    محبوب خان ناظم سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏28 جولائی 2008
    پیغامات:
    7,126
    موصول پسندیدگیاں:
    1,499
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: اقتباسات

    مطالعہ اور اقتباس میں کچھ کچھ فرق ہے۔۔۔۔۔۔کہنے کا مطلب ہے کہ اقتباس میں حاصل مطالعہ لیا جاتا ہے۔۔۔۔۔باقی جو آپ اور دوسرے مناسب سمجھیں۔۔۔۔۔سر آنکھوں‌پہ۔۔۔۔۔میں نے تو پہلے عرض کی تھی۔۔۔۔۔کہ بس گزارش ہے۔۔۔۔۔۔۔اور چونکہ حاصل مطالعے کے لیے پڑھتے پڑھتے پتہ چلے پورا افسانہ ہی پڑھ گئے ہیں۔۔۔۔تو بھی بسم اللہ۔۔۔۔آپ نے واقعی ٹھیک کہا کہ مطالعاتی بالیدگی مختلف ہوتی ہے۔۔۔۔کوئی شک نہیں۔
     
  21. آصف احمد بھٹی
    آف لائن

    آصف احمد بھٹی ناظم خاص سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏27 مارچ 2011
    پیغامات:
    40,593
    موصول پسندیدگیاں:
    6,030
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: اقتباسات

    محمدحمیدشاہد کے افسانے
    موت کا بوسہ سے منتخب کچھ سطریں​

    میں رفتہ رفتہ قطار میں آگے بڑھتا چلا گیا ۔ ۔ ۔ حتی کے وہاں پہنچ گیا جہاں اُس کا چہرہ موت کا بوسہ لیے ساکت پڑا تھا ، ایک سیلف میڈ مرا ہوا آدمی ، ایک ساکت نعش ، موت کے ہاتھوں بری طرح نچڑی ہوئی میں نے پلٹ کر اُنہیں دیکھا جو اُس کے پیچھے رہ گئے تھے اور جن کے سامنے مرنے والا کا سارا سفر کالعدم پڑا تھا مجھ سے دیکھا نہ گیا ، موت کے بوسے کی زردی سارے بدن میں کھنڈ گئی تھی میں نے چٹکی بھر زردی وہاں سے اچک لی جہاں سے پھوٹ رہی تھی چپکے سے اپنے چہرے پر مل لی اور سوچا یوںبھی تو موت سے بدلا لیجا سکتا تھا ، مگر حادثہ یہ ہے کہ مرنے والے نے میرا بدن پہن کر موت کا جامہ میری جانب اُچھال دیا ہے اور لطف یہ ہے کہ یہ جامہ میرے بدن پر خوب چُست بیٹھا ہے میں اِس میں خوش ہو اور اِسے پہن کر ایسی سُرخ کتاب کھول چکا ہوں جس کے کنارے بلاشبہ سُنہری سہی مگر اِس میں زندگی کا ایک بھی استعجاب نہیں فقط سوال ہی سوال ہیں ۔
     
  22. آصف احمد بھٹی
    آف لائن

    آصف احمد بھٹی ناظم خاص سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏27 مارچ 2011
    پیغامات:
    40,593
    موصول پسندیدگیاں:
    6,030
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: اقتباسات


    اے ۔حمید کے افسانے
    مٹی کی مونا لیزا سے منتخب کچھ سطریں
    لوہاری دروازے کی تنگ و تاریک گلی میں حبس ہے ، بدبو ہے ، گرمی ہے ، مچھر ہیں ، پسینہ ہے ، ٹوٹی پھوٹی کھری چارپائیوں کی بینگی ٹیڑھی قطاریں ہیں ، نالیوں پر جمی گندگی ہے ، چارپائیوں سے نیچے لٹکتی ہوئی گلی کے فرش پر لگی ہوئی ٹانگیں ہیں ، کمزور باسی چہرے ہیں ، پھٹے پھٹے ہونٹ ہیں ، صغراں بی بی اپنے چاروں بچوں کو پنکھا جھل رہی ہے ، کوٹھری میں حبس کے مارے دم گھٹا جا رہا ہے ، گندے نالے والی کھڑکی میں گرم ایشائی رات کے سبز چاند کی جگہ اوپلوں کا ڈھیر پڑا سلگ رہا ہے ، اُس کا ڈاکیہ خاوند پاس ہی پڑا خراٹے لے رہا ہے ، پنکھا جھلتے جھلتے صغراں بی بی بھی اُنگھنے لگی ہے ، اب پنکھا اُس کے ہاتھ سے چھوٹ کر نیچے گر پڑا ہے ، اب کمرے میں اندھیرا ہے ، خاموشی ہے ، اپنے چاروں بچوں کے درمیان سوئی ہوئی مٹی کی مونا لیزا کے ہونٹ نیم وا ہیں ، چہرہ کھنچ کر بھیانک ہو گیا ہے ، آنکھوں کے حلقے گہرے ہو گئے ہیں ، اور رخساروں پر موت کی زردی چھاگئی ہے ، اِس پر کسی ایسے بوسیدہ مقبرے کا گماں ہو رہا ہے جس کے گنبد میں دراڑیں پڑ گئی ہوں ، جس کے تعویز پر کوئی اگر بتی نہ سلگتی ہو ، جس کے صحن میں کوئی پھول نہ کھلتا ہو ۔
     
  23. ملک بلال
    آف لائن

    ملک بلال منتظم اعلیٰ سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏12 مئی 2010
    پیغامات:
    22,404
    موصول پسندیدگیاں:
    7,506
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: اقتباسات

    میری اداسی کا ایک سبب یہ بھی ہے کہ لوگوں نے سوچنا چھوڑ دیا ہے, اداس ہونا چھوڑ دیا ہے. وہ لوگ بہت خطرناک ہوتے ہیں جو نہ سوچتے ہیں اور نہ اداس ہوتے ہوں. یہاں میں یہ بات بھی کہتا چلوں کہ جو لوگ نہ سوچتے ہیں اور نہ اداس ہوتے ہیں وہ فقط اپنی صورت اور ہیت کے اعتبار سے انسان ہوتے ہیں.

    جون ایلیا – خون کے گھونٹ
     
  24. مونا
    آف لائن

    مونا ممبر

    شمولیت:
    ‏4 جولائی 2010
    پیغامات:
    115
    موصول پسندیدگیاں:
    1
    جواب: اقتباسات


    اقتباسات عبداللہ حصہ دوم

    یہ من موھنی صورت والے ھی تو سب سے بڑے ڈاکو ھوتے ھین
    لیکن حیرت ھے د نیا کی کسی تعزیرات مین اس ڈاکے کی کوئ سزا مقرر نہیں۔



    پتہ نھیں ھم ھمیشہ دعا کرتے وقت ھر بار اپنی نظر آسمان کی طرف کیون اٹھاتے ھین ۔
    اپنے دل کی جانب کیون نھین دیکھتے
    کیا یہ ھمارے کمزور ایمان کی نشانی نھین ہے کے وہ صرف آسمان پر ھی بسیرا کرتا ہے۔

    سلطان بابا تو دعا مانگنے کے بعد اس طرح بے فکر ھو گے تھے جسے خدا ان کی ھر دعا سن ھی تو لے گا۔ اچانک میرے ذہن مین ایک کونداسا لپکا۔
    کہین یہ اٹل یقین ہی تو کسی دعا کی قبولیت کا اصل ک کلیہ نہین۔ کہین ھماری دعائیں اس لیے تو رد نہی ھو جاتی کے ھم اندر سے بے یقین اور بد دل ھوتے ھین ۔
    ھم جس سے مانگ رہے ھوتے ھین خود اس کی سخاوت اور خزانے پر ھمارا
    اعتماد متزلزل ھوتا ھے
    پھر دعا قبول نہ ھونے کا شکوہ کیسا۔
    یہ تو اعتبار اور توکل کا سودا ھے۔ اور سچ ھی تو ھے انسان ھی سدا کا خسارے مین ھے
    اقتباسات عبداللہ حصہ دوم

     
  25. ملک بلال
    آف لائن

    ملک بلال منتظم اعلیٰ سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏12 مئی 2010
    پیغامات:
    22,404
    موصول پسندیدگیاں:
    7,506
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: اقتباسات

    میں نے اپنے بابا جی سے پوچھا کہ "بابا جی یہ بے چینی کیوں ہے، کیوں اتنی پریشانی ہے، کیوں ہم سکون قلب اور اطمینان کے ساتھ نہیں بیٹھ سکتے ؟" تو انہوں نے کہا کہ "دیکھو تم اپنی پریشانی کی پوٹلیاں اپنے سامنے نہ رکھا کرو۔ انھیں خدا کے پاس لے جایا کرو، وہ انکو حل کر دے گا۔ تم انھیں زور لگا کر، خود حل کرنے کی کوشش کرتے ہو، لیکن تم انھیں حل نہیں کر سکو گے۔"
    اشفاق احمد ۔ زاویہ
     
  26. فاطمہ حسین
    آف لائن

    فاطمہ حسین مدیر جریدہ

    شمولیت:
    ‏10 اکتوبر 2011
    پیغامات:
    734
    موصول پسندیدگیاں:
    21
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: اقتباسات

    "چڑیا کا بچہ جو ابھی ابھی گھونسلے سے نکلا ہے۔ ہنوز اڑنا نہیں جانتا اور ڈرتا ہے ۔ ماں کی متواتر اکساہٹ کے باوجود اسے اڑنے کی جرات نہیں ہوتی۔ رفتہ رفتہ اس میں خود اعتمادی پیدا ہوتی ہے اور وہ ایک دن اپنی تمام قوتوں کو مجتمع کرکے اڑتا اور فضائے ناپیدا کنار میں غائب ہوجاتا ہے۔ پہلی ہچکچاہٹ اور بے بسی کے مقابلے میں اس کی یہ چستی اور آسمان پیمائی حیرت ناک ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    جونہی اس کی سوئی ہوئی خود شناسی جاگ اٹھی اور اسے اس حقیقت کا عرفان حاصل ہوگیا کہ "میں اڑنے والا پرند ہوں" اچانک قالب ہیجان کی ہر چیز اس سر نو جاندار بن گئی" بے طاقتی سے توانائی، غفلت سے بیداری، بے پر و بالی سے بلند پروازی اور موت سے زندگی کا پورا انقلاب چشم زدن کے اندر ہوگیا۔ غور کیجیے تو یہی ایک چشم زدن کا وقفہ زندگی کے پورے افسانے کا خلاصہ ہے"

    (مولانا ابوالکلام آزاد، غبارِ خاطر)
     
  27. فاطمہ حسین
    آف لائن

    فاطمہ حسین مدیر جریدہ

    شمولیت:
    ‏10 اکتوبر 2011
    پیغامات:
    734
    موصول پسندیدگیاں:
    21
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: اقتباسات

    ہم کمزور لوگ ہیں جو ہماری دوستی اللہ کے ساتھ ہو نہیں سکتی۔ جب میں کوئی ایسی بات محسوس کرتا ہوں یا سُنتا ہوں تو پھر اپنے "بابوں" کے پاس بھاگتا ہوں_
    میں نے اپنے بابا جی سے کہا کہ جی ! میں اللہ کا دوست بننا چاہتا ہوں۔ اس کا کوئی ذریعہ چاہتا ہوں۔ اُس تک پہنچنا چاہتا ہوں۔ یعنی میں اللہ والے لوگوں کی بات نہیں کرتا۔ ایک ایسی دوستی چاہتا ہوں، جیسے میری آپ کی اپنے اپنے دوستوں کے ساتھ ہے، تو اُنہوں نے کہا "اپنی شکل دیکھ اور اپنی حیثیت پہچان، تو کس طرح سے اُس کے پاس جا سکتا ہے، اُس کے دربار تک رسائی حاصل کر سکتا ہے اور اُس کے گھر میں داخل ہو سکتا ہے، یہ ناممکن ہے۔"
    میں نے کہا، جی! میں پھر کیا کروں؟ کوئی ایسا طریقہ تو ہونا چاہئے کہ میں اُس کے پاس جا سکوں؟ بابا جی نے کہا، اس کا آسان طریقہ یہی ہے کہ خود نہیں جاتے اللہ کو آواز دیتے ہیں کہ "اے اللہ! تو آ جا میرے گھر میں" کیونکہ اللہ تو کہیں بھی جا سکتا ہے، بندے کا جانا مشکل ہے۔
    بابا جی نے کہا کہ جب تم اُس کو بُلاؤ گے تو وہ ضرور آئے گا۔
    اتنے سال زندگی گزر جانے کے بعد میں نے سوچا کہ واقعی میں نے کبھی اُسے بلایا ہی نہیں، کبھی اس بات کی زحمت ہی نہیں کی۔ میری زندگی ایسے ہی رہی ہے، جیسے بڑی دیر کے بعد کالج کے زمانے کا ایک کلاس فیلو مل جائے بازار میں تو پھر ہم کہتے ہیں کہ بڑا اچھا ہوا آپ مل گئے۔ کبھی آنا۔ اب وہ کہاں آئے، کیسے آئے اس بےچارے کو تو پتا ہی نہیں۔


    اشفاق احمد کی کتاب "زاویہ" سے اقتباس
     
  28. فاطمہ حسین
    آف لائن

    فاطمہ حسین مدیر جریدہ

    شمولیت:
    ‏10 اکتوبر 2011
    پیغامات:
    734
    موصول پسندیدگیاں:
    21
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: اقتباسات

    جس مقام پر اب منگلا ڈیم واقع ہے وہاں پر پہلے میرپور کا پرانا شہر آباد تھا_جنگ کے دوران اس شہر کا بیشتر حصہ ملبے کا ڈھیر بنا ہوا تھا_ایک روز میں ایک مقامی افسر کو اپنی جیپ میں بٹھائے اس کے گرد و نواح میں گھوم رہا تھا راستے میں ایک مفلوک الحال بوڑھا اور اس کی بیوی ایک گدھے کو ہانکتے ہوئے سڑک پر آہستہ آہستہ چل رہے تھے_دونوں کے کپڑے میلے کچیلے اور پھٹے پرانے تھے،دونوں کے جوتے بھی ٹوٹے پھوٹے تھے_انہوں نے اشارے سے ہماری جیپ کو روک کر دریافت کیا"بیت المال کس طرف ہے؟" آذاد کشمیر میں خزانے کو بیت المال ہی کہا جاتا ہے_
    میں نے پوچھا_بیت المال میں تمہارا کیا کام؟_
    بوڑھے نے سادگی سے جواب دیا_میں نے اپنی بیوی کے ساتھ مل کر میرپور شہر کے ملبے کو کرید کرید کر سونے اور چاندی کے زیورات کی دو بوریاں جمع کی ہیں،اب انہیں اس "کھوتی" پر لاد کر ہم بیت المال میں جمع کروانے جا رہے ہیں_
    ہم نے ان کا گدھا ایک پولیس کانسٹیبل کی حفاظت میں چھوڑا اور بوریوں کو جیپ میں رکھ کر دونوں کو اپنے ساتھ بٹھا لیا تا کہ انہیں بیت المال لے جائیں-
    آج بھی وہ نحیف و نزار اور مفلوک الحال جوڑا مجھے یاد آتا ہے تو میرا سر شرمندگی اور ندامت سے جھک جاتا ہے کہ جیپ کے اندر میں ان دونوں کے برابر کیوں بیٹھا رہا_مجھے تو چاہیئے تھا کہ میں ان کے گرد آلود پاؤں اپنی آنکھوں اور سر پر رکھ کر بیٹھتا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ایسے پاکیزہ سیرت لوگ پھر کہاں ملتے ہیں_

    قدرت اللہ شہاب کی تصنیف "شہاب نامہ" سے ایک اقتباس
     
  29. سین
    آف لائن

    سین ممبر

    شمولیت:
    ‏22 جولائی 2011
    پیغامات:
    5,529
    موصول پسندیدگیاں:
    5,790
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: اقتباسات

    آج کے دور میں سچا اور کامل گُرو۔۔۔۔ ’استاد‘۔۔۔۔ کہاں سے ملتا ہے ۔۔۔یہ باتیں قصے کہانیوں میں ہی بھلی معلوم ہوتی ہیں لیکن ہمارے بزرگ اس رائے پر یقین نہیں رکھتے ان کے مطابق ایک سچا شخص ہی سچے کی تلاش کر سکتا ہے ۔وہ فرماتے ہیں کہ آپ کی سچی طلب ہی آپکو سچ اور حق سے آشنا کراتی ہے۔وہ کہتے ہیں دراصل ہمیں کسی گُرو کی حقیقی تلاش نہیں ہوتئ بلکہ ہمیں کوئی کام ہوتا ہے جو ہم اس گرو سے نکلوانا چاہتے ہیں اس لیے کسی چھوٹے موٹے کام کے لیے سچے گُرو کی کیا ضرورت اور وہ گُرو ہی کیا جو آپ کو ملنے کے بعد آپ کے دو ٹکے کے کام پہ جُت جائے۔گُرو حال میں ملے تو ماضی بھُلا دیتا ہے اور مستقبل سنوار دیتا ہے ۔گُرو بتاتا ہے کہ مستقبل کوئی مقام نہیں ہے کہ جہاں ہم جا رہے ہیں مستقبل تو ہم خود تخلیق کرتے ہیں ۔گُرو یہ بات منوا لیتا ہے کہ راستے پائے نہیں جاتے بلکہ بنائے جاتے ہیں ۔گُرو کے ملنے کے بعد آپ جان جاتے ہیں کہ غربت اور دولت مندی دونوں ہی سوچ کی پیدا وار ہیں لیکن میرا سوال ہمیشہ ہی ہوتا ہے کہ ہمیں اتنی پیچیدگی کیوں محسوس ہوتی ہے تو ہمارے بزرگ فرماتے ہیں کہ خدا نے تو ہمیں سیدھا سادہ بنایا تھا ہم نے خود کو بے حد پیچیدہ بنا لیا ہے
    ''بابا جی آخر ہم منزل پر کیوں نہیں پہنچتے''۔۔۔اس سوال کو سن کر وہ تھوڑی دیر کی خاموشی اختیار کرتے ہیں اور یہ راز افشا کر دیتے ہیں کہ
    ''دس قدم آگے ارو دس قدم پیچھے چلنے والا آخر وہیں موجود ہوتا ہے جہاں سے اس نے سفر کی ابتدا کی ہوتی ہے ''
    اگر کوئی پریشان چہرہ لیکر ہمارے بزرگوں سے پوچھ ہی لیتا ہے کہ۔۔۔۔۔۔۔ ''مجھے کسی جگہ سکون نہیں ملتا'' ۔۔۔۔۔۔تو بابا جی گرجدار آواز میں کہتے ہیں کہ۔۔۔۔۔ '' بیٹا سکون تجھے کہاں سے ملے تیرے اندر بے سکونی کا سمندر ٹھاٹھیں مار رہا ہے کہانکہ ہمارے گردوپیش کے حالات کا دارومدار اس امر پر ہے کہ ہمارے اندر کیا ہے''۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ایک دن میں تھکا ہارا بابا جی کے حضور پیش ہوا اور سوال کیا کہ راستے میں رکاوٹیں بہت ہیں ہم کیا کریں ؟
    بابا جی فرمانے لگے اچھے راستے میں رکاوٹیں زیادہ ہوتی ہیں اگر رکاوٹیں کم ہوں تو وہو اچھا راستہ بھی نہیں*ہوتا ہے
    باقی ہمارے زہن کے سامنے کوئی رکاوٹ نہیں ہوتی سوائے اسکے جسے ہم رکاوٹ مان لیتے ہیں ''

    کسی دانشور نے اس بات کی وضاحت چاہی کہ کامیاب زندگی کا دارومدار کس بات پر ہے اور ساتھ درخواست کی کہ جواب تفصیل عنائت فرمائیں ۔۔۔محترم بزرگ جلالی انداز میں گویا ہوئے کہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔''جو بات ہے ہی مختصر اسے میں تفصیل سے کیسے بیان کروں اور بتایا کہ کامیاب زندگی کا دارومدار اس بات پر ہے کہ تم بچوں کے ساتھ کتنی شفقت برتتے ہو بوڑھوں کی کتنی خدمت کرتے ہو مصیبت زدوں سے کتنی ہمدردی کرتے ہو اور کمزوروں سے کتنا درگزر سے کام لیتے ہو اسکی وجہ یہ ہے کہ تم زندگی میں کبھی نا کبھی ان سارے مراحل سے گزرو گے''



    ایک دن فرمانے لگے '۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔''کیا تمہیں معلوم ہے کہ اچھا استاد ہمیشہ زندہ کیوں رہتا ہے'' ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔سب نے کوئی خاص جواب نا دیا تو کہنے لگے ۔۔۔۔۔۔۔''جس انسان کی تربیت دوسروں کو فائدہ دینے لگے وہ کیسے مرسکتا ہے''۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    پھر جلالی انداز مین بولے

    'س انسان کو مت ڈبوو جس نے تمہیں تیرنا سکھایا جس انسان سے تم نے کاروبار کے اصول سیکھے اسکے مقابلے میں کاروبار مت کرو کیونکہ کاروبار تو شائد خوب چلے مگر اس مین خیروبرکت نہیں ہوگی

    بچوں کی تربیت کے حوالے سے ارشاد فرمایا کہ
    ']'جب والدین بچوں کے لیے بہت کچھ کرتے ہیں تو بچے اپنے لیے کچھ بھی نہیں کرتے اس لیے بچوں کو قیمتی بنانے کے لیے زمہ دار بناو''

    ایک دن ہمارا سوال تھا کہ ''۔۔۔۔۔۔کچھ لوگ ہمارے لیے بہت کچھ کرتے ہیں ہم انکے احسانات کا جواب کیسے دیں؟۔۔۔۔۔۔۔۔فرمانے لگے۔۔۔۔۔۔۔۔۔'' محسن وہ ہوتا ہے جسکے احسانات نا اتاریں جا سکیں ،لیکن اگر زیادہ ہی دل مائل ہو کہ احسانات کا جواب دینا ہے تو وہ آسانیاں جو آپ تک اپ کے محسنوں نے پہنچائیں انہیں امانت جان کر دوسروں کو پہنچانا شروع کردو''۔۔۔۔۔۔

    نوجوان نے سوال کیا کہ ہم اتنی بے بسی کی زندگی کیوں گزار رہے ہیں ؟۔۔۔۔فرمانے لگے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔'' کہ بےبس تھوڑے ہو تم جو کرنے کہ اہل ہو اگر کر گزرو تو خود حیران رہ جاو بس مسئلہ ایک ہے کہ تمہیں خبر ہی نہیں کہ تم کیا کچھ کر سکتے ہو''

    نا امیدی کے اس دور میں امید کے چراغ روشن کرنا بڑی بات ہے اسی لیے دانائی شائد کسی دانا کی تابعداری سے ملتی ہے ۔ان من کی باتوں کو جان کر ہم نے سچے گرو کی تلاش چھوڑ دی تو سچی طلب کی تلاش شروع کردی کیونکہ سچ کی تلاش کوئی سچا ہی کرسکتا ہے


    کتاب-کامیابی کا پیغام
    تحریر-قاسم علی شاہ

    (
     
  30. سین
    آف لائن

    سین ممبر

    شمولیت:
    ‏22 جولائی 2011
    پیغامات:
    5,529
    موصول پسندیدگیاں:
    5,790
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: اقتباسات

    'اسکے برعکس شیخ محمد عبداللہ سیاست کے کباڑ خانے میں بے پیندے کا لوٹا تھے ،جب انہوں نے ینگ مسلم ایسوسی ایشن کے پلیٹ فارم سے اپنی اڑان شروع کی اس وقت وہ ایک سکول میں سائئنس ٹیچر تھے،چہرے پر بڑی خوشنما داڑھی تھی اور گلے میں لحن ِداودی کا نور بھرا تھا انکی قرات اور نعت خوانی ہزاروں لاکھوں کے مجمع کو مسحور رکھتی تھی لیکن پھر مسٹر گوپال سوامی آئنگر کشمیر کا وزیراعظم بن کر آیا۔کہنے کو یہ آئی سی ایس کا دفتر تھا لیکن درپردہ وہ انڈین نیشنل کانگرس کے مندر کا پجاری تھا ۔اس نے اپنے جال کچھ ایسی چابکدستی سے بچھائےکہ شیخ صاحب سدھائے ہوئی بٹیر کی مانند بڑی آسانی سے دام میں اگئےدیکھتے ہی دیکھتے انکی زہنی معاشی اور جسمانی کایا کلپ ہوگئی ۔امیر اکدل اور حضرت بل کے جلسوں میں نعتیں پڑھ کر لاکھوں کو رلانے والے شیخ جی اب نئے نئے اپ ٹو ڈیٹ سوٹ پہن کر ''بندے ماترم'' کا ترانہ الاپتے بمبئی کے ''تاج'' اور کلکتہ کے ''گرینڈ'' ہوٹل کی ہائی سوسائٹی میں چہچہانے لگے ۔ریزیڈنسی روڈ جموں پر انجمن اسلامیہ کے غریبانہ دفتر سے اٹھ کر انکی نشست و برخاست برلا ہاوس دہلی انند بھون الہ باد اور واردھا جیسے مقامات میں منتقل ہوگئی۔مسلم کانفرنس سے ناطہ توڑ کر شیخ ساحب نے نیشنل کانفرنس کی بنیاد ڈالی تو پہلئ استرے سے اپنی خوبصورت داڑھی کا صفایا کیا اور پھر اس قضیہ کشمیر کی خشتِ اول بھی رکھ دی جو آج تک پاکستان اور بھارت کے درمیاں ایک خطرناک ناسور کی طرح رِس رِس کر بہ رہا ہے ''



    شہاب نامہ از قدرت اللہ شہاب
    باب-مہاراجہ ہری سنگھ کے ساتھ چائے
     
    ھارون رشید نے اسے پسند کیا ہے۔

اس صفحے کو مشتہر کریں