1. اس فورم پر جواب بھیجنے کے لیے آپ کا صارف بننا ضروری ہے۔ اگر آپ ہماری اردو کے صارف ہیں تو لاگ ان کریں۔

یادوں کی پٹاری پارٹ 1

'آپ کے مضامین' میں موضوعات آغاز کردہ از ھارون رشید, ‏25 جنوری 2007۔

  1. ھارون رشید
    آف لائن

    ھارون رشید برادر سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏5 اکتوبر 2006
    پیغامات:
    131,457
    موصول پسندیدگیاں:
    16,828
    ملک کا جھنڈا:
    اسلام علیکم

    سید بھائی کی یادوں کی پٹاری سے ان کی تمام تحریر کو یہاں منتقل کیا جارہا ہے !
    یہ لڑی مقفل رہے گی
     
    بنت الهدی نے اسے پسند کیا ہے۔
  2. عبدالرحمن سید
    آف لائن

    عبدالرحمن سید مشیر

    شمولیت:
    ‏23 جنوری 2007
    پیغامات:
    7,417
    موصول پسندیدگیاں:
    21
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: یادوں کی پٹاری پارٹ 1

    بچپن سے ھی اکثر اپنے پیارے وطن کے تقریبآ تمام شہروں کی سیر ھی کرتا رھا، کیوںکہ کچھ والد صاحب کی سروس ھی ایسی تھی کہ اکثر ان کا تبادلہ ھو جاتا تھا- اسی طرح میرا سیاحت کا شوق بھی پروان چڑھتا رھا -

    خیر قصّہ مختصر کہ راولپنڈی کی پیدائش اگست 1950، بنیادی تعلیم بھی کنٹونمنٹ پبلک اسکول صدر راولپنڈی میں مکمل کی، رھائش بھی ریس کورس گراؤنڈ کے سامنے تھی، جو اب قاسم مارکیٹ کا علاقہ ھے سیکنڈری اسکول اور گریجویشن کی تعلیم کراچی میں 1971 مکمل ھوئی -

    سروس کا آغاز کراچی سے ھی ایک مشھور تعمیراتی کمپنی میں دوران گریجویشن 1969 سے کیا اور 1972 میں خوش قسمتی سے میرا تبادلہ راولپنڈی ھوگیا وھاں سے 1975 میں دوبارہ کراچی اور وھاں سے 1978 میں سعودی عربیہ پھر واپس تبادلہ راولپنڈی 1983 میں ھوا 18 سال بعد اس کمپنی کو 1985 میں کچھ وجہوھات کی بناء خیرباد کہنا پڑا -

    بعد میں تقریبآ 3 سال ایک رینٹ اے کار کراچی میں ملازمت کی پھر 1989 میں سعودی عربیہ میں ایک بڑے اسپتال میں ملازمت شروع کی اور اب تک جاری ھے الحمداللہ---- درمیان میں 1998-99 ایک سال ترکمنستان کے دارالحکومت شھر اشک آباد میں بھی گزارہ -

    اسی دوران شادی 1979 میں ھوئ اور ماشااللہ 5 بچے بڑے ھیں جن میں سے 2 کی شادی بھی ھو گئ،

    اب ایسا لگتا ھے کہ یہ کل کی بات ھو، اب عمر 56 سال سے زیادہ ھو گئ ھے لیکن سوچتا ھوں کہ زندگی ایسی گزری کہ پتہ ھی نہیں چلا کہ کیا کھویا اور کیا پایا ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟
     
    حنا شیخ نے اسے پسند کیا ہے۔
  3. عبدالرحمن سید
    آف لائن

    عبدالرحمن سید مشیر

    شمولیت:
    ‏23 جنوری 2007
    پیغامات:
    7,417
    موصول پسندیدگیاں:
    21
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: یادوں کی پٹاری پارٹ 1

    کوشش ضرور کرونگا، میں کوئی مفکٌر یا کوئی ماھر ادیب نہیں ھوں بس ایک عام سا معمولی سا گنہگار بندہ ھوں، زندگی کے آخری دور سے گزر رھا ھوں، کچھ اب فرصت کے لمحات ملے ھیں، جو زندگی اب باقی نصیب میں لکھ دی گئ ھے، اِسے آپ جیسے مخلص اور قدردانوں کے ساتھ مل کر زندگی کے دکھ سکھ سمیٹنا چاھتا ھوں، آپ سب مجھے اپنا بڑا سمجھ کر اگر کچھ لکھنے میں کوئی اگر اونچ نیچ ھوجائے تو معاف کر دیجئے گا -

    میری اپنی زندگی کا اصل مقصد یہی رھا کہ جو بھی میرے پاس میرے پیشے سے منسلک، مثبت علم ھے سب تک پہنچاؤں اور اپنے پیشے جسے آپ حساب کتاب کہہ سکتے ھیں، عرصہ چالیس سال سے خدمات انجام دے رھا ھوں اور اس اعتبار سے کسی حد تک کامیاب بھی ھوا ھوں، یہ اللٌہ تبارک تعالیٰ کا کرم ھے -

    اس کے علاؤہ اپنے تمام شاگردوں کو اپنے پیشے کی تربیٌت کے علاؤہ بھی تمام اخلاقیات کے موضوع پر درس بھی دیتا رھا، جو کہ میرا فرض بھی ھے، مجھے خوشی ھے اور میری خوش قسمتی بھی ھے کہ جتنے بھی آج جو میرے شاگرد اچھے عہدوں پر فائز ھیں آج بھی میری اُسی طرح عزت کرتے ھیں -

    میرا انعام بس یہی ھے کہ وہ آج ایک اچھے مقام پر ھیں اور خوش ھیں
    میں یہی سب سی کہتا ھوں کہ محنت میں ھی عظمت ھے، جو بھی میرے استادوں نے مجھے سکھایا یا جو میں نے اپنی زندگی کے تجربات سے سیکھا، وہ میں نے ایمانداری اور خلوص سے دوسروں تک پہنچایا، جو کہ میں اپنا ایک فرض سمجھتا ھوں اور اب تک آپ سب کی دعاؤن سے یہ مشن جاری ھے - اور زیادہ تر میرے شاگرد پاکستاتیوں کی ھی تھی، جس پر مجھے فخر ھے - اور آج بھی ایک اچھی خاصی تعداد میرے ساتھ ھے -آللٌہ تعالیٰ انہیں یکجہتی اور محنت سے کم کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور جو مجھے اور اپنے ساتھیوں کو چھوڑ گئے ھیں اللٌہ تعالیٰ، انہیں بھی ھر مقام پر کامیابی عطا کرے، آمین

    اور اللٌہ تعالیٰ ھپ سب کو محنت سے کام کرنے اور اپنے بزرگوں کی نصیحتوں پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے، آمیں

    میں خود اب حیران ھوتا ھوں کہ زندگی اتنی تیزی سے گزر گئی پتہ ھی نہین چلا، لگتا ھے کہ جیسے پل بھر کی بات ھو، آج جس شھر ریاض سعودی عربیہ میں بیٹھا ھوں اسی شھر میں 1978 میں کراچی پاکستاں سے تبادلہ ھوا تھا اور آج 2007 گزر رھا ھے -

    یہی سب سے میں گزارش کرتا ھوں کہ ھماری یہ زندگی، جو اللٌہ تعالیٰ نے عطا کی یہ بہت مختصر ھے ایک بلبلہ کی طرح ھے اور جب وقت گزرجائے گا، واپس ھاتھ نہین آئے گا -

    اور یہ ھم سب جانتے ھین کہ ھماری زندگی کا مقصد کیا ھے اور اس کو صحیح طریقہ سے کس طرح گزارنا چاھئے - اسلامی اصول ھماری زندگی کے لئے سب سے بہترین لائحہ عمل ھیں اور ھماری کتاب قران ایک مکمل ضابظہ حیات ھے اور سنت رسول :saw: ھم سب کے لئے ایک مشعل راہ ھے -

    اللٌہ سبحان تعالیٰ ھم سب کو اپنی زندگی صحیح اسلامی طریقہ پر اللٌہ تعالیٰ کے احکامات اور سنت رسول:saw: کی روشنی میں گزارنے کی تو فیق عطا فرمائے، آمین !!!
     
  4. عبدالرحمن سید
    آف لائن

    عبدالرحمن سید مشیر

    شمولیت:
    ‏23 جنوری 2007
    پیغامات:
    7,417
    موصول پسندیدگیاں:
    21
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: یادوں کی پٹاری پارٹ 1

    آپ سب کا بہت بہت شکریہ کہ آپ نے مجھے اس قابل سمجھا کہ میں اپنے ماضی کے ھر وہ اچھے اور برے پل کو آپ لوگوں کے ساتھ شیئر کر سکوں، جو ھو سکتا ھے کہ آپ سب لئے سبق آموز بھی ھو اور معلومات میں کچھ اضافہ کا سبب بھی بن سکے -
    اگر لکھنے میں کوئی کسی قسم کی غلطی ھوجائے تو میں دست بستہ معزرت خواہ ھونگا، جس کی اصلاح کی گزارش بھی میں آپلوگوں سے چاھونگا -
    آپ سب کے تعاون کا بہت بہت شکریہ، اور امید ھے کہ آپ سب مجھے اپنی دعاؤں مین یاد رکھیں گے -

    آپ کی جو یہ ھماری اردو کی پیاری محفل ھے، جب سے میں شامل ھوا ھوں‌، مجھے خوشی سے پھولے نہیں سما رھا، آپلوگوں کا اور تمام منتظمین اور شرکاء کا تہہ دل سے مشکور بھی ھوں کہ کافی عرصہ کے بعد مجھے پھر سے اردو لکھنے اور پڑھنے سے بہت زیادہ لطف اندوز ھو رھا ھوں،اور مجھے امید ھے کہ اب دوبارہ میں اپنی زندگی کی ان تمام یاداشتوں کو واپس لا سکوں گا جو جانے کہاں ماضی کے اندھیروں میں گم ھوچکی تھیں -
    !!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!
    مجھے دراصل بچپن سے ھی ادب اور آرٹ کا شوقین تھا اور یہ شوق مجھے راولپنڈی کے کینٹ پبلک اسکول، صدر سے شروع ھوا جہاں پر میں نے پرائمری تعلیم حاصل کی تھی اور میں اس اسکول کو کبھی نہیں بھول سکتا ھوں، جہاں میرا یہ شوق پروان چڑھا - یہ1955 سے 1958کا زمانہ تھا-
    اسکی چند مخصوص وجوھات بھی تھیں کاش کہ ھمارے تمام تعلیمی ادارے بھی ان ھی خصوصیات کے حامل ھوتے

    - سب سے پہلے تو مین یہ کہونگا کہ جتنے بھی وھاں استاد اور منتظمین تھے سب کے سب تجربہ کار اور پرخلوص تھے اور انہیں یہ اچھی طرح علم تھا کہ بچوں کی بنیادی تربیت کیسی ھونی چاھئے -

    - اس وقت کے لحاظ سے اتنے اعلیٰ ذوق رکھنے والے استاد شاید ھی کہیں خوابوں میں ملیں، یہ احساس مجھے بعد میں بڑی کلاسوں میں جانے کے بعد ھوا ، کیونکہ اس وقت5 سے 8 سال کی عمر تک کے بچوں کو اتنا شعور کہاں ھوتا ھے، جو اچھے برے میں کوئی تمیز کر سکیں، پھر اتنی عمر کے بچوں کا مستقبل بھی تو صرف استادوں اور والدیں کے ھاتھوں میں ھوتا ھے -

    اس وقت یہاں شام کے 6 بج رھے ھیں اور مغرب کی نماز کا وقت ھوا چاھتا ھے، پاکستاں میں 8 بج رھے ھیں وھاں شاید عشاء کا وقت ھے، دوبارہ اسی لڑی میں دوبارہ ملاقات نماز کے بعد ھوتی ھے انشااللٌہ -
     
  5. عبدالرحمن سید
    آف لائن

    عبدالرحمن سید مشیر

    شمولیت:
    ‏23 جنوری 2007
    پیغامات:
    7,417
    موصول پسندیدگیاں:
    21
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: یادوں کی پٹاری پارٹ 1

    پھر حاضر خدمت ھوں، دوبارہ اپنے بچپن کی پٹاری کھولے ھوئے

    میں یہ بتا رھا تھا بچوں کی ابتدائی تعلیم کے بارے میں اور میری یہ خوش قسمتی تھی کہ میری ابتدائی تعلیم ایک اچھے تعلیمی ادارے سے شروع ھوئی،
    کبھی کڑاکے کی سردی اور کبھی شدید گرمیوں کی تپش، میں اس سے بےخبر روزانہ گلے میں بستہ ٹانگے ھاتھ میں لکڑی کی تختی اٹھائے،صبح سویرے ناشتہ کرکے چھوٹی بہن کا ھاتھ پکڑے، اپنے اسکول کی طرف پیدل رواں دواں رھتا تھا - اسکول سے واپسی بھی اسی انداز سے رھتی تھی - اور روز پیدل تقریباً 6 یا 7 کلو میٹر کا آنا جانا رھتا تھا -

    گھر پر دوپہر کا کھانا کھا کر کچھ دیر آرام کرنے کے بعد اسکول کے گھر کا کام کیا اور ھم اپنے والد صاحب کا انتظار بہت بےچینی سے کرتے رھتے تھے، کہ وہ ھمیں کب باھر گھومانے لے جائیں کیونکہ وہ ھمیں بلا ناغہ روزانہ دفتر سے واپس آکر کچھ دیر آرام کرنے کے بعد ھمیں پیدل گھومانے ریس کورس گراونڈ میں گھومانے لے جاتے تھےجو کہ گھر سے بہت قریب تھا، اس دوران والدہ صاحبہ کھانے وغیرہ کی تیاری کرتیں اور ھمیں والد صاحب مغرب کی نماز سے پہلے واپس گھر لےآتے، نماز سے فارغ ھو کر ھمیں کچھ پڑھاتے اور اسکول کا کام دیکھتے -
    اسی اثناء مین عشاء کی نماز کا وقت ھو جاتا، والد صاحب تو عشاء کی نماز پڑھنے باھر چلے جاتے اور ھم بہن بھائی کچھ دیر اپتی والدہ کے ساتھ خوب لاڈ پیار کرتے اور والدہ بھی ھمارے ساتھ خوب ہنستی بولتی، کھیلتی رھتیں اور بعد میں جیسے ھی والد صاحب عشاء کی نماز پڑھکر واپس آتے، والدہ فوراً دستر خوان لگاتیں اور کھانے کے بعد والد اور والدہ ھماری زد کرنے پر روزانہ کہانی سناتے اور ھمیں پتہ ھی نہ چلتا کہ کب ھم سو گئے صبح ھو نے پر والدہ ھمیں اُٹھاتیں اسکول جانے کے لئے، اور روز کی طرح پھر زندگی اسی طرح رواں دواں رھتی -
    وہ ماں کا دُولار اور لاڈ پیار جب بھی یاد آتا ھے تو ا آنکھوں میں آنسو آجاتے ھین، وہ بچپن کی ھماری معصومیت اور ماں کا گلے لگانا، کھیلنا مسکرانا ھمارے پیچھے بھاگنا وہ کیا دن تھے، جب بھی وہ دن یاد آتے ھیں کلیجہ منہ کو آتا ھے،

    آج میری والدہ جو اب کافی ضعیف ھیں، وہ کراچی میں اپنے گھر میں مجھ سے چھوٹے اور منجھلے بھائی اور انکے بیوی بچوں کے ساتھ ھیں، اور میں اور سب سے چھوٹا بھائی اپنی فیملی کے ساتھ پردیس میں ھیں، اور اپنی والدہ کی خدمت کیا کریں بس ٹیلیفوں پر گفتگو کر لیتے ھیں، ایک دفعہ عمرے کی سعادت آنہیں حاصل ھوئی، مگر حج وہ نہیں کر سکیں کیونکہ انکا کہنا یہ تھا کہ جب تک آنکی سب سے چھوٹی بیٹی یعنی میرے چھوٹی بہں کی شادی نہیں ھو جاتی، اس وقت تک وہ حج نہیں کر سکتیں-
    بہن کی شادی پچھلے سال نومبر میں ھو گئی - اب انشااللٌہ انہیں ھم دونوں بھائی انہیں اس سال حج کرانے کا ارادہ ھے اللٌہ تعالیٰ ھمیں انکی خدمت کا موقع دے، آمین-

    اب میں یہ سوچتا ھوں کہ میں کتنے عر صہ سے باھر ھوں، کیا میں نے اپنی ماں کے ساتھ انصاف کیا، ھر سال چھٹی جانے سے یا کچھ پیسے ان کے ھاتھ میں رکھنے کیا میرا فرض پورا ھوگیا، جبکہ والد صاحب کو بھی گزرے ھوئے بھی 17 سال بیت چکے ھیں، اور اتنا بدقسمت ھوں ان کے جنازے کو کاندھا بھی نہ دے سکا کیونکہ میں اس وقت 1990 میں جدہ میں تھا اور مجھے والد کی انتقال کی خبر گھر والوں نے نہیں دی تھی،اور دوسروں کو منع بھی کیا ھوا تھا اس کی ایک وجہ یہ تھی کہ والد صاحب اور میں ایک دوسرے کو بہت چاھتے تھے اور دوسرے 12 دن ھی ھوئے تھے پاکستاں سے آکر اور میرے بچے اس وقت پاکستان میں تھے آج تک مجھے اس بات کا دکھ ھے-
    ان تمام باتوں کے باوجود بھی میری والدہ مجھ سمیت تمام بہن بھائیوں اور انکے تمام بچوں سے بہت محبت کرتی ھیں، جب بھی میں اپنی فیملی کے ساتھ چھٹی پاکستان جاتا ھوں، وہ مجھے اور میرے بچوں کو گلے لگا کر خوب روتی ھیں ، میری کوشش یہی ھوتی ھے کہ زیادہ تر وقت ین کے ساتھ گزاروں،
    ان کے ساتھ رہ کر مجھے وہ اپنا تمام بچپن کی باتیں یاد آجاتی وہ اُن کا لاڈ کرنا گلے سے لگانا، ھمارے ساتھ گھر میں کھیلنا ھمارے پیچھے پیچھے بھاگنا کبھی ھم میں سے کوئی بیمار ھوجائے تو ساری ساری رات انکا جاگنا، بس آنکھیں بند کئے سوچتا رھتا ھوں -
    میں بس چھٹیوں میں بس ان کو دیکھتا رھتا ھوں، ساتھ بچپن کی باتیں اُن سے پوچھتا بھی رھتا ھوں اور ساتھ اپنے بچپن کی تصویریں بھی دیکھتا رھتا ھوں جو انہوں نے سنبھال کر رکھی ھیں، کئی باتیں میرے بچپن کی مجھے خود انکی زبانی ھی پتہ چلی ھیں اور پھر تمام بچپن کی باتیں ذھن میں ایک فلم کی طرح گھوتی رھتی ھیں
    والدین کی خدمت جتنی بھی کی جائے کم ھے یہ احساس ھمیں اس وقت ھوتا ھے کہ جب ھمارے بچے بڑے ھو کر ھماری باتوں کو نصیحتوں کو رد کردیتے ھین -

    انشااللٌہ اگلی نشست میں اپنی اس کہانی کو آگے بڑھاؤنگا اگر زندگی نے وفا کی تو
     
    Last edited: ‏9 ستمبر 2019
  6. عبدالرحمن سید
    آف لائن

    عبدالرحمن سید مشیر

    شمولیت:
    ‏23 جنوری 2007
    پیغامات:
    7,417
    موصول پسندیدگیاں:
    21
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: یادوں کی پٹاری پارٹ 1

    بچپن، لڑکپں، جوانی اور بڑھاپا، انسان ان ھی تمام ادوار سے گزرتا ھوا اپنی آخری منزل کی طرف بڑھتا ھے -

    بچپن گھر کے حوالے
    لڑکپں باھر کے حوالے
    جوانی خود کے حوالے
    بڑھاپا اللٌہ کے حوالے

    میری کوشش یہی ھوگی کہ ھر ایک دور کو انکے تمام مثبت اور منفی حقائق سے روشناس کراؤں، جن سے ماضی میں خود دو چار ھوا ھوں -
    ویسے بہت مشکل ھے اپنے گزرے ھوئے کل کو سامنے لانا، خاص طور سے منفی پہلو کو -

    اکثر ھم اپنی بری عادتوں اور نقصانات سے پردہ نہیں اٹھاتے، جو کہ بالکل غلط ھے کم از کم ھمیں ان اپنی تمام برائیوں اور نقصانات سے لوگوں کے علم میں لانا چاھئے تاکہ جو تکلیفیں آپ نے ان برائیوں اور نقصانات سے اٹھائیں ھیں، دوسرے لوگ ان سے بچیں اور خسارہ نہ اٹھائیں -

    ھاں تو دوستوں بات ھو رھی تھی بچپن کی معصومیت کی، اس دور میں ھر ایک کا بچپن دوسروں کے رحم و کرم پر ھوتا ھے، چاھے تو اسے بگاڑ دیں چاھے تو سنوار دیں-

    ھم سب کا یہ فرض ھے کہ ھر کسی کے بچپن کی معصومیت سے نہ کھیلیں بلکہ اپنا فرض سمجھتے ھوئے ان کی تربیت ایک اچھے ماحول میں ترتیب دے کر ان کے مستقبل کو بہتر سے بہتر بنانے کی کوشش کریں، کیونکہ آج کے یہ معصوم کل کے ھمارے ملک کا روشن مستقبل ھیں -
    میں اپنے بچپن کی کچھ یادداشت کے حوالے سے خود پر گزرے ھوئے اصل حقائق کی روشنی میں چند اھم نکات کو پیش کرنے کی کوشش کررھا ھوں - تاکہ پڑھنے والوں کو صحیح حقیقت کا علم ھو اور وہ اپنی سمجھ کے مطابق بہتر سے بہتر کوشش اپنی آنے والی نئی نسلوں کی تربیت کیلئے کرسکیں -

    میں نے گذشتہ باب میں اپنے پرائمری اسکول کے بارے میں تحریر کیا تھا، جو ایک واقعی مثالی اسکول تھا وھاں میں اپنے بچپں کے تین سال بہت ھی ایک منظم اور صحیح تربیت کے دائرے میں گزارے، جسکا فائدہ مجھے اپنے ھر اچھے برے دور میں ھوا -

    اسلامی تعلیمات کے لیے روزانہ ایک مخصوص پیریڈ ھوا کرتا تھا، جس میں قران کی تعلیم بہت عمدہ طریقے سے بمعہ ترجمہ اور تفسیر کے دی جاتی تھی، جو قرآنی سورتیں مجھے اب تک یاد ھیں یہ وھیں کی عنائت ھے، اس کے علاوہ سیرت نبوی اور تمام اسلامی اصولوں کو اتنے خوبصورت طریقوں سے ھر بچے کے ذھن میں اس طرح بٹھادیا جاتا تھا کہ شاید ھی کوئی بھول سکے-
    دوسرے اس اسکول میں پانچویں جماعت تک لکڑی کی تختی پر لکڑی کے قلم سے اردو رسم الخط کی تربیت دیتے تھے - اور ھر کام کالی سلیٹ پر بچے چاک سے لکھا کرتے، اس کے علاوہ انگلش کے لئے چار لائنوں والی کاپی پر پنسل سے پریکٹس کرائی جاتی تھی، وھاں پر پانچویں جماعت تک کوئی فاونٹین پین استعمال کرنے کی اجازت نہیں تھی- اور حساب کے کام کیلئے بھی صرف اور صرف پنسل ھی کی اجازت تھی -
    تیسری خصوصیت جو سب سے اچھی یہ تھی کہ روزانہ اسمبلی کے دوران ھر کلاس کے بچوں کے ھاتھ کے ناخونوں، بالوں کو، لباس کو اور جوتے تک بہت سختی سے چیک کئے جاتے تھے، اگر کسی بچے میں کوئی بھی ذرہ سی بھی چیکنگ کے دوران غلطی پائی گئی تو فوراً لائن سے نکال دیا جاتا تھا اور سب کے سامنے اسی وقت غلطی کے توازن سے سزا ملتی تھی اور ایسا بہت کم ھوتا تھا، کیونکہ ھر بچہ گھر سے مکمل طور سے تیار ھو کر آتا کرتا اور اس میں والدیں خود بچے کو تمام تیاریوں کے ساتھ بچوں کو صاف ستھرائی کے ساتھ اسکول میں بھیجا کرتے تھے اور بچوں کو بھی فکر رھتی تھی-

    چوتھی بات بچوں کی صحت کے اعتبار سے ھر کلاس کا ایک الگ سے پی ٹی کا بھی پیریڈ لازمی تھا، جہاں بچوں کو ورزش کی تربیت دی جاتی تھی، اور سکھانے والے بہترین ماھرین چنے ھوئے تھے، اور بہت سے کھیلوں کی تربیت بھی دی جاتی تھی جن سے بچے بھی خوشی سے سالانہ کھیلوں میں حصہ بھی لیتے تھے-

    ایک اور خوبی ان استادوں میں یہ تھی کہ وہ خود بھی باقاعدہ ڈسپلین کی پابندی کرتے تھے میں نے کبھی انھیں آپس میں بیہودہ مذاق یا گالی گلوچ کرتے نہیں پایا اور اس کے علاوہ کبھی اسکول کے احاطے میں یا کلاس روم میں سگریٹ پیتے ھوئے نہیں دیکھا،

    اب آپ یہ بتائیے کہ کیا اب ھمارے بچوں کی بنیادی تعلیم کیلئے کیا یہ تمام خصوصیات ھمارے بچوں کے اسکولوں میں موجود ھیں، کیا ھمارے بچون کے اُستاد حضرات ان اصولوں پر گامزن ھیں ؟؟؟؟؟؟؟؟

    1958 مین اس اسکول کو مجھے مجبوراً الوداع کہنا پڑا، کیونکہ والد صاحب کا تبادلہ کراچی ھوچکا تھا، اس اسکول کو چھوڑتے وقت مجھے یاد ھے کہ بہت دکھ ھوا تھا، جبکہ میری عمر صرف 8 سال کے لگ بھگ تھی اور آج تک مجھے اس کا بہت ملال ھے، کیونکہ اسکے بعد مجھے ایسے اسکول کا ماحول نہیں مل سکا -

    اُس وقت کے دور میں اتنی سہولتیں تو نہیں تھیں لیکن لوگوں کے پاس دوسروں کے لئے وقت تھا اپنی ھر دکھ تکلیف ایک دوسرے کے ساتھ شیئر کرتے تھے، اور ایک دوسرے کے کام آتے تھے-

    وہ سادہ سی، قناعت پسند اور پرسکون زندگی جہاں پر ایک محدود اپنی ضروریات تھیں - اور زندگی بہت خوش و خرم سے گزری رھی تھی

    اب اجازت چاھونگا اور اگلے دور کا ذکر خیر اگلی نشست میں انشااللٌہ کرونگا اگر زندگی نے وفا کی تو!!!!! اپنی دعاؤں میں یاد رکھیں اللٌہ حافظ
     
  7. عبدالرحمن سید
    آف لائن

    عبدالرحمن سید مشیر

    شمولیت:
    ‏23 جنوری 2007
    پیغامات:
    7,417
    موصول پسندیدگیاں:
    21
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: یادوں کی پٹاری پارٹ 1

    تیزگام اپنی منزل کی طرف تیزی سے رواں دواں تھی اور میں ٹرین کی کھڑکی کے پاس بیٹھا باھر سامنے کے مناظر کو بہت تیزی کے ساتھ مخالف سمت کی طرف بھاگتے ہوئے بڑے انہماک سے دیکھ رہا تھا، عمر تقریباً آٹھ برس کے لگ بھگ ہوگی، ویسے بھی مجھے کوئی بھی سواری ہو بس ہو کوئی کار یا ٹیکسی یا پھر کوئی گھوڑا گاڑی ہی کیوں نہ ہو، ھمیشہ ایک کنارے بیٹھنے کا شوق رہا ہے، کیونکہ مجھے شروع بچپن سے ہی سفر کے دوران باھر کا منظر دل کو بہت اچھا لگتا تھا اور یہ ھمیشہ خواہش رہی کے یہ سفر کبھی ختم نہ ہو، جو اب تک قائم ہے، اور اب تک سفر میں ہی ہوں -

    پہلے تو والدیں سے ضد کرکے ایک کونا پکڑ کر بیٹھا کرتا تھا اور اب درخواست کرکے کونے کی سیٹ لینے کی کوشش کرتا ہوں، کھڑکی کے پاس بیٹھنے کا ایک الگ ہی مزا ہے، کیونکہ اس سے چاھے کوئی بھی سواری ہو، اندر کے ماحول سے نکل کر انسان باہر کی دنیا میں گم ہو جاتا ہے، ایسا لگتا ہے کہ ہم بھی باہر کا ایک حصہ ہیں، شاید سب لوگ بھی میری طرح ایسا ہی سوچتے ہوں گے -

    ایک بات کا تو میں یہاں ذکر ضرور کرونگا کہ میری اللٌہ تعالیٰ نےدیر یا سویر لیکن تقریباً تمام خواہشات کو پورا ضرور کیا، اور مجھے اس کا تو مکمل یقین ہے کہ اگر آپ نیک نیتی سے کوئی دل سےخواھش کریں تو وہ ضرور اس کی تعبیر حقیقت میں ملتی ہے -

    اس وقت تیزگام سے راولپنڈی سے کراچی کا سفر تقریباً 24سے25 گھنٹے میں مکمل ہوتا تھا، والدین کی زبانی مجھے معلوم ہوا کہ ٹرین کا میرا یہ پانچواں سفر ہے، کیونکہ والد صاحب کا ہر دو تین سال بعد تبادلہ ضرور ہوتا رہتا تھا، کراچی اور راولپنڈی کے درمیان، پچھلے سفر کا کچھ کچھ دھندلا سا یاد ہے شاید 5 سال کی عمر ھوگی اور کراچی کا اپنا گھر بھی ہلکا ہلکا ذہن میں خاکہ بھی ہے-

    خیر بات ہو رہی تھی اپنے تیزگام کے سفر کی، ہر سفر میں ہر مختلف موسموں کا لطف اٹھانے کو بھی ملا، سرسبز لہلہاتے کھیت خاص طور سے گندم اور مکئی کے سرسبز شاداب کھیت، تو کبھی پیلے پیلے سرسوں کے لہراتے ہوئے کھیت، کبھی کبھی فصلوں کی کٹائی کے وقت سب مردوں، عورتوں اور بچوں، چھوٹے بڑوں کو دیکھ کر اتنی خوشی ہوتی تھی کہ میں بتا نہیں سکتا، اکثر وہ ٹرین کو دیکھ ہاتھ ہلاتے، تو میں بھی خوشی سے ہلاتا، ایسا لگتا جیسے وہ مجھے الوداع کہہ رہے ہوں اس وعدے پر کہ میں دوبارہ واپس آؤں، وہ سب مجھے اپنے سے لگتے تھے،

    میں ھمیشہ اسی انتطار ہی میں رھتا تھا کہ دوبارہ ٹرین کا سفر کب ہوگا کیونکہ سرسبز کھیتوں کے علاوہ اور بھی کئی چیزیں مجھے بار بار یاد آتی تھیں، موسمبی مالٹے سنگتروں کے باغات جب سامنے سے گزرتے تو دل چاھتا تھا کہ کود جاؤں اور باغوں میں جاکر خوب کھیلوں اور موسمبیوں مالٹوں کو توڑ توڑ کر کھاؤں، اس کے علاوہ دریاؤں اور انکے پلوں پر سے گزرتے ہوئے ایک عجیب سی خوشی محسوس ہوتی تھی اور ٹرین کی ایک مخصوص آواز کھٹ کھٹا کھٹ مختلف جگہاؤں پر اپنی سر بدل دیتی تھی کھیتوں میں ایک الگ آواز، دریاؤں کے پلوں پر کوئی اور طرز، اور شہروں کے بیچ میں سے گزرتی ہوئی ایک نئے سروں میں سیٹی بجاتی شور مچاتی گزر رہی ہوتی تھی - کیا خوبصورت لگتا تھا کبھی کبھی تو ایک خوف سا بھی لگتا تھا جب ہماری ٹرین کسی سرنگ میں سے گزر رہی ہوتی تھی، ایک دم اندھیرا ہو جانا، اور ٹرین کی آواز میں بھی ایک ہلکا سا ڈراونی تاثر، ساتھ ہلکی سی لائیٹ بھی کمپارٹمنٹ میں آن ہو جاتی، اور سب کے چہرے ایک عجیب سا ڈرا ڈرا سا ماحول بن جاتے، اور میں پھر بھی اس ماحول میں ہلکے خوف کے ساتھ لطف اندوز بھی ہوتا رہتا -
    اس وقت تیزگام صرف بڑے بڑے اسٹیشن پر ہی رکا کرتی تھی، مجھے لاہور کا اسٹیشن بہت پسند تھا، ایک تو بہت بڑا دوسرے ایسا لگتا تھا کہ کسی بڑی سی حویلی کے اندر گھسی چلی جارہی ہو، مجھے ہر اسٹیشن پر وہاں کے مختلف حاکروں اور قلیوں کی آوازیں بھی ایک خوشی کا تاثر چھوڑتی تھیں، چاہے رات کا وقت ہو یا دن کی روشنی ہو ہر وقت ٹرین کے رکتے رکتے وہی ایک ہی قسم کی آوازیں شروع ہوجاتیں -

    کبھی “ چائے گرم “ تو ساتھ ہی “ کھانا گرم“ اور کبھی“ آلو چنے کی چاٹ“ ملتان اور خانیوال کے اسٹیشن آنے پر “ملتانی حافظ جی کا سوہن حلوہ“ کی آوازیں گونجتیں اور وزیرآباد پہنچتے ہی چھری چاقو اور قینچی اسٹینلیس اسٹیل کے برتن بھی ریڑیھوں پر سجے ہوئے ہر کمپارٹمنٹ کے سامنے حاکرز آوازیں لگاتے ہوئے گزرتے، کہیں حیدراباد اور کوٹری جنکشن میں ٹرین کے پہنچنے پر “حیدراباد کی چوڑیاں“ اور گرمیوں میں “ ٹھنڈی بوتل “ تو کبھی “لسی اور دودھ کی بوتلیں“ بھی لوگ بیچتے نظر آتے، میرا دل تو بہت چاھتا تھا کہ یہ چیزیں خرید کر کھاؤں لیکن والد صاحب ڈانٹ کی وجہ سے مجبور تھا، بس وہ ھمیشہ گھر سے ساتھ لائی ھوئی چیزوں پر ہی گزارا کرتے- اور کبھی بھی مجھے اسٹیشن پر اترنے بھی نہیں دیا - مگر یہ سارے شوق بعد میں ضرور پورے کئے جب کچھ بڑ ا ہوا اور دوستوں کے ساتھ ٹرین میں سفر کی اجازت ملی -

    گھر کی بنائی ہوئی چیزوں میں زیادہ تر قیمہ، پراٹھے اور اچار یا چٹنی دوپہر یا رات کے کھانے کیلئے اور چھوٹے بہن بھائی کیلئے علیحٰدہ سے دودھ اور ان کے مطلب کی چیزوں کا بھی انتظام ہوتا تھا، اس کے علاوہ جب کبھی میں باہر کی چیزوں کیلئے زد کرتا یا پھر والد صاحب کی فرمائش پر، کچھ پھل، چیوڑہ دال سیو اور خشک میوہ جات راستہ بھر میں والدہ اپنی ایک ٹوکری سے وقفے وقفے سے نکالتی رھتیں مگر مجھے کبھی بھی باہر کی چیزیں کھانے نہیں دیتے تھے،

    آج تو سارہ موضوع سفر میں ہی گزر گیا، کراچی پہنچنے پر حالات نے کیا کروٹ لی یہ اگلی نشست سے آغاز کرونگا، لکھتے لکھتے کچھ مزید موضوع سے ہٹ کر کچھ زیادہ ہی لکھ جاتا ہوں، جسکی میں معذرت چاہوں گا -
    اس وعدہ کے ساتھ کہ آپ سب خیال رکھیں گے اور مجھے اپنی دعاؤں میں یاد رکھئے گا، اجازت چاھتا ہوں اللٌہ حافظ !!!!!!!!!!!!!!!!
    -----------------------------------------------------------------------------------

    تیزگام سندھ کے صحراؤں کو عبور کرتی ہوئی اپنی مخصوص سروں میں سیٹیاں بجاتی ہوئی کھٹ کھٹا کھٹ بہت تیزی کے ساتھ اپنی منزل کی طرف رواں دواں تھی - دوسرے دن کی روشنی چاروں طرف پھیل چکی تھی،
    چلتی ٹرین میں منہ ہاتھ دہونا بہت مشکل ہوتا ہے لیکن والد صاحب نے کسی نہ کسی طرح سے منہ ہاتھ دھلوا ہی دیا، پھر ڈبل روٹی اور شاید مکھن یا جام وغیرہ سے ناشتہ کرکے فارغ ہوئے ، کسی اسٹیشن سے والد صاحب نے کیتلی میں چائے بھروا لی تھی، اور شاید دودھ بھی ایک بڑے گلاس میں ٌلے چکے تھے، جو ہم چھوٹے بہن بھائیوں کیلئے تھا -

    میں یہ بالکل نہیں چاہتا تھا کہ اس تیزگام کا سفر کبھی ختم ہو، والد صاحب کی زبانی ہی پتہ چلا کہ اب ہم کراچی پہتچنے والے ہیں،

    کراچی کے کینٹ اسٹیشن کے نزدیک پہنچنے سیے پہلے ٹرین کی رفتار کچھ دھیمی ہو رھی تھی اور والد اور والدہ اپنا سارا سامان سمیٹنے میں مصروف تھے، ہم بہں بھائی ٹرین کی کھڑکی سے باھر دیکھنے میں مگن تھے، اور میں کسی فلاسفر کی ظرح اپنی بہن کو شہر کی باتیں بنا کر اسے مرعوب کرنے کی ناکام کوشش کررہا تھا ،جبکہ مجھے خود کچھ معلوم نہیں تھا، وہ بھی میری کسی بات کو تسلیم ہی نھیں کرتی تھی کیونکہ وہ مجھ سے کہیں زیادہ سقراط کی بھتیجی تھی،

    اکثر ہم دونوں کے درمیان جھگڑا ہی رھتا تھا ہاں اگر کوئی کام پڑ جائے تو خوشامد کرنے سے نہیں چوکتی تھی، وہ مجھ سے تقریباً دو سال چھوٹی تھی - ویسے ہم دونوں بہن بھائی میں محبت بھی بہت تھی، ساتھ کھیلتے ساتھ لڑتے جھگڑتے پھر ایک دوسرے کو منا بھی لیتے تھے، تیسری تو بہت چھوٹی تھی -

    ٹرین پلیٹ فارم پر آہستہ آھستہ رک رہی تھی باہر لوگوں کا ایک ھجوم تھا، قلی اپنے چکروں میں پھر رہے تھے اور کچھ اپنے رشتہ داروں اور جاننے والوں کو لینے آئے تھے، کچھ ہاتھ ہلا رہے تھے کچھ ٹرین میں جھانک رہے تھے کہ شاید جاننے پر نظر پڑ جائے، میں بھی سوچ رہا تھا کہ ھمیں بھی کوئی لینے والا آیا ہوگا، لیکن میرا اندازہ غلط نکلا، ابا جی نے کسی کو اطلاع ہی نہیں دی تھی، بہرحال اتنا زیادہ سامان اور صرف دو قلی، جو ہمارا سارا سامان اٹھائے ہوئے تھے، والدصاحب نے بھی بچا کھچا سامان اٹھا رکھا تھا، ان کے پیچھے پیچھے ہم سب چلتے ہوئے اسٹیشن کے باہر نکل آئے،

    باہر کا منظر بھی معمول کی طرح لوگوں کا ایک ھجوم اور اس وقت تانگے والے، سایکل رکشہ والے، گدھا گاڑی والے، آواریں لگا لگا کر اپنے پاس بلا رہے تھے، دو چار تو والد صاحب کے آگے پیچھے منڈلا رہے تھے، مگر والد صاحب بچتے بچاتے ان سےجان چھڑاتے ہوئے، اول فول بکتے ہوئے، ایک گدھا گاڑی کے پاس جاکر رک گئے، قلیوں کو دے دلا کر فارغ کیا اور بھر گدھا گاڑی والے سے بات کرنے لگے شاید سامان لے جانے کیلئے،!!!!

    میری نظریں تو سامنے کھڑی ہوئی ٹراموں پر ٹکی ہوئی تھیں، بالکل ٹرین کی طرح سڑک کے اوپر باری باری پٹری پر ٹن ٹن کرتی ہوئی چل رہی تھیں، میں حیران بھی تھا اور شاید یہ سوچ رہا تھا کہ اگر والد صاحب ا اس ٹرام میں بیٹھ کر گھر جائیں تو کتنا مزا آے، باہر اس کے علاوہ اس وقت کی ٹیکسیاں جو بہت بڑی بڑی تھیں اور کچھ بسیں بھی نظر آرہی تھیں، جن کے آگے پیچھے سے دھواں بھی اٹھ رہا تھا اور پوری بس تھرتھراتی ہوئی کانپ بھی رہی تھی اور جو بسیں خاموش تھیں انکے ڈرائیور شاید بس کو اسٹارٹ کرنے کیلیئے آگےایک سریہ سا ڈال کر بار بار گھمارہے تھے، اس وقت ہر موٹرگاڑی کو اسی طرح اسٹارٹ کیا جاتا تھا،

    مگر میری امیدوں پر پانی پھر ہی گیا جب ابٌا حضور نے چلا کر کہا چلو بیٹھو، میں نے گھبرا کر جو مڑ کے دیکھا تو کیا دیکھتا ہوں سارا سامان
    گدھا گاڑی پر جم چکا تھا اور والدہ اپنا کالا برقعہ سنبھالتی ہوئی سامان کےاوپر بیٹھنے کی کوشش کررہی تھیں پھر ابٌا جی نے گود میں اٹھا کر ہم بہن بھائی کو اوپر بڑی مشکل سے بٹھایا اور خود گدھا گاڑی چلانے والے کے برابر بیٹھ گئے اور پھر چلاچل گدھا بیچارہ ساری مخلوق بمعہ سامان کو لئے گاڑی بان کے اشارے پر گاڑی کھینچنے کی کوشش کر رہا تھا، بڑی مشکل سے کچھ لوگوں نے گدھاگاڑی کو دھکا لگا کر بےچارے گدھے کو گاڑی کھینچنے میں مدد کی -

    بس پھر کیا تھا گدھے نے اپنی چال دکھائی اور آہستہ آہستہ دوڑنا شروع کردیا، گاڑی بان بھی اپنی ایک مخصوص بولی میں گنگناتا ہوا ساتھ ساتھ گدھے کو بھی لگام تھامے ہدایتیں دیتے ہوئے مست تھا، اس وقت اسے مشکل پیش آتی جب کوئی چوراھا سامنے آجاتا، اگر کوئی سپاھی ہماری طرف کا ٹریفک روک کر دوسری طرف کی گاڑیوں کے جانے کا اشارا کرتا، کیونکہ اسے گدھے کو روکنے اور دوبارہ بھگانے میں بہت مشکل درپیش آتی تھی-

    اس زمانے میں کوئی بھی الیکٹرک سگنل نہین ہوا کرتا تھا ، بس آپ ہر چوراھے پر سفید وردی پہنے ہوئے ایک سپاھی خود ہی ٹریفک کنٹرول کرتے ہوئے ناچ رہا ہوتا تھا - ایک عجیب سا منظر تھا، ہماری گدھا گاڑی روڈ پر دوڑی جارھی تھی اور چاروں طرف بھی ساتھ ساتھ گھوڑا گاڑیاں گدھا گاڑیاں ساتھ اُونٹ گاڑیاں بھی، سائیکل والے، سائیکل رکشہ والے کچھ اس وقت کے ٹرک، بسیں، پوں پوں کرتی کھڑکھڑاتی ہوئی چل رہی تھیں، اس وقت کے سادے لوگ بس دیکھتے اور ہمیں دیکھ کر مسکراتے ہاتھ ہلاتے ہوئے گزر رہے تھے، کبھی کبھی کوئی گڑھا وغیرہ آجاتا تو ہم سب سامان سمیت اوپر اچھل جاتے،اگر آج کل کی نظروں سے دیکھو تو ایسا لگے جیسے کوئی “ٹام اینڈ جیری“ کی کارٹون فلم چل رہی ہو - چھوٹی چھوٹی، ٹوٹی پھوٹی سڑکیں اور ہر قدم پر مختلف قسم کے گڈھے، اس پر یہ خودکار سواریاں !!!!!!!

    بڑی مشکل سے یہ شاھی سواری منزل پر پہنچی، حالت خراب ہو چکی تھی سب پرزے ڈھیلے ہو چکے تھے، پہنچنے سے پہلے ہی کچھ بچوں کو گدھا گاڑی کے ساتھ ساتھ بھاگتے دیکھ رہا تھا اور گاڑی کے رکتے ہی کئی لوگ بھی نزدیک آگئے اور سامان اتارنے میں مدد کرنے لگے دو تین عورتیں آئیں اور والدہ کو اور چھوٹی بہنوں کو ساتھ لے گئیں اور گدھاگاڑی کے سامنے ابٌاجی کے پاس لوگوں کو سامان اتارتے دیکھ رہا تھا اور مجھے بھی لوگ پیار سے بلارہے تھے شاید یہ سب والد صاحب کے دوست تھے،
    میں بھی بہت تھکا ہوا لگ رہا تھا، شام ہونے والی تھی ابٌاجی میرا تھامے مجھے نئے گھر کی طرف لے جارہے تھے اور میں غنودگی میں ان کے ساتھ بڑی مشکل سے چل رہا تھا، پھر پتہ ہی نہیں چلا کہ کب آنکھ لگ گئی، رات کے نہ جانے کس وقت والدہ نے کھانے کیلئے اُٹھایا دیکھا تو ایک لالٹین جل رہی تھی، شاید لوگوں کے گھروں سے کچھ کھانا آیا ہوا تھا ، سب کھانے میں مصروف تھے اور میں کھانے کے ساتھ ساتھ اپنے اسکول کے بارے میں اور وہاں کے اپنے دوستوں کے بارے میں سوچ رہا تھا جنہیں میں بہت دور چھوڑ آیا تھا - !!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!

    آج کےلئے بس اتنا ہی، اگلے باب تک کیلئے اب اجازت چاہونگا امید ھے آپ سب اپنا خیال رکھیں گے اور مجھے اپنی دعاؤں میں جگہ دیں گے پھر ملاقات ہو گی اگر زندگی نے وفا کی تو !!!!!!!!!!

    آپ سب کا بہت شکریہ
     
  8. عبدالرحمن سید
    آف لائن

    عبدالرحمن سید مشیر

    شمولیت:
    ‏23 جنوری 2007
    پیغامات:
    7,417
    موصول پسندیدگیاں:
    21
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: یادوں کی پٹاری پارٹ 1

    میں بھی بہت تھکا ھوا لگ رھا تھا، شام ھونے والی تھی ابٌاجی میرا تھامے مجھے نئے گھر کی طرف لے جارھے تھے اور میں غنودگی میں ان کے ساتھ بڑی مشکل سے چل رھا تھا، پھر پتہ ھی نہیں چلا کہ کب آنکھ لگ گئی، رات کے نہ جانے کس وقت والدہ نے کھانے کیلئے اُٹھایا دیکھا تو ایک لالٹین جل رھی تھی، شاید لوگون کے گھروں سے کچھ کھانا آیا ھوا تھا ، سب کھانے میں مصروف تھے اور میں کھانے کے ساتھ ساتھ اپنے اسکول کے بارے میں اور وھاں کے اپنے دوستوں کے بارے میں سوچ رھا تھا جنہیں میں بہت دور چھوڑ آیا تھا - !!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!

    تھکان کے وجہ سے صبح اٹھنے میں مجھے بہت مشکل پیش آئی، ورنہ چاھے کچھ بھی ھوجائے صبح جلدی اٹھنے کی ایک عادت تھی، چاھے چھٹی کا دن ھی کیوں نہ ھو، مگر دو دن کی تھکان کی وجہ سے اٹھتے اٹھتے کافی دور ھو چکی تھی، چاروں طرف ساماں بکھرا ھوا تھا، والدہ ھماری کچھ اور محلےکی عورتوں کے ساتھ مل کر ساماں کو ترتیب دے رھی تھیں، اور چند چھوٹے بڑے بچے میرے چاروں طرف مجھے اپنی طرف توجہ دلانے کی کوشش میں لگے ھوئے تھے تاکہ ان کی دوستی کے حلقے کا منمبر بن جاؤں، کچھ بچے دور سے ھی کھڑے مجھے دیکھ کر ھنس رھے تھے، جیسے میں کوئی کسی اور دنیا کی مخلوق ھوں -

    مجھے کچھ کچھ تین سال پہلے کی دھندلی سی تصویر نمایاں ھوتی نظر آرھی تھی، جب میں شاید تقریباً پانچ سال کا تھا، اور والدہ اور دوسرے بھی مجھے یاد دلانے کی کوشش میں مصروف تھے، جو مجھے آھستہ آھستہ ذھن کے ایک گوشے میں کچھ بھولے بسری باتیں کروٹ لے رھی تھیں - بہرحال کچھ جاننے کی کوشش میں باھر کی طرف رخ کیا اور اس نئی جگہ کو اپنا پن دینے کے لئے آس پاس کا نظارہ کرنا شروع کیا، کچھ میرے ھم عمر بچے بھی ساتھ رھے، جیسے وہ مجھے گائیڈ بن کر کسی کھنڈرات کی سیر کرارھے ھوں اور ساتھ ساتھ کمنٹری بھی چل رھی تھی،
    آٹھ سال کی میری عمر اور نئی جگہ نئے لوگ نئے شہر میں ایک پرانا محلہ، نہ بجلی، نہ پانی کی سہولت، میں تو کچھ پریشان سا ھوگیا،
    کیونکہ جہاں سے ھم سب آئے تھے وھاں پکے دو کمرے کا سرخ اینٹوں کا بنا ھوا کوارٹر تھا، پانی اور بجلی کا آرام تھا چمنی والی انگیٹھیاں دونوں کمروں میں تھیں، کیونکہ وھاں سردی بہت ھوتی تھی، سردیوں میں ھم سب انگیٹھی کے چاروں طرف بیٹھ کر ٹھنڈ سے بے فکر خوب والدین کے ساتھ لاڈ پیار میں لگے رھتے، کیا سہانا وقت تھا - اب نہ جانے کیوں رھنے کیلئے اس جگہ کو ابا جی نے منتخب کیا، ایک کچی آبادی میں، شاید سرکار سے مکان کا کرایہ وصول کرنے کیلئے اپنے لئے گورنمنٹ کی دیوار کے کنارے ایک مٹی کا کچا سا مکان بنایا تھا - وھاں پر چند اور بھی اسی طرح کے گھر تھے، لیکن سب سہولتوں سے محروم تھے - گلیاں بھی ٹیڑھی میڑھی، کچھ گھروں کی دیواریں ٹوٹی پھوٹی اور اوپر سے شور مچاتے بچے، اس ماحول کا تو میں بالکل عادی نہیں تھا -

    اب کرتے کیا نہ کرتے مجبوری تھی جہاں والدین وہاں ھم، میں دو تین دن تک تو پریشان ھی رھا، اور اپنے آپ کو بہلانے کی بھی کوشش کرتا رھا، نہ کوئی مطلب کا دوست تھا، اور نہ دل مانتا تھا کہ کسی سے دوستی کروں، ایک چرچڑا پن محسوس کرنے لگا تھا -

    لیکن بعد میں مجھے اس جگہ سے ایسی محبت ھوئی کہ اب جب بھی پاکستان چھٹی جاتا ھوں میں وھاں کا ضرور ایک چکر لگاتا ھوں اور اپنے کھوئے ھوئےمعصوم بچپن سے لیکر جوانی تک کی حسین یادوں کو ڈھونڈنے کی کوشش کرتا ھوں - وہ علاقہ اب بھی گلیوں اور کوچوں کے حساب سے ویسا ھی ھے لیکن کافی بہتری بھی آگئی ھے، پانی بجلی اور سوئی گیس کی سہولت موجود ھے، اور تقریباً تمام مکان پکے سیمنٹ کے بن چکے ھیں اور ھمارا مکان اب کسی اور کی ملکیت ھے اس نے بھی اچھا خاصا مکان بنا لیا ھے - کاش کہ وہ مجھے یہ میرا مکان مجھے بیچ دے، کاش کہ میرے پاس اتنا پیسا ھو کہ اس مکان کو خرید سکوں،

    میں جب بھی اس اپنے پرانے محلے کی طرف جاتا ھوں، تو میں اپنے آپ کو چاروں طرف وھی خوشبو سے بھری ھوئی یادوں میں گھرا ھوا پاتا ھوں - یہاں میں نے تقریباً اپنی زندگی کے خوبصورت اور حسین یادوں کے ساتھ دس سال گزارے ھیں، مجھے اس علاقہ کو والدیں کی خواھش کی مطابق 18 سال کی عمر میں چھوڑنا پڑا، لیکن میں اب تک ذہنی طور پر وھیں ھوں -

    کاش کہ وہ وقت دوبارہ واپس آجائے کاش !!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!
    آج کے لئے بس اتنا ھی، اجازت چاھتا ھوں اللٌہ حافظ،
    خوش رھیں
     
  9. عبدالرحمن سید
    آف لائن

    عبدالرحمن سید مشیر

    شمولیت:
    ‏23 جنوری 2007
    پیغامات:
    7,417
    موصول پسندیدگیاں:
    21
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: یادوں کی پٹاری پارٹ 1

    میں جب بھی اس اپنے پرانے محلے کی طرف جاتا ھوں، تو میں اپنے آپ کو چاروں طرف وھی خوشبو سے بھری ھوئی یادوں میں گھرا ھوا پاتا ھوں - یہاں میں نے تقریباً اپنی زندگی کے خوبصورت اور حسین یادوں کے ساتھ دس سال گزارے ھیں، مجھے اس علاقہ کو والدیں کی خواھش کی مطابق 18 سال کی عمر میں چھوڑنا پڑا، لیکن میں اب تک ذہنی طور پر وھیں ھوں -

    کاش کہ وہ وقت دوبارہ واپس آجائے کاش !!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!

    نئی جگہ نئے محلہ میں آئے ھوئے بھی ایک ھفتہ گزر چکا تھا، لیکن تمام کوششوں کے باوجود دل لگنا مشکل نطر آرھا تھا، پنڈی میں پانچویں جماعت کی پڑھائی ادھوری چھوڑکر آنا پڑا تھا، اس لئے والد صاحب میرے داخلے کیلئے بہت پریشان لگتے تھے، روز وہ دفتر سے چھٹی لے کر آتے، جب تک میں والدہ مجھے تیار کراتیں اور پھر والد صاحب کے ساتھ انکے پیچھے پیچھے کچھ کتابوں اور کاپیوں سے بھرا بستہ گلے میں لٹکائے، چل کیا دیتا بلکہ بھاگنا پڑتا، کیونکہ ان کی رفتار بہت تیز تھی، شاید انہیں واپس دفتر بھی جانا ھوتا تھا،
    راستے میں محلٌے کے بچے بھی مجھے دیکھ کر مسکراتے، اور مجھے اپنی طرف راغب کرنے کی کوشش بھی کرتے تاکہ میں بھی انکی “بچہ کمیٹی“ کا ممبر بن جاؤں مگر والد نے تو بہت سختی سے پابندی لگائی تھی کہ خبردار اگر ان بچوں کے ساتھ اگر میں کھیلا تو میری ٹانگیں توٹنے کا اندیشہ تھا انکے غصہ سے ویسے بھی بہت ڈر بھی لگتا تھا، لیکن آھستہ آھستہ ان بچوں کی حرکتیں بھی مجھے اچھی لگنے لگی تھی اور باوجود والدہ کے منع کرنے پر روزانہ کسی نہ کسی بہانے خاموشی سے کھسک لیتا تھا اور انکے ساتھ اس زمانےکےکھیل کھیلتا رھتا کبھی گلی ڈنڈا کبھی کنچہ کی گولیاں، پٹھو گرم، اور کبھی پتنگ بازی وغیرہ وغیرہ اور جیسے ھی اباجی کو دفتر سے واپس آتا دیکھتا ایسی دوڑ لگاتا کہ شاید اگر اسی طرح کسی ریس میں حصہ لوں تو اوٌل پوزیشن پر رھوں،
    گھر پہنچتے ھی ھاتھ پیر دھوئے اور فوراً کوئی بھی کتاب اٹھا کر اس طرح پڑھنے لگتا جیسے میں ھی دنیا کا سب سے بڑا پڑھاکو ھوں ، اباجی جیسے ھی گھر پہنچتے اور مجھے پیار سے دیکھتے ھوئے والدہ سے کہتے دیکھا مین نہ کہتا تھا کہ ھمارا یہ بچہ ھمارا نام ضرور روشن کریگا، والدہ معنی خیز نگاھوں سے مجھے دیکھتیں اور مسکرا کر والد صاحب کی ھاں میں ھاں ملاتیں، جبکہ انہیں پتہ تھا کہ میں ابھی ابھی باھر سے بھاگ کر آیا ھوں،
    میری والدہ میری ھر شرارتوں کو اباجی سے ھمیشہ چھپا کر مجھے پٹنے سے بچا لیتی تھیں اور ھر دفعہ خبردار بھی کرتی تھیں کہ اگر آیندہ تم نے کوئی شرارت کی یا دوبارہ گندے بچوں کے ساتھ کھیلے تو ابا جی سے شکایت لگادوں گی، لیکن میں انکی تمام نصیحتوں کو رد کردیتا کیونکہ مجھے والدہ کی عادت معلوم تھی کہ وہ مجھے ھمیشہ میری تمام حرکتوں کو اباجی سے پوشیدہ رکھتی تھیں-

    والدصاحب چاھتے تھے کہ کہیں نزدیک اسکول میں میرا داخلہ ھو جائے، لیکن مشکل یہ تھی کہ ھر اسکول میں تقریباً داخلے بند ھو چکے تھے اور وہ مجھے دور بھیجنا نہیں چاھتے، اسی چکر میں ایک مہینہ گزرچکا تھا اور میرا دل بھی پڑھائی سے آھستہ آھستہ اُچاٹ ھوتا جارھا تھا، کیونکہ اب ایک مہینے کے اندر ھی باھر بچوں کے ساتھ کھیلنے میں زیادہ دلچسپی لینے لگا تھا، دل میں اب یہی خواھش جنم لے رھی تھی کہ داخلہ نہ ھو تو بہتر ھے -

    آخر بکرے کی ماں کب تک خیر مناتی ایک دن چھری کے نیچے آنا ھی تھا، اور مجھے ایک گورنمنٹ پرائمری اسکول میں داخلہ مل ھی گیا،
    اور کھیلنے کودنے کے میرے تمام خواب چکنا چور ھوکر رہ گئے، مجھے دکھ تو بہت ھوا، لیکن مرتا نہ کیا کرتا اسکول میں جانا شروع کردیا لیکن بالکل بے دلی کے ساتھ، وھاں اسکول میں ایک الگ ھی بھیڑچال دیکھنے کو ملی، کوئی بھی ڈھنگ کا بچہ نظر نہیں آیا، اور اس پر سارے استاد بھی سونے پر سھاگہ تھے اور اسکول کی تو نہ ھی پوچھیں کوئی کل بھی سیدھی نہیں تھی، ٹوتی پھوٹی دیواریں اور جھولتی کھڑکیاں، میز کرسیاں بالکل غائب، کلاسوں میں پھٹی ھوئی دریاں بے ترتیبی سے بچھی ھوئی، باھر کا مین گیٹ سرے سے ھی ندارد، اور کیا کیا تعریف کروں، قسمت میں جو لکھا تھا بھگتنے کو تیار، روز اسکول جانے لگے

    میں تو اب بُری طرح پھنس چکا تھا، نہ چاھتے ھوئے بھی اسکول جارھا تھا اور وھاں کے شیطاں بچوں سے واسطہ، کلاس میں بیٹھتے ھی ایک ھنگامہ شروع ھوجاتا، کلاس تیچر کی تو کیا کہیئے، انھیں کوئی فکر نھیں تھی، آتے ھی حاضری لی، پھر کہا کہ فلاں صفحہ کھولو اور زبانی یاد کرو، بس یہ کہہ کر باھر نکل جاتے اور دوسرے پیریڈ میں واپس آتے، اُس وقت تک کلاس کا حال بےحال ھوجاتا، آتے ھی چھڑی سے سب کو ڈانٹا اور ایک دو کو سزا بھی ملتی، کسی کو مرغا بنا دیتے اور کسی کو چھڑی سے ھی دو چار لگادیتے اور ھر دفعہ میں ھی پھنس جاتا، کیونکہ اس پانچویں کلاس کے تمام بچے صحیح منجھے ھوئے فنکار تھے، شرارت کوئی اور کرتا اور ھمیشہ مجھے ھی پھنسا دیتے اور سارے ملے ھوئے تھے کیونکہ سب مل کر میری طرف اشارہ کرکے گواھی بھی دیتے، ماسٹرصاحب کو میں کیا یقیں دلاتا، ان کا شکار میں بن ھی جاتا اور تمام کلاس مجھ پر ھنس رھی ھوتی-

    اگر ایک ایک ان کی حرکتیں لکھنے بیٹھوں تو سب کچھ ان سب کی شرارتوں کے ھی نطر ھوجائے، گھروں سے وہ لوگ ربڑ بینڈ اور چھوٹے چھوٹے پتھر اپنے اپنے بستوں میں بھر کر لاتے تھے اور پھر کلاس روم میں ھی دوسروں کو غلیل کی طرح نشانہ لگا کر خوب وار کرتے، اور زیادہ تر میں ھی نشانہ بنتا بھی اور سزا کیلئے بھی ان ھی لڑکوں کی مجھے کھڑا ھونا پڑتا
    ؂؂؂؂؂؂؂؂؂؂؂؂؂؂؂؂؂؂؂؂؂؂؂---------------------------------------------------------------------------------------------------

    میں تو اب بُری طرح پھنس چکا تھا، نہ چاھتے ھوئے بھی اسکول جارھا تھا اور وھاں کے شیطاں بچوں سے واسطہ، کلاس میں بیٹھتے ھی ایک ھنگامہ شروع ھوجاتا، کلاس تیچر کی تو کیا کہیئے، انھیں کوئی فکر نھیں تھی، آتے ھی حاضری لی، پھر کہا کہ فلاں صفحہ کھولو اور زبانی یاد کرو، بس یہ کہہ کر باھر نکل جاتے اور دوسرے پیریڈ میں واپس آتے، اُس وقت تک کلاس کا حال بےحال ھوجاتا، آتے ھی چھڑی سے سب کو ڈانٹا اور ایک دو کو سزا بھی ملتی، کسی کو مرغا بنا دیتے اور کسی کو چھڑی سے ھی دو چار لگادیتے اور ھر دفعہ میں ھی پھنس جاتا، کیونکہ اس پانچویں کلاس کے تمام بچے صحیح منجھے ھوئے فنکار تھے، شرارت کوئی اور کرتا اور ھمیشہ مجھے ھی پھنسا دیتے اور سارے ملے ھوئے تھے کیونکہ سب مل کر میری طرف اشارہ کرکے گواھی بھی دیتے، ماسٹرصاحب کو میں کیا یقیں دلاتا، ان کا شکار میں بن ھی جاتا اور تمام کلاس مجھ پر ھنس رھی ھوتی-

    اگر ایک ایک ان کی حرکتیں لکھنے بیٹھوں تو سب کچھ ان سب کی شرارتوں کے ھی نطر ھوجائے، گھروں سے وہ لوگ ربڑ بینڈ اور چھوٹے چھوٹے پتھر اپنے اپنے بستوں میں بھر کر لاتے تھے اور پھر کلاس روم میں ھی دوسروں کو غلیل کی طرح نشانہ لگا کر خوب وار کرتے، اور زیادہ تر میں ھی نشانہ بنتا بھی اور سزا کیلئے بھی ان ھی لڑکوں کی شکایتوں اور گواھی پر مجھے ھی کھڑا ھونا پڑتا، اکثر لڑکے تو ایک دوسروں کی کاپیاں اور کتابیں بھی چھپا دیتے، میرے ساتھ تو کچھ زیادہ
    ھی ھوتا تھا اور ایک دن تو ان لڑکوں نے مل کر حد ھی کردی، کہ کلاس تیچر نے مجھے کلاس سے یہ کہہ کر نکال دیا کہ اپنے والد کو یہاں لے کر آو تو کلاس میں داخل ھونا ورنہ نہیں !!!!!!!!

    کہاں لا بٹھایا مجھے یہاں، گھورتے لڑکے شکاری جیسے
    کیسی جماعت ھے یہاں، چھیڑتے بچے مکاری جیسے

    ھمارے لئےفرشی پیوند دری، اُنھیں عرشی میزکرسی
    لگے شاھی دربار کا میلہ، اوپر شاہ نیچے درباری جیسے

    ڈنڈا ھاتھوں میں وہ گھماتے، غصٌہ غضب کا وہ دکھاتے
    دیکھو لگے وہ دور سے جٌلاد، تلوار لئے دو دھاری جیسے


    میری حالت تو خراب ھوگئی، کلاس سے نکل کر ایک قریبی پارک میں بیٹھ کر سوچتا رھا اور روتا رھا، سمجھ میں نہیں آرھا تھا کہ گھر جاکر اباجی سے کیا کہوں، ان سے مجھے بہت ڈر لگتا تھا
     
  10. عبدالرحمن سید
    آف لائن

    عبدالرحمن سید مشیر

    شمولیت:
    ‏23 جنوری 2007
    پیغامات:
    7,417
    موصول پسندیدگیاں:
    21
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: یادوں کی پٹاری پارٹ 1

    مجھے بچپن سے ھی اردو میں لکھنے کا بہت شوق تھا، جسکی وجہ خاص طور سے میرا وہ اسکول تھا جہاں پر لکڑی کی تختی پر لکڑی کے قلم سے اردو رسم الخط لکھنے کا فن سکھایا گیا اور ساتھ ھی انگلش اور اسلامی تعلیمات بمعہ قران شریف کا مطالعہ اسکے صحیح تلفظ اور تشریح و ترجمہ کے ساتھ جو اوٌل جماعت سے لے کر جماعت پنجم تک باقاعدگی سےدرس و تدریب جو کہ ماہرین اساتذہ کی نگرانی میں تربیت دی گئی، جسکا کہ میں اس تعلیمی ادارہ کا تہہ دل سے مشکور ھوں اور دعا کرتا ھوں کہ ھمارے تمام تعلیمی ادارے بھی اسی طرح کے منظم انتظامیہ کے اصولوں کو اپنایں اور ھماری آنے والی نسلوں کا مستقبل روشن کرنے کی کوشش کریں -

    آج کل پہلی جماعت سے ھی بچوں کو سستے قسم کے کے بال پین پکڑا دئیے جاتے ھیں جس کی وجہ سے اردو کی لکھائی میں خوشخط نہیں ھوتی اور کوئی اسلامی تعلیم بھی صحیح طریقہ سے نہیں دی جاتی، جب ھمارے بچوں کی بنیادی تعلیم ھی مضبوط نہیں ھو گی تو ھمارے بچے مستقبل کے بہترین معمار کیسے بن سکیں گے -

    بعض اوقات ایسا بھی ھوتا ھے کہ جیسے میرے ساتھ ھوا کہ اسکول بدلتے وقت یا نئے داخلے کے وقت اس بات کا خیال نہیں رکھا جاتا کہ اس کا معیار انکے بچے کی تعلیم کیلئے کیسا رھے گا اور نہ ھی والدین اسکول جاکر بچے کی پڑھائی کے بارے میں معلومات کرتے ھیں -

    اسی وجہ سے میرے پانچویں جماعت کا ایک پورا سال ضائع ھوا، جس کا اثر میری سیکنڈری اسکول کی تمام تعلیم پر بہت خراب پڑا اور جب اگر ایک اچھی عادت بگڑ جائے تو اسکا سدھارنا بہت مشکل ھوتا ھے - اس زمانے میں زیادہ تر سرکاری تعلیمی ادارے بہت اچھے معیار کے تھے لیکن بدقسمتی سے مجھے تمام سرکاری اسکولوں میں جگہ نہ ھونے کی وجہ داخلہ نہ مل سکا اور مجبوراً والد صاحب نے ایک ٹاؤن کمیٹی کے سب سے نچلے درجے کے اسکول میں داخل کرادیا، ان کا یہ مقصد تھا کہ میرا سال ضائع نہ ھو، مگر اس ایک سال کی وجہ سے مجھے اسکا خمیازہ اپنی زندگی پر ایسا اثرانداز ھوا کہ میں اپنے تعلیمی معیار کو صحیح مقام نہیں دے سکا اور والد صاحب کی خواھش کے مطابق اپنی اعلیٰ تعلیم کو مکمل نہ کرسکا، وہ چاھتے تھے کہ میں چارٹرڈ اکاونٹنٹ بنوں یا اکاونٹس میں ماسٹر کروں، جوکہ نہ ھوسکا، لیکن شکر ھے اس مالک کا کہ اب تک عزٌت کے ساتھ بات بنی ھوئی ھے جبکہ میں واقعی اس قابل نہیں ھوں -

    اس کے علاوہ والد صاحب نے ایک تو اسکول میں داخل تو کرادیا لیکن پورا سال خبر نہ لی کہ میں اسکول میں کیا کررھا ھوں، اور دوسرے انکا غصٌہ اتنا شدید تھا کہ کچھ کہنے کی ھمت ھی نہیں ھوتی تھی
    اور میں ان سے جھوٹ پہ جھوٹ بولتا چلا گیا اور جھوٹ کو نبھانے کیلئے مزید لاکھوں جھوٹ اور ساتھ یہی جھوٹ کی عادت چوری کی شکل میں تبدیل ھوگئی اور بہت سی خراب عادتوں نے بھی جنم لے لیا -

    ایک بات کا میں اضافہ کرنا چاھوں گا، کہ یہ اللٌہ تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر ھے کہ یہ چوری کی عادت گھر تک ھی محدود رھی، مثلاً جھوٹ بول کر والدہ سے کوئی بھی مجبوری بنا کر پیسے اینٹھ لینا یا گھر کا سودا لاتے وقت سودے میں چھوٹی موٹی ھیرا پھیری سے پیسے بچا لینا،

    کیونکہ یہ صرف ایک جھوٹ کئی جھوٹ کو جنم لیتا ھے اور پھر آھستہ آھستہ دوسری ھی غلط ضروریات کی طرف لے جاتا ھے جسے پورا کرنے کیلئے انسان غلط وسائل کی طرف راغب ھو جاتا ھے،

    میرا مقصد ھماری آئندہ آنے والی نسلوں کے والدین کو بس یہی پیغام پہنچانا ھے کہ وہ کچھ اس سے سبق سیکھیں اور اپنے بچوں کا مستقبل تاریک ھونے سے بچائیں -

    شکریہ!!!!!!!!!!!!!

    جاری ھے آئندہ کے واقعات کیلئے !!!!!!!!!!!!!!!!!!!!
    --------------------------------------------------------------------------
     
  11. عبدالرحمن سید
    آف لائن

    عبدالرحمن سید مشیر

    شمولیت:
    ‏23 جنوری 2007
    پیغامات:
    7,417
    موصول پسندیدگیاں:
    21
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: یادوں کی پٹاری پارٹ 1

    آپ سب کی محبتوں کا بہت بہت شکریہ،
    مجھے بھی بہت خوشی محسوس ھو رھی اپنی روداد سناتے ھوئے، ایسا لگتا ھے کہ میں اس اردو کی پیاری محفل میں اپنے ھی لوگوں میں اپنے پیارے عزیزوں کے ساتھ محوگفتگو ھوں -
    بعض اوقات آفس میں کچھ کام کی وجہ سے دیر سویر ھو جاتی ھے، مصروفیت کے دوران جیسے ھی مجھے موقعہ ملتا ھے - لکھنا شروع کردیتا ھوں، ویسے دفتر میں اپنے انٹرنیٹ میں ھمیشہ یہ محفل کھلا رکھتا ھوں، تاکہ فارغ ھوں تو فوراً ٹائپ شروع کردوں، اب تو روزبروز میرے اردو ٹائپ کرنے کی رفتار بھی اچھی خاصی تیز ھوتی جارھی ھے -

    مجھے خود بھی ایک نشہ سا ھوگیا ھے، میری اللٌہ تعالیٰ سے دعا ھے اور میرا دل یھی یہی چاہتا ھے کہ اللٌہ تعالیٰ مجھے اتنی مہلت دے دے کہ میں اپنی یہ کہانی میری آنکھ بند ھونے سے پہلے پہلے آپ سب تک پہنچادوں - آمین !!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!

    یہاں گھر پہنچ کر تھک جاتا ھوں، ھمت نہیں ھوتی ، جبکہ گھر میں میری تمام حرکتوں کا میرے بچوں اور شریک حیات کو پورا پورا ھر ایک بات کا علم ھے، میں نے ان سے بھی کبھی اپنی اچھائی یا برائی کو پوشیدہ نہیں رکھا، میرے بچے بھی شوق سے یہ سب انٹرنیٹ کھول کر پڑھتے ھیں اور خوب خوش ھوتے ھیں اور حیران بھی ھوتے ھیں کہ میں یہ سب کچھ اس محفل میں بغیر کسی جھجک کے لکھتا جارھا ھوں، بلکہ ابتک تو تمام رشتہ دار اور دوست بھی شاید دیکھنا شروع ھوگئے ھونگے - اور جو میری اس کہانی کو پڑھ کر میرے بارے میں کیا رائے قائم کرتا ھونگے،
    چاھے کچھ بھی ھو مجھے دلی خوشی ھورھی ھے کہ آپ سب کی دعاؤں اور مہربانیوں سے میں اپنے دل کے تمام بوجھ کو ھلکا کرنے میں کسی حد تک کامیاب ھونے کی کوشش کررھا ھوں،
    کہانی بہت لمبی ھے، آپ سب سے برداشت کرنے کی درخوست بھی ھے، کاش کوئی میری اس کہانی کی اصلاح کرکے محفوظ کرنے میں میری مدد فرمائے تو میں بہت بہت ممنوں ھونگا

    ایک بات کا میں اضافہ کرنا چاھوں گا، کہ یہ اللٌہ تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر ھے کہ بچپن میں یہ چوری کی عادت گھر تک ھی محدود رھی، مثلاً جھوٹ بول کر والدہ سے کوئی بھی مجبوری بنا کر پیسے اینٹھ لینا یا گھر کا سودا لاتے وقت سودے میں چھوٹی موٹی ھیرا پھیری سے پیسے بچا لینا،

    کیونکہ یہ صرف ایک جھوٹ کئی جھوٹ کو جنم لیتا ھے اور پھر آھستہ آھستہ دوسری ھی غلط ضروریات کی طرف لے جاتا ھے جسے پورا کرنے کیلئے انسان غلط وسائل کی طرف راغب ھو جاتا ھے،

    یہ شاید اللٌہ کا کرم تھا اور والدین اور بزرگوں کی دعائیں تھیں کہ میں بہت جلد سنبھل گیا ورنہ شاید یہ گھر کی چھوٹی چھوٹی چوریاں، باھر کی بڑی بڑی چوریوں میں بھی بدل سکتی تھیں اور ممکن ھے اور آگے تک بات جاسکتی تھی، اس کی وجہ شاید یہ بھی رھی ھو کہ ایک تو والد کا بہت ڈر رھتا تھا دوسرے میں نے کبھی کسی کو بھی اپنا اس معاملے میں رازدار نہیں بنایا اور نہ ھی کسی کو ھوا لگنے دی اپنی ضروریات کے مطابق ھی صرف والدہ کو بیوقوف بناتا رھا جس کی سزا بعد میں مجھے بہت بڑی بھگتنی پڑی -
    میری والدہ واقعی بہت ھی سادہ لوح اور پرخلوص رھی ھیں، اور میں نے انھیں ھمیشہ نماز پڑھتے اور قران کی تلاوت کرتے ھوئے دیکھا، میں انکی عظمت کو سلام کرتا ھوں !!!!!!!!! یہ خوبیاں ھر ماں میں ھوتی ھیں جو کہ ھم اکثر ان کی عزت اور انکا مان رکھنے کے بجائے اپنی عیاشیوں اور مستیوں میں گم رھتے ھیں اور انھیں بھول جاتے ھیں،

    اب تو میری ھمیشہ یہی کوشش ھوتی ھے کہ انھیں خوش رکھوں اور اپنے گناھوں کا کفارا ادا کرسکوں، انہوں نے پچھلی بار ایک دفعہ میرے ساتھ عمرہ ادا کیا ھے انشااللٌہ اب پھر زیارت کا ویزا داخل کیا ھے اور اللہ سبحان تعالیٰ سے امید ھے کہ اس بار انہیں حج کی سعادت نصیب ھو،

    کئی دفعہ انہیں حج کےلئے کہا لیکن انکا یہی جواب تھا کہ جب تک آخری بیٹی یعنی میری سب سے چھوٹی بہن کی شادی نہیں ھو جاتی جبتک وہ حج نہیں کرسکتیں، آللٌہ کا شکر ھے کہ پچھلے سال کے آخر میں وہ اس فرض سے بھی سبکدوش ھوگئیں - ماں کی دعائیں ھمیشہ میرے ساتھ رھیں اور ھر مشکل اور مصیبت میں ان کی دعاؤن نے مجھے بچایا -

    اور یہ میں تسلیم کرتا ھوں، کہ ان کی شرافت سے میں نے بہت ناجائز فائدہ اُٹھایا، اس کیلئے انھوں نے میری خاطر والد صاحب سے بہت ڈانٹ کھائی، لیکن انہوں نے ھمیشہ مجھے والد سے پٹنے سے بچایا اور میری ھر غلطی بھی ان سے چھپاتی بھی رھی، کیونکہ وہ مجھے بہت پیار کرتی ھیں وہ بار بار مجھے سمجھاتی بھی رھی کہ بیٹا ایسا نہ کیا کرو بری بات ھے مگر میں ھمیشہ انکی نصیحتوں کو نظر انداز کرتا رھا - اسکے باوجود وہ ھمیشہ میرے لئے روتی رھیں اور دعائیں بھی کرتی رھیں،
    اب بھی جب چھٹی جاتا ھوں تو مجھے لپٹا کر روتی ھیں اور میں انکی گود میں اپنا سر رکھ کر اپنے آنسوؤں کو چھپانے کی ناکام کوشش کرتا ھوں، ایسا لگتا ھے کہ میں وھی چھوٹا سا بچہ ھوں اور باھر سے کچھ گڑبڑ کرکے یا ابٌاجی کے ڈر سے بچنے کیلئے ماں کی گود میں چھپ گیا ھوں، اور میں بہت روتا ھوں، آج ھمارے اپنے درمیان والدصاحب کا ساتھ نہیں ھے لیکن اس وقت ایسا ھی لگتا ھے کہ جیسے اباجی یہیں کہیں موجود ھیں اور وہ بھی اپنی اشکبار آنکھوں سے یہ سارا منظر دیکھ رھے ھیں -

    اگلی قسط اس پیغام کے بعد شروع کرتا ھوں، دیری ھونے کی صورت میں معذرت چاھوں گا، امید ھے کہ آپ سب خیریت سے ھونگے، اور یہ بھی امید کرتا ھوں کہ آپ سب اپنا اور تمام گھر والوں کا خاص خیال رکھیں گے -
    اللٌہ حافظ
     
  12. عبدالرحمن سید
    آف لائن

    عبدالرحمن سید مشیر

    شمولیت:
    ‏23 جنوری 2007
    پیغامات:
    7,417
    موصول پسندیدگیاں:
    21
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: یادوں کی پٹاری پارٹ 1

    ایک دن تو ان لڑکوں نے مل کر حد ھی کردی، کہ کلاس ٹیچر نے مجھے کلاس سے یہ کہہ کر نکال دیا کہ اپنے والد کو یہان لے کر آو تو کلاس میں داخل ھونا ورنہ نہیں !!!!!!!!

    میری حالت تو خراب ھوگئی، کلاس سے نکل کر ایک قریبی پارک میں بیٹھ کر سوچتا رھا اور روتا رھا، سمجھ میں نہیں آرھا تھا کہ گھر جاکر اباجی سے کیا کہوں، ان سے مجھے بہت ڈر لگتا تھا

    ----------------------------------------------------------------------------------
    پارک جو گھر اور اسکول کے قریب تھا، وہ ایک بہت بڑے گول سے چوراھے کے درمیان میں بنا ھوا تھا اور چاروں طرف سے موٹرگاڑیاں، تانگے،سائیکل رکشہ وغیرہ یعنی ھر قسم کی سواریاں اپنی مخصوص آوازوں کے ساتھ چکر لگاتی ھوئی اپنی سمت کی طرف چلی جارھی تھیں -

    مگر میں تمام گاڑیوں کے شور شرابے سے بےخبر اپنا بستہ سر کے نیچے دبائے، سبز گھاس پر آنے والی مشکل گھڑی کے بارے میں سوچ رھا تھا کہ اب میں گھر پر کیا کہونگا، کلاس ٹیچر نے تو کلاس سے یہ کہہ کر نکال دیا کہ اپنے والد کو بلا کر لاؤ تو اسکول میں داخل ھوسکتے ھو ورنہ نہیں !!!!!!!!!

    کوئی حل سمجھ میں نہیں آرھا تھا، والد کا خوف ھی اتنا تھا کہ کچھ سوچنے کی گنجائش ھی نہیں تھی، اگر کلاس ٹیچر کا پیغام سناتا ھوں تو ابا جی پہلے مجھے مارتے اور پھر اسکول کی طرف رخ کرتے، اور واپسی پر بھی میری زبردست پٹائی ھونے کی پیشین گوئی بھی تھی، والدہ کو کہہ کر میں ان کی مزید پریشانیوں میں اضافہ نہیں کرنا چاھتا تھا، پہلے ھی مین نے انہیں بہت پریشاں کیا ھوا تھا -

    سوچتے سوچتے میری آنکھ لگ گئی، ایک دم میری آنکھ کھلی جب مالی نے پانی کے چھیٹے میرے منہ پر مارے، نہ جانے وہ کیا سمجھ بیٹھا تھا، میں گھبرا کے آٹھا تو اس کے جان میں جان آئی، اس نے ھاتھ کے اشاروں سے میری خیریت پوچھی اور اپنے کام پر لگ گیا، اور میں نے اپنے کپڑے وغیرہ اچھی طرح جھاڑے، سورج کے رخ سے وقت کا اندازہ لگایا، اپنے بستہ کو کاندھے پر لٹکایا اور گھر کی طرف خراماں خراماں چلنے کی ناکام سی کوشش کی کیونکہ آج تو اپنے قدم بھی ساتھ نہین دے رھے تھے، ساتھ ساتھ منصوبہ کی پلاننگ بھی کرتا جارھا تھا کہ اگلا قدم کیا ھوگا -
    گھر پہنچتے ھی والدہ گھبرا گئیں اور مجھ سے کئی سوال ایک دم پوچھ ڈالے، کہ آج اتنی جلدی کیوں آگئے، طبعیت تو ٹھیک ھے کیا ھوا کیا نہیں ھوا، میری پہلے ھی سے مسکین شکل بنی ھوئی تھی اور پھر میرا فوراً ھی شیطانی دماغ کا سوئچ بھی آن ھو گیا، اور پھر جھوٹ کی پٹاری کھل گئی، جواباً عرض کیا کہ کلاس میں سردی لگ رھی تھی اور بخار چڑھ گیا تھا، اور کچھ چہرے پر غصہ کا لبادہ بھی چڑھا لیا، والدہ کے سامنے تو میں شیر بن جاتا تھا اور ابٌاجی کے سامنے تو بالکل بھیگی بلی کی طرح میاؤں بھی، منہ سے آواز نہین نکلتی، والدہ پریشان ھوگئی اور کچھ گھریلو دوائی دی اور کمبل اڑھا کر لٹا دیا،

    لیٹ تو گیا لیکن بہت سخت بھوک لگی ھوئی تھی، والدہ نے بڑے اسرار کے بعد ساگودانے کی کھیر بنا کر دی اور پھر بعد میں کڑوا سا جوشاندہ بھی لے آئی، مجبوراً یہ دن بھی دیکھنا پڑا، والدہ ھماری اباجی کا انتظار کرنے لگی کہ وہ آئیں تو ڈاکٹر کے پاس لےجائیں -
    اباجی کی آواز آئی تو میری تو جان ھی جیسے نکل گئی، اب کیا کروں، والد صاحب اکثر دوپہر کے تین بجے تک آتے تھے، کھانا کھا کر کچھ دیر کیلئے سوجاتے پھر شام کو دوسری مصروفیات میں مشغول ھو جاتے، جو آگے چل کر تفصیل سے لکھونگا، جس میں میرا بھی بہت بڑا کردار ھے -

    اب کیا کروں خاموش ھی رھا، مجھے کچھ احساس ھوا کہ اتھوں نے ڈاکٹر کی طرح نبض ٹٹولی اور والدہ سے کہا، کچھ نہیں ھے طبیعت بالکل صحیح ھے، ایسے ھی ڈرامہ کررھا ھے، اسے کھانا دو، ابھی ٹھیک ھوجائےگا، میری کچھ طبعیت بحال ھوئی کیونکہ بہت سخت بھوک لگ رھی تھی، اور شیطانی دماغ کی مکمل پلاننگ ھو چکی تھی کہ اگلا قدم کیا ھونا چاھئے -

    کھانا وغیرہ کھایا اور روز کی طرح کتاب کھول کر پڑھنے بیٹھ گیا تاکہ اباجی کو کسی بات کا احساس نہ ھو، اب مکمل پلاننگ تو ھو چکی تھی وہ یہ کہ روز اسکول کیلئے تیار ھو کر جانا تو ھے لیکن اسکول کے بجائے کہیں اور کا چکر لگاؤں اور اسکول کے واپسی کے وقت گھر آجاؤں،
    شکر اس بات کا یہ تھا کہ میرے اسکول میں اپنے محلے کا کوئی بچہ نہیں پڑھتا تھا، کہ کہیں سے بھی کسی بات کا پتہ چل سکے،

    آگے کیا ھوتا ھے وہ کچھ زیادہ ھی ھولناک ھے، کیا آپ سوچ سکتے ھیں کہ میں پورے دس مہینے تک اسکول کے بجائے کہیں اور گل چھرے اڑاتا رھا، اور اتفاق سے والد صاحب نے ایک دن بھی اسکول میں آکر کوئی بھی خبر نہ لی !!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!
     
  13. عبدالرحمن سید
    آف لائن

    عبدالرحمن سید مشیر

    شمولیت:
    ‏23 جنوری 2007
    پیغامات:
    7,417
    موصول پسندیدگیاں:
    21
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: یادوں کی پٹاری پارٹ 1

    آگے کیا ھوتا ھے وہ کچھ زیادہ ھی ھولناک ھے، کیا آپ سوچ سکتے ھیں کہ میں پورے دس مہینے تک اسکول کے بجائے کہیں اور گل چھرے اڑاتا رھا، اور اتفاق سے والد صاحب نے ایک دن بھی اسکول میں آکر کوئی بھی خبر نہ لی !!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!

    اس وقت میری عمر تقریباً نو یا دس سال کے لگ بھگ ھوگی، میں کبھی یہ سوچ بھی نہین سکتا تھا کہ اس طرح کا دور بھی میری اس عمر میں پیش آئے گا، رات بھر میں دوسرے دن کے بارے مین سوچنے لگا کہ کیا کروں اور یہی سوچتے سوچتے سو گیا، سونے سے پہلے میرے کان میں اباجی کچھ باتیں سنائی بھی دیں، جو وہ والدہ سے چپکے چپکے کہرھے تھے کہ آج ھمارے لاڈلے کے کچھ رنگ بدلے بدلے سے نظر آتے ھیں، کیونکہ کوئی کسی قسم کی شرارت یا آج کوئی ھنگامہ بھی نہیں ھوا، لگتا ھے کہ نواب صاحب کچھ سدھر گئے ھیں

    انہیں کیا معلوم کے ھم پر کیا قیامت گزر گئی، سدھرنا تو دور کی بات ھے، مجھے اپنی فکر لگ گئی کہ نہ جانے یہ اپنی زندگی کی ڈوبتی ناؤ کہاں تک بہا کر لے جائے گئی، نہ تو کسی کو اپنا رازدار بنایا اور نہ ھی کسی نے مجھ سے پوچھنے کی زحمت گوارہ کی کہ آج بدلے بدلے سے سرکار کیوں نظر آتے ھیں، سب محلے کے بچٌے بھی میرا پوچھ کر چلے گئے آج سارے محلے کےمیرے ھم عمر کے بچے بھی اداس تھے کیونکہ میں ان سب کا لیڈر تھا اور آج پورا دن گھر سے باھر بھی نہیں نکلا تھا اور نہ ھی کسی دوست کے ساتھ بات کی تھی، سب دوست تھک ھار کر اپنے اپنے گھروں میں چلے گئے، گھر پر بھی کچھ کے والدین آئے اور اباجی سے میرے متعلق پوچھا بھی کہ آج میں انہیں نظر نہیں آیا، میں ذرا اپنے ھم عمر کے بچوں میں قدرتی کچھ مقبول تھا کہ وہ میرے بغیر کوئی کھیل کھیلتے نہیں تھے اور نہ ھی کوئی شرارت کا منصوبہ بناتے تھے ، چھوٹا سا محلہ تھا اور سب محلہ کے لوگ ایک دوسرے سے واقف بھی تھے،
    جہاں کچھ لوگ میری شرارتوں کی وجہ سے مجھ سے اپنے بچوں کو دور رکھنے کی کوشش کرتے تھے، وھاں کچھ اور ایسی فیملیز بھی تھین جو مجھے بہت چاھتے بھی تھے، اس زمانے میں مجھے اچھی طرح یاد ھے کہ زیادہ تر لوگ اپنے گھروں کے مین دروازے یا داخلی دروازہ کبھی بھی بند نہیں کرتے تھے، ھم تمام بچے اکثر رات کو آنکھ مچولی جس میں ھمارے ساتھ بڑے بچے بھی شامل ھو جاتے تھے، خوب کھیلتے تھے اور کسی نہ کسی کے گھر میں چھپ جاتے تھے، سب کے گھر کھلے ھوتے تھے، کبھی بھی کسی گھر سے کوئی چیز نہین اٹھائی یا چوری کی خبر کوئی سننے میں آئی اور سب لڑکیاں اور لڑکے مل کر کھیلتے تھے اور کبھی بھی کسی کے دل میں کوئے ایسا ویسا برا خیال نہیں آتا تھا،

    سب بڑے بوڑھے الگ میدان میں اپنے اپنے گھروں سے چارپائیاں لاکر بچھاتے اور ساتھ حقہ گڑگڑاتے ھوئے رات گئے تک چوپالوں کی طرح دنیا داری کی باتین کرتے کبھی ساست کی اور کبھی موضوع اسلام کی بھی بحث شروع ھوجاتیں اور عورتیں الگ کسی نہ کسی کے گھر کے صحن میں بیٹھی اپنے معمول کے دکھڑے ایک دوسرے کو سناتی رھتی لیکن یہ ضرور تھا کہ گھر کی بڑی بوڑھی الگ بیٹھی ھوتیں اور آن کی بہویں الگ ساس بہو کے معمول کا رونا دھونا اور ایک دوسرے کی بہوؤں کی شکایات کرتی رھتیں جو ازل سے قائم ھے اور ابد تک رھے گا، دنیا بدل گئی زمانہ کہاں سے کہاں تک پہنچ گیا لیکن ساس بہو کا نازک مسلئے ابھی تک نہیں بدلا -

    اُس وقت لوگوں کے پاس اچھا خاصہ وقت تھا ایک دوسرے کے ھر دکھ درد میں کام آتے تھے، کوئی ناراض ھو جائے تو گھر جاکر ایک دوسرے کی غلط فہمیاں دور کرتے تھے، اور گلے لگاتے تھے اور ایک خاص بات تھی کہ اذان کے ھوتے ھی تمام مرد حضرات جو بھی محلہ میں موجود ھوں، وہاں کی ایک چھوتی سی مسجد میں چلے جاتے اور ایک ساتھ باجمعت نماز بھی پڑھتے تھے اور پیچھے ھم بچوں کی بھی ایک صف بن جاتی تھی، عورتیں اپنے اپنے گھروں میں اپنی لڑکیوں کو ساتھ لے کر نماز پڑھتیں، اس محلے میں ھر پاکستان کے صوبوں پنجاب، سرحد، بلوچستان اور سندھ کے تقریباً تمام شہروں کے لوگ آباد تھے اور مھاجر بھی تھے، ساتھ ھی کچھ غیر مسلم بھی تھے، لیکن کبھی بھی کسی کا کوئی جھگڑا یا آپس میں اختلاف نہیں دیکھا گیا، سب بہت پیار اور محبت سے رھتے تھے، جو آجکل ایک خواب سا لگتا تھا -

    کچھ یک جان اور آپس کے خلوص کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ اس زمانے میں کسی کے پاس ریڈیو تک نہیں تھا نہ ھی آج کی طرح کمپیوٹر تھا اور نہ ھی پاکستان میں کوئی ٹیلیوژن تھا ، اکثر لوگ کبھی کوئی خاص مسلئہ ھو تو ایک نزدیکی ایک ھوتل میں جاکر کے خبریں سن لیا کرتے تھے، کئی لوگون کو یہ تک پتہ نہیں تھا کہ مارشل لاء کیا ھوتا ھے - اور کسی کو رات میں کوئی تکلیف یا پریشانی ھو جائے تو سب ایک جگہ جمع ھوکر ایک دوسرے کی مدد کرتے تھے -

    ‌بات کیا ھو رھی تھی کہان پہنچ گئی، ھاں تو دوسرے دن حسب معمول اسکول جانے کیلئے والدہ نے اٹھایا، تیار ھو کر ناشتہ وغیرہ سے فارغ ھوا اور بستہ گلے میں لٹکا کر باھر نکلنے سے پہلے والدہ سے اسکول کی فیس جو اس وقت 5 پاتچ آنے تھی انہوں نے مجھے 6 چھ آنے ایک رومال میں باندھ کر دئیے، اور کہا سنبھال کر لے جانا گما نہیں دینا، یہ دوسرا مہینہ تھا، پیسے رومال کے ساتھ جیب میں ڈالے اور باھر نکل گیا - والد صاحب تو صبح تڑکے ھی نکل جاتے - ان سے صبح ملاقات نہیں ھوتی تھی ورنہ وہ مجھے پہلے اسکول چھوڑتے، بعد میں دفتر جاتے، یہ بھی میرے حق میں نہ تھا ورنہ ساری پول ھی کھل جاتی-

    بہرحال میں بمع بستہ، اسکول کی یونیفارم پہنے اسکول کیلیے نکلا، محلے کی چھوٹی چھوٹی گلیوں سے ھوتا ھوا لوگوں سے علیک سلیک کرتا ھوا بڑی سڑک پر آگیا سب دوسرے اسکول کے بچے بھی میرے ساتھ تھے ھر ایک کے مختلف اسکول تھے، میرا اسکول چونکہ کچھ دور تھا، اس لئے میں آخر میں ھی رہ جاتا تھا کیونکہ کوئی بھی ھمارے محلے کا بچہ میرے اسکول میں نہیں پڑھتا تھا، اب کہاں میرا اسکول، وہاں جاتے ھوئے ڈر بھی رہا تھا - کیونکہ ٹیچر نے سختی سے منع کردیا تھا کہ والد کے بغیر اس اسکول میں داخل نہ ھونا ورنہ !!!!!! پتہ نہیں کیا کیا کہا تھا -

    اسی ڈر سے فوراً میں نے ایک فیصلہ کرتے ھوئے اپنا راستہ بدل لیا اور ایک چاٹ کے ٹھیلے پر رک گیا، ایک آنے کی اس وقت اسپشل چنے اور دھی بڑے کی چاٹ آتی تھی، آرڈر دیا، اور مزے لے کر کھاتا رھا، آج میں بہت مالدار تھا، کیونکہ میرے پاس چھ 6 آنے تھے، چاٹ کھا کر آگے بس اسٹاپ پر پہنچا وھاں ایک صدر جانے کی بس آئی بس میں چڑھ گیا کنڈکٹر نے ٹکٹ کا پوچھا تو ایک آنہ تھما دیا، اس وقت ایک طرف کا ٹکٹ کم سے کم ایک آنہ تھا یعنی ایک روپے میں 16 مرتبہ آ جا سکتے تھے، ایک جگہ بس رکی جہاں میلہ لگا ھوا تھا، جھولے ، سرکس وغیرہ، فوراً بس سے اتر گیا، میں خود حیران تھا کہ یہ میلہ تو شام کو شروع ھوتا ھے آج صبح سے ھی شروع ھوگیا، معلوم ھوا کہ بہت زیادہ رش ھونے کی وجہ سے وقت بڑھا دیا گیا ھے،
    پہلے تو باھر اسٹیج کے ساتھ کھڑا ناچ گانا دیکھتا رھا، اس سے پہلے بھی والدین کے ساتھ یہان سرکس دیکھنے آچکا تھا - میرے پاس 4 چار آنے اب بھی بچے ھوئے تھے ، دو 2 آنے کا بچوں کا آدھا ٹکٹ لیا اور سرکس دیکھنے کیلئے اندر ڈرتے ڈرتے گھس گیا ادھر ادھر بھی دیکھ رھا تھا کہ کہیں کوئی جاننے والا تو نہیں ھے، اسی گھبراھٹ میں پورا سرکس دیکھا سب کچھ وھی تھا جو پہلے والدین کے ساتھ دیکھ چکا تھا،

    سرکس ختم ھوا تو فوراً میں نے واپسی کا سوچا اسی نمبر کی بس میں واپس ھوا اور اپنے اسٹاپ پر اتر گیا، ایک آنہ اور ختم ھوگیا باقی ایک آنہ اب بھی بچہ ھوا تھا سوچا کہ یہ کل کام آئے گا اور جلدی جلدی گھر کی طرف میں قدم بڑھا رھا تھا، کیونکہ اسکول کا وقت ختم ھونے والا تھا!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!

    پھر اگلے دن کی کہانی لے کر پھر حاضر ھونگا، اجازت چاھتا ھوں، اپنا خیال رکھئے گا

    اللٌہ حافظ
     
  14. عبدالرحمن سید
    آف لائن

    عبدالرحمن سید مشیر

    شمولیت:
    ‏23 جنوری 2007
    پیغامات:
    7,417
    موصول پسندیدگیاں:
    21
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: یادوں کی پٹاری پارٹ 1

    سرکس ختم ھوا تو فوراً میں نے واپسی کا سوچا اسی نمبر کی بس میں واپس ھوا اور اپنے اسٹاپ پر اتر گیا، ایک آنہ اور ختم ھوگیا باقی ایک آنہ اب بھی بچہ ھوا تھا سوچا کہ یہ کل کام آئے گا اور جلدی جلدی گھر کی طرف میں قدم بڑھا رھا تھا، کیونکہ اسکول کا وقت ختم ھونے والا تھا!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!

    جلدی جلدی قدم بڑھاتا ھوا گھر پہنچا، اور وقت پر گھر پہنچ کر سکون کا سانس لیا، لیکن میں ایک عجیب کشمکش میں مبتلا تھا کہ آگے کیا ھوگا، کب تک میں اسکول سے بھاگتا رھوں گا، یہ بھی مجھے علم تھا کہ آخر ایک نہ ایک دن تو پکڑا ھی جاؤں گا، مگر کیا کرتا والد کا ڈر دل میں ایسا بیٹھا ھوا تھا کہ ھمت ھی نہیں پڑی کہ ان سے کسی بھی معاملے میں کوئی شکایت یا کوئی رائے دے سکوں -

    اسی طرح روز ھی گھر سے بستہ گلے میں ڈال کر نکلتا، سب سے روز کی طرح سلام اور دعائیں لیتا ھوا، اور راستہ ھی میں سوچ کر کسی نہ معلوم منزل کی طرف روانہ ھو جاتا، کبھی سمندر کے کنارے، کبھی بسوں اور ٹراموں میں سفر کرتا ھوا مختلف جگہوں کی سیر کرتا رھا، اس ظرح تقریباً تمام کراچی کی مشہور جگہوں سے بھی واقف ھو چکا تھا، اور ویسے بھی اس وقت کراچی اتنا بڑا نہیں تھا، کئی دفعہ دیر بھی ھوئی، والدہ سے ڈانٹ بھی کھائی، لیکں کوشش یہی رھتی تھی کہ اباجی کے آنے سے پہلے پہلے گھر واپس پہنچ جاؤں -

    اب روز بروز فکر بھی لگی رھتی تھی کہ اگر کسی بھی وقت اباجی کو پتہ چل گیا تو قیامت آجائے گی، اسکے علاوہ روز مجھے جھوٹ بول کر والدہ سے کچھ پیسے اینٹھ لیا کرتا تھا کہ آج فلاں فنکشن ھے ٹیچر نے چندہ منگوایا ھے، کبھی پکنک کے بہانے سے، کبھی کتابیں اور کاپیاں کبھی پنسل اور ربڑ کبھی اور ماہانہ فیس میں تو میں نے خود ھی اضافہ بھی کردیا تھا، اسکول کی ضرورتوں کا بہانہ کرکے کچھ نہ کچھ والدہ سے وصول کرلیتا تھا جسکی بعد میں والد صاحب سے رضامندی بھی مل جاتی تھی،کیونکہ والد صاحب یہی سمجھتے تھے کہ میں بہت شوق سے پڑھ رھا ھوں!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!

    ---------------------------------------------------------------------------------------

    اب روز بروز فکر بھی لگی رھتی تھی کہ اگر کسی بھی وقت اباجی کو پتہ چل گیا تو قیامت آجائے گی، اسکے علاوہ روز مجھے جھوٹ بول کر والدہ سے کچھ پیسے اینٹھ لیا کرتا تھا کہ آج فلاں فنکشن ھے ٹیچر نے چندہ منگوایا ھے، کبھی پکنک کے بہانے سے، کبھی کتابیں اور کاپیاں کبھی پنسل اور ربڑ کبھی اور ماہانہ فیس میں تو میں نے خود ھی اضافہ بھی کردیا تھا، اسکول کی ضرورتوں کا بہانہ کرکے کچھ نہ کچھ والدہ سے وصول کرلیتا تھا جسکی بعد میں والد صاحب سے رضامندی بھی مل جاتی تھی،کیونکہ والد صاحب یہی سمجھتے تھے کہ میں بہت شوق سے پڑھ رھا ھوں!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!

    ایسا لگتا تھا کہ جیسے میں ایک دلدل میں پھنستا چلاجارھا ھوں، ایک دن یا دو دن کی بات تو تھی نہیں، ھر روز جھوٹ پہ جھوٹ کا اضافہ ھوتا جارھا تھا، لکن کمال کی بات تھی کہ میں نے گھر پر کسی کو کسی قسم کا شک بھی نہیں ھونے دیا،اور گھر پر وہی تاثر کہ معمول کے مطابق اسکول کا کام گھر پر کرنا، کتابیں پڑھنا، جس سے والد صاحب کو تسلی رھتی تھی،

    یونہی سلسلہ چلتا رھا، اور میں نے اس دوران پورے شھرکو اچھی طرح کھنگال بھی لیا، جسکا مجھے بعد میں مالی فائدہ بھی ھوا، مجھے یہ مکمل طور پر پتہ چل گیا تھا کہ کون سی چیز کہان ملتی ھے اور کون کون سی مشہور عمارتیں، بازار، اور گھومنے پھرنے کی جگہ کہاں کہاں پر ھیں، اور میری عادت اتنی بگڑ چکی تھی کہ میں تو اب بغیر گھومنے پھرنے کے رہ بھی نہیں سکتا تھا، ایک اور شوق سینما دیکھنے کا بھی لگا لیا تھا، مگر اس کے لئے خاص طور سے کوئی بہانہ کرنا پڑتا تھا، کہ آج اسکول میں فنکشن ھے یا اسکول پکنک پر جارھا ھے وغیرہ وغیرہ !!

    اس زمانے میں سنیما کا ٹکٹ چار آنے سے لے کر ایک روپے تک ھوتا تھا اور بلیک اینڈ وہائٹ انڈین اور پاکستانی فلمیں دکھائی جاتیں تھیں اور فلموں کا معیار بھی بہت اچھا تھا، لیکن عموماً بچوں کا فلمیں دیکھنا بہت ھی بُرا سمجھا جاتا تھا، اس وقت عام اوسط طبقہ کی تنخواھیں بھی 50روپے سے لے کر زیادہ سے زیادہ 150روپے ھوا کرتی تھی، اور لوگ بہت خوش تھے اور اچھی طرح گزارہ بھی کرلیتے تھے، ھمارے والد صاحب کی تنخواہ بھی تقریباً 125 روپے تھی، اس میں سے بھی اس وقت کچھ پیسے وغیرہ لوگ جمع ھر مہینے جمع کرلیتے تھے، اس زمانے میں لوگ پوسٹ آفس کے سیونگ اکاونٹ میں پیسہ جمع کراتے تھے، اس کی خاص وجہ ھمارا رھن سہن تھا جو کہ بہت سادہ تھا، عام طور سے لوگ مٹکوں کا پانی پیا کرتے، گھر میں لکڑی کے چولہوں پر اور مٹی کی ھانڈیوں میں کھانا پکتا تھا، پانی ھم لوگ دور سے بھر کر لاتے تھے یا ماشکی کمر کے پیچھے چمڑے کی مشکیزہ اٹھائے چار آنے میں بیچتے تھے - اور جلانے کی لکڑی ٹال والے دو روپے فی من کے حساب سے گھر پہنچا کر جاتے تھے - گرمیوں میں ھاتھوں کے بنے پنکھوں سے اپنا پسینہ خشک کرتے اور صحن میں مچھردانی لگا کر سوتے تھے-

    اس بات سے ھم یہ خوب اچھے طرح اندازہ لگا سکتے ھیں کہ اس وقت دودھ کی قیمت 6 آنے سیر ، بڑے گوشت کی قیمت ایک روپے اور چھوٹے گوشت کی قیمت دو سے ڈھائی روپے سیر ھوتی تھی اور چھوتے کا گوشت بہت ھی کم کھایا جاتا تھا، مرغی بھی بہت سستی تھی یعن تقریباً شاید دو یا ڈھائی روپے سے زیادہ کی نہیں ھوگی

    اسکے علاوہ میرا اسکول کا یونیفارم پانچ روپے سے لیکر زیادہ سے زیادہ دس روپے کا آتا تھا، اور والد صاحب صرف سال میں شاید دو دفعہ سے زیادہ نئے کپڑے نہیں بنائے وہ بھی عید یا بقرعید پر بس، اور سال بھر وھی کپڑے چلتے تھے، اس سے ھم اپنی اس وقت کی سادہ سی پرسکون زندگی کے بارے میں اندازہ لگا سکتے ھیں کہ کم وسائل، کم ضرورتیں، اور محدود خواھشات میں کتنی خوشیاں پوشیدہ تھیں!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!

    بات پھر کہاں سے کھاں نکل گئی، معذرت چاھتا ھوں،
    اب اجازت چاھونگا، اگلی قسط تک کیلئے، خوش رھیں، اپنا خیال رکھئے گا -
    اللٌہ حافظ
     
  15. عبدالرحمن سید
    آف لائن

    عبدالرحمن سید مشیر

    شمولیت:
    ‏23 جنوری 2007
    پیغامات:
    7,417
    موصول پسندیدگیاں:
    21
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: یادوں کی پٹاری پارٹ 1

    اسکے علاوہ میرا اسکول کا یونیفارم پانچ روپے سے لیکر زیادہ سے زیادہ دس روپے کا آتا تھا، اور والد صاحب صرف سال میں شاید دو دفعہ سے زیادہ نئے کپڑے نہیں بنائے وہ بھی عید یا بقرعید پر بس، اور سال بھر وھی کپڑے چلتے تھے، اس سے ھم اپنی اس وقت کی سادہ سی پرسکون زندگی کے بارے میں اندازہ لگا سکتے ھیں کہ کم وسائل، کم ضرورتیں، اور محدود خواھشات میں کتنی خوشیاں پوشیدہ تھیں!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!
    میں اس لئے بار بار ساتھ چند ایک ایسے حوالے بھی دیتا ھوں تاکہ لو گ میرے متعلق کوئی غلط رائے نہ قائم کرلیں، جبکہ اس کہانی سے چاھے کوئی بھی ھو منفی انداز میں سوچ سکتا ھے، میرا ایک مقصد یہ بھی ھے کہ ھم اپنی آنے والی نسلون کی تربیت کیلئے ان تحریروں سے کچھ حاصل کرسکیں -
    شاید ھی کوئی اس بات پر یقیں کرے، کہ میرے بچپن کے حالات نے ایسا ایک الگ ھی رُخ موڑا کہ صرف وھی میری یہ حقیقت کو مان سکتے ھیں جو اس وقت میرے ساتھ تھے، اگر وہ اسے پڑھیں تو شاید انہیں یاد بھی آجائے- اس محلے میں اب تک وہ پرانے میرے ساتھ کے چند لوگ اب تک موجود بھی ھیں، جو میری اس حقعقت کو جانتے بھی ھیں اور جب بھی میں وھاں جاتا ھوں تو بہت گرمجوشی سے ملتے ھیں اور ھم پرانی باتوں کو یاد بھی کرتے ھیں، زیادہ تر لوگ اس محلے کو چھوڑ کر یا تو باھر چلے گئے ھیں یا پھر کہیں دوسری جگہ شفٹ ھو گئے ھیں،

    لیکن مجھے امید ھے کوئی نہ کوئی تو ضرور پڑھ رھا ھوگا، کچھ رشتہ داروں نے تو پڑھنا بھی شروع کردیا ھے، اور انہیں میرے ان کارناموں پر بہت حیرت بھی ھے، کہ کوئی ایسا بھی دنیا میں موجود ھے جس نے اپنی زندگی کے ھر اچھے اور برے پہلو کو لوگوں کے سامنے ایک کھلی کتاب کی طرح رکھ دیا ھے -

    بات ھو رھی تھی کہ میں روز بہ روز ایک جھوٹ کی وجہ سے مشکلات میں دھنستا چلا جارھا تھا، اور اس جھوٹ کو نبھانے کیلئے، مزید جھوٹ پہ جھوٹ بولتا چلا جارھا تھا، والدیں بالکل اس بات سے بے خبر مطمئن بیٹھے تھے، اور میں ان کی اس اطمنان ھی کی وجہ سے غلط راستہ اختیار کئے ھوئے تھا، کیونکہ والد کا خوف اتنا تھا کہ یہ سچ کہنے کے قابل نہیں تھا کہ کلاس ٹیچر نے اسکول سے نکال دیا ھے اور بغیر اباجی کے اسکول میں داخل نہیں ھونے دیں گے جبکہ میں بالکل بے قصور تھا یہ سب دوسرے لڑکے جو مجھے نہیں چاھتے تھے، اور ان سب کی یہی کوشش رھی کہ میں بس ٹیچر کا پسندیدہ اسٹوڈنٹ نہ بنوں اور وہ سب مل کر مجھے اپنی کی ھوئی شرارت میرے نام کردیتے تھے اور اس طرح مجھے اسکول سے وہ سب نکالنے میں کامیاب بھی ھوگئے اور یہ بات میں اپنے والد سے بالکل نہیں کہہ سکا اور ان مشکلات میں پھنس گیا -

    اب تو روز کی ایک عادت سی ھو گئی تھی، گھر سے اسکول کے لئے نکلنا، کچھ نہ کچھ کوئی نہ کوئی بہانہ کرکے والدہ سے پیسے لےلینا روز کا معمول بن چکا تھا، کیونکہ راستہ کے خرچے جو پورے کرنے تھے، ھر رات دوسرے دن کا منصوبہ تیار کرنا اور صبح ھوتے ھی نئی منزل کی طرف روانہ ھوجاتا تھا -
    کبھی کبھی تو میرے پاس پیسے بھی نہیں ھوتے تھے مگر یہ شیطانی دماغ کوئی نہ کوئی چکر ضرور چلالیتا، کئی دفعہ بس میں اگر کسی
    کنڈکٹر نے ٹکٹ کا پوچھتا تو فوراً معصوم شکل بنا کر کہتا کہ لیڈیز میں اماں کے پاس ھے، کئی شریف تو یقین کرلیتے لیکن کچھ تو کیکر کانٹے بھی زیادہ تیز نکلتے وہ تو فوراً تصدیق کیلئے لیڈیز میں چلے جاتے، میں تو ھر وقت، ھر موقع کیلئے بالکل تیار رہتا، فوراً اس سے پہلے کہ کنڈکٹر واپس آئے میں پچھلے گیٹ سے رفوچکر، بعض دفعہ تو میں چلتی بس سے چھلانگ بھی لگا لیتا تھا اگر بس کی رفتار کم ھوتی جب ورنہ نہین ، اب تو عادت سی ھوگئی تھی چلتی بس میں چڑھنے اور اترنے کی، کئی دفعہ تو کنڈکٹر کو میں سچ ھی بتا دیتا، کئی شریف ھوتے تو چھوڑ دیتے مگر کئی کیکر کے بیج ھوتے جو بس سے ھی اتار دیتے تھے،

    مجھے بھی کافی اندازہ ھوگیا تھا کہ کون سی بس میں کونسا کنڈکٹر ھے اس لئے مین خود بھی احتیاط کرتا تھا کہ کسی خرانٹ کنڈکٹر کے دوبارہ ھتٌے نہ چڑھ جاؤں، ایک دفعہ ایک بس کے کنڈکٹر نے مجھے پکڑ لیا اور ساتھ ایک پولیس والے کے حوالے بھی کردیا یہہ کھ کر کہ یہ لڑکا اسکول سے بھاگا ھوا ھے، بس اپنی تو جاں ھی نکل گئی، بڑی منت سماجت کی لیکن اس پولیس والے نے نہیں چھوڑا، مجھے لئے لئے پھرتا رھا اور ٹھیلے والوں سے بھتہ بھی وصول کرتا رھا، اور پھل وغیرہ بھی سمیٹتا رھا، اور مجھے بالکل خاموش رھنے کیلئے کہا، لوگ شاید مجھے اسکا بیٹا سمجھ رھے تھے اور مجھے بھی پیار سے لوگ شاید پولیس والے کے خوف سے یا شاید ترس کھا کر کوئی نہ کوئی چیز کھانے کیلئے دے رھے تھے، میرے تو اور مزے آگئے مگر ساتھ گھبراہٹ بھی تھی کہ اگر یہ واقعی مجھے میرے گھر لے گیا تو میری تو شامت ھی آجائے گی، کافی اس سے جان چھڑانے کی کوشش کی لیکن اس نے تو میرا ھاتھ بہت مضبوطی سے پکڑا ھوا تھا کہ چھڑانا میرے بس کی بات نہیں، اس نے مجھے بھی دھمکی دی تھی کہ ایک روپے کا نوٹ اپنے گھر سے دلادے ورنہ تھانے میں بند کردونگا،
    ارے بھئی کس مشکل میں جان اٹک گئی، آخر ایک بیت الخلا نظر آیا، مین نے موقع جان کر رفع حاجت کی درخواست کی، اس نے اجازت دے دی اور کہا فوراً جلدی سے فارغ ھوکر آؤ، اور وہ گیٹ پر کھڑا ھوکر وھاں کے خاکروب سے بھی کچھ اینٹھنے کے چکر میں لگ گیا کیونکہ وہاں لوگ کچھ نہ کچھ پیسے خاکروب کو دیتے رہتے تھے، اور خاکروب پولیس والے کو ایک دوسرے کونے مین لے گیا شاید بھتہ دینے کے چکر میں، میں یہ سب اندر راہداری سے سب کچھ دیکھ رہا تھا، موقع کو غنیمت جانا اور چپکے سے نکل لیا اور آگے تھوڑا جاکر سرپٹ دوڑنا شروع کردیا کافی دور جاکر پیچھے دیکھ کر یہ اطمنان کر لیا کہ پولیس والا تو کہیں پیچھے نہیں آرھا، پھر سکون کا سانس لیا اور جب کچھ سانسیں بحال ھوئی تو میں یہ سوچنے لگا کہ یہ پولیس والے تو بھنگیوں کو بھی نہیں بخشتے تو دوسروں کو کہاں چھوڑتے ھونگے !!!!!!!!!!!!!!!1

    اسکے بعد میں نے اس راستہ پر جانا ھی چھوڑدیا اور ساتھ اپنا بستہ بھی کہیں نہ کہیں چھپا کر جاتا تھا کہ کہین دوبارہ پھر سے اس پولیس والے سے ٹاکرا ھی نہ ھوجائے اور دوسرا راستہ اختیار کرلیا کہ اس اسٹاپ کے بجائے اب میں نے کینٹ اسٹیشن کی طرف جانا شروع کردیا جو کچھ فاصلہ پر تھا، وہاں بس کے بجائے ٹرام میں سفر کرنے لگا، مگر میں جب بھی کسی پولیس والے کو دیکھتا تھا تو میری جان ھی نکل جاتی کیونکہ تمام پولیس والے مجھے ایک جیسے ھی لگتے تھے -!!!!!!!!!!!!!!!!

    -------------------------------------------------------------------------------

    اس وقت واقعی اسٹوڈنٹ سفری کارڈ کی سہولت نہیں تھی ورنہ میری سفر کی رینج اور کافی حد تک آگے بڑھ جاتی - اگر میرے پاس اس وقت چار آنے یعنی اُس وقت کے 16 پیسے اور اب کے 25 پیسے ھوتے تھے تو میں پورے کراچی کے شہر کا چکر لگا سکتا تھا اور اگر ایک آنہ مزید ھوتا تو ایک چھوٹا موٹا لنچ کسی بھی تندور والے ڈھابے پر کرسکتا تھا اور اگر لنچ نہ بھی کرتا تو کم از کم اپنے مطلب کی چار چیزیں چاٹ، چورن اور ٹافی وغیرہ ایک پیسے کی ایک، سے گزارا ضرور کر لیتا -

    اسکول کے جیب خرچ کے لئے اس وقت ھمیں دو پیسے مشکل سے روزانہ ملتے تھے، اگر ایک آنہ مل جاتا تو ھم خوشی سے پھولے نہیں سماتے تھے اور دوسرے بچوں کو وہ ایک آنہ دکھا کر شو بھگارتے تھے،

    اور عید بقر عید پراگر کوئی مہمان اگر عیدی دے تو وہ فی کس دو آنے یا چار آنے سے زیادہ کوئی نہیں دیتا تھا، لیکن وہ بھی والدہ ھم سے واپس لے لیتی تھیں، اسکے بدلے میں صرف ایک آنہ ملتا تھا، اسی میں ھم بچے اس وقت خوش رھتے تھے-

    اس وقت کی زندگی میں ایک سکون تھا، ھر کوئی خوش اور مطمئن تھا، کم آمدنی تھی کم خرچہ تھا، پورے سال نئے کپڑے بنے یا نہ بنے لیکن عید کے لئے والدین اپنے بچوں کو نئے کپڑ ے ضرور بنواتے تھے، پورا سال ھم تمام بچے رمضان کی عید اور بقر عید کا بے چینی سے انتظار کرتے تھے، کیونکہ ھم سب بچوں کو نئے کپڑوں کے ساتھ عیدی اور اس کے علاوہ اس دن کچھ آزادی بھی ملتی تھی، اس عید کے دن ھم بچے ایک دوسرے کو اپنے نئےکپڑے دکھاتے پھرتے ھر گھر میں گروپ کی شکل میں بھاگتے پھرتے، بڑے بزرگوں کی دعائیں لیتے، پورا محلہ بچوں کی وجہ سے ایک رونق میلہ کی طرح جگمگا رھا ھوتا، جیسے کسی شادی کا سماں ھو -
    عیدالفطر کے دن ایک دوسرے کے گھروں میں مختلف قسم کی شیرینیاں تقسیم ھوتیں، سیویاں، شیر قورمہ۔ حلوہ جات وغیرہ، اور ساتھ مہمانوں کی ایک دوسرے کے گھر آمد، لوگ مہمانون کے آنے سے خوش ھوتے تھے اور کافی خاطر مدارات کرتے تھے، اسی طرح بقر عید پر بھی ھوتا تھا فرق صرف اتنا ھوتا کہ مٹھائیوں کے بجائے گوشت گھروں میں تقسیم ھورھا ھوتا، تقریباً ھر محلہ میں جھولے والے، مداری اور دوسرے کھلونے بیچنے والے آجاتے، جس سے محلے کی رونقیں دوبالا ھوجاتیں-

    ھر گھر میں لوگ اپنے چھوٹے سے صحن میں کیاریاں ضرور لگاتے اور کوئی نہ کوئی جانور یا پرندے پالنے کا بھی بہت شوق تھا ، کچھ تو کبوتربازی کا بھی شوق رکھتے تھے اپنی نازک اور کمزور چھتوں پر اس شوق کو پروان چڑھاتے تھے، ساتھ ڈانٹ بھی پڑ رھی ھوتی تھی -

    غرض کہ اس وقت یہ چھوٹی چھوٹی خوشیاں ھم سب کو میسر تھی، اکثر جھگڑا بھی ھوتا تھا کبھی کبھی زیادہ بھی ھوجاتا تھا، گالیوں تک کی نوبت آجاتی تھی لیکن یہ بھی ایک اپنی زندگی کا حصہ تھی، اسکے بغیر بھی زندگی پھیکی لگتی مگر لوگ فوراً مل جل کر پھر سے ایک دوسے کو گلے لگاتے اور پھر وھی خوشیاں چہکنے لگتیں، بچے بھی لڑتے شرارتیں کرتیں لیکن بچوں کی وجہ سے والدین یا انکے بڑے کبھی ایک دوسرے سے جھگڑا نہیں کرتے تھے بلکہ اپنے اپنے بچوں کو پیار سے مناتے اور دوسرے بچوں کو بلا کر آپس میں صلح بھی کرادیتے تھے -

    میں بھی اسی رونق کا حصہ تھا اور محلے کا ھر فرد دوسرے بچوں کی طرح مجھے بھی پیار بہت کرتے تھے، بلکہ اپنے بچوں کو میری مثال دے کر ڈانٹتے تھے کہ دیکھو وہ بھی تو بچہ ھے اسکول روزانہ جاتا ھے اور کتنے اچھے نمبر لاتا ھے، کیونکہ میں نے ھر ماھانہ ٹیسٹ اور سہہ ماھی، ششماہی امتحانات کو یقینی بنانے کیلئے اپنی طرف سے بازار سے سادہ رزلٹ کارڈ خرید کر ساتھ باھر ھی اپنے ھاتھ سے ھر مضمون میں اچھے نمبر لگاکر اچھی پوزیشن لکھ کر ساتھ ھی اپنی طرف سے کلاس ٹیچر اور ہیڈ ماسٹر کے دستخط کرکے والدہ کو پہلے دکھاتا تو وہ بہت خوش ھوتیں اور پھر والد کو دکھاتیں، میں چھپ کر سنتا کہ کیا بات ھورھی ھے کہیں والد کو شک تو نہیں ھوا بگر کمال ھے اپنی ھنرمندی کی کہ ھر مضمون میں مختلف نمبر لکھتا بلکہ ایک دو مضمون میں نمبر کم بھی کردیتا اور ساتھ لکھتا کہ ( اس مضمون میں سخت محنت کی ضرورت ھے) جسکی ڈانٹ ابا جی سے مجھے پڑتی بھی لیکن اس وعدہ پر جان چھوٹ جاتی کہ اگلی دفعہ اچھے نمبر لاؤنگا اور واقعی اس وعدہ کو پورا بھی کرلیتا کیونکہ یہ میرے ھی ھاتھ میں تھا، تعجب اس بات کا تھا کہ والد صاحب کو کبھی شک بھی نہیں ھوا کہ اسکول کی مہر کھاں ھے اور لکھائی بھی میری وہ پہچان نہیں سکے، جبکہ وہ یہ کہتے بھی تھے کہ میں تمھارے اسکول تمہارے ٹیچر کا شکریہ کرنے آؤنگا، مگر میں گھبرا جاتا اور دعا کرتا کہ وہ اسکول کبھی نہ آیئں، یہ سوچ کر میری جان ھی نکل جاتی-

    میں نے تو اسکول کے بہانے کہیں اور ھی رونق لگائی ھوئی تھی، اور محلے میں کسی کو بھی اس بات کی خبر نہ تھی کہ میں باھر کیا گل کھلا رھا ھوں جبکہ مجھے اس کا انجام کا پتہ تھا کہ جس دن کسی نے دیکھ لیا اور اباجی کو پتہ چل گیا تو میرا حشر کیا وہ کریں گے اس کا اندازہ میں جانتا تھا، مگر اتفاق یہ دیکھیں کہ جب سالانہ امتحان کے نتیجہ کا وقت آیا تو ابا جی کو شک ھوا اور انہوں نے خاموشی سے جاکر اسکول میں معلومات حاصل کی تو وہاں میرا نام و نشان ھی نہ تھا !!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!

    پھر کیا ھوا میرا حشر یہ بتانا واقعی بہت مشکل ھے لیکن میں ذرا اپنے ھوش و حواس درست کرلوں تو آیندہ کی نشست میں ضرور واضع، ذرا تفصیل سے کرونگا
     
  16. عبدالرحمن سید
    آف لائن

    عبدالرحمن سید مشیر

    شمولیت:
    ‏23 جنوری 2007
    پیغامات:
    7,417
    موصول پسندیدگیاں:
    21
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: یادوں کی پٹاری پارٹ 1

    نہ جانے اسکول کا ایک پورے سال کا پانچویں کلاس کا مکمل سیشن اتنی جلدی کیسے گزر گیا کہ پتہ ھی نہ چلا، اب وہ وقت سامنے تھا کہ کبھی بھی کچھ بھی میرے لئے ایک خطرناک صورتحال پیش آسکتی تھی -
    اب تو روز بروز میری پریشانیوں میں اضافہ ھوتا چلا جارھا تھا کہ نہ جانے کس وقت میرا سارا بھانڈا پھوٹ جائے، سالانہ امتحانات ختم ھوچکے تھے، میں نے بھی جعلی طریقوں سے پچھلے سہ ماھی اور ششماھی امتحانات کی طرح یہ سالانہ امتحانات بھی دے چکا تھا، اس وقت امتحانات کے پیپر سائکلواسٹایئل کی مشین سے پرنٹ ھوتے تھے، بس ایک دفعہ سائکلواسٹائل پیپر کو ٹائپ کرکے مشین میں ڈالدیں اور اپنے حساب سے جتنی بھی کاپی چاھئے، نکال سکتے تھے- اور اکثر بک اسٹالز پر پرانے امتحانات کے پیپرز وغیرہ پریکٹس کےلئے ملتے تھے،

    اسی کا میں نے فائدہ اٹھایا، اور انہیں مختلف مضامیں کے پیپرز کر خرید کر اسکے پرانے سال کو احتیاط کے ساتھ کالی سیاھی سے نئے سال میں تبدیل کرکے اور لڑکوں سے مکمل امتحانات کا ٹائم ٹیبل پوچھ کر باقائدہ تمام امتحانات ایک پارک میں بیٹھ کردیئے اور ساتھ ھی انکے نمبرز بھی خود دیئے اور بعد میں وھی نمبر بازار سے سادہ کارڈ پر لکھ کر گھر پر دکھاتا رھا، ابا جی نے بھی کوئی شک نہ کیا، جبکہ اگر وہ کسی کو دکھاتے یا تھوڑا سا بھی دماغ پر زور ڈالتے، تو انہیں معلوم ھو جاتا، وہ باقائدہ ان پیپرز کا دوبارہ مجھ سے ھر سوال کا جواب چیک کرتے رھے، جسکی میں پہلے ھی سے تیاری کرلیتا تھا اور مطمئین ھوجاتے، اسکے علاوہ وہ تمام محلے کے لوگوں سے بھی میری بہت تعریف کرتے رھتے، ساتھ ھی انہیں مجھ جیسی اولاد پر فخر بھی تھا، اور دوسری طرف میں انکے بھروسے اور انکے خوابوں کی تعبیر کو چکناچور کرتا چلاجارھا تھا !!!!!!!!!!!!!!!

    آخر وہ دن آھی گیا جس کا ڈر تھا، میرے سالانہ امتحان کے رزلٹ کارڈ بنانے سے پہلے ھی والد صاحب اچانک اسکول پہنچ گئے، وہاں پہنچ کر پانچویں کلاس میں پہلے مجھے ڈھونڈتے رھے، میں ھوتا تو ملتا، کسی کو بھی میرے بارے میں معلوم نہیں تھا، پھر سیدھا ہیڈ ماسٹر کے کمرے میں پہنچ گئے، اور وہ بھی سیدھا دفتر سے اپنی فوجی وردی میں پہنچے، ہیڈ ماسٹر بھی گھبرا گئے کیونکہ اس وقت مارشل لا کا دور چل رھا تھا، یہ ساری تفصیل کا علم مجھے بعد میں اپنے والد کی زبانی ھی معلوم ھوا، وہ جب تک فوج سے ریٹائر نہیں ھوئے اس واقعہ کا ذکر بار بار کرتے رھے، جب تک کہ میرے سدھرنے کا انکو مکمل یقین نہیں ھوگیا -

    ھیڈماسٹر نے فوراً کلاس ٹیچر کو اپنے کمرے میں بلوایا اور تمام تفصیل بتائی، تمام رکارڈ پانچویں کلاس کا طلب کیا، تمام تحقیق کے بعد والد صاحب کو بتایا گیا کہ جناب آپ کے صاحبزادے کا تو داخلے کے ایک مہینے بعد ھی غیرحاضی اور نامناسب رویہ کی وجہ سے اسکول سے نام خارج کردیا گیا تھا اور تعجب ھے کہ آج اتنے عرصہ کے بعد اپنے بچے کی خیریت معلوم کرنے آئے ھیں، جبکہ سالانہ امتحان کے نتیجہ کو بھی نکلے ھوئے بھی ایک ہفتہ سے زیادہ گزر چکا ھے، بہت افسوس کی بات ھے اور نہ جانے انہیں کیا کیا کہتے رھے، اور میں نے شاید دو دن کے بعد کا کہا تھا کہ پرسوں تک نتیجہ نکلے گا -
    وہ اس وقت ساری روداد ھیڈماسٹر اور کلاس ٹیچر کی زبانی سنتے رھے اور اندر ھی اندر غصہ کو برداشت کرتے رھے، اور ان سے کہا کہ میں اسی وقت اسے ڈھونڈ کر لاتا ھوں اور آپ اسے میرے سامنے یہ تمام تفصیل بتائیے گا، وھاں سے سیدھا وہ گھر پر آئے، اور اتفاق سے میں کچھ ناساز طبیعت کا بہانہ کرکے گھر پر ھی موجود تھا، والد صاحب گھر پر پہنچے اور حسب معمول میں نے کوئی خاص تاثر نہیں لیا کیونکہ کبھی کبھی دفتر سے گھر کسی کام سے آکر واپس چلے جاتے تھے، ویسے میری چھٹی حس مجھے خبردار کررھی تھی کہ بیٹا آج چھری کے نیچے آئے ھی آئے، بہت خیر منالی -

    والد صاحب نے واقعی نہ جانے کس طرح اپنے غصٌہ کو قابو میں کیا ھوا تھا، بالکل بھی یہ محسوس نہیں ھونے دیا کہ ان پر کیا بیت رھی ھے، میرے پاس بڑے پیار سے آئے اور کہنے لگے کہ کیوں بیٹا آج اسکول نہیں گئے، میں نے بھی جواباً کہا کہ اباجی آج کچھ طبعیت ٹھیک نہیں ھے اور ویسے بھی آج کل سالانہ رزلٹ کی تیاری کی وجہ سے بھی کوئی پڑھائی نہیں ھو رھی، اباجی نے بڑے اطمناں سے جواب دیا کوئی بات نہیں، چلو ذرا میرے ساتھ بازار، کچھ تمہیں گھر کا سودا دلادوں، پھر میں واپس دفتر چلا جاؤنگا،

    میں نے کپڑے تبدیل کئے اور ان کے ساتھ چل پڑا، لیکن راستہ میں یہی سوچ رھا تھا کہ اباجی کی آواز میں کچھ تبدیلی سی لگ رھی تھی اور جو وہ کہہ رھے تھے زبان انکا ساتھ نہیں دے رھی تھی، وہ بالکل خاموش آگے آگے چل رھے تھےاور میں انکے پیچھے، دل نے ویسے گھبرانا شروع بھی کردیا اور مجھے ان کی چال اور خاموشی سے کچھ کچھ یہ یقین ھوتا جارھا تھا کہ آج دال میں کچھ کالا ضرور ھے -

    جیسے ھی انہوں نے میرے اسکول کی طرف رخ موڑا، اور میں اس سے پہلے کہ بھاگنے کی کوشش کرتا فوراً انہوں نے مضبوطی سے میرا ھاتھ پکڑ لیا، کہاں میرے نازک ھاتھ اور کہاں انکے فوجی ھاتھ، کوشش کے باوجود چھڑا نہ سکا اور وہ مجھے اپنی تیز رفتاری اپناتے ھوئے اسکول کے ھیڈماسٹر کے کمرے میں اجازت لیئے بغیر ھی اندر داخل ھو گئے!!!!!!!!،

    اور پھر جو کچھ بھی ھوا اگلی نشست میں تحریر کرونگا، اب یہاں عشاء کا وقت ھوچکا ھے، اجازت دیں عشاء کے بعد کوشش کونگا اگلی روداد سنانے کیلئے!!!!!!!!
    --------------------------------------------------------------------------------

    ھیڈماسٹر کے کمرے سے واپسی کا سفر اپنے گھر تک اور گھر پر میرے والد صاحب کے ہاتھوں سے میرا جوحشر ھوا وہ بہت ھی دردناک اور خوفناک حدکے پار تھا، اور سونے پر سہاگہ یہ کہ تمام محلے والوں کو بلا کر اور میرے تمام محلے کے دوستوں بمعہ انکے پورے خاندان کے، گھر کے صحن کے عین درمیان میں، اباجی اور چاروں طرف تمام محلے کا مجمع، جیسے کوئی مداری کا تماشہ ھورھا ھو -

    دس پندرہ منٹ تک سب محلے والوں کا انتظار بھی کیا اور سب کے سامنے میری تمام حرکتوں کے بارے میں تفصیل سے بتایا ساتھ یہ بھی اعلان کیا کہ اگر کوئی بھی میرے بیٹے پر اگر ترس کھا کر اگر بچانے آئے گا تو وہ بھی ساتھ اسکے سزا پائےگا، ساری دنیا خاموش تھی لیکن میری والدہ اور بہنیں زور زور ست چیخ چیخ کر رو رھی تھی، جنہیں اباجی نے گھر میں بند کردیا تھا مگر وہ کھڑکی سے سب کچھ دیکھ رھی تھیں ، اور لوگوں سے رو رو کر یہی کہہ رھی تھی کہ خدارا میرے بچے کو بچاؤ ورنہ وہ مر جائے گا !!!

    ماں ماں ھوتی ھے اس کی عظمت کو سلام، میں تو اپنے کئے ھؤے حرکتوں کی سزا بھگتنے کو تیار تھا، لیکن ماں کو اپنے بیٹے کی ایک ذرا سی بھی تکلیف برداشت نہیں تھی!!!!!!!!!

    سارے لوگ خاموش تھے اور اس میں سے بھی کئی لوگوں نے کوشش بھی کی مجھے بچانے کیلئے مگر اباجی کا غصہ دیکھ کر واپس پیچھے ھوگے اور تماشہ دیکھنے کو تیار کھڑے ھوگئے ایک دائرہ بنا کر !!!!!!!!!

    اج اس وقت بھی میری آنکھوں میں آنسو آرھے ھیں، سارا منظر میری آنکھوں کے سامنے نظر آرھا ھے، !!!!!

    جب ھیڈماسٹر صاحب کے کمرے سے ساری اپنی روداد سن کر نکلے تو اب تو یہ طے تھا کہ جو حشر اپنا ھونا تھا، واپسی پر سارے راستے میں پٹتا ھوا آیا، ساتھ بہت سی بڑی بڑی گالیاں سنائی دیں جو میں نے زندگی میں کبھی نہین سنی تھیں، مگر میں بالکل خاموشی سے پٹتا ھوا گرتے پڑتے جارھا تھا ساتھ اوئی ھائے کی آوازیں بھی منہ سے نکل رھی تھیں، اب تو شکنجہ میں آھی گئے تھے، اور بکری کی ماں کی خیر کا وقت بھی ختم ھوچکا تھا ، کچھ اتنے عرصہ میں ڈھیٹ پنا بھی آچکا تھا، آخر کب تک، ایک نہ ایک دن تو یہ وقت آنا ھی تھا، جس کے لئے میں پوری طرح تیار تھا، بھاگنے کا بھی پروگرام تھا لیکن بھاگ کر کہاں جاتا، اس چھوٹی سی عمر میں بہت مشکل تھا -

    بس گھر پہنچتے ھی اباجی نے مجمع لگالیا، جیساکہ میں نے پہلے لکھا تھا اور زندگی میں، میں کبھی بھی اس واقعہ کو بھول نہیں سکتا، شاید ھی کوئی ایسا ھوگا جس کے ساتھ یہ سلوک ھوا ھوگا، بہرحال میں مجمع کے درمیان صحن کے بیچوں بیچ اور اُوپر سے والد صاحب کا شدیدترین غصہ جو شاید ھی میں نے کنھی دیکھا تھا، اور ان کے ھاتھ میں ایک اچانک پتہ نہیں کہاں سے چھڑی ھاتھ لگ گئی، میری تو جان ھی نکل گئی، پھر میرے نزدیک جیسے ھی آئے میری تو چیخ ھی نکل گئی، فوراً ھی میرے کپڑے زبردستی اتاردیئے اور اوپر سے پانی کا چھڑکاؤ کردیا، ساری مٹی کیچڑ میں تبدیل ھوگئی اور پھر انہوں نے آؤ دیکھا نہ تاؤ، چھڑی کی برسات مجھ پر کردی، ساتھ پانی کا چھڑکاؤ بھی جاری رھا اگر میری جگہ کوئی اور ھوتا تو شاید مر ھی جاتا،
    اتفاقاً باھر سے کوئی دو تین آدمی بھاگتے ھوے آئے اور والد صاحب کو برا بھلا کہتے ھوئے مجھے آن کے ھاتھوں سے چھڑاکر عورتوں کے حوالے کردیا اس وقت میں کیچڑ میں لت پت اور بری طرح سسکیاں لے رھا تھا، ان آدمیوں نے شاید تمام مجمع کو بھی خوب لعن طعن کی اور سب کو بھگا دیا اور وہ والد صاحب کو باھر لے گئے اور مجھے بعد میں پتہ چلا کہ والد صاحب بھی آنسوؤں سے رو رھے تھے، وہ لوگ تو میرے لئے فرشتے نکلے ورنہ تو میرا کام تمام ھو ھی جانا تھا -

    مجھے اس وقت تھوڑا سا ھوش آیا جب مجھے چند عورتیں مل کر نہلا رھی تھیں اور پھر مجھے نہلا دھلا کر بستر پر لٹا دیا گیا، والدہ مجھے اپنے گود میں سر رکھ کر بہت رو رھی تھیں ساتھ چند خاص محلے کی عورتیں بھی تھیں اور وہ سب والدہ کو دلاسہ بھی دے رھی تھیں اور اندر کمرے میں آنے کی اجازت کسی کو بھی نہیں تھی جبکہ باھر پورے محلےکا مجمع لگا ھوا تھا، انہیں فرشتہ صفت لوگوں نے فوراً قریبی ڈاکٹر کو بلوایا، اس نے اایک انجکشن لگایا، ساتھ جگہ جگہ دوائی بھی لگائی اور کچھ دوائیاں بھی اسی وقت پلائی،

    ڈاکٹر صاحب یہ سمجھے کے شاید میرا کوئی حادثہ وغیرہ ھوگیا ھے، کیونکہ میری حالت ھی کچھ ایسی تھی، آنکھیں سوجی ھوئی، جسم پر ھرطرف چھڑی کے مار کے نشان، منہ بھی سوجا ھوا ایسا لگتا تھا کہ جیسے باکسنگ کے رنگ سے کوئی باکسر ناک آوٹ ھو کر نکلا ھو ، میرا پورا جسم بری طرح درد کررھا تھا، آنکھیں کھل نہیں رھی تھیں، بہرحال ڈاکٹر نے تسٌلی دے دی تھی کہ کوئی خطرے کی بات نہیں ھے -

    باھر سب کو مجھ سے ملنے کی بےچینی لگی ھوئی تھی، کسی کو بھی اس بات کا یقین نہیں تھا کہ میں ایسا بھی کر سکتا ھوں، کیونکہ میں ‌تقریباً ھر گھر میں مقبول تھا اور ھر کوئی میرے ساتھ ھی کھیلنا چاھتا تھا، اور میں اس وقت تک سب بچوں کا ایک ھیرو تھا، میں جب ان کے ساتھ نہیں ھوتا تو کوئی منظم کھیل نہیں ھوتا تھا، سب میرے لئے افسردہ تھے -

    رات کو والد صاحب میرے پاس آئے اور مجھے گلے سے لگالیا ساتھ انکی آنکھوں میں آنسو بھی تھے، میں بھی انہیں دیکھ کر رو پڑا !!!!!!!!!!!!!
     
  17. عبدالرحمن سید
    آف لائن

    عبدالرحمن سید مشیر

    شمولیت:
    ‏23 جنوری 2007
    پیغامات:
    7,417
    موصول پسندیدگیاں:
    21
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: یادوں کی پٹاری پارٹ 1

    اس سے پہلے کہ میں اپنی کہانی کو اگلے موڑ میں داخل کروں، میں چاھتا ھوں کہ اس وقت کے چند مختصراً سخت قسم کے رسم و رواج بتاتا چلوں، جو اب اس معاشرے میں بہت ھی کم نظر آتے ھیں!!!!!!!!!!
    آج والد صاحب کو ھم سے بچھڑے ھوئے تقریباً 17 سال سے زیادہ ھوچکے ھیں، لیکن ان کی یاد اکثر بہت تڑپاتی ھے، وہ جتنے غصہ والے تھے اتنا ھی وہ دل کے اندر سے نرم تھے، لیکن غصہ کے وقت انہیں کچھ بھی دکھائی نہیں دیتا تھا جو کہ بالکل غلط تھا مگر اس وقت کے لحاظ سے آج کی بنسبت لوگوں کا رجحان اپنے بچوں کی تربیت کےلئے بالکل ھی مختلف تھا، اس وقت ھر خاندان میں جو بھی بزرگ تھے سب انکا بہت احترام کرتے تھے اور ھر کوئی انکے ھر فیصلے پر اپنا سر جھکا دینا ھی اپنی سعادتمندی سمجھتا تھا، چاھے وہ فیصلہ غلط ھی کیوں ھی نہ ھو، یہاں تک کہ خود والد اپنے بچوں یا کسی اور مسلئے میں بھی کوئی فیصلہ نہیں کرسکتا تھا اگر بچوں کے دادا حیات ھوں، اب بھی کئی خاندانوں میں یہی رواج چل رھا ھے،

    اسوقت میں نے اپنے بچپن کے دور میں والدہ کو بھی سب کے ساتھ کھانا کھاتے نہیں دیکھا، سب سے پہلے وہ ھم سب بہں بھائیوں اور ساتھ والد کےلئے کھانا لگاتی تھیں اور خود ھاتھ کا پنکھا لئے سب کو اپنے ھاتھوں سے ھر ایک کی پلیٹ میں ضرورت کے مظابق دال یا گوشت کا سالن ڈالتی رھتیں، اور ھم سب ان ھی کی ھدایت پر بہت ھی کفایت شعاری سے کسی بھی سالن کو روٹی یا چاول کے ساتھ استعمال کرتے تھے، وہ ھر ایک کو برابر برابر کھانا تقسیم کرتیں تھیں، اور ضرورت سے زیادہ مانگنے پر ڈانٹ بھی پڑتی، مگر میں کچھ زیادہ ھی اسرار کرتا اور اکثر کہہ بھی دیتا “وہ ھانڈی میں سالن بچا ھوا تو ھے وہ مجھے کیوں نہیں دیتیں“ بعض اوقات وہ بھی مجھے اپنی مامتا کی محبت میں وہ ھانڈی بھی صاف کر کے میری پلیٹ میں ڈال دیتیں، مگر میں اس سے بےخبر رھتا کیونکہ وہ سب سے آخر میں سب کو کھانا کھلانے کےبعد اکیلی چولھے کے پاس بیٹھ کر کھانا کھاتیں، اگر کچھ بچ گیا تو ورنہ وہ خالی کل کی باسی سوکھی روٹی ھی، اچار یا چٹنی سے لگا کر کھاتیں، مگر وہ کبھی کسی سے کچھ نہیں کہتی تھیں !!!!!!!!!! اور ھم سب اس سے بےخبر اپنی ھی دھں میں مگن رھتے -
    کیا ماں کی ممتا کی عظمت ھے، اسے لاکھوں سلام !!!!

    اُس وقت ماں کے اوپر ھی سارے گھر کا دارومدار ھوتا تھا گھر کی ساری صفائی سے لیکر کھانا پکانے اور کھلانے تک، بمعہ شوھر اور بچوں کی ھر ضرورت اور خدمت کو پورا کرنے میں سارا سارا دن وہ مشغول رھتیں، چاھے وہ کتنی ھی تکلیف میں کیوں نہ ھو، ابھی بھی کئی مائیں اپنی اسی پرانی ڈگر پر چل رھی ھیں، جس کی وجہ سے کئی گھروں کا سکون ابتک قائم ھے، ورنہ اجکل کی زیادہ تر عورتیں تو بچوں کے سامنے ھی ظلاق کا مطالبہ کرتیں ھیں، دوسری باتیں تو چھوڑیں، انہیں نہ اپنے شوھر سے کوئی غرض ھوتی ھے نہ ھی اپنے بچوں سے جس کے ذمہ دار مرد حضرات بھی ھیں، چاھے غلطی کسی کی بھی ھو -

    پہلے ایسا بہت ھی کم ھوتا تھا کہ بچوں کے سامنے کوئی بھی میاں بیوی آپس میں لڑائی جھگڑا کریں، بڑوں کی اگر کوئی بات بھی ھورھی ھو تو ھمیں بھگا دیا جاتا تھا، لیکن میں اکثر اسی فراق میں لگا رھتا تھا کہ کیا بات ھورھی ھے، اکثر یہ بھی دیکھا گیا کہ اگر میاں بیوی کے بڑے بزرگ اگر ساتھ موجود ھوں تو مجال ھے کہ گھر کی بہو ان کے سامنے اپنے شوھر کے ساتھ بیٹھ جائے یا زور زور سے باتیں کرے، بلکہ دیکھا گیا ھے کہ اکثر گھر کی عورتیں بزرگوں کے سامنے بیٹھتی تک نہیں تھیں اور بس ھاتھ کا پنکھا لئے انھیں گرمیوں میں جھلا کرتیں تھیں، اور بچے بالکل ادب سے ان سب کا احترام کرتے اور باھے نکلتے ھی اپنی اوقات میں آجاتے یعنی شور ھنگامہ شروع ھوجاتا -

    جاری ھے!!!!!!!!!!!
    ----------------------------------------

    پہلے ایسا بہت ھی کم ھوتا تھا کہ بچوں کے سامنے کوئی بھی میاں بیوی آپس میں لڑائی جھگڑا کریں، بڑوں کی اگر کوئی بات بھی ھورھی ھو تو ھمیں بھگا دیا جاتا تھا، لیکن میں اکثر اسی فراق میں لگا رھتا تھا کہ کیا بات ھورھی ھے، اکثر یہ بھی دیکھا گیا کہ اگر میاں بیوی کے بڑے بزرگ اگر ساتھ موجود ھوں تو مجال ھے کہ گھر کی بہو ان کے سامنے اپنے شوھر کے ساتھ بیٹھ جائے یا زور زور سے باتیں کرے، بلکہ دیکھا گیا ھے کہ اکثر گھر کی عورتیں بزرگوں کے سامنے بیٹھتی تک نہیں تھیں اور بس ھاتھ کا پنکھا لئے انھیں گرمیوں میں جھلا کرتیں تھیں، اور بچے بالکل ادب سے ان سب کا احترام کرتے اور باھے نکلتے ھی اپنی اوقات میں آجاتے یعنی شور ھنگامہ شروع ھوجاتا -
    میں یہ تو نہیں کہہ سکتا کہ اُس وقت کے دور میں کوئی خرابی ھی نہیں تھی، کچھ اچھائیاں تھیں تو کچھ یقیناً برائیاں بھی ھونگی، لیکن جو کچھ بھی مجھ پر گزری یا جو کچھ بھی میں نے اس وقت دیکھا اور جو بھی مجھے یاد ھے میں پوری ایمانداری سے اپنی اس تحریر میں منتقل کرتا جارھا ھوں، جو کہ میرا ایک خواب تھا اور اس کی تعبیر کو حقیقت میں لانے کا حوصلہ مجھے آپ لوگوں سے اس ھماری پیاری اردو کی محفل میں ملا، جسکا میں آپ سب کا بہت بہت ممنون اور شکریہ ادا کرتا ھوں کہ آپ قدردانوں نے اپنا قیمتی وقت مجھ ناچیز کی تحریروں کو دیا جبکہ میں کوئی مستند ادیب یا مقرر نہیں ھوں، صرف اردو کا ایک ادنا سا خادم ھوں،
    میں کچھ ماضی کے خوابوں سے جڑے چند یادوں کا مختصر سا تعارفی خاکہ پیش کررھا ھوں، جو آگے تفصیل سے بیان کرونگا -

    ایک وقت وہ بھی تھا جب میں نے اپنے ایک دوست کے ساتھ مل کر اس شوق کو اپنے مستقبل کے کیرئیر کی طرف راغب کرلیا تھا، میرے دوستوں میں ایک دوست “محسن حسنی“ جو بہتریں اردو اور انگلش کے ھر قسم کے رسم الخط لکھنے میں ماھر تھے، ان کے ساتھ مل کر “حسنی آرٹس اینڈ پینٹرز“ کے نام سے ایک دکان کھولی اور وہ ایک معاش کا بھی ذریعہ بھی بن گیا، جہاں ھمیں دکانوں کے مختلف سائن بورڈ، سینماوں کے فرنٹ اور چھوٹے اشتہاروں کے بورڈ، سینما سلائڈز وغیرہ بنانے کے کافی آرڈر ملتے تھے اور خاص طور سے الیکشن کے زمانے میں تو ھماری چاندی ھوتی تھی، کیونکہ اس وقت ھمیں انکے بڑے چھوٹے بینرز اور پمفلٹ لکھنے کے منہ مانگے دام ملتے تھے،

    اس وقت تمام لکھائی زیادہ تر اردو میں ھی ھوتی تھی، اردو لکھائی سے زیادہ تو میں تصویریں بڑے بڑے بورڈز پر اپنے ھاتھ سے ھی پینٹ کیا کرتا تھا، جو کہ بچپن سے ھی مجھے اردو خوشخطی کے ساتھ ساتھ تصویریں بھی بنانے کا بے حد شوق تھا مگر والد صاحب کو میرا یہ شوق پسند نہیں تھا، اس کے ساتھ ایک اور بھی شوق اسٹیج ڈرامے ترتیب دینا اور منعقد کرنا بھی بچپن سے ھی شوق رھا، اس کے علاؤہ کالج کے میگزین میں بھی کوشش رھی کچھ افسانے لکھنے کی، لیکن وہ بھی زیادہ دن نہ چل سکا اور کچھ اخباروں اور دوسرے ادبی اور فلمی رسالوں کی زینت بننے کی بھی کوشش کی اس کے علاوہ ایک آدھ فلم کے اسکرین پلے لکھنے کا موقع بھی ھاتھ لگا وہ بھی والد صاحب کے غصہ کی نذر ھوگیا، یہ بھی ایک لمبی کہانی ھے، جو اپنے تسلسل کے ساتھ ھی منظرعام پر آئے گی- اور ساتھ ھی اپنے پیار اور محبت سے جڑی ایک لمبی داستان جس کے خواب کی تعبیر نہ مل سکی، اس دور سے جب میں گزرونگا تو شاید سب کو اس میں اپنے اپنے خواب بھی نظر آجائیں -

    پہلے گلی محلوں میں بچوں کے ساتھ مل کر چھوٹے چھوٹے مزاحیہ خاکوں کی ابتدا کی پھر ساتھ ھی تمام محلے کے بچوں اور بہن بھائیوں کو لے کر ریڈیو پاکستان جاتا رھا، جہاں پہلے ھی سے “انٹری پاس“ لے کر بچوں کے پروگراموں میں حصہ بھی لیتا تھا اور اپنے علاؤہ تمام بچوں کی آواز کا آڈیشن یعنی ٹیسٹ کرواکر پروگرام میں قومی نغمے، حمد اور نعتیں سنانے میں حصہ دلواتا بھی تھا جو براہ راست نشر بھی ھوتے تھے اور تمام محلہ کے لوگ ریڈیو پر ھم سب کو براہ راست سنتے بھی تھے یہاں تک تو اجازت ملی،
    لیکن جب بڑے ھوکر ھم سب دوستوں نے مل کر شوقیہ اسٹیج شوز شروع کئے تو بہت ھی مشکل پیش آئی کیونکہ والد صاحب کو یہ قطعی ناپسند تھا -
    جسے مجبوراً والد صاحب کی تنبیہ پر ھر اپنا ادب آرٹ اور مصوری کو 18 سال کی عمر میں خیر باد کہنا پڑا اور انہیں کے پیشے سے منسلک ھوکر رہ گیا اور اب تک اکاونٹس کے پیشے میں ھی ھوں،

    یہ تو ھماری پیاری اردو کی محفل اور آپ سب قدردانوں کی مہربانی ھے کہ مجھے دوبارہ تقریباً 40 چالیس سال بعد اتنا اچھا موقع ملا ھے، جسے میں اپنی کہانی کے ذریعے اپنے شوق کو دوبارہ بحال ھوتے ھوئے دیکھ رھا ھوں!!!!!!!!!!!!!!!!!

    اس مختصر سے ماضی کی چند خوشگوار جھلکیوں کے ساتھ آیندہ آنے والے کل تک مجھے اجازت دیں، امید ھے آپ سب اپنا خیال رکھیں گے -

    اللٌہ حافظ

    --------------------------------------------------------------------------------------
     
  18. عبدالرحمن سید
    آف لائن

    عبدالرحمن سید مشیر

    شمولیت:
    ‏23 جنوری 2007
    پیغامات:
    7,417
    موصول پسندیدگیاں:
    21
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: یادوں کی پٹاری پارٹ 1

    رات کو والد صاحب میرے پاس آئے اور مجھے گلے سے لگالیا ساتھ انکی آنکھوں میں آنسو بھی تھے، میں بھی انہیں دیکھ کر رو پڑا !!!!!!!!!!!!!

    میری اس وقت بھی سسکیاں نکل رھی تھیں، پورے جسم میں بہت درد تھا، لیکن جب اباجی نے گلے لگایا تو اس درد کا احساس کچھ قدرے کم ھوا، انکی آنکھوں میں جو آنسو امڈ رھے تھے اس سے پہلے کبھی میں نے انہیں اس حالت میں نہیں دیکھا،

    وہ اپنی گھُٹی ھوئی آواز میں یہی بول رھے تھے کہ “ تو مجھے کیوں تنگ کرتا ھے، مجھے آج سے اپنا دوست سمجھ اور ھر بات مجھے اچھی یا بری بات ضرور بتایا کرو“ اور شاید یہ بھی کہ رھے تھے کہ مجھے معاف کردینا بیٹاآآآآآآآآآآآآآآآآآآآآآآ
    اس دن کے بعد انہوں نے مجھے ڈانٹا ضرور لیکن کبھی ھاتھ نہیں اٹھایا، اسی وجہ سے میرے اندر بھی شاید ایک تبدیلی سی آگئی تھی-

    اب مسلئہ یہ تھا کہ محلے میں مجھے کسی کے گھر جاتے ھوئے بھی ایک شرمندگی محسوس ھوتی تھی - کافی دنون تک اپنے آپ کو گھر میں ھی مقیٌد رکھا آہستہ آہستہ جب کچھ طبعیت سنبھلی، تو والد صاحب بہت پیا ر سے مجھے اسی پرائمری اسکول میں لے گئے اور پانچویں کلاس میں داخلہ دلادیا - شاید کوئی پھر سے مجبوری رھی ھوگی یا کہیں داخلہ نہ مل سکا ھو -

    وھاں جاکر میں نے دیکھا کہ حالات کچھ بدل سے گئے ھیں، شکر ادا کیا جب میں نے ان لڑکوں کو وہاں نہ پایا، کیونکہ سب وہاں سے رخصت ھوگئے تھے یعنی چھٹی کلاس کیلئے انہیں دوسرے سیکنڈری اسکول میں داخلہ لینا پڑا ھوگا، اور یہ دیکھ کر اور بھی زیادہ خوشی ھوئی کہ وہاں کا ماحول بھی بہت بہتر نطر آتا تھا، لیکن بعد میں مجھے کلاس کے مانیٹر شعیب، جو میری پچھلے سال کی کہانی جانتا تھا، اس نے مجھے بہت تسلی دی اور میں اس لڑکے کا شکر گزار ھون کہ اس نے اس کلاس میں میرے علاوہ کسی کے ساتھ بھی زیادتی نہیں ھونے دی اور بعد میں میرا اچھا دوست بن گیا، اس کے علاوہ اور بھی دوست تھے لیکن یہ مجھے سب سے اچھا لگا، بعد میں دو اور دوست حسیب بیگ اور حفیظ اللٌہ بھی بنے تھے جو میرے لئے ایک مشعل راہ ثابت ھوئے اور خوش قسمتی سے انکا ساتھ دوسرے سیکنڈری اسکول میں بھی رھا

    دوبارہ میں نے ایک بالکل نئے جذبے کے ساتھ پڑھائی شروع کی وہاں کے کلاس تیچر شفیع صاحب نے خوب محنت سے پیار سے اور ایک منظم طریقہ کار سے ھمیں پڑھانا شروع کیا جس کےلئے مجھے خود حیرانگی ھورھی تھی کہ کیا یہ وھی اسکول ھے یا کوئی خواب دیکھ رھا ھوں

    اللٌہ کا شکر تھا کہ جن سے پہلے میں نظریں چرارھا تھا اب کچھ نظریں ملا کر بات کرنے لگا تھا، لیکن کچھ ایسے بھی تھے کہ مجھ سے اب تک نالاں تھے اور اپنے بچوں کو مجھ سے دور رکھتے تھے، جس کا مجھے بہت دکھ ھوتا تھا، جن بچوں کا میں ھیرو کہلاتا تھا اب میں ان کے لئے بالکل زیرو تھا، وہ اکثر میرا مذاق اڑاتے اور میں اپنی گردن نیچے کئے خاموشی سے انکے سامنے نکل جاتا، میرا دل تو بہت چاھتا تھا کے پھر سے پہلے کی طرح میں ان کے ساتھ کھیلوں، لیکن اب ان کی نظر میں میری وہ عزت نہیں رھی تھی،

    یہ اللٌہ تعلیٰ کا لاکھ لاکھ شکر تھا کہ اب پڑھائی بہت اچھی چل رھی تھی اور روزانہ باقاعدگی سے اسکول جارھا تھا اور ساتھ ساتھ ماہانہ ٹیسٹ اور دوسرے سہہ ماھی اور ششماھی امتحانات بھی اچھے نمبروں سے اچھی پوزیشن حاصل کی شاید کلاس مین ساتویں یا آتھویں پوزیشن پر رھا، میرے کلاس کے دوستوں نے بھی میرا بہت اچھا ساتھ دیا، اب تو والد صاحب بھی اسکول کا چکر لگاتے تھے اور کلاس ٹیچر اور ھیڈ ماسٹر صاحب سے ملکر میری طرف سے تسلی پا کر چلے جاتے تھے، اور اکثر ھر دوسرے تیسرے روز گھر پر مجھے وہ پڑھاتے بھی تھے، مگر اب تک محلے میں چند ایک کو میرا اب تک یقیں نہیں آیا تھا کہ واقعی میں اب سدھر گیا ھوں،

    چھ مہینے گزرنے کے بعد بھی میں اپنے محلے میں اپنا اعتماد بحال نہیں کرسکا تھا، شام کو میرا دل بہت چاھتا کہ میں سب کے ساتھ کھیلوں اور خوب باتیں کروں جو بھی میرے ساتھ بات بھی کرنے آتے تو سب انکا بھی مذاق اڑانے لگتے، والدیں اس سے بے خبر تھے اور میں نے بھی انہیں کچھ نہیں بتایا تھا اور اب گھر پر پہلے کی طرح کوئی محلے کے بچوں کی رونق نہیں تھی، بہرحال مجھے اس بات کا بہت دکھ تھا، والدہ مجھے کافی وقت دیتی تھیں اور ھمیشہ میرے بجھے ھوئے دل کو بہلانے کی کوشش میں لگی رھتی لگتا تھا کہ میری ماں کو میرے اندرون دل کی حالت پتہ تھی -

    اب تو میں کتابوں اور اسکول کی حد تک محدود ھوکر رہ گیا تھا، میں گھر آکر باھر نکلنا بھی چھوڑدیا تھا صرف والد صاحب کے ساتھ ھی باھر سودا وغیرہ لینے نکلتا تھا، کیونکہ ان کے سامنے محلے کے بچے مجھے چھیڑنے سے گریز کرتے تھے، میرے دل میں اہستہ آہستہ ایک بزدلی کا خوف بیٹھتا جارھا تھا، اسکول جاتے وقت اور واپسی پر بھی مین ڈرتا ڈرتا باھر نکلتا تھا اور تیز تیز چلتا تھا تاکہ کوئی مجھے کوئی پیچھے سے آواز نہ کسے یا چھیڑے، اور اس طرح روز بروز بجھے لگتا تھا کہ میں ایک نفسیاتی مریض بنتا جارھا ھوں، سوتے سوتے میں اکثر چیخ مار کر اٹھ جاتا تھا اور والدہ میرے پاس دوڑ کر آتیں اور گود میں میرا سر رکھ کر مجھ پر پڑھ کر دم بھی کرتی تھیں اور پھر میں انکی گود میں سر رکھ کر سوجاتا تھا- پھر مجھے سلا کر چادر اڑھا کر پھر وہ بھی سو جاتی تھیں، بعد مین سب کچھ ٹھیک ھو گیا لیکن وہ خواب میں چیخ کر ڈر کے اٹھنے کی بیماری ابھی تک نہیں گئی -

    خیر اب تو میں دس سال کی عمر میں داخل ھورھا تھا اور دل اب تک بےچین تھا کئی دفعہ کوشش بھی کی باھر جاؤں لیکن ھمت نہیں پڑتی تھی، والدہ بھی باھر بھیجنے کی کوشش کرتیں لیکن دروازے سے جاکر واپس آجاتا، آخر ایک دن کچھ ھمت پکڑی اور باھر نکلا اور جیسے ھی بڑی گلی میں داخل ھوا تو کچھ نے مجھے دیکھ لیا اور شروع ھوگئے میرا مذاق اڑانے اور ایک نے تو میرے نزدیک آکر کچھ برے الفاظ کہے اور مجھے دھکا دے کر لگا میرے گریبان میں ھاتھ ڈالنے،
    اس سے پہلے کہ وہ میرے گریبان کو چھوتا ایک لڑکی میرے اور اسکے درمیاں آگئی اور زور کا چانٹا اس لڑکے کے منہ پر دھر دیا اور وہ لڑکا اپنے گال سہلاتا ھوا بھاگ کھڑا ھوا، میں ایک دم گھبراگیا کہ یہ کون سی ھستی آگئی، پہلے تو یہ چہرہ یہاں کبھی نہیں دیکھا تھا، مجھ سے عمر میں بڑی بھی لگ رھی تھی اور الٹا مجھے ڈانٹنے لگی کہ تم کتنے بزدل ھو اس لڑکے کا مقابلہ نہیں کرسکتے، میں کیا جواب دیتا میں تو پہلے ھی ھکا بکا ھو کر اسے دیکھ رھا تھا کہ اسے مجھ سے ھمدردی کیسے ھو گئی جان نہ پہچان شاید کسی کہ مہمان آئے ھوئے ھوں،

    اس سے پہلے کہ میں کچھ اور ذہن پر زور ڈالتا، اس نے فوراً میرا ھاتھ پکڑا اور وہ جیسے ھی مڑی اسکے پہچھے شاید اسکی چھوٹی بہن کھڑی نظر آئی جو دیکھ کر مجھے مسکرارھی تھی، وہ چھوٹی سی مجھے بڑے غور سے اور مسکراتے ھوئے دیکھ رھی تھی اور جسے دیکھ کر ایک عجیب سی میرے دل میں ایک خوشی کی لہر دوڑ گئی، !!!!!!!!!!!!!

    وہ بڑی میرا ھاتھ پکڑے آگے آگے چل رھی تھی اور چھوٹی پیچھے پیچھے مسکراتی چل رھی تھی میں حیران پریشان، سوچتا ھوا ان کے ساتھ چل رھا تھا کہ یہ کون ھو سکتی ھیں ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟

    --------------------------------------------------------------
    اس سے پہلے کہ میں کچھ اور ذہن پر زور ڈالتا، اس نے فوراً میرا ھاتھ پکڑا اور وہ جیسے ھی مڑی اسکے پہچھے شاید اسکی چھوٹی بہن کھڑی نظر آئی جو دیکھ کر مجھے مسکرارھی تھی، وہ چھوٹی سی مجھے بڑے غور سے اور مسکراتے ھوئے دیکھ رھی تھی اور جسے دیکھ کر ایک عجیب سی میرے دل میں ایک خوشی کی لہر دوڑ گئی، !!!!!!!!!!!!!

    وہ بڑی میرا ھاتھ پکڑے آگے آگے چل رھی تھی اور چھوٹی پیچھے پیچھے مسکراتی چل رھی تھی میں حیران پریشان، سوچتا ھوا ان کے ساتھ چل رھا تھا کہ یہ کون ھو سکتی ھیں ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟

    میں تو پہلے ڈر ھی گیا کہ کہیں یہ مجھے پکڑکر میرے گھر میری شکایت کرنے جارھی ھیں، واقعی وہ بڑی مجھے پکڑے میرے گھر ھی لے گئی، وہاں ان کی والدہ میری والدہ کے ساتھ بیٹھی باتیں کررھی تھیں اور بڑی تو فوراً تنک کر بولی کہ خالہ اپنے اس لاڈلے بیٹے کو سمجھا دیں کہ گلی میں فالتو لڑکوں کے منہ نہ لگا نہ کرے، چھوتی تو اپنی اماں کے پاس خاموشی سے بیٹھ گئی اور میں اپنی والدہ کے کہنے پر ھاتھ منہ دھونے اور کپڑے بدلنے چلاگیا کیونکہ اس لڑکے کی مڈبھیڑ کی وجہ سے کچھ حالات خراب ھوگئی تھی -

    ًمیں بالکل شش وپنج میں تھا کہ یہ آخر ماجرا کیا ھے اور یہ کون ھیں کہاں سے آئی ھیں اور مجھے کیسے جانتی تھیں کہ راستے میں ھی مجھے پکڑ اس لڑکے سے جان چھڑا کر گھر لے آئیں، بعد میں والدہ ھی سے معلوم ھوا کہ جو پچھلے مہینے میں دوسری گلی کے نکڑ والے مکان میں نئی فیملی آئی ھے، یہ وھی لوگ ھیں، میں زیادہ پنچایت میں بھی نہیں گیا، اس وقت مجھے کسی کے تعارف کا بھی کوئی شوق نہیں تھا میں اور کوئی مزید تفصیل میں پڑے بغیر اپنی پڑھائی کی طرف لگ گیا،
    اب تو بالکل باھر جانے کو دل نہیں کرتا تھا، سب پرانے دوست اب ویسے ھی مجھ سے دور رھتے تھے، حالانکہ میرا دل بہت چاھتا تھا کہ میں دوبارہ سے ان کے ساتھ مل کر کھیلوں اور پہلے کی طرح محلے کی رونق بنوں، والدین میری خاموشی سے بہت پریشان تھے، کیونکہ میرا اب روز کا معمول صرف اسکول جانا، گھر پر کھانا کھانا اور کچھ دیر اپنے ھی بہن بھائیوں کے ساتھ صحن میں کھیل کر اپنی پڑھائی میں لگ جانا، اس کے علاوہ بس اپنے اوپر ایک خاموشی کا لبادہ اوڑھ لیا تھا اور ایک چپ سی لگا لی تھی، بس یہی سوچتا رھتا تھا کہ اب میں سب کی نظروں میں کیوں اتنا گر گیا ھوں، اور روز بروز ایک نفسیاتی مرض کا شکار ھوتا جارھا تھا اور کمزوری بھی محسوس کررھا تھا اکثر سوتے میں ڈر کر اٹھ جانا روز کا معمول بن چکا تھا -

    اباجی ھمیشہ گھر میں دو تیں بکریاں اور کئی مرغیاں ضرور پالتے تھے، اوراس وقت ھم بچوں نے بکری کا دودھ کثرت سے پیا، ان ھی میں سے جب بکری کے بچے جب بڑے ھوجاتے تو ایک بکرا قربانی کے لئے تیار کرتے تھے، لیکن قربانی کے وقت ھم سب کو رونا آجاتا تھا کیونکہ پورا ایک سال ھم ان بکری کے بچوں سے اتنا مانوس ھوجاتے تھے کہ ان کی کوئی تکلیف دیکھی نہیں جاتی تھی، اسکے علاوہ اباجی خود ھی شام کو بکریاں چرانے چلے جاتے تھے اور کبھی کبھی ھم بچے بھی مل کر ساتھ ھو لیتے تھے،
    لیکن جب سے میں نے خاموشی اختیار کی وہ کچھ زیادہ پریشاں ھوگئے اور بعض اوقات تو میرے ھاتھ پیر ٹھنڈے پڑ جاتے اور میں والدہ کی گود سر رکھ کہتا امی دیکھو مجھے کیا ھورھا ھے، سورہ یاسین پڑھنے کیلئے کہتا کبھی زیادہ طبیعت خراب ھوتی تو ھمارے نئے محلے دار کے یہاں سے بلوالیتی، وھاں سے دونوں لڑکیاں اور ان کی اماں ساتھ کبھی کبھی ان کی نانی اماں بھی لاٹھی ٹیکتی ھوئی پہنچ جاتیں، پھر دیسی ٹوٹکے سے علاج شروع ھوجاتا، ھماری والدہ بھی ان لوگوں کے آنے سے کچھ سکون میں نطر آتیں، اور قدرتی میری طبعیت بھی تھیک ھو جاتی،
    آھستہ آھستہ میں اور ھمارے سب گھر والے اس فیملی سے مانوس ھوتے جارھے تھے اور بالکل ایسا لگنے لگا تھا جیسے آپس میں ھم لوگ کوئی بہت قریبی رشتہ دار ھوں!!!!!!!!!

    آج کچھ کام کی زیادتی کی وجہ سے میں کچھ زیادہ وقت نہ دے سکا انشااللٌہ کل پھر اپنی پٹاری لیکر حاضر ھونگا، اجازت چاھتا ھوں آپ سب اپنا خیال رکھئے گا،

    اللٌہ حافظ

    ---------------------------------------------------------------------------------------

    آھستہ آھستہ میں اور ھمارے سب گھر والے اس فیملی سے مانوس ھوتے جارھے تھے اور بالکل ایسا لگنے لگا تھا جیسے آپس میں ھم لوگ کوئی بہت قریبی رشتہ دار ھوں!!!!!!!!!

    شاید ایک وجہ یہ بھی رھی ھو کہ والدہ کو ان سے ایک بہت میری طبعیت کے حوالے سے ایک فکر ختم ھوگئی تھی کیونکہ ان کے ساتھ کی وجہ سے میں کچھ بہتر ھوتا جارھا تھا اور زیادہ تر ھمارے گھر پر وقت گزارتیں دوسری وجہ ان کا کوئی بیٹا نھیں تھا اور شاید ان کی والدہ کو میرے روپ میں ایک بیٹا دکھائی دے رھا ھو -

    پھر بڑی باجی کے اصرار پر ھم تینوں باھر بھی کھیلنے کیلئے نکلنے لگے لیکں شروع شروع میں مجھے بہت ڈر لگا تھا باھر کے لڑکوں کی وجہ سے اور احساس محرومی کا شکار تھا، لیکن بڑی باجی کی وجہ سے بہت کچھ ھمت آگئی تھی اور دوبارہ میں اس قابل ھوگیا تھا کہ کسی بھی آنکھ میں آنکھ ڈال کر بات کر سکتا تھا، اس طرح میں آھستہ آھستہ مجھ میں خود اعتمادی بھی آگئی تھی اور اب ھمارے گروپ میں اور لڑکے اور لڑکیاں بھی شامل ھو گئے، جو کبھی میرے خلاف چلے گئے تھے، لیکن پھر بھی چند لڑکے اب تک مجھ سے نالاں تھے، مگر انکی ھمت نھیں پڑتی تھی کہ ھمارے گروپ کو پریشان کریں،

    یہ مکمل تبدیلی ان دونوں نئی لڑکیوں کی بدولت ھی تھا کیونکہ ان کا رویٌہ بہت اچھا تھا اور وہ بہت ھی سلجھی ھوئی باتیں کرتیں تھیں اس کے علاوہ انہوں نے تمام بچوں میں نئے نئے کھیلوں کا اضافہ کرایا، اس محلے میں اس وقت صرف دو یا تین گھروں میں ریڈیو ھوا کرتا تھا اور ھم سب بچے شام کو کھیل کود کے بعد ان کے گھر ریڈیو سننے جاتے تھے، خاص طور سے اس وقت ھفتہ کی رات کو “اسٹوڈیو نمبر9“ رات کے 9 بجے ھی ریڈیو پاکستاں سے ایک نیا ڈرامہ نشر ھوتا تھا اور ھر منگل کی شب 9 بجے یا ساڑے 9 بجےمختلف مزاحیہ خاکوں پر مبنی ایک پروگرام “دھنک“ آیا کرتا، جس کا نام بعد میں “کہکشاں“ ھوگیا تھا، یہ ھم تمام پروگرام ان کے گھر بیٹھ کر سنتے تھے،

    ٹیلیویژن کے بارے میں اس وقت کوئی تصور بھی نہیں تھا، لیکن یہ ضرور بڑے تعجب سے یہ سنا کرتے تھے کے ولایت میں ایک ریڈیو ایسا بھی ھے جس کے سامنے فوٹو بھی نظر آتی ھے، ھماری بڑی باجی تو اب سب کی لیڈر بن چکی تھیں اور انکی زبان سے جو الفاظ نکلتے تھے وہ بہت ھی زیادہ شائستہ اور مودب ھوتے تھے، اس کے علاوہ ان دونوں کے رکھ رکھاؤ اور ان کےنفیس اور صاف ستھرے لباس، جس کی وجہ سے سب بچے ان سے مرعوب بھی تھے، ان کی دوسری پوزیشن میں انکی چھوٹی بہن تھی، وہ بھی باتیں بہت کرتی تھی اور ساتھ وہ بھی اپنی بڑی بہن کی طرح خوش مزاج مگر تھوڑی سی خودار قسم کی یعنی کسی کو زیادہ خاطر میں میں نہیں لاتی تھی،

    بہرحال کم از کم اس بات کی تو خوشی تھی کہ ان کی وجہ سے اس محلے کے بچوں کو ایک سدھرنے کا موقعہ مل گیا تھا اور ان کے والدین بھی خوش تھے، اس کے علاوہ وہ بچوں کو بنیادی تعلیم کا بھی درس پڑھاتی بھی رھیں، غرض کہ وہ ھر ایک کو بولنے کا صحیح طریقہ کار اس کے صحیح تلفظ بیانی پر بہت زیادہ زور دیتی تھیں، بچوں کو تفریحی طور پر چھوٹے چھوٹے ڈرامے کھیل اور قومی نغمے کی پریکٹس بھی کراتیں تھیں، جس کی وجہ سے میں نے بچوں کو ریڈیو پاکستان کے بچوں کے پروگراموں میں لےجانے شروع کیا، جہاں پر اس وقت، بڑے بڑے فنکاروں ظفر صدیقی، منی باجی،ارش منیر، عبدالماجد، ظلعت حسین اور دوسروں کے ساتھ بچوں کے پروگراموں مین حصہ بھی لیتے رھے

    ھمارے محلے کی رونق بھی کچھ زیادہ بڑھ گئی بچوں کو ایک نئی ظرز کے کھیلوں میں دلچسپیاں بڑھ رھی تھیں جس میں معلوماتی باتیں بھی تھیں بہت کم بچے تھے جو ھمارے ساتھ نہیں تھے، ھر عید پر بچوں کا ایک رونق میلہ لگ جاتا اور محلے کے بچوں کی ایک اکثریت سلیقہ شعار اور پڑھنے کی طرف رجحان زیادہ ھوگیا، پھر ھم تینوں ھی مل کر تمام بچوں کی ٹیم کی نگرانی کرتے اور کھیل کے وقت کھیل اور پڑھائی کے وقت پڑھائی کنا شروع ھوگئے اور محلے والوں کی نظر میں وھی مقام جو پہلے کبھی تھا واپس مجھے مل گیا اور اب تو ھمیں بہت عزت دیتے تھے، لوگ پرانی باتوں کو بھول چکے تھے اور ھم تینوں ھی اس وقت سب کے استاد تھے،

    اباجی اب بہت مطمئین تھے، والدہ بھی بہت خوش تھیں، اسی دوران والد صاحب نے ایک پرچون کی دکان کھول کر میری ذمہ داری میں ایک اور مزید اضافہ کردیا، جو عین محلے کی درمیان تھی، اسکول بھی ساتھ ساتھ بہت اچھا چل رھا تھا اور ھر چیز اپنے معمول پر آگئی تھی، ایک محلے میں اپنی ایک دکان کا اضافہ ھوگیا تھا اور جس کی وجہ سے میرا اب زیادہ تر وقت دکان پر ھی گزرتا تھا اور کچھ بہت سی نئی کہانیوں نے کئی رخ موڑے جس کا آگے ذکر کرونگا-

    جاری ھے
     
  19. عبدالرحمن سید
    آف لائن

    عبدالرحمن سید مشیر

    شمولیت:
    ‏23 جنوری 2007
    پیغامات:
    7,417
    موصول پسندیدگیاں:
    21
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: یادوں کی پٹاری پارٹ 1

    اباجی اب بہت مطمئین تھے، والدہ بھی بہت خوش تھیں، اسی دوران والد صاحب نے ایک پرچون کی دکان کھول کر میری ذمہ داری میں ایک اور مزید اضافہ کردیا، جو عین محلے کی درمیان تھی، اسکول بھی ساتھ ساتھ بہت اچھا چل رھا تھا اور ھر چیز اپنے معمول پر آگئی تھی، ایک محلے میں اپنی ایک دکاں کا اضافہ ھوگیا تھا اور جس کی وجہ سے میرا اب زیادہ تر وقت دکان پر ھی گزرتا تھا اور کچھ بہت سی نئی کہانیوں نے کئی رخ موڑے جس کا آگے ذکر کرونگا-
    جب سے دکان کھلی، شروع میں تو کچھ دنوں تک والد صاحب کے ساتھ ٹریننگ کرتا رھا بعد میں جب ریٹ وغیرہ کا صحیح طور پر اندازہ ھوگیا تو میری ڈیوٹی کا ایک مستقل شیڈول بن گیا روزانہ اسکول سے گھر آتا کھانا وغیرہ کھاکر سیدھا دکان کھولتا، لکڑی کے کھوکے کی طرح دکان تھی، بیٹھتے ھی ھلکے سے جھکولے کھانا شروع کردیتی تھی پہلے دکان کے نیچے کا پلڑا کھولتا تھا جو اپنے دو پایوں پر ٹکتے تھے، پھر اوپر کا پلڑا نیچے والے پلڑے کا اوپر کھڑے ھوکر کھولتا تھا اور پھر نیچے کے پلڑے پر تمام بچؤں کی ٹافیاں اور بسکٹ وغیرہ کی برنیاں ترتیب سے سجا دیتا اور ساتھ ھی ایک ترازو جو ایک اسٹینڈ کے ساتھ تھا اسی لکڑی کے پلڑے پر درمیاں میں رکھ لیتا اور اندر دکان کے سارے سامان پر ایک دفعہ کپڑا مار کر صفائی بھی کرتا اور جب تک ایک اچھی خاصی بھیڑ لگ جاتی اور ایک شور مچ جاتا، سب اتنی جلدی میں ھوتے کہ ھر ایک یہی کہتا کہ میں پہلے آیا تھا مجھے پہلے دو -

    اس محلے میں یہ ایک ھی پہلی دکان تھی، جو لوگوں کی خواھش پر اباجی نے کھولی تھی، اباجی جب دفتر سے واپس گھر آتے تو سب سے پہلے سیدھا دکاں پر ایک نظر مارتے ھوئے گھر پہنچ جاتے اور گھر جاکر کچھ دیر کیلئے آرام کرتے اور عصر کی نماز پڑھ کر دکان کا رخ کرتے تو جاکر کہیں میری جان چھوٹ جاتی، اس وقت تک اپنی بچوں کی ٹیم میرا انتطار کرتی رھتی اور دکاں کے چاروں طرف منڈالاتی رھتی اس طرح ایک لالچ بھی ان کو دکان کے پاس رکھتی کیونکہ اکثر میں ان میں ٹافیاں اور بسکٹ وغیرہ تقسیم بھی کرتا رھتا، سارا دن ٹوٹے بسکٹ اور ٹافیاں وغیرہ جو ٹوٹ جاتیں میں الگ کرتا جاتا اور ابا جی کو دکھا کر لے جاتا اور ھم سب بچے مل جل کر کھاتے، لیکں تھوڑی ساتھ بےایمانی یہ کرتا کہ خود بھی ھاتھ سے بسکٹ ٹافیاں توڑ لیتا تاکہ تمام دوستوں میں پوری ھوجائے-

    عصر اور مغرب کے درمیان خوب کھیلتے اور مغرب کے بعد گھر پہنچ کر ھاتھ منہ دھو کر یا کبھی نماز پڑھ کر سیدھا کتابیں پڑھنے بیٹھ جاتے، محلے میں ایک چھوٹی سی مسجد بھی تھی، جہاں چھوٹے بڑے سب پانچوں وقت کی نمازیں بھی پڑھتے تھے اور رمضان کے مہینے میں تو بہت ھی زیادہ رونق ھوتی تھی، ھر گھر سے کچھ نہ کچھ مسجد میں مغرب سے پہلے ھی مختلف قسم کے پکوان پکوڑے، سموسے، آلو چھولے، دھی بڑے اور روح افزا، نورس، اور لیمن اس کے علاوہ نہ جانے کیا کیا جمع ھو جاتا، اور روزہ کھولتے وقت اور نماز کے بعد بھی ھم سب بچے کھاتے ھی رھتے، پھر کھیل میں لگ جاتے، جب تک عشاء اور تراویح کا وقت ھوجاتا پھر تراویح کے ختم ھوتے ھی فوراً گھر کا رخ کرتے کھا پی کر سو جاتے، صبح سحری میں خاص طور سے اٹھتا تھا کبھی روزہ رکھ لیتا کبھی نہیں مگر افطاری کے وقت بغیر کسی عذر کے پہنچ جاتا، اور سارے دوست بھی وہیں موجود ھوتے، رمضانوں میں دکان کے اوقات ذرا مختلف ھوتے تھے،

    دکان میں ابا جی نے ادھار لینے والوں کیلئے ایک الگ رجسٹر کھولا ھوا تھا، مجھے خاص طور سے یہ تاکید تھی کہ کبھی بھی ادھار کسی ایسے کو مت دینا جس کا کہ رجسٹر میں نام نہ ھو، مگر بعض اوقات چھوٹے بچے یا ان کی اماں اکر منت سماجت کرتیں جن کو ادھار دینے سے منع کیا ھوا ھوتا، میں بالکل ان کی باتوں سے مجبور ھوکر ادھار سودا دے تو دیتا لیکن رجسٹر میں نہیں لکھتا تھا، بس اسی طرح اکثر لوگ مجھ سے ناجائز فائدہ اتھاتے، کوئی نہ کوئی دکھڑا سنا کر مجھ سے سودا لے جاتے،

    والد صاحب بھی اتنا زیادہ خیال نہیں کرتے تھے شام کو وہ آکر حساب کتاب بھی کرتے اور دن بھر کی جو بھی کمائی ھوتی کچھ ریزگاری چھوڑ کر باقی اپنی جیب میں رکھ لیتے، ایک ادھ دفعہ پکڑا بھی گیا کہ ایک دم وہ آگئے جب میں کسی کو بغیر لکھے ادھار سودا پکڑا رھا تھا، بس پھر دو چار ڈانٹ کھانی اور آیندہ کے لئے محتاط رھنے کے وعدہ پر جان چھوٹ جاتی، وہ بھی اکثر درگزر کردیتے تھے کیونکہ وہ خود بھی کافی لوگوں کی اسی طرح مدد کیا کرتے تھے مگر مجھے یہ ضرور تاکید کرتے کے بیٹا اگر کسی کو بغیر لکھے دیتے ھو تو مجھ سے پوشیدہ مت رکھو، اور کبھی جھوٹ مت بولا کرو -

    لیکن میں بھی اکثر نمکین بسکٹ اور کچھ پسندیدہ ٹافیاں چپکے چپکے کھاتا ھی رھتا تھا، اور میرے دکان پر گاھک سے زیادہ مفت خورے موجود ھوتے تھے ، میں بھی انہیں کچھ نہیں کہتا تھا بلکہ مجھے ان پر ترس آتا تھا اور میں ‌ان کی مطلوبہ ضرورت پوری بھی کردیتا تھا، کیونکہ وہاں پر اکثریت کافی غریب لوگوں کی تھی -

    ایک دفعہ ایک کباڑی والا میرے پاس آیا اور کہنے لگا کہ “تمھاری اماں نے ترازو منگایا ھے کیونکہ وہ کچھ ردی پیپر بیچنا چاھتی ھیں اور میرے پاس ترازو نہیں ھے میں نے بغیر تصدیق کئے ترازو اسے تھما دیا ادھر سودا تولنے کیلئے مجھے پریشانی ھورھی تھی، جب کافی دیر ھوگئی تو مجھے فکر ھوئی کہ کہیں کچھ گڑبڑ تو نہیں فوراً دکان سے اتر کر کسی دوست کو شاید بٹھا کر گھر بھاگا، امان سے پوچھا کہ آپ نے ترازو منگایا تھا، انہوں نے کہا کہ نہیں، میری تو جان ھی نکل گئی اس سے پہلے کہ وہ کچھ کہتیں میں سرپٹ دوڑا اور اس کباڑئیے کو دھونڈنے نکل گیا، ایک محلے سے دوسرے محلے کافی دور نکل گیا لیکن اس کا کہیں پتہ نہیں چلا، میں بہت پریشان اب کیا کروں اباجی کو کیا جواب دوں گا، میں اب گھر جانے سے بھی ڈر رھا تھا !!!!!!!!!!!

    وھاں اباجی اور دوسرے لوگ پریشان مجھے ڈھونڈتے پھر رھے تھے اور والدہ بےچاری گھر پر میرے لئے رو رھی تھیں !!!!!!!!!!!!!

    جاری ھے

    ------------------------------------------------------------

    وھاں اباجی اور دوسرے لوگ پریشان مجھے ڈھونڈتے پھر رھے تھے اور والدہ بےچاری گھر پر میرے لئے رو رھی تھیں !!!!!!!!!!!!!

    خوامخواہ ایک نئی مصیبت گلے لگالی، تھک ھار کر واپس اپنے گھر کی طرف واپس نکلا، اس کمبخت کباڑی والے کو ڈھونڈتے ڈھونڈتے جو میرا ترازو دھوکے سے میری دکان سے لے گیا تھا، شام ھونے کو آئی تھی اور میں کافی دور نکل گیا تھا، خیر واپس گھر پہنچتے پہنچتے تقرباً عشاء کا وقت ھوچلا تھا، کچھ تو سمجھے کہ میں ڈر کر شاید چھپ گیا ھوں، جب میں گھر پہنچا تو سب کی جان میں جان آئی، بہرحال والد صاحب کو غصہ تو نہیں آیا، میں تو ڈر ھی گیا تھا کہ کہیں گھر پر جا کر ڈانٹ ھی نہ پڑے، لیکن شکر ھے کہ سب نے گلے لگالیا،
    دوسرے دن اباجی نیا ترازو لے آئے، پھر سے وھی رات اور دن معمول کے مطابق گزرنے لگے،روزانہ کی طرح ھر شام کو پھر وھی دوستوں کے ساتھ کھیل میں مشغول ھوگئے، ساتھ گھر پر جو اباجی نے بکریاں پالی ھوئی تھیں، انھیں بھی نزدیکی میدان میں لے جاتا اور ساتھ ھی اپنے دوستوں کے ساتھ کھیلتا بھی رہتا، مغرب ھوتے ھی واپس بکریوں کو لے کر واپس گھر آجاتا -

    پانچویں کلاس کے سالانہ امتحاں بھی نزدیک تھے، اور ھم چند دوست جو پانچویں کاامتحان دے رھے تھے اپنی بڑی باجی کی نگرانی میں خوب زور شور سے امتحان کی تیاری میں لگ گئے وہ شاید اس وقت چھٹی کلاس میں تھیں اور چھوٹی شاید پانچویں کلاس میں پڑھ رھی تھی، ھم سب نے اب ایک اپنا کھیلنے اور پڑھنے کا شیڈول بنا لیا تھا، کھیل کا وقت ھم سب نے بہت مختصر کرلیا تھا، اور سب کچھ بڑی کی ھدایت پر ھی ھوتا تھا -

    سالانہ امتحان ھوگئے اور اس دفعہ سب بچے جو پڑھ رھے تھے بہت اچھے نمبروں سے پاس ھوئے اور بہت کم ھی بچے تھے جو ناکام رھے اور انہوں نے ھمارے ساتھ تیاری بھی نہیں کی تھی اور کئی تو بالکل پڑھنے جاتے ھی نہیں تھے، وہ کیا کامیاب ھونگے -

    دل میں ایک بہت خوشی تھی کہ اب میں نئے اسکو ل میں جاؤنگا اور والد صاحب بھی میرے اس نتیجہ کی وجہ سے بہت خوش تھے، چھوٹے بہن اور بھائی تو ابھی پرائمری میں چھوٹی کلاسوں میں ھی تھے والد صاحب مجھے سیکنڈری اسکول لے گئے اور وھاں دو تین دن کی تگ و دو کے بعد میرا ٹیسٹ ھوا اور میرا داخلہ چھٹی کلاس میں ھوگیا، مجھے بہت خوشی ھوئی،

    1960 کا زمانہ اور ایک نیا اسکول، نئی کلاس، نئے دوست !!!!!!

    جاری ھے!!!!!!
    ‌-----------------------------------------------------------------------

    1960کا زمانہ اور ایک نیا اسکول، نئی کلاس، نئے دوست !!!!!!
    آج میرا چھٹی کلاس میں ایک نئے سیکنڈری اسکول میں پہلا دن تھا، گھر سے اسکول تو کچھ فاصلے پر تھا، لیکن خوشی میں پیدل آتے ھوئے اتنی جلدی اسکول پہنچ گیا کہ پتہ ھی نہیں چلا، پہنچتے ھی اپنے اسکول کی عمارت کی طرف دیکھا تو مجھے ایک فخر سا محسوس ھورھا تھا، کیونکہ ایک تو بہت بڑی ڈبل اسٹوری بلڈنگ اور دوسرے اس وقت کے لحاظ سے ایک بہت خوبصورت علاقہ میں اس کا وجود تھا، ھر طرف خوبصورت بازار اور سجی سجائی دکانیں اور ساتھ ھی ایک سے ایک حسین بنگلے، اور نذدیک ایک ایرکنڈیشنڈ سینما گھر بھی تھا -

    نئے سیکنڈری اسکول میں جاکر تو ایک بالکل ھی نیا ماحول پایا، میں نے اپنی کلاس کے دروازے کے اوپر نام ششم (ب) لکھا دیکھا، کیا ایک عجیب سی خوشی تھی، میں خود کو بھی ایک بڑا بڑا محسوس کر رھا تھا، نیا نیا اسکول کا یونیفارم، قمیض کی جیب پر اسکول کا ایک خوبصورت مونوگرام بنا ھوا، نئے چمکتے کالے جوتے، بار بار ان جوتوں پر سے گرد بھی جھاڑتا رھتا، بچپن سے ایک عادت سی تھی اپنے آپ کو صاف ستھرا رکھنے کی، اس میں میری والدہ کا بہت ہاتھ تھا وہ ھمیشہ ھر شام کو میری اسکول کی تیاری مثلاً یونیفارم، جوتے وغیرہ کو اچھی طرح پہلے سے ھی چیک کرلیتی تھیں اور میں بھی ٹایم ٹیبل کے مطابق دوسرے دن کیلئے اپنے اسکول کے بستے کو تیار کرلیتا تھا -

    کلاس روم کی کرسیاں اور میزیں بھی ایک ترتیب سے چار لاٰئنوں میں لگی ھوئی تھیں، وہاں اسکول بلڈنگ کے درمیان ایک خوبصورت سرسبز پارک بھی تھا، غرض کہ اسکول کی ھر چیز بجھے اچھی لگی، ایک اچھی بات تھی کہ لڑکوں کے اسکول کا وقت دوپہر ایک بجے سے شروع ھوتا تھا اور لڑکیوں کو صبح صبح سات بجے کے قریب پہنچنا ھوتا تھا - اسلول کی بلڈنگ کے چاروں طرف ایک بہت لمبی چوڑی باونڈری وال تھی، جہاں ایک طرف کافی پھیلا ھوا صاف ستھرا میدان تھا جہاں ھاف ٹائم میں یا پی ٹی کے پیریڈ میں لڑکے مختلف کھیلوں سے لطف اندوز ھوتے تھے،

    میں نے اس اسکول میں کافی محنت سے پڑھائی کی یہاں پانچ سال کا عرصہ ایک مستقل مزاجی سے اور خوب محنت کرکے گزارا اور میٹرک سیکنڈ ڈویژن سے پاس کیا، جو میرا ایک رکارڈ رھا تھا کہ ایک ھی اسکول میں خوب دل لگا کر محنت سے 1960 سے لیکر 1965 تک بغیر کسی وقفہ یا کسی مشکل کے، پورے پانچ سال اطمنان سے پورے کئے کچھ تھوڑی بہت شرارتوں کا بھی ساتھ رھا لیکن وہ قابل قبول تھا -

    ان پانچ سالوں میں 10 سال کی عمر سے لیکر 15 سال کی عمر تک کس طرح میں نے اپنی زندگی کا سفر طے کیا، بچپن سے لڑکپن کی طرف میری زندگی نے کیا کیا دلچسپ موڑ لئے، وہ سب اگے لکھوں گا، مگر ھو سکتا ھے کہ وقت اور تاریخ کا صحیح اندازہ نہ ھو کیونکہ ذھن میں تو سب کچھ اچھی طرح محفوظ ھے، لیکن حالات اور واقعات کا صحیح وقت کا تعین کرنا ذرا مشکل ھوگا، میں اپنی کوشش ضرور کرونگا کہ ایک بہتر اور صحیح تسلسل کو قائم رکھ سکوں !!!!!!!!!!!!!

    شکریہ
    جاری ھے!!!!!!!!!!!!!!!
     
  20. عبدالرحمن سید
    آف لائن

    عبدالرحمن سید مشیر

    شمولیت:
    ‏23 جنوری 2007
    پیغامات:
    7,417
    موصول پسندیدگیاں:
    21
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: یادوں کی پٹاری پارٹ 1

    پوچھتے پوچھتے جب اپنی نئی کلاس میں جیسے ھی اندر داخل ھوا، کیا دیکھتا ھوں کہ آگے کی تمام سیٹوں پر پہلے ھی سے لڑکوں نے قبضہ کیا ھوا تھا اور زیادہ تر بھاری بھرکم، شاید کھاتے پیتے گھرانے سے تعلق تھا، اس لئے بغیر کچھ شکوہ کئے میں خاموشی سے پیچھے نکل گیا اور ایک مجھ جیسے ھی دبلے پتلے لڑکے کے اشارہ پر اسکے ساتھ بیٹھ گیا، اور وہ ھی وہاں پر میرا پہلا دوست بنا، ایک ایک ڈیسک پر تین لڑکے ایک ساتھ بیٹھنے کی گنجائش تھی، پھر ایک اور معصوم سا لڑکا ھماری ھی طرح چشمہ لگائے کلاس میں داخل ھوا، وہ بھی اگے جگہ نہ پا کر پیچھے ھماری ھی طرف آتا ھوا دکھائی دیا، اسے بھی ھم نے اشارہ کرکے اپنے پاس ھی جگہ دے دی -

    مگر افسوس کی بات یہ تھی کہ ھم تینوں کی ڈیسک سب سے پیچھے تھی اور سامنے بلیک بورڈ بھی صحیح طرح نطر بھی نھیں آرھا تھا، جو چشمے والا دوست تھا اسے بھی نظر نہیں آرھا تھا تو ھم دونوں کو کیا نظر آتا، خیر کچھ ھی دیر میں کلاس ٹیچر، جن سے پہلے ھی والد صاحب کے ساتھ ایک چھوٹا سا تعارف بھی ھوچکا تھا، جناب شیخ سعید صاحب ایک گریں سا گؤن پہنے اندر تشریف لے آئے، فوراً تمام کلاس کھڑی ھوگئی، انہون نے بیٹھنے کا اشارہ کیا اور سب سے پہلے انہوں نے حاضری لی او پھر باری باری پوری کلاس کا تعارف لیا ساتھ ھی اپنا بھی مختصراً تعارف کرایا، لمبے سے قد اور سر کے اوپر آگے سے کچھ گنجا پن، مگر لگتے ھنس مکھ تھے کیونکہ انہوں نے جس طرح اپنا تعارف کرایا ھم سب بہت خوش تھے، وہ کلاس ٹیچر کے ساتھ انگلش کے شعبہ سے بھی تعلق رکھتے تھے -

    ھر ایک گھنٹے کے بعد ایک نئے مضمون کے ٹیچرز آتے گئے اور سب کے ساتھ اپنا بھی تعارف کراتے رھے، ھمیں اپنے حساب سے ایک اردو کے ٹیچر جن کا نام حسبٌر صاحب اور ایک تاریخ کے ٹیچر جنہیں شاہ صاحب کہتے تھے، دونوں بھی کلاس ٹیچر سعید صاحب کے بعد بہت زیادہ پسند آئے، کیونکہ یہ تینوں بہت زیادہ لڑکوں میں گھل مل جاتے اور ھنس ھنس کر باتیں کرتے تھے، باقی کچھ زیادہ تاثر نہ چھوڑ سکے، دو تین تو بالکل خرانٹ لگتے تھے اور کچھ تو بس نہ اچھے لگے اور نہ ھی برے بس درمانے سے تھے،

    بیچ میں ایک وقفہ آدھے گھنٹہ کا بھی ھوا، جس میں ھم تینوں دوستوں نے باھر جاکر اپنی اپنی پسند کی چیزیں لیں اور اسکول کے گارڈن میں بیٹھ کر اپنا اپنا تفصیلی تعارف کرانے لگے !!!!!!!!!!!!!!!!!

    جاری ھے !!!!!!!!!
    ---------------------------------------------------------------

    بیچ میں ایک وقفہ آدھے گھنٹہ کا بھی ھوا، جس میں ھم تینوں دوستوں نے باھر جاکر اپنی اپنی پسند کی چیزیں لیں اور اسکول کے گارڈن میں بیٹھ کر اپنا اپنا تفصیلی تعارف کرانے لگے !!!!!!!!!!!!!!!!!

    اب تو ہم تینوں بہت خوش تھے، کیونکہ ہم اب ایک ساتھ ایک ہی ڈیسک پر ایک لائن میں ہی بیٹھتے تھے، اور اتفاق سے ہم تینوں ہم عمر بھی تھے، اسکول ساتھ آنا، ساتھ اسکول میں ہی کھیلنا اور ساتھ ہی ہاف ٹائم میں ایک دوسرے کا ساتھ کھانا پینا اور واپسی میں بھی ساتھ رھتا تھا، ایک کا نام شاھد لطیف اور دوسرے کا نام انجم عارف تھا، بعد میں ھمارے ساتھ اور بھی اچھے دوستوں کا اضافہ ھوا جن کا نام کنور آفتاب احمد، فخرعالم، پرویز حمایت، حسیب بیگ، شعیب احمد، حفیط اللٌہ، بدرالمغیز، قابل ذکر ھیں، بعد میَں آہستہ آہستہ مزید دوست بھی بنے جن میں مسعود، ارشد، رفاقت، شجاعت، اور بہت سے دوسرے اچھے دوست بھی جنہیں میں کبھی بھی بھول نہیں سکتا،!!!، افسوس اس بات کا ھے کہ کچھ نے تو ھمارا ساتھ آٹھویں کلاس میں پہنچنے سے پہلے ھی چھوڑ دیا تھا اور کچھ ویسے ھی نویں کلاس میں اختیاری مضامین کے جوائن کرنے کی وجہ سے بھی کلاسیں الگ الگ ہوگئی، اور جو دو تیں اچھے دوست رہ بھی گئے تھے وہ بھی میٹرک کرنے کے بعد ایسے غائب ہوئے کہ آج تک مجھے ان سے ملنے کا شدید ارمان ہی رہا ہے، کچھ پرانے دوست ملے بھی لیکن بس کچھ شادی کے بعد اتنی کسی کو فرصت ہی نہ ملی کہ ایک دوسرے کی خیریت معلوم کرتے، لیکن آگے کالجوں اور سروس کے بعد دوست بنے بھی اور بجھڑتے بھی رہے، لیکن جب بھی کسی وقت کا کوئی پرانا ساتھی ملتا ھے تو بہت ھی خوشی ہوتی ہے اور قلبی سکون ملتا ہے -

    ابھی کچھ دن پہلے ہی 45 سال بعد مجھے اسی اسکول کے زمانے کا میرا پرانا دوست کنور آفتاب احمد خان سے یہاں جدہ میں ہی ملاقات ہوئی، اتفاقاً میں نیٹ پر فیس بک میں دوستوں کو نام سے سرچ کررہا تھا کہ اچانک میرے دوست کے نام پر نظر پڑی، جو انجینئیر ہیں اور وہ بھی اس وقت میری 60 سال کے لگ بھگ ہونگے، 15 سال کی عمر کے بعد 60 سال کی عمر میں یہ ملاقات، اب آپ اندازہ لگائیں کہ کتنی حیرت انگیز بات ہوگی، ہم دونوں کو تو اب تک ایک دوسرے کے بچپن کے چہرے ہی یاد تھے، جب ایک دوسرے سے آمانے سامنے ملاقات ہوئی تو دیکھا کہ ھمارے چہرے اس 45 سال کے عرصے میں کتنے بدل چکے تھے، ہم تو ملتے ہی اپنے اسی اسکول کے زمانے میں ہی کھو گئے، خوب اس وقت کی باتیں کیں، ان کی فیملی بھی گھر پر آئیں، ان کے دو بچوں کی بھی میرے بچوں کی طرح شادیاں ہوچکی تھیں، ہم دونوں ضیعف العمر شخص اپنے لڑکپن کے وقت کی باتیں کرتے ہوئے بھی بالکل بچے سے لگ رہے تھے،!!!!

    کنور آفتاب کے ذریعے ہی مجھے دو اور مزید دوستوں سے ملاقات ھونے کا شرف حاصل ھوگیا، جن میں مسعودالرحمن اور ارشد اعوان ھیں، مجھے تو بہت ھی زیادہ خوشی حاصل ہوئی، اب بہت بےچین ھوں ان سے ملنے کے لئے،!!!!

    بہرحال اس اسکول میں آخر تک بہت ھی بہتریں دن گزارے، اس اسکول کی خاص بات یہ تھی کہ وہاں کی انتظامیہ بہت بہتر طریقہ سے طالب علموں کو بہتر پڑھائی اور بہتر سے بہتر تفریحات بھی فراھم کرتی تھی، دو چار کے علاؤہ باقی تمام ٹیچرز بہت زیادہ خوش مزاج ساتھ ھی پڑھانے کےبہترین ماھروں میں سے تھے، ان سب کے پڑھانے کا انداز اتنا شاندار ھوتا تھا کہ دل نہیں چاھتا تھا کوئی بھی ان کی کوئی کلاس مس کردیں اور انکا پڑھایا ھوا سبق ھم کبھی نہیں بھولتے تھے -

    اور ھر اسلامی تہواروں کے لئے خاص طور سے انتظام کیا جاتا تھا اور عید میلادالنبی کیلئے تو بہت ھی شاندر اور بڑی شان و شوکت سے منایا جاتا تھا، بڑے بڑے عالم اور مشھور نعت خواں کے علاوہ اسکول سے بھی لڑکوں کو پڑھنے کی دعوت دی جاتی تھی اور مہمان خصوصی بھی آکر بہت حوصلہ افزائی کرتے تھے -

    اس کے علاوہ اس اسکول کی انتظامیہ تفریحات کا ساتھ ساتھ مختلف مقابلوں میں حصہ لینے کیلئے قابل لڑکوں اور لڑکیوں کی حوصلہ افزائی بھی کرتی تھی اور ھر ضرورت بھی ساتھ پوری کرتے تھے۔ ھر قومی دن پر مارچ پاسٹ کی سلامی کیلئے سب کو تیاری کے ساتھ بھیجا جاتا تھا اسکول کا اپنا بینڈ گروپ بھی تھا، جو مارچ پاسٹ کے وقت سب سے آگے اپنے اسکول کی نمایندگی میوزک کے ساتھ سلامی کے چبوترے کا سامنے سلامی دیٹے ھوئے گرر رھا ھوتا تھا، کیا خوبصورت اسپیشل یونیفانم تیار کئے جاتے تھے، لڑکیوں کا گروپ الگ ھی ھوتا تھا، اور اگر کسی باھر ملک سے کوئی سربراہ آتا تھا تو ھمیں مکمل بینڈ کے ساتھ سڑک کے کنارے اپنے ملک کی جھنڈیوں کے ساتھ ساتھ دوسرے ملک کی جھنڈیوں کو تھما کر آنے والے کے استقبال کیلئے کھڑا کردیا جاتا تھا، اور اس وقت تمام سربراہان اوپر سے کھلی لمبی کار میں آتے تھے، اور ھاتھ ہلا ہلا کر سب کو سلامی کا جواب دیتے تھے، بہت خوبصورت اور حسین منظر لگتا تھا، اس وقت مجھے اچھی طرح یاد ھے کہ کھلی کار میں ھم سب نے اپنے سامنے کئی دفعہ صدر فیلڈ مارشل جرنل ایوب خاں کے ساتھ تقریبا ھر ملک کے سربراہان کو دیکھا، کبھی کبھی تو وہ اپنے مہمان کے ساتھ کار رکوا کر ھم سے ھاتھ ملانے اور شکریہ ادا کرنے آجاتے تھے، اس وقت کتنی خوشی ھوتی تھی کہ ایک ملک کا صدر بالکل ھمارے روبرو کھڑے ھو کر ھم سب سے مل رھے ھیں اور ساتھ دوسرے ملک کے سربراہ بھی ساتھ ھوتے تھے،

    ھمیں کیا ھر اسکول کو پہلے ھی سے اظلاع دے دی جاتی تھی کہ ھم نے مین روڈ پر استقبال کےلئے جانا ھے کوئی جگہ بھی خالی نہیں رھتی تھی، تمام سڑکوں پر رنگ برنگی جھنڈیاں لئے چھوٹے بڑے اپنے ملک میں آنے والوں کا عظیم الشان استقبال کرتے نظر آتے تھے-

    جاری ھے
     
  21. عبدالرحمن سید
    آف لائن

    عبدالرحمن سید مشیر

    شمولیت:
    ‏23 جنوری 2007
    پیغامات:
    7,417
    موصول پسندیدگیاں:
    21
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: یادوں کی پٹاری پارٹ 1

    مجھے بہت ھی زیادہ خوشی ھورھی تھی، جب ایک نئے گورنمنٹ بوائز سیکنڈری اسکول نمبر 2 سے اپنی چھٹی جماعت کا پہلا دن گزار کر آرھا تھا، کافی لمبا راستہ تھا، جلدی جلدی خوشی سے اپنے قدم بڑھا رھا تھا، کچھ دیر تک تو میرے نئے دوستوں نے ساتھ دیا، ایک موڑ پر پہنچ کر ایک دوسرے کو اللٌہ حافظ کہا اور سب اپنے اپنے علاقے کی طرف چل دئے، میں اپنے گلے میں بستہ ٹانگے ھوئے تیز تیز قدم بڑھاتا ھوا اپنے محلے کی طرف قدم بڑھارھا تھا، فاصلہ تھا کہ ختم ھی نہیں ھورھا تھا، میں چاھتا تھا کہ گھر پہنچوں اور سب کو اپنے اسکول میں گزارا ھوا آج کا پہلا دن کے بارے میں بتاوں،

    جیسے ھی گھر پہنچا شام ھوچکی تھی، ھانپتا ھوا، بغیر یونیفارم بدلے ھوئے شروع ھوگیا، ساری اسکول کی شروع سے روداد سنادی، یہ دیکھے بغیر کے گھر میں کون کون ھے، اور میں اتنا خوش تھا کہ بیاں سے باھر ھے، پرائمری کے ایک لمبے سفر سے فارغ ھو کر اب سیکنڈری اسکول میں داخل ھونا بھی میرے لئے ایک فخر کی بات تھی -

    وھاں گھر میں والدین اور چھوٹے بہن بھائیوں کے علاوہ بھی ھمارے محلے کی نئی خالہ ابنی دونوں بیٹیوں کے ساتھ موجود تھیں اور اس طرح میرے چہکنے پر ھنس بھی رھی تھیں، میں نے ایک دم خاموش ھوکر سلام کیا اور بھر باھر نکل گیا تاکہ اپنے دوسرے محلے کے دوستوں کو بھی آج کا واقعہ سناوں، سب کو اکھٹا کیا اور کسی کھیل میں حصہ لینے سے پہلے ھی ساری اسکول میں گزری ھوئی کہانی دھرا دی، سارے بچے بھی بہت انہماک سے سن رھے تھے، جیسے میں کوئی بہت بڑے مشن سے واپس آیا ھوں، میں ھی پہلا لڑکا تھا جو اس اسکول میں چھٹی کلاس میں داخلہ لیا تھا باقی تمام محلے کے بچے پرائمری اسکول سے ابتک فارغ نہیں ھوئے تھے اگر کوئی پڑھتے بھی تھے تو وہ بہت بڑے لڑکے تھے جو شاید نویں اور دسویں کلاس میں ھونگے اور ویسے بھی وہ ھماری بچہ پارٹی میں نہیں تھے اس لحاظ سے میں سب کا لیڈر بنا ھوا تھا-

    والد صاحب نے وہ دکان جو محلے میں کھولی تھی، مجبوراً انہیں بند کرنی پڑی، کیونکہ ایک تو لوگوں نے لیا ھوا پرانا اب تک ادھار چکایا نہیں تھا دوسرے میرے اسکول کے ٹائم ٹیبل کے حساب سے شام کو دکان کھولنا ممکن نہ تھا، کچھ میں نے بھی دکان سے کافی لوگوں کو بغیر لکھے کافی ادھار دیا ھوا تھا اور کچھ چند لوگ زیادہ تر عورتیں اپنے بچوں کے ساتھ مجھے بے وقوف بنا کر یا اپنی دکھ بھری داستان سنا کر مجھ سے ادھار سودا لے جاتیں اور میں اباجی کے ڈر سے رجسٹر میں لکھتا ھی نہیں تھا، اور واقعی بہت سے لوگ بہت ھی زیادہ غریب تھے اور اکثریت کا عیسائی مذہب سے تعلق تھا جنکا ھمارے محلے کے ساتھ ھی مگر ایک الگ سے آبادی تھی، اور ھم سب مسلمان بھی ان سب کا ھر لحاظ سے خیال بھی رکھتے تھے -

    بہرحال یہ اچھا ھی ھوا کہ اس سے پہلے کہ کوئی زیادہ نقصان ھوتا اباجی نے مکمل طور سے دکان کو خیرباد کہہ دیا مگر اپنا ادھار وصول کرنے ھر پہلی تاریخ کے آتے ھی رجستر اٹھائے ادھار والوں کا دروازہ کھٹکھٹانے ضرور پہنچ جاتے، کچھ لوگوں سے تو ادھار وصول بھی ھوگیا لیکن باقی کا خود اباجی نے بعد میں تنگ آکر میرے خیال میں یا تو معاف کردیا یا شاید بھول ھی گئے اور روزمرہ کے معمول پر آگئے،

    اب تو صبح صبح اٹھنے کی اتنی پریشانی نہیں تھی کیونکہ میرے اسکول کا وقت دوپہر کا تھا لیکن ھم سب صبح وقت پر ھی اٹھتے تھے اور والدیں تو فجر کی نماز سے ھی جاگ رھے ھوتے تھے والد صاحب تو قران کی تلاوت میں مصروف رھتے اور کچھ ایک دو حمد و نعت بلند آواز سے پڑھتے تھے اور اڑوس پڑوس کے لوگ بھی بہت شوق سے سنتے تھے بعض تو ان کے سامنے بیٹھ کر بڑے ذوق و شوق سے سنتے تھے اور ان کا روز کا معمول تھا، فجر کی نماز کے بعد سے دفتر جانے تک، اور انہوں نے اپنی عمر کے آخری وقت تک اپنے اس روز کے معمول کو نہیں چھوڑا اور اکثر گھر کے صحن میں اور مسجد میں بھی میلاد نبی شریف کا باقائدہ اھتمام کراتے تھے اور اس میں تمام محلے کے لوگ شریک ھوتے تھے،اس کے علاوہ عورتیں بھی مل کر ایک الگ سے گھروں میں میلاد شریف کا انتظام کرتی تھیں-

    والد صاحب کی ایک نعت ابھی تک میرے کانوں میں گونجتی ھے،

    وہ نبیوں میں رحمت لقب پانے والا ٪٪٪ مرادیں غریبوں کی برلانے والا


    چھوٹے بہن بھائی صبح کے اسکول میں جاتے تھے، میں چونکہ گھر میں سب سے بڑا تھا اس لئے گھر کے چھوٹے موٹے کام کی ذمہ داری بھی مجھ پر ھی تھی، میرے روز کے معمول میں سے پہلا کام گھر کا سارا پانی بھرنا پڑتا تھا اور پانی کچھ دور کے فاصلے سے لانا پڑتا تھا، محلے کے اور بھی بچے اور بچیاں بھی میری نگرانی میں میرے ساتھ پانی بھرنے جاتے تھے، ایک تو کچھ لوگوں کو مجھ پر بھروسہ بھی تھا اور میں بھی سب کو آوازیں دیتا ھوا نکلتا تھا
    اور خالہ کی بڑی بیٹی بھی کبھی کبھار ھمارے ساتھ ھوتی تھیں، جنہیں ھم سب ملکہ باجی کہتے تھے اور ان کی چھوٹی بہن تھی جس کا نام تو شہزادی تھا لیکن ھم سب انہیں زادیہ کے نام سے بلاتے تھے، جب یہ دونوں ھوتی تھیں تو میری اجارہ داری ختم ھوجاتی تھی اور یہ دونوں ھماری لیڈر بن جاتی تھیں - سارے محلے کے بچے ان دونوں سے بہت مرعوب تھے، ساتھ میں بھی، میری تو وہ دونوں بالکل ھی نہیں چلنے دیتی تھیں، وہ بڑی تو پورے محلے کی جگ باجی تھیں-

    غرض کہ اسکول بھی چلتا رھا اور محلے کی بھی ھم بچوں نے مل کر رونق لگائی ھوئی تھی، میں سب کے ساتھ گھر کا پانی بھی بھرتا اور محلے کے دوسرے گھروں میں بھی جہاں کوئی بچہ موجود نہیں ھوتا تھا ان کا بھی اپنے دوستوں کی مدد سے ان کے گھر کا پانی بھی بھر دیتا،
    اس وقت پانی کو لوگ بہت احتیاط سے استعمال کرتے تھے، کیونکہ اس وقت ھمارے محلے میں کوئی آج کی طرح شاور یا نلکے وغیرہ تو نہیں ھوتے تھے، بالٹیوں اور ڈرموں میں پانی بھر کر رکھتے تھے، اور غسل خانہ میں پانی بالٹیوں میں بھر کررکھتے اور لوٹے یا مگے سے ضرورت کے مطابق پانی کا استعمال کرتے تھے اور پینے کیلئے کچے مٹی کے گھڑوں کو اونچائی پر ڈھک کر رکھا کرتے تھے اس کا پانی ٹھنڈا اور خوب سوندھی سوندھی خوشبو دار ھوتا تھا اور پینے کا صحیح لطف آتا تھا -

    جاری ھے اپنے روز کے معمول اور ذمہ داریوں کا نازک کندھے پر ایک بوجھ لئے اگلی قسط کے ساتھ پھر حاضر ھونگا-
    اجازت دیں اللٌہ حافظ
     
  22. عبدالرحمن سید
    آف لائن

    عبدالرحمن سید مشیر

    شمولیت:
    ‏23 جنوری 2007
    پیغامات:
    7,417
    موصول پسندیدگیاں:
    21
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: یادوں کی پٹاری پارٹ 1

    پینے کیلئے کچے مٹی کے گھڑوں کو اونچائی پر ڈھک کر رکھا کرتے تھے اس کا پانی ٹھنڈا اور خوب سوندھی سوندھی خوشبو دار ھوتا تھا اور پینے کا صحیح لطف آتا تھا -

    ان پرانے سادہ اور سہل طور طریقوں میں اپنا ایک سلیقہ حسن، خوشنمائی اور زندگی کا ایک صحیح لطف تھا جو کہ بہت سستا اور دیرپا قائم رھنے کا حامل بھی تھا، ھم بھی زمانے کے دور کےساتھ اتنی تیری سے بھاگنے لگے کہ اپنی صحیح قدروں، اصولوں اور اپنی روایتوں کے ساتھ ساتھ اپنی اصل پہچان کو بھی پیچھے چھوڑ آئے ھیں -

    صرف ایک پانی کی ھی مثال لے لیں کہ پہلے ھم جو پانی دور دور سے اپنے کندھوں پر اور سر پر رکھ کرلاتے تھے تو ھمیں اسکی قدروقیمت کا اندازہ ھوتا تھا، اسی وجہ سے پانی کو ھم اس وقت بہت سنبھال کر اور بہت احتیاط کے ساتھ استعمال کرتے تھے، آج ھمارے گھروں میں باتھ رومز میں واش بیسن کے ساتھ نہانے کےلئے شاور، فلش کےساتھ دھوتے کے لئے الگ سےشاور، آٹو واشنگ مشینوں اور کچن میں بھی میں سنک کےساتھ دو دو نلکے اور ھر ایک میں ٹھنڈے اور گرم پانی کی دو دو لائنیں، جتنی زیادہ سہولتیں ھیں، اس سے زیادہ اس کا بےقدری اور فضول طریقے سے استعمال کی وجہ سے اس کا بالکل ضیاع ھورھا ھے ،

    آج میرے گھر میں بھی اسی طرح پانی کے ساتھ ساتھ دوسری چیزوں کا بھی بےجا استعمال ھے بار بار اسی وجہ سے اکثر میرا اسی بات پر جھگڑا بھی ھوتا رھتا ھے، لیکں نئی نسل ھمیں پرانےخیالات کے لوگ اور بےوقوف سمجھتی ھے وہ کہتے ھیں کہ ھمیں نئی سہولتوں سے فائدہ اٹھانا چاھئے آپ لوگ نہ جانے کس دنیا میں رھتے ھیں، مگر میرا جواب یہی ھوتا ھے کہ ھمیں نئی سہولتوں سے فائدہ ضرور اٹھانا چاھئے لیکن اس میں بھی اگر ھم احتیاط کریں تو فضول خرچ سے بچا جاسکتا ھے،

    مثلاً پہلے فرد واحد ایک بالٹی پانی سے آرام سے مکمل طور پر آسانی سے غسل کرلیتا تھا لیکن آج ھم شاور ( چھنٌا) کے نیچے خوب مزے سے گنگناتے ھوئے آرام سے دس گنا پانی غسل کرتے ھوئے ضائع کردیتے ھیں، اسکے علاوہ واش بیسن میں تو ھم منہ ھاتھ اس طرح دھوتے ھیں جیسے اباجی نے گھر میں کسی دریا سے مفت کا کنکشن لیا ھوا ھو، اسکے علاوہ برتن اور کپڑے دھوتے وقت تو خواتین بالکل خیال نہیں رکھتیں، نلکوں کو بغیر کسی بریک کے فل کھولے رکھتی ھیں، تاکہ انھیں بار بار نلکوں کو کھولنا اور بند نہ کرنا پڑے، جبکہ ھم خود جانتے ھیں کہ اگر ھم چاھیں تو ایک تھوڑی سی احتیاط کرکے بھی کافی ھر چیز میں بچت کرسکتے ھیں
    جس کے ھم سب بھی خود ذمہ دار ھیں، اور ھر ایک چیز کے ضرورت سے زیادہ استعمال کیلئے بھی ھم اوپر جاکر اس کی سزا بھگتیں گے، جسکا کہ ھم سب کو پتہ ھے، لیکن ھم اپنی آنکھیں بند کرلیتے ھیں جیسے کبوتر اپنی آنکھیں‌ بند کرلیتا ھے جب اس پر کسی کے حملے کا خطرہ ھو، کبوتر یہ سمجھتا ھے کہ جیسے اسے آنکھیں بند کرکے کچھ نظر نہیں آرھا تو شاید حملہ کرنے والے کو بھی یہی محسوس ھورھا ھو،

    اس وقت جیسا کہ میں نے پہلے بھی ذکر کیا تھا کہ اس وقت ھماری یا کسی کی بھی والدہ جو زیادہ پڑھی لکھی نہیں تھیں لیکن وہ آج کل کی پڑھی لکھی خواتیں سے کہیں زیادہ سمجھدار تھیں کیونکہ وہ اچھی طرح جانتی تھیں کہ جو بھی محدود آمدنی ھے اس کو کس سلیقے سے خرچ کیا جائے کہ اس میں سے کچھ آئندہ کیلئے کچھ بچت بھی ھوجائے، ایک چھوٹی سی مثال صرف کھانے پینے کے حوالے سے، وہ والد کے مشورے سے صرف خشک چیزیں مصالے،چاول، دالیں، آٹا، وغیرہ ضرورت کے مطابق ایک مہینے کیلئے پہلے ھی ایڈوانس میں منگا کر رکھتی تھیں جو تھوک کے بھاؤ والد صاحب لاتے تھے اور بہت ھی سستا پڑتا تھا، باقی روزانہ صرف اس دن کے پکانے کیلئے تازہ چیزیں اتنا ھی منگاتیں، جتنا کہ ضرورت ھوتی تھی -

    اب تو روز کے مختلف گھر کے کاموں کی ذمہ داری بھی میرے ھی اُوپر تھی، کیونکہ میرے اسکول کا وقت اب دوپہر کا تھا، روزانہ پہلے پانی بھرنا، پھر گھر کا سودا لانا پھر اسکول وقت قریب ھوجاتا تھا، اور میں اسکول کی تیاری میں لگ جاتا-

    گھر کا سودا لانے میں مجھے تقریباً روزانہ آٹھ آنے سے زیادہ نہیں ملتے تھے، اور میں اس میں سے ایک پاؤ قیمہ یا گوشت وہ بھی گائے یا بھینس کا، جو صرف پانچ آنے کا آتا تھا اور ایک آنے کا مصالہ جس میں دو پیاز ھرا دھنیا، پودینا، دو ھری مرچی اور ایک یا دو ٹماٹر اور باقی دو آنے کی اگر کچھ اور سبزی کی ضرورت ھو تو ورنہ وہ بھی مجھے والدہ کو واپس کرنے پڑتے تھے، اس میں سے مجھے صرف دو پیسے اسکول کیلئے ملتے تھے-

    ایک پاؤ گوشت یا قیمہ کے ساتھ سبزی یا دال کے ھم سب کیلئے دو وقت کیلئے کافی ھوتا تھا بلکہ اکثر مہمان بھی ھمارے ساتھ شریک ھوتے تھے اور اس میں بھی کافی برکت ھوتی تھی، ایک فایدہ یہ ھوتا تھا کہ تازی چیزیں ھم کھاتے تھے اور ھمیں والدہ ھر ایک کو ضرورت کے مطابق اپنے ھاتھ سے اندازہ کرکے ھر ایک کے پلیٹ میں ڈالتی تھیں،

    اگر آج ھم دیکھیں تو ھم خود اندازہ لگا سکتے ھیں کہ کتنا کھانا روز پکتا ھے اور ضائع ھوتا ھے اسکے علاؤہ ڈیپ فریز کیا ھوا ھم کھاتے ھیں، ھمارے اس وقت بھی پیٹ کی گنجائش وھی تھی اور آج بھی وھی ھے بلکہ لوگوں کی پہلے کے وقت میں کچھ زیادہ ھی خوراک ھوا کرتی تھی اور سب خون سیر ھوکر کھاتے تھے-

    قیمتوں کو چھوڑ دیں صرف مقدار کو ھی لے لیں، کیا ھم سوچ سکتے ھیں کہ آج ھم ھر چیز کے استعمال میں کتنا اصراف کرتے ھیں اور کتنا ضائع کرتے ھیں،
    کیا ھم جانتے ھیں کہ اس کا حساب کس نے، کہاں اور کیسے دینا ھے ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟
    ---------------------------------------------------------------------------------------------

    گھر کا سودا لانے میں مجھے تقریباً روزانہ آٹھ آنے سے زیادہ نہیں ملتے تھے، اور میں اس میں سے ایک پاؤ قیمہ یا گوشت وہ بھی گائے یا بھینس کا، جو صرف پانچ آنے کا آتا تھا اور ایک آنے کا مصالہ جس میں دو پیاز ھرا دھنیا، پودینا، دو ھری مرچی اور ایک یا دو ٹماٹر اور باقی دو آنے کی اگر کچھ اور سبزی کی ضرورت ھو تو ورنہ وہ بھی مجھے والدہ کو واپس کرنے پڑتے تھے، اس میں سے مجھے صرف دو پیسے اسکول کیلئے ملتے تھے-

    اب تو میں روز کے معمول میں کافی دلچسپی لیتا تھا اور بہت شوق سے گھر کا سودا لانے لگا تھا، ایک چھوٹا سا بازار تو تھا لیکن کافی فاصلے پر تھا، کبھی کبھی اپنے کسی دوست کو بھی ساتھ لے لیتا تھا اور محلے کی ھماری دو تیں خالائیں بھی مجھ پر ھی بھروسہ کرتیں اور مجھے جب وہ گھر سے نکلتا دیکھتیں تو دروازوں پر آجاتیں ارے بیٹا ذرا سننا تو میرے لئے آج یہ چیزیں لا دو کوئی تو اچھی خاصی لسٹ پکڑا دیتیں اور کوئی زبانی ھی فرمائیش کردیتیں، مجھے سب کی چیزوں اور پیسوں کا حساب کتاب بھی رکھنا پڑتا تھا، ایک اچھی بات تھی کہ میری اس وقت کی یاداشت بہت اچھی تھی اور سب کچھ مجھے زبانی یاد بھی رھتا تھا کہ کس نے کیا منگایا تھا، کس نے کتنے پیسے دئیے تھے اور کس کو کتنے واپس کرنے تھے،

    وھاں پر تمام محلے میں سب کا ایک اکلوتا لاڈلہ تھا اس کی وجہ یہ بھی تھی کہ کبھی کسی کے کام کیلئے انکار نہیں کرتا تھا، بعض اوقات تو دوسروں کے چکر میں اپنے گھر کا سودا بھول جاتا تھا، پھر دوبارا بھاگ کر جاتا اور یاد کرکے سودا لا کر اماں کو دیتا اور اماں ھماری انتطار میں ھی بیٹھی رھتیں کب میں پہنچوں اور وہ کب کھانا پکانا شروع کریں کبھی کبھی دوسروں کی وجہ سے ڈانٹ بھی پڑجاتی تھی اور وہ سیدھا شکایت ھماری ملکہ باجی کو لگا دیتی، بس کیا تھا انہوں نے سیدھا میرا کان پکڑنا اور اپنے گھر لے جاتیں اور خوب ڈانٹتی بھی تھیں، اب تو میری دو امٌائیں ھوگئی تھی -

    اب تو بعض اوقات اپنے گھر کے بجائے اپنی منہ بولی باجی سے ھر کام کیلئے اجازت لینی پڑتی تھی، اگر میں نے کوئی ان کی مرضی کے خلاف کام کیا تو میر شامت ھی آجاتی تھی مگر زادیہ میرے لئے اپنی باجی سے لڑتی تھی اور میری جان بچ جاتی تھی، کبھی تو جیسے ھی میں گھر سے نکلا، پتہ نہیں کہاں سے ان کو پتہ چل جاتا، میں ان کے گھر کے دروازے کے سامنے سے بہت احتیاط کے ساتھ نکلنے کی کوشش بھی کرتا تو فوراً ھی نمودار ھوجاتیں اور بس شروع سوالات پر سوالات کہ کہاں چل دیئے حضور ادھر آئیے بس فوراً انہون نے میرا کان پکڑا اور گھر کے اندرخوب ڈانٹتیں، اگر میں نے کوئی بہانہ کیا تو وہ اسی وقت تصدیق کرنے مجھے میری اماں کے پاس پہنچ جاتیں، اور اگر میں نے کوئی بہانہ کیا ھوتا تو بس میرے کان اور انکا ھاتھ، وہ اس وقت تک نہیں چھوڑتی تھیں جب تک کہ میں توبہ نہ کرلوں،

    اب انہوں نے ھی مییرے سدھار کی ذمہ داری لے لی تھی کبھی کبھی تو میں ان کی پابندیوں سے تنگ ھوجاتا تھا او مشکل یہ تھی کہ ھمارے گھر سے باھر نکلنے کیلئے ان کے گھر کے پاس سےھو کر جانا پڑتا تھا اور اس کے علاوہ اور کوئی راستہ بھی نہیں تھا، کیا کرتا مجبوراً
    اس ھٹلر باجی کے بغیر اجازت کے جانا مشکل ھوتا تھا جو میرے کھیل کود کے لئے باھر دوسرے لڑکوں کے ساتھ کھیلنے میں رکاوٹ بنتی تھی، جو بعد میں میرے کیرئیر لئے بہت بہتر ثابت ھوا تھا، لیکن اس وقت مجھے یہ روک ٹوک اچھی نہیں لگتی تھی،

    مگر جب مجھے محلے سے کوئی کسی کام کیلئے کہتا تو اسی کام کے بہانے ھی میں باھر بھاگنے کی کوشش کرتا مگر راستے میں جانےکہاں سے وہ کسٹم کی ملکہ مجھے ٹکر جاتی اور بغیر اس کی رضامندی کے مشکل ھوجاتا، اس نے مجھے صرف مجھے چند مخصوص گھروں کے کام کےلئے کبھی منع نہیں کیا جہاں کوئی بڑا لڑکا نہیں تھا، یا اور کوئی مجبوری ھو اور بعض اوقات وہ مجھے ساتھ لےکر بازار جاتی اور میرے ساتھ خریداری میں مدد کراتی، اسی وجہ سے میرے والدیں ملکہ سے بہت خوش تھے کہ اس نے میرا سارا کنٹرول سنبھالا ھوا تھا،

    شام کے وقت اسکول سے واپس آکر جب ھاتھ منہ دھو کر تازہ دم ھوجاتا، کچھ دیر کےلئے بہں بھائیوں کو ساتھ لے کر باھر کھیلنے نکلتا، ایک بھائی میرے گود میں بھی ھوتا تھا، میرے باھر نکلتے ھی ھٹلر ملکہ بھی اپنی چھوٹی بہن زادیہ کے ساتھ ھمارا انتظار کررھی ھوتی تھی، اور کچھ بچے بھی اپنے گروپ کے جو ملکہ کی سیلیکشن سے منظور شدہ ھوتے وھی ھمارے گروپ مین شامل ھوسکتے تھے اور ایک بات کی تو داد دینی پڑتی تھی کہ وہ ھم سب کو کھیلوں میں اچھے اور خالص معلوماتی کھیل بھی کھلاتی تھیں اور ھمارے گروپ میں با ادب اور اچھے اخلاق کے بچوں کو ھی داخلہ ملتا تھا، دوسرے گروپ بھی تھا جس میں زیادہ تر شرارتی بچے تھے اور وہ سب ھمارے گروپ سے بہت زیادہ حسد کرتے تھے، لیکن ملکہ کی وجہ سے کوئی بھی نزدیک نہیں آتا تھا، اس لئے تمام بچے ان کے شر سے بچے ھوئے تھے وہ دونوں بھی کسی دوسے اسکول مین پڑھتی تھیں جس کا وقت میرے اسکول کے مطابق تھا، شاید دونوں چھٹی یا ساتویں کلاس مین ھونگی، مجھے یہ صحیح طرح یاد نہیں،

    میری شروع سے یہ فطرت تھی کہ مجھ سے کبھی کسی کے کام کیلئے انکار نہیں ھوتا تھا، جیسے تندور پر سے کسی کیلئے روٹی لگوانی ھی کیوں نہ ھو اسوقت زیادہ تر تندور کی روٹی زیادہ پسند کرتے تھے، شام کو کھیل کود کے فوراً مغرب کی نماز کے بعد اماں ھماری آٹا گوندھ کر رکھتیں اور ساتھ ایک دو اور جو روٹی پکوانے کیلئے میرے نکلنے سے پہلے ھی آٹا گوندھ کر رھتے تھے، میں اپنے چند مددگار دوستوں کو بھی اس کارخیر میں حصہ لینے کی اجازت دیتا تھا وہ بھی میرے ساتھ تندور کی طرف چل دیتے تھے، اس وقت ملکہ کو باھر جانے کی اجازت نہیں ھوتی تھی، انکا بھی کبھی کبھی آٹا گوندھا ھوا مجھے لے جانا پڑتا تھا، ورنہ اکثر ان کی اماں توئے پر ھی چپاتی بناتی تھیں،

    تندور پر جاکر سب آٹے کے تھال کپڑے ڈھکے ھوئے لائن میں لگا کر ھم سب کھیلنے لگ جاتے، تندور کچھ دوری پر تھا اور ھٹلر ملکہ سے بھی
    دور کسی روک ٹوک کے مزے سے کھیلتے تھے اور واپس ابک آدھ گھنتے سے پہلے ھم سب روٹی لگوا کر فارغ ھوجاتے تھے-

    ایک دفعہ مجھے بہت دکھ ھوا کہ جب تندور سے روٹیاں لگا کرگھر پہنچا تو اپنی روٹیاں گھر صحن کے پاس ایک چبوترے کے پاس رکھ کر کسی کے گھر انکی روٹیاں پہنچانے گیا تو میں نہ جانے کیوں وھیں سے آگے واپس گھر آنے کے کہیں اور نکل گیا اور اماں کو روٹیوں کے تھال کے بارے مین نہیں کہا اور وھاں ایک چبوترے پر روٹیاں پڑی رھیں اور ادھر ایک ھماری ایک بکری کا بچہ جسے اس سال ھم قربانی کیلئے تیار کرھے تھے اس نے وہ چبوترے پر پڑی ساری روٹیاں کھالیں اور جیسے ھی میں پہنچا وہ آخری روٹی کھا رھا تھا میں گھبرا گیا اب کیا کروں فوراً وہ خالی تھال لے کر تندور کی طرف بھاگا اور وھاں سے روٹیاں خریدیں اور جلدی جلدی واپس آیا اور کسی کو بتائے بغیر اماں کو تھال پکڑا دیا، اور باھر چلا گیا-

    واپس آیا تو عشاء کے بعد کھانے کیلئے بیٹھے تو اماں نے پوچھا خاموشی سے پوچھا کہ یہ روٹیاں ھماری تو نہیں لگتی اور میں نے بھی حیرانگی سے کہا ھوسکتا ھے کہ تندور والے نے شاید غلطی سے دوسرے کی روٹیاں رکھ دیں ھونگی، لیکں رات کو سوتے وقت مجھے اپنے اوپر اور بکرے کے اوپر بہت غصہ آرھا تھا-

    صبح ھوئی تو اباجی اور دو تیں محلے دار لوگوں کی آوازیں آرھی تھیں میں نے غور سے سنا تو وہ کہ رھے تھے کہ رات کو بکرے نے کیا کھایا تھا جس کی وجہ سے اسکی یہ حالت ھوگئی، میں فوراً بستر چھوڑا اور بھاگ کر باھر آیا تو دیکھا وہی بکرا مجھے دیکھ رھا تھا جیسے میری کسی غلطی کی نشاندھی کررھا تھا، اسکے منہ سے جھاگ سا نکل رھا تھا اور سب یہی کہہ رھے تھے کہ اب اس کا بچنا مشکل ھے -
     
  23. عبدالرحمن سید
    آف لائن

    عبدالرحمن سید مشیر

    شمولیت:
    ‏23 جنوری 2007
    پیغامات:
    7,417
    موصول پسندیدگیاں:
    21
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: یادوں کی پٹاری پارٹ 1

    ھمیں کیا ھر اسکول کو پہلے ھی سے اظلاع دے دی جاتی تھی کہ ھم نے مین روڈ پر استقبال کےلئے جانا ھے کوئی جگہ بھی خالی نہیں رھتی تھی، تمام سڑکوں پر رنگ برنگی جھنڈیاں لئے چھوٹے بڑے اپنے ملک میں آنے والوں کا عظیم الشان استقبال کرتے نظر آتے تھے-

    اب کچھ تھوڑا ذرا اسکول کے بعد محلے کے یک جہتی اور رھن سہن کے بارے میں کچھ روشنی ڈال لیں تاکہ کچھ تو ھم اس وقت اور اس زمانے کی اچھائیوں سے سبق لے سکیں، اس وقت بھی انسان تھے اور آج بھی ھم وہی ھیں، ھم کیوں نہیں اچھے بن سکتے ایک دوسرے کے ساتھ مل جل کر کیوں نہیں رہ سکتے، ایک دوسرے کی کیوں مدد نہیں کرسکتے، پہلے تو فقیر بھی ایک دوسرے فقیر کی مدد کیا کرتے تھے جبکہ اس وقت تو اتنے وسائل اور سہولتیں بھی موجود نہیں تھیں -

    اُس وقت کہ لحاظ سے یہ بہت بڑی بات تھی کہ ھمارے لئے ایک ذرا سی خوشی بھی بہت معنی رکھتی تھی اگر ایک پل بھی اگر چھوٹی سی خوشی کا مل جائے تو وہ اپنے حصٌہ کی خوشی بھی لوگوں میں بانٹتے پھرتے تھے، ھم تو پورے محلے کو آطلاع دے دیتے تھے کہ کل بڑے مین روڈ سے صبح 10 بجے صدر صاحب فلانے ملک کے بادشاہ کے ساتھ کھلی کار میں گزریں گے اور ھمارا اسکول کا بینڈ، اسکاوٹس اور کیڈٹس کے ساتھ تمام اسکول وھاں پر موجود ھوگا - ھمارے سے پہلے ھی تمام محلے کے بچے اور بڑے یہاں تک کہ ضعیف لوگ بھی سڑک پر بن سنور کر پہنچ جاتے اور بازار سے جھنڈیاں بھی اپنے پاس سے خرید کر پہنچ جاتے، جیسے کے کسی میلے میں جارھے ھوں -

    چاھے کہیں میلہ لگا ھو، یا کہیں جشن عید میلاد النبی کی تقریب ھو، یا کہیں پر کوئی کسی قوالیوں کا مقابلہ ھو، یا کوئی جلسہ جلوس ھو، ھر کوئی یہی چاھتا تھا کہ یہ خبر سب سے پہلے محلے میں جاکر ھر گھر میں اعلان کرادے، اور وقت سے پہلے سب لوگ ایک دوسرے کو اکھٹا کرکےجوق در جوق، ھر محلے سے اکثریت میں پہنچ جاتے تھے، اس کے علاوہ عید اور بقرعید پر ھر خوشیاں ایک ساتھ بانٹتے تھے کوئی بھی فرقہ واریت یا تعصبیت کی کوئی وباء نہیں تھی، محرم کے مہینے میں ھر طبقے کے لوگ جوق در جوق جلسے اور جلوسوں میں اکثریت سے احترام اور ادب کے ساتھ شریک ھوتے تھے اور شہر میں بڑی بڑی بلڈنگوں میں رھنےوالے بھی اپنی اپنی چھتیں فیملیوں کے لئے کھول دیتے تھے اور عورتیں اور بچے آرام سے عَلم اور تعزئیے، زولجناح اور سوگواروں کے جلوسوں کو بہت احترام اور عقیدت سے دیکھا کرتے، پورے پورے محلے ان دنوں خالی ھو جایا کرتے تھے،

    آپ اگر مساجد میں نمازیوں کی بات کریں تو، میری ذاتی مشاھدات میں جو بات ھے وہ یہ کہ ھمارے محلے کی اس چھوٹی سی مسجد میں تقریباً ھر نماز میں تمام محلے کے تمام مرد حضرات اور ساتھ بچے بھی باجماعت شامل ھوتے تھے اگر کوئی کسی وجہ سے حاضر نہیں ھوتا تھا تو نماز کے بعد لوگ اس کے گھر جاکر اسکی خیریت دریافت کرتے تھے، ھم بچے چھوٹے بڑے سب سے پہلے مسجد جاکر وضو کرکے نماز کےلئے تیار ھوتے تھے، کچھ تو وہیں کے مولوی صاحب سے قران کا درس اور اسلامی تعلیم لیا کرتے تھے فجر کے بعد ھر نماز سے پہلے اور بعد مسجد کے مولانا صاحب بچوں کو شیڈول کے مطابق درس دیا کرتے تھے اور مولوی صاحب کو تمام محلے والے مل کر ایک جگہ ایمانداری سے چندہ جمع کرکے اس میں سے ھر ماہ کچھ نہ کچھ انکے گزارے کیلئے دیا کرتے تھے، جو بچ جاتا تھا وہ مسجد کی اصلاح اور ضرورت کی چیزیں خریدی جاتی تھیں، اس کے علاوہ تینوں وقت کا کھانا کسی نہ کسی گھر سے پہنچ جاتا تھا اور ھر بچوں کے ختم قران کی تقریب اور عید بقر عیدکے موقع پر مولانا صاحب کے لئے کپڑوں‌ کےجوڑے بھی پہنچ جاتے تھے، اس وقت مولانا صاحب کی بہت عزت ھوتی تھی،

    محلے کی صفائی اور فلاح و بہبود کے لئے بھی بڑے بڑے بزرگ مل کر تمام فیصلے کرتے تھے، آپس کے جھگڑے وہیں پر ختم کردیتے تھے اور کسی کو بھی ان بزرگوں کے کسی بھی فیصلے پر کوئی اعتراض نہیں ھوتا تھا کیونکہ ھر کوئی تمام بزرگوں کا تہہ دل سے احترام کرتا تھا -

    ھمارے گھر کا صحن کچھ بڑا تھا اس لئے اکثر کسی کے ھاں اگر کوئی تقریب ھو تو اسکا اھتمام ھمارے صحن میں ھوتا تھا اور والد صاحب زیادہ تر لوگوں کے ساتھ مل کر ھر تقریب کی رونق بڑھا دیتے تھے، آج تک اس محلے میں جو لوگ ھیں سب والد صاحب کو بہت یاد کرتیے ھیں، یہ سب کچھ ھمارے محلے کا ھی حال نہیں تھا اُس وقت پاکستان کے ھر محلے کی یہی حالت تھی اگر آپ میں سے کوئی بھی اپنے بزرگوں سے پوچھے تو میرے اس ذکر کو وہ 100٪ صحیح قبول کریں گے،

    مہمانداری کے حساب سے اگر دیکھا جائے، تو ھر کسی کا مہمان پورے محلے کا مہمان ھوتا تھا اور کئی کئی دن تک مہمان ٹھرا کرتے لیکن کسی ایک کا بوجھ نہیں بنتے تھے وہ مہمان تقریباً ھر گھر کا ایک یا دو وقت کے کھانے پر مدعو ضرور ھوتا تھا، اور مجھے تو اگر کوئی گھر پر مہمان آئے تو کچھ زیادہ ھی خوشی ھوتی تھی اور والد صاحب تو اکثر کہتے تھے کہ مہمان اللٌہ کی رحمت ھوتا ھے اور مہمان کے آنے سے گھر میں برکت ھوتی ھے، اور یہ بھی ان کی زبانی سنا کرتے تھے کہ کسی بزرگ کے پاس ھر روز کھانے پر کوئی نہ کوئی مہمان ضرور ھوتا تھا کبھی کوئی مہمان ساتھ نہیں ھوتا تو ڈرتے تھے کہ کہیں کوئی رزق میں کمی نہ ھوجائے، یہی حال سب کا اس وقت یھی خواھش ھوتی تھی کہ ان کے ساتھ کھانے پر کوئی نہ کوئی مہمان ضرور ھو اور لوگ بھی مہمانوں کی خاطر مدارات میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے تھے،

    اس زمانے میں لوگوں میں فلمیں دیکھنے کا بھی بہت شوق ھوتا تھا اور ھر ملٹری کے علاقے میں ھر ھفتہ کی رات کو 4 آنے فی کس کے حساب سے ایک اردو یا پنجابی فلم ضرور دکھاتے تھے، اُس وقت کی فلمیں بہت ھی سلجھی ھوئی، اور سبق آموز، مگر بلیک اینڈ وہائٹ ھوتی تھیں، اور لوگوں کے پاس ان چیزوں کے علاوہ کوئی اورتفریح بھی نہیں تھی، ٹیلیوژن تو دور کی بات ھے، ریڈیو تک لوگوں کے پاس نہیں ھوتا تھا، کئی لوگ تو اس وقت بھی ریڈیو کے ڈراموں اور فلموں کے بارے میں بہت برا کہتے تھے اور فلمیں دیکھنے اور ریڈیو سننے پر بہت اعتراض بھی کرتے تھے اور حرام قرار دیتے تھے، لیکن دیکھنے والے ضرور دیکھتے تھے اس میں ھماری فیملی بھی شامل تھی اور ھم بھی والدیں کے ساتھ مہینے میں ایک دفعہ ضرور فلم دیکھنے ملٹری کے علاقہ میں جاتے تھے

    خیر اب کچھ اپنی بھی خبر لینا شروع کروں، ورنہ کہیں آپ سب یہ میری سبق آموز اور نصیحتین سن کر بور نہ محسوس کرنے لگیں اور اگر تھوڑا سا مجھے کچھ وقفہ عنایت ھوجائے،

    اس کہانی کے سلسلے میں آپ اپنی اچھی یا بُری جو بھی رائے ھو، بلا جھجک دے سکتے ھیں تاکہ میں اپنی تحریر کو اپنے پڑھنے والوں اور قدردان دوستوں کے مشوروں کے مطابق کچھ کہانی کی ترتیب میں یا کسی درستگی کے لئے کوئی تبدیلی لاسکوں تو مجھے بہت خوشی ھوگی!!!!!!!!!!!!!!

    اجازت کچھ وقفہ کے لئے، خوش رھیں اور شکریہ میرے اس کہانی کے انتظار کرنے کا !!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!
    ------------------------------------------------------------------------

    خیر اب کچھ اپنی بھی خبر لینا شروع کروں، ورنہ کہیں آپ سب یہ میری سبق آموز اور نصیحتین سن کر بور نہ محسوس کرنے لگیں اور اگر تھوڑا سا مجھے کچھ وقفہ عنایت ھوجائے،

    اس کہانی کے سلسلے میں آپ اپنی اچھی یا بُری جو بھی رائے ھو، بلا جھجک دے سکتے ھیں تاکہ میں اپنی تحریر کو اپنے پڑھنے والوں اور قدردان دوستوں کے مشوروں کے مطابق کچھ کہانی کی ترتیب میں یا کسی درستگی کے لئے کوئی تبدیلی لاسکوں تو مجھے بہت خوشی ھوگی!!!!!!!!!!!!!!

    آج میں جب یہ سوچتا ھوں کہ جو وقت اتنی جلدی گزر گیا جیسے گزرا ھوا سب کچھ ایک خواب تھا، پلک جھپکتے ھی عمر تمام ھوگئی، کسی نے کیا خوب کہا ھے کہ زندگی ایک پانی کے ایک بلبلے کی ظرح ھے، بلبلہ بنتا ھے اور پل بھر میں ختم ھوجاتا ھے، میں بھی پہلے یہ یقین نہین کرتا تھا، کبھی کبھی سوچتا تھا کہ یہ ھماری زندگی کا سفر کتنا لمبا ھوگا ، شادی ھوگی بچے ھونگے، وہ بڑے ھونگے، انکی شادی کریں گے، کتنا لمبا عرصہ درکار ھوگا، لیکن آج مجھے یہ احساس ھوتا ھے کہ واقعی زندگی کا سفر لگتا تو بہت طویل ھے، لیکن حقیقت میں دیکھا جائے تو بہت مختصر ھے، !!!!!!!!!!!!!!!!

    کبھی کبھی تو میں اپنے آپ کو بہت خوش قسمت انسان سمجھتا ھوں کہ میرے ساتھ زندگی میں کبھی اچھا وقت اور کبھی برا وقت بھی رھا لیکن ان مشکلات سے اللٌہ تعالیٰ نے ھی نجات دلائی اور اور ھمیشہ لوگوں کی نظروں میں ایک عزت بنی رھی، کبھی کبھی میری ھی وجہ سے کچھ غلط فہمیاں پیدا ضرور ھوئی اور بری مصیبتوں میں بھی گھرا رھا، مگر اللٌہ تعالیٰ کا بہت بڑا احسان ھے کہ اس نے مجھے ھر پریشانی سے فوراً چھٹکارا دلایا، یہ سب میری والدہ کی اور بزرگوں کی دعائیں ھی تھیں حالانکہ میں نے شروع میں انکی ممتا کو کئی دفعہ بہت ٹھیس بھی پہنچائی، پھر معافی بھی مانگ کر ان کو گلے لگا کر خوش بھی کرتا رھا اور وہ ھمیشہ میرے لئے روتی ھوئی دعاء کرتی رھیں، وہ سب کچھ شادی سے بہت پہلے کالج کے دور تک، لیکن جب سے پہلی بار نوکری شروع کی اور پہلی تنخواہ ان کے ھاتھ میں رکھی تو مجھے اتنی خوشی اور اتنا سکون ملا کہ میں بیان نہیں کرسکتا، اس کے بعد سے آج تک کبھی بھی ان کا دل دکھانے کی کوشش نہیں کی، چھوٹی موٹی باتیں ضرور ھوئیں ساس اور بہو کے چکر میں، جو ھر گھر میں ھوتا ھے، لیکن زیادہ نہیں !!!! آج بھی جب گھر جاتا ھوں سب سے پہلے ماں کی گود میں اپنا سر رکھ کر روتا ھوں بالکل ایک چھوٹے بچے کی طرح !!!!!!!!!!!!!!!!!

    دعاء یہی کرتا ھوں کہ ھر ایک کی ماں کا سایہ ھمیشہ سر پر سلامت رھے !!!!!!!!!!!!!!!!! آمین ٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪

    ماں کی دعاء اور ٹھنڈی چھاؤں

    معذرت چاھوں گا کہ پھر میں ذرا جذباتی ھوگیا تھا، پھر سے اپنے آپ کو اپنی تمام یادوں کو دوبارہ سمیٹ کر واپس آتا ھوں، اور بعض اوقات کام کی زیادتی کی وجہ سے بھی اپنا متن مکمل نہیں کر پاتا اور توجہ بھی کچھ ھٹ جاتی ھے، کیونکہ لکھتے وقت روانی میں کوئی دخل اندازی ھوتی ھے تو سارے ذہن میں توجہ کا تسلسل ٹوٹ جاتا ھے، !!!!
     
  24. عبدالرحمن سید
    آف لائن

    عبدالرحمن سید مشیر

    شمولیت:
    ‏23 جنوری 2007
    پیغامات:
    7,417
    موصول پسندیدگیاں:
    21
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: یادوں کی پٹاری پارٹ 1

    آج جب میں اپنی یاداشتوں کے ایک منجمد ذخیرے کی طرف اپنے آپ کو ماضی کے تصورات کی دنیا میں لے جاتا ھوں تو قدرتی وہ یادوں کا منجمد ذخیرہ میری تصوراتی ذہن کے سامنے سے پگھلتا ھوا گزرنے لگتا ھے اور میں اسے اپنے خود ان ہاتھوں سے سمیٹتا ھوا ایک تحریر کے روپ میں ڈھالنے کی کوشش کرتا ھوں، اور ساتھ آپ سب کا خلوص اور چاھت ھی ھے جو میری اس کہانی کےلئے بے چینی سے منتطر ھونے کا سب سے بڑا سبب ھے جس کی وجہ سے میری انگلیاں خود بخود اپنے ٹرمینل کے “کی بورڈ“ پر تھرکنے لگتی ھیں،

    قیمتوں کو چھوڑ دیں صرف مقدار کو ھی لے لیں، کیا ھم سوچ سکتے ھیں کہ آج ھم ھر چیز کے استعمال میں کتنا اصراف کرتے ھیں اور کتنا ضائع کرتے ھیں،
    کیا ھم جانتے ھیں کہ اس کا حساب کس نے، کہاں اور کیسے دینا ھے ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟

    کبھی کبھی میں یہ سوچتا ھوں کہ اُس وقت جب اتنے وسائل اور ذرائع نہیں تھے، لوگوں کی اتنی محدود آمدنی تھی، اس کے علاوہ لوگوں میں پڑھے لکھوں کا تناسب بہت کم تھا اور نہ کوئی سیاسی سمجھ بوجھ پائی جاتی تھی، اتنے سادہ لوگ تھے کہ جس نے جیسا کہہ دیا ویسے ھی یقین کرلیا لیکن ان تمام کے باوجود سب لوگ ایک دردمندانہ دل رکھتے تھے، ایک دوسرے کے لئے جان چھڑکنے کیلئے تیار رھتے تھے -

    اپنے محلے میں کبھی کبھی ایسا بھی ھوتا تھا کہ اگر کسی کا بچہ یا کوئی بڑا اگر چھت سے گر جائے یا باھر کوئی کسی قسم کی چوٹ یا کوئی حادثہ ھوجائے، تو یقیں کریں کہ جس کا بھی وہ بچہ یا رشتہ دار ھے، اسے خبر ھی نہیں ھوتی تھی اور وہ کسی نہ کسی کی کوشش اور ھمدردی کی وجہ سے ڈاکٹر یا اسپتال سے فارغ ھوکر گھر پہنچتا تو اسکے گھر والون کو خبر ھوتی تھی، بلکہ وہ مخلص لوگ تو سب کو خبردار کر جاتے تھے کہ اس زخمی بچے یا بڑے کی خبر اس کے گھر میں نہ ھو، چاھے وہ کوئی غیر مسلم ھی کیوں نہ ھو -

    آج بھی مجھے اس محلے کی ھر گلی اور ھر درودیوار سے بہت پیار ھے، جب بھی میں وہاں جاتا ھوں وہ لوگ میری بہت عزت کرتیے ھیں اور میرا تعارف اتنے پیار اور خلوص کے ساتھ، دوسرے لوگوں سے اس طرح کراتے ھیں کہ میں خود بھی شرمندہ ھوجاتا ھوں، وہاں اب جو بھی اسوقت کے لوگ باقی ھیں، ان کا رھن سہن، اخلاق پیار اور ایک دوسرے سے محبت ابھی تک ویسے کا ویسا ھی ھے، گھر کے نقشے بدل گئے لیکن لوگوں کے دل نہیں بدلے، ابھی بھی وھی ملٹری کی دیواروں کے آغوش میں اپنے اس محلے کو ایک مضبوط قلعے کی طرح پناہ دئیے ھوئے ھے، وہاں کی پہلے کی ایک چھوٹی سی لکڑی کی بنی ھوئی پرانی مسجد اب ایک خوبصورت سنگ مرمر کے فرش سے آویزاں کے روپ میں ڈھل چکی ھے، یہ بھی ایک وہاں کے لوگوں کی پرخلوص کاوشوں کا ایک نتیجہ ھے،

    آس پاس کا علاقہ بہت ماڈرن ھوچکا ھے،جگہ بڑی بڑی کئی منزلہ عمارتیں بن چکی ھیں اور سڑکیں جو سنگل تھیں آج ڈبل بن چکی ھیں، ریلوے لاٰئنوں کے اوپر بھی ایک نیا خوبصورت سا بہت بڑا پل بن چکا ھے جو آس پاس کے علاقوں کو آپس میں ملاتا ھے، ھر جہاں نزدیک ھی ایک چوراھے پر ایک پارک تھا، جو کبھی میرے دکھوں اور غموں کا ایک غمگسار تھا، وھاں جاکر اکثر میں اکیلا کبھی کسی مشکل میں ھوتا تو وھاں بیٹھ کر سوچتا تھا کبھی مستقبل کے پروگرام بھی بناتا تھا اور وھیں کبھی کبھی سو بھی جاتا تھا وہ چوراھے پر ایک بہت بڑا پلوں کا “فلائی اور“ بن چکا ھے، اب بھی خاص طور پر وھاں اسکے نیچے جاکر میں اپنے اس چوراھے کے باغیچہ کو تلاش کرنے کی کوشش کرتا ھوں، جس کی بھینی بھینی خوشبو اب بھی مجھے وھاں جاکر محسوس ھوتی ھے !!!!!!!!!!!!!!

    اکثر اپنے اس اسکول کی طرف بھی میں جاتا ھوں اور ان ان راستوں پر جہاں جہاں میرے قدم پڑے ھیں، میں چلتا ھوں اور پہچاننے کی کوشش کرتا ھوں، وہ چھوٹا سا ایک بازار جہاں سے کبھی میں گھر کا اور ساتھ اپنے محلے کا سودا لایا کرتا تھا اب وہ جگی بھی ایک نئے بازار کی جگہ لے چکی ھے، کوئی بھی پرانا جاننے والا اب اس بازار میں نظر نہیں آتا ھے -

    سب کچھ بدل چکا ھے لیکن میرا محلہ چند سہولتوں کے اضافہ ساتھ بالکل ویسا ھی ھے، جسے چاروں طرف وھی ملٹری کی دیوار اپنے مضبوط اور محفوظ آغوش میں لئے ھوئے ھے، لوگ اب کچھ سہمے ھوئے سے نطر آتے ھیں کہ اگر یہ ملٹری کی دیوار اگر سرکار نے گرادی تو اس محلہ کا کیا ھوگا، اسے بھی گرادیا جائے گا، اور یہ میری آخری یادوں کا سہارا بھی مجھ سے چھوٹ جائے گا، میں اب اکثر یہ سوچتا ھوں !!!!!!!
    --------------------------------------------------------

    سیکنڈری اسکول میں جب سے مجھے داخل کرایا گیا، تو میں اپنی تمام ماضی میں گزری ھوئی مشکلات اور مصیبتوں‌ کو بھول چکا تھا، کیونکہ اس اسکول میں تقریباً تین سال بعد ایک پڑھنے کا اچھا ماحول ملا تھا، تمام دوست بھی نفیس ترین اور بااخلاق تھے، جیساکہ میں اس سے پہلے بھی تفصیل سے عرض کرچکا ھوں، حالانکہ یہ بھی ایک گورنمنٹ اسکول ھی تھا، لیکن اس کی انتظامیہ کی تعریف بہت دور دور تک تھی اور یہاں داخلہ بھی بہت مشکل سے ملتا تھا، لیکن والد صاحب نے رابطہ کیا ھمارے محلے کے ایک اس اسکول کے سینیئر سابق طالب علم منیر بھائی سے، جو اس وقت کالج میں تھے،اور انکی ھی سفارش پر داخلہ مل گیا تھا ورنہ میرا اپنی قابلیت سے سیلیکشن ھونا بہت ھی مشکل ھی تھا، کیونکہ میرے مارکس کا وہ اسٹینڈرڈ نہیں تھا، جو اس اسکول میں داخلے کیلئے ضروری تھا، اور کچھ ملٹری کے کوٹہ نے بھی اثر دکھایا تھا،

    روز کے معمول بہت اچھی طرح چل رھے تھے، ایک طرف اسکول کی پڑھائی اور دوسری طرف محلے کا رھن سہن اور وہاں کا برتاؤ، تیسرے والدین کی عزت، چوتھے محلے کے دوستوں کے ساتھ الگ ایک اپنی محفل اور اللٌہ تعالیٰ کا شکر تھا کہ میں اپنے آپ کو ھر ماحول میں بالکل فٹ پا رھا تھا، یعنی کہ اپنی زندگی کی گاڑی اپنی صحیح رفتار سے دوڑ رھی تھی، اس میں ھماری ملکہ باجی کا بہت زیادہ ھی عمل و دخل تھا وہ سب سے پہلے ھر ایک کو اخلاق کا بہت اچھا سبق دیتیں اور بعد میں دوسری بات کرتی تھیں، اکثر بچے جو کہ گالیاں بہت بکتے تھے اور نازیبا الفاظوں کا استعمال بے شمار کرتے تھے، اب وہ اچھی اور شائستہ زبان بولنے لگے تھے جو لوگ تو تڑاک سے بولتے تھے اب “آپ جناب“ سے بات کرنے لگے تھے، جسے میں پہلے دل میں ھٹلر باجی کہتا تھا اب میرے لئے ایک محترم ھستی کا مقام رکھتی تھیں اور وہ آج تک میرے دل میں انکا وھی مقام ھے،

    بچوں میں لڑائی وغیرہ اب بہت کم ھوتی تھی اور اگر ھوتی بھی تو ملکہ باجی کی وجہ سے فوراً ختم ھوجاتی تھی اور محلے کی رونقیں برقرار رھتی ملکہ باجی نے تو محلے میں ایک گھر میں ھی چھوٹا سا محلے کیلئے اپنے ھی گھر میں ایک ویلفیئر سنٹر ھی کھول لیا تھا، اس میں بچوں کو فری بنیادی تعلیم اور مختلف دستکاری بھی بغیر کسی معاوضے کے سکھاتی تھیں اور اکثر بچے اپنے اسکول کا ھوم ورک کرنے کیلئے بھی ان سے مدد لیا کرتے جس میں ھم سب بڑے بچے بھی انکی مدد میں برابر کے شریک ھوتے، اور خاص طور سے عورتوں میں عیدمیلادالنبی :saw: کا انتظام بھی خود کرتیں اور وہ بہت ھی اچھی حمد اور نعتیں درود و سلام ،خوبصورت آواز میں پڑھتی تھیں، اور ھر ایک کی خواھش پر ھر گھر میں انتظام کراتی بھی تھیں -

    اس محلے کی خوشیاں ایک وقت میں بہت عروج پر تھیں، میں تو اب محلے کا ایک پکا لاڈلا بن چکا تھا، کیونکہ اکثر محلے کے کسی بھی گھر کے کام کیلئے میں نے کبھی بھی انکار نہیں کیا تھا، جب بھی اپنے گھر کے اسی بھی کام کیلئے باھر نکلتا تو شاید ھی کوئی ایسا وقت ھوتا کہ مجھے کوئی آواز نہیں دیتا تھا اور جیسے ھی باھر نکلتا تو ساتھ میرے ملکہ باجی ضرور چل دیتیں، انہیں بھی بازار سے کچھ نہ کچھ لینا ھوتا تھا اور شاید میرے ساتھ وہ اپنے آپ کو محفوظ بھی سمجھتی تھیں، ویسے بھی اس وقت کوئی ایسا خطرہ یا کسی چھیڑ چھاڑ کا نام و نشان نہیں تھا اور ھر کوئی عورتوں اور لڑکیوں کا دل سے احترام بھی کرتے تھے -

    اپنے گھر سے زیادہ اب میں ان کے گھر میں گزارتا تھا یا وہ دونوں میرے گھر پر موجود ھوتیں، اپنے گھر کے کام سے فارغ ھوکر میری والدہ کابھی ھاتھ بٹاتی تھیں، اور میرے چھوٹے بہن بھائیوں کو بھی سنبھالتی تھیں، اس کی وجہ سے وہ ھمارے والدین کے دلوں میں ایک بہت اچھا مقام بنا چکی تھیں، اور ھماری والدہ کا بھی ان دونوں کے بغیر دل نہیں لگتا تھا، اکثر میں نے دیکھا کہ وہ والدہ کے بالوں میں تیل لگانتی اور کنگھی کرتیں، اور جو بھی کام ھوتا بہت خوشی سے کرتی تھیں، اسی کرح وہ دن اتنی تیزی سے بھاگ رھے تھے کہ پتہ ھی نہیں چلتا تھا،

    اسکول کا پہلا سال تو بہت اچھا گزرا، سالانہ امتحان میں اتنے اچھے نمبر تو نہیں بلکہ قابل قبول ضرور تھے 65٪ کے قریب مارکس لے کے جو اس وقت کی سیکنڈ ڈویژن اور آج کا “بی گریڈ“ کہ سکتے ھیں، بہرحال یہ بھی اللٌہ کا شکر تھا، گھر میں کافی خوشیاں منائی گئیں، چلو ایک سال اور اس اسکول کا بیت گیا اور ساتویں کلاس میں پہنچ گئے، دوستوں کا وھی ھمارا پرانا گروپ تھا اور کلاس ٹیچر بھی وھی جنہیں سب پسند کرتے تھے، اسکے علاوہ باقی سب ٹیچر بھی اپنی اپنی جگہ پر بہت اچھے تھے، 1962 کا سال چل رھا تھا میری عمر اب بارویں سال میں داخل ھوچکی تھیں،

    دوسری طرف میرے کچھ بچپن کے شوق بھی میری عمر کے ساتھ ساتھ چل رھے تھے، پہلے کبھی مین اپنی کاپیوں کے اخر میں اردو خوشخطی لکھنے کے ساتھ ساتھ کچھ خیالی تصاویر بھی بنایا کرتا تھا، جو کہ آھستہ آھستہ وہ عادت ایک پختہ مہارت کا روپ لینے لگی تھی اب میں نے باقائدہ طور سے اس شوق کا سامان بھی رکھنے لگا تھا، پنسلیں اور برش اسکے علاوہ پرانے کیلنڈروں کےپیپرز کو بھی استعمال میں لاتا تھا، جس پر سب سے پہلے میں نے علامہ اقبال کی پنسل اسکیچ سے تصویر بنائی اور اسکے بعد قائداعظم کی تصویر پر مزید ھنرمندی دکھائی، جسے سب لوگوں نے بہت پسند کیا اور خود والد صاحب بھی بہت خوش ھوئے اور ھماری ملکہ باجی نے کچھ زیادہ نوٹس نہیں لیا، ان کا کہنا یہ تھا کہ پہلے پڑھائی کی طرف توجہ دو پھر جب وقت بچے تو، اس طرف دھیان دیا کرو، مگر مجھے اس کا تو جنون کی حد تک شوق ھوگیا اور پڑھائی کو بھی ساتھ ساتھ لے کر چل رھا تھا -

    بعد میں میں نے ایک بہت بڑی ایک البم بنائی اس میں اخباروں سے فلموں کے اشتہار کاٹ کر ان کی نئے سرے سے مختلف ڈیزاین سے تصویریں چپکا کر ایک نیا رنگ دیا اور اپنے ھاتھ سے خوشخط اردو سے نام وغیرہ لکھ کر مزید خوبصورت بنانے کی کوشش کرنے کی کوشش کی بعد میں مشہور فلم اسٹاروں کی تصویروں کو سامنے رکھ کر پنسل اسکیچ سے شاندار تصویریں بنانے لگا، اس کے علاوہ لوگوں کی تصویریں پر بھی کچھ ھاتھ صاف کرنے لگا، اسلامی کتبے اور خانہ کعبہ، گنبد خضریٰ کی تصویریں پہلی بار رنگین کلر سے برش سے بنائی، جسے بہت ھی زیادہ پسند کیا گیا، اب تو لوگ اور دوست بھی فرمائشیں کرنے لگے تھے، لیکن ابھی بھی تھوڑی سی کسر باقی تھی-

    میں چاھتا تھا کہ کسی ماھر آرٹسٹ کے پاس جاکر اپنے اس شوق کو لے کر مزید کچھ اور آگے سیکھوں، مگر والد صاحب بھی یہی کہتے تھے کہ پہلے پڑھائی مکمل کرلو، اس کے بعد کسی اچھے آرٹس کے اسکول میں داخلہ لے لینا، میں نے اب مزید پڑھائی کی طرف زور دینا شروع کردیا، اس کے ساتھ ساتھ اپنا شوق بھی پورا کرتا رھا، لیکن یہ واقعی حیرت کی بات تھی کہ چاھے گرمی کا موسم ھو یا سردی کا میں اپنے شوق کے مشن کو لے کر چلتا رھا اور اکثر رات کو اباجی سے چھپ کر بھی لالٹین کی روشنی میں بھی اپنے شوق کی تکمیل کرتا رھا-

    اسی شوق اور روزمرہ کی وھی مصروفیات میں بغیر کسی ردوبدل کے اسی تسلسل کے ساتھ ھنسی خوشی سے بھرا ایک سال اور گزر گیا، اور اسی قابل قبول نمبروں سے ساتویں جماعت کو بھی خیرباد کہہ دیا، لیکن کوشش کے باوجود بھی کوئی اچھی پوزیشن نہ لا سکا، اسکی وجہ بھی میرا آرٹ اور ادب کا شوق تھا، ریڈیو پاکستان کے بچوں کے پروگراموں کے علاوہ بھی میں بچوں کے رسالوں بھی کچھ کہانیاں وغیرہ لکھنے کی کوشش کی، لیکن زیادہ نہیں بس کچھ دن کے بعد زیادہ وقت نہ نکال سکا، قلمی دوستی بھی ساتھ ایک نئے شوق کے میرے ساتھ لگ گئی اخباروں میں بھی ایک نئے نام سے پہچانے لگا جس میں میرا نام “ارمان شاھد“ ھوا کرتا تھا،

    1963 کا سال چل رھا تھا عمر میں بھی ساتھ ساتھ ایک سال کا مزید اضافہ ھو گیا، تیرویں سال کے ایک رنگین شوق کے دور میں شامل ھوگیا تھا، اس وقت شکر ھے کہ ھمارے گھر میں ریڈیو بھی والد صاحب خرید لائے ایک اور نئی خوشی ھمارے گھر میں آگئی تھی، اور ساتھ ساتھ اپنے اندر بھی ایک بڑکپن کا غرور سا آگیا تھا اور قد میں بھی اچھا خاصہ اضافہ ھوچکا تھا،!!!!!!!!!!!!!!!

    اب اجازت چاھتا ھوں اگلی قسط کے ساتھ پھر حاضر ھونگا، نئی امنگوں کو لئے ھوئے ایک نئے موڑ کی طرف گامزن!!!!!!!!!!!!!!!!!

    اپنا سب خیال رکھئے گا،

    اللٌہ حافظ
    ‌‌
    ------------------------------------------------------------------

    1963 کا سال چل رھا تھا عمر میں بھی ساتھ ساتھ ایک سال کا مزید اضافہ ھو گیا، تیرویں سال کے ایک رنگین شوق کے دور میں شامل ھوگیا تھا، اس وقت شکر ھے کہ ھمارے گھر میں ریڈیو بھی والد صاحب خرید لائے ایک اور نئی خوشی ھمارے گھر میں آگئی تھی، اور ساتھ ساتھ اپنے اندر بھی ایک بڑکپن کا غرور سا آگیا تھا اور قد میں بھی اچھا خاصہ اضافہ ھوچکا تھا،!!!!!!!!!!!!!!!

    آٹھویں کلاس میں جانے کے بعد کچھ لگتا تھا کہ طبعیت میں کچھ سنجیدگی سی آگئی تھی، اس دفعہ پہلی بار مجھے ریڈیو پاکستان کے مین گیٹ پر ھی بچوں کے پروگرام میں جانے سے روک دیا گیا کیونکہ میری عمر اب اس بات کی اجازت نہیں دے رھی تھی کہ میں بچوں کے ساتھ اس پروگرام نیں حصہ لے سکوں، جس کا مجھے اس دن بہت زیادہ افسوس بھی ھوا، حالانکہ پچھلے ہفتہ، منگل کے دن ھی ان بچوں کے ساتھ جاکر وہیں سے آڈیشن ٹیسٹ دے کر ھی اجازت نامے لئے تھے، اس دن باقی بچے جو میرے ساتھ تھے، وہ میرے بغیر اندر جانے سے کچھ شرما رھے تھے، لیکن میں نے انہیں بڑی مشکل سے راضی کیا کہ میں یہیں باھر کھڑا ھوں جیسے ھی پروگرام ختم ھو یہاں گیٹ کے پاس آجانا،

    مگر پھر بھی ایک بچہ تو بالکل ھی اڑ گیا، اتوار کا دن تھا اور ساری دکانیں بند تھیں ویسے بھی اتنی صبح صبح کون دکان کھولتا ھے، میں اس بچے کو ساتھ لے کر برابر میں اردو بازار کے میں دروازے کا سامنے فٹ پاتھ پر بیٹھ کر پروگرام کے ختم ھونے کا انتظار کرتا رھا، جہاں سے ریڈیو پاکستاں کے اندر داخلہ کا مین گیٹ بھی نظر آرھا تھا، اسی انتظار میں یہ سوچتا رھا میرے وہ معصوم بچپن کا وہ دور صرف چار دن کے اندر ھی ختم ھوگیا، پچھلے منگل کو مجھے انہیں لوگوں نے اگلے اتوار کے پچوں کے پروگرام کی اجازت دی تھی اور آج مجھے اندر جانے سے منع ھی کردیا کہ میری عمر زیادہ ھے -

    پروگرام ختم ھونے کے بعد سب بچوں کو ساتھ لے کر اپنے گھر کی طرف واپس ھوا، تھوڑی دور چلنے کے بعد صدر سے اپنے علاقے کی بس میں سب بچوں کو باری باری بٹھایا اور جب بس روانہ ھوئی تو کنڈکٹر سے تین ٹکٹ لئے ایک اپنا اور چار بچوں کے آدھے ٹکٹ، کچھ دیر میں اپنا اسٹاپ آگیا اور چاروں بچوں کو باری باری بس سے اتارا اور ابنے محلے کی ظرف سب کو ساتھ لئے چل رھا تھا، آج چال میں وہ ہل چل نہیں تھی، بچے بھی کچھ میری وجہ سے خاموشی سے چل رھے تھے، ورنہ ھمیشہ میں ان بچوں کے ساتھ اچھلتا کودتا، شور مچاتا بالکل سرکس کے مزاحیہ جوکر کی طرح مذاق کرتا ھوا چلتا تھا،

    اب یہ پہلی بار ریڈیو پاکستاں کے بچوں کے پروگرام میں داخلہ پر پابندی لگی تھی، اور میں گھر جاکر اپنے آپ کو شیشے میں دیکھ رھا تھا کیا میری شکل اب اس قابل نہیں رھی کہ بچوں کی محفلوں میں شریک ھوسکوں، اس دن سے دل کو ایسا دھچکا لگا کہ چہرے پر ایک بےزاری سی کیفیت محسوس ھونے لگی، اس دن تو مجھے کافی رونا آتا رھا، سب لوگ پوچھتے بھی رھے کہ کیا بات ھے آج چہرے پر بارہ کیوں بجے ھیں، لیکن میں نے کسی کا بھی صحیح طریقے سے جواب نہیں دیا-

    میری حالت ملکہ باجی بھی دیکھ رھی تھیں، انہوں نے مجھے پیار سے سمجھایا کہ اب تم 13 سال کے ھونے والے ھو ، اور وھاں تو صرف 12 سال تک کے عمر کے بچوں کی اجازت ھے، تمھیں تو خوش ھونا چاھئے کہ 12 سال کے بعد بھی تمہیں کتنی دفعہ اجازت مل چکی ھے، اب تو تمھیں بڑوں کے پروگراموں میں حصہ لینا چاھئے، میں تمھارے ساتھ چلونگی اور تمھیں کسی نہ کسی کے پروگرام میں حصہ دلا کر ھی رھونگی، لیکن اس وقت تو میں نے بالکل انکار کردیا اور ساتھ یہ بھی کہا کہ آیندہ اس طرف کا تو میں رخ بھی نہیں کرونگا، کئی دنوں تک تو اسکا مجھے بہت افسوس رھا اور اس وقت زیادہ ھوتا جب ھر منگل کی صبح صبح کو بچے تیار ھوکر میرے گھر مجھے ریڈیو پاکستان سے اجازت نامہ لینے کیلئے آجاتے، مگر ان سب کو مایوس ھونا پڑتا یہاں میں نے ان کے ساتھ زیادتی کی، میں چاھتا تو انہیں اجازت نامہ دلوا بھی سکتا تھا لیکن صرف اپنی خودغرضی کی وجہ سے میں نے ان کے معصوم خواھشوں کو کچل کر رکھ دیا تھا -

    میں اب اور کچھ زیادہ اپنے آپ کو مشغول رکھنے لگا تھا، آٹھویں جماعت کے امتحانات بھی نزدیک تھے، اسکی تیاری کے ساتھ ساتھ کچھ تھوڑا سا وقت اپنے شوق کی طرف بھی دے رھا تھا اور اپنی تصویروں کی البم کے خالی صفحوں پر اخباروں کی کٹنگ سے مختلف رنگوں سے اپنے ہاتھوں سے پینٹنگ کرتا رھا، جو بھی گھر آتا اسے وہ البم ضرور دکھاتا، اور لوگ بہت تعریف بھی کرتے، زیادہ تر فلموں کے ھی اشتہار ھی ھوتے تھے اور ساتھ ھی پنسل اسکیچ سے تصویریں بنانا بھی تہیں چھوڑا تھا اب تو ایک تقریباً ایک گھنٹے کے اندر اندر ایک تصویر مکمل کر لیتا تھا اور رنگوں کی تصویر جو میں برش کے ساتھ پانی کے کلرز سے بناتا تھا اس کیلئے کچھ اور تھوڑا سا وقت مزید درکار ھوتا تھا -

    امتحانات کی تیاری میں والد صاحب کے علاوہ ملکہ باجی میرا ساتھ بہت دیتی تھیں، وہ اور انکی بہں زادیہ بھی اب میرے ھی اسکول میں ھی پڑھ رھی تھیں، لیکن وقت الگ ھی تھے اور شاید وہ نویں کلاس میں اور زادیہ میرے ھی ساتھ آٹھویں کلاس میں پڑھ رھی تھی، بہر حال ھم تینوں امتحانات کی تیاریوں میں لگے رھتے اور جب تھک جاتے تو میرے ساتھ وہ دونوں بیٹھ کر مجھے تصویریں بناتا ھوا دیکھتیں، اور کچھ حیران بھی ھوتیں کہ میری بنائی ھوئی تصویروں میں اتنی بہترین اور صاف مشابہت دیکھ کر پریشان ھوجاتیں حلانکہ مجھے ابھی بھی بہت سی خامیاں نظر آرھی تھیں،

    بچوں کیلئے اب مجھے وقت نکالنا بہت مشکل ھورھا تھا، پہلے تو کبھی کبھی ریڈیو پاکستان کے علاوہ ھل پارک، چڑیاگھر یا کبھی سمندر کے کنارے کلفٹن بھی لے جایا کرتا تھا، ساتھ اپنے چھوٹے بہن بھائی بھی ھوتے تھے، مگر ملکہ اور زادیہ کو گھر سے اجازت نہیں ملتی تھی لیکن میں ان کی پوری فیملی کے ساتھ ضرور جاتا تھا، اکثر جب بھی وہ سب کسی تقریب یا فلم دیکھنے یا کہیں گھومنے جارھے ھوتے تھے تو مجھے میرے والدیں سے اجازت لے کر اپنے ساتھ ضرور لے جاتے تھے اور میں بھی ان کے ساتھ خوب خوش رھتا تھا -

    بچوں کی خوشی کیلئے مجھے ایک اور شوق کو پالنا پڑا کیونکہ بچے مجھے بہت عزیز تھے، اس شوق کیلئے مجھے کچھ زیادہ ھی محنت کرنی پڑی تھی، !!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!
    -----------------------------------------------------

    بچوں کی خوشی کیلئے مجھے ایک اور شوق کو پالنا پڑا کیونکہ بچے مجھے بہت عزیز تھے، اس شوق کیلئے مجھے کچھ زیادہ ھی محنت کرنی پڑی تھی، !!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!

    جب سے ریڈیو پاکستان کے دروازے مجھ پر بند ھوئے، میں نے بھی بچوں کے ساتھ باھر نکلنا تقریباً ختم کردیا تھا، اور بس زیادہ تر اپنے ھی محلے میں ھی بچوں کے ساتھ کچھ نہ کچھ محفل جما ھی کرلیا کرتا تھا، لیکن بچون کو تو باھر جانے میں ھی زیادہ خوشی ھوتی تھی، اور لوگ بھی اپنے بچے میرے حوالے کرکے بےفکر ھو جاتے تھے، مگر بچے مجھے باھر لے جانے کی زد کرتے، لیکں اب میرا دل بالکل نہیں چاھتا تھا، مگر میں نے بچوں کے لئے کچھ اور ھی سوچ رکھا تھا کہ گھر پر ھی کیوں نہ کچھ انکی دلچسپیوں کا ساماں پیدا کیا جائے،

    کبھی کبھی ھمارے محلے میں ایک پتلی تماشے والا آتا تھا، جس میں وہ کئی چارپائیوں کو ساتھ جوڑ کر ایک اسٹیج بناتا تھا، اور پیچھے سے وہ مختلف رنگ برنگی پتلیوں کو دھاگوں کی مدد سے اپنی انگلیوں سے نچاتا تھا، ساتھ ساتھ ان پتلیوں کی حرکتوں اور کرداروں کے مطابق اپنے منہ سے آوازیں بھی نکالتا رھتا، کبھی مغل آعظم اور انارکلی، کبھی مُلا دوپیازہ اور بیربل اور کبھی پاٹےخان کے ساتھ بہت سے دوسرے مزاحیہ کھیل مختلف انداز سے پیش کرتا تھا، جسے محلے کے تمام بوڑھے، جوان، بچے، عورتیں اور مرد سب بڑے شوق سے دیکھتے تھے

    اس پتلی تماشہ کو لوگ سامنے سے دیکھتے تھے اور میں پیچھے جاکر اس پتلی والے کو پتلیاں نچاتے ھوئے اسکے ھاتھوں کو دیکھتا تھا، میں نے بھی اسکی دیکھا دیکھی گھر پر ھی گتے سے کاٹ کر اس پر مختلف رنگون کی مدد سے کرداروں کی ایک نئی شکل کی مختلف قسم کی پتلیاں بنائی، سر، ھاتھوں اور پیروں کو پنوں اور تاروں کی مدد سے اس طرح جوڑا کہ وہ اسانی سے ھل جل سکیں، پھر ان میں سوراخ کرکے مضبوط کالے دھاگوں سے باندھ کر پہلے خود ھی پریکٹس کی، پھر ایک چھوٹا سا اسٹیج اسی طرح چارپائیوں کو جوڑ کر بناکر “بیک گراونڈ“ کو اماں کے کالے برقے سے ڈارک کرتا، آگے پیچھے ڈھکنے کےلئے چادروں سے کام لیتا اور پیچھے سے مختلف کالے دھاگوں سے پتلیوں کے ھاتھ پیر اور سروں کو انگلیوں کی مدد سے حرکت دیتا اور منہ میں ایک سیٹی رکھ کر اسی پتلی تماشے والے کی طرح آوازیں نکالتا، جسے بچوں نے کافی تفریح لی اوا بہت خوش ھوتے رھے،

    اس میں مجھے کافی حد تک کچھ کامیابی بھی ھوئی، لیکن اتنی مہارت سے پتلیوں کو چلا نہ سکا مگر بس اپنے کھیل اور بچوں کی تفریح کی حد تک بہت ھی زیادہ بہتر تھا اگر کچھ دں مزید پریکٹس کرتا تو شاید “پتلی ماسٹر“ ھونے کے چانس تھے، اس میں سب سے مشکل کام اپنی تمام انگلیوں کو مختلف زاویوں سے اپنی منہ کی آواز کے ساتھ ساتھ چلانا پڑتا ھے اور ھر انگلی دھاگے کی مدد سے پتلیوں سے جڑی ھوتی تھی، واقعی بہت مشکل کام تھا، جس کو زیادہ دن تک برقرار نہ رکھ سکا ایک وجہ یہ تھی کہ گھر کی چادریں اور اماں کے دو برقے میں خراب کرچکا تھا، جس کی ڈانٹ بہت کھانی پڑی اور دوسرے یہ کہ میری پتلیاں گتے اور کاغذ کی ھوتی تھیں، جو ایک دفعہ چلانے کے بعد دوسے وقت کیلئے بالکل ناکارہ ھو جاتیں، اس لئے مجبوراً مجھے اس کھیل کو ختم کرنا پڑا،

    میں یہ ساری تفریح محلے کے بچوں کے لئے اور کچھ اپنی واہ واہ کےساتھ ساتھ اپنا شوق کو بھی پورا کرنے کی کوشش کرتا تھا، اس کے علاوہ بچوں سے یا کسی سے بھی اسکا معاوضہ نہیں لیتا تھا، بس اماں ھماری زندہ باد، کسی نہ کسی طرح انہیں منا کر پیسے کھینچ لیتا تھا، یہ سب کچھ صبح سے لیکر دوپہر اسکول جانے سے پہلے کرتا تھا کیونکہ اس دوران اباجی ڈیوٹی پر اور ھماری ملکہ باجی اور زادیہ اسکول میں ھوتی تھیں، اور کسی کا اتنا ڈر بھی نہیں تھا، اپنے چھوٹے بہن بھائی تو مجھ سے ویسے ھی ڈرتے تھے،

    اب پتلی تماشے کے بعد کسی اور نئے کھیل کی فکر میں لگ گیا، وہ کھیل کیا تھا، ایک اور نیا ڈرامہ، جس کے لئے کچھ مہنگا ساماں خریدنا پڑا اور اس کے لئے مجھے کافی جتن کرنے پڑے، جسے اب کبھی سوچتا ھوں تو بہت ھنسی آتی ھے، دن کو اکثر اپنے شوق پورے کرتا اور شام کو اسکول سے واپسی پر اپنی پڑھائی کی طرف دھیاں دیتا تھا، اور باقی روزمرہ کے کام کاج اپنے معمول کے مطابق ھی ھورھے تھے، جیساکہ پہلے ھی میں ذکر کرتا رھا ھوں !!!!!!!!!!!!!!!!!!
     
  25. عبدالرحمن سید
    آف لائن

    عبدالرحمن سید مشیر

    شمولیت:
    ‏23 جنوری 2007
    پیغامات:
    7,417
    موصول پسندیدگیاں:
    21
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: یادوں کی پٹاری پارٹ 1

    ب پتلی تماشے کے بعد کسی اور نئے کھیل کی فکر میں لگ گیا، وہ کھیل کیا تھا، ایک اور نیا ڈرامہ، جس کے لئے کچھ مہنگا ساماں خریدنا پڑا اور اس کے لئے مجھے کافی جتن کرنے پڑے، جسے اب کبھی سوچتا ھوں تو بہت ھنسی آتی ھے، دن کو اکثر اپنے شوق پورے کرتا اور شام کو اسکول سے واپسی پر اپنی پڑھائی کی طرف دھیاں دیتا تھا، اور باقی روزمرہ کے کام کاج اپنے معمول کے مطابق ھی ھورھے تھے، جیساکہ پہلے ھی میں ذکر کرتا رھا ھوں !!!!!!!!!!!!!!!!!!

    اب ایک اور نئے شوق کے چکر میں، تاکہ بچے کسی نہ کسی طرح خوش رھیں، ایک ھمارے محلے میں ایک آدمی اکثر ایک بڑا سا ڈبہ اپنی سائیکل پر رکھ کر آتا تھا، اس میں پانچ یا چھ دوربین کی طرح لیٹربکس جیسے دیکھنے کیلئے لگے ھوتے تھے، اندر ایک طرف ایک سینما کی طرح ایک پردہ ھوتا، دوسری طرف ایک فلم چلانے کی چھوٹی سی ایک مشین لگی ھوتی تھی، جس پر ایک چرخی کے ساتھ فلم کی ریل ھوتی اور وہ آدمی اس چرخی کو اپنے ھاتھ سے گھماتا اور ایک شیشہ بھی لگا ھوا تھا جس سے وہ سورج کی روشنی کا عکس مشیں کے عدسے پر ڈالتا جہاں سے فلم کی ریل چل رھی ھوتی تھی، اور اس ڈبے کے اندر اس فلم کا عکس پڑتا اور بچوں سے ایک ایک آنہ لے کر شاید دو یا تیں منٹ کی فلم کا کوئی مار دھاڑ یا کوئی رقص کے سین بغیر آواز کے دکھاتا تھا، اور بچے بہت شوق سے یہ بھی دیکھتے تھے -

    مجھے بھی ایک اسی طرح کے شوق کا دورہ پڑا کہ میں کیوں نہ بچوں کو بھی اسی طرح کی ایک اور تفریح فراھم کروں، بس اس کام کی دھن میں بازار جاکر روزانہ کوئی نہ کوئی معلومات لیتے کی کوشش کرتا رھا، مگر جب آخری نتیجہ پر پہنچا کہ مجھے اس شوق کیلئے تو میرے حساب سے کافی رقم درکار ھوگی، میرے منصوبے کے مطابق اس میں کم از کم ایک سو روپے کا نسخہ تھا، جو کہ میرے بس کے بالکل باھر تھا، والد صاحب کی تنخواہ ھی 150 روپے ماھانہ تھی اور وہ پورے گھر کے خرچ پر ھر مہینے 100 روپے سے زیادہ خرچ نہیں کرتے تھے، اور میں اپنے اس شوق کیلئے 100 روپے خرچ کروں یہ تو بالکل ناممکن تھا،

    اکثر جب بھی میں فلم دیکھنے جاتا تھا تو مجھے یہ تجسس رھتا تھا کہ پردہ پر حرکت کرتی ھوئی فلم کیسے دکھائی دیتی ھے، میں اکثر بالکل سامنے کا ھی ٹکٹ لیتا تھا اور ان لوگوں کو بےوقوف سمجھتا تھا جو بالکل پیچھے اور گیلری میں بیٹھ کر اور زیادہ پیسے خرچ کرکے فلم دیکھتے تھے، جبکہ اس وقت سب سے آگے چار سے چھ آنے، درمیان میں بارہ آنے، سب سے پیچھے ایک روپیہ اور گیلری کا ٹکٹ صرف سوا روپے سے ڈیڑھ روپے تک ھوتا تھا، میں بھی یہ سوچنے لگا کہ اگر میں بھی کسی طرح ایک چھوٹا سا سینما جیسا بنا لوں اور محلے کے بچوں اور بڑوں سے کچھ نہ کچھ ٹکٹ کےعوض لے کر کچھ گھر کی آمدنی میں بھی اضافہ کرسکتا ھوں، اور یہ بس میں اکیلے ھی اپنے شیخ چلٌی کی طرح اپنے خوابوں کو بنتا رھا،

    اور شاید آپ یقیں کریں یا نہ کریں میں نے یہ مہنگا شوق بالکل شیخ چلی کے خوابوں کی طرح مگر حقیقت میں ایک مہینے کے اندر اندر مکمل کیا، سب سے پہلے تو میں نے کچھ اپنے جیب خرچ میں سے کچھ بچائے اور کچھ والدہ سے زبردستی رو دھو کر تین روپے اکھٹے کئے، مگر کسی کو بھی خبر نہ ھونے دیا، اور خاموشی سے روزانہ صبح سودا لانے کے وقت ایک چھوٹا سا ایک دھندا بھی پال لیا، جسکے لئے والدہ سے صرف ٹیوشن پڑھنے کے بہانے سے ایک جھوٹ کا سہارا لیا، اس شرط پر کہ وہ اباجی کو بالکل نہیں بتائیں گی، کیونکہ سالانہ امتحان قریب ھیں اور میں اس دفعہ اچھے نمبر لانا چاھتا ھوں -

    اب ایک اس سینما کے شوقیہ منصوبے کو پوراکرنے کیلئے کئی اور منصوبے بنانے پڑے اور وہ بھی بغیر کسی کو بتائے اور نہ ھی ساتھ کسی کو شریک کیا، روز کے معمول کی طرح پہلے گھر کا تمام پانی بھرتا، اور پھر سودا لینے کےلئے روزانہ اب بہت جلدی نکل جاتا تھا اور ایک گھر سے بڑی لکڑی کو اٹھاتا اور نکل پڑتا، پہلے دن میں نے ان تین روپے میں سے ایک روپے کے بغیر پھولے ھوئے غباروں کا پیکٹ خریدا جس میں مختلف کلر اور سائزکے تقریباً 100 عدد ھونگے اور باقی دو روپے کے مختلف کھلونے تھوک کے بھاؤ سے ایک ایک درجن لئے اور ایک
    کسی اور علاقے میں جاکر تاکہ کسی کو پتہ نہ چلے، وہاں پہنچنے سے پہلے تو کچھ غبارے پھلائے اور لکڑی پر ٹانگے اور کچھ کھلونے بھی لکڑی کے ساتھ ھی لٹکائے اور اس علاقے میں پہنچا تو میرے آس پاس بہت ھی زیادہ بچوں کا رش لگ گیا اور اناً فاناً سارے غبارے جو پُھلا سکا بک گئے اور ساتھ ھی کافی کھلونے بھی بچوں نے خرید لئے، پھر واپس جلدی جلدی سودا لے کر، ایک دکان پر وہ لکڑی اور بچے ھوئے غبارے، کھلونے وغیرہ امانتاً رکھوائے، جہاں سے اکثر سودا لیتا تھا، واپس گھر کی طرف، اماں کو سودے کا حساب دیا اور اسکول جانے کی تیاری میں لگ گیا - اس دن میں نے پیسے گنے تو کل چار روپے بنے اور ابھی تو اور بھی غبارے اور کھلونے باقی تھے،

    اسی طرح اب روزانہ ھی مجھے مزید پیسے بڑھانے کی عادت سی ھوگئی اور روزانہ معمول کے مطابق جانا اور تقریباً پندرہ دن تک اسی طرح غبارے اور کھلونے تھوک کے بھاؤ خریدکر اور انہیں بیچ کر مشکل سے بیس روپے تک اکھٹے کئے اور میں بہت تھک بھی گیا اس کے علاؤہ ایک اور دھندا بھی شروع کیا، شب برات کے دن نزدیک تھے اس موقع کو غنیمت جانتے ھوئے میں فوراً تھوک بازار گیا جو بس کے ذریعے صرف آنے اور جانے میں صرف آدھے گھنٹہ کا وقت لگتا تھا، وہاں سے مختلف پٹاخے انار جلیبی اور لہسن پٹاخہ، پُھل جھڑیاں اور مختلف پٹاخے جو بھی مل سکے وہ بیس روپے میں خریدے اور اب روزانہ غباروں کو چھوڑ کر اپنے ھی محلے میں ھی بیچنا شروع کیا لیکں ایک دوسرے دوست کی مدد سے تاکہ ایسا لگے کہ وہ بیچ رھا ھے، اسی طرح میں ایک مہینے میں بہت مشکل سے تقریباً 40 روپے تک بنالئے اور یہ پیسے مختلف بس کے کنڈکٹروں سے دس دس روپے کے نوٹوں کی شکل میں بدلوا بھی لئے مگر اپنے نئے مشن کے لئے تو 100 روپے درکار تھے، اب پھر سوچ میں پڑ گیا کہ کس طرح اپنے سینما کے خواب کو پورا کروں ، ایک مہینہ بھی ھونے والا تھا!!!!!!!

    ادھر آٹھویں جماعت کے امتحانات بھی نزدیک آرھے تھے اور میں اپنے شوق کی تکمیل کےلئے اونچی اڑان کے چکر میں لگا ھوا تھا، مگر یہ شاید میری، کیا کہیں کہ خوش قسمتی ھی سمجھ لیں کہ جن اچھے یا برے جو بھی شوق پالے تھے، جن کو میں نے بچپن میں کسی نہ کسی طرح اپنے معمولی وسائل کے ذریعے ھی پورا کرنے کی کوشش کی تھی، ان کی حقیقت میں مجھے اس کی صحیح تعبیر بڑے ھوکر ایک پروفیشنل کیرئیر کے روپ میں ملی بھی، اور کافی حد تک کامیاب بھی رھا، لیکن بس جو اللٌہ تعالٰی کو منظور تھا وھی میرے لئے بہتر ثابت ھوا -
    کیونکہ چند مجبوریوں اور کچھ اپنے والدصاحب کی ناپسندیدگی وجہ سے میرے اپنے شوق سے اپنائے ھوئے کیرئیر زیادہ پائیدار ثابت نہیں ھوسکے، اور اس طرح مجھے اپنے تمام شوق کو مکمل طور سے خیرباد کہنا پڑا اور مجھے والد صاحب ھی کے پسند کے مطابق تعلیم کے ساتھ ساتھ اکاونٹس کے پیشہ کو ھی اختیار کرنا پڑا جسے اب تک میں نے اپنے سینے سے لگایا ھوا ھے اور اسی پروفیشنل کیرئیر میں نے کافی ترقی بھی کی اور اللٌہ تعلیٰ کے کرم اور مہربانیوں کی دعاؤں سے ایک بہت بڑے ھیلتھ کئیرگروپ میں اپنا ایک نام بھی ھوا اور ایک اچھی پوزیشن بھی ملی ساتھ اچھے مثالی خطابات سے نوازا بھی گیا، اور یہ سب کچھ انعام واکرام کا کریڈٹ میرے والد صاحب مرحوم اور میرے تمام استادوں کو جاتا ھے -

    پھر میں کچھ آگے نکل گیا، پھر معذرت، اب میرے نئے سینما مشن کے منصوبے کے بارے میں اگلی نشست تک کےلئے اجازت دیں!!!!!
    اللٌہ حافظ
    ---------------------------------------------

    سی طرح میں ایک مہینے میں بہت مشکل سے تقریباً 40 روپے تک بنالئے اور یہ پیسے مختلف بس کے کنڈکٹروں سے دس دس روپے کے نوٹوں کی شکل میں بدلوا بھی لئے مگر اپنے نئے مشن کے لئے تو 100 روپے درکار تھے، اب پھر سوچ میں پڑ گیا کہ کس طرح اپنے سینما کے خواب کو پورا کروں ، ایک مہینہ بھی ھونے والا تھا!!!!!!!

    اس سے مجھے یہ ضرور سبق ملا کہ اگر انسان شیخ چلی کی طرح خوابوں میں رھنے کے بجائے، اگر صدق دل اور اچھے جذبے سے جتنی محنت کرے گا تو اس سے کہیں زیادہ اللۃ تعالیٰ اس کا صلہ ضرور دیتا ھے، اس وقت کے دور میں لوگ محنت ضرور کرتے تھے لیکن زیادہ لالچ نہیں کرتے تھے کچھ وقت اپنے لئے ، اپنے بچوں کےلئے اور دوسروں کے لئے بھی نکالتے تھے اس کے علاوہ اپنی اور اہل و عیال کی صحت اور خوراک کی طرف بھی خاص توجہ دیا کرتے تھے، کم اور بہتر تازہ غذا، ورزش، نماز کی مکمل پابندی اسکے علاوہ رات کو عشاء کی نماز کے بعد کچھ چہل قدمی کرکے، اپنے دوست نمازیوں کے ساتھ نماز سے فارغ ھوکر ایک چھوٹی سی چوپال لگاتے، مسئلے مسائل حل کرتے اور کچھ گپ شپ کرتے اور کوشش یہی ھوتی تھی کہ جلد سے جلد سو جائیں کچھ بزرگ تو یاد الہٰی میں رات بھی گزارتے تھے اور تہجد اور نوافل کی نمازوں کے ساتھ اپنی مسجد میں اللۃ کے ذکر کا اہتمام بھی کرتے تھے-

    اس وقت زیادہ تر لوگ اپنے وسائل کے اندر ھی رہ کے اپنی ضروریات کو پورا کرنے کی کوشش کرتے تھے یعنی جتنی چادر ھوتی تھی اتنے ھی اپنے پیر پھیلاتے تھے، بلکہ لوگ تو صدقہ خیرات بھی خوب کرتے تھے اور محلے کے ضرورت مندوں کی مدد بھی کرتے تھے، یہی وجہ تھی کہ آللٌہ تعالیٰ ان کے رزق میں برکت بھی دیتا تھا، اور سکون کے ساتھ ساتھ خوشیوں کا بونس بھی ملتا تھا، اس زمانے میں قلیل آمدنی ھونے کے باوجود لوگوں کے دل بہت وسیع تھے،
    ایسے بھی مگر بہت کم لوگ دیکھنے میں آتے تھے جو ھمیشہ پریشان رھتے اور قرضہ میں ڈوبے رھتے اس کی وجہ وہی تھی کہ وہ قدرتی قانون کی پیروی نہیں کرتے تھے، اور اچھے اور متقٌی لوگوں سے دور بھاگتے تھے تاکہ وہ نصیحتیں سننے سے بچ جائیں، مگر بعد میں انہیں کے پاس جاکر ھاتھ بھی خود ھی پھیلاتے تھے -

    معاف کیجئے گا کہ کچھ نصیحتوں کی طرف میرا رخ ھوگیا تھا، چلئے اب اصل موضوع پر واپس آتے ھیں !!!!!!!!!!

    اس وقت 40 روپے بہت ھوتے تھے،میری خوشی کا کوئی ٹھکانا نہیں تھا، مگر میرے پروجیکٹ کا تخمینہ 100 روپے تک تھا، اس کے علاوہ اور کوئی چارا نہیں تھا کہ اب مجھے اسی بجٹ میں اپنے چھوٹے سے سینما کے پروجیکٹ کو مکمل کرنا تھا، جس سے میں بچوں کو ایک نئی تفریح فراھم کر سکوں لیکن کچھ معلوماتی فلم یا کوئی کارٹون ٹائپ کی فلم ھو تو بچوں کیلئے بہتر ھوتا، اگر اس میں کامیابی ھوتی تو میں نے سوچ رکھا تھا کہ اس کو کمائی کا بھی ذریعہ بھی بنا سکتا ھوں -
    ---------------------------------------------------------------

    س وقت 40 روپے بہت ھوتے تھے،میری خوشی کا کوئی ٹھکانا نہیں تھا، مگر میرے پروجیکٹ کا تخمینہ 100 روپے تک تھا، اس کے علاوہ اور کوئی چارا نہیں تھا کہ اب مجھے اسی بجٹ میں اپنے چھوٹے سے سینما کے پروجیکٹ کو مکمل کرنا تھا، جس سے میں بچوں کو ایک نئی تفریح فراھم کر سکوں لیکن کچھ معلوماتی فلم یا کوئی کارٹون ٹائپ کی فلم ھو تو بچوں کیلئے بہتر ھوتا، اگر اس میں کامیابی ھوتی تو میں نے سوچ رکھا تھا کہ اس کو کمائی کا بھی ذریعہ بھی بنا سکتا ھوں -

    اب ان 40 روپے سے اپنے پروجیکٹ کی تکمیل کیسے ھو، یہ سوچ سوچ کر میں بہت پریشان تھا، لیکن یہ بھی ایک مصمم ارادہ کئے ھوئے تھا، کہ کسی نہ کسی طرح اس شوق کو پورا ضرور کرنا ھے، مگر اس کی خبر کسی کو ھونے بھی نہیں دی ورنہ تو مار ھی پڑنی تھی اور اب تو کافی عرصہ بھی ھوگیا تھا، اچھی طرح پٹائی کھائے ھوئے -

    ایک دن بس چل دیا کباڑی بازار اور وہاں اپنے پروجیکٹ کا سامان ڈھونڈنے لگا، ایک جگہ مجھے فلم چلانے کی مشین نظر آئی، مکمل چرخی اور ھاتھ کے ہینڈل کے ساتھ اور کچھ فلموں کی ریلیں بھی پڑی ھوئی تھیں، میں نے اس سے پوچھا کہ اس مشین کی کیا قیمت ھوگی اس نے شاید اس وقت ایک سو روپے سے زیادہ کی ھی بتائی تھی، میں خاموش ھی ھوگیا کیونکہ اسی طرح کی مشین دو مہینے پہلے پوچھی تھی تو اس کی قیمت 50 یا 60 روپے تک کی تھی، میں آگے بڑھ گیا اگے بھی بہت سےکباڑی اپنے ھر ٹھیلے پر مختلف نوعیت کے پرانے زمانے کی چیزیں بیچ رھے تھے، اور کافی رش بھی تھا ھر کوئی اپنی پسند کی چیزوں کے چکر میں تھے،

    میں بھی کئی مرتبہ اباجی کے ساتھ یہاں آچکا تھا اور بھاؤ تاؤ کرنے کا گُر بھی انہیں سے سیکھا تھا، کہ اگر کوئی 100 روپے قیمت بتائے تو آپ
    بھی اسے 10 روپے بتاؤ خاص کر کباڑی کی دکان پر، میں جب اپنے کانوں کو ھاتھ لگا کر آگے بڑھا تو انس نے فوراً مجھ سے پوچھا کہ خریدنے آئے ھو یا تفریح کرنے، میں نے فوراً جواب دیا کہ تم کیا سونا بیچ رھے ھو اس کباڑی کی دکان پر، اس نے غصہ سے کہا کہ کیا جیب میں مال ھے، میں نے فوراً جیب سے صرف 20 روپے نکالے اور ھوا میں لہراتے ھوئے اسے نوٹ دکھائے وہ پھر خاموش ھوگیا اور مجھے بلا کر کہا کے کسی کو نہیں بتانا میں تمھیں اپنا بیٹا سمجھ کر آدھی قیمت میں دے دونگا، مین ‌نے مسکراتے ھوئے کہا کہ میرے پاس تو بس یہی 20 روپے ھیں مجھے افسوس ھے کہ میں یہ نہیں خرید سکتا، شکریہ ادا کرتے ھوئے آگے بڑھا ھی تھا تو اس نے دوبارہ آواز دی اور اُسی مشین کی قیمت 50 روپے سے شروع کرتا ھوا اور20 روپے تک بڑی مشکل سے پہنچا اور ساتھ میں میں نے اس سے فلم بھی مانگی تو اس نے اس کی قیمت 5 روپے شاید مانگی لیکن میں نے کہا کہ اس مشین کے ساتھ ھی 20 روپے میں ھی چاھئے، اور میرے پاس کچھ بھی نہیں ‌ھے جبکہ میرے پاس اور 20 روپے ایک الگ جیب میں رکھے تھے،

    آخر جب میں اس کے انکار پراس مشین کو چھوڑ کر کافی آگے نکل گیا اور دوسرے ٹھیلے والے سے اسی طرح کی پروجیکٹر مشین دیکھ ھی رھا تھا تو وھی آدمی میرے پاس آیا اور واپس مجھے لے گیا اور بہت ناراض ھوا کہ تم نے ایک تو مشین کے دام اتنے کم لگائے اور اوپر سے اس کے ساتھ فلم بھی مفت مانگ رھے ھو ، میں نے جواب دیا کہ بھائی میرے پاس اتنے ھی پیسے ھیں اگر دینا ھو تو ورنہ میں جارھا ھوں اور مجھے یہ پکا یقین تھا کہ یہ مجھے اسی قیمت پر ھی دے گا، کیونکہ مجھے پہلے بھی والد صاحب کے ساتھ بار بار بازار جاکر کافی تجربہ ھوگیا تھا کہ کہان پر کس چیز کی کیا قیمت میں بحث کرنی چاھئے، کافی اصرار کے بعد بہت مشکل سے وہ اس بات پر راضی ھوگیا، لیکن بیکار سی فلم گھس پٹی بہت سے جوڑ لگے ھوئے، مجھے دینے لگا، پھر میں نے انکار کردیا آکر میں نے ھی اپنی مرضی سے ایک کارٹون فلم اور ایک جنگلی جانوروں کی فلم لی جو شاید مشکل سے 3منٹ کی ھوگی اور پھر وہاں سے واپس گھر بھاگا، جلدی جلدی سودا لیا اسکول کو بھی دیر ھورھی تھی،

    گھر پہنچتے ھی بالکل خاموشی سے اس مشین اور فلم کے تھیلے کو ایک خفیہ جگہ پر چھپایا اور اسکے اُوپر کچھ اور چیزیں رکھ کر یہ اطمنان کرلیا کہ کوئی اور یہاں تک نہیں پہنچ سکتا، پھر اماں کے پاس رونی صورت بناتے ھوئے سودا دیا اور یاد نہیں کہ کیا بہانہ کیا تھا، بہرحال کوئی قابل قبول ھی بہانہ تھا جس کی وجہ سے ڈانٹ نہیں پڑی اور میری ماں تو ویسے ھی بہت سادہ طبیعت کی مالک تھی اور ھمیشہ مجھے اباجی سے ڈانٹ اور مار سے بچاتی تھیں، جس کا میں نے بہت فائدہ اُٹھایا، کیونکہ گھر میں سب بہن بھائیوں میں سب سے بڑا تھا اور اپنی ماں کا لاڈلہ بھی تھا -

    جلدی جلدی کچھ کھایا پیا اور تیار ھوکر بستہ گلے میں لٹکایا اور اسکول کی طرف بھاگتا ھوا گیا کیونکہ کافی دیر ھوچکی تھی صرف 15 منٹ باقی تھے، اور پہلے ھاف یعنی لڑکیوں کی چھٹی بھی ھوچکی تھی اور گھر پہنچنے والی تھیں اور میں ابھی تک راستہ میں ھی تھا میرے ساتھ کے دوست کب کے اسکول جاچکے تھے، اور میں لڑکیون کے رش سے بچتا بچاتا بھاگ رھا تھا اور ساتھ ان سب کی ھنسی اور مزاحیہ فقرے بازیاں بھی سن رھا تھا، جو مجھے جانتی بھی تھیں،

    پہلے بھی ھمیشہ ان سے راستہ میں ضرور ٹکراؤ ھوتا تھا اور میں اپنے دوستوں کے ساتھ ان کا مزاق اڑاتا ھوا جاتا تھا اور وہ بھی ھمیں اسی طرح جواب دیتیں تھیں اور سب ھم ایک دوسرے کو جانتے بھی تھے کیونکہ زیادہ تر ھمارے محلے کی ھی تھیں اور بہت زیادہ فری تھے، لیکن اس وقت کبھی کسی نے کسی غلط نظر سے کسی بھی لڑکی کو نہیں دیکھا، ان میں ھم تمام دوستوں کی بہنیں بھی شامل ھوتیں تھیں کچھ رشتہ دار بھی اور پھر سب سے بڑھ کر ھماری ٹیم کی استاد لیڈر ملکہ باجی اور ساتھ چھوٹی بہن ان کی اسسٹنٹ اور ھم سب کی بہنیں بھی اس اسکول سے واپسی کے قافلے میں شامل ھوتیں تھیں، سب نے نیلے اور سفید رنگ کے یونیفارم پہنے ھوتے تھے اور ھم لڑکوں نےخاکی پتلوں اور سفید قمیض پہنی ھوتی تھی، ایک عجیب سا خوبصورت سا رنگ برنگا ماحول لگتا تھا کہ سامنے نیلے اور سفید یونیفارم میں ملبوس لڑکیاں اور ھم سفید اور خاکی یونیفارم پہنے مدمقابل ھوتے تو مذاق اور فقرے بازیوں کا سلسلہ شروع ھوجاتا تھا اور اسی طرح ایک قافلہ دوسرے قافلے کو ھنستے ھوئے ایک دوسرے کو ھاتھ ھلاتے ھوئے گزر جاتے مگر کوئی بدتمیزی نہیں ھوتی تھی-

    خیر بات ھورھی تھی کہ بھاگم بھاگ میں اس دفعہ بالکل اکیلا ان سب کے بیچوں بیچ بھاگتا ھوا جارھا تھا اور ان سب کو بھی موقعہ مل گیا تھا خوب میرا مذاق اُڑایا اور تنگ بھی بہت کیا لیکن میں نے کسی کی ایک نہ سنی اور بھاگتے بھاگتے اپنے دوستوں کے ریوڑ میں شامل ھوھی گیا اور دوست بھی خوش ھو گئے تھے کیونکہ میں اپنے دوستوں میں ان کا لیڈر تھا، وہ سمجھے کہ شاید آج میں نہ آؤں، ان کا بھی میرے بغیر دل نہیں لگتا تھا -

    اور آخر اسکول کی چھٹی کے بعد تھکا ھارا گھر پہنچا اور بستہ رکھ کر فوراً گھر کے ایک کونے میں اس خفیہ جگہ پر پہنچا جہاں پر وہ پروجیکٹر مشیں اور فلموں کی ریل چھپائی تھی، کیا دیکھتا ھوں کے میرے تمام چھوتے بہن بھائی مل کر اس مشیں کے ساتھ کھیل رھے تھے اور فلم کا رول کو پورا ھی کھول دیا تھا پورے کمرے کا کیا حشر نشر ھوا کہ میں کیا بتاؤن میں تو اس وقت سکتے میں ھی آگیا تھا!!!!!!!!!!!!!!!!
     
  26. عبدالرحمن سید
    آف لائن

    عبدالرحمن سید مشیر

    شمولیت:
    ‏23 جنوری 2007
    پیغامات:
    7,417
    موصول پسندیدگیاں:
    21
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: یادوں کی پٹاری پارٹ 1

    میری کہانی کے ہر ایک موڑ پر کوئی نہ کوئی پیغام ضرور پوشیدہ ھے، اس وقت 20روپے بھی بہت حیثیت رکھتے تھے، اب میں یہاں بھی ایک اور لیکچر شروع کررھا ھوں، تھوڑا برداشت کرنا پڑے گا، جو صرف آپ کو ھی نہیں بلکہ تمام پڑھنے والوں کےلئے بھی، مجھے امید ھے کہ آپ سب کچھ خیال نہیں کریں گے -

    میں نے اپنی ایک لگن کو سامنے رکھتے ھوئے ایک چھوٹی سی محنت کرکے چالیس روپے جمع کئے اور میں نے اس بچوں کے سینما پروجیکٹ کی تکمیل کیلئے بھی کم سے کم پیسے خرچ کئے اور اس منصوبے میں ایک حد تک میں کامیاب بھی ھوا، جسکا اگلی قسط میں ذکر کرونگا، میں نے یہ نہیں سوچا کہ یہ غبارے بیچنا یا پٹاخے بیچنا کوئی بری بات ھے بلکہ مجھے ڈر اس بات کا تھا کہ میں کسی کے علم میں لائے بغیر ھی کام کررھا تھا، اور اس کے علاوہ والد صاحب کا خوف کہ میں اپنی پڑھائی کے بجائے اس طرف کیوں جارھا ھوں، جبکہ وہ ھمارے لئے اپنی ایک مختصر سی تنخواہ میں ھمیں تمام سہولتیں مہیا کررھے تھے-

    اُس وقت کے لوگوں میں معاوضہ سے زیادہ محنت کرنے کی ایک لگن اور اچھے سے اچھا نتیجہ یا یوں کہہ لیں کہ کم سے کم وقت میں، ایک عمدہ کوالیٹی کو ابھارنے کی کوشش میں لگے رھتے تھے، انہیں یہ یقین تھا کہ جتنی ایمانداری اور جستجو سے وہ کام کریں گے اس سے کہیں زیادہ اللٌہ تعالیٰ ان کے رزق میں برکت دے گا -

    آجکل ھمارے اندر یقین نام کی کوئی چیز نہیں ھے، اور بھروسہ تو بالکل اٹھ چکا ھے، تو سوچ لیں کہ برکت کیسے ھوگی، آج ھم روپئے اور پیسے ھی کو اپنا سب کچھ مانتے ھیں، کوالیٹی، ایمانداری اور محنت کی طرف تو کسی کا بھی دھیان ھی نہیں ھے، یعنی کہ اب بالکل ھم لوگ اسکے برعکس چل رھے ھیں،

    ایک یہ ھمارے ذہن میں تو بالکل ھی ایک کونہ تو بالکل کورا ھو چکا ھے کہ اگر ھم محنت اور ایمانداری سے کام کریں گے تو اس سے ھماری ھی ذات کو اس کا فائدہ نہیں ھوگا بلکہ اس سے ھم اپنے ملک کی ترقی میں حصہ دار کی حیثیت سے ھر ایک سنگ میل کا نیا اضافہ بھی کریں گے، اگر ھر انفرادی قوت مل کر ایک جان ھوجائیں اور مشترکہ طور سے ایک دوسرے کا ہاتھ پٹائیں تو میں نہیں سمجھتا کہ ھم اپنے ملک کو دنیا کے ترقی یافتہ ملکوں کے صف میں کھڑا نہیں کرسکتے، ھمارے سب کے اندر بہت زیادہ قدرت کی پیدا کی ھوئی خدا داد صلاحیتیں کوٹ کوٹ کر بھری ھوئی ھیں-

    ایک سب سے بری خامی یہ ھے کہ ھم اپنے ھر پیشہ کو ایک علیحدہ علیحدہ اسٹینڈرڈ کے پیمانے میں رکھ کر تولتے ھیں، جبکہ پہلے وقت میں کوئی بھی شخص کسی بھی پیشہ کو برا نہیں سمجھتا تھا، جس طرح کہ اب بھی باھر کے ملکوں میں گریجویٹ لوگ ھیں لیکن وہ ڈرائیونگ بھی کررھے ھیں کھیتوں میں کام کررھے ھیں، پٹرول پمپ اور کیفے یا ریسٹورنٹ میں ویٹر اور مزدور، صفائی ستھرای کرنے والے بھی اچھے تعلیم یافتہ ھیں، لیکن وہاں کوئی بھی کسی پیشہ کو برا نہیں سمجھتے، کوئی بھی کام ھو وہ لوگ لگن اور محنت سے اور خوشی سے کرتے ھیں اور ان سے منسلک کسی بھی کام میں ایک اچھے سے اچھا میعار لانے کیلئے اپنی ھر ممکن کوشش کرتے ھیں،

    ھمارے محلے میں بھی ھر قسم کے پیشے سے رکھنے والے ایک ساتھ مل جل کر رھتے تھے، اس میں بابو لوگ سوٹ بوٹ میں دفتر جاتے تھے، تو ساتھ وہاں معمار، بڑھئی اور لوہار حضرات بھی تھے، رکشہ،اور ٹیکسی ڈرائیور اس کے علاوہ بس کے کنڈکٹر بھی تھے، گدھا گاڑی چلانے، اور خود ٹھیلے پر سبزی، گوشت اور شربت فالودہ بیچنے والے بھی وہیں رھائیش پذیر تھے، فوجی جوان ھو یا کوئی صوبیدار ھو یا پولیس سے تعلق ،موچی، نائی یا دھوبی بھی گاڑی کے مکینک حضرات بھی ساتھ ھی رھتے تھے اس کے علاوہ گھڑی ریڈیو اور گراموفون کے مکینک بھی موجود تھے ، دو تیں ڈاکٹر بھی تھے ساتھ نرس اور دائیاں بھی تھیں، صفائی کرنے والے بھی موجود تھے، اور ایک اچھی بات یہ تھی کہ ھر ایک اپنے محلے کے لئے بلامعاوضہ خدمات انجام دیتے تھے، صرف اگر باہر سے اگر کسی پرزے کی ضرورت نہ ھو تو وہ بھی وہ بالکل سستے میں دلوا بھی دیتے تھے،

    غرض کہ ھر پیشہ سے منسلک لوگوں کی ایک اچھی تعداد موجود تھی، اور سب لوگ اپنے اپنے کاموں سے فارغ ھوکر آتے تو سب ملکر اپنے محلے کی مسجد میں اکھٹا ھو کر نماز باجماعت پڑھتے تھے، اگر کوئی موجود نہ ھوتا تو اسک گھر جاکر ظبعیت کی خبر گیری کرتے، اور بلاناغہ ھر رات کو ایک ایک سب بڑوں کی ایک بیٹھک ھوتی تھی اور گپ شپ کے علاوہ ایک دوسرے کے مسائل کو حل کرنے کیلئے اپنی اپنی ماھرانہ رائے اور خدمات پیش کرتے تھے، شادی بیاہ سے لیکر گھر کی ریپئر وغیرہ تک میں سب لوگ ایک دوسرے کی مدد کرتے تھے، اور کسی کے ھاں اگر کوئی مہمان آجاتا تو وہ پورے محلے کا مہمان ھوتا، حتیٰ کہ محلے کی نالیاں وغیرہ صاف کرنے کےلئے بھی سب ملکر اپنی خدمات پیش کرتے تھے-

    ایسی بات نہیں ھے کہ اب ھمارا وہ جذبہ نہیں رھا یا وہ صلاحتیں ختم ھو گئیں، اب بھی ھم سب میں وھی ماہرانہ صلاحیت اور خصوصیات موجود ھیں، جو پہلے کبھی سامنے اپنے ملک میں موجود تھیں، جیساکہ ھم سب جو آجکل بیرونی ممالک میں اپنی ماھرانہ خدمات انجام دے رھے ھیں اور دوسرے ملک ھماری انہی خصوصیات سے فائدہ بھی اٹھا رھے ھیں، یہاں ھم جتنی محنت کرتے ھیں اگر اسی لگن کے ساتھ اس سے آدھی بھی اگر ھم اپنے ملک میں محنت کریں تو ھمارے ساتھ ساتھ ھمارے ملک کو اتنا فائدہ ھو کہ ھم سوچ بھی نہیں سکتے،

    لیکن افسوس کہ ھم سب جو باہر ھیں بہت مجبور ھیں کہ ھمیں اپنی صلاحیتوں کو اپنے ھی ملک میں ابھارنے کا موقع نہیں دیا جاتا، ھر جگہ اچھی پوسٹ کیلئے رشوت کا سہارا لیا جاتا ھے، کیڈٹ اور سول سروسز میں عام لوگوں کے بچوں کا جانا ایک معجزے سے کم نہیں ھے، اگر کوئی ایمانداری سے کوئی کاروبار کرنا چاھتا ھے تو وہ اپنے ھی بڑے اداروں کے پلے ھوئے بدمعاشوں کو بھتہ دیئے بغیر ان کے زیر اثر آئے بغیر کوئی کام شروع نہیں کرسکتے-

    یہاں تک کہ بھیک مانگنے والوں کو، فٹ پاتھ پر بیچنے والوں کو، بازار میں ٹھیلا لگانے والوں کو بھی ھر جگہ کی مناسبت سے ماھانہ یا روزانہ یا ھفتہ وار ایک اچھی خاصی رقم وھاں کے علاقے کے مقرر کردہ چیرمین کو ادا کرنی پڑتی ھے چاھے کمائی ھو یا نہ ھو، ھر کوئی انکا کھاتہ پورا کرنے کیلئے بے ایمانی کرنے پر مجبور ھے کیونکہ اگر اس نے مقررہ وقت سے پہلے بھتہ کی رقم نہ چکائی تو وہ اس دھندے سے بے دخل ھو سکتا ھے، یہی حال چھوٹے بڑے ھوٹلوں ریسٹورنٹ اور یا کوئی بھی کاروبار ھو بغیر کھلائے پلائے شروع نہیں کرسکتے اور جو کررھے ھیں وہ دوسروں کو بھتہ تو ضرور دیتے ھیں لیکن سرکار کو انکم ٹیکس دینے سے پیچھے بھاگتے ھیں -

    ان کے پیچھے کون کون سے کرم فرما سرگرم ھیں، یہ سب جانتے ہیں، لیکن ھر ایک کی زبان پر ایسا تالا لگا ھوا ھے کہ جسکی چابی لگتا ھے کہ کہیں کھو گئی ھے !!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!

    آپ سب کا بہت بہت شکریہ مجھے اتنا زیادہ برداشت کرنے کا، اجازت چاھتا ھوں، اپنی کہانی کے ساتھ دوبارہ حاضر ھونگا

    اللٌہ حافظ
     
  27. عبدالرحمن سید
    آف لائن

    عبدالرحمن سید مشیر

    شمولیت:
    ‏23 جنوری 2007
    پیغامات:
    7,417
    موصول پسندیدگیاں:
    21
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: یادوں کی پٹاری پارٹ 1

    اور آخر اسکول کی چھٹی کے بعد تھکا ھارا گھر پہنچا اور بستہ رکھ کر فوراً گھر کے ایک کونے میں اس خفیہ جگہ پر پہنچا جہاں پر وہ پروجیکٹر مشیں اور فلموں کی ریل چھپائی تھی، کیا دیکھتا ھوں کے میرے تمام چھوتے بہن بھائی مل کر اس مشیں کے ساتھ کھیل رھے تھے اور فلم کا رول کو پورا ھی کھول دیا تھا پورے کمرے کا کیا حشر نشر ھوا کہ میں کیا بتاؤن میں تو اس وقت سکتے میں ھی آگیا تھا!!!!!!!!!!!!!!!!

    میں تو یہ دیکھ کر پریشان ھوگیا انہوں نے تومیری ساری محنت پر پانی ھی پھیر دیا تھا، زیادہ زور سے ڈانٹ بھی نہیں سکتا تھا، بڑی مشکل سے پورے فلم کے رول کو سمیٹا اور مشین کے ھینڈل وغیرہ کو اکھٹا کرکے اسی جگہ چھپا دیا اور سب کو خاموشی سے خبردار کیا کہ آئندہ میری کسی بھی چیز کو ھاتھ نہیں لگانا، وہ سب ڈر کر بھاگ تو گئے لیکن مجھے اس بات کا احساس ھوا کہ کہیں یہ سب اباجی سے شکایت نہ لگا دیں، فوراً دوڑا ھوا ان کے پاس پہنچا اور کچھ مکھن لگایا، اور انہیں اس مشین کے بارے میں کسی کو نہ بتانے کا وعدہ لیا،

    اس رات تو مجھے بالکل نیند نہیں آئی، بس اپنے اس پروجیکٹ کے بارے میں ھی سوچتا رھا کہ کس طرح اس کو آپریشن میں لایا جائے، صبح ھوتے ھی معمول کے مطابق سب سے پہلے فوراً گھر کا پانی بھرا اور جلدی سے بازار کا سودا خرید لایا، والدہ بھی پریشان کہ آج اسے کیا ھوگیا ھے، اور پھر اپنے پروجیکٹ کی طرف چلا فلم رول کو چرخی پر چڑھایا اور اسے سیٹ کرنے کی جگہ تلاش کی ایک کمرے کا کونے میں
    ایک میز کے نیچلے حصہ کو سینما گھر بنایا، ایک طرف پروجیکٹر مشیں کوایک چھوٹے سے اسٹول پر رکھا، دوسری طرف سفید دیوار کو اسکرین بنایا، اور میز کے اُوپر ایک بڑی سی چادر ڈال کر کچھ کچھ اندھیرا کرنے میں کامیاب ھوگیا،

    پہلے پریمئیر شو پر بہں بھائیوں کو چادر اٹھا کر میز کے نیچے بٹھادیا ایک وقت میں اس میز کے نیچے چھ بچے مشکل ھی سے آسکتے تھے، بہرحال ایک وقت میں چھ بھی کافی تھے، خیر میں نے چرخی گھمائی تو سر پکڑ کر بیٹھ گیا، کیونکہ اسکرین کے اوپر پروجیکٹر کے ذریعے روشنی کیسے پہنچے گی اس کا تو میں نے سرے سے سوچا ھی نہیں تھا اب تو بہن بھائیوں نے تو میرا مذاق اڑانا شروع کردیا، اب کیا کروں اس کا کیا حل نکالوں بجلی کا ایک بلب اندر لگا ھوا تھا، مگر گھر پر تو بجلی تھی ھی نہیں تو بلب کیسے چلتا، ایک کوشش اور کی کہ کھڑکی کھول کر ایک آئینہ سے دھوپ کا عکس پروجیکٹر پر ڈالنے کی ناکام سی کوشش کی، لیکں روشنی کو وھاں تک نہ پہنچا سکا،

    دوسرے دن مایوسی سے اپنا لٹکتا ھوا چہرہ لے کر اسی کباڑی کے پاس پہنچا اور ساری کہانی سنائی اس نے جواب دیا کہ ایک صورت ھے کی ایک ٹارچ خریدو اور وہ بھی پاور فل بیٹری والی اسکو تم پروجیکٹر کے ساتھ جوڑ کر اپنا کام چلا سکتے ھو، ھر کباڑی کے پاس ڈھونڈا مگر اس ٹائپ کی ٹارچ نہیں ملی، پھر مجبوراً مجھے نئی ٹارچ خریدنی پڑی اور وہ بیٹری سیل کے ساتھ مجھے 15 روپے کی پڑی،

    جلدی جلدی گھر پہنچا اور ٹیبل کے نیچے گُھسا اور کسی کو بتائے بغیر ھی ٹارچ کو مشین کے پیچھے ڈھکن کو کھول کر بیچ میں اس ظرح تاروں سے باندھ کر فکس کیا کہ اسکی روشنی سیدھے مشین کے عدسے پر پڑے اور وہاں سے گزرتی ھوئی فلم کا عکس سامنے کی دیوار پر پڑے، اس میں شکر ھے کہ کامیاب ھوگیا اب دوبارا فلم کے رول کو سیٹ کیا اور ایک سرا چرخی سے لے کر عدسے کے سامنے بنے ھوئے سانچے کے درمیان سے گزارتا ھوا نیچے والی چرخی میں پھنسا دیا اور اب تو خوشی کا ٹھکانا ھی نہ رھا اور فوراً سب بہں بھائیوں کو بلایا جو ابھی اسکول نہیں جاتے تھے دو تو بہنیں اسکول گئی ھوئی تھیں، باقی تین گھر پر ھی ھوتے تھے بہر حال انکو پھر دّعوت دی کہ آجاؤ، اماں کو تو پتہ چل ھی گیا تھا لیکن بےچاری خاموش ھی رھیں ھمیشہ کی طرح، اور سب کو جمع کیا، جس میں دو تین شاید محلے کے بچوں کو بھی شامل کرلیا تھا، کیونکہ وہاں چھ بچوں سے زیادہ کی گنجائش نہیں تھی،

    آخر وہ وقت آھی گیا فوراً میں نے ٹارچ کو آن کیا اس کی روشنی جیسے ھی پروجیکٹر سے ھوکر سامنے کی دیوار پر پڑی اور میں نے فوراً ھاتھ سے چرخی کے ھینڈل کو گھمانا شروع کردیا میرا خوشی کے مارے برا حال تھا میرا پروجیکٹ کامیاب ھوگیا تھا سامنے کارٹون فلم حرکت کررھی تھی، لیکں افسوس کہ وہ پردے پر الٹی چل رھی تھی یعنی سر نیچے اور پیر اوپر، پھر میں سر پکڑ کر بیٹھ گیا اور بچوں کا تو پتہ ھی ھے وہ لگے میرا پھر سے مذاق اڑانے !!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!
    --------------------------------------------------------------------------

    یرا پروجیکٹ کامیاب ھوگیا تھا سامنے کارٹون فلم حرکت کررھی تھی، لیکں افسوس کہ وہ پردے پر الٹی چل رھی تھی یعنی سر نیچے اور پیر اوپر، پھر میں سر پکڑ کر بیٹھ گیا اور بچوں کا تو پتہ ھی ھے وہ لگے میرا پھر سے مذاق اڑانے !!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!
    ------------------------------------------------------------------------------
    بہت خوب انکل جی بہت ہنسی آئی!
    اور سب سے زیادہ ہنسی اپنی فرینڈ کی بات پہ آئی کہ اب انکل لگتا ہے دیوار الٹی کر کے تصویریں سیدھی کریں گے۔

    سجیلا----------------------------------------------------------------------------------

    کاش کہ میں ایسا کرسکتا، دیوار کو تو الٹا نہیں کیا بلکہ پروجیکٹر مشین کو ھی الٹا کردیا، پھر ڈرتے ڈرتے ٹارچ کو آن کیا اور ھینڈل کو گھمایا، پکچر تو سیدھی ھوگئی لیکن ایسا لگ رھا تھا کہ سب کارٹون کے سارے کردار الٹے چل رھے ھوں، ایک اور نئے مسلئے میں پھنس گیا، اور پھر بچوں نے پھر مذاق شروع کردیا، میں نے سب کو ڈانٹ کر بھگادیا، جاتے جاتے تو ایک نے کہا کہ آج تو اباجی سے آپ کی شکایت کریں گے، ایک اور مصیبت، میں مسکین کس کس مورچے کو سنبھالوں، دوبارہ ان سب کو چاکلیٹ کہلانے کے وعدہ پر راضی کرلیا -

    دوسرے دن پھر میں اسی کباڑی کے پاس گیا اور غصہ سے سارا ماجرا سنادیا اس نے بھی اسی غصہ کو مجھ پر ھی پلٹا دیا اور کہنے لگا کہ بھائی میرا اس میں کوئی قصور نہیں ھے، الٹی ھو یا سیدھی فلم تو چل رھی ھے نا، اس کو اس کے مکینزم کے بارے میں علم نہیں تھا، کافی بحث کے بعد اس نے آخر میں یہی کہا کہ بھائی خدا کیلئے وہ مشین مجھے واپس لادو، اور اپنے پیسے واپس لے جاؤ، میں وہان سے مایوسی کی حالت میں نکلا اور سوچا کہ کوئی چھوٹی سی مشکل ھے جو کہ مشیں کو الٹا کرو تو پکچر واپس اپنے ماضی کی ظرف چل پڑتی ھے اور اگر سیدھا رکھو تو پکچر الٹی یعنی سر اُوپر اور پیر نیچے دکھائی دیتے ھیں۔

    صدر میں ایک دکان پر ایک کیمرے کی دکان پر ایک چھوٹا سا پروجیکٹر دیکھا تھا، میں نے سوچا کہ شاید وہ دکان والا میری اس گتھی کو سلجا دے، فوراً وہاں پہنچا اور اس سے کہا کہ چچا ایک مشورہ چاھئے، اس نے بھی مزاقاً میری حالت دیکھتے ھوئے کہا کہ یہ شادی کا دفتر نہیں ھے، میں نے ایک دم سے اپنا منہ بنایا اور آگے چل دیا،

    پھر اس چچا نے مجھے آواز دی، شاید اسے کچھ میری بے بسی پر رحم آگیا تھا اور مجھ سے معذرت کرتے ھوئے پوچھا بتاؤ کیا مشورہ چاھئے، میں نے ساری کہانی دھرادی، وہ بہت ھنسا اور کہا کہ تھوڑا سا عقل سے کام لو اور کہا کہ فلم کو دوبارا لپیٹو اور اس کے آخری سرے سے فلم کو پروجیکٹر میں لگا کر چلاؤ - اور کہا کہ خیال رکھنا کہ پروجیکٹر میں فلم کو الٹا یعنی سر نیچے اور پیر اوپر کرکے لگاو گے تو پردے پر فلم سیدھی نظر آئے گی -

    میں نے دل میں کہا کہ یہ چچا پھر میرے ساتھ مذاق کررھا ھے، بہلا یہ کیسے ھوسکتا ھے کہ فلم کو الٹی ڈالو تو اس کا عکس اسکرین پر سیدھا کیسے نظر آئے گا، اس وقت میرے اس چھوٹے سے دماغ میں تو یہی بات گھسی تھی، بہرحال مجھے اپنا منصوبہ ناکام ھوتا ھی نظر آیا، بس اب یہی سوچنے لگا کہ اب ایک آخری کوشش کرونگا اور پھر بھی کامیاب نہ ھوا تو یہ مشین واپس ھی کردوں گا -!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!

    ------------------------------------------------

    میں نے دل میں کہا کہ یہ چچا پھر میرے ساتھ مذاق کررھا ھے، بہلا یہ کیسے ھوسکتا ھے کہ فلم کو الٹی ڈالو تو اس کا عکس اسکرین پر سیدھا کیسے نظر آئے گا، اس وقت میرے اس چھوٹے سے دماغ میں تو یہی بات گھسی تھی، بہرحال مجھے اپنا منصوبہ ناکام ھوتا ھی نظر آیا، بس اب یہی سوچنے لگا کہ اب ایک آخری کوشش کرونگا اور پھر بھی کامیاب نہ ھوا تو یہ مشین واپس ھی کردوں گا -!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!

    گھر واپس پھر اس مایوسی کےساتھ آیا اور بغیر مشین کی طرف دیکھے جو میز کے نیچے پڑی میرا مذاق اُڑا رھی تھی، جلدی سے تھوڑا بہت کھانا کھایا اور تیار ھوکر اسکول چلاگیا، وہاں پر بھی بس اپنے اس پروجیکٹ کی ناکامی کے صدمہ سے اداس کلاس روم میں بیٹھا رھا، ہاف ٹائم میں بھی باھر نہیں گیا، گھر واپسی کے وقت بھی میں بہت آہستہ آہستہ واپس گھر کی طرف لوٹ رھا تھا،

    دوسرے دن بھی صبح معمول کے مطابق پہلے پانی بھرنے کے بعد سودا لے کر آیا اور بس صرف پروجیکٹر کے ھی بارے میں ھی سوچتا رھا 35 روپے خرچ کر بیٹھا تھا، اور نتیجہ کچھ بھی نہیں، بہرحال میں اکیلا ھی میز کی چادر اٹھا کر مشین کو باھر نکالا اور پھر سوچا کہ کیا حرج ھے اگر چچا کے مذاق کو بھی آزما کر ایک دفعہ دیکھ لیتیےھیں، فلم کی ریل کو ایک چرخی سے دوسری چرخی کی طرف لپیٹا اور پھر چچا کے کہنے پر ھی اس فلم کی ریل کو الٹی تصویر کے ساتھ ھی پروجیکٹر مشین کے سامنے والے حصے کو کھول کر کھانچے سے گزارتا ھوا ایک سرا نیچے والی چرخی میں پھنسا کر ایک چکر دے کر، ٹارچ کو روشن کیا اور مشین کے ھینڈل کو گھمایا اور سامنے ٹیبل کی طرف دیوار پر دیکھا، تو واقعی حیران رہ گیا، وہی کارٹون فلم بالکل صحیح چل رھی تھی، بس اب تو ھاتھ کے گھمانے پر منحصر تھا، جتنا تیز چلاؤ فلم کے منظر تیز بھگنے لگتے اور آہستہ کرو تو فلم بھی سلوموشن کی طرح دکھائی دیتی -

    مگر مجھے یہ منطق اس وقت پھر بھی سمجھ میں نہیں آئی کہ الٹی فلم کے رول سے جب روشنی منعکس ھوکر پردے پر دکھائی دیتی ھے وہ کیسے سیدھی ھو جاتی ھے، میں نے سوچا کہ اب اس منطق کے بارے میں سوچنا کیا، اپنا تو کام ھوگیا، پھر بچوں کو اکھٹا کیا اور جس طرح سینما ھال میں ھوتا ھے، پہلے سب کو گھر کی کھڑکی سے سینما کیلئے ٹکٹ بانٹے، جو میں نے خود اپنے ھاتھ سے ڈیزاین کئے تھے اور پھر کھڑکی کو بند کرکے سب کو کہا کہ دروازے پر لائن میں کھڑے ھوجائیں، میں فوراً دروازے پر پہنچا اور ھر بچے سے ٹکٹ لے کر آدھا پھاڑ کر ھاتھ میں تھمایا اور سب کو میز کے نیچے بٹھا دیا اور پھر میں نے پروجیکٹر کی چرخی کو گھمایا اور ساتھ ھی ٹارچ کو روشن کیا، پھر کیا تھا کارٹون فلم اسٹارٹ، اس وقت بلیک اینڈ وھائٹ فلم ھی ھوا کرتی تھی، تین منٹ کی کی فلم تھی، بچے بڑے خوش ھوئے اس سے زیادہ میں بہت خوش ھوا کہ ایک میری محنت کام آگئی،

    بس دوسرے دن سے صبح کے وقت سارے گھر کے کاموں سے فارغ ھوکر بس میں اپنے اس سینما کے پروجیکٹ کو مزید کامیاب بنانے کی دھن میں لگ گیا، شام کے وقت اباجی کا ڈر تھا، اس لئے بس دن کا وقت ھی چُنا تھا، اباجی ڈیوٹی پر اور امآں جی گھر پر، انکو تو پٹانا کوئی مشکل نہیں تھا، مگر وہ روز یہی کہتی تھیں کہ اس فلمی چکر کو بند کردو، ورنہ جس دن تمھارے ابا کو پتہ چل گیا تو تمھاری شامت آجائے گی، مگر انکی اس بات کا مجھے کوئی بھی اثر نہیں ھوتا تھا، اتوار کو ناغہ ھوتا تھا کیونکہ اس دن چھٹی بھی ھوتی تھی،

    دن میں روشنی زیادہ ھونے کی وجہ سے مجھے کمرے میں مکمل اندھیرا کرنے کیلئے تمام کھڑکیاں اور دروازوں کو اچھی طرح بند کرنا پڑتا تھا، اب تو روزانہ ھی بڑے شوق سے فلم چلانے کا انتظام کرتا اور بالکل سینماوں کی طرح سینما کے ٹکٹ کی کھڑکی سے ٹکٹ کا بانٹنا، ٹکٹ بھی خود ڈیزاین کرنا اور گیٹ پر جاکر ٹکٹ پھاڑنا اور اندر انھیرے اسی ٹارچ کی روشنی سے بچوں کو انکی جگہ پر بٹھانا اور باقائدہ ایک پوسٹر بھی بنایا تھا جس پر فلم کا ایسے ھی فرضی نام لکھ کر کچھ تصویریں بنا کر لکھ دیتا تھا کہ آج شب کو فلاں سینما میں فلاں فلم دیکھئے اور سینما میں صرف تین منٹ کی ایک ھی کارٹون اور جانوروں کی فلم بار بار دکھاتا رھا اور بچے بھی بور ھوگئے، آخر اس پروجیکٹ کو بھی نظر لگ گئی ایک دوست کو مشین میں کچھ گڑبڑ کی وجہ سے اسے ٹھیک کرانے کو دی اور وہ ساتھ فلم کی ریل بھی دے دی، اس کے بعد اس نے شکل ھی نہیں دکھائی،

    اس پروجیکٹ کے بعد پھر سے میں نے تصویریں بنانے کی طرف زیادہ توجہ دینا شروع کردیا، وہ بھی میرا ایک پسندیدہ شوق تھا، مگر ان تمام حرکتوں کی وجہ سے مجھے آٹھویں کلاس کے سالانہ امتحان میں بہت کم نمبر آئے اور ایک مضموں میں فیل بھی ھوگیا، اور مگر مجھے پھر بھی نویں کلاس میں پرموٹ پاس کردیا گیا کیونکہ 33٪ مارکس تھے اور ایک وجہ یہ بھی تھی کہ مجھے سالانہ امتحانات کے دنوں میں ٹائیفایڈ ھوگیا تھا، اور اسی وجہ سے میں والد صاحب کی ڈانٹ سے بچ بھی گیا، لیکن پھر بھی میں نے امتحانات میں بیماری کے باوجود کچھ تھوڑی بہت محنت بھی ضرور کی تھی،

    اباجی کو کافی دکھ بھی ھوا تھا لیکن وہ میری حالت دیکھ کر مجھے کافی تسلی دیتے رھے کہ کوئی بات نہیں بیٹا، دل پر مت لینا شکر ھے کہ کم نمبر ھی صحیح لیکن نویں کلاس میں تو پہنچ گیا اور میں بھی کچھ ان دنوں ضرورت سے زیادہ مسکین بن گیا تھا، میں ویسے بھی بچپن سے ھی کچھ ڈرامے بازی کی شوق کی وجہ سے بھی کبھی کبھی ایسا ڈرامہ کھیل جاتا تھا کہ لوگ اسے واقعی حقیقت سمجھتے تھے، کئی دفعہ اپنے اس ڈرامائی حرکتون کی وجہ سے ھی گھر میں یا باہر کئی دفعہ مشکلوں سے جان بچائی، جن کا ذکر میں پہلے نہ کرسکا کیونکہ کافی ایسی بچپن کی یادداشتیں تھیں، جو میں بھول چکا ھوں، جو مجھے یاد تھیں وہ میں تحریر کرچکا ھوں،

    اور ایک بات کا مجھے اب تک تعجب ھے کہ یہ بچپن کے شوق آگے چل کر میرے پروفیشنل کیرئیر میں بھی آئے مگر زیادہ عرصہ میرے ساتھ نہیں رہ سکے، تصویروں کے ساتھ ساتھ میں بچوں کے اخبارات میں بھی چھوٹی چھوٹی نظمیں اور کہانیاں بھی لکھتا تھا، اور قلمی دوستی کا بھی ایک بھوت سوار تھا مگر نام ارمان شاھد تھا، میرے پاس خطوط کا ایک ڈھیر ھوتا تھا اور روزانہ ھر خط کا جواب بھی دینا میرا ایک محبوب مشغلہ تھا اس کے علاؤہ ریڈیو پاکستان سے آڈیشن ٹیسٹ کے لئے دعوت نامہ بھی آیا تھا، مگر افسوس کے اس ٹیسٹ میں پاس نہیں ھوسکا لیکن وہاں کے ریجنل منیجر نے کہا کہ آپ کی آواز میں تھوڑی سی جھجک ھے مگر بول اچھا لیتے ھو، اور ابھی تمھارے عمر بھی کم ھے میں نے جواب دیا کہ سر مجھے اسکرپٹ پڑھتے ھوئے کوئی بھی ڈایلاگ ڈرامائی انداز میں بولنا کچھ مشکل لگتا ھے، مجھے سچویشن بتا دیجئے اور ڈایلاگ دے دیجئے میں یاد کرکے بغیر اسکرپٹ کے بہترین اسکی ادائیگی کرسکتا ھوں، لیکن افسوس کہ انہوں نے کہا کہ بیٹا ریڈیو پاکستان میں مائیک کے سامنے براہراست بولنا پڑتا ھے یہ کوئی اسٹیج شو نہیں ھے، اور بس یہی جواب دیا کہ آپ کی عمر جب 18 سال کی ھوجائے تو میرے پاس ضرور چلے آنا اگر میں زندہ رھا تو تمھیں ضرور اپنے ڈرامہ میں ضرور ساین کرونگا، ان کا نام شاید زیڈ اے بخاری صاحب تھا، جو بعد میں ریجنل ڈائریکٹر بن گئے تھے -

    ریڈیو پاکستان سے تو مایوسی ھوئی لیکن اسکول اور محلے میں چھوٹے چھوٹے ڈرامے اور فنکشن وغیرہ کرکے بھی اپنے شوق میں مزید پختگی لانے کی کوشش میں لگا رھا اور ساتھ ساتھ اخباروں اور بچوں کی دنیا اور نونہال جیسے بچوں کے رسالوں میں کچھ نہ کچھ لکھتا رھا، اس کے علاوہ پینٹنگ اور پنسل اسکیچ اور اخباروں کی کٹنگ سے البم بنانا بھی اپنے شوق کے ساتھ رکھا-

    نویں کلاس اور تقریباً 14 سال کی عمر ھوگی، اس کلاس میں کافی دوست بھی بچھڑ گئے تھے، کیونکہ کئی دوستوں کو اچھے نمبر لانے کی وجہ سے سائنس میں داخلہ مل گیا تھا اور ھم جیسوں کو کم نمبروں کی وجہ سے آرٹس میں داخلہ مل سکا، غنیمت ھے مل گیا ورنہ تو آٹھویں کلاس میں ھی رھنے کا ڈر تھا !!!!!!!!!!!!!!!!!!
     
  28. عبدالرحمن سید
    آف لائن

    عبدالرحمن سید مشیر

    شمولیت:
    ‏23 جنوری 2007
    پیغامات:
    7,417
    موصول پسندیدگیاں:
    21
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: یادوں کی پٹاری پارٹ 1

    نویں کلاس اور تقریباً 14 سال کی عمر ھوگی، اس کلاس میں کافی دوست بھی بچھڑ گئے تھے، کیونکہ کئی دوستوں کو اچھے نمبر لانے کی وجہ سے سائنس میں داخلہ مل گیا تھا اور ھم جیسوں کو کم نمبروں کی وجہ سے آرٹس میں داخلہ مل سکا، غنیمت ھے مل گیا ورنہ تو آٹھویں کلاس میں ھی رھنے کا ڈر تھا !!!!!!!!!!!!!!!!!!

    مجھ میں ایک بری عادت تھی کہ اگر کسی نئے شوق کو اگر پکڑ لیا تو اسی کے پیچھے پڑ جاتا تھا یا تو اسے مکمل کرکے رھتا یا جب تک وہ کام بگڑ نہ جائے اس وقت تک اسکی جان نہیں چھوڑتا تھا،جس کی وجہ سے میری پڑھائی بہت ھی زیادہ ڈسٹرب رھی، ھر ایک کے والدین تو یہی چاھتے ھیں کہ ان کی اولاد اچھی تعلیم حاصل کرے، لیکن اکثر والدین اپنے بچوں کی سرگرمیوں پر خاص نظر نہیں رکھ پاتے یا ان کو اتنے دباؤ اور غصے کے زیراثر رکھتے ھیں کہ بچے پھر کوئی اور چوری کا راستہ اختیار کرنے پر مجبور ھوجاتے ھیں -

    مجھے ماں کی طرف سے بہت زیادہ لاڈ پیار ملا اور وہ ھر وقت مجھے والد صاحب کی ڈانٹ اور غصہ کے عتاب سے بچاتی رھیں، جس کا میں نے بہت ناجائز فائدہ اٹھایا، اور دوسری طرف والد صاحب کا غصہ، حد سے زیادہ سختی کی وجہ اور ڈانٹ کے ڈر سے میں نے غلط طریقوں سے دوسرے کاموں میں اپنے آپ کو الجھا لیا، اور پڑھائی کی طرف سے اپنا دھیان بہت کم کردیا، اور ایسا بھی نہیں تھا کہ والد کے پیار میں کوئی کمی تھی، ھماری تمام ضروریات کا خاص خیال رکھتے اور من پسند کی چیزیں خرید کر دیتے بھی تھے،

    بہت سی ایسی باتیں ھیں جو کافی دلچسپ تھیں لیکن یادوں کے دریچوں میں آتے آتے رہ جاتی ھیں، میں چاھتا ھوں کہ ابھی میں اپنے آپ کو آٹھویں جماعت تک ھی رکھوں کیونکہ اس میں بجپن اور لڑکپن کی شرارتیں اور کافی دلچسپ واقعات پوشیدہ ھیں، جن کو میں یاد کرنے کی کوشش کررھا ھوں، جو جو مجھے یاد آتا جائے گا، ویسے ھی تحریر کرنے کی کوشش کروں گا، اورجو کچھ مجھے مختصراً یاد ھے وہ بھی ساتھ ساتھ لکھتا جاونگا، لیکن میں مقررہ وقت اور عمر کا صحیح تعین نہیں کرسکتا،

    اپنے ایک اور شوق کے بارے میں بتاتا چلوں، مچھلی کے شکار کا شوق جو مجھے والد صاحب کی ظرف سے ھی ورثہ میں ملا تھا، مجھے اب تک یاد ھے کہ وہ راولپنڈی میں چُھٹی والے دن فجر کی نماز کے فوراً بعد مجھے ساتھ لے کر سواں ندی کے پاس بلاناغہ مچھلی کے شکار پر لے کر جاتے تھے اور میں بھی بہت شوق سے ان کے ساتھ جاتا تھا اور دوپہر تک ھم شکار کرکے واپس آجاتے تھے، اور گھر کے علاوہ محلے والے بھی مچھلی کے ذائقے سے محروم نہیں رھتے تھے، کراچی پہنچ کر ان کا یہ شوق تقریباً ختم ھی ھو گیا تھا، لیکن میں نے انکی یہ گدی سنبھال لی تھی اور اکثر دوستوں کے ساتھ مچھلی پکڑنے نکل جاتا تھا کبھی اجازت لے کر اور کبھی یونہی چوری چھپے -

    اسی طرح ایک دفعہ میں اپنے دو تین دوست کے ساتھ سمندر کے کنارے گھومنے اور ساتھ مچھلی کے شکار کیلئے نکل گئے، شاید اسکول جانے کے بجائے ھم دونوں نے سمندر کی طرف کا پروگرام بنا لیا، وہان اس دن سمندر کی لہریں بہت دور تھیں اور تفریح کے ساتھ کچھ مچھلی بھی پکڑنے کا بھی پروگرام تھا ڈورکانٹے اور مچھلی کی خوراک بھی ساتھ مکمل انتظام کے ساتھ گئے تھے، کتابوں کے بستے یاد نہیں کہ کہاں چھپا کر رکھے تھے،

    گھر سے میں کچھ دیر پہلے ھی نکل گیا تھا اور باقی دوست پہلے ھی سے مقرر کردہ جگہ پر مل گئے تھے، وہاں سے بس میں بیٹھ کر سمندر کے کنارے پہنچے، اس دفعہ ھم سب نے ایک نئی جگہ کا انتخاب کیا تھا، وہاں پر دور ایک ٹیلہ نطر آیا اور سمندر کی لہریں بھی اس ٹیلے کو چُھو کر واپس جارھی تھیں، ھم نے یہی سوچا کہ اس ٹیلے پر چڑھ کر مچھلی کا شکار کرتے ھیں تاکہ ڈور کو گھما کر سمندر میں دور تک پھینکنے میں آسانی ھو، ٹیلہ کافی فاصلہ پر تھا، کافی دیر لگی وہاں ٹیلے تک پہنچنے میں، خیر ھم سب نے ٹیلے کی دوسری طرف جہاں سمندر تھا وہاں بیٹھ کر جگہ کو کچھ صاف ستھرا کیا اور صحیح طرح بیٹھنے کی جگہ بنائی اور ایک دوست گھر سے دری لایا تھ اسے بجھا کر ھم سب نے شکار کی تیاری شروع کردی،

    ھم تینوں دوستوں نے کچھ گھر سے اور کچھ راستے سےکھانے پینے کا سامان بھی ساتھ لےآئے تھے، سامنے سمندر کا ایک خوبصورت منطر بھی تھا اور دور سے چھوٹی بڑی کشتیاں بھی آ جا رھی تھیں اسکے علاوہ بڑے بڑے بحری جہازوں کو بھی انکی مخصوص سائرن کی آواز کے ساتھ ھم بخوبی دیکھ سکتے تھے، اور دور سے کراچی کی بندرگاہ بھی نطر آرھی تھی، جہاں بڑے بڑے بحری جہاز لنگر انداز تھے اور بڑی بڑی آسمان کو چھوتی ھوئی کرینیں سامان اتارتی ھوئی نظر آرھی تھیں، اس دفعہ ھمیں بہت اچھی جگہ ملی تھی اور ھم نے یہ فیصلہ بھی کرلیا کہ آئندہ بھی ھم یہیں پر مچھلی کے شکار کے لئے آیا کریں گے، کیونکہ وہاں بیٹھتے ھی ایک دوست نے جیسے ھی گھما کر ڈور پھینکی تو فوراً ھی چند سیکنڈ بعد ایک درمیانے سائز کی مچھلی پھنس گئی تھی،

    پیچھے کا منظر ٹیلے کے وجہ سے نظر نہیں آرھا تھا اور ھمیں کچھ پرواہ بھی نہیں تھی کہ پیچھے کیا ھورھا ھے، ھم سب تو مچھلی پکڑنے اور سمندر کے ساحلی منظر سے لطف اندوز ھورھے تھے، اور یہ محسوس ھوا کہ سمندر کا پانی آہستہ آہستہ اُوپر چڑھ رہا ھے کیونکہ پانی اب ھمای دری کے اُوپر تک آگیا تھا اور ھم دری اور ساماں کو اسی رفتار سے اُوپر کی طرف کھسکتے جارھے تھے، اور ھم لوگ اپنے کام میں اتنے مگن رھے کہ پیچھے کی طرف مُڑ کے نہیں دیکھا کہ وھاں کا کیا حال ھوگا -

    جب پانی کچھ زیادہ ھی اُوپر آگیا اور ھم اُوپر کی طرف چڑھتے چلے گے تو پیچھے کا منطر نظر آگیا، اور کیا دیکھتے ھیں کہ وہاں بھی سمندر کافی دور تک پھیلتا جارھا تھا، ھم سب کی جان ھی نکل گئی، کسی کو بھی تیرنا نہیں آتا تھا، اسی پریشانی میں شام ھوتی جارھی تھی اور سمندر کا پانی آہستہ آہستہ اُوپر چڑھتا آرھا تھا اور ھم چوٹی تک پہنچ چکے تھے!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!
    ---------------------------------------------------------------------------------------------

    جب پانی کچھ زیادہ ھی اُوپر آگیا اور ھم اُوپر کی طرف چڑھتے چلے گے تو پیچھے کا منطر نظر آگیا، اور کیا دیکھتے ھیں کہ وہاں بھی سمندر کافی دور تک پھیلتا جارھا تھا، ھم سب کی جان ھی نکل گئی، کسی کو بھی تیرنا نہیں آتا تھا، اسی پریشانی میں شام ھوتی جارھی تھی اور سمندر کا پانی آہستہ آہستہ اُوپر چڑھتا آرھا تھا اور ھم چوٹی تک پہنچ چکے تھے!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!

    پانی بہت آہستہ آہستہ اُوپر چڑھ رہا تھا اور وہ ایک چھوٹا سا ٹیلہ تھا، باقی تمام چیزیں تو پانی میں بہہ گئیں، بس ھم تینوں تھر تھر کانپ رھے تھے اور پریشان بھی تھے، شام ھو رھی تھی، اسکول کا وقت بھی ختم ھو رھا تھا، وھاں سے کافی شور بھی کیا، مدد کیلئے لوگوں کو بلانے کی کوشش بھی کی لیکن نہ کوئی دور سمندر میں کشتی والا ھماری آواز سن سکتا تھا اور نہ ھی دوسری طرف دور ساحل کے پار سڑک پر آنے جانے والے کو ھماری آواز پہنچ رھی تھی، بس ایک ھی صرف اُوپر والا ھماری آواز سن سکتا تھا، خوب ھم نے اس وقت اُوپر والے سے گڑگڑا کر معافی مانگی اور ھماری آنکھوں میں آنسو چھلک رھے تھے کیونکہ اب تو کوئی بچنے کا راستہ بھی نہیں تھا، اتنے میں سونے پر سہاگہ یہ ھوا کہ ھلکی ھلکی بارش بھی شروع ھوگئی،

    پریشانی میں ایک اور اضافہ، مگر اچانک نیچے دیکھا کہ پانی کی سطح گرتی جاررھی تھی اور ھماری کچھ جان میں جان آئی، جیسے ھی پانی ھمارے گھٹنوں تک پہنچا وھاں سے ھم سرپٹ پانی میں اچھلتے ھوئے بھاگے، لیکن گھر پہنچنے تک مغرب کا وقت ھوچکا تھا سب گھر والے پریشان تھے، مجھے دیکھ کر سب کی جان میں جان آئی، خوب ڈانٹ تو پڑی لیکن مار کھانے سے بچ گیا، اسکی وجہ یہ تھی کہ مجھے سخت بخار چڑھ گیا تھا، مزید اور تین دن کی اسکول سے چھٹی کرنی پڑی، بعد میں یہ بخار ٹائیفایڈ کی شکل اختیار کر گیا تھا، آٹھویں جماعت کے سالآنہ امتحانات سر پر تھے، ٹائم ٹیبل آچکا تھا اور میں بالکل ھی پڑھائی کی ظرف دھیان نہیں دے سکتا تھا والدصاحب نے بھی مجھے تسلی دے دی تھی کہ صحت ھے تو جہان ھے -

    اس حادثے کے بعد آئندہ کیلئے توبہ کرلی کے سمندر پر نہیں جائیں گے اگر کہیں جانا بھی ھو تو گھر سے اجازت لے کر جائیں گے!!!!!!

    پہلے بھی ایسے کئی حادثوں کا شکار ھوتے ھوتے اللٌہ تعالیٰ نے بچایا ھے، زیادہ تفصیل سے مجھے یاد تو نہیں ھے لیکن کوشش کرتا ھوں کہ اپنی کچھ بچی کچھی یادوں کو سمیٹ کر آپ کے سامنے پیش کرسکوں،

    بچپن میں ھم اسکول سے واپسی پر اکثر کبھی کبھی مین ریلوے لائن کی طرف سے بھی چکر لگاکر آتے تھے، جبکہ وہ راستہ کچھ دور پڑتا تھا اور جب میں شاید چھٹی جماعت میں زیرتعلیم تھا، ھم بچے اس وقت ٹرینوں کو اپنے سامنے سے گزرتے ھوئے دیکھ کر بہت خوش ھوتے تھے اس کے علاوہ اپنے پاس ایک پیسہ کا سکہ ضرور بچا کر رکھتے تھے اگر اس دن ھمیں ریلوے لائن کی ظرف سے جانے کا ارادہ ھو تو!!!!!!!!!!!

    یہ گھر والوں کو بھی پتہ نہیں تھا کہ ھم کبھی کبھی ریلوے لائن کی طرف سے بھی آتے ھیں وھاں سے گزرنا ھمارے لئے ویسےتو بالکل منع تھا، کیونکہ ان لائنوں پر بہت اسپیڈ سے ٹرینیں گزرتی تھیں اور کئی حادثے بھی ھوچکے تھے، لیکن ھم بچے اپنی دھن میں مگن کسی چیز کی پرواہ کئے بغیر ایسے ایسے کام کرجاتے تھے کہ اب اگر سوچتا ھوں تو رونگٹے کھڑے ھوجاتے ھیں،

    خیر ھم تو تھے من موجی، ٹرینوں کی پٹری کے پاس کھڑے ھوکر پہلے یہ ھم دیکھتے تھے کہ کونسی طرف کا سگنل کُھلا ھے، اسی لائن کی ایک پٹری کے اُوپر ایک لڑکا اپنا ایک سکہ رکھ کر پیچھے ہٹ جاتا تھا اور ٹرین کا انتطار کرتے تھے، اور دور سے ھی سکٌے پر نظر رکھتے تھے جیسے ھی ٹرین سامنے سے اس سکٌے کے اُوپر سے گزرتی، ھم سب فوراً اس سکٌے کو ڈھونڈنے کے لئے بھاگتے، یہ خیال کئے بغیر ھی کہ دوسری لائن پر بھی گاڑی آسکتی ھے، اور اپنے سکٌہ کو دھونڈ کر اسےچپٹا دیکھ کر خوش ھو جاتے کہ دونوں طرف سے اس کا نقشہ ھی بگڑ جاتا تھا،

    پھر باری باری ھر ایک لڑکا اپنے اپنے سکے اسی طرح ٹرین کی پٹری پر رکھ کر پچکا کر دیکھتا اور ھم سب مقابلہ کرتے کہ کس کا سکہ کتنا چوڑا ھوگیا کئی دفعہ حادثہ کا شکار ھوتے ھوتے بچے بھی ھیں، لیکن پھر بھی عقل ٹھکانے نہیں آئی تھی،

    اور ایک دن جو شاید میری زندگی کا بہت ھی خطرناک دن تھا وہ میں آپ سب کے سامنے پیش کررھا ھوں، اس دن بھی معمول طرح ھم لڑکے اپنے سکٌوں کے چوڑا کرنے کے مقابلے کیلئے نکلے ھم سب بہت خوشی خوشی ریلوے لائن کی طرف جارھے تھے، جب ریلوے لائین پر پہنچے تو ھر لڑکا اپنی اپنی باری پر ٹرین کے گزرنے سے پہلے اپنا سکٌہ لائین پر رکھ دیتا اور ٹرین کے گزرنے کے بعد سکٌہ اٹھا کر دیکھ کر مقابلے کے لئے رکھ دیتے مقابلے میں جیتنے والے کے لئے شرظ یہ ھوتی تھی کہ سکٌہ کو گولائی کے ساتھ جتنا زیادہ چوڑا ھونا تھا وھی سکٌہ مقابلے میں اوّل نمبر آتا تھا،

    وہاں پر ڈبل لائینیں تھیں دونوں طرف سے ٹرینوں کا آنا جانا لگا رہتا تھا، اور تقریباً ھر پانچ منٹ کے بعد ایک ٹرین ضرور گزرتی تھی، اس میں ایکسپریس ٹرین، لوکل ٹرین اور سامان لے جانے والی گوڈز ٹرین بھی ھوتیں تھیں، اب تک تو ھمیں یہ بھی زبانی معلوم ھوگیا تھا کہ کونسی ٹرین کس وقت ھمارے سامنے سے گزرے گی، اور سگنل کے ڈاؤن ھوتے ھی کبھی کبھی تو بحث ھوجاتی اور ساتھ ھی شرط بھی لگ جاتی تھی کہ ابھی تیزگام گزرے گی یا کراچی ایکسپریس، یا کوئی اور لوکل ٹرین یا پھر لال گڈز ٹرین گزرنے والی ھے اور ھر ایک نے اپنی اپنی ٹرینیں بھی مخصوص بھی کرلیں تھیں مجھے شروع سے ھی تیزگام پسند تھی، اور مجھے اس کے وقت کا بھی پتہ تھا وہ شام کو ھی کراچی کینٹ سے راولپنڈی کے لئے روانا ھوتی تھی اور ھماری خصوصی جگہ پر بیس یا پچیس منٹ کے بعد گزرتی تھی اور ایک خاص بات تھی کہ میں نے اس وقت تیزگام کو کبھی بھی لیٹ ھوتے نہیں دیکھا تھا، اسے ھم فوجی ٹرین بھی کہتے تھے اور پہلے بچپن میں والدین کے ساتھ بھی میں نے اس ٹرین میں بہت سفر کیا تھا اور بعد میں بھی اسی تیزگام سے ھی سفر کرے پر ترجیح دیتا رھا -

    اب میرے باری آئی بلکہ اکثر میری پہلے ھی باری آجاتی تھی کیونکہ ھمارے پہنچتے ھی پہلے ھمارا واسطہ تیزگام سے ھی پڑتا تھا، اسی لئے ھم اسکول سے بھاگ بھاگ کر پہنچتے تھے کہ تیزگام نہ نکل جائے، کبھی کبھی ایسا بھی ھوا کہ ھمارے وہاں پہنچنے سے پہلے ھی تیزگام یا تو ھمارے سامنے سے گزررھی ھوتی تھی یا گزر چکی ھوتی تھی، جسکا مجھے بہت دکھ ھوتا تھا، میں سکٌہ رکھوں یا نہ رکھوں لیکن ھمیشہ اسکول سے واپسی پر اگر دوسرے راستہ پر بھی ھوتا تو اسی وقت تیزگام دور سے بھی سیٹی بجاتی ھوئی نطر آجاتی تھی، اور میں اسے ھاتھ ھلا کر ھمیشہ رخصت کررھا ھوتا تھا، ایسا لگتا تھا کہ وہ سیٹی بجا کر مجھے الوداع کر رھی ھو، مجھے واقعی تیزگام سے بہت محبت تھی، اور آج بھی تیزگام کو بہت چاھتا ھوں، جیسے کہ وہ جیتی جاگتی کوئی میری یادگار شاھکار پری ھو،

    جیسے ھی ھم وہاں پہنچے تو پہلے سے ھی تیزگام کا سگنل ڈاون تھا، میں فوراً ھی جلدی سے پٹری کی طرف گیا اور اپنا سکٌہ رکھ کر واپس مڑنے کے بجائے دوسری لائن کی طرف تیزی سے بھاگا کیونکہ تیزگام سامنے سے سیٹی بجاتی ھوئی میری طرف اسپیڈ سے بڑھ رھی تھی،

    مگر میری بدقسمتی یہ کہ دوسری لائن پر بھی مخالف سمت کی طرف سے بھی ایک اور ایکسپریس ٹرین دوڑتی ھوئی آرھی تھی ھالانکہ مجھے میرے کسی دوست کی آواز بھی گونجتی ھوئی سنائی دی تھی کہ اُدھر سے بھی ٹرین ‌آرھی ھے واپس آجاؤ اس طرف نہ جاؤ، مگر میرے حواس اتنے بگڑ گئے تھے کہ میں کوئی فیصلہ نہ کرپایا اور دوسری لائین کی طرف ھی دوڑا، جہاں ایک اور ایکسپریس ٹرین تیز رفتار کے ساتھ آرھی تھی، اور میرے حواس گُم تھے !!!!!!!!!!!!!!!!
    ------------------------------------------------------------------------

    جب سے ھوش سنبھالا اپنے آپ کو ماں کے ساتھ ھر دوسرے یا تیسرے سال تیزگام کے ساتھ ھی سفر میں پایا، تیزگام کا ایک نام ھی میری زندگی میں ایک میرے ھمسفر محبوب کی طرح ھے کہ اسے اگر بھلانا بھی چاھوں تو نہیں بھُول سکتا -

    یہ تیزگام شروع سے ھی میری پسندیدہ ٹرین رھی ھے، میرے تمام بچوں نے بھی اکثر تیزگام سے ھی سفر کیا ھے، راولپنڈی جو کہ میرے پیدائش کا مقام بھی ھے، اس شہر کراچی سے، جو اب میرا ایک مستقل ٹھکانہ بن چکا ھے، ھمیشہ مجھے یہی تیزگام اپنے اس شہر کی یاد دلاتی رھی جہاں میں پیدا ھوا اور پرائمری اسکول کی تعلیم حاصل بھی کی، سروس کے بہانے کبھی گھومنے پھرنے کے بہانے کبھی دوستوں کے ساتھ کبھی اپنی فیملی کے ساتھ، اسی تیزگام کے زریعے ھی سفر کرتا رھا رھا، اور مجھے ھمیشہ ھی اسی تیزگام کے ساتھ ھی سفر کرنے میں سکون اور راحت ملتی رھی ھے، ایک دو مرتبہ دوسری ٹرین میں کسی مجبوری کے ساتھ سفر تو کیا لیکن پریشانی اور بےسکونی ھی رھی، نہ جانے کیوں ؟ اب تو اور بھی نئی نئی تیزرفتار ٹرینیں چل رھی ھیں، لیکن اب بھی اگر راولپنڈی یا لاھور کے سفر کا ارادہ ھوا، تو تب بھی میں تیزگام کو ھی ترجیح دونگا -

    ایک دفعہ راولپنڈی سے واپسی پر مجھے تیزگام کی ریزرویشن نہیں ملی تو میں نے بس کے زریعے سفر گوارا کرلیا مگر کسی اور ٹرین سے سفر کرنے کی ھمت نہیں ھوئی، اور بعد میں بس کے سفر سے جو میرا حشر کراچی پہنچنے پر ھوا تھا، میں کیا بتاؤں کہ میں خود اپنی ھی شکل آئینہ میں دیکھ کر پہچان نہیں پا رھا تھا،

    اگر کوئی میری زندگی میں کوئی محبوبہ رھی بھی ھے تو دوسری محبوبہ میری تیزگام ھے اور ھمیشہ رھے گی -

    اور اگر محکمہ ریلوے نے اگر اسکو بند کرنے کی ٹھانی تو میری زندگی کا سب سے بڑا سانحہء المیہ ھوگا، ویسے وزیر ریلوے شیخ صاحب سے کوئی بعید بھی نہیں ھے کہ اس کی جگہ کوئی اور من پسند کی ٹرین نہ ڈال دیں، کیونکہ سنا ھے نئی نئی فاسٹ ٹرینوں کے منصوبے بن رھے ھیں، لیکن افسوس اس بات کا ھے ھماری مین ریلوے لائینوں اور اسٹیشنوں کی حالت زار اب بھی وھی ھے جو انگریزوں کے زمانے میں تھی!!!!!!!!!

    ھمارے ملک میں ریلوے اور پوسٹ آفس کے محکموں کی حالت اب تک نہیں بدلی، بےچارے ملازمین کتنی دل و جان سے محنت کرتے ھیں اور پھر بھی مسکین ھیں، چاھے وہ اسٹیشن ماسٹر سے لےکر پلیٹ فارم کا قلی کیوں نہ ھو یا پوسٹ ماسٹر سے لےکر ھمارا اپنا ڈاکیہ ھی کیوں نہ ھو، جس کے انتظار میں ھر کوئی ھر روز اس کے آنے کے وقت سے پہلے ھی اپنے اپنے دروازے پر منتظر ھوتا ھے کہ آج اس کی ضرور چھٹی آئے گی چاھے اسکے محبوب یا کسی عزیز کی، چاھے والدین یا بہں بھائی کی یا کسی دوست کی!!!!!!!!!

    میں بھی کبھی کس وقت روزانہ جب ڈاکئے کے سائکل کی گھنٹی کی آواز سنتا تھا تو بھاگ کر اس کے پاس پہنچتا تھا اور وہ مجھے دیکھتے ھی میری چھٹیاں اپنے ہاتھ میں رکھے ھوئے بنڈل میں ڈھونڈتا تھا اور مجھے ھمیشہ امید ھوتی تھی کہ روز میری چٹھی آئے گی، کبھی قلمی دوستوں کی کبھی کسی اخبار سے کبھی کسی نہ کسی بڑے اسٹار کے پاس سے، عیدکارڈ کا انتظار جو صرف عید کے دن ھی ڈاکیہ لا کر دیتا تھا اور والد صاحب اسے عیدی ضرور دیتے تھے مگر سال میں ایک مرتبہ، جبکہ وہ ھرروز ھر ایک کے پیغامات سُکھ کے ھوں یا دُکھ کے وقت پر پہنچانے کی کوشش کرتا تھا،

    اور اب بھی وہی ڈاکیہ آتا ھے مگر اس کی حالت زار کی طرف کوئی نہین دیکھتا، خط لے کر فوراً ھم اب دروازہ بند کردیتے ھیں، پانی تک کے لئے بھی اُسے نہیں پوچھتے جبکہ ایک وقت تھا کہ اکثر وہی گھر میں بیٹھ کر جو پڑھ نہیں سکتے تھے انکے کہنے پر خط پڑھ کر سنا رھا ھوتا تھا اور بعض اوقات انکے خط کے جواب بھی لکھ رھا ھوتا تھااور کہیں کہیں تو کھانے کے وقت لوگ اپنے ساتھ بیٹھ کر کھانا بھی کھلاتے تھے،

    گو کہ اب انٹرنیٹ اور ٹیلیفون اور موبائیل اور دوسری کورئیر سروسس کی وجہ سے ڈاکیوں کی ذمہ داری کم تو ھوگئی ھے، لیکن ابھی بھی وہ اسی طرح اسی سائیکل پر چھٹیان بانٹتا ھوا نطر آتا ھے، کبھی کسی نے اسکی حالت زار پر کچھ سوچنے کی کوشش بھی کی ھے یا نہیں؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟

    معاف کیجئے گا، میں تیزگام کے محکمہ سے کہاں پوسٹ آفس کی حالت زار کی طرف بڑھ گیا، لیکن مجھے واقعی افسوس ھے کہ ان دونوں محکموں میں کافی فنڈ اکھٹا ھوتا ھے بڑی بڑی پلاننگ ھوتی ھیں، کافی آمدنی بھی ھوتی ھے، لیکن کس ظرح سے دونوں ھاتھوں سے لوٹنے والے لوٹ بھی رھے ھیں میں نے اپنی ان گنہگار آنکھوں سے یہ سب کچھ ھوتے ھوئے دیکھا ھے، صرف اسی محکمہ کی بات نہیں بلکہ!!!!!!!

    اور بھی ھیں ھمارے مہرباں
    زندگی کی ھر راہ میں قرباں

    جیبیں ھیں اوپر تک فل بھری
    رونا پھر بھی یہ کب اور کہاں

    جب ملیں تو، ایسے ملیں کہ
    جیسے ھر جرم سے ھیں انجاں

    اب پچھتائے کیا ھو، رھنے دو
    آیا جہاں سے، گیا بھی وھاں
     
  29. عبدالرحمن سید
    آف لائن

    عبدالرحمن سید مشیر

    شمولیت:
    ‏23 جنوری 2007
    پیغامات:
    7,417
    موصول پسندیدگیاں:
    21
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: یادوں کی پٹاری پارٹ 1

    مگر میری بدقسمتی یہ کہ دوسری لائن پر بھی مخالف سمت کی طرف سے بھی ایک اور ایکسپریس ٹرین دوڑتی ھوئی آرھی تھی ھالانکہ مجھے میرے کسی دوست کی آواز بھی گونجتی ھوئی سنائی دی تھی کہ اُدھر سے بھی ٹرین آرھی ھے واپس آجاؤ اس طرف نہ جاؤ، مگر میرے حواس اتنے بگڑ گئے تھے کہ میں کوئی فیصلہ نہ کرپایا اور دوسری لائین کی طرف ھی دوڑا، جہاں ایک اور ایکسپریس ٹرین تیز رفتار کے ساتھ آرھی تھی، اور میرے حواس گُم تھے !!!!!!!!!!!!!!!!

    اسے ایک معجزہ ھی کہہ سکتے ھیں کہ جب میرے حواس ٹھکانے پر آئے تو میں نے اپنے آپ کو دونوں ریلوے لائینوں کے درمیان اکڑوں بیٹھا ھوا کانوں میں انگلیاں دبائے ھوئے پایا اور آس پاس سے دونوں ٹرینیں مخالف سمتوں کی طرف سے اپنی اسپیڈ سے نکل گئیں، باقی کے دوست بھاگے ھوئے آئے اور مجھے پکڑکے سائڈ پر لے گئے، شکر ھے کہ میں اپنے حواس میں تھا اور دوسرے تو یہی سمجھ رھے تھے کہ میں ٹرین کے نیچے آگیا، اس دن کے بعد سے وہاں سے گزرنا ھی چھوڑ دیا -

    ایسے کئی واقعے ھیں جن سے میں کئی بار بال بال بچا ھوں، بچپن بھی کیا چیز ھے، کسی موسم کا اثر بھی نہیں ھوتا ھے چاھے گرمی ھو سردی ھو بارش ھو، طوفان ھو، بچپن میں بس اپنی ھی نئی نئی شرارتوں میں مگن رھتے ھیں،

    بارشوں کے دوراں ھم بچوں کو ایک موقعہ مل جاتا تھا کچھ نہ کچھ گڑبڑ ھنگامہ کرنے کا، ھمارے محلے کے ساتھ ھی ملٹری کے علاقے میں امرود اور آم اور نیمبوں کے باغات تھے، عام دنوں میں تو مالی ھمیشہ ان باغوں کی ڈیوٹی پر معمور رھتا تھا لیکن صرف بارش کا ھی ایک ایسا موسم ھوتا تھا کہ وہ نظر نہیں آتا تھا، جس کی وجہ سے ھم بچے بارشوں کا بہت بےچینی سے انتطار کرتے تھے، جیسے ھی بارشیں شروع ھوئیں ھم سب کی تو جیسے لاٹری ھی نکل آتی تھی، ایک تو اسکول سے چھٹی اور دوسرے باغوں میں بہار آجاتی تھی، خوب اپنی مرضی سے، درختوں پر چڑھ جانا اور کچے آموں اور نیمبووں کو توڑ کر گھروں میں پہچانا اور پکے پکے امرودوں کو مل بیٹھ کر کھانا -

    ان باغوں میں مجھے کوئل کی کوک بہت اچھی لگتی تھی، اسکے علاوہ دوسرے پرندوں کی آوازیں جب آپس میں ٹکراتی تھیں تو ایک حسین سا سماں ھوتا تھا لگتا تھا کہ ھم سب واقعی ایک کسی گھنے جنگل میں ھیں، وھاں سے نکلنے کو بھی جی نہیں چاھتا تھا، بارش میں ھم سب بھیگے ھوئے خوب کھیلتے بھی رھتے تھے، ھالانکہ والدہ بہت غصہ بھی ھوتی تھیں، انکی تو پروا ھی نہیں کرتے بس جیسے ھی ابا جان کے آنے کا وقت قریب ھوتا تو فوراً میں تو گھر کی راہ لیتا، اور گھر جاکر نہا دھو کر کپڑے بدل کے جلدی سے کتاب اٹھا کے پڑھنے بیٹھ جاتا،

    ایک دن یہی بارشوں کا سلسلہ تھا، اور ھم تمام دوست بھی انہیں باغوں کے حشر نشر میں لگے ھوئے تھے، میرا ایک دوست اوپر درخت پر چڑھ کر امرود توڑ ٹوڑ کر پھینک رھا تھا اور میں نیچے جھکا ھوا امرود چن رھا تھا، اسی دوران درخت کے اوپر سے ایک بڑا پتھر میری کمر پر گرا اور میں وہیں بیٹھ گیا، چند لمحوں تک تو مجھے کچھ ھوش نہیں رھا، لیکن میں بالکل کھڑا نہیں ھوسکتا تھا، ایسی تکلیف میں نے کبھی بھی محسوس نہیں کی آنکھوں سے پانی جاری تھا، بڑی مشکل سے دو لڑکوں نے مجھے پکڑا اور ڈاکٹرصاحب کے پاس لے گئے جو محلے میں ھی رھتے تھے، وہ صبح کے وقت گورنمنٹ اسپتال میں جاتے تھے اور شام کو محلے سے کچھ ھی فاصلے پر ھی اپنا کلینک کھول کر بیٹھ جاتے تھے بہت اچھے انسان تھے، اس دن شاید بارش کی وجہ سے ھی وہ گھر پر ھی موجود تھے انہوں نے میری کمر پر کچھ دوائی لگائی، ساتھ ایک انجیکشن لگایا اور کچھ گولیاں اور پاوڈر کی پڑیاں بھی دی-

    ڈاکٹر صاحب بہت اچھے تھے پیسے بھی نہیں لئے، میں نے ان سے کہا کہ آپ گھر پر مت بتائیے گا، انہون نے جواباً وعدہ کیا اور کچھ نصیحتیں بارش کے حوالے سے کیں کہ بارشوں میں باھر مت کھیلا کرو اور باغوں میں بھی مت جایا کرو کیونکہ اکثر بارشوں کے موسم میں باغوں میں خطرناک قسم کے سانپ اور بچھو وغیرہ بھی ھوتے ھیں، جس سے کچھ بھی نقصان ھوسکتا ھے، اور بعض وقت تو بھوت وغیرہ بھی چپک جاتے ھیں، اور انہوں نے بہت سے حوالے بھی دیے کہ فلاں لڑکا پاگل ھوگیا تھا اور فلاں لڑکے کو سانپ نے کاٹا تھا اگر وقت پر اسپتال نہیں جاتا تو بچ جاتا اور کسی کو بچھو نے کاٹ لیا تھا، ان کی نصیحتیں سن کر تو اور بھی ھم ڈر گئے، کمر کا بھیانک درد دو تین دن میں ٹھیک تو ھو گیا لیکن بعد میں باغ میں جانے کی ھمت ھی نہیں کی -

    کافی عرصہ بعد ایک دفعہ پھر دوسرے دوستوں کے اسرار پر ایسے ھی ایک بارش کے موسم میں پھر دماغ خراب ھوا، پہنچ گئے پھر اسی باغ میں لیکں بہت احتیاط کے ساتھ، ساتھ ڈر بھی لگ رہا تھا اور ڈاکٹر صاحب کی نصیحتیں بار بار کانوں میں گونج بھی رھی تھیں، میں نے دوستوں سے کہا بھی کہ یاد ھے کہ ڈاکٹر صاحب نے کیا کہا تھا لیکن دوستوں نے کہا ھمیں تو اتنا عرصہ ھوگیا آج تک تو کچھ نہیں ھوا کچھ نہیں ھوگا میں تو ڈر ڈر کے ان سب کے پیچھے خوفزدہ ھوکر چل رھا تھا، کچھ تو درختوں میں چڑھ گئے اور کچھ درختوں پر پتھروں کی بوچھاڑ کرکے اپنی قسمت آزمائی کررھے تھے،

    میں بس تماشائی بنا بس سب کے تماشے دیکھ رھا تھا اور یہ میں نے کہا بھی کہ بھئی واپس چلو دیر ھوگئی ھے، لیکن کوئی بھی ٹس سے مس نہیں ھورھا تھا، اچانک ایک دم کیا دیکھا کہ باغ کا مالی شور مچاتا ھوا آرھا تھا سارے لڑکے بھاگے ایک لڑکا اس مالی کے ھتے چڑھ گیا اور میں نے ڈر کے خاموشی سے ایک جھاڑی میں چھلانگ لگادی، جہاں میرا ھی استقبال کرنے کیلئے شہد کی مکھیوں کا ایک بہت بڑا جھنڈ موجود تھا، اور پھر کیا تماشا میرے ساتھ ھوا، چیخ بھی نہیں سکتا تھا اور ان شہد کی پیاری سویٹ مکھیوں سے جان بھی چھڑا نہیں سکتا تھا،

    میں تھا اور وہ سویٹ شہد کی مکھیاں تھیں، لگتا تھا کہ کیا لگتا تھا کچھ حوش ھوتا تو پتہ لگتا کہ کیا لگ رھا تھا!!!!!!!!!!!!!!!!‌

    ---------------------------------------------------------

    میں تھا اور وہ سویٹ شہد کی مکھیاں تھیں، لگتا تھا کہ کیا لگتا تھا کچھ حوش ھوتا تو پتہ لگتا کہ کیا لگ رھا تھا!!!!!!!!!!!!!!!!‌

    ساری شہد کی مکھیاں بار بار مجھ پر ھی حملہ کررھی تھیں، تکلیف کے مارے برا حال تھا سارے منہ پر ٹانگوں میں گردن پر جہاں جہاں انہیں موقع ملا اپنے سارے ڈنگ چبھو دئیے، میں شدید تکلیف کی وجہ سے بہت تڑپ رھا تھا بڑی مشکل سے چھپتا چھپاتا باھر نکلا، بارش بھی تھم چکی تھی، سیدھا گھر پہنچا اور راستے میں بھی کوئی دوست نطر نہیں آیا، سب شاید مالی کے ڈر سے گھروں میں دبک کر بیٹھ گئے تھے اور پتہ نہیں اس لڑکے کا کیا ھوا جو مالی کے قابو میں آگیا تھا،

    بہرحال مالی سے جان چھوٹی لاکھوں پائے، لوٹ کے بدھو گھر کو آئے، بدھو گھر تو آگئے، اب گھر میں کیاجواب دوں گا، یہ سوچ کر بہت پریشان تھا منہ پر ھاتھ نہیں لگا سکتا تھا، لگتا تھا کہ چہرے پر آبلے پڑ گئے ھیں،
    جیسے ھی گھر میں آئینہ میں اپنی شکل دیکھی تو رونا آگیا پورا چہرا سوج کر ایک عجیب سے ھی نقشہ میں تبدیل ھوگیا تھا، اب اسی تکلیف میں بستر میں گھس کر چادر اوڑھ لی، تاکہ کوئی نہ دیکھ سکے اور تڑپتا رھا آخر اماں نے سمجھ ھی لیا کہ دال میں کچھ کالا ھی ھے، فوراً انہوں نے چادر کھسکائی اور میرا چہرہ دیکھ کر وہ بھی تڑپ گئیں فوراً ھی محلے کے بڑی بوڑھی عورتوں کو بلایا اور انہوں نے پتہ نہیں اپنے کیا کیا دیسی ٹوٹکے استعمال کئے، اسی وقت والد صاحب بھی آگئے اور بہت تلملائے اور والدہ پر خامخواہ ھی غصہ ھوگئے، بہر حال رات گئے تک مجھے بھی ان دیسی ٹوٹکوں سے آرام آھی گیا -

    بچپن کی شرارتیں اور وہ ساتھ تکلیفیں جو آٹھائیں ان میں بھی ایک الگ ھی مزا اور چاشنی تھی، دل تو چاھتا ھے کہ بچپن کے دور سے بالکل نہ نکلوں اور ساری زندگی بچپن کے ھی دور میں گم رھوں اور ایک ایک واقعہ آپ سب کی نذر کرتا رھوں، لیکن بہت ساری بچپن کی یادیں کچھ ادھوری سی ھیں، جیسے جیسے یاد آتی جائیں گی میں پیش کرتا رھونگا-

    ایک اور واقعہ اسکول کا دھندلا دھندلا سا یاد آرھا ھے، ھمارے اس اسکول کی یہ خاص بات ضرور تھی کہ لڑکوں کو اکثر پکنک کیلئے مختلف تفریح گاھوں پر ضرور لے جایا کرتے تھے، اور ھر پکنک کا اپنا ایک الگ مزا ھوا کرتا تھا، مگر ایک پکنک کا سفر مجھ کو تھوڑا تھوڑا یاد آرھا ھے جب ھماری پوری کلاس نے کراچی سے شاید 60 میل کے فاصلہ پر ایک چھوٹے سے علاقہ ٹھٹھہ میں پکنک کا پروگرام بنایا تھا، جہاں پر تھوڑے سے دور کے فاصلے پر ایک بہت بڑے بزرگ کا مزار تھا اور اسکے ساتھ ھی ایک “مکلی کا قبرستان“ کے نام سے ھے، جو کہتے ھیں کہ دنیا کا سب سے بڑا قبرستان ھے جہاں پر محمد بن قاسم کے زمانے کے آثار بھی ھیں اور پرانے مقبرے بھی ھیں،

    اگر ھم بذریعہ بس جاتے تو جلدی پہنچ سکتے تھے لیکن ٹیچروں نے ٹریں کے راستہ ھی پروگرام بنایا تھا کیونکہ وہاں سے کوئی ایک بہت بڑی جھیل نذدیک پڑتی تھی، اور اس کے لئے پسنجر ٹرین کا ھی انتخاب کیا تھا، کیونکہ یہ ھی چھوٹے اسٹیشن پر رکتی تھی، تین دن کاپروگرام تھا اسکول سے ھی ھم تمام لڑکے اکھٹے ھوکر الگ الگ بسوں میں بیٹھ کر اسٹیشن پہنچے ھر ٹیچر کے سپرد دس دس لڑکے تھے اور ھم سب اپنے اپنے ٹیچرز کی سربراہی میں ایک پہلے سے ھی ریزرو ڈبے میں بیٹھے اور وہ پسنجر ٹرین کراچی سے آہستہ آہستۃ خراماں خراماں چلی، راستے میں وہ ھر ایک اسٹیشن پر رکتی ھوئی چھک چھک کرتی اپنے مخصوص سیٹی کے ساتھ چلی جا رھی تھی راستہ میں کوئی بڑا اسٹیشں نہیں آیا تھا سارے ھی راستے چھوٹے چھوٹے اسٹیشن نظر آئے، کسی کسی جگہ تو پلیٹ فارم ھی نہیں ھوتا تھا، لوگوں کو اترنے چڑھنے میں بڑی مشکل ھوتی تھی

    اس پکنک میں پسنجر ٹرین اور باقی کھنڈر جیسی بسوں، ٹریکٹر کا سفر بہت مزیدار چٹپٹا اور کچھ ڈراونا سا بھی رھا تھا اس کی کچھ یادوں کو سمیٹنے کیلئے مجھے ایک دن مزید درکار ھوگا، کیونکہ کچھ ہلکی ہلکی سی پوشیدہ گمی ھوئی یادیں ھیں جنہیں یکجا کرنے کیلئے کچھ تھوڑے سے وقت کی مہلت چاھونگا،

    آج ھمارا یہاں پر “ویک اینڈ“ ھے کل کی چھٹی ھے، ہفتہ کے دن تک کیلئے اجازت چاھتا ھوں، ھمیشہ خوش رھیں !!!!!!!!!!!!!!!!!

    اللٌہ حافظ

    ------------------------------------------------------

    ارے نعیم بھائی چھکا چھک تو تو صرف تیزگام میں ھی سنائی دیتی ھے، یہ تو شاید کوئی پسنجر ٹرین ھی تھی جو صرف خراماں خراماں، چھک چھک کرتی ھوئی جارھی تھی،


    اس پکنک میں پسنجر ٹرین اور باقی کھنڈر جیسی بسوں، ٹریکٹر کا سفر بہت مزیدار چٹپٹا اور کچھ ڈراونا سا بھی رھا تھا اس کی کچھ یادوں کو سمیٹنے کیلئے مجھے ایک دن مزید درکار ھوگا، کیونکہ کچھ ہلکی ہلکی سی پوشیدہ گمی ھوئی یادیں ھیں جنہیں یکجا کرنے کیلئے کچھ تھوڑے سے وقت کی مہلت چاھونگا،

    اس پسنجر ٹرین کا بھی ایک الگ ھی لطف تھا، گاڑی پلیٹ فارم سے نکلی اور پھر بھی لوگ سوار ھوتے رھے بمعہ سامان کے قلی ان کو دھکا دے کر بٹھاتے بھی رھے اور مزدوری اور ساتھ بھتہ بھی لیکر ھی اترتے رھے جبکہ ٹرین کافی آگے تک نکل گئ تھی -

    اس پسنجر ٹرین میں بھی کافی پکنک کا سماں تھا، کچھ مسافر تو ھمارے اسٹوڈنٹ کے ریزرو ڈبے میں بھی آگئے تھے، کافی بحث اور تکرار کے باوجود بھی ان لوگوں نے اترنے کا نام نہیں لیا اور زیادہ تر بغیر ٹکٹ ھی تھے، اور قلیوں نے انہیں بےوقوف بنا کر کچھ پیسوں کے عوض انہیں ھمارے ڈبے میں زبردستی ھی گھُسا دیا تھا اب کیا کرتے مجبوری تھی،

    ارے سائیں!! بس تھوڑی دور کی تو بات ھے راستے میں ھم اتر جائے گا، ھم اپکی کرسی پر نہیں بیٹھے گا، ادھر نیچے ھی ٹھیک ھے، سائیں خدا تم کو خوش رکھے

    ایک نے ذرا التجا کرتے ھوئے کہا تو ھمارے ایک ٹیچر نے بھی جواباً کہا کہ کوئی بات نہیں، سائیں بیٹھ جاؤ،!!! شاید انہوں نے بھی انکی گھنی مونچھوں سے ڈرتے ھوئے ھی کہا تھا!!!!!

    ایک دو سائیں تھوڑی تھے وہ تو کوئی آٹھ دس تھے تھے، بمعہ اپنے کنبہ کے ساتھ اور زیادہ تر خانہ بدوش ھی لگتے تھے، سب زیادہ تر گیٹ کے پاس اور کچھ نے تو باتھ روم کے دروازے پر ھی ڈیرہ ڈالا ھوا تھا، کسی کے ساتھ بندروں کو جوڑا تھا، جو ان کے کمر میں رسی سے بندھے ھوئے تھے، اور بار بار اچھل کود کررھے تھے، اور لڑکوں کو بھی چھیڑ چھیڑ کا موقع مل گیا تھا، ایک دوسرے کو بندروں کی طرف اشارہ کرکے رشتہ داری جوڑ رھے تھے، اور سارے ڈبے میں ایک دھماچوکڑی مچی ھوئی تھی

    کوئی ایک بندر کی طرف اشارہ کرکے کہ رھا تھا کہ دیکھ جیدی تیرا بھائی تجھے دیکھ کر مسکرا رھا ھے، کوئی بندروں کو اپنی کھانی پینے کی چیزوں میں سے کھلانے کی کوشش کررھا تھا اور کچھ تو خالی مستی ھی کررھے تھے، بار بار بندروں کو انہیں کی چھڑی سے چھیڑ رھے تھے، اس اثنا میں ایک بندر فخرعالم کی چھیڑچھاڑ سے تنگ آکر اسکے کندھے پر شور مچاتا ھوا چڑھ گیا، بڑی مشکل سے اس بندر سے جان چھڑائی چند ایک کھروچ آئی، کچھ بچت ھوگئی، لڑکوں نے اس کا رکارڈ لگانا شروع کردیا، ارے دیکھو بھائی بھائی میں جھگڑا ھوگیا، ٹیچروں نے لڑکوں کو خوب ڈانٹا لیکن لڑکے کہاں سدھرنے والے تھے اور ویسے ٹیچر حضرات بھی ساتھ ساتھ خوب ان باتوں سے تفریح لے رھے تھے،

    کسی کے پاس تو چھوٹا سا ریچھ اور اسکے ساتھ بکری بھی تھی، مگر اس کے نزدیک نہ کوئی نہیں گیا بلکہ کسی نے چھیڑا تک نہیں لیکن لڑکے آوازیں وقفہ وقفہ سے آوازیں ضرور کستے رھے ایک لڑکا جسکا نام تو بدرالمغیز تھا لیکن اسے پیار سے بدرو کہتے تھے کچھ تو اس کی شراتوں سے تنگ آکر بدروح بھی کہتے تھے، اس نے تو سب کو تنگ کیا ھوا تھا، ھر کوئی اس سے پریشان رھتا تھا اور اس سے چھپنت کی کوشش کرتا تھا ایک لڑکا پرویز حمایت جو بہت ھی شریف تھا اسکا تو یہ بدرو ھمیشہ پیچھا ھی لئے رھتا تھا،

    یہ ٹریں تو ھر جگہ ھی رک جاتی تھی، بعض اوقات تو آدھے آدھے گھنٹے کے لئے رک جاتی تھی شاید کسی ایکسپریس ٹرین کو آگے گزارنے کےلئے مگر کبھی کبھی تو لگتا ھے کہ “سگنل مین“ شاید بھول ھی جاتا ھو کہ اس گاڑی کو بھی آگے جانا، اگے کچھ ایک اور چھوٹے سے اسٹیشن کےدوسرے پلیٹ فارم پر جہاں لاوارث اور فالتو سمجھ کر ٹرینوں اور مال گاڑیوں کو کھڑی کردیتے ھیں، اپنی یہی پسنجر ٹرین کافی دیر تک رکی رھی، آخر سگنل بھی کھل گیا، لیکن ٹرین ٹس سے مس نہیں ھوئی، ایک لڑکا باھر سے خبر لایا، کہ انجن ڈرائیور ھی غائب ھے، اور جب انجن ڈرائیور واپس آیا تو پتہ چلا کہ وہ اپنی فیملی کو لینے کے لئے نزدیکی گاؤں گیا ھوا تھا اور اپنے گھر والوں اور بچوں کو ایک ڈبے میں چڑھا رھا تھا،

    اس استیشن پر ایک قلی تھا ایک ھی اسٹیشن ماسٹر تھا وہ ھی ٹکٹ بیچتا تھا ساتھ کسی پسنجر گاڑی کے آنے پر ھی ٹکٹ چیک بھی کرتا تھا اور اس کے علاؤہ وہ ضرورت پڑنے پر سگنل ڈاؤن بھی کرتا تھا اور آنے جانے والی ٹرینوں کو سبز جھنڈی بھی دکھاتا تھا، یعنی کہ وہ پورے اسٹیشن کا اکلوتا ھی اسٹاف تھا، اور شاید جب انکے پاس تنخواہ کا پے رول آتا تھا تو وہ کم از کم 10 اسٹاف کا تو ضرور ھوتا ھوگا، یہ معلومات تو بعد میں مجھے میرے ایک ریلوے کے ملازم دوست سے پتہ چلا کہ یہاں تو ایسا ھی ھوتا ھے ورنہ سوچو کہ اس چھوٹی سی تنخواہ میں گزارا کیسے ھو، اور بھی بہت سے رازوں کا انکشاف بھی کیا تھا، اب خیال آتا ھے ھر دفعہ ریلوے کو خسارہ ھی کیوں برداشت کرنا پڑتا ھے -

    ھمیں تو گورنمنٹ کی طرفسے اسٹوڈنٹ کے رعائیتی ٹکٹ ملے تھے اور باقی جو سفر کررھے تھے بغیر ٹکٹ تھے کچھ تو قلیوں نے لوگوں سے پیسے اینٹھ کر کر بٹھا دیا تھا، کچھ ھر اسٹیشن سے وہاں کہ ماسٹر اور ٹرین کے ٹکٹ چیکر اور گارڈ آپس میں ھی معاملہ طے کرکے مسافروں کو کسی نہ کسی ڈبہ میں جگہ ھو یا نہ ھو سامان کے ساتھ دھکا ضرور دے دیتے تھے، بہت ھی ثواب کا کام کرتے تھے ھر مسافر کو کسی نہ کسی طرح اسکی منزل تک پہنچا ھی دیتے تھے، اور آج تک یہ سلسلہ بہت ھی کامیابی سے چل رھا ھے، اگر کراچی یا کسی بھی بڑے استیشن پر آپ اپنی سیٹ رزرو کرانے جائیں تو آپکی خواھش کے مطابق کبھی بھی سیٹ نہیں ملے گی اور اگر آپ وھاں کے قلی سے رابطہ کریں تو فوراً ھی جتنی سیٹیں اور برتھیں آپکو چاھئے اپکے ھاتھ میں موجود مگر اسکی قیمت قلی کے ھاتھ میں تھمانی ضرور پڑتی ھے، کیا بات ھے ھر ریلوئے اسٹیشن کا بادشاہ صرف قلی اور صرف قلی ھی ھوتا ھے-

    معاف کیجئے گا میں کچھ اپنی پٹری سے ھی اتر گیا تھا، خیر ھماری ٹرین کو بھی آخر کچھ دھچکا سالگا کچھ ھلچل سی محسوس ھوئی باھر کھڑکی سے جھانک کر دیکھا تو پتہ چلا کہ سارا گاؤں وہ انجن ڈرائیور کی فیملی کو چھوڑنے آیا ھوا تھا اور سب ھاتھ ھلا ھلا کر سب کو الوداع کہہ رھے تھے کچھ تو ھمیں بھی دیکھ کر ھاتھ ھلارھے تھے، کسی نے ایک فقرہ ھی کس دیا کہ کیا وہ تمھاری ماسی یا خالہ ھے، جسے تم لوگ ھاتھ ھلا کر جواب دے رھے ھو، یہ سنتے ھی سب نے شرمندگی سے ھاتھ اندر کرلئے، !!!!!!!!!!!!!!!

    خیر بڑی مشکل سے یہ چھک چھک کرتی نازوں کی پلی ھوئی پسنجر ٹرین اپنے مقررہ اسٹیشن پر پہنچی جس کا نام “جنگ شاھی“ تھا، کوئی چھوٹا سا بازار استیشں کے باھر نظر آرھا تھا لیکن نہ کوئی جنگ کے آثار تھے اور نہ ھی کوئی شاھی مقبرہ تھا،

    شکر ھے پہنچ تو گئے مگر دوپہر گزرچکی تھی دو بج رھے تھے، سب کو بہت سخت بھوک لگ رھی تھی، صبح سے چلے ھوئے یہ وقت آگیا تھا 5 گھنٹے ھوچکے تھے اگر بس سے آتے تو شاید ایک گھنٹے سے پہلے ھی پہنچ جاتے اور ابھی تو کافی سفر باقی تھا اسٹیشن سے پھر شاید کسی بس میں بیٹھ کر جانا تھا، کچھ موسم اچھا ھی تھا ورنہ تو حالت بہت خراب ھوجاتی-

    اسٹیژن پر اتر تو گئے اور سب لڑکوں کو ایک شاھی عالمگیر سرائے میں ھم سب کو لے جایا گیا جہاں ابھی دوپہر کے کھانے پکانے کا انتظام بھی کرنا تھا، جیسے ھی ھم اس شاھی سرائے میں گھسے تو اندر اندھیرا اور چمگادڑوں کا بسیرا، ھمارے اندر گھسنے سے پہلے ھی انہوں نے پھڑپھڑانا اور چیخنا چلانا شروع کردیا ھم سب تو واپس بھاگے اور صحن میں ھی بیٹھ کر دریاں بچھا کر کچھ تو لیٹ گئے کچھ بازار کی طرف نکل لیئے، اور کچھ ٹیچروں کے ساتھ مل کر کھانا پکانے کا انتظام کرنے میں لگ گئے،

    باقی بچے ھم تین چار دوست تو کیا کرتے، مل کر اپنی اپنی جیبوں سے پیسے نکال کر کچھ کھانے پینے کی چیزیں خریدنے کے بارے میں سوچنے لگے، کیونکہ بھوک لگ رھی تھی اور جس طرح کھانے پکانے کا بندوبست ھورھا تھا وہ امید تو نہیں تھی کہ شام تک بھی تیار ھو جائے!!!!!!!!!!





     
  30. عبدالرحمن سید
    آف لائن

    عبدالرحمن سید مشیر

    شمولیت:
    ‏23 جنوری 2007
    پیغامات:
    7,417
    موصول پسندیدگیاں:
    21
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: یادوں کی پٹاری پارٹ 1

    باقی بچے ھم تین چار دوست تو کیا کرتے، مل کر اپنی اپنی جیبوں سے پیسے نکال کر کچھ کھانے پینے کی چیزیں خریدنے کے بارے میں سوچنے لگے، کیونکہ بھوک لگ رھی تھی اور جس طرح کھانے پکانے کا بندوبست ھورھا تھا وہ امید تو نہیں تھی کہ شام تک بھی تیار ھو جائے!!!!!!!!!!

    کچھ ناگزیر وجوھات کی وجہ سے تاخیر ھوگئی، جس کی معذرت چاھوں گا، کچھ کام کی زیادتی اور کچھ وقت اس یاداشت سے جڑی ھوئی چند بھُولی بسری یادوں کو سمیٹنے میں کچھ وقت لگ گیا،

    جی ہاں تو بات ھورھی تھی “جنگ شاھی“ ریلوے اسٹیشن کی، جہاں ھم تمام اسٹوڈنٹس پکنک منانے اسکول کی طرف سے پہنچے تھے، دوپہر کے دو بج چکے تھے، اور دوپہر کے کھانا پکانے کی تیاری ھورھی تھی اور ھم سب کا بھوک کے مارے برا حال تھا، کھانا پکانے والی ٹیم الگ ھی تشکیل دی ھوئی تھی جنہوں نے کھانا پکانے کا خشک سامان، پہلے سے ھی کراچی سے بندوبست کرکے آئے تھے، اور تازہ ساماں جیسے سبزی، گوشت کا پکنک پوانٹ سے ھی خریدنے کا پروگرام تھا اور ویسے بھی ھر ایک ٹولی کو مختلف کام کی ذمہ داریاں دی گئی تھیں،

    وہاں پر اسٹیشن کے ساتھ ھی بازار سے ھی کچھ دیسی تازی مرغیاں کٹوائی گئیں، اس کے علاوہ کچھ تازہ گوشت، ساتھ ھی ھری سلاد دھنیاں پودینہ ھری مرچ وغیرہ بھی وہاں پرھی آسانی سے مل گیا، وہاں پھر شاید بریانی اور قورمے کا پروگرام بن رھا تھا، پکانے والی ٹیم جو کھانا پکانے میں مشہور تھی، اس میں کچھ اسپشل ماھر ٹیچرز بھی تھے جو ھمیشہ ھر پکنک میں اپنے کھانے پکانے کے جوھر ضرور دکھاتے تھے اور وہ ھی پکنک کے تمام پروگرام کو منظم طریقہ سے بڑے شوق سے ترتیب بھی دیتے تھے، جس میں کوئی بھی مداخلت نہیں کرتا تھا، اور واقعی وہ لوگ ھمیشہ بڑے اھتمام سے بہت ھی خوش ذایقہ کھانا تیار کرتے تھے،

    ایک ٹیچر کے پاس کیشئیر کی ذمہ داری تھی اور ان کے دو اسسٹنٹ لڑکےھوتے جن کا کام صرف ضرورت کے وقت باھر کی خریداری اور سارا حساب کتاب انہی ٹیچر کو دینا ھوتا تھا، جن کے پاس اسکول کا فنڈ ھوتا تھا جو تمام پکنک کا تخمینہ لگاکر ایڈوانس میں ھی اندازاً لگا کر اسٹوڈنٹس سے بھی اکھٹا کرتے تھے اور کچھ اسکول کی طرف سے بھی فنڈ شامل کر لیا کرتے تھے اور اس بات کی تو گارنٹی تھی کہ سب کچھ ایمانداری سے ھی ھوتا تھا اور ساتھ ٹیچرز بھی اپنا اپنا حصہ بھی ضرور شامل کیا کرتے تھے، اور اگر کبھی کچھ کمی ھوجاتی تھی تو تمام ٹیچرز مل کر اس کمی کو اپنی جیب سے پورا کرتے تھے، جو اس اسکول کے ٹیچرز کی تمام خصوصیات میں سے ایک منفرد خاصیت تھی -

    بہرحال ھمارے گروپ یا ٹولی جو 5 لڑکوں پر مشتمل تھی ضرورت پڑنے پر مختلف کاموں کی ذمہ داری تھی، جیسے لکڑی جلانےکےلئے اور پانی پینے کےلئے اور پکانے کیلئے بندوبست کرنا وغیرہ وغیرہ، جس میں ھم پہلے ھی سے ماسٹر تھے، ھم لڑکوں نے فورآً اپنا کام ضرورت کے مطابق کرکے، اجازت لےکر آگے بازار کی ظرف نکل گئے، کیونکہ بھوک بہت لگ رہی تھی اور ابھی کھانا تیار ھونے میں کافی وقت تھا، بازار کی طرف ایک ھوٹل نظر آیا جہاں ھم نے بیٹھ کر دال اور سبزی کے سالن اور روٹی سے کچھ بھوک کو مٹایا -

    واپس آئے تو کچھ ٹیچرز، نزدیک ھی کسی جھیل پر جانے کا پروگرام بنا رھے تھے، وھاں پر ایک ٹریکٹر کے ذریعے کچھ ٹیچرز کی نگرانی میں باقی لڑکوں کو ساتھ لے کر، پکانے والی ٹیم کو چھوڑ کر، بقایا سب نکل پڑے، پہلے تو اس جھیل پر جانے کا پروگرام دوپہر کے کھانا کھانے کے بعد تھا، مگر کھانے میں کچھ تاخیر ھونے کے سبب پروگرام پیں کچھ تبدیلی ھوگئی تھی، اس ٹریکٹر کے پچھلے ٹرالر میں پر ھم بیٹھ تو گئے لیکن جھیل تک پہنچتے پہنچتے جو کچھ کھایا پیا تھا وہ سب کا سب ھضم ھوگیا،

    دھوپ کچھ زیادہ تھی، تھوڑا بہت گھومے پھرے کچھ لڑکوں اور ٹیچروں نے تصویریں بھی اتاریں ھم بھی پھوکٹ میں شامل ھوگئے، پھر اسے ٹریکٹر سے ھی واپس آگئے، شام ھورھی تھی ، کھانا آخری دم وخم پر تھا، ایک ٹیم نے فوراً اپنی ذمہ داری کے حساب سے، دری وغیرہ بچھائی اور اوپر پرانے آخبار، جو ساتھ لائے تھے، بچھائے اس ٹیم کا کام کھانا کھلانا تھا، سب نے ہاتھ منہ دھوئے اور بیٹھ گئے اور بس کچھ ھی دیر میں کھانا لگا دیا گیا، اور پھر کیا تھا سب کھانے پر اس بری طرح ٹوٹے کہ کھانا کھلانے والی پارٹی کبھی سالن لاتی تو روٹی ختم ھوجاتی اور کبھی روٹی لاتے تو سالن ختم، پھر بریانی کا دور چلا وہ بھی اس ظرح کہ کھلانے والے بریانی کے تھال بھر بھر کر لاتے رھے ادھر پہلے والے تھال ختم، کھلانے والے بھی بریانی یا قورمے کے تھال لاتے لاتے بیچ میں سے اچھی اچھی بوٹیاں اچک لیتے تھے، کیونکہ انہیں بھی بہت سخت بھوک لگی ھوئی تھی-

    یہ دعوت ایسی لگ رھی تھی کہ جیسے کسی شادی میں کھانا کھا رھے ھوں، اس میں چند اس علاقے کےمعزز لوگ بھی شامل ھوگئے تھے، جنہوں نے یہ مغلیہ خاندان کی سرائے بمعہ چمگادڑوں کے بغیر کسی معاوضے کے دے کر ھم پر مہربانی کی تھی، اندر تو کوئی چمگادڑوں کی وجہ سے نہیں گیا بس باھر ھی مغلیہ صحن میں ھی بیٹھ کر کچھ تو اکبر بادشاہ کے روپ دھارے ھوئے لیٹ گئے اور کچھ شاجہاں کی طرح اس سرائے کو تاج محل سمجھ کر ممتازمحل کے گن گانے لگے اور کچھ تو بےچارے اپنی ٹیم کو لیکر مقرر کردہ ذمہ داری کو لےکر برتن دھونے میں لگ گئے مگر وھاں کے کچھ مقامی لوگوں نے بھی کچھ مدد کرکے کھانا کھانے کا اپنا حق ادا کردیا -

    کھانا کھاتے ھی سب کو پھر الرٹ کردیا کہ بھئ سب اٹھو، بس آگئی ھے چلو اپنا اپنا سامان سمیٹو اور بس میں بیٹھو، اگلے پوائنٹ پر جانا تھے، اب کھانا کھا کر سب ھی ٹن ھوگئے تھے، بہرحال بڑی مشکل سے جلدی جلدی بس میں گھسے کسی کو بیٹھنے کی جگہ ملی کسی کو نہیں، بڑا بڑا سامان تو چھت پر ھی چڑھا دیا لیکن چھوتا موٹا سامان بس کے اندر ھی لے گئے، مجھ سمیت کافی لڑکوں کو جگہ تو مل گئی لیکن جو بعد میں بس کی چھت پر سامان رکھ کر چڑھے تو انہیں بیٹھنے کی جگہ نہیں ملی، وہ بس بھی ایسی تھی کہ بندے کو کبڑا بن کر کھڑا ھونا پڑا ، پتہ نہیں آگے کتنا اور سفر تھا، کچھ تو بےچارے چھت پر ھی چڑھ گئے، ایک اور سونے پر سہاگہ یہ کہ کوئی ایک اور پسنجر ٹرین آگئی اور بس والے نے اس کے پسنجر اٹھانے کیلئے بس کو اور مزید کچھ دیر کے لئے روک دیا -

    ھم جو بس میں تھے انکا تو مزید حشر نشر ھورھا تھا ایک تو اس بس کے شیشے ایسےتھے کہ کھلنے کا نام ھی نہیں لیتے تھے اور اوپر سے کنڈکٹر نے اور بہت سے مزید اور مسافروں کو بمعہ سازوسامان کے اندر بس میں زبردستی پھنس پھنسا کر گھسیڑ دیا تھا، کیا عالم تھا، کبھی ایسا جم غفیر نہیں دیکھا تھا، پسینہ سر سے پیر تک بہہ رھا تھا، اور لوگوں کے پاس سے تو ایسی مہک آرھی تھی لگتا تھا کہ شاید برسوں ھوگئے ان لوگوں کو نہائے ھوئے، خیر کیا کرتے مجبوری تھی، کچھ بلکہ بہت کچھ سہنا پڑ رھا تھا،

    بڑی مشکل سے بس کی گھڑگھڑاہٹ کے کانپنے سے یہ محسوس ھوا کہ اب شاید بس نے اپنے سفر کے آغاز کرنے کی ٹھان لی ھے، خیر ھانپتی کاپتی ھلتی جلتی اچھلتی بس نے آھستہ آھستہ چلنا شروع کیا، کہیں کہیں سے تھوڑی بہت ھوا آرھی تھی، جیسے ھی بس بازار کے حدود سے باھر نکلی، تو اندھیرے کی وجہ سے کچھ بھی نظر نہیں آرھا تھا، خیر میں تو بےچارے اوپر چھت والوں کا اور کھڑے ھوئے دوستوں اور ٹیچروں کا سوچ رھا تھا کہ نہ جانے کیا حال ھورھا ھوگا،

    اسی سوچ میں گُم ایک نیند کا جھٹکا مجھے آیا ھی تھا کہ ایک مرغی کڑکڑاتی ھوئی میرے گود میں گری اور میں ایک دم گھبرا گیا اور اپنے دل پر ھاتھ رکھ لیا ایسا لگا کہ جان ھی نکل گئی،ایک تو رش اور اوپر سے کسی کے ٹوکرے میں سے مرغیاں پھڑپھڑاتی ھوئی باھر نکل رھی تھیں، بس کیا تھا بس میں ایک ھنگامہ ھوگیا، میرے پاس جو مرغی گری اسے پکڑ کر بیٹھا تھا کہ کہیں اور نہ نکل جائے کہ اچانک ایک مقامی آدمی کا سر میری شکل کے سامنےالٹا ھی آگیا اور مجھ سے مرغی چھین کر غصہ سے کہا، جو میں بالکل سننے کے موڈ میں نہیں تھا، ایک تو میں نے اس کی مرغی سنبھالی اور اس نے مجھ پر ھی چیخنا شروع کردیا !!!!!

    کہ اوئے چھوکرے اس مرغی کے ساتھ اس کا بچہ بھی تھا وہ تم نے کدھر کو گم کردیا !!!!!!!

    میں نے ڈرتے ھوئے جواب دیا کہ،،،،،،،،،،،،،

    دیکھو سائیں!!! ھم سے آپ قسم لے لو، ھمارے نصیب میں آپکی مرغی ھی آئی تھی، اسکا بچہ ھم نے نہیں دیکھا !!!!!!!!!!!

    اس نے اور غصہ سے کہا کہ
    ھم کچھ نہیں جانتا ھے، ھم کو تو اس کا بچہ ابھی چاھئے، یہ مرغی تمھارے گود میں تھا تو اس کا بچہ بھی اس کے ساتھ ھی تھا اور کدھر کو جائے گا، ھم تو اس کا پیسہ لے کر چھوڑے گا ورنہ تم کو ادھر ھی ختم !!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!

    یہ کس مشکل میں پھنس گیا میرے ساتھ ھی کوئی اور اسکی ظرح ایک مقامی بیٹھا تھا جس نے آدھی سے زیادہ سیٹ گھیرے ھوئے تھی اور میں کھسکتے کھسکتے گرنے ھی والا تھا، اس نے اس مرغی والے کو اپنی زبان میں کچھ شاید میری حمایت میں ھی کہا، جسکی وجہ سے میری جان خلاصی ھوئی، اور میں اسی خوشی میں کھڑا ھوگیا اور اپنی چھوٹی جو جگہ بچی تھی وہ بھی اس کو دے دی کہ بس یہی خوش رھے !!!!!!!!!

    آگے جاری ھے !!!!!!!!!!!!!!!
     

اس صفحے کو مشتہر کریں