1. اس فورم پر جواب بھیجنے کے لیے آپ کا صارف بننا ضروری ہے۔ اگر آپ ہماری اردو کے صارف ہیں تو لاگ ان کریں۔

محبتیں

'اردو شاعری' میں موضوعات آغاز کردہ از عامر شاہین, ‏17 جولائی 2007۔

  1. عامر شاہین
    آف لائن

    عامر شاہین ممبر

    شمولیت:
    ‏2 مئی 2007
    پیغامات:
    1,137
    موصول پسندیدگیاں:
    205
    ملک کا جھنڈا:
    محبت اب نہیں ہو گی

    ستارے جو دمکتے ہیں
    کسی کی چشمِ حیراں میں
    ملاقاتیں جو ہوتی ہیں
    جمالِ ابر و باراں‌میں
    یہ نا آباد وقتوں میں
    دلِ ناشاد میں ہو گی
    محبت اب نہیں‌ہو گی
    یہ کچھ دن بعد میں ہو گی
    گزر جائیں گے جب یہ دن
    یہ اُن کی یاد میں ہو گی
     
    آصف احمد بھٹی اور زنیرہ عقیل .نے اسے پسند کیا ہے۔
  2. عامر شاہین
    آف لائن

    عامر شاہین ممبر

    شمولیت:
    ‏2 مئی 2007
    پیغامات:
    1,137
    موصول پسندیدگیاں:
    205
    ملک کا جھنڈا:
    کرچیاں اور کرنیں

    چاندنی پر غزل کہنے والی سے میں نے کہا
    چاندنی تم بھی ہو
    اور وہ ہنس پڑی
    اس کے ہونٹوں پہ بکھری ہوئی
    نیم جاں زرد کرنوں کو میں نے چنا
    اور میں رو پڑا

    اُس نے مجھ سے کہا
    بول تیرے ہیں سب کانچ کی چوڑیاں
    کانچ کی چوڑیاں کس کو پہناؤ گے؟
    اور میں ہنس پڑا
    کرچیاں میرے ہونٹوں سے جھڑنے لگیں
    اور وہ رو پڑی

    زرد کرنوں میں جب کرچیاںمیں پرونے لگا
    وہ بھی رونے لگی ، مَیں بھی رونے لگا
     
    آصف احمد بھٹی اور زنیرہ عقیل .نے اسے پسند کیا ہے۔
  3. عامر شاہین
    آف لائن

    عامر شاہین ممبر

    شمولیت:
    ‏2 مئی 2007
    پیغامات:
    1,137
    موصول پسندیدگیاں:
    205
    ملک کا جھنڈا:
    ایک خواہش

    بہت جی چاہتا ہے
    مَیں ترے شانوں پہ سر رکھ کر
    بہا ڈالوں وہ سب آنسو
    جو میرے دل کی شریانوں میں چھبتے ہیں
    اُبلتے ہیں کسی لاوے کی صورت
    اور آنکھوں تک نہیں آتے
    کسی آغاز سے پہلے کسی انجام کے آنسو
    ترے ہمراہ سوچی عمر کی اک شام کو آنسو
    کہیں دشتِ محبت میں
    نظر کی خوش خیالی کے سنہری دام کے آنسو
    یہ تیرے نام کے آنسو
    بہا دوں سب
    ترے شانوں پہ سر رکھ کر
    تو شاید زندگی کا راستہ
    پھر سے چراغ آثار ہو جائے
    اَنا کے قصہء نا مختمم میں ہار کا اقرار ہو جائے
    یہ دریا فاصلوں کا
    لمحہ بھر میں پار ہو جائے
     
    زنیرہ عقیل نے اسے پسند کیا ہے۔
  4. عامر شاہین
    آف لائن

    عامر شاہین ممبر

    شمولیت:
    ‏2 مئی 2007
    پیغامات:
    1,137
    موصول پسندیدگیاں:
    205
    ملک کا جھنڈا:
    کیا کریں

    مری تری نگاہ میں
    جو لاکھ انتظار ہیں
    جو میرے تیرے تن بدن میں
    لاکھ دل فگار ہیں
    جو میری تیری انگلیوں کی بے حسی سے
    سب قلم نزار ہیں
    جو میرے تیرے شہر کی
    ہر اک گلی میں
    میرے تیرے نقش ِ پا کے بے نشاں مزار ہیں
    جو میری تیری رات کے
    ستارے زخم زخم ہیں
    جو میری تیری صبح کے
    گلاب چاک چاک ہیں
    یہ زخم سارے بے دوا
    یہ چاک سارے بے رفو
    کسی پہ راکھ چاند کی
    کسی پہ اوس کا لہو
    یہ ہے بھی یا نہیں، بتا
    یہ ہے کہ محض جال ہے
    میرے تمہارے عنکبوتِ وہم کا بُنا ہوا
    جو ہے تو اس کا کیا کریں
    نہیں ہے تو بھی کیا کریں
    بتا ، بتا ،
    بتا ، بتا
     
    زنیرہ عقیل نے اسے پسند کیا ہے۔
  5. عامر شاہین
    آف لائن

    عامر شاہین ممبر

    شمولیت:
    ‏2 مئی 2007
    پیغامات:
    1,137
    موصول پسندیدگیاں:
    205
    ملک کا جھنڈا:
    اندیشے

    روح بے چین ہے اک دل کی اذیت کیا ہے
    دل ہی شعلہ ہے تو یہ سوز ِ محبت کیا ہے
    وہ مجھے بھول گئی اس کی شکایت کیا ہے

    رنج تو یہ ہے رو رو کے بھلایا ہو گا

    جھک گئی ہو گی جواں سال امنگوں کی جبیں
    مِٹ گئی ہو گی للک ، ڈوب گیا ہو گا یقیں
    چھا گیا ہو گا دُھواں ، گھوم گئی ہو گی زمیں

    اپنے پہلے ہی گھروندے کو جو ڈھایا ہو گا

    دل نے ایسے بھی کچھ افسانے سنائے ہوں گے
    اشک آنکھوں سے پئے اور نہ بہائے ہوں گے
    بند کمرے میں جو خط میرے جلائے ہوں گے

    ایک اک حرف جبیں پر اُبھر آیا ہو گا

    اُس نے گھبرا کے نظر لاکھ بچائی ہو گی
    مِٹ کے اک نقش نے سو شکل دکھائی ہو گی
    میز سے جب مِری تصویر ہٹائی ہو گی

    ہر طرف مجھ کو تڑپتا ہُوا پایا ہو گا

    بے محل چھیڑ پہ جذبات اُبل آئے ہوں گے
    غم پشیمان تبسم میں ڈھل آئے ہوں گے
    نام پر میرے جب آنسو نکل آئے ہوں گے

    سَر نہ کاندھے سے سہیلی کے اُٹھایا ہو گا

    زلف ضد کرکے کسی نے جو بنائی ہو گی
    روٹھے جلووں پہ خزاں اور بھی چھائی ہو گی
    برق عشووں نے کئی دن نہ گرائی ہو گی

    رنگ چہرے پہ کئی روز نہ آیا ہو گا
     
  6. عامر شاہین
    آف لائن

    عامر شاہین ممبر

    شمولیت:
    ‏2 مئی 2007
    پیغامات:
    1,137
    موصول پسندیدگیاں:
    205
    ملک کا جھنڈا:
    سراب چہرے

    مِری زباں سے تِری نگاہ تک
    لہو کا سیلاب آگیا ہے
    ہوائیں وحشت سے رو رہی ہیں
    شعور نے جو بھی حرف سوچے
    لہو کے قطروں میں ڈھل گئے ہیں

    مَیں آج کیسے تمہیں پُکاروں
    مَیں کس سے اذنِ کلام مانگوں
    کہ میرے ہونٹوں پہ آبلے ہیں
    جو میرے باطن کی حِدتوں سے
    چٹخ گئے ہیں ، پگھل گئے ہیں

    شکستہ تاروں کی روشنی میں
    لہو کا دریا چمک رہا ہے
    سراب چہروں کی چاندنی میں
    تمہارا چہرہ بھٹک گیا ہے
     
  7. عامر شاہین
    آف لائن

    عامر شاہین ممبر

    شمولیت:
    ‏2 مئی 2007
    پیغامات:
    1,137
    موصول پسندیدگیاں:
    205
    ملک کا جھنڈا:
    گزارش

    دل تاریکی میں کھو جائے
    جب سارا عالم سو جائے
    اور چاند بھی اوجھل ہو جائے

    تم دل کا طاق سجا دینا
    اور ایک چراغ جلا دینا

    جب ہونٹوں پہ فریاد آئے
    جب تمہیں کسی کی یاد آئے
    اور ایک صدی کے بعد آئے

    تم میرا نام مٹا دینا
    اور ایک چراغ بجھا دینا
     
  8. عامر شاہین
    آف لائن

    عامر شاہین ممبر

    شمولیت:
    ‏2 مئی 2007
    پیغامات:
    1,137
    موصول پسندیدگیاں:
    205
    ملک کا جھنڈا:
    پہلے ملنا کم کرنا

    دیکھ اچانک چھوڑ نہ جانا
    پہلے ملنا کم کرنا
    پھر، سورج ڈھلنے کے لمحوں میں مجھ سے ملنے مَت آنا
    فون پہ رات کو شرمندہ شرمندہ باتیں کرنا
    میرا نام اور میرے فقرے مت دُہرانا
    میرے پسندیدہ رنگوں کو بھولتے جانا
    فرمائش کرنے میں لمبے لمبے وقفے کرنا
    چوڑیاں کی دُکان سے گزرتے
    ٹھٹک کے میرے کاندھے پر تم اپنا نرم سا ہاتھ نہ رکھنا
    چلتے چلتے دیکھ لیے جانے کے شک سے ڈرنا
    اکثر وعدے پر نہ ملنا
    جب تجھ کو نہ چھونے ، دیکھ نہ لینے کی عادت سی ہو جائے نا
    تب یوں کرنا
    کوئی بہانہ بنا کر آنکھیں نَم کرنا
    پہلے ملنا کم کرنا
     
  9. اقراء
    آف لائن

    اقراء ممبر

    شمولیت:
    ‏26 جولائی 2007
    پیغامات:
    191
    موصول پسندیدگیاں:
    2
    سفر میں اپنے حصے کی مسافت یاد رہتی ہے
    کہیں آباد ہونے پر بھی ہجرت یاد رہتی ہے

    وہ چاہے دوستی ہو دشمنی ہو یا محبت ہو
    یہاں ہر حال میں اپنی ضرورت یاد رہتی ہے

    کسی صحرا کو پیاسا چھوڑ جاتا ہے کبھی دریا
    کبھی پیاسے کو دریا کی سخاوت یاد رہتی ہے

    یہ سچ ہے پیار پہلا ہی بسا رہتا ہے سانسوں میں
    یہ سچ ہے عمر بھر پہلی محبت یاد رہتی ہے ۔
     
  10. عامر شاہین
    آف لائن

    عامر شاہین ممبر

    شمولیت:
    ‏2 مئی 2007
    پیغامات:
    1,137
    موصول پسندیدگیاں:
    205
    ملک کا جھنڈا:
    عہدِ فراموش

    مرے لبوں میں تمہارے لبوں کی خوشبو ہے
    تمہارے دل کے دھڑکتے ہوئے مہ و انجم
    بکھر گئے ہیں مرے دل میں روشنی کی طرح

    مرے تصور ِ خلد آفریں کے پردے میں
    ہیں محو ِ خواب ابھی تک تمہاری بند آنکھیں
    تمہاری ساق و کمر کی سپردگی کا خمار
    ہے آج بھی مرے حق میں نویدِ مئے نوشی
    مرے وجود کے ٹھرے ہوئے سمندر میں
    نہاں ہے آج بھی خمیازہء ہم آغوشی
    مرے بدن میں تمہارے بدن کا لمس ِ جواں
    رواں ہے صورتِ سیالِ خود فراموشی

    خلوص و عشق کے اِن تجربات میں لیکن
    یہ تجربہ بھی نیا ہے کہ بزمِ ناز میں تم
    ملی ہو آج اک انجان اجنبی کی طرح
     
  11. عامر شاہین
    آف لائن

    عامر شاہین ممبر

    شمولیت:
    ‏2 مئی 2007
    پیغامات:
    1,137
    موصول پسندیدگیاں:
    205
    ملک کا جھنڈا:
    تعبیر

    وہی ہے شنگرفی رنگ سرخئی غم کا
    وہی ہے چاند کے چہرے پہ جانکنی کا حصار
    وہی ہے زرد رو پتوں کے ٹوٹنے کا سفر
    وہی ہے دل میں تماشائے خستگی کی چھبن
    وہی ہے ٹھر نہ سکنے کا زندگی کا چلن
    وہی ہے صبحوں کی تابندہ رنگتوں کی سبھا
    وہی ہے جلتی دوپہروں میں عکس ِ دل زدگی
    وہی ہے قرمزی شاموں میں حدتِ مثبت
    وہی ہے ڈھلتی رات اذنِ بےمایہ
    وہی ہے قرب کی چاہت، سپرگی کی تڑپ
    وہی فلک کی ہے رنگت ، وہی ہے راہگزار
    مگر وہ شخص کہ جس کے لیے یہ سب کچھ تھا
    وہ میرا نام درختوں پہ لکھ کے چھوڑ گیا
     
  12. اقراء
    آف لائن

    اقراء ممبر

    شمولیت:
    ‏26 جولائی 2007
    پیغامات:
    191
    موصول پسندیدگیاں:
    2
    وہ سورج تھا ستارہ ہوگیا ناں
    جداُئی کا اشارہ ہوگیا ناں
    سکھایا تھا جسے دنیا میں جینا
    وہی دنیا کو پیارا ہوگیا ناں

    کہا بھی تھا محبت تم نہ کرنا
    خسارہ ہی خسارہ ہوگیا ناں
    بہت ہی دوُر اپنی دسترس سے
    رفاقت کا کنارہ ہوگیا ناں۔ ۔ ۔
     
  13. نعیم
    آف لائن

    نعیم مشیر

    شمولیت:
    ‏30 اگست 2006
    پیغامات:
    58,088
    موصول پسندیدگیاں:
    11,128
    ملک کا جھنڈا:
    عامر شاھین بھائی اور اقراء بہن۔

    بہت ہی پیاری غزلیں ہیں۔

    یہ شعر بہت پیارا لگا

     
  14. اقراء
    آف لائن

    اقراء ممبر

    شمولیت:
    ‏26 جولائی 2007
    پیغامات:
    191
    موصول پسندیدگیاں:
    2
    شکریہ نعیم ۔۔۔ :)
     
  15. عامر شاہین
    آف لائن

    عامر شاہین ممبر

    شمولیت:
    ‏2 مئی 2007
    پیغامات:
    1,137
    موصول پسندیدگیاں:
    205
    ملک کا جھنڈا:
    لگا آشنا مجھے

    وہ اجنبی تھا پھر بھی لگا آشنا مجھے
    کس سمت لے چلا نیا حادثہ مجھے

    واقف نہیں ہوں شکل سے ، اطوار سے مگر
    لگتا ہے اس کا نام ہی اکثر بھلا مجھے

    مجھ کو بھی ڈھونڈتی رمِ ایام کی خلش
    رکھتا عزیز گر کبھی میرا خدا مجھے

    اے کاش تُو بھی سنتا کبھی آہٹوں کی گونج
    تُو بھی مری طرح سے کبھی ڈھونڈتا مجھے

    ناہید اُس کی یاد کا آنچل بھی آج تو
    اُڑتا ہُوا ، ہَوا میں بگولہ لگا مجھے
     
  16. لاحاصل
    آف لائن

    لاحاصل ممبر

    شمولیت:
    ‏6 جولائی 2006
    پیغامات:
    2,943
    موصول پسندیدگیاں:
    8
    بہت عمدہ
     
  17. اقراء
    آف لائن

    اقراء ممبر

    شمولیت:
    ‏26 جولائی 2007
    پیغامات:
    191
    موصول پسندیدگیاں:
    2
    محبت کا اثر ہوگا ، غلط فہمی میں مت رہنا
    وہ بدلے گا چلن اپنا ، غلط فہمی میں مت رہنا

    تسلی بھی اسے دینا ، یہ ممکن ہے میں لوٹ آؤں
    مگر یہ بھی اسے کہنا ، غلط فہمی میں مت رہنا

    تمھارا تھا ، تمھارا ہوں ، تمھارا ہی رہوں گا میں '،
    میرے بارے میں اس درجہ غط فہمی میں مت رہنا (ل و ل )

    محبت کا بھرم ٹوٹا ہے اب چھپ چھپ کے روتے ہو
    تمھیں میں نے کہا تھا نا غلط فہمی میں مت رہنا

    بچالے گا تجھے صحرا کی تپتی دھوپ سے تیمور
    کسی کی یاد کا سایا ، غلط فہمی میں مت رہنا
     
  18. عامر شاہین
    آف لائن

    عامر شاہین ممبر

    شمولیت:
    ‏2 مئی 2007
    پیغامات:
    1,137
    موصول پسندیدگیاں:
    205
    ملک کا جھنڈا:
    رسوائیوں کے زخم

    رسوائیوں کے زخم محبت میں سہہ گئے
    آنکھوں ‌کی آبرو تھے جو آنسو وہ بہہ گئے

    جانے وہ کیا نظر تھی کہ برباد کر گئی
    جانے وہ کیسی موج تھی ہم جس میں بہہ گئے

    صبح ِ وفا کی لاج بھی رکھنا ضرور تھی
    تارے اُبھر اُبھر کے شبِ غم میں رہ گئے

    دُنیا کی برہمی تو ہمارا نصیب تھی
    ہم گُل پرست وقت کا ہر زخم سہہ گئے

    اب تک دھڑک رہا ہے دلِ ملتجی مرا
    اب تک میں سوچتا ہوں وہ کیا بات کہہ گئے
     
  19. عامر شاہین
    آف لائن

    عامر شاہین ممبر

    شمولیت:
    ‏2 مئی 2007
    پیغامات:
    1,137
    موصول پسندیدگیاں:
    205
    ملک کا جھنڈا:
    جب

    جب شب کے شکستہ زینوں سے مہتاب اترنے لگتے ہیں
    جب غم کے سرد الاؤ میں امیدیں بجھنے لگتی ہیں
    جب دل کے شوہ سمندر میں آوازیں مرنے لگتی ہیں

    جب موسم ہاتھ نہیں آتا ، جب تتلی بات نہیں کرتی
    جب زندہ رہنا اک بے معنی کام دکھائی دیتا ہے
    جب آنے والا ہر لمحہ دُشنام دکھائی دیتا ہے

    جب یاد کے گہرے سناٹے میں چہرے گُم ہو جاتے ہیں
    جب درد سے بوجھل آنکھوں میں گرداب سے پڑنے لگتے ہیں
    جب شمعیں گل ہو جاتی ہی ، جب خواب بکھرنے لگتے ہیں

    اُس وقت اگر تم آجاؤ ! ! !
     
  20. لاحاصل
    آف لائن

    لاحاصل ممبر

    شمولیت:
    ‏6 جولائی 2006
    پیغامات:
    2,943
    موصول پسندیدگیاں:
    8
    بہت اچھی غزلیں ہیں
    بہت عمدہ
    اگلی بار میں بھی یہاں کچھ لکھوں گی
     
  21. عامر شاہین
    آف لائن

    عامر شاہین ممبر

    شمولیت:
    ‏2 مئی 2007
    پیغامات:
    1,137
    موصول پسندیدگیاں:
    205
    ملک کا جھنڈا:
    بازدید

    مَیں بھولا نہیں محبت کا وہ سب سے دُشوار لمحہ
    وہ لمحہ جو اُس دن مرے واسطے لمحہءِ آخری بن رہا تھا
    جدائی کا وہ موت آثار لمحہ ، وہ تلوار لمحہ
    وہ سوئی ہوئی شب کا بیدار لمحہ -
    وہ تم اور تمہارا وہ پژمردہ چہرہ وہ سہمی نگاہیں
    وہ ہونٹوں کے گوشوں پہ سمٹی کراہیں
    ہراساں قدم اور پریشان باہیں
    وہ آنسو ، وہ آہیں
    مری آنکھ میں آج تک نقش ہے وہ لرزتا ہوا سا پراسرار لمحہ
    وہ دیوار لمحہ
    مجھے یاد ہے تم بہت دیر تک میرے شانے پہ موتی سجاتے رہے تھے
    مری گرم بانہوں میں لپٹے ہوئے کپکپاتے رہے تھے
    جدائی کی تمہید میں ایک لمبی کہانی سناتے رہے تھے
    مجھے ساتھ اپنے رُلاتے رہے تھے

    مَیں بھولا نہیں ہوں تعلق کی باتیں
    کہ میرے لبوں پر تمہارے لبوں کے کھلائے ہوئے سب شگوفے جواں ہیں
    تمہارے بدن کی وہ سب وارداتیں ، میرے سرد ہاتھوں پہ اب تک عیاں ہیں
    وہ قربت کی خوشبو میں سرشار لمحے ، میرے چار جانب ابھی تک رواں ہیں
    زمانہ بھی لیکن عجب سحرزا چیز ہے
    جو ابھی لب پہ کرنیں سجائے کھڑا تھا ، ابھی اپنی ہی آگ میں جل رہا ہے
    ہر اک پل نئی شکل میں ڈھل رہا ہے

    مَیں بھولا نہیں ہوں
    جدائی کا وہ موت آثار لمحہ ، وہ تلوار لمحہ
    جو اس دن مرے واسطے لمحہءِ آخری بن رہا تھا
    مگر اب ہے صرف ایک بیکار لمحہ -
     
  22. عبدالرحمن سید
    آف لائن

    عبدالرحمن سید مشیر

    شمولیت:
    ‏23 جنوری 2007
    پیغامات:
    7,417
    موصول پسندیدگیاں:
    21
    ملک کا جھنڈا:
    عامر بھائی کیا بات ھے،!!!!!!
     
  23. عامر شاہین
    آف لائن

    عامر شاہین ممبر

    شمولیت:
    ‏2 مئی 2007
    پیغامات:
    1,137
    موصول پسندیدگیاں:
    205
    ملک کا جھنڈا:
    مَیں نے اس طور سے چاہا تجھے اکثر جاناں

    مَیں نے اس طور سے چاہا تجھے اکثر جاناں
    جیسے مہتاب کو بے انت سمندر چاہے
    جیسے سورج کی کرن سیپ کے دل میں اُترے
    جیسے خوشبو کو ہَوا رنگ سے ہٹ کر چاہے

    جیسے پتھر کے کلیجے سے کرن پھوٹتی ہے
    جیسے غنچے کھلے موسم سے حنا مانگتے ہیں
    جیسے خوابوب میں خیالوں کی کماں ٹوٹتی ہے
    جیسے بارش کی دعا آبلہ پا مانگتے ہیں

    میرا ہر خواب مرے سچ کی گواہی دے گا
    وسعتِ دید نے تجھ سے تری خواہش کی ہے
    میری سوچوں میں کبھی دیکھ سراپا اپنا!
    مَیں نے دُنیا سے الگ تری پرستش کی ہے

    خواہش ِ دید کا موسم کبھی دُھندلا جو ہوا
    نوچ ڈالی ہیں زمانوں کی نقابیں میں نے
    تیری پلکوں پہ اُترتی ہوئی صُبحوں کے لیے
    توڑ ڈالی ہیں ستاروں کی طنابیں میں نے

    میں نے چاہا کہ ترے حُسن کی گُلنار فضا!
    میری غزلوں کی قطاروں سے دہکتی جائے
    میں نے چاہا کہ مرے فن کے گلستاں کی بہار
    تیری آنکھوں کے گلابوں سے مہکتی جائے

    طے تو یہ تھا کہ سجاتا رہے لفظوں کے کنول
    میرے خاموش خیالوں میں تکلم تیرا
    رقص کرتا رہے بھرتا رہے خوشبو کا خمار
    میری خواہش کے جزیروں میں تبسم تیرا

    تُو مگر اجنبی ماحول کی پَروردہ کرن!
    میری بجھتی ہوئی راتوں کو سحر کر نہ سکی
    تیری سانسوں میں مسیحائی تھی لیکن تُو بھی
    چارہء زخم ِ غم ِ دیدہء تر کر نہ سکی

    تُجھ کو احساس ہی کب ہے کہ کسی درد کا داغ
    آنکھ سے دل میں اُتر جائے تو کیا ہوتا ہے
    تُو کہ سیماب طبیعت ہے تجھے کیا معلوم
    موسم ِ ہجر ٹھہر جائے تو کیا ہوتا ہے

    تُو نے اُس موڑ پہ توڑا ہے تعلق کہ جہاں
    دیکھ سکتا نہیں کوئی بھی پلٹ کر جاناں

    اَب یہ عالم ہے کہ آنکھیں جو کُھلیں گی اپنی
    یاد آئے گا تری دید کا منظر جاناں

    مجھ سے مانگے گا ترے عہدِ محبت کا حساب
    تیرے ہجراں کا دہکتا ہُوا محشر جاناں

    یُوں مرے دل کے برابر تیرا غم آیا ہے
    جیسے شیشے کے مقابل کوئی پتھر جاناں

    جیسے مہتاب کو بے انت سمندر چاہے
    مَیں نے اس طور سے چاہا تجھے اکثر جاناں
     
  24. عبدالجبار
    آف لائن

    عبدالجبار منتظم اعلیٰ سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏27 مئی 2006
    پیغامات:
    8,595
    موصول پسندیدگیاں:
    70
    واہ! بھئی واہ!

    بہت خوب۔ عامر بھائی!
     
  25. عامر شاہین
    آف لائن

    عامر شاہین ممبر

    شمولیت:
    ‏2 مئی 2007
    پیغامات:
    1,137
    موصول پسندیدگیاں:
    205
    ملک کا جھنڈا:
    آخری بار ملو

    آخری بار ملو ایسے کہ جلتے ہوئے دل
    راکھ ہو جائیں ، کوئی اور تقاضہ نہ کریں
    چاکِ وعدہ نہ سلے ، زخم ِ تمنا نہ کھلے
    سانس ہموار رہے ، شمع کی لَو تک نہ ہلے
    باتیں بس اتنی کہ لمحیں انہیں ‌آکر گن جائیں
    آنکھ اُٹھائے کوئی امید تو آنکھیں چھن جائیں

    اُس ملاقات کا اس بار کوئی وہم نہیں
    جس سے اک اور ملاقات کی صورت نکلے
    اَب نہ ہیجان و جنوں کا نہ حکایات کا وقت
    اب نہ تجدیدِ وفا کا نہ شکایات کا وقت
    لُٹ گئی شہر ِ حوادث میں متاع ِ الفاظ
    اب جو کہنا ہے تو کیسے کوئی نوحہ کہیے
    آج تک تم سے رگِ جاں کے کئی رشتے تھے
    کل سے جو ہو گا اسے کون سا رشتہ کہیے

    پھر نہ دیکھیں گے کبھی عارض و رُخسار ملو
    ماتمی ہیں دم ِ رخصت دَر و دیوار ملو
    پھر نہ ہم ہوں گے نہ اقرار نہ انکار ، ملو
    آخری بار ملو
     
  26. اقراء
    آف لائن

    اقراء ممبر

    شمولیت:
    ‏26 جولائی 2007
    پیغامات:
    191
    موصول پسندیدگیاں:
    2
    یہ جو لوگوں کا دکھایا ہے محبت کا چراغ
    ہم نے اشکوں سے جلایا ہے محبت کا چراغ

    تیرے حصے میں اگر آئی ہے'سورج کی تپش !
    میرے حصے میں بھی آیا ہے محبت کا چراغ

    جسکو جتنی ضرورت ہے وہ لے جائے ابھی
    ہم نے پھر آج جلایا ہے محبت کا چراغ

    باد ِ زہر اب کی شدت سے بچانے کے لئے
    کس نے پلکوں میں چھپایاُ ہے محبت کا چراغ

    ہم نے شعروں میں چمک لانے کی خاطر
    دیدہ و دل میں اُگایا ہے محبت کا چراغ ۔ ۔۔
     
  27. عامر شاہین
    آف لائن

    عامر شاہین ممبر

    شمولیت:
    ‏2 مئی 2007
    پیغامات:
    1,137
    موصول پسندیدگیاں:
    205
    ملک کا جھنڈا:
    ہمارے دل پہ جو زخموں کا باب لکھا ہے
    اسی میں وقت کا سارا حساب لکھا ہے

    سلوک نشتروں جیسا نہ کیجیے ہم سے
    ہمیشہ آپ کو ہم نے گلاب لکھا ہے

    کچھ اور کام تو ہم سے نہ ہو سکا لیکن
    تمہارے ہجر کا اک اک عذاب لکھا ہے

    ترے وجود کو محسوس عمر بھر ہو گا
    ترے لبوں پہ جو ہم نے جواب لکھا ہے
     
  28. عامر شاہین
    آف لائن

    عامر شاہین ممبر

    شمولیت:
    ‏2 مئی 2007
    پیغامات:
    1,137
    موصول پسندیدگیاں:
    205
    ملک کا جھنڈا:
    خیالِ ترکِ محبت

    خیالِ ترکِ محبت کو آزمانے لگے
    اسے بھلاؤں تو کچھ اور یاد آنے لگے

    تجھے میں اپنی محبت سے ہٹ کے دیکھ سکوں
    یہاں تک آنے میں مجھ کو کئی زمانے لگے

    یہ اس کا جسم ہے یا ہے طلسمِ خواب کوئی
    ادھر نگاہ اُٹھاؤں تو نیند آنے لگے

    وہ لمحے بھول کے جن کو کوئی کمی بھی نہ تھی
    یو یاد آئے تو کچھ اور دل دُکھانے لگے

    کبھی بہار سے تسکین ِ آرزو نہ ہوئی
    جو پھول صبح کھلے شام کو پرانے لگے

    وفا بھی حل ہو تو ایسا نہ ہو سلیم کہ پھر
    دلِ خراب نئے مسئلے اُٹھانے لگے
     
  29. نعیم
    آف لائن

    نعیم مشیر

    شمولیت:
    ‏30 اگست 2006
    پیغامات:
    58,088
    موصول پسندیدگیاں:
    11,128
    ملک کا جھنڈا:
    بہت خوب شاعری ہے۔ بہت اچھا !!
     
  30. عامر شاہین
    آف لائن

    عامر شاہین ممبر

    شمولیت:
    ‏2 مئی 2007
    پیغامات:
    1,137
    موصول پسندیدگیاں:
    205
    ملک کا جھنڈا:
    بنجر ہوتی آنکھیں

    سردی کی ٹھٹھرتی راتوں میں
    ہم دُھندلی دُھندلی آنکھوں سے
    کیا منظر دیکھتے رہتے تھے
    وہ لمحے کیسے لمحے تھے
    جب بنجر ہوتی آنکھوں سے
    کچھ تارے ٹوٹ کے گرتے تھے
    کچھ سپنے بُنتے رہتے تھے
    کچھ پیماں جلتے رہتے تھے
    جب چاند پہ بدلی آجاتی
    چہروں پہ زردی چھا جاتی
    پھر ہلکے زرد گلابوں پر
    شب اپنا آنچل لہراتی
    دَم تیز ہوا کا رک جاتا
    جب ہجر کی آندھی چلتی تھی
    ہر چیز اُڑا لے جاتی تھی
    یادوں کے بھٹکتے طائر بھی
    پھر لوٹ کے گھر نہ آتے تھے
    وہ برف دِنوں کے منظر اب
    آنکھوں سے اوجھل ہوتے ہیں
    دُھند اور بھی بڑھتی جاتی ہے
    سپنے بھی بوجھل ہوتے ہیں
    اب بنجر ہوتی آنکھوں سے
    کچھ جلتے آنسو بہتے ہیں
    ہم تنہا بیٹھ کے روتے ہیں
     
    زنیرہ عقیل نے اسے پسند کیا ہے۔

اس صفحے کو مشتہر کریں