1. اس فورم پر جواب بھیجنے کے لیے آپ کا صارف بننا ضروری ہے۔ اگر آپ ہماری اردو کے صارف ہیں تو لاگ ان کریں۔

میرے پسندیدہ اقتباسات

'ادبی طنز و مزاح' میں موضوعات آغاز کردہ از زنیرہ عقیل, ‏6 مارچ 2018۔

  1. ھارون رشید
    آف لائن

    ھارون رشید برادر سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏5 اکتوبر 2006
    پیغامات:
    130,876
    موصول پسندیدگیاں:
    16,629
    ملک کا جھنڈا:
    کرنل محمد خان کی کتاب " بجنگ آمد " سے اقتباس
    " ۴ جنوری ۱۹۴۴ کی صبح کو ہماراجہاز آہستہ آہستہ بمبئی کی گودی میں داخل ہوا ۔میں ایک مختصر سی نیند سے جاگا تو پورٹ ہول سے خشکی نظر آئی ایک بے تابی ے عالم میں کپڑے پہنے 'عرشے پر پہنچا ارض ہند پر نظر پڑی تو آنکھوں میں وفور مسرت سے آنسو چھلک اٹھے اور جب خاک وطن پر پاؤں رکھا تو خدا جانے کتنی دیر احسا س رہا کہ پاؤں کے بجائے جبین کیوں نہ رکھ دی ۔بمبئی میں ہمیں ٹرانزٹ کیمپ میں ٹھہرایا گیا ۔ یہ وہی کیمپ تھا جہاں ڈھائی سال پہلے ہماری دعا کو کسی بابو مزاج فرشتے نے محض ٹائپ کی غلطی کی وجہ سے خدا تعالیٰ تک جانے سے روک دیا تھا اور ہمارا سمندر پار کا سفر ٹل نہ سکا تھا۔ بہر حال اب خوش تھے کہ نہ صرف جنگ سے بچ کر آگئے تھے بلکہ کسی قسم کا سچا لہو لگا کر انگریزی غازی بھی بن چکے تھے اور طبیعت میں ایک قسم کی خان بہادری محسوس کرتے تھے چنانچہ کیمپ کے دفتر میں داخل ہوئے تو اندر اس بے تکلفی سے قدم رکھا گویا صاحب خانہ ہم ہی ہیں اور انگریز کمانڈانٹ نے بھی ہمیں خوش آمدید کہا تو اس تپاک سے گویا ملکہ معظم نے ذات طور پر ہماری خاطر ہدایات بھیجی ہیں ملاقات کے دوران ہمیں کمانڈانٹ صاحب نے سگنل ٹرینینگ سنٹر سیالکوٹ میں تقرر کا حکم نامہ دیا لیکن وہاں جانے سے پہلے ایک ماہ کی رخصت کا مژدہ بھی سنایا اور اسی شب فرنٹئیر میل سے ہماری نشست کا انتظام بھی کر دیا ۔
    دوسرے روز لاہور پہنچے ۔ہماری منزل تو آگے چکوال تھی جہاں سے اتر کر اپنے گاؤں بالکسر جانا تھا لیکن گاڑی لاہور کے اسٹیشن پر رکی اور میں نے کھڑکی سے باہر جھانکا تو ہمیں وہی کالج کے دنوں کے مانوس در و دیوار نظر آئے وہی رس بھری پنجابی آوازیں کانوں میں پڑیں اور وہی بھاگ بھری قمیصیں اور شلواریں دکھائی دیں ایک غیبی طاقت نے ہمیں لاہور اترنے پر مجبور کر دیا اسٹیشن سے نکل کر پہلی دفعہ محسوس ہوا کہ لاہور کے گلی کوچوں میں پیدل چلنا بھی کتنی بڑی نعمت ہ ے ہم چوبیس گھنٹے لاہور ٹھہرے ۔ ٹھہرے کیا ' اپنے آپ کو لاہور کے سپرد کردیا اور یوں محسوس ہوا جیسے ہوائے لاہور ہماری سہ سالہ اجنبیت کو دھو کر ہماری باضابطہ تطہیر کررہی ہے ۔ دوسرے روز گھر پہنچے تو چھوٹوں کو بڑا پایا اور بڑوں کو اور بڑا ۔لیکن گاؤں کی بڑی خبر یہ نہ تھی کہ ہم نے انہیں کیسا پایا بلکہ یہ کہ ہم خود کیسے پائے گئے ۔خبر مشہور ہو گئی کہ کپتان آگیا ہے محمد خان آگیا ہے ۔ کتنا دبلا پتلا تھا 'اب دیکھو کیسا جوان نکلا ہے ۔صاحب بن گیا ہے ۔سر گٹ بھی پیتا ہے ۔مسکوٹ میں کھاناکھاتا ہے نوکری پہرہ بھی معاف ہے گاؤں کے چھوٹے بڑے کام چھوڑ کر ملاقات کو آنےلگے ۔ہم نے پہلے دو دن میں کوئی ایک ہزار معانقے کیے ہونگے اور بس اتنی ہی ہمارے گاؤں کی مردانہ آبادی تھی ۔چھاتی دکھنے لگی لیکن دل کو ایک عجیب سکھ حاصل ہوا مہینے بھر میں صرف چند روز اپنے گھر کھانا کھایا اور وہ بھی والدہ کے اصرار پر کہ مجھے اپنے بیٹے کو جی بھر کر دیکھ لینے دو اور بہت دیر دیکھ چکیں تو وہ کچھ کہا جو صرف ماں ہی کہہ سکتی ہے '"بیٹا اب ساری فوج میں تم ہی بڑے افسر ہو نا ؟"
    میں والدہ کو دیکھتا اور سوچتا کہ اگر اس پیکر محبت کا وجود نہ ہوتا تو کیا مجھے وطن واپسی کا یہی اشتیاق ہوتا ؟ بغیر کسی جھجک کے جواب دیا " جی ہاں ایک آدھ کو چھوڑ کر سب میرے ماتحت ہیں ۔۔" اور ماں کی دنیا آباد ہو گئی ۔ویسے سچ یہ تھا کہ ایک آدھ نہیں بلکہ ایک لاکھ چھوڑ کر بھی ہمیں اپنے ماتحت ڈھونڈنے کے لیے چراغ بلکہ سرچ لائٹ کی ضرورت تھی لیکن وہ سچ کس کام کا جس سے ماں کا دل دکھے ؟ "
     
    ملک بلال, پاکستانی55, عائشہ اور مزید ایک رکن نے اسے پسند کیا ہے۔
  2. ۱۲۳بے نام
    آف لائن

    ۱۲۳بے نام ممبر

    شمولیت:
    ‏16 مئی 2018
    پیغامات:
    3,161
    موصول پسندیدگیاں:
    480
    ملک کا جھنڈا:
    ﻭﺍﻟﺪ ، ﺑﯿﭩﮯ ﮐﻮ ﭘﺘﻨﮓ ﺍﮌﺍﻧﮯ ﻟﮯ ﮔﺌﮯ .

    ﺑﯿﭩﺎ ﺑﺎﭖ ﮐﻮ ﻏﻮﺭ ﺳﮯ ﭘﺘﻨﮓ ﺍﮌﺍﺗﮯ ﺩﯾﮑﮫ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ...

    ﺗﮭﻮﮌﯼ ﺩﯾﺮ ﺑﻌﺪ ﺑﯿﭩﺎ ﺑﻮﻻ،

    ﭘﺎﭘﺎ .. ﯾﮧ ﺩﮬﺎﮔﮯ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﭘﺘﻨﮓ ﺍﻭﺭ ﺍﻭﭘﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﺎ ﭘﺎ ﺭﮨﯽ ﮨﮯ ، ﮐﯿﺎ ﮨﻢ ﺍﺳﮯ ﺗﻮﮌ ﺩﯾﮟ !!

    ﯾﮧ ﺍﻭﺭ ﺍﻭﭘﺮ ﭼﻠﯽ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﯽ ...

    ﻭﺍﻟﺪ ﻧﮯ ﺩﮬﺎﮔﮧ ﺗﻮﮌ ﺩﯾﺎ ..

    ﭘﺘﻨﮓ ﺗﮭﻮﮌﺍ ﺳﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﻭﭘﺮ ﮔﺌﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻟﮩﺮﺍ ﮐﺮ ﻧﯿﭽﮯ ﺁﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﺩﻭﺭ ﺍﻧﺠﺎﻥ ﺟﮕﮧ ﭘﺮ ﺟﺎ ﮐﺮ ﮔﺮ ﮔﺌﯽ ...

    ﺗﺐ ﺑﺎﭖ ﻧﮯ ﺑﯿﭩﮯ ﮐﻮ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﺎ ﻓﻠﺴﻔﮧ ﺳﻤﺠﮭﺎﯾﺎ. ،،،، ﺑﯿﭩﺎ ..

    ' ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻣﯿﮟ ﮨﻢ ﺟﺲ ﺍﻭﻧﭽﺎﺋﯽ ﭘﺮ ﮨﯿﮟ ..

    ﮨﻤﯿﮟ ﺍﮐﺜﺮ ﻟﮕﺘﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﮐﭽﮫ ﭼﯿﺰﯾﮟ ، ﺟﻦ ﺳﮯ ﮨﻢ ﺑﻨﺪﮬﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮨﯿﮟ ﻭﮦ ﮨﻤﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﻭﭘﺮ ﺟﺎﻧﮯ ﺳﮯ ﺭﻭﮎ ﺭﮨﯽ ﮨﯿﮟ ﺟﯿﺴﮯ :

    ﮔﮭﺮ ،

    ﺧﺎﻧﺪﺍﻥ ،

    ﻧﻈﻢ ﻭ ﺿﺒﻂ ،

    ﻭﺍﻟﺪﯾﻦ ﻭﻏﯿﺮﮦ

    ﺍﻭﺭ ﮨﻢ ﺍﻥ ﺳﮯ ﺁﺯﺍﺩ ﮨﻮﻧﺎ ﭼﺎﮨﺘﮯ ﮨﯿﮟ...

    ﺍﺻﻞ ﻣﯿﮟ ﯾﮩﯽ ﻭﮦ ﺩﮬﺎﮔﮯ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺟﻮ ﮨﻤﯿﮟ ﺍﺱ ﺍﻭﻧﭽﺎﺋﯽ ﭘﺮ ﺑﻨﺎ ﮐﮯ ﺭﮐﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ..

    ﺍﻥ ﺩﮬﺎﮔﻮﮞ ﮐﮯ ﺑﻐﯿﺮ ﮨﻢ ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺭ ﺗﻮ ﺍﻭﭘﺮ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﻟﯿﮑﻦ ﺑﻌﺪ ﻣﯿﮟ ﮨﻤﺎﺭﺍ ﻭﮨﯽ ﺣﺸﺮ ﮨﻮﮔﺎ ﺟﻮ ﺑﻦ ﺩﮬﺎﮔﮯ ﮐﯽ ﭘﺘﻨﮓ ﮐﺎ ﮨﻮﺍ... '

    " ﻟﮩﺬﺍ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻣﯿﮟ ﺍﮔﺮ ﺗﻢ ﺑﻠﻨﺪﯾﻮﮞ ﭘﺮ ﺑﻨﮯ ﺭﮨﻨﺎ ﭼﺎﮨﺘﮯ ﮨﻮ ﺗﻮ ، ﮐﺒﮭﯽ ﺑﮭﯽ ﺍﻥ ﺩﮬﺎﮔﻮﮞ ﺳﮯ ﺭﺷﺘﮧ ﻣﺖ ﺗﻮﮌﻧﺎ "..

    " ﺩﮬﺎﮔﮯ ﺍﻭﺭ ﭘﺘﻨﮓ ﺟﯿﺴﮯ ﺗﻌﻠﻖ ﮐﮯ ﮐﺎﻣﯿﺎﺏ ﺗﻮﺍﺯﻥ ﺳﮯ ﻣﻠﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﺍﻭﻧﭽﺎﺋﯽ ﮐﻮ ﮨﯽ ' ﮐﺎﻣﯿﺎﺏ ﺯﻧﺪﮔﯽ ' ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺑﯿﭩﺎ!"
     
  3. ۱۲۳بے نام
    آف لائن

    ۱۲۳بے نام ممبر

    شمولیت:
    ‏16 مئی 2018
    پیغامات:
    3,161
    موصول پسندیدگیاں:
    480
    ملک کا جھنڈا:
    لاہور میں چوبرجی کے قریب ریوازگارڈن میں ایک مشہور ہئیرڈریسر ہوا کرتا تھا جس کا ریٹ عام دکانداروں سے زیادہ ہوتا تھا۔ بچپن میں عید، شادی یا کسی بھی اہم موقع پر دوستوں کو ساتھ لے کر میں اسی سیلون سے کٹنگ کروانے جایا کرتا تھا۔ سیلون کے مالک کے بعد جو سب سے زیادہ تجربہ کار اور ماہر کاریگر تھا، اس سے کٹنگ کروانا تقریباً ناممکن تھا کیونکہ وہ صرف پکے گاہکوں کی کٹنگ ہی کرتا تھا جو بعد میں اسے ٹِپ وغیرہ بھی دے دیا کرتے تھے۔ کچھ عرصہ قبل میں دوبارہ یہاں کٹنگ کروانے آیا تو وہ ماہر شخص اب بوڑھا ہوچکا تھا اور اب وہ صرف شیو وغیرہ ہی کیا کرتا، ماڈرن کٹنگ کیلئے گاہک دوسرے کاریگروں کے پاس جانے کو ترجیح دیتے۔

    میں نے یہ دیکھا تو مجھے بڑا افسوس ہوا۔ میں نے اس سے پوچھا کہ تمہیں اپنی جوانی میں اتنے مواقع ملے، ساتھ والے سیلون نے تمہیں کئی مرتبہ آفرز کیں لیکن تم یہیں پڑے رہے، ترقی نہ کرسکے ۔ ۔ ۔ ۔اس نے جواب دیا کہ میں نے کام یہیں سے سیکھا تھا، یہیں سے رزق کمایا، میرا کہیں اور دل لگ ہی نہیں سکتا تھا۔

    ہمارے پرانے محلے میں بیکری کی ایک دکان ہوا کرتی تھی جہاں سے بسکٹ، پیسٹری، کریم رول سے لے کر کیک، پیٹز تک، سب کچھ مل جایا کرتا۔ واحد دکان ہونے کی وجہ سے اس کی خوب بکری ہوتی۔ دکان کا مالک اور ایک کاریگر مل کر یہ دکان چلایا کرتے اور کبھی کبھار مالک کا چھوٹا بھائی بھی کچھ وقت دکان میں لگا دیا کرتا۔ پھر فرنچائز کا دور آیا اور اس دکان کے ساتھ گورمے بیکرز کی ایک بڑی فرنچائز کھل گئی جس کی وجہ سے پرانی بیکری کا کام تقریباً ٹھپ ہو کر رہ گیا۔ مالک اب بوڑھا ہوچکا تھا جس کی وجہ سے کام کا سارا بوجھ اس کے ملازم پر آگیا تھا۔ ملازم اب ایک ماہر شیف اور سیلز مین بن چکا تھا۔ ایک دن گورمے بیکرز کے مینیجر نے اس ملازم سے رابطہ کیا اور دگنی تنخواہ پر اسے اپنی بیکری پر کام کرنے کی آفر کی۔

    ملازم نے شکریہ کے ساتھ وہ آفر ٹھکرا دی۔ جب لوگوں کو پتہ چلا تو انہوں نے اس سے اس بیوقوفی کی وجہ دریافت کی تو ملازم نے جواب دیا:

    جب میں گاؤں سے آیا تھا تو اس وقت کبھی کیک رس کی شکل تک نہ دیکھی تھی، مجھے سارا کام اس دکان کے مالک نے سکھایا، آج جب اسے میری ضرورت ہے تو میں صرف زیادہ پیسوں کی خاطر اسے چھوڑ کر کیسے چلا جاؤں؟

    شادمان مارکیٹ میں ایک مردانہ کپڑوں کی دکان ہوا کرتی تھی جو آج سے تقریباً 40 برس قبل کھلی اور اس میں مالک اور ایک اس کا ہم عمر ملازم ہوا کرتا تھا۔ دکان نے ترقی کی اور پھر مالک کے بیٹے جوان ہوئے تو انہوں نے کام سنبھال لیا۔ بیٹوں نے دکان کو اپنی مرضی سے چلانے کی کوشش کی اور تمام سیلز سٹاف سے کہا کہ وہ پینٹ شرٹ پہن کر آیا کریں۔ مالک کا ہم عمر سیل مین اب بوڑھا ہوچکا تھا، اس نے پینٹ شرٹ پہننے سے انکار کردیا۔ بیٹے کو غصہ آیا تو اس نے اسے نوکری سے نکالنے کا فیصلہ کیا۔ جب مالک کو خبر ہوئی تو وہ دکان پر آیا اور اپنے بیٹے سے کہا کہ یہ بوڑھا سیل مین وہ ہے جس نے اس کاروبار کو کھڑا کرنے میں میرا ساتھ دیا۔ اس لئے یہ اس دکان سے نہیں نکلے گا، البتہ تمہیں اپنے شوق پورے کرنے کیلئے میں اسی مارکیٹ میں ایک اور دکان کھول کر دینے کو تیار ہوں۔ پھر اس کے بیٹے نے اسی مارکیٹ میں اپنی دکان علیحدہ سے شروع کرلی لیکن پرانی دکان وہیں قائم رہی اور وہ بوڑھا سیل مین اس دکان کو شلوار قمیض پہنے چلاتا رہا۔

    گوالمنڈی میں کالا قصائی نامی بیف کا گوشت بیچنے والا بہت مشہور ہوا کرتا تھا۔ ایک دفعہ میرے سامنے ایک لنگڑا کتا اس کی دکان کے پاس آگیا تو کالے قصائی نے چھوٹی سے بوٹی کاٹ کر اس کتے کو ڈال دی۔ پھر اس کے بعد اس کتے نے مستقل اس کے پھٹے کے نیچے اپنا ڈیرہ ڈال دیا۔ منگل کو جب گوشت کا ناغہ بھی ہوتا تو کالا قصائی اس دن اپنی دکان پر صرف اس کتے کو کھانا دینے آجاتا۔ ایک دن کالے قصائی کو کسی ایمرجینسی کی وجہ سے اپنی دکان کھلی چھوڑ کر جانا پڑ گیا۔ اس کی دکان پر گوشت بھی لٹکا ہوا تھا اور وہ گلا بھی رکھا تھا جس میں پیسے موجود تھے۔ اس دن پورے دو گھنٹے تک وہ لنگڑا کتا اس کے دکان کے باہر پہرا دیتا رہا اور جو کوئی بھی دکان کے اندر جانے لگتا، وہ بھونک بھونک کر اسے واپس جانے پر مجبور کردیتا۔ کالا قصائی جب واپس آیا اور ساتھ والے دکانداروں نے اسے یہ سارا واقعہ سنایا تو وہ رو پڑا۔

    نوازشریف نے ڈان اخبار کے صحافی سرل المائدہ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ انڈیا میں دہشتگردی دراصل پاکستان کرواتا ہے اور چند سال قبل ہونے والے دہشتگردی کے واقعہ میں ڈیڑھ سو ہلاکتوں کی ذمے دار پاکستانی فوج ہے۔

    ہئیرسیلون پر کام کرنے والا وہ بوڑھا نائی ہو یا اس چھوٹی سی بیکری پر کام کرنے والا گاؤں کا ملازم، کپڑے کی دکان کا وہ پرانے زمانے کا سیل مین ہو یا کالے قصائی کا لنگڑا کتا ۔ ۔ ۔ ان سب میں ایک چیز مشترک ہے اور وہ ہے وفاداری۔ انہیں جہاں سے رزق ملا، انہوں نے اس جگہ کے ساتھ مکمل وفاداری نبھائی۔

    نوازشریف، تم انسان تو کیا، اس لنگڑے کتے کا بھی مقابلہ نہیں کرسکتے۔ تمہیں اس ملک نے دو مرتبہ وزیراعلی بنایا، تین مرتبہ وزیراعظم کا عہدہ دلایا اور تمہاری اپنی کرپشن کی وجہ سے جب تمہیں عہدے سے برطرف کیا گیا تو تم اس ملک کے تمام احسانات بھلا کر دشمن کے ساتھ مل گئے۔

    تم سے تو وہ لنگڑا کتا اچھا ہے جو کم از کم اپنے مالک کی غیرموجودگی میں اس کی دکان کی حفاظت تو کرتا رہا، تم تو اس ملک پر ہی وار کربیٹھے جس نے تمہیں تین مرتبہ وزارت عظمی کی کرسی دی۔
     
  4. ۱۲۳بے نام
    آف لائن

    ۱۲۳بے نام ممبر

    شمولیت:
    ‏16 مئی 2018
    پیغامات:
    3,161
    موصول پسندیدگیاں:
    480
    ملک کا جھنڈا:
    ایک بزرگ سے ملاقات ہوئی تو گزارش کی کہ "کوئی نصیحت کیجئے"

    انہوں نے عجیب سا سوال کیا کہ "کبھی برتن دھوئے ھیں؟"

    میں ان کے سوال پہ حیرانگی دکھائی اور جواب دیا " جی دھوئے ھیں"

    بزرگ نے پوچھا "تو کیا سیکھا؟"

    میں نے پوچھا "اس میں کیا سیکھنا تھا؟"

    بزرگ مسکرائے اور کہنے لگے"برتن کو باہر سے کم اور اندر سے زیادہ دھونا پڑتا ہے"

    اسی طرح ہمیں بھی اپنے ظاھر سے زیادہ اپنے باطن کو سنوارنا چاہئے۔اپنے دل کو بہترین بنانا چاہئے۔
     
  5. ۱۲۳بے نام
    آف لائن

    ۱۲۳بے نام ممبر

    شمولیت:
    ‏16 مئی 2018
    پیغامات:
    3,161
    موصول پسندیدگیاں:
    480
    ملک کا جھنڈا:
    مولانا صاحب جمعہ کے خطبہ میں جزباتی تقریر کررہے تھے۔''میری زندگی کے سب سے سہانے شب وروز جس عورت کے بازوؤں میں گزرے وہ عورت میری بیوی نہیں تھی۔''

    حاضرین کو سانپ سونگھ گیا کہ مولانا کیا کہہ رہے ہیں؟؟ مولانا نے تجسس ختم کرتے ہوئے کہا،''گھبرائیے نہیں،وہ عورت میری ماں تھی۔''

    ۔۔۔ایک صاحب کو یہ بات بہت پرلطف لگی،سوچا کیوں نا گھرجاکر اپنی بیوی کوبھی اس لطف میں شامل کرلے۔سیدھا کچن میں گیا،جہاں اس کی بیوی انڈے فرائی کر رہی تھی۔۔۔۔ صاحب نے کہا،''تم جانتی ہو میری زندگی کےسب سےسہانےشب وروزجس عورت کی بازوؤں میں گزرے وہ کم ازکم تم نہیں تھی''۔۔۔۔۔ چار دن کے بعدجب ان صاحب کے منہ سے پٹیاں اتاری گئی اور تیل کی جلن کچھ کم ہوئی تو بولے،

    توں چنگی نئیں کیتی مولوی ......
     
  6. ۱۲۳بے نام
    آف لائن

    ۱۲۳بے نام ممبر

    شمولیت:
    ‏16 مئی 2018
    پیغامات:
    3,161
    موصول پسندیدگیاں:
    480
    ملک کا جھنڈا:
    فرعون اور فرعونیت*

    میں نے ایک دانشور سے پوچھا:

    "خواجہ صاحب پورا عالم اسلام زوال کاکیوں شکار ہے؟ هم دنیا کے ہر کونے، ہر خطے میں مار کیوں کھا رہے ہیں‘‘-

    خواجہ صاحب مسکرائے
    اور ذرا سے توقف سے بولے:

    *"فرعونیت کی وجہ سے"*

    میں خاموشی سے ان کی طرف دیکھتا رہا،

    انہوں نے فرمایا

    فرعون کے بے شمار معانی ہیں ،

    ان معنوں میں ایک مطلب بڑے گھر والا بھی ہوتا ہے-

    فرعون نے خدائی کا دعویٰ کیا تھا ،

    اس کی اس جسارت کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اسے ناپسند فرمایا-

    جب اللہ تعالیٰ کسی کو ناپسند فرماتے ہیں تو وہ اس شخص کی ہر ادا ، ہر عادت کو خرابی بنا دیتے ہیں، اور آنے والے زمانوں میں جو بھی شخص اللہ کے اس مشرک کی پیروی کرتا ہے ، جو بھی اس کی عادات اپناتا ہے اللہ اسے بھی اس زوال ، اس انجام کا شکار بنا دیتا ہے‘‘-

    میں خاموشی سے ان کی طرف دیکھتا رہا،

    انہوں نے فرمایا:

    "فراعین مصر کو بلند و بالا اور وسیع و عریض عمارتیں بنانے کا شوق تھا، ان کا خیال تھا محلات، دربار، قلعے اور دروازے طاقت اور اختیار کی علامت ہوتے ہیں ، اگر انہوں نے خود کو خدا ثابت کرنا ہے تو انہیں پہاڑوں سے بلند عمارتیں بنانی چاہیں، چنانچہ وہ اس خبط میں مبتلا ہو گئے‘‘-

    وہ ذرا دیر کیلئے رکے

    مسکرا کر میری طرف دیکھا

    اور اس کے بعد بولے

    ’’یہاں تک کہ انہوں نے اپنے لئے دنیا کی سب سے بڑی قبریں تیار کیں، آپ اہرام مصر دیکھیں، یہ کیا ہیں یہ وسیع و عریض قبریں ہیں-

    سائنس آج تک حیران ہے یہ لوگ اتنے بڑے بڑے پتھر کہاں سے لائے، انہوں نے یہ پتھر ایک دوسرے کے ساتھ کیسے جوڑے اوران لوگوں نے کرینوں کے بغیر یہ پتھر ایک دوسرے کے ا وپر کیسے رکھے، یہ مقبرے دراصل ان کی سوچ اور فکر کے آئینہ دار ہیں ، یہ ثابت کرتے ہیں فرعون حقیقتاً بڑے گھروں والے لوگ تھے اور وہ اپنے بڑے بڑے گھروں ، قلعوں اور قبروں سے خود کو خدا ثابت کرنا چاہتے تھے‘‘۔

    خواجہ صاحب مکمل طور پر خاموش ہو گئے۔

    میں نے عرض کیا:

    لیکن فرعون کے گھروں کا ہمارے زوال کے ساتھ کیا تعلق‘‘

    وہ مسکرائے

    بڑاگہر ا تعلق ہے-

    فرعون اللہ کا دشمن تھا اوراللہ اپنے دشمن کی عادتوں کو پسند نہیں کرتا چنانچہ دنیا کے تمام بڑے گھروں والے لوگ جلد یا بدیر فرعون جیسے انجام کا شکار ہوتے ہیں- وہ ، ان کی خدائی اور ان کے بڑے بڑے گھر زوال کا شکار ہو جاتے ہیں‘‘-

    میں خاموشی سے سنتا رہا ،

    پھر وہ بولے:

    "تم دنیا میں ترقی اور پستی پانے والے لوگوں ، معاشروں ، قوموں اور ملکوں کا جائزہ لو تو تمہیں چھوٹے گھروں،چھوٹے دفتروں اورچھوٹی گاڑیوں والے لوگ، ملک اورمعاشرے ترقی پاتے نظر آئیں گے.

    جبکہ ہر وہ ملک جس کے بادشاہ، حکمران، وزیر، مشیر ، بیوروکریٹس اور تاجر بڑے گھروں، بڑے دفتروں میں رہتے ہیں وہ ملک وہ معاشرہ زوال پذیر ہوگا‘‘-

    میں خاموشی سے سنتا رہا،

    انہوں نے فرمایا:

    "پورا عالم اسلام بڑے گھروں کے خبط میں مبتلا ہے، اس وقت دنیا کا سب سے بڑا محل برونائی کے سلطان کے پاس ہے ، عرب میں سینکڑوں ہزاروں محلات ہیں اور ان محلات میں سونے اورچاندی کی دیواریں ہیں، اسلامی دنیا اس وقت قیمتی اور مہنگی گاڑیوں کی سب سے بڑی مارکیٹ ہے‘‘-

    وہ خاموش ہوئے،

    ذرا دیر سوچا

    اور پھر بولے:

    "تم پاکستان کو دیکھو،

    تم ایوان صدر، وزیراعظم ہاؤس، گورنر ہاؤسز، کور کمانڈر ہاؤسز، آئی جی ، ڈی آئی جی ہاؤسز، ڈی سی اوز ہاؤس اور سرکاری گیسٹ ہاؤسز کو دیکھو،

    یہ سب کیا ہیں؟

    یہ سب بڑے گھر ہیں،

    پاکستان کے ایک ضلع میں18ویں گریڈ کے ایک سرکاری عہدیدار کا گھر 106کنال پر مشتمل ہے،

    اسلام آباد کے وزیراعظم ہاؤس کا رقبہ قائد اعظم یونیورسٹی کے مجموعی رقبے سے چار گنا ہے،

    لاہور کا گورنر ہاؤس پنجاب یونیورسٹی سے بڑا ہے،

    اور ایوان صدر کا سالانہ خرچ پاکستان کی تمام یونیورسٹیوں کے مجموعی بجٹ سے زیادہ ہے"

    میں خاموشی سے سنتا رہا.

    پھر بولے:

    "تم لوگ اپنے حکمرانوں کے دفتر دیکھو،

    ان کی شان و شوکت دیکھو،

    ان کے اخراجات اور عملہ دیکھو،

    کیا یہ سب فرعونیت نہیں؟

    کیا اس سارے تام جھام کے بعد بھی اللہ تعالیٰ ہم سے راضی رہے گا"؟؟


    جبکہ اس کے برعکس تم دنیا کی ترقی یافتہ قوموں کا لائف سٹائل دیکھو ،

    بل گیٹس دنیا کا امیر ترین شخص ہے،

    دنیا میں صرف 18 ممالک ایسے ہیں جو دولت میں بل گیٹس سے امیر ہیں، باقی 192 ممالک اس سے کہیں غریب ہیں، لیکن یہ شخص اپنی گاڑی خود ڈرائیو کرتا ہے، وہ اپنے برتن خود دھوتا ہے ، وہ سال میں ایک دو مرتبہ ٹائی لگاتا ہے، اور اس کا دفتر مائیکروسافٹ کے کلرکوں سے بڑا نہیں.

    وارن بفٹ دنیا کا دوسرا امیر ترین شخص ہے. اس کے پاس 50 برس پرانا اورچھوٹا گھر ہے، اس کے پاس 1980ء کی گاڑی ہے، اور وہ روز کوکا کولا کے ڈبے سٹورز پر سپلائی کرتا ہے.

    برطانیہ کے وزیراعظم کے پاس دو بیڈروم کا گھر ہے.

    جرمنی کی چانسلر کو سرکاری طور پر ایک بیڈ روم اور ایک چھوٹا سا ڈرائنگ روم ملا ہے.

    اسرائیل کا وزیراعظم دنیا کے سب سے چھوٹے گھر میں رہ رہا ہے، کبھی کبھار اس کی بجلی تک کٹ جاتی ہے.


    بل کلنٹن کو لیونسکی کیس کے دوران کورٹ فیس ادا کرنے کے لئے دوستوں سے ادھار لینا پڑا تھا.

    وائیٹ ہاؤس کے صرف دو کمرے صدر کے استعمال میں ہیں، اوول آفس میں صرف چند کرسیوں کی گنجائش ہے.

    جاپان کے وزیراعظم کو شام چاربجے کے بعد سرکاری گاڑی کی سہولت حاصل نہیں.

    چنانچہ تم دیکھ لو چھوٹے گھروں والے یہ لوگ ہم جیسے بڑے گھروں والے لوگوں پر حکمرانی کررہے ہیں....

    یہ ممالک آگے بڑھ رہے ہیں اور ہم دن رات پیچھے جا رہے ہیں"

    یه سب کچھ بول کر وہ خاموش ہو گئے۔

    میں نے عرض کیا:

    "گویا آپ کا فرمانا ہے ہم ترقی نہیں کر سکتے"

    انہوں نے غور سے میری طرف دیکھا ور مسکرا کر بولے:

    "ہاں.... جب تک ہم فرعون کے دربار سے نکل کر موسیٰؑ کے خاک ساروں میں شامل نہیں ہوتے.

    جب تک ہم بڑے گھروں سے نقل مکانی کر کے چھوٹے گھروں میں نہیں آتے، اور جب تک ہم قلعوں،ایوانوں اور محلوں سے نکل کر مکانوں،گھروں اور فلیٹوں میں شامل نہیں ہوتے، ہم اس وقت تک ترقی نہیں کریں گے، ہم اس وقت تک بڑی قوم نہیں بنیں گے"

    انہوں نے کچھ سوچا اور مسکرا کر بولے:

    *"اللہ نے جو قانون اپنے نبیوں کیلئے نہیں بدلہ تھا،* *وہ یہ قاعدہ ہمارے لئے کیوں تبدیل کرے گا"*
     
  7. ۱۲۳بے نام
    آف لائن

    ۱۲۳بے نام ممبر

    شمولیت:
    ‏16 مئی 2018
    پیغامات:
    3,161
    موصول پسندیدگیاں:
    480
    ملک کا جھنڈا:
    آج کل اکثر دوست اٹلی کے نو منتخب وزیر اعظم کی ٹیکسی پر آمد کی وڈیو دہڑا دہڑ شئیر کر رہے ہیں۔۔۔

    مجھے KPK دیر کی مسجد کے کونے میں بیٹھے اس درویش کی یاد آ رہی ہے جسے میں نے اپنی سیاسی زندگی کا کوئی لطیف واقع جاننے کی فرمائش کی تو وہ یوں گویا ہوئے۔۔۔

    سردیوں کے دن تھے۔ 2003 اور ق لیگ کی حکومت تھی۔ لاہور کے گورنر ہاوس میں چاروں صوبوں کے وزرائے خزانہ کی میٹنگ تھی۔ میں وقت مقررہ پر وہاں پہنچا اور رکشے والے سے گورنر ہاوس کے داخلی دروازے کے سامنے اتارنے کو کہا۔ رکشے والا بولا صاحب دروازے کے سامنے رکشہ روکنے کی اجازت نہیں۔ میں نے اسرار کیا کہ مجھے اسی دروازے سے اندر داخل ہونا ہے تم یہیں اتار دو۔ رکشے والے نے دائیں بائیں دیکھا کسی ٹریفک پولیس والے کو قریب نہ پا کر رکشہ روکتے ہوئے فورا اترنے کو کہا۔ میں کرایہ دے کر اپنی گرم چادر کاندھے پر درست کرتے ہوئے دروازے کی جانب بڑھا۔ گارڈ کو سلام کیا اور اندر جانے کی اجازت چاہی تو اس نے کہا خاں صاحب آپ ایسے اندر نہیں جا سکتے۔ میں نے اسے بتایا کہ میں kpk سے آیا ہوں اندر میٹنگ میں بلایا گیا ہوں۔ اس پر بھی گارڈ کا دل نرم نہ ہوا اور کہا بھئی کس سے ملنا ہے اور کیوں ملنا ہے۔ میں معاملہ سمجھ گیا اور اپنا موبائل فون نکال کر اپنے میزبان چوہدری صاحب کو فون کیا۔ کچھ ہی منٹوں میں وہ لاو لشکر کے ساتھ ہنستے ہوئے خود گیٹ پر تشریف لائے اور با آواز بلند سلام کرتے ہوئے گلے ملے اور کہنے لگے سراج صاحب آپ بھی کمال کرتے ہیں۔آپ KPK کے وزیر خزانہ ہیں اور رکشے پر چلے آئے۔ کوئی سرکاری یا اپنی جماعت کی گاڑی ہی لے آتے۔ میں نے مسکراتے ہوئے جواب دیا جماعت کا پروگرام تھا کل سے منصورہ آیا ہوا تھا اس لئے سرکاری گاڑی ساتھ نہیں تھی اور آج سرکاری کام تھا اس لئے جماعت کی گاڑی پر نہیں آیا۔ غریب لوگوں کا وزیر خزانہ ہوں اس لئے رکشہ پر چلا آیا۔۔۔

    آج اس وڈیو کے شئیر کئے جانے پر میں سوچ رہا ہوں کہ ہماری قوم ایسی وڈیوز شئیر تو کرتی ہے پر ایسے لوگوں کو ووٹ کیوں نہیں دیتی۔۔۔؟ شاید ہم منافق قوم تو نہیں تعریف ٹیکسی پر آنے والے غیر ملکی وزیر کی کرتے ہیں اور اپنے ملک میں ووٹ پراڈو کی لمبی لمبی قطار والوں کو ڈالتے ہیں۔۔۔
     
  8. ۱۲۳بے نام
    آف لائن

    ۱۲۳بے نام ممبر

    شمولیت:
    ‏16 مئی 2018
    پیغامات:
    3,161
    موصول پسندیدگیاں:
    480
    ملک کا جھنڈا:
    کیا آپکو معلوم ہے کہ ..

    "باپ" سانسیں لیتے ہوئے بھی مر جاتے ہیں ، جیسے جیسے اولاد کا اختیار بڑھتا اور والد کا اختیار گھٹتا جاتا ہے ویسے ویسے ہی " باپ " مرنا شروع ہوجاتا ہے .

    جب بچہ طاقتور جوان ہونے لگتا ہے تو باپ کا ہاتھ بعض اوقات اس خوف سے بھی اٹھنے سے رک جاتا ہے کہ کہیں بیٹے نے بھی پلٹ کر جواب دے دیا تو اس قیامت کو میں کیسے سہوں گا ؟ جب بچے اپنے فیصلے خود لینے لگیں اور فیصلے لینے کے بعد باپ کو آگاہ کر کے " حجت " پوری کی جانے لگے تو "بوڑھا شخص" تو زندہ رہتا ہے پر اسکے اندر کا " باپ " مرنا شروع ہوجاتا ہے .

    باپ اس وقت تک زندہ ہے جب تک اس اولاد پر اسکا حق قائم ہے ۔ جس اولاد سے اس نے اتنی محبت کی کہ اپنے دل پر پتھر رکھ کر اسے تھپڑ بھی مارا ، اولاد کے آنسو بھلے کلیجہ چیر رہے ہوں پر پھر بھی اسلئے ڈانٹا کہ کہیں نا سمجھ اولاد خود کو بڑی تکلیف میں مبتلا نہ کر بیٹھے .

    ماں کی محبت تو یہ ہے کہ پیاس لگی (پیار آیا) تو پانی پی لیا پر باپ کی محبت یہ ہے کہ پیاس لگی تو خود کو اور اتنا زیادہ تھکایا کہ پیاس لگتے لگتے اپنی موت آپ مر گئی .

    باپ کی محبت اولاد سے ماسوائے اسکے اور کچھ نہیں مانگتی کہ " باپ " کو زندہ رکھا جاۓ، پھر چاہے وہ چارپائی پر پڑا کوئی بہت ہی بیمار اور کمزور انسان ہی کیوں نہ ہو، اگر اسکے اندر کا " باپ " زندہ ہے تو یقین جانیئے اسے زندگی میں اور کسی شے کی خواہش اور ضرورت نہیں ہے، اگر آپ کے والد صاحب سلامت ہیں تو خدارا انکے اندر کا " باپ " زندہ رکھئیے،

    یہ اس "بوڑھے شخص" کا آپ پر حق اور آپ پر قرض ہے ۔ جسے آپ نے فرض سمجھ کر ادا کرنا ہے ۔
     
    عائشہ نے اسے پسند کیا ہے۔
  9. عائشہ
    آف لائن

    عائشہ ممبر

    شمولیت:
    ‏25 مارچ 2018
    پیغامات:
    226
    موصول پسندیدگیاں:
    136
    ملک کا جھنڈا:
    لوگوں کے لئے وہ باہر بہتی بارش کا پانی تھا جس نے میرے گال بھگودیئے تھے۔ اچھا ہی ہے کہ قدرت نے بارش کے پانی یا آنسوؤں میں سے کسی ایک کا رنگ جدا تخلیق نہیں کیا تھا ورنہ شاید میرے لئے جواب دینا مشکل ہوجاتا۔ کاش سبھی رونے والوں کے سروں پر کوئی بادل آکر برس جایا کرتا تو ہم میں سے بہتوں کا بھرم باقی رہ جاتا۔
    (ہاشم ندیم کے ناول ’’ایک محبت اور سہی‘‘ سے اقتباس)
     
    غوری اور ۱۲۳بے نام .نے اسے پسند کیا ہے۔
  10. ۱۲۳بے نام
    آف لائن

    ۱۲۳بے نام ممبر

    شمولیت:
    ‏16 مئی 2018
    پیغامات:
    3,161
    موصول پسندیدگیاں:
    480
    ملک کا جھنڈا:
    اقبال کی برکتیں

    “ارے میاں ضربِ کلیم ! بھئ کہاں ہو ضربِ کلیم“
    “میاں ضربِ کلیم - ابھی تک زبورِ عجم کو اسکول لے کر نہیں گئے۔ جاؤ اور ذرا پیامِ مشرق کو میرے پاس بھیج دو۔“

    “مولوی صاحب یہ کیا؟“ میں نے حیرت زدگی کے عالم میں پوچھا، “یہ ضربِ کلیم، یہ زبورِ عجم - - - - “

    “ہاں میاں، مولوی عبدالصمد خان نے فخر سے اپنی گنجی چندیا کھجاتے ہوئے کہا “مجھے اقبال سے بڑی عقیدت ہے، وہ میرے محسن ہیں، وہ میرے رزاق ہیں، انہوں نے میرا گھر بھر دیا، میں ان کا معتقد ہوں۔ میں نے اظہارِ عقیدت کے طور پر اپنے سب بچوں کے نام ان کی تصانیف پر رکھ دیے ہیں۔“

    “ضربِ کلیم چھٹی کلاس میں پڑھتا ہے، بی بی زبورِ عجم دوسری جماعت کی طالبہ ہے، پیامِ مشرق گھڑی سازی کی دکان پر کام سیکھ رہا ہے اور کلامِ جبریل قرآن پاک حفظ کر رہا ہے۔ اور میری بڑی بیٹی اسرارِ خودی کالج کی طالبہ ہے اور میں نے اپنی بیوی کا نام بھی غفورن بی بی چھوڑ کر بانگِ درا رکھ چھوڑا ہے۔“

    اتنے میں اندر سے دستک ہوئی۔ “ذرا سُنیے مولوی صاحب “

    مولوی صاحب دروازے کی طرف لپکے، “ہاں پھوپھی فاطمہ، کوئی خوشخبری ہے کیا؟“

    “ہاں مولوی صاحب! مبارک ہو، خدا نے آپکو جڑواں بچے دیئے ہیں اور دونوں ہی لڑکے ہیں۔“

    مولوی صاحب آ کر بیٹھ گئے۔ خوشی سے ان کا چہرہ تمتما رہا تھا۔

    “خدا نے دو بچے ایک دم عطا کیے ہیں میاں۔“

    “مبارک باد قبول کریں مولوی صاحب!“

    “ہاں میاں! خدا کا احسان ہے۔ اچھا میاں! خدا تمہاری خیر کرے، ان کے نام تو بتاؤ۔ اقبال کی کتابوں کے نام تو قریب قریب ختم ہو گئے۔ تاہم دماغ لڑاؤ اور کوئی اچھے سے دو نام سوچو۔“

    “سوچ لیئے، مولوی صاحب! سوچ لیئے۔“

    “ہاں ہاں بتاؤ۔“

    “شکوہ اور جوابِ شکوہ“

    (ڈاکٹر صفدر محمود کی کتاب “سدا بہار“ سے اقتباس)
     
  11. ۱۲۳بے نام
    آف لائن

    ۱۲۳بے نام ممبر

    شمولیت:
    ‏16 مئی 2018
    پیغامات:
    3,161
    موصول پسندیدگیاں:
    480
    ملک کا جھنڈا:
    حمد

    سبحان اللہ ! کیا صنائع ہے کہ جس نے ایک مٹھی خاک سے کیا کیا صورتیں پیدا کیں۔ باوجود دو رنگ کے ایک گورا، ایک کالا اور یہی ہاتھ پاؤں سب کو دیئے، جس پر رنگ برنگ کی شکلیں جدا جدا بنائیں کہ ایک کی سج دھج سے دوسرے کا ڈیل ڈول ملتا نہیں، کروڑوں خلقت میں جس کو چاہیے پہچان لیجیئے۔ آسمان اس کے دریائے وحدت کا ایک بلبلا ہے اور زمین پانی کا بتاشا، لیکن یہ تماشا ہے کہ سمندر ہزاروں لہریں مارتا ہے اس پر اس کا بال بیکا نہیں کر سکتا۔ جس کو یہ قدرت اور سکت ہو، اس کی حمد و ثنا میں زبان ‘انسان کی گویا گونگی ہے‘ کہے تو کیا کہے۔
    (میر امن دہلوی کی داستان “باغ و بہار“ سے ایک اقتباس)
     
  12. ۱۲۳بے نام
    آف لائن

    ۱۲۳بے نام ممبر

    شمولیت:
    ‏16 مئی 2018
    پیغامات:
    3,161
    موصول پسندیدگیاں:
    480
    ملک کا جھنڈا:
    سدا سہاگن سڑکوں پر وہ فیشن پریڈ دیکھی جائے، جس میں ہر سال آسودہ حال گھرانوں کی ناآسودہ بہو بیٹیاں دھن اور تن کی بازی لگا دیتی ہیں۔ انہی سڑکوں پر کالی کوفی اور آلو کی ہوائیوں پر گزارہ کرنے والے ادیب بیگماتی زبان میں ایک دوسرے کو خونیں انقلاب لانے پر اُکساتے ہیں۔ انہی سڑکوں پر اپنے گلدان میں برگد اُگانے والے انٹلکچول کسی خوبصورت لڑکی کو شرفِ زوجیت بخشنے کی گھات میں لگے رہتے ہیں۔ ادھر خوبصورت لڑکی چراغِ رخِ زیبا لیئے اس تلاش میں سرگرداں کہ جلد از جلد کسی بوڑھے لکھ پتی کی بیوہ بن جائے۔ یہ سوئنمبر، یہ سہاگ رُت ہر ہل سٹیشن پر ہر سال منائی جاتی ہے۔ اور اس سے پہلے کہ سبزہ نورستہ برف کا کفن پہن کر سو جائے، چناروں کی آگ سرد اور قہوہ خانے ویراں ہو جائیں، مویشی میدانوں میں اترنے لگیں اور سڑکوں پر کوئی ذی روح نظر نہ آئے بجز ٹورسٹ کے، اس سے پہلے کہ موسمِ گل بیت جائے، بہت سے ہاتھوں کی تیسری انگلی میں انگوٹھیاں جگمگانے لگتی ہیں۔
    (مشتاق احمد یوسفی کی ہل سٹیشن سے اقتباس)
     
  13. ۱۲۳بے نام
    آف لائن

    ۱۲۳بے نام ممبر

    شمولیت:
    ‏16 مئی 2018
    پیغامات:
    3,161
    موصول پسندیدگیاں:
    480
    ملک کا جھنڈا:
    اشفاق احمد کہتے ہیں :

    ایک دفعہ ایک سوال نے مجھے بہت ڈسٹرب کیا۔ میں نے اپنے ملنے والوں سے اکثر اسے پوچھا لیکن میرا دل مطمئن نہ ہوا۔ سوال تھا “ مسلمان اور مومن میں کیا فرق ہے؟“

    ایسے میں، میں ایک دن ایک گاؤں سے گزرا کہ میں نے ایک بزرگ کو دیکھا جو گنے کا رس نکال رہے تھے۔ میرے دل میں جانے کیا خیال آیا، میں نے ان بابا جی سے وہ سوال پوچھا، “ بابا جی کیا آپ مجھے بتا سکتے ہیں کہ مسلمان اور مومن میں کیا فرق ہے؟“

    بابا جی نے اپنا سر اٹھایا اور کہا “مسلمان وہ ہے جو خدا کو مانتا ہے اور مومن وہ ہے جو خدا کی مانتا ہے۔“
     
  14. ۱۲۳بے نام
    آف لائن

    ۱۲۳بے نام ممبر

    شمولیت:
    ‏16 مئی 2018
    پیغامات:
    3,161
    موصول پسندیدگیاں:
    480
    ملک کا جھنڈا:
    ماں

    ابا جی مجھے مارتے تھے تو امی بچا لیتی تھیں۔ ایک دن میں نے سوچا کہ اگر امی پٹائی کریں گی تو ابا جی کیا کریں گے اور یہ دیکھنے کے لیئے کہ کیا ہوتا ہے میں نے امی کا کہا نہ مانا۔ انہوں نے کہا بازار سے دہی لا دو، میں نہ لایا، انہوں نے سالن کم دیا، میں نے زیادہ پر اصرار کیا، انہوں نے کہا پیڑھی پر بیٹھ کر روٹی کھاؤ، میں نے زمین پر دری بچائی اور اس پر بیٹھ گیا، کپڑے میلے کر لیئے، میرا لہجہ بھی گستاخانہ تھا۔ مجھے پوری توقع تھی کہ امی ضرور ماریں گی مگر انہوں نے کیا یہ کہ مجھے سینے سے لگا کر کہا “ کیوں دلور (دلاور) پتر! میں صدقے، بیمار تو نہیں ہے تُو؟“

    اس وقت میرے آنسو تھے کہ رکتے ہی نہیں تھے۔

    (مرزا ادیب کی کتاب “مٹی کا دیا“ سے اقتباس)
     
  15. ۱۲۳بے نام
    آف لائن

    ۱۲۳بے نام ممبر

    شمولیت:
    ‏16 مئی 2018
    پیغامات:
    3,161
    موصول پسندیدگیاں:
    480
    ملک کا جھنڈا:
    نیند کیوں رات بھر نہیں آتی

    نیند تو صحت کے لیئے نہائیت ضروری چیز ہے۔ لیکن یاد رکھیئے خواب آور گولیوں کا استعمال خطرے سے خالی نہیں۔ اس لیئے سمجھدار لوگ، ادیب، شاعر، تاجر پیشہ، عشق پیشہ حضرات نیند لانے کے لیئے ہمارے ہاں کی حسبِ ذیل مطبوعاچت استعمال کرتے ہیں :

    - جدید لسانیات کے اساسی اصول، 120 صفحے، قیمت چار روپے
    - تنقید کے مابعد لطبیعاتی نظریات، 216 صفحے، قیمت چھ روپے

    فیملی سائز مطلوب ہو، تو حضرت خرگوش لکھنوی کا تازہ ترین ناول “ خوابِ خرگوش “ استعمال کیجیئے۔ 125 صفحات پر محیط اس لاثانی تحفے کی قیمت فقط 18 روپے ہے۔ محصول ڈاک معاف۔

    خوراک :
    - بڑوں کے لیئے چار سے آٹھ صفحے
    - بچوں کے لیئے دو صفحے
    - تین سال سے کم عمر کے بچوں کو فقط کتاب کی شکل دکھا دینا کافی ہے۔

    مقررہ خوراک سے زیادہ استعمال نہ کیجیئے۔ خراٹے آنے کا ڈر ہے۔

    ابن انشا کے کالم “ ہماری کمرشل سروس “ سے
     
  16. زنیرہ عقیل
    آف لائن

    زنیرہ عقیل ممبر

    شمولیت:
    ‏27 ستمبر 2017
    پیغامات:
    18,022
    موصول پسندیدگیاں:
    8,630
    ملک کا جھنڈا:
  17. غوری
    آف لائن

    غوری ممبر

    شمولیت:
    ‏18 جنوری 2012
    پیغامات:
    38,242
    موصول پسندیدگیاں:
    11,506
    ملک کا جھنڈا:
  18. زنیرہ عقیل
    آف لائن

    زنیرہ عقیل ممبر

    شمولیت:
    ‏27 ستمبر 2017
    پیغامات:
    18,022
    موصول پسندیدگیاں:
    8,630
    ملک کا جھنڈا:
    پتنگ بازی

    ہم پتنگ بازی کو کھیل مانتے ہیں کیونکہ بقول یوسفی “جہاں کھیل میں دماغ پر زور پڑا،کھیل کھیل نہیں‌رہتا کام بن جاتا ہے۔“اور پتنگ بازی میں بوجھ دماغ کی بجائے کوٹھے پر پڑتا ہے۔ہم نے ایک پتنگ باز سے پوچھا۔۔
    “یہ پیچ لڑانے کا کیا فائدہ ہوتا ہے؟“
    کہا “کلائی مضبوط ہوتی ہے۔“
    پوچھا،“مضبوط کلائی کا فائدہ؟“
    کہا “پیچ لڑانے میں آسانی ہوتی ہے۔“
    پیچ بھی سیاست کی طرح پر پیچ ہوتے ہیں،مگر پتنگ بازی اور سیاست بازی میں یہ فرق ہے کہ ہمارے ہاں اول الذکر کے لئے ڈور اور آخر الذکر کے لئے بیک ڈور کی ضرورت پڑتی ہے۔امریکا اور روس نے خلائی جہازوں کے ذریعے آسمان پر پہنچنے کی کوشش کی،ابھی وہ خدا تک پہنچنے کے لیے خلائی شیٹل کا سہارا لینے کا منصوبہ بنا رہے ہیں ۔جبکہ ہم نے پتنگ بازی میں اتنی ترقی کرلی ہے کہ ہر سال بذریعہ “پتنگ“ کئی لوگ خدا تک پہنچ جاتے ہیں۔

    (ڈاکٹر یونس بٹ کی کتاب “جوک در جوک “ سے)
     
  19. غوری
    آف لائن

    غوری ممبر

    شمولیت:
    ‏18 جنوری 2012
    پیغامات:
    38,242
    موصول پسندیدگیاں:
    11,506
    ملک کا جھنڈا:
  20. زنیرہ عقیل
    آف لائن

    زنیرہ عقیل ممبر

    شمولیت:
    ‏27 ستمبر 2017
    پیغامات:
    18,022
    موصول پسندیدگیاں:
    8,630
    ملک کا جھنڈا:
    ہم انسان کتنے بھولے ہوتے ہیں جو یہ سوچ لیے بیٹھے ہوتے ہیں کہ ہمارے جاتے ہی سب کچھ رُک جائے گا یا بدل جائے گا، مگر کچھ نہیں رکتا، کچھ نہیں بدلتا۔ سب کچھ ویسا ہی رہتا ہے ، بس ہم نہیں ہوتے۔ گویا ہمارا ہونا نہ ہونا سب برابر ہے ، تو پھر اس نہ ہونے کے برابر ہونے کا اتنا زعم کیوں، اتنا گھمنڈ کس لیۓ۔۔۔’؟؟
    ( ہاشم ندیم کے ناول ” پری زاد ” سے اقتباس )
     
  21. غوری
    آف لائن

    غوری ممبر

    شمولیت:
    ‏18 جنوری 2012
    پیغامات:
    38,242
    موصول پسندیدگیاں:
    11,506
    ملک کا جھنڈا:
    دنیا کے اندر سکون دو گے تو سکون ملے گا ورنہ سکون نہیں ملے گا۔ یہ جنت کا طریقہ ہے۔ کیا طریقہ ہے؟ کہ اس کو سکون دو جس سے ٓاپ کو سکون نہیں ملا اور معاف اُسے کرو جس نے ٓاپ کو معاف نہیں کیا، پھر دیکھو کہانی کیسی بنتی ہے، اگر اپ نے کہانی بنانی ہو تو، ورنہ تو پھر مشکل ہے۔

    (حضرت واصف علی واصف رحمۃ اللہ علیہ)
     
    زنیرہ عقیل نے اسے پسند کیا ہے۔
  22. زنیرہ عقیل
    آف لائن

    زنیرہ عقیل ممبر

    شمولیت:
    ‏27 ستمبر 2017
    پیغامات:
    18,022
    موصول پسندیدگیاں:
    8,630
    ملک کا جھنڈا:
    دنیا کتنی ترقی کر گئی ہے چاند ستاروں پر کمند ڈالنے کی ضرورت نہیں رہی کیوں کہ وہاں انسان کے قدم پہنچ چُکے ہیں_ صدیوں کے فاصلے لمحوں میں طے ہونے لگے ہیں ہر کسی کو ہر لمحہ ہر رابطہ میسر ہے مشین ہماری زندگی پر حاوی ہو چُکی ہے محبت کی روایتی داستانوں کو لوگ گزرے زمانوں کا قصہ کہتے ہیں ہیر رانجھا، سسی پنوں، سوہنی ماہیوال، شیریں فرہاد الف لیلٰی کی کہانیاں لگتی ہیں محبت ڈیجیٹل ہونے لگی ہے انسان عروج کی کتنی منزلیں طے کر چُکا ہے ، مگر پہلی نظر !!!!! آج بھی اپنے اندر وہی زمانے بھر کے عجائبات چُھپائے بیٹھی ہے کوئی سائنس دان آج تک اس پہلی نظر کے ڈنک کا علاج نہیں ڈھونڈپایا کوئی تریاق دریافت نہیں ہوا نظر کے اس زہر کا آج تک، ہر خرابی کی جڑ یہی ایک پہلی نظر ہو تو ہے نئے زمانے کے نئے لوگ لاکھ انکار کریں لاکھ مذاق اڑائیں مگر سچ یہی ہے کہ محبت اور نظر کا چولی دامن کا ساتھ ہے پھر چاہے یہ نظر کبھی بھی اور کسی بھی طور ہماری زندگیوںمیں وارد ہو جائے


    پری زاد سے اقتباس
     
  23. زنیرہ عقیل
    آف لائن

    زنیرہ عقیل ممبر

    شمولیت:
    ‏27 ستمبر 2017
    پیغامات:
    18,022
    موصول پسندیدگیاں:
    8,630
    ملک کا جھنڈا:
    اپنی زندگی میں ہم جتنی دل راضی کریں اتنی ہی ہماری قبر میں چراغ جلیں گے۔ہماری نیکیاں ہمارے مزار روشن کرتی ہیں۔سخی کی سخاوت اس کی اپنی قبر کا دیا ہے۔
    ہماری اپنی صفات ہی ہمارے مرٖقد کو خوشبو دار بناتی ہیں۔زندگی کے بعد کام آنے والے چراغ زندگی میں بھی جلائے جاتے ہیں۔
    کوئی نیکی رائیگاں نہیں جاتی۔
    واصف علی واصف
     
    ملک بلال نے اسے پسند کیا ہے۔

اس صفحے کو مشتہر کریں