1. اس فورم پر جواب بھیجنے کے لیے آپ کا صارف بننا ضروری ہے۔ اگر آپ ہماری اردو کے صارف ہیں تو لاگ ان کریں۔

میرے پسندیدہ اقتباسات

'ادبی طنز و مزاح' میں موضوعات آغاز کردہ از زنیرہ عقیل, ‏6 مارچ 2018۔

  1. زنیرہ عقیل
    آف لائن

    زنیرہ عقیل ممبر

    شمولیت:
    ‏27 ستمبر 2017
    پیغامات:
    18,022
    موصول پسندیدگیاں:
    8,630
    ملک کا جھنڈا:
    میں نے ایک کیفیت کا ذکر کیا ہے کہ ارسطو نے بھی انسان کو سیاسی حیوان قرار دیا جس کی جبلت میں جوڑ توڑ آپس میں کھینچا تانی اور دوسروں پہ غلبہ حاصل کرنے کی خواہش ہے۔ تو آپ اس کیفیت کی بنا پر کہہ سکتے ہیں کہ کہا گیا ہو
     
  2. زنیرہ عقیل
    آف لائن

    زنیرہ عقیل ممبر

    شمولیت:
    ‏27 ستمبر 2017
    پیغامات:
    18,022
    موصول پسندیدگیاں:
    8,630
    ملک کا جھنڈا:
    انسان کو انسان تو ثابت نہیں کیا آپ نے
    انسان کو انسان تب کہا جا سکتا ہے جب انسان میں انسانیت ہو
    اپنے کردار اور اعمال سے انسان کی پہچان ہوتی ہے
    ورنہ حیوان ہی ہے انسان بھی
    انسان بھی ایک مخلوق ہے اور اشرف المخلوقات بھی چند اوصاف کی وجہ ہے
    انسان کی فطرت میں اگر حیوانگی ہو تو وہ کیسے انسان ہو سکتا ہے
    قتل تشدد زناکاری چھین کر مال دولت کھانا یہ تمام عوامل انسان کہلوانے کے لیے نا مناسب ہیں
    نماز روزہ سے دوری صبح جانور کی طرح اٹھنا پیٹ کے لیے بھاگ دوڑ کرنا اور شام کو سو جانا یہ معلوم نہیں کہ حرام کھایا حلال کھایا
    اگر اسے آپ انسان کہتے ہو تو یہ آپ کی غلط فہمی ہے
     
  3. زنیرہ عقیل
    آف لائن

    زنیرہ عقیل ممبر

    شمولیت:
    ‏27 ستمبر 2017
    پیغامات:
    18,022
    موصول پسندیدگیاں:
    8,630
    ملک کا جھنڈا:
    اللہ کا نام بہت زیادہ لیا جائے یا کم،اپنا اثر ضرور رکھتا ہے۔دنیا میں بعض اشیاء ایسی ہیں کہ ان کا نام لینے سے ہی منہ میں پانی بھر آتا ہے۔پھر یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ اس خالق کائنات کا نام “اللہ“لیا جائے اور اس میں اثر نہ ہو۔خود خالی نام میں بھی برکت ہے۔

    (اقتباس۔۔۔شہاب نامہ)
     
    عائشہ نے اسے پسند کیا ہے۔
  4. زنیرہ عقیل
    آف لائن

    زنیرہ عقیل ممبر

    شمولیت:
    ‏27 ستمبر 2017
    پیغامات:
    18,022
    موصول پسندیدگیاں:
    8,630
    ملک کا جھنڈا:
    اوتھانٹ اقوام متحدہ کے جنرل سیکریٹری لاہور آئے۔ان کا استقبال کرنے والوں میں‌،میںبھی شامل تھا۔انہوں نے وی آئی پی روم میں کچھ دیر توقف کیا۔اخباری نمائندے بھی یہاں تھے۔وہ سوال پوچھتے رہے۔اوتھانٹ ٹالتے رہے۔میں دیکھتا اور سنتا رہا۔یہ انٹرویو مایوس کن تھا۔بے معنی جملے جو بےایمانی سے قریب اور حقیقت سے دور ہوتے ہیں۔بےوزن باتیں جنہیں سفارتی آداب کہتے ہیں۔بے وجہ چشم پوشی اور جان بوجھ کر پہلو تہی۔ناحق اس عہدے دار کو دنیا کا غیر رسمی وزیراعظم کہتے ہیں۔یہ شخص تو دنیا بھر سے خائف رہتا ہے اور ہماری طرح سیدھی بات بھی نہیں‌کر سکتا ہے۔آٹوگراف بک جیب میں‌ہی پڑی رہی اور دوسرے دن انکا جہاز جاپان کے شہر ناگوما چلا گیا۔بات آئی گئی ہو گئی اور ایک مدت گذر گئی۔

    میں جاپان کے اسی شہر میں ٹہرا ہوا تھا۔میں نے انگریزی اخبار اور رسالہ خریدا۔میں نے جب اسے کھولا تو اس میں‌اوتھانٹ کی تصویر تھی۔وہ برما گئے اور وہاں اپنی والدہ سے ملے۔یہ تصویر اس ملاقات کے متعلق تھی۔تصویر میں‌ایک دبلی پتلی سی بڑھیا اونچی کرسی پر ننگے پاؤں بیٹھی ہے ۔معمولی لباس اور اس پر بہت سی شکنیں۔سادہ سی صورت اور اس پر بہت سی جھریاں۔چہرہ البتہ مسرت سے دمک رہا ہے۔اسکے قدموں میں اوتھانٹ ایک نفیس سوٹ پہنے بیٹھا ہے۔اس تصویر کو دیکھ کر میں سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ کو بھول چکا ہوں او راب ایک سعادت مند بیٹے کی تلاش میں ہوں‌تاکہ وہ میری آٹوگراف بک میں اپنے دستخط کر دے۔

    (مختار مسعود کی کتاب“آواز دوست“ سے اقتباس)
     
  5. ناصر إقبال
    آف لائن

    ناصر إقبال ممبر

    شمولیت:
    ‏6 دسمبر 2017
    پیغامات:
    1,670
    موصول پسندیدگیاں:
    343
    ملک کا جھنڈا:
    ساری دنیا میں جو انسان ہیں وہ حیوان ہی ہیں ،،،، آپ کی رائے کے مطابق
     
  6. ناصر إقبال
    آف لائن

    ناصر إقبال ممبر

    شمولیت:
    ‏6 دسمبر 2017
    پیغامات:
    1,670
    موصول پسندیدگیاں:
    343
    ملک کا جھنڈا:
    بغیرمطلب کی کیفیت کا ذکر کیا ہے اپ نے ،،، محتاط رہیں
     
  7. نعیم
    آف لائن

    نعیم مشیر

    شمولیت:
    ‏30 اگست 2006
    پیغامات:
    58,062
    موصول پسندیدگیاں:
    11,100
    ملک کا جھنڈا:
    زنیرہ جی اس واقعہ کا کیا مطلب ہے؟
     
  8. زنیرہ عقیل
    آف لائن

    زنیرہ عقیل ممبر

    شمولیت:
    ‏27 ستمبر 2017
    پیغامات:
    18,022
    موصول پسندیدگیاں:
    8,630
    ملک کا جھنڈا:
    "سائیکل آف رپلیسمینٹ"میں صرف محبت کی "رپلیسمینٹ" نہیں ہوتی۔خود کو فریب دینے کے باوجودہم جانتے ہیں کہ ہمارے وجود میں خون کی گردش کی طرح بسنے والا نام کس کا ھے۔ہم کبھی بھی اسے دل سے نکال کر باہر نہیں پھینک نہیں سکتے۔تہہ در تہہ اسکے اوپر دوسری محبتوں کا ڈھیر لگائے جاتے ہیں۔کہتے ہیں کہ اب اس سے محبت کرتے ہیں۔اب ہم اس سے محبت کرتے ہیں۔لیکن جو زیادہ دور ہوتا جاتا ہے۔وہی زیادہ قریب آجاتا ہے۔

    اقتباس"امربیل" از "عمیرہ احمد
     
    عائشہ نے اسے پسند کیا ہے۔
  9. زنیرہ عقیل
    آف لائن

    زنیرہ عقیل ممبر

    شمولیت:
    ‏27 ستمبر 2017
    پیغامات:
    18,022
    موصول پسندیدگیاں:
    8,630
    ملک کا جھنڈا:
    بنی اسرائیل میں سے ایک آدمی کا انتقال ہو گیا۔ اس کے دو بیٹے تھے، ان دونوں کے مابین ایک دیوار کی تقسیم کے سلسلے میں جھگڑا ہو گیا۔ جب دونوں آپس میں جھگڑ رہے تھے تو انہوں نے دیوار میں سے ایک غیبی آواز سنی کہ تم دونوں جھگڑا مت کرو کیونکہ میری حقیقت یہ ہے کہ میں ایک مدت تک اس دنیا میں بادشاہ اور صاحب مملکت رہا.... پھر میرا انتقال ہو گیا اور میرے بدن کے اجزاءمٹی کے ساتھ مل گئے.... پھر اس مٹی سے کمہار نے مجھے گھڑے کی ٹھیکری بنا دیا۔ ایک طویل مدت تک ٹھیکری کی صورت میں رہنے کے بعد مجھے توڑ دیا گیا.... پھرایک لمبی مدت تک ٹکڑوں کی صورت میں رہنے کے بعد، مٹی اور ریت کی صورت میں تبدیل ہو گیا۔ پھر کچھ مدت کے بعد لوگوں نے میرے اجزائے بدن کی اس مٹی سے اینٹیں بنا ڈالیں اور آج تم مجھے اینٹوں کی شکل میں دیکھ رہے ہو، لہٰذا تم ایسی مذموم و قبیح دنیا پرکیوں جھگڑتے ہو۔
    آہ! یہ دنیا بڑی فریب دہندہ ہے۔ فانی ہونے کے باوجود یہ لوگوں کی محبوب بنی ہوئی ہے۔ یہ اپنی ظاہری رنگینی اوررعنائی سے لوگوں کو گمراہ کرتے ہوئے آخرت سے غافل کرتی ہے اللہ تعالیٰ مسلمانوں کے دلوں کو اپنی حقیقی محبت اور اپنی ملاقات کے شو ق سے بھر دے
    (گلستان قناعت ص 492)
     
  10. زنیرہ عقیل
    آف لائن

    زنیرہ عقیل ممبر

    شمولیت:
    ‏27 ستمبر 2017
    پیغامات:
    18,022
    موصول پسندیدگیاں:
    8,630
    ملک کا جھنڈا:
    مرد کا کام عورت کو سمجھنا نہیں ، اس کو محسوس کرنا ، اس کی حفاظت کرنا ، اس سے محبّت کرنا ہے -

    عورت کو اگر اس بات کا علم ہو جائے کہ مرد اس کو سمجھنے لگا ہے ، یا اس کے جذبات کو جانچنے کا راز پا گیا ہے تو وہ فوراً تڑپ کر جان دے دی گی -

    آپ عورت کیساتھ کتنی بھی عقل و دانش کی بات کریں ، کیسے بھی دلائل کیوں نہ دیں ، اگر اس کی مرضی نہیں ہے تو وہ اس منطق کو کبھی نہیں سمجھے گی -

    اس کے ذھن کے اندر اپنی منطق کا ایک ڈرائنگ روم ہوتا ہے ، جسے اس نے اپنی مرضی سے سجایا ہوتا ہے -
    اور وہ اسے روشن کرنے کے لیے باہر کی روشنی کی محتاج نہیں ہوتی .

    اس لیے وہ کسی عقل ودانش اور دلائل کے معاملے میں مانگے کی روشنی پر ایمان نہیں رکھتی -

    اس نے جو فیصلہ کر لیا ہوتا ہے وہی اس مسئلے کا واحد اور آخری حل ہوتا ہے -

    از اشفاق احمد سفر در سفر صفحہ ١٤٥
     
  11. عائشہ
    آف لائن

    عائشہ ممبر

    شمولیت:
    ‏25 مارچ 2018
    پیغامات:
    226
    موصول پسندیدگیاں:
    136
    ملک کا جھنڈا:
    .....کتھوں لیاوے لعل محمد .....

    میں شدید غصے اور طیش کے عالم میں تھا
    ڈپریشن اور ھائی بلڈ پریشر نے مجھے ھلکان کررکھا تھا لاکھ کوشش کے باوجود رنج و الم سے نکلنے کی راہ نہ سجھائی دی۔ واک چھوڑ ایک کونے میں جابیٹھا
    یہ گلشن اقبال پارک کا وہ گوشہ تھا جہاں آمد رفت بہت کم ھوتی ھے ۔ چند ثانیئے بعد آواز آئی ادھر آجا پتر ۔ میں نے مڑ کر دیکھا جاڑے کے موسم میں مہین سا سویئٹر زیب تن کئے بابا دین محمد دھوپ سینک رھا تھا ۔ میں قریب گیا
    بابا دین مُحمد مجھے دیکھ کر کھل اٹھا تپاک سے ھات ملایا اور اتنا عرصہ غائب رہنے کی وجہ دریافت کی
    میں نے بتایا کہ ناگن ڈرامہ لکھنے میں مصروف ھوں
    بابا نے ڈھیروں دعائیں دیں
    پھر کسی پہنچے ھوئے انتریامی کی طرح بولا کیا بات ھے تو پریشان لگ رھا ھے افتخار پتر؟
    میں تو جیسے تاک میں تھا ایک دم پھٹ پڑا
    میں نے کہا بابا جی بندے کو کسی پر احسان ھی نہیں کرنا چاہیے کوئی مرتا ھے تو مرے میں آج کے بعد نہ تو کسی کے کام آونگا نہ کسی کی مدد کروں گا اور نہ کسی کو دل میں جگہ دونگا
    بابا نے متانت سے پوچھا افتخار افی اس غصے کی وجہ جان سکتا ہوں
    میں بولا بابا میں نے ایک دوست پر اپنا پیار اپنی شفقت اپنا وقت اور پیسہ نچھاور کیا مگر وہ کم ظرف ایک چھوٹی سی بات پر ایسا ناراض ھوا کے اب دوستوں میں فضیتے کرتا پھرتا ہے
    الٹی سیدھی باتیں کر رہا ہے
    میری ساکھ کو نقصان پہنچا رھا ھے
    بابا جی اس نے ایسا کیوں کیا؟ بجائے میرا احسان ماننے کہ دشمنی پر اتر آیا
    کیوں؟
    بابا مسکراتے ہوئے بولا بولا بےوقوفا جس حضرت انسان نے نفس امارہ کی پیروی کرتے ھوئے نبیوں کو قتل کیا ۔
    جس انسان نے میرے آقا کو پتھر مارے ۔
    جس حضرت انسان نے اپنے پیدا کرنے والے اپنے ماں باپ کو جوتے مارے
    جس انسان نے پروردگار کے احسانوں کو نہیں مانا
    وہ تم جیسے عام حقیر کم ترین کا احسان مند کیسے ھو سکتا ھے؟
    ایک لمحہ توقف کے بعد کہا
    میاں وقت بدلا ھے انسان نہیں ۔
    سمجھو تو بڑی بات نہ سمجھو تو کچھ بھی نہیں ۔
    پھر بولا میں شیطان کے گماشتوں کی بات کر رہا ہوں نیک انسانوں کی نہیں۔
    میری عقل سلیم بابا دین مُحمد کی ھر بات کو تسلیم کر رھی تھی مگر غصہ اپنی جگہ قائم تھا۔
    میں نے کہا نیکی کا صلہ کون دے گا؟
    بولا اللہ کے سوا کون دے سکتا ہے پھر
    کہنے لگا سنا تو ھوگا نیکی کر دریا میں ڈال؟
    میں نے اثبات میں سر ہلایا ھاں سنا ھے
    بابا بولا پھر ڈالتے کیوں نہیں؟
    میرا پارہ چڑھا دیکھ کر بولا۔
    میں تمھیں ایک واقعہ سناتا ہوں
    ایک درویش اپنے چیلوں کے ساتھ ایک جنگل سے گزر رہے تھے سخت سردی کا موسم تھا
    درویش کی نظر ایک ناگ پر پڑی جو سردی کے باعث منجمد ہو چکا تھا اور قریب المرگ تھا
    درویش نے ایک چیلے کو حکم دیا کہ فورآ اس ناگ کو گرمائش دو اور اس کو دودھ پلاو
    چیلے بے ایسا ھی کیا ناگ کے گرد گھاس پھوس سے آگ جلائی گئی چند منٹوں بعد ناگ نارمل ھو گیا اور پھن پھیلا دیا
    چیلے نے حکم کے مطابق ناگ کو دودھ پلایا دودھ پیتے ھی ناگ نے خدمت گزار چیلے کو ڈنک مارنے کی کوشش کی ۔ چیلا چست بیٹھا تھا ناگ کے وار سے بچ گیا ۔ درویش یہ ماجرا دیکھ رھا تھا درویش نے کہا اس ناگ کو جنگل میں چھوڑ دو
    چیلے نے ناگ کو چھوڑ دیا
    ناگ رینگتا ھوا فٹ سے جھاڑیوں میں غائب ھو گیا
    چیلے نے درویش سے پوچھا مرشد میں نے اس ناگ کی جان بچائی دودھ پلایا پھر بھی اس نے مجھے ڈسنے کی کوشش کیوں کی ؟
    درویش مسکرایا اور سب چیلوں سے پوچھا ھاں بھئی ناگ نے اسے ڈسنے کی کوشش کیوں کی
    سب چیلوں نے یک زبان ہو کر کہا
    کیوں کے ڈسنا سانپ کی فطرت ہے
    درویش نے قہقہہ لگایا اور بولا
    نہیں دراصل ناگ کے پاس سب سے قیمتی چیز اس کا زھر ھوتا ھے اس ناگ نے اسے اپنی خدمت کے صلے میں اپنی سب سے قیمتی چیز اپنا زھر دینا چاھا ھے ۔ پھر ایک توقف کے بعد بولا بیٹا دنیا میں رھنا ھے تو صوفی کا یہ اینگل اپنانا ھوگا۔ انسان کو معاف کرنے کے بہانے ڈھونڈنے ھونگے ۔
    میرا پارہ اتر رھا تھا
    بابا نے میرا ہاتھ تھام کر کہا بیٹا تم تو اشفاق احمد کے ساتھ رھے ھو شکو تو سب کو معاف کر دیا کرتا تھا پھر تم کیوں دل پر لگائے بیٹھے ھو ؟
    بابا کے سوال نے مجھے شرمسار کر دیا
    میں نے اس ناراض دوست کو نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کرتے ھوئے اسی وقت معاف کر دیا
    بابا دین مُحمد بہت خوش ھوا
    پھر میاں محمد بخش کا ایک شعر با آواز بلند اعلان کرتا ھوا پارک کے مین گیٹ سے باہر نکل گیا
    اس شعر نے میرا رھا سھا طیش بھی ختم کر دیا
    وہ شعر آپ کی نظر ھے
    جو کجھ ھٹی اندر ھووے اوھیو دوے وچارا
    کتھوں لیاوے لعل محمد کولے ویچن والا
    اللہ ھمیں آسانیاں عطا فرمائے اور آسانیاں تقسیم کرنے کا شرف بخشے آمین
    از قلم ۔ افتخار افی
     
    intelligent086 اور زنیرہ عقیل .نے اسے پسند کیا ہے۔
  12. زنیرہ عقیل
    آف لائن

    زنیرہ عقیل ممبر

    شمولیت:
    ‏27 ستمبر 2017
    پیغامات:
    18,022
    موصول پسندیدگیاں:
    8,630
    ملک کا جھنڈا:
    پتنگ بازی

    ہم پتنگ بازی کو کھیل مانتے ہیں کیونکہ بقول یوسفی “جہاں کھیل میں دماغ پر زور پڑا،کھیل کھیل نہیں‌رہتا کام بن جاتا ہے۔“اور پتنگ بازی میں بوجھ دماغ کی بجائے کوٹھے پر پڑتا ہے۔ہم نے ایک پتنگ باز سے پوچھا۔۔
    “یہ پیچ لڑانے کا کیا فائدہ ہوتا ہے؟“
    کہا “کلائی مضبوط ہوتی ہے۔“
    پوچھا،“مضبوط کلائی کا فائدہ؟“
    کہا “پیچ لڑانے میں آسانی ہوتی ہے۔“
    پیچ بھی سیاست کی طرح پر پیچ ہوتے ہیں،مگر پتنگ بازی اور سیاست بازی میں یہ فرق ہے کہ ہمارے ہاں اول الذکر کے لئے ڈور اور آخر الذکر کے لئے بیک ڈور کی ضرورت پڑتی ہے۔امریکا اور روس نے خلائی جہازوں کے ذریعے آسمان پر پہنچنے کی کوشش کی،ابھی وہ خدا تک پہنچنے کے لیے خلائی شیٹل کا سہارا لینے کا منصوبہ بنا رہے ہیں ۔جبکہ ہم نے پتنگ بازی میں اتنی ترقی کرلی ہے کہ ہر سال بذریعہ “پتنگ“ کئی لوگ خدا تک پہنچ جاتے ہیں۔

    (ڈاکٹر یونس بٹ کی کتاب “جوک در جوک “ سے)
     
    intelligent086 اور عائشہ .نے اسے پسند کیا ہے۔
  13. ناصر إقبال
    آف لائن

    ناصر إقبال ممبر

    شمولیت:
    ‏6 دسمبر 2017
    پیغامات:
    1,670
    موصول پسندیدگیاں:
    343
    ملک کا جھنڈا:
    بعض دفعہ چہرے دیکھنے کی ضرورت نہیں ہوتی، صرف آوازوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ کسی ایسی آواز کی جس میں ہمدردی ہو، جو آپ کے وجود کے تمام ناسوروں کو نشتر کی طرح کاٹ پھینکے اور پھر بہت نرمی سے ہر گھاؤ کو سی دے۔
    (عمیرہ احمد کے ناول ’’آؤ پہلا قدم دھرتے ہیں‘‘ سے اقتباس)
     
  14. زنیرہ عقیل
    آف لائن

    زنیرہ عقیل ممبر

    شمولیت:
    ‏27 ستمبر 2017
    پیغامات:
    18,022
    موصول پسندیدگیاں:
    8,630
    ملک کا جھنڈا:
    پچھلے دنوں مجھے محبت نامی ملک جانےکا اتفاق ہوا۔ آپ کی معلومات میں اضافے کے لئے اپنےسفرکا مختصر احوال سناتا ہوں، جب ٹرین سےا ترا تو ملک کو تین اطراف سے دکھ مایوسی اور بےوفائی کے پہاڑوں میں گھرا پایا چوتھی سمت آنسوؤں کا موجیں مارتا ہوا سمندرنظر آیا ملک کی اہم بندرگاہ کا نام آنکھیں تھا اس ملک کے دارالحکومت کا نام زخم تھا وزیرکا نام دل اور صدر کا نام دماغ لیکن ملک کے عوام کا کہنا ہے کہ دونوں کسی کام کے نہیں ایک میں سوچنے سمجھنے کی قوت نہیں تو دوسرا قوم کے درد سے خالی ہے پاگل پن اور خودغرضی ملک کے دو اہم شہر ہے اگرچہ ملک کا بڑا حصہ ہمدردی کےجنگلات سے ڈھکا ہوا ہے لیکن یہاں شک رقابت جیسے خطرناک درندے بھی پائے جاتے ہے قومی پھول گلاب ہے لیکن انتظار اور جدائی نامی پھول بھی کثرت سے پائے گئے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔




    اقتباس : ہے ایک ملک ایسا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
    مصنف: سید سلطان محمد
     
  15. ناصر إقبال
    آف لائن

    ناصر إقبال ممبر

    شمولیت:
    ‏6 دسمبر 2017
    پیغامات:
    1,670
    موصول پسندیدگیاں:
    343
    ملک کا جھنڈا:
    جسے اللہ تعالیٰ اپنی محبت دیتا ہے، اسے پھر کسی اور چیز کی خواہش نہیں ہوتی ۔۔۔۔۔۔۔۔ اور جسے وہ دنیا دیتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ اس کی خواہش بھوک بن جاتی ہے ۔۔۔۔۔۔ کبھی ختم نہیں ہوتی ۔۔۔۔۔۔۔
    (اقتباس از عمیرہ احمد)
     
  16. ناصر إقبال
    آف لائن

    ناصر إقبال ممبر

    شمولیت:
    ‏6 دسمبر 2017
    پیغامات:
    1,670
    موصول پسندیدگیاں:
    343
    ملک کا جھنڈا:
    محبت دنیا کا خوبصورت جذبہ ہے۔ سونا جس طرح تپ کر کندن بن جاتا ہے، اسی طرح محبت جب اپنی خالص ترین شکل میں ڈھلتی ہے تو ’’ممتا‘‘ بن جاتی ہے اور ممتا وہ جذبہ ہے جو کائنات کو متحد رکھنے میں، جوڑنے میں اور اس کے تسلسل کو برقرار رکھنے میں سب سے زیادہ کام آتی ہے۔
    (تنزیلہ ریاض کے ناول ’’عہد الست‘‘ سے اقتباس)
     
  17. زنیرہ عقیل
    آف لائن

    زنیرہ عقیل ممبر

    شمولیت:
    ‏27 ستمبر 2017
    پیغامات:
    18,022
    موصول پسندیدگیاں:
    8,630
    ملک کا جھنڈا:
    مگر محبت ھوتی کیسے ھے?اس نے تعجب سے پوچھا
    بالکل اچانک جب آپ کو محسوس ھوتا ھے کہ کوئی دوسرا آپ کے اندر اگنا شروع ھو گیا ھے محبت ایک دوسرے کے اندر اگنا ھے،پھلے تو کسی بیج کی طرح دوسرے کے اندر فنا ھونا،اپنا آپ مٹا دینا،پھر اگنا،جوں جوں محبت بڑھتی ھے ایک دوسرے کے اندر جڑیں گھری ھوتی چلی جاتی ھیں اس پودے کو ھر روز تازہ محسوسات اور جذبوں کی کھاد،آنسوؤں کا پانی،دوسرے کے سانسوں کی ھوا اور من کی پرحرارت دھوپ کی ضرورت ھوتی ھے اگر کبھی آپ کو اپنا آپ مرجھاتا ھوا محسوس ھو تو سمجھ لیں کہ دوسرے کے من کی زمین پتھریلی ھو گئی ھے اور اس نے آپ کے اندر سے اپنی جڑیں بےدردی سے سمیٹ لی ھیں۔

    اقتباس=محبت مردہ پھولوں کی سمفنی

    مصنف= مظھرالاسلام
     
    عائشہ نے اسے پسند کیا ہے۔
  18. عائشہ
    آف لائن

    عائشہ ممبر

    شمولیت:
    ‏25 مارچ 2018
    پیغامات:
    226
    موصول پسندیدگیاں:
    136
    ملک کا جھنڈا:
    یہاں کھڑے ہو کر تجھ سے انبیاء دعا مانگا کرتے تھے۔ ان کی دعاؤں اور میری دعاؤں میں فرق ہے۔ میں نبی ہوتا تو نبیوں جیسی دعا کرتا۔ ۔مگر میں تو عام بشر ہوں اور گناہ گار بشر۔ میری خواہشات میری آرزوئیں سب عام ہیں۔ یہاں کھڑے ہو کر کبھی کوئی کسی عورت کے لیے نہیں رویا ہوگا۔ میری زلت اور پستی اس سے زیادہ کیا ہوگی کہ میں حرم پاک میں ایک عورت کے لیے گڑگڑا رہا ہوں۔ مگر مجھے نہ اپنے دل پر اختیار ہے نہ اپنے آنسوؤں... پر۔ یہ میں نہیں تھا جس نے اس عورت کو اپنے دل میں جگہ دی۔ یہ تو نے کیا۔ کیوں میرے دل میں ایک عورت کے لیے اتنی محبت ڈال دی کہ میں تیرے سامنے کھڑا بھی اس کو یاد کر رہا ہوں؟
    کیوں مجھے اس قدر بے بس کر دیا ہے کہ مجھے اپنے وجود پر بھی کوئی اختیار نہیں رہا میں وہ بشر ہوں جسے تو نے ان تمام کمزوریوں کے ساتھ بنایا ہے وہ بشر ہوں جسے تیرے سوا کوئی راستہ دیکھانے والا نہیں۔ اور وہ عورت میری زندگی کہ ھر رستے پہ کھڑی ہے۔۔
    مجھے کہیں جانے کہیں پہنچنے نہیں دے رہی۔ یا تو اس کی محبت کو اس طرح میرے دل سے نکال دے کہ مجھے کبھی اس کا خیال ہی نہ آئے۔ یا پھر اسے مجھے دے دے۔ وہ نہیں ملے گی تو میں ساری زندگی اس کے لیے روتا رہوں گا۔ وہ مل جائے تو تیرے علاوہ کسی اور کے لیے آنسو نہیں بہاؤں سکوں گا۔ میرے آنسو خالص ہونے دے۔ میری محبت کو خالص ہونے دے۔
    اقتباس: ناول "پیر کامل" سے
     
    زنیرہ عقیل نے اسے پسند کیا ہے۔
  19. عائشہ
    آف لائن

    عائشہ ممبر

    شمولیت:
    ‏25 مارچ 2018
    پیغامات:
    226
    موصول پسندیدگیاں:
    136
    ملک کا جھنڈا:
    لڑی کے عنوان میں میرے خیال سے غلطی ھے۔لفظ اقتباسات ہونا چاہئے
     
    زنیرہ عقیل نے اسے پسند کیا ہے۔
  20. زنیرہ عقیل
    آف لائن

    زنیرہ عقیل ممبر

    شمولیت:
    ‏27 ستمبر 2017
    پیغامات:
    18,022
    موصول پسندیدگیاں:
    8,630
    ملک کا جھنڈا:
    بہت بہت شکریہ تصحیح کرانے کے لیے
     
    عائشہ نے اسے پسند کیا ہے۔
  21. زنیرہ عقیل
    آف لائن

    زنیرہ عقیل ممبر

    شمولیت:
    ‏27 ستمبر 2017
    پیغامات:
    18,022
    موصول پسندیدگیاں:
    8,630
    ملک کا جھنڈا:
    زندگی بھی بس اک ڈائری کی مانند ہے،جس کے ہر صفحے پر دن، تاریخ، ماہ و سال چسپاں ہیں۔۔صفحہ ایک سے آخر تک زندگی اس پر بے شمار تحریریں لکھتی ہے۔۔اس تحریر کی نوعیت ہر زندگی کے مزاج پر منحصر ہے۔۔جب یہ خوش ہوتی ہے تو دھنک کے ساتوں رنگ ڈائری میں سجاتی ہے اور جب ناخوش ہوتی ہے تو ماتمی سیاہ رنگ سے صفحوں کو کالا کر ڈالتی ہے۔۔

    ہم اگر شروع سے آخر تک اسے پڑھتے جائیں تو پتہ چلے گا کہ تاریخ کے ساتھ ساتھ تحریروں میں پختہ سو چ اور تجربہ دکھائی دیتا ہے۔۔لیکن افسوس جونہی ہم ان تجربوں سے فیض یاب ہونے لگتے ہیں،ڈائری کے صفحات ختم ہوجاتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔

    {خلیل جبران کے اک کتاب سے اقتباس}
     
    عائشہ نے اسے پسند کیا ہے۔
  22. ناصر إقبال
    آف لائن

    ناصر إقبال ممبر

    شمولیت:
    ‏6 دسمبر 2017
    پیغامات:
    1,670
    موصول پسندیدگیاں:
    343
    ملک کا جھنڈا:
    بہترین اقتباس

    جزاک اللہ خیرا
     
  23. ناصر إقبال
    آف لائن

    ناصر إقبال ممبر

    شمولیت:
    ‏6 دسمبر 2017
    پیغامات:
    1,670
    موصول پسندیدگیاں:
    343
    ملک کا جھنڈا:
    زندگی پھر مجھے موقع دے۔ میں فرض کرلوں کہ مجھے دوسری زندگی ملے۔ فیصلے کا اختیار پھر میرے ہاتھ میں دیا جائے۔ ایک رشتہ یا بہت سے رشتے؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ایک چاہت یا بہت سی چاہتیں؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ایک محبت یا بہت سی محبتیں؟ تو میرا انتخاب ہر بار رشتے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ چاہتیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور محبتیں ہوگا۔‘‘
    (فرحت اشتیاق کے ناول ’’وہ جو قرض رکھتے تھے جان پر‘‘ سے اقتباس)
     
  24. زنیرہ عقیل
    آف لائن

    زنیرہ عقیل ممبر

    شمولیت:
    ‏27 ستمبر 2017
    پیغامات:
    18,022
    موصول پسندیدگیاں:
    8,630
    ملک کا جھنڈا:
    اقتباس از راجہ گدھ


    "محبت۔ ۔ ۔ ۔ ۔? یہ تو آفاقی جذبہ ہے۔ یہی جذبہ تخلیق کائنات کی اساس ہے۔ محبت نہ ہو تو دنیا کی شکل کسی ایسی تصویر جیسی ہوگی جس میں کوئی رنگ نہ ہو، جس میں تشنگی ہوتی ہے۔ محبت اور ہوس کو ایک سمجھ لینا البتہ زیادتی ہے۔ محبت تو ہر کوئی کرتا ہے۔ سب سے پہلے اپنے خالق سے، پھر خود سے اور ٌپھر اپنے علاوہ کسی اور سے۔"
     
    عائشہ نے اسے پسند کیا ہے۔
  25. عائشہ
    آف لائن

    عائشہ ممبر

    شمولیت:
    ‏25 مارچ 2018
    پیغامات:
    226
    موصول پسندیدگیاں:
    136
    ملک کا جھنڈا:
    نور کیا هوتا هے؟
    تم جانتے هو؟
    وه اتنے هولے بولی که اپنی آواز بھی ٱسے سنائی نه دی_
    "نور وه هوتا هے جو اندهری سرنگ کے دوسرے سرے پر نظر آتا هے،گویا کسی پهاڑی سے گرتا پگهلے سونے کا چشمه هو_"
    "اور کیسے ملتا هے نور؟_"
    "جو الله تعالی کی جتنی مانتا هے اتنا هی نور ملتا هے_
    کسی کا نور پهاڑ جتنا هوتا هے،کسی کا درخت جتنا،كسى كا شعلے جتنا اور کسی کا پاؤں کے انگوٹهے جتنا...."
    "انگوٹهے جتنا نور، جو جلتا بجهتا هے، بجهتا جلتا هے_یه ان لوگوں کو دیا جاتا هے_جو کچھ دن دل لگا کر نیک عمل کرتے هیں، اور پھر کچھ دن سب چهوڑ چھاڑ کر ڈپریشن میں گهر بیٹھ جاتے هیں_"
    "اور انسان کیا کرے که اسے آسمانوں اور زمین جتنا نور مل جاۓ؟_"
    وه الله کو ناں کهنا چھوڑ دے_اسے اتنا نور ملے گا که اسکی ساری دنیا روشن هو جاۓ گی_"
    اسے محسوس هوا اسکا چهره آنسوؤں سے بھیگ رها هے،وه دهرے سے اٹھی اور باهر کی طرف چل دی_
    "سنو!" وه پیچھے سے بولا تھا_حیا لمحے بھر کو رکی_
    "دل کو مارے بغیر نور نهیں ملا کرتا_"
    وه پلٹے بغیر آگے بڑھ گئی_

    دل تو مارنا پڑتا هے، مگر ضروی نهیں هے که ٹھوکر بھی کھائی جاۓ_انسان ٹھوکر کهاۓ بغیر، کوئی زخم لیے بغیر، خود کو جلاۓ بغیر، بات کیوں نهیں مانتا؟
    پهلی دفعه میں هاں کیوں نهیں کهتا؟
    نیلی مسجد کے کبوتروں کی طرح ٱوپر ٱڑنا کیوں چاهتا هے؟
    پهلے حکم پر سر کیوں نهیں جھکاتا؟
    هم سب کو آخر منه کے بل گرنے کا انتظار کیوں هوتا هے؟
    اور گرنے کے بعد هی بات کیوں سمجھ آتی هے؟؟؟؟

    ناول سے انتخاب""جنت کے پتے""
     
  26. ناصر إقبال
    آف لائن

    ناصر إقبال ممبر

    شمولیت:
    ‏6 دسمبر 2017
    پیغامات:
    1,670
    موصول پسندیدگیاں:
    343
    ملک کا جھنڈا:
    بعض دفعہ چہرے دیکھنے کی ضرورت نہیں ہوتی، صرف آوازوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ کسی ایسی آواز کی جس میں ہمدردی ہو، جو آپ کے وجود کے تمام ناسوروں کو نشتر کی طرح کاٹ پھینکے اور پھر بہت نرمی سے ہر گھاؤ کو سی دے۔
    (عمیرہ احمد کے ناول ’’آؤ پہلا قدم دھرتے ہیں‘‘ سے اقتباس)
     
  27. عائشہ
    آف لائن

    عائشہ ممبر

    شمولیت:
    ‏25 مارچ 2018
    پیغامات:
    226
    موصول پسندیدگیاں:
    136
    ملک کا جھنڈا:
    ” ﻣﯿﮉﻡ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺕ ﭘﻮﭼﮭﻨﺎ ﮨﮯ ” ﺍﺱ ﺭﻭﺯ ﻭﮦ ﮐﻼﺱ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻣﯿﮉﻡ ﻣﺼﺒﺎﺡ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﭼﻠﯽ ﮔﺌﯽ ﺗﮭﯽ .
    “ ﺟﯽ ﺿﺮﻭﺭ ﭘﻮﭼﮭﺌﮯ ”. ﻣﯿﮉﻡ ﺑﮩﺖ ﺗﻮﺟﮧ ﺳﮯ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﭘﻠﭩﯽ ﺗﮭﯿﮟ
    ﻭﮦ ﻣﯿﻢ ! ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﻧﻤﺎﺯ ﭘﮍﮬﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﺎﺗﯽ، ﺗﻮ ﺧﯿﺮ ﮨﮯ؟ ”-
    ” ﮨﺎﮞ، ﮐﯿﻮﮞ ﻧﮩﯿﮟ ﺧﯿﺮ ﮨﮯ ، ﺍﭨﺲ ﺍﻭﮐﮯ، ﺍﮔﺮ ﺁﭖ ﻧﮩﯿﮟ ﭘﮍﮪ ﺳﮑﺘﯿﮟ ﺗﻮ ” ﻣﺤﻤﻞ ﮐﻮ ﻟﮕﺎ، ﻣﻨﻮﮞ ﺑﻮﺟﮫ ﺍﺱ ﮐﮯ ﮐﺎﻧﺪﮬﻮﮞ ﺳﮯ ﺍﺗﺮ ﮔﯿﺎ ﮨﻮ . ﻭﮦ ﺍﯾﮏ ﺩﻡ ﻗﯿﺪ ﺳﮯ ﺁﺯﺍﺩ ﮨﻮﺋﯽ ﺗﮭﯽ --
    ” ﻭﮨﯽ ﺗﻮ ﻣﯿﻢ ! ﻣﯿﮟ ﺑﺎﻗﯽ ﻧﯿﮑﯿﺎﮞ ﮐﺮ ﻟﻮﮞ، ﻗﺮﺁﻥ ﭘﮍﮪ ﻟﻮﮞ، ﭨﮭﯿﮏ ﮨﮯ ﻧﺎ . ﻧﻤﺎﺯ ﭘﮍﮬﻨﺎ ﺑﮩﺖ ﺿﺮﻭﺭﯼ ﺗﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ؟ ”-
    “ ﻧﮩﯿﮟ، ﺍﺗﻨﺎ ﺿﺮﻭﺭﯼ ﺗﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ . ﺍﮔﺮ ﺁﭖ ﻧﮩﯿﮟ ﭘﮍﮬﻨﺎ ﭼﺎﮨﺘﯿﮟ ﺗﻮ ﻧﮧ ﭘﮍﮬﯿﮟ ”.-
    ” ﻣﯿﻢ ! ﮐﻮﺋﯽ ﻓﺮﻕ ﺗﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﭘﮍﮮ ﮔﺎ ﻧﺎ ؟ ”-
    ” ﻗﻄﻌﺎ ﻓﺮﻕ ﻧﮩﯿﮟ ﭘﮍﮮ ﮔﺎ . ﯾﮧ ﺑﻠﮑﻞ ﺁﭖ ﮐﯽ ﺍﭘﻨﯽ ﻣﺮﺿﯽ ﭘﮧ ﮨﮯ “-
    ” ﺍﻭﮦ ..… ﺍﻭﮐﮯ ”! ﻭﮦ ﺑﮯ ﺣﺪ ﺁﺳﻮﺩﮦ ﺳﯽ ﻣﺴﮑﺮﺍﺋﯽ --
    ﻣﮕﺮ ﻣﯿﮉﻡ ﻣﺼﺒﺎﺡ ﮐﯽ ﺑﺎﺕ ﺍﺑﮭﯽ ﺧﺘﻢ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺋﯽ ﺗﮭﯽ --
    ” ﯾﻘﯿﻦ ﮐﺮﯾﮟ ﻣﺤﻤﻞ ! ﮐﻮﺋﯽ ﻓﺮﻕ ﻧﮩﯿﮟ ﭘﮍﮮ ﮔﺎ ﺍﺳﮯ ﺁﭖ ﺑﯿﺸﮏ ﻧﻤﺎﺯ ﻧﮧ ﭘﮍﮬﯿﮟ، ﺑﮯ ﺷﮏ ﺳﺠﺪﮦ ﻧﮧ ﮐﺮﯾﮟ ﺟﻮ ﮨﺴﺘﯿﺎﮞ ﺍﺱ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﮨﯿﮟ، ﻭﮦ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻋﺒﺎﺩﺕ ﺳﮯ ﺗﮑﺒﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﯿﮟ --
    ﺍﮔﺮ ﺁﭖ ﮐﺮ ﻟﯿﮟ، ﺍﺳﮯ ﮐﯿﺎ ﻓﺮﻕ ﭘﮍﮮ ﮔﺎ - ﺍﺱ ﺁﺳﻤﺎﻥ ﮐﺎ ﺑﺎﻟﺸﺖ ﺑﮭﺮ ﺑﮭﯽ ﺣﺼﮧ ﺧﺎﻟﯽ ﻧﮩﯿﮟ -
    -ﺟﮩﺎﮞ ﮐﻮﺋﯽ ﻓﺮﺷﺘﮧ ﺳﺠﺪﮦ ﻧﮧ ﮐﺮ ﺭﮨﺎ ﮨﻮ ﺍﻭﺭ ﻓﺮﺷﺘﮧ ﺟﺎﻧﺘﯽ ﮨﯿﮟ، ﮐﺘﻨﺎ ﺑﮍﺍ ﮨﻮ ﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ؟
    -ﺟﺐ ﺍﺱ ﭘﮩﺎﮌﯼ ﭘﺮ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﻪ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﻪ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﻧﮯ ﺟﺒﺮﺍﺋﯿﻞ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﮐﮯ ﭘﮑﺎﺭﻧﮯ ﭘﮧ ﭘﻠﭧ ﮐﺮ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺗﮭﺎ ﺗﻮ ﺟﺒﺮﺍﺋﯿﻞ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﮐﺎ ﻗﺪ ﺯﻣﯿﻦ ﺳﮯ ﺁﺳﻤﺎﻥ ﺗﮏ ﺗﮭﺎ
    ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﮐﮯ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﻪ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﻪ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﮐﻮ ﺁﺳﻤﺎﻥ ﻧﻈﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ . ﺍﯾﺴﮯ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﻓﺮﺷﺘﮯ 70- ﮨﺰﺍﺭ ﻓﺮﺷﺘﮯ ﮐﻌﺒﮧ ﮐﺎ ﺭﻭﺯ ﻃﻮﺍﻑ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ، ﯾﮧ ﺗﻌﺪﺍﺩ ﻋﺎﻡ ﺳﯽ ﻟﮕﺘﯽ ﮨﮯ
    ﻣﮕﺮ ﺟﺎﻧﺘﯽ ﮨﻮ، ﯾﮧ ﺟﻮ 70 ﮨﺰﺍﺭ ﻓﺮﺷﺘﮯ ﺭﻭﺯ ﻃﻮﺍﻑ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ، ﺍﻥ ﮐﯽ ﺑﺎﺭﯼ ﭘﮭﺮ ﻗﯿﺎﻣﺖ ﺗﮏ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﺋﮯ ﮔﯽ - ﺍﺱ ﺭﺏ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺍﺗﻨﯽ ﻻﺗﻌﺪﺍﺩ ﮨﺴﺘﯿﺎﮞ ﮨﯿﮟ ﻋﺒﺎﺩﺕ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ، ﺁﭖ ﻧﻤﺎﺯ ﻧﮧ ﺑﮭﯽ ﭘﮍﮬﯿﮟ ﺗﻮ ﺍﺳﮯ ﮐﯿﺎ ﻓﺮﻕ ﭘﮍﮮ ﮔﺎ؟ ”
    ﻣﯿﮉﻡ ﻣﺼﺒﺎﺡ ﺟﺎ ﭼﮑﯽ ﺗﮭﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﺩﮬﻮﺍﮞ ﺩﮬﻮﺍﮞ ﭼﮩﺮﮮ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﮐﺘﺎﺑﯿﮟ ﺳﯿﻨﮯ ﺳﮯ ﻟﮕﺎﺋﮯ ﺳﺎﮐﺖ ﺳﯽ ﮐﮭﮍﯼ ﺗﮭﯽ .
    ﺍﺱ ﮐﻮ ﻟﮕﺎ ،ﻭﮦ ﺍﺏ ﻧﻤﺎﺯ ﮐﺒﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﭼﮭﻮﮌ ﺳﮑﮯ ﮔﯽ __________ !!!!!!!
    ﻧﻤﺮﮦ ﺍﺣﻤﺪ ﮐﮯ ﻧﺎﻭﻝ ﻣﺼﺤﻒ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺕ ﺍﻗﺘﺒﺎﺱ
     
  28. ناصر إقبال
    آف لائن

    ناصر إقبال ممبر

    شمولیت:
    ‏6 دسمبر 2017
    پیغامات:
    1,670
    موصول پسندیدگیاں:
    343
    ملک کا جھنڈا:
    دنیا میں ہر نعمت سے پہلے کچھ تکلیف، کچھ آزمائش اور کچھ پریشانی آتی ہے ۔ ایک ماں کو بیٹے کی کتنی تمنا ہوتی ہے لیکن بیٹے کی ولادت سے پہلے ماں جس طرح کی راتیں کاٹتی ہے اگر کوئی بیٹا اس تکلیف کا دسواں حصہ بھی جان لے تو کبھی اپنی ماں کے سامنے اونچی آواز سے نہ بولے!
     
    عائشہ نے اسے پسند کیا ہے۔
  29. عائشہ
    آف لائن

    عائشہ ممبر

    شمولیت:
    ‏25 مارچ 2018
    پیغامات:
    226
    موصول پسندیدگیاں:
    136
    ملک کا جھنڈا:
    خواتین و حضرات ! گاڑی کا وہ میکینک کام کرتے کرتے اٹھا اس نے پنکچر چیک کرنے والے ٹب سے ہاتھ گیلے کے اور ویسے ہی جا کر کھانا کھانا شروع کر دیا -
    میں نے اس سے کہا کہ الله کے بندے اس طرح گندے ہاتھوں سے کھانا کھاؤ گے تو بیمار پڑ جاؤ گے - ہزاروں جراثیم تمہارے پیٹ میں چلے جائینگے ، کیا تم نے کبھی اس طرح کی باتیں ڈیٹول یا صابن کے اشتہار میں نہیں دیکھیں ،
    تو اس نے جواب دیا کہ " صاحب جب ہم ہاتھوں پر پہلا کلمہ
    پڑھ کر پانی ڈالتے ہیں تو سارے جراثیم خود بہ خود مر جاتے ہیں اور جب بسم للہ پڑھ کر روٹی کا لقمہ توڑتے ہیں تو جراثیموں کی جگہ ہمارے پیٹ میں برکت اور صحت داخل ہو جاتی ہے -

    مجھے اس مکینک کی بات نے ہلا کر رکھ دیا یہ تو اس کا توکل تھا جو اسے بیمار نہیں ہونے دیتا تھا - میں اس سے اب بھی ملتا ہوں - اتنے سال گزر جانے کے بعد بھی وہ مجھ سے زیادہ صحت مند ہے -

    از اشفاق احمد زاویہ ٣ خدا سے زیادہ جراثیموں کا خوف
     
  30. ۱۲۳بے نام
    آف لائن

    ۱۲۳بے نام ممبر

    شمولیت:
    ‏16 مئی 2018
    پیغامات:
    3,161
    موصول پسندیدگیاں:
    480
    ملک کا جھنڈا:
    اقبال کی برکتیں

    “ارے میاں ضربِ کلیم ! بھئ کہاں ہو ضربِ کلیم“
    “میاں ضربِ کلیم - ابھی تک زبورِ عجم کو اسکول لے کر نہیں گئے۔ جاؤ اور ذرا پیامِ مشرق کو میرے پاس بھیج دو۔“

    “مولوی صاحب یہ کیا؟“ میں نے حیرت زدگی کے عالم میں پوچھا، “یہ ضربِ کلیم، یہ زبورِ عجم - - - - “

    “ہاں میاں، مولوی عبدالصمد خان نے فخر سے اپنی گنجی چندیا کھجاتے ہوئے کہا “مجھے اقبال سے بڑی عقیدت ہے، وہ میرے محسن ہیں، وہ میرے رزاق ہیں، انہوں نے میرا گھر بھر دیا، میں ان کا معتقد ہوں۔ میں نے اظہارِ عقیدت کے طور پر اپنے سب بچوں کے نام ان کی تصانیف پر رکھ دیے ہیں۔“

    “ضربِ کلیم چھٹی کلاس میں پڑھتا ہے، بی بی زبورِ عجم دوسری جماعت کی طالبہ ہے، پیامِ مشرق گھڑی سازی کی دکان پر کام سیکھ رہا ہے اور کلامِ جبریل قرآن پاک حفظ کر رہا ہے۔ اور میری بڑی بیٹی اسرارِ خودی کالج کی طالبہ ہے اور میں نے اپنی بیوی کا نام بھی غفورن بی بی چھوڑ کر بانگِ درا رکھ چھوڑا ہے۔“

    اتنے میں اندر سے دستک ہوئی۔ “ذرا سُنیے مولوی صاحب “

    مولوی صاحب دروازے کی طرف لپکے، “ہاں پھوپھی فاطمہ، کوئی خوشخبری ہے کیا؟“

    “ہاں مولوی صاحب! مبارک ہو، خدا نے آپکو جڑواں بچے دیئے ہیں اور دونوں ہی لڑکے ہیں۔“

    مولوی صاحب آ کر بیٹھ گئے۔ خوشی سے ان کا چہرہ تمتما رہا تھا۔

    “خدا نے دو بچے ایک دم عطا کیے ہیں میاں۔“

    “مبارک باد قبول کریں مولوی صاحب!“

    “ہاں میاں! خدا کا احسان ہے۔ اچھا میاں! خدا تمہاری خیر کرے، ان کے نام تو بتاؤ۔ اقبال کی کتابوں کے نام تو قریب قریب ختم ہو گئے۔ تاہم دماغ لڑاؤ اور کوئی اچھے سے دو نام سوچو۔“

    “سوچ لیئے، مولوی صاحب! سوچ لیئے۔“

    “ہاں ہاں بتاؤ۔“

    “شکوہ اور جوابِ شکوہ“

    (ڈاکٹر صفدر محمود کی کتاب “سدا بہار“ سے اقتباس)
     

اس صفحے کو مشتہر کریں