1. اس فورم پر جواب بھیجنے کے لیے آپ کا صارف بننا ضروری ہے۔ اگر آپ ہماری اردو کے صارف ہیں تو لاگ ان کریں۔

دل کی آواز ( آج کا گیت )

'اشعار اور گانوں کے کھیل' میں موضوعات آغاز کردہ از چھٹا انسان, ‏22 دسمبر 2016۔

  1. چھٹا انسان
    آف لائن

    چھٹا انسان ممبر

    شمولیت:
    ‏13 دسمبر 2016
    پیغامات:
    1,353
    موصول پسندیدگیاں:
    448
    ملک کا جھنڈا:
    چاند سی محبوبہ ہو میری کب
    ایسا میں نے سوچا تھا
    ہاں تم بالکل ویسی ہو
    جیسا میں نے سوچا تھا

    نہ قسمیں ہیں نہ رسمیں ہیں
    نہ شکوے ہیں نہ وعدے ہیں
    ایک صورت بھولی بھالی ہے
    دو نیناں سیدھے سادھے ہیں
    ایسا ہی روپ خیالوں میں تھا
    ایسا میں نے سوچا تھا
    ہاں تم بالکل ویسی ہو
    جیسا میں نے سوچا تھا

    میری خوشیاں ہی نا بانٹے
    میرے غم بھی سہنا چاہے
    دیکھے نہ خواب وہ محلوں کے
    میرے دل میں رہنا چاہے
    اس دنیا میں کون تھا ایسا
    جیسا میں نے سوچا تھا
    ہاں تم بالکل ویسی ہو
    جیسا میں نے سوچا تھا
    چاند سی محبوبہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ۔
    ۔
    ۔ ۔ ۔
  2. چھٹا انسان
    آف لائن

    چھٹا انسان ممبر

    شمولیت:
    ‏13 دسمبر 2016
    پیغامات:
    1,353
    موصول پسندیدگیاں:
    448
    ملک کا جھنڈا:
    بکھری زلفوں کو سجانے کی اجازت دے دو
    ہاں مجھے پاس میں آنے کی اجازت دے دو
    دل بھی کیا چیز ہے روکے سے نہیں رکتا ہے
    لب سے شبنم کو چرانے کی اجازت دے دو

    خواب آنکھوں میں بسانے کی اجازت دے دو
    راتیں رنگین بنانے کی اجازت دے دو
    دل بھی کیا چیز ہے روکے سے نہیں رکتا ہے
    بےقراری کو مٹانے کی اجازت دے دو
    بکھری زلفوں کو سجانے کی اجازت دے دو

    پاس آتا ہوں صنم
    دور چلا جاتا ہوں
    کتنا نازک ہے بدن
    چھونے سے گھبراتا ہوں
    پیاس نظروں سے بجھانے کی اجازت دے دو
    ہاں مجھے پاس میں آنے کی اجازت دے دو
    دل بھی کیا چیز ہے روکے سے نہیں رکتا ہے
    لب سے شبنم کو چرانے کی اجازت دے دو
    خواب آنکھوں میں بسانے کی اجازت دے دو
    پیار کا خواب ہو تم
    میری نگاہوں میں رہو
    بن کے دھڑکن دلبر
    دل کی پناہوں میں رہو
    مجھکو سانسوں میں بسانے کی اجازت دے دو
    راتیں رنگین بنانے کی اجازت دے دو
    دل بھی کیا چیز ہے روکے سے نہیں رکتا ہے
    بےقراری کو مٹانے کی اجازت دے دو
    بکھری زلفوں کو سجانے کی اجازت دے دو
    راتیں رنگین بنانے کی اجازت دے دو
    ۔
    ۔
    ۔ ۔ ۔
  3. چھٹا انسان
    آف لائن

    چھٹا انسان ممبر

    شمولیت:
    ‏13 دسمبر 2016
    پیغامات:
    1,353
    موصول پسندیدگیاں:
    448
    ملک کا جھنڈا:
    جب نہ مانا دل دیوانہ
    قلم اٹھا کے جان جاناں
    خط میں نے تیرے نام لکھا
    حال دل تمام لکھا

    کاغذ کے اس ٹکرے کو تم دل سمجھ لینا
    جہاں بوند گری ہو سیاہی کی اسے دل سمجھ لینا
    یادوں میں ڈوب کے
    کاغذ کو چوم کے
    پیار کا تجھکو سلام لکھا
    حال دل تمام لکھا

    میں نے دل سے لاکھ کہا کہ اتنا تڑپنا ٹھیک نہیں
    ایسے کسی کہ پیار میں پاگل تیرا مچلنا ٹھیک نہیں
    دل بولا مجبوری ہے
    خط لکھنا ضروری ہے
    دل ہوا تیرا غلام لکھا
    حال دل تمام لکھا

    پیار کا ایسا اثر بھی ہوگا یہ مجھے معلوم نہ تھا
    اتنا درد جگر بھی ہوگا یہ مجھے معلوم نہ تھا
    میں نے دل تھام کے
    آج تیرے نام سے
    پیار کا پہلا پیام لکھا
    حال دل تمام لکھا
    جب نہ مانا دل دیوانہ
    ۔
    ۔
    ۔ ۔ ۔
  4. چھٹا انسان
    آف لائن

    چھٹا انسان ممبر

    شمولیت:
    ‏13 دسمبر 2016
    پیغامات:
    1,353
    موصول پسندیدگیاں:
    448
    ملک کا جھنڈا:
    نہ ہنسنا میرے غم پہ انصاف کرنا
    جو میں رو پڑوں تو مجھے معاف کرنا

    جب درد نہیں تھا سینے میں
    تب خاک مزہ تھا جینے میں
    اب کہ شاید ہم بھی روئیں
    ساون کے مہینے میں
    جب درد نہیں تھا سینے میں

    یاروں کا غم کیا ہوتا ہے
    معلوم نہ تھا انجانوں کو
    ساحل پہ کھڑے ہوکر ہم نے
    دیکھا اکثر طوفانوں کو
    اب کہ شاید ہم بھی ڈوبیں
    موجوں کے سفینے میں
    جب درد نہیں تھا سینے میں

    ایسے تو ٹھیس نہ لگتی تھی
    جب اپنے روٹھا کرتے تھے
    اتنا تو درد ہوتا تھا
    جب سپنے ٹوٹا کرتے تھے
    اب کے شاید دل بھی ٹوٹے
    اب کے شاید ہم بھی روئیں
    ساون کے مہینے میں
    جب درد نہ تھا سینے میں

    اس قدر پیار تو کوئی کرتا نہیں
    مرنے والوں کے ساتھ کوئی مرتا نہیں
    آپ کے سامنے میں نہ پھر آؤنگا
    گیت ہی جب نہ ہونگے تو کیا گاؤنگا
    میری آواز پیاری ہے تو دوستوں
    یار بچ جائے میرا دعا سب کرو
    ۔
    ۔
    ۔ ۔ ۔
    Last edited: ‏12 جنوری 2017
  5. چھٹا انسان
    آف لائن

    چھٹا انسان ممبر

    شمولیت:
    ‏13 دسمبر 2016
    پیغامات:
    1,353
    موصول پسندیدگیاں:
    448
    ملک کا جھنڈا:
    میری قسمت میں تو نہیں شاید
    کیوں تیرا انتظار کرتا ہوں
    میں تجھے کل بھی پیار کرتا تھا
    میں تجھے اب بھی پیار کرتا ہوں
    آج سمجھی ہوں پیار کو شاید
    آج میں تجھکو پیار کرتی ہوں
    کل میرا انتظار تھا تجھکو
    آج میں انتظار کرتی ہوں
    میری قسمت میں تو نہیں شاید

    سوچتا ہوں کہ میری آنکھوں نے
    کیوں سجائے تھے پیار کے سپنے
    تجھ سے مانگی تھی ایک خوشی میں نے
    تو نے غم بھی نہیں دیے اپنے
    زندگی بوجھ بن گئی اب تو
    اب تو جیتا ہوں اور نہ مرتا ہوں
    میں تجھے کل بھی پیار کرتا تھا
    میں تجھے اب بھی پیار کرتا ہوں
    میری قسمت میں تو نہیں شاید

    اب نہ ٹوٹیں یہ پیار کے رشتے
    اب یہ رشتے سنبھالنے ہونگے
    میری راہوں سے تجھکو کل کی طرح
    دکھ کے کانٹے نکالنے ہونگے
    مل نہ جائیں خوشی کے رستے میں
    غم کی پرچھائیوں سے ڈرتی ہوں
    کل میرا نتظار تھا تجھکو
    آج میں انتظار کرتی ہوں
    آج سمجھی ہوں پیار کو شاید

    دل نہیں اختیار میں میرے
    جان جائے گی پیار میں تیرے
    تجھ سے ملنے کی آس ہے آجا
    میری دنیا اداس ہے آجا
    پیار شاید اسی کو کہتے ہیں
    ہر گھڑی بے قرار رہتا ہوں
    رات دن تیری یاد آتی ہے
    رات دن انتظار کرتی ہوں
    میری قسمت میں تو نہیں شاید
    کیوں تیرا انتظار کرتا ہوں
    میں تجھے کل بھی پیار کرتا تھی
    میں تجھے اب بھی پیار کرتا ہوں
    میں تجھے پیار پیار کرتی ہوں
    میں تجھے پیار پیار کرتا ہوں
    ۔
    ۔
    ۔ ۔ ۔
  6. چھٹا انسان
    آف لائن

    چھٹا انسان ممبر

    شمولیت:
    ‏13 دسمبر 2016
    پیغامات:
    1,353
    موصول پسندیدگیاں:
    448
    ملک کا جھنڈا:
    عشق والوں سے نہ پوچھو کہ
    ان کی رات کا عالم تنہا کیسے گزرتا ہے
    جدا ہو ہمسفر جس کا وہ اس کو یاد کرتا ہے
    نہ ہو جس کا کوئی وہ ملنے کی فریاد کرتا ہے
    سلام عشق میری جان ذرا قبول کرلو
    تم ہم سے پیار کرنے کی ذرا سی بھول کرلو
    میرا دل بے چین ہے ، ہمسفر کے لیے
    سلام عشق میری جان ذرا قبول کرلو

    میں سناؤں تمھیں بات ایک رات کی
    چاند بھی اپنی پوری جوانی پہ تھا
    دل میں طوفان تھا ایک ارمان تھا
    دل کا طوفان اپنی روانی پہ تھا
    ایک بادل ادھر سے چلا جھوم کے
    دیکھتے دیکھتے چاند پر چھا گیا
    چاند بھی کھو گیا اس کی آغوش میں
    اف یہ کیا ہوگیا جوش ہی جوش میں
    میرا دل دھڑکا میرا دل تڑپا کسی کی نظر کے لیے
    سلام عشق میری جان ذرا قبول کرلو

    اس کے آگے کی اب داستاں مجھے سے سن
    سن کے تیری نظر ڈبڈبا جائے گی
    بات دل کی جو اب تک تیرے دل میں تھی
    میرا دعوی ہے ہونٹوں پہ آ جائے گی
    تو مسیحا محبت کے ماروں کا ہے
    ہم تیرا نام سن کے چلے آئے ہیں
    اب دوا دے ہمیں یا تو دے دے زہر
    تیری محفل میں یہ دل جلے آئے ہیں
    ایک احسان کر
    ایک احسان کر اپنے مہمان پر
    اپنے مہمان پر ایک احسان کر
    دے دعائیں تجھے عمر بھر کے لیے
    سلام عشق میری جان ذرا قبول کرلو
    ۔
    ۔
    ۔ ۔ ۔
  7. چھٹا انسان
    آف لائن

    چھٹا انسان ممبر

    شمولیت:
    ‏13 دسمبر 2016
    پیغامات:
    1,353
    موصول پسندیدگیاں:
    448
    ملک کا جھنڈا:
    بابل کی دعائیں لیتی جا
    جا تجھ کو سکھی سنسار ملے
    میکے کی کبھی نہ یاد آئے
    سسرال میں اتنا پیار ملے
    بابل کی دعائیں ۔ ۔ ۔

    نازوں سے تجھے پالا میں نے
    کلیوں کی طرح پھولوں کی طرح
    بچپن میں جھلایا ہے تجھ کو
    بانہوں نے میری جھولوں کی طرح
    میرے باغ کی اے نازک ڈالی
    تجھے ہر پل نئی بہار ملے
    بابل کی دعائیں ۔ ۔ ۔

    جس گھر سے بندھے ہیں بھاگ تیرے
    اس گھر میں سدا تیرا راج رہے
    ہونٹوں پہ ہنسی کی دھوپ کھلے
    ماتھے پہ خوشی کا تاج رہے
    کبھی جس کی جوتھ نہ ہو پھیکی
    تجھے ایسا روپ سنگار ملے
    بابل کی دعائیں ۔ ۔ ۔

    بیتے تیرے جیون کی گھڑیاں
    آرام کی ٹھنڈی چھاؤں میں
    کانٹا بھی نہ چبھنے پائے کبھی
    میری لاڈلی تیرے پاؤں میں
    اس دوار سے بھی دکھ دور رہیں
    جس دوار سے تیرا دوار ملے
    بابل کی دعائیں ۔ ۔ ۔
    ۔
    ۔
    ۔ ۔ ۔
  8. چھٹا انسان
    آف لائن

    چھٹا انسان ممبر

    شمولیت:
    ‏13 دسمبر 2016
    پیغامات:
    1,353
    موصول پسندیدگیاں:
    448
    ملک کا جھنڈا:
    کسی نظر کو تیرا انتظار آج بھی ہے
    کہاں ہو تم کہ یہ دل بے قرار آج بھی ہے
    کسی نظر کو تیرا انتظار آج بھی ہے

    وہ وادیاں وہ فضائیں کہ ہم ملے تھے جہاں
    میری وفا کا وہیں پر مزار آج بھی ہے
    کسی نظر کو تیرا انتظار آج بھی ہے

    نہ جانے دیکھ کے کیوں ان کو یہ ہوا احساس
    کہ میرے دل پہ انہیں اختیار آج بھی ہے
    کسی نظر کو تیرا انتظار آج بھی ہے

    وہ پیار جس کے لئے ہم نے چھوڑ دی دنیا
    وفا کی راہ میں گھائل وہ پیار آج بھی ہے
    وہ پیار جس کے لئے ہم نے چھوڑ دی دنیا

    یقیں نہیں ہے مگر آج بھی یہ لگتا ہے
    میری تلاش میں شاید بہار آج بھی ہے
    کسی نظر کو تیرا انتظار آج بھی ہے

    نہ پوچھ کتنے محبت کے زخم کھائے ہیں
    کہ جن کو سوچ کے دل سوگوار آج بھی ہے
    وہ پیار جس کے لئے ہم نے چھوڑ دی دنیا
    وفا کی راہ میں گھائل وہ پیار آج بھی ہے
    کسی نظر کو تیرا انتظار آج بھی ہے

    زندگی کیا کوئی نثار کرے
    کس سے دنیا میں کوئی پیار کرے
    اپنا سایہ بھی اپنا دشمن ہے
    کون اب کس کا اعتبار کرے
    اعتبار کرے ۔ ۔ ۔
    ۔
    ۔
    ۔ ۔ ۔
  9. چھٹا انسان
    آف لائن

    چھٹا انسان ممبر

    شمولیت:
    ‏13 دسمبر 2016
    پیغامات:
    1,353
    موصول پسندیدگیاں:
    448
    ملک کا جھنڈا:
    رات اندھیری دور سویرا
    برباد ہے دل میرا ۔ ۔ ۔ ہو ہو

    آنا بھی چاہیں آ نہ سکیں ہم
    کوئی نہیں آسرا
    کھوئی ہے منزل رستہ ہے مشکل
    چاند بھی آج چھپا ۔ ۔ ۔ ہو ہو
    رات اندھیری دور سویرا

    آہ بھی روئے راہ بھی روئے
    سوجھے نہ بات کوئی
    تھوڑی عمر ہے سونا سفر ہے
    دیگا نہ ساتھ کوئی ۔ ۔ ۔ ہو ہو
    رات اندھیری دور سویرا
    ۔
    ۔
    ۔ ۔ ۔
  10. چھٹا انسان
    آف لائن

    چھٹا انسان ممبر

    شمولیت:
    ‏13 دسمبر 2016
    پیغامات:
    1,353
    موصول پسندیدگیاں:
    448
    ملک کا جھنڈا:
    لکھے جو خط تجھے وہ تیری یاد میں
    ہزاروں رنگ کے نظارے بن گئے
    سویرا جب ہوا تو پھول بن گئے
    جو رات آئی تو ستارے بن گئے
    لکھے جو خط تجھے

    کوئی نغمہ کہیں گونجا
    کہا دل نے یہ تو آئی
    کہیں چٹکی کلی کوئی
    میں یہ سمجھا تو شرمائی
    کوئی خوشبو کہیں بکھری
    لگا یہ زلف لہرائی
    لکھے جو خط تجھے

    فضا رنگین ادا رنگین
    یہ اٹھلانا یہ شرمانا
    یہ انگڑائی یہ تنہائی
    یہ ترسا کر چلے جانا
    بنا دیگا نہیں کس کو
    جواں جادو یہ دیوانہ
    لکھے جو خط تجھے

    جہاں تو ہے وہاں میں ہوں
    میرے دل کی تو دھڑکن ہے
    مسافر میں تو منزل ہے
    میں پیاسا ہوں تو ساون ہے
    میری دنیا یہ نظریں ہیں
    میری ××× یہ دامن ہے
    لکھے جو خط تجھے
    ۔
    ۔
    ۔ ۔ ۔
  11. چھٹا انسان
    آف لائن

    چھٹا انسان ممبر

    شمولیت:
    ‏13 دسمبر 2016
    پیغامات:
    1,353
    موصول پسندیدگیاں:
    448
    ملک کا جھنڈا:
    کسی مہرباں نے آکے میری زندگی سجا دی
    میرے دل کی دھڑکنوں میں نئی آرزو جگا دی
    کسی مہرباں نے آکے میری زندگی سجا دی

    تنہائیاں تھیں ہرسو خاموش تھا یہ منظر
    ٹہرا ہوا تھا میری بیتابی کا سمندر
    موجوں کو آکے چھیڑا ہلچل کوئی مچا دی
    میرے دل کی دھڑکنوں میں نئی آرزو جگا دی
    کسی مہرباں نے آکے میری زندگی سجا دی

    آئی نہیں بہاریں بس تھا خزاں کا موسم
    شامیں بجھی بجھی تھیں بے نور تھا یہ عالم
    اندھیرے راستے میں مجھے روشنی دکھا دی
    میرے دل کی دھڑکنوں میں نئی آرزو جگا دی
    کسی مہرباں نے آکے میری زندگی سجا دی
    ۔
    ۔
    ۔ ۔ ۔
  12. حنا شیخ
    آف لائن

    حنا شیخ ممبر

    شمولیت:
    ‏21 جولائی 2016
    پیغامات:
    2,293
    موصول پسندیدگیاں:
    1,274
    ملک کا جھنڈا:

    اک شہنشاہ نے بنوا کے حسیں تاج محل
    ساری دنیا کو محبت کی نشانی دی ہے

    اس کے سائے میں سدا پیار کے چرچے ہوں گے
    ختم جو ہو نہ سکے گی وہ کہانی دی ہے

    اک شہنشاہ نے بنوا کے حسیں تاج محل
    تاج وہ شمع ہے الفت کے صنم خانے کی

    جس کے پروانوں میں مفلس بھی ہیں زردار بھی ہیں
    سنگ مرمر میں سمائے ہوئے خوابوں کی قسم

    مرحلے پیار کے آساں بھی ہیں دشوار بھی ہیں
    دل کو اک جوش ارادوں کو جوانی دی ہے

    اک شہنشاہ نے بنوا کے حسیں تاج محل
    تاج اک زندہ تصور ہے کسی شاعر کا

    اس کا افسانہ حقیقت کے سوا کچھ بھی نہیں
    اس کے آغوش میں آ کر یہ گماں ہوتا ہے

    زندگی جیسے محبت کے سوا کچھ بھی نہیں
    تاج نے پیار کی موجوں کو روانی دی ہے

    اک شہنشاہ نے بنوا کے حسیں تاج محل
    یہ حسیں رات یہ مہکی ہوئی پر نور فضا

    ہو اجازت تو یہ دل عشق کا اظہار کرے
    عشق انسان کو انسان بنا دیتا ہے

    کس کی ہمت ہے محبت سے جو انکار کرے
    آج تقدیر نے یہ رات سہانی دی ہے

    اک شہنشاہ نے بنوا کے حسیں تاج محل
    ساری دنیا کو محبت کی نشانی دی ہے

    اک شہنشاہ نے بنوا کے حسیں تاج محل..
    شکیل بدایونی

  13. چھٹا انسان
    آف لائن

    چھٹا انسان ممبر

    شمولیت:
    ‏13 دسمبر 2016
    پیغامات:
    1,353
    موصول پسندیدگیاں:
    448
    ملک کا جھنڈا:
    جب کوئی بات بگڑ جائے
    جب کوئی مشکل پڑ جائے
    تم دینا ساتھ میرا ، او ہمنوا
    نہ کوئی ہے نہ کوئی تھا
    زندگی میں تمھارے سوا
    تم دینا ساتھ میرا ، او ہمنوا

    ہو چاندنی جب تک رات
    دیتا ہے ہر کوئی ساتھ
    تم مگر اندھیروں میں
    نہ چھوڑنا میرا ہاتھ
    جب کوئی بات بگڑ جائے

    وفاداری کی وہ رسمیں
    نبھائیں گے ہم تم قسمیں
    ایک بھی سانس زندگی کی
    جب تک ہو اپنے بس میں
    جب کوئی بات بگڑ جائے

    دل کو میرے ہوا یقیں
    ہم پہلے بھی ملے کہیں
    سلسلہ یہ صدیوں کا
    کوئی آج کی بات نہیں
    جب کوئی بات بگڑ جائے
    ( Tribute to Vinod Khanna )
    ۔
    ۔
    ۔ ۔ ۔

اس صفحے کو مشتہر کریں