1. اس فورم پر جواب بھیجنے کے لیے آپ کا صارف بننا ضروری ہے۔ اگر آپ ہماری اردو کے صارف ہیں تو لاگ ان کریں۔

﴿ کاش آج میں اپنے دیس میں ہوتا ﴾

'آپ کی شاعری' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد یاسرعلی, ‏21 اگست 2012۔

  1. محمد یاسرعلی
    آف لائن

    محمد یاسرعلی ممبر

    شمولیت:
    ‏26 ستمبر 2011
    پیغامات:
    140
    موصول پسندیدگیاں:
    3
    ملک کا جھنڈا:
    جب بھی پردیس میں عید آتی ہے
    یاد اپنے دیس کی بہت آتی ہے
    جب عید پڑھ کے لوٹتا ہوں
    میں اپنے سنسان کمرے میں
    یاد اپنے گھر کے دہلیز آتی ہے
    جہاں جب میں عید پڑھ کے آتا تھا
    میری ماں پہلے سے کھڑی ہوتی تھی
    میری ماں میرا ماتھا چوم کے
    مجھے عید مبارک کہتی تھی
    اور خوب دعائیں دیتی تھی
    آج بھی میری ماں
    اسی دہلیز پہ بیٹھی ہو گئی
    اور جب سب عید پڑھ کے
    گھر لوٹ آئے ہوں گے
    میری ماں کی آنکھوں میں
    آنسو آگئے ہوں گئے
    آج بھی میری ماں نے
    میرے لیے خوب دعائیں کی ہوں گئی
    پھر سارا دن
    گم سم ہو کے عید گزاری ہو گئی
    کاش آج میں پردیس میں نہ ہوتا
    کاش آج میں اپنے دیس میں ہوتا
    اور آج بھی میری ماں نے
    میرا ماتھا چوم کے
    مجھے عید مبارک کہا ہوتا
    از " محمد یاسرعلی "
    www.facebook.com/meraintkhab
     
  2. غوری
    آف لائن

    غوری ممبر

    شمولیت:
    ‏18 جنوری 2012
    پیغامات:
    38,242
    موصول پسندیدگیاں:
    11,507
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: ﴿ کاش آج میں اپنے دیس میں ہوتا ﴾

    بہت خوب۔
    جنھیں پردیس کی خاموش اور جذبات سے عاری ساعتوں کا ادراک نہیں، اللہ تعالی ان کے لئے رزق کےوافر اسباب وطن میں ہی مہیا فرمادیں۔ آمین۔
     
  3. پاکستانی55
    آف لائن

    پاکستانی55 ناظم سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏6 جولائی 2012
    پیغامات:
    98,397
    موصول پسندیدگیاں:
    24,232
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: ﴿ کاش آج میں اپنے دیس میں ہوتا ﴾


    آمین ثم آمین
     
  4. محمد یاسرعلی
    آف لائن

    محمد یاسرعلی ممبر

    شمولیت:
    ‏26 ستمبر 2011
    پیغامات:
    140
    موصول پسندیدگیاں:
    3
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: ﴿ کاش آج میں اپنے دیس میں ہوتا ﴾

    آمین ثم آمین
     

اس صفحے کو مشتہر کریں