1. اس فورم پر جواب بھیجنے کے لیے آپ کا صارف بننا ضروری ہے۔ اگر آپ ہماری اردو کے صارف ہیں تو لاگ ان کریں۔

’’آب گم‘‘ از مشتاق احمد یوسفی سے اقتباس

'ادبی طنز و مزاح' میں موضوعات آغاز کردہ از نظام الدین, ‏10 جون 2015۔

  1. نظام الدین
    آف لائن

    نظام الدین ممبر

    شمولیت:
    ‏17 فروری 2015
    پیغامات:
    1,981
    موصول پسندیدگیاں:
    2,048
    ملک کا جھنڈا:
    وہ چچا سے پھوپا بنے اور پھوپا سے خسر الخدر لیکن مجھے آخر وقت تک نگاہ اٹھا کر بات کرنے کی جسارت نہ ہوئی۔ نکاح کے وقت وہ قاضی کے پہلو میں بیٹھے تھے۔ قاضی نے مجھ سے پوچھا ’’قبول ہے؟‘‘ ان کے سامنے منہ سے ہاں کہنے کی جرات نہ ہوئی۔ بس اپنی ٹھوڑی سے دو مودبانہ ٹھونگیں مار دیں جنہیں قاضی اور قبلہ نے رشتہ مناکحت کے لئے ناکافی سمجھا قبلہ کڑک کر بولے ’’لونڈے بولتا کیوں نہیں؟‘‘ ڈانٹ سے میں نروس ہو گیا۔ ابھی قاضی کا سوال بھی پورا نہیں ہوا تھا کہ میں نے’’جی ہاں قبول ہے‘‘ کہہ دیا۔ آواز ایک لختاتنے زور سے نکلی کہ میں خود چونک پڑا قاضی اچھل کر سہرے میں گھس گیا۔ حاضرین کھلکھلا کے ہنسنے لگے۔ اب قبلہ اس پر بھنّا رہے ہیں کہ اتنے زور کی ہاں سے بیٹی والوں کی ہیٹی ہوتی ہے۔ بس تمام عمر ان کا یہی حال رہا۔ اور تمام عمر میں کربِ قرابت داری وقربتِ قہری دونوں میں مبتلا رہا۔
    حالانکہ اکلوتی بیٹی، بلکہ اکلوتی اولاد تھی اور بیوی کو شادی کے بڑے ارمان تھے، لیکن قبلہ نے مائیوں کے دن عین اس وقت جب میرا رنگ نکھارنے کے لئے ابٹن ملا جا رہا تھا، کہلا بھیجا کہ دولہا میری موجودگی میں اپنا منہ سہرے سے باہر نہیں نکالے گا۔ دو سو قدم پہلے سواری سے اتر جائے گا اور پیدل چل کر عقد گاہ تک آئے گا۔ عقد گاہ انہوں نے اس طرح کہا جیسے اپنے فیض صاحب قتل گاہ کا ذکر کرتے ہیں۔ اور سچ تو یہ ہے کہ قبلہ کی دہشت دل میں ایسی بیٹھ گئی تھی کہ مجھے تو عروسی چھپر کھٹ بھی پھانسی گھاٹ لگ رہا تھا۔ انہوں نے یہ شرط بھی لگائی کہ براتی پلاؤ زردہ ٹھونسنے کے بعد ہرگز یہ نہیں کہیں گے کہ گوشت کم ڈالا اور شکر ڈیوڑھی نہیں پڑی۔ خوب سمجھ لو، میری حویلی کے سامنے بینڈ باجا ہر گز نہیں بجے گا...

    کسی زمانے میں راجپوتوں اور عربوں میں لڑکی کی پیدائش نحوست اور قہر الٰہی کی نشانی تصور کی جاتی تھی۔ ان کی غیرت یہ کیسے گوارا کرسکتی تھی کہ ان کے گھر برات چڑھے۔ داماد کے خوف سے وہ نوزائیدہ لڑکی کو زندہ گاڑ آتے تھے۔
    قبلہ اس وحشیانہ رسم کے خلاف تھے۔
    وہ داماد کو زندہ گاڑدینے کے حق میں تھے...

    (از مشتاق احمد یوسفی "آب گم" سے اقتباس)
     
  2. سید شہزاد ناصر
    آف لائن

    سید شہزاد ناصر ناظم سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏24 مئی 2015
    پیغامات:
    1,459
    موصول پسندیدگیاں:
    2,244
    ملک کا جھنڈا:
    کیا خوب انتخاب ہے
    خوش قسمت ہیں ہم کہ عہد یوسفی میں جی رہے ہیں
    شراکت کا شکریہ
    سلامت رہیں
     
    پاکستانی55 اور نظام الدین .نے اسے پسند کیا ہے۔
  3. ھارون رشید
    آف لائن

    ھارون رشید برادر سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏5 اکتوبر 2006
    پیغامات:
    130,893
    موصول پسندیدگیاں:
    16,636
    ملک کا جھنڈا:
    پانچویں جماعت میں‌، میں‌نے ایک دفعہ شاہ جہاں کے باپ کا نام ہمایوں‌بتا دیا تھا اور ماسٹر فاخر حسین نے مرغا بنا دیا تھا ۔ وہ سمجھے میں مذاق کر رہا ہوں یہ غلطی بہ بھی کرتا تو اور کسی بات پر مرغا بنا دیتے ۔

    اپنا تو طالب علمی کا زمانہ اسی پوز میں گزرا۔ بینچ پر آنا تو اس وقت نصیب ہوتا تھا جب ماسٹر کہتا کہ ،" اب بینچ پر کھڑے ہو جاؤ،" اب بھی کبھی کبھی طالب علمی کے زمانے کے خواب آتے ہین تو یا تو خود کو مرغا بنے دیکھتا ہوں‌یا اخبار پڑھتا ہوا دیکھتا ہوں ،جس میں‌میرا رول نمبر نہیں‌ہوتا تھا ۔ ڈائریکٹر آف ایجوکیشن حال ہی میں یورپ اور امریکہ کا دورہ کرکے آئے ہیں ۔سنا ہے انہوں‌نے اپنی رپورٹ میں‌لکھا ہے کہ دنیا کے کسی اور ملک نے مرغا بنانے کا پوز "ڈسکور" ہی نہیں‌کیا۔

    میں نے تو عاجز آکر اپنی ترکی ٹوپی پہننا ہی چھوڑ دی تھی ۔مرغا بنتا تو اس کا پھندنا آنکھوں سے ایک انچ کے فاصلے پر تمام وقت پنڈولم کی طرح جھولتا رہتا تھا دائیں بائیں ۔پیریڈ کے آخر میں ٹانگیں بری طرح کانپنے لگتیں‌تو پھندنا آگے پیچھے جھولتا رہتا ۔ اس میں ترکوں کی توہین کا پہلو بھی نکلتا تھا جسے میری قومی غیرت نے گوارہ نہ کیا۔


    آبِ گم از مشتاق احمد یوسفی
     
    زنیرہ عقیل نے اسے پسند کیا ہے۔

اس صفحے کو مشتہر کریں