1. اس فورم پر جواب بھیجنے کے لیے آپ کا صارف بننا ضروری ہے۔ اگر آپ ہماری اردو کے صارف ہیں تو لاگ ان کریں۔

۔ 2 کیلے روزانہ کھانے کے فائدے ۔۔۔۔۔۔۔ تحریر : ڈاکٹر سعدیہ اقبال

'میڈیکل سائنس' میں موضوعات آغاز کردہ از intelligent086, ‏17 ستمبر 2020۔

  1. intelligent086
    آف لائن

    intelligent086 ممبر

    شمولیت:
    ‏28 اپریل 2013
    پیغامات:
    4,895
    موصول پسندیدگیاں:
    751
    ملک کا جھنڈا:
    ۔ 2 کیلے روزانہ کھانے کے فائدے ۔۔۔۔۔۔۔ تحریر : ڈاکٹر سعدیہ اقبال



    دو کیلے روزانہ کھانے والاشخص کئی بیماریوں او رکمزوریوں کو دور بھگا سکتا ہے ۔یاد رکھئے کیلے کبھی بھی زیادہ مقدار میں نہیں کھانا چاہیئں، یہ توانائی کاخزانہ ہیں اور خزانہ نقصان دہ بھی ہو سکتا ہے۔ جتنی مقدار میں کہا جا تا ہے اس میں تھوڑی بہت کمی پیشی تو ہو سکتی ہے لیکن بہت زیادہ مقدار میں کیلے کھانے سے جسمانی خرابیاں بھی جنم لے سکتی ہیں ۔آج ہم مناسب تعداد میں کھائے جانے والے کیلوں کے فوائد بتانے والے ہیں۔ ان کی زیادتی سے پہنچنے والے نقصانات پر بعد میں کبھی بات کریں گے۔

    ۔100گرام کیلے میں کیمیکلز کی مقدار :۔

    سب سے پہلے یہ جاننا نہایت ہی ضروری ہے کہ کیلا کن اہم اجزاء کا خزانہ ہے ۔ ایک سو گرام کیلے میں کاربوہائیڈریٹس (22.84گرام)، پروٹین (1.09گرام) اور فیٹس (0.33گرام) پائی جاتی ہے۔اس میں 8قسم کی معدنیات کی مقدار یوں ہے: پوٹاشئم 358ملی گرام گرام، میگنیشئم 27ملی گرام ،فاسفورس 22 ملی گرام ، کیلشئم 5ملی گرام ، سوڈیم 1ملی گرام، مینگینیز 0.27 ملی گرام ، آئرن 0.26 ملی گرام اور زنک 0.25ملی گرام۔

    یہ حیاتین کی کمی بھی دور کرتا ہے۔100 گرام کیلے میں حیاتین بی فور9.8ملی گرام،حیاتین سی8.7ملی گرام، حیاتین بی تھری0.665ملی گرام،حیاتین سکس 0.367ملی گرام،حیاتین بی فائیو0.334ملی گرام ، حیاتین ای 0.1گرام ، حیاتین بی ٹو 0.073ملی گرام، حیاتین بی ون 0.031ملی گرام پائی جاتی ہیں۔

    مائیکرو بائیوٹک نیوٹرشنسٹ شلپا اروڑا کا کہنا ہے کہ ''کئی اہم میکرو اورت مائیکرو اجزاء کی موجودگی کے باعث کیلے کو مکمل خوراک بھی کہا جا سکتا ہے ، کچھ لوگ دوپہر یا شام کے وقت کیلے کو اپنی خوراک بنا لیتے ہیں ۔ صرف کیلے کھانے سے جسم میں پروٹین اور چکنائی کی کمی واقع ہو سکتی ہے‘‘۔ اسی طرح

    بلڈ پریشر میں آرام :۔

    کیلا ہائی بلڈ پریشر اور وزن میں کمی کا موجب بنتا ہے، اس میں فائبر اورسٹارچ کی مناسب مقدار میں موجودگی سے بھوک مٹ جاتی ہے۔مزید کھانے کی خواہش ختم ہونے سے موٹاپا کم کرنے میں مدد ملتی ہے۔ کیلے سے جسم میں شوگر کی مقدار کم کرنے میں مددم ملتی ہے یہ انسولین کی حسایت میں اضافہ کرنے کے اس کے فوائد میں بہتر ی لاتا ہے۔کیونکہ اگر کسی کے جسم خلیے انسولین کے بارے میں حساس نہیں ہیں،تو انہیں گلوکوز کو ہضم کرنے میں دقت پیش آ سکتی ہے، جس کے باعث پینکریا انسولین کی مقدار بڑھا دیتا ہے۔جس سے چکنائی ہضم کرنے کی صلاحیت بھی تاثر ہوتی ہے۔

    دو کیلے روازانہ کھانے سے جسم میں کون کون سی تبدیلیاں رونما ہو سکتی ہیں؟

    کمزوری میں کمی:۔

    خون میں ہیمو گلوبن اور سرخ خلیوں کی کمی کے باعث انیمیا ہو سکتا ہے، اس بیماری میںرنگت پیلی پڑ جاتی ہے،تھکن محسوس ہوتی ہے اور کبھی کبھی سانس اکھڑنے لگتی ہے۔ کیلے میں آئرن کی مناسب مقدار انیمیا میں آرام دیتی ہے۔جس سے خون میں سرخ خلیوں کی افزائش میں اضافہ ہونے لگتا ہے۔اسی طرح کیلے میں موجود حیاتین بی سکس خون میں گلوکوز کی مقدار کو ریگولیٹ کرنے میں مددگار بنتا ہے۔

    بہتر ہاضمہ:۔

    کیلا آسانی سے ہضم ہوجاتا ہے۔ٹھوس غذائوں کے برعکس یہ آنتوں پر بھی کسی قسم کا بوجھ نہیں بنتا۔ کیلے میں پایا م جانے والا سٹارچ بڑی آنتوں میں چلا جاتا ہے۔ جہاں یہ اچھے بیکٹیریاکی خوراک بن جاتا ہے۔ اسہال ،ہارٹ برناور گیرٹریٹائٹسمیں بھی کیلا مفید ہے۔

    ذہنی دبائو میں کمی:۔

    کیلے ذہنی دبائو میں کمی کاموجب بننے کے باعث انسان کا موڈ اچھا کرتے ہیں،ان میں موجود ٹرپٹوفان(نامی کیمیکل سیروٹوننکے لئے اہم ہے۔ سیروٹنن ہی وہ کیمیکل ہے جو انسانی ذہن میں خوشی کا تاثر پیدا کرنے والے سگنل جاری کرتا ہے۔اس میں موجود 27 ملی گرام مینیشئم بھی موڈ خوشگوار بننے میں معاون بنتا ہے۔ اس سے نیند بھی اچھی آتی ہے۔

    حیاتین بی کا خزانہ :۔

    کیلے سے حیاتین بی کی کمی دور کرنے میں مدد ملتی ہے۔جسم کو جتنی حیاتین بی سیکس درکار ہوتی ہے اس کی 20فیصد مقدار کیلے سے حاصل کی جا سکتی ہے۔کیلے سے صحت مند خلیوں کی ضرورت یعنی امائنو ایسڈز اور ہیوموگلوبن بھی حاصل ہوتے ہیں۔

    انرجی لیول میں اضافہ:کیلے میں موجود پوٹاشئم پٹھوں کوپھٹنےسے بچاتے ہیں ،کاربوہائیڈریٹس کام کی صورت میں تھکن نہیں ہونے دیتے ۔





     

اس صفحے کو مشتہر کریں