1. اس فورم پر جواب بھیجنے کے لیے آپ کا صارف بننا ضروری ہے۔ اگر آپ ہماری اردو کے صارف ہیں تو لاگ ان کریں۔

ہمیں سننا ہے

'گپ شپ' میں موضوعات آغاز کردہ از زنیرہ عقیل, ‏6 فروری 2019۔

  1. زنیرہ عقیل
    آف لائن

    زنیرہ عقیل ممبر

    شمولیت:
    ‏27 ستمبر 2017
    پیغامات:
    21,089
    موصول پسندیدگیاں:
    9,711
    ملک کا جھنڈا:
    اس لڑی میں اپنے دوستوں سے ان کی کہانیاں سنیں گے جو ضرور بہت دلچسپ ہونگی

    سب سے پہلے ہم بیبا منڈا کی کہانی سنیں گے کہ ھارون رشید بھائی بیبا منڈا کیسےبنے؟
     
    ملک بلال نے اسے پسند کیا ہے۔
  2. ھارون رشید
    آف لائن

    ھارون رشید برادر سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏5 اکتوبر 2006
    پیغامات:
    131,673
    موصول پسندیدگیاں:
    16,909
    ملک کا جھنڈا:
    اس میں میری مرضی قطعی شامل نہیں اور کہانیاں بنانا مجھے پسند نہیں
     
    زنیرہ عقیل نے اسے پسند کیا ہے۔
  3. آصف احمد بھٹی
    آف لائن

    آصف احمد بھٹی ناظم خاص سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏27 مارچ 2011
    پیغامات:
    40,593
    موصول پسندیدگیاں:
    6,030
    ملک کا جھنڈا:
    کبھی کبھی انسان کو کچھ نا پسندیدہ کام بھی کرنے پڑ جاتے ہیں ۔ ۔ ۔ اپنوں کا دل رکھنے کے لیے ہی سہی ۔ ۔ ۔ چلیں شروع کریں ۔ ۔ ۔ کہانی ۔ ۔ ۔
     
    زنیرہ عقیل نے اسے پسند کیا ہے۔
  4. زنیرہ عقیل
    آف لائن

    زنیرہ عقیل ممبر

    شمولیت:
    ‏27 ستمبر 2017
    پیغامات:
    21,089
    موصول پسندیدگیاں:
    9,711
    ملک کا جھنڈا:
    مرضی شامل نہ ہونے کا مطلب ہے کہ دکھی داستان ہے
    کہانی نہیں تو داستان سنائیں قصہ سنائیں احوال سنائیں
    چلیں پھر بھی ہمیں سننے میں دلچسپی ہے

    کس طرح آپ کا نام بیبا منڈا پڑا
    اور کیوں بڑے فخر سے آپ حاضری لگواتے وقت بینا منڈا حاضر ہے کا نعرہ لگاتے ہیں؟
     
  5. زنیرہ عقیل
    آف لائن

    زنیرہ عقیل ممبر

    شمولیت:
    ‏27 ستمبر 2017
    پیغامات:
    21,089
    موصول پسندیدگیاں:
    9,711
    ملک کا جھنڈا:
    ہاں نا بھائی آپ نے درست فرمایا
    بھائی کے بعد آپ کی باری ہے
    معصوم سا بننے کی کہانی
     
  6. زنیرہ عقیل
    آف لائن

    زنیرہ عقیل ممبر

    شمولیت:
    ‏27 ستمبر 2017
    پیغامات:
    21,089
    موصول پسندیدگیاں:
    9,711
    ملک کا جھنڈا:
    اگر ملک بلال بھائی صاحب کے کسی دکھتی رگ کے بارے میں کوئی جانتا ہے تو وہ بھی بتادیں
    تا کہ ہم یہاں بزرگوں کی داستانیں سن کر کچھ حاصل کر سکیں
     
    ملک بلال اور آصف احمد بھٹی .نے اسے پسند کیا ہے۔
  7. آصف احمد بھٹی
    آف لائن

    آصف احمد بھٹی ناظم خاص سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏27 مارچ 2011
    پیغامات:
    40,593
    موصول پسندیدگیاں:
    6,030
    ملک کا جھنڈا:
    اللہ جنت دے کاشف احمد کو ، اکثر کہتا تھا " میرا بھائی تو معصوم سا ہے۔ ۔ ۔ بس میری تو اتنی سی کہانی ہے ۔ ۔ ۔
     
    ملک بلال اور زنیرہ عقیل .نے اسے پسند کیا ہے۔
  8. زنیرہ عقیل
    آف لائن

    زنیرہ عقیل ممبر

    شمولیت:
    ‏27 ستمبر 2017
    پیغامات:
    21,089
    موصول پسندیدگیاں:
    9,711
    ملک کا جھنڈا:
    کاشف احمد کون ہیں؟ ان کی کیا کہانی ہے؟
     
  9. آصف احمد بھٹی
    آف لائن

    آصف احمد بھٹی ناظم خاص سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏27 مارچ 2011
    پیغامات:
    40,593
    موصول پسندیدگیاں:
    6,030
    ملک کا جھنڈا:
    میرا چھوٹا بھائی ۔ ۔ ۔
     
    زنیرہ عقیل نے اسے پسند کیا ہے۔
  10. زنیرہ عقیل
    آف لائن

    زنیرہ عقیل ممبر

    شمولیت:
    ‏27 ستمبر 2017
    پیغامات:
    21,089
    موصول پسندیدگیاں:
    9,711
    ملک کا جھنڈا:
    کاشف احمد وہی نا جن کا انتقال ہو گیا ہے
    بقول آپ کے چھوٹی سی عمر میں وہ کئی گھروں کی امید اور کئی سفید پوشوں کا پردہ تھا ایک عام سا ڈرائیور مگر سینکڑوں دلوں کا بادشاہ تھا اک گوہر نایاب تھا

    انا للہ و انا الیہ راجعون
    اللہ جنت الفردوس نصیب فرمائے آمین
     
    آصف احمد بھٹی نے اسے پسند کیا ہے۔
  11. زنیرہ عقیل
    آف لائن

    زنیرہ عقیل ممبر

    شمولیت:
    ‏27 ستمبر 2017
    پیغامات:
    21,089
    موصول پسندیدگیاں:
    9,711
    ملک کا جھنڈا:
    "معصوم سا "کے الفاظ ایک ایسے سچے انسان کے تھے کہ اب ہمیں بھی یہ الفاظ ادا کرتے وقت محبت کا ایک احساس ہونے لگا ہے
     
    آصف احمد بھٹی نے اسے پسند کیا ہے۔
  12. ملک بلال
    آف لائن

    ملک بلال منتظم اعلیٰ سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏12 مئی 2010
    پیغامات:
    22,404
    موصول پسندیدگیاں:
    7,506
    ملک کا جھنڈا:
    اللہ کریم جنت الفردوس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ساتھ نصیب فرمائے۔
    آمین
     
    faizanamir09، آصف احمد بھٹی اور زنیرہ عقیل نے اسے پسند کیا ہے۔
  13. ملک بلال
    آف لائن

    ملک بلال منتظم اعلیٰ سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏12 مئی 2010
    پیغامات:
    22,404
    موصول پسندیدگیاں:
    7,506
    ملک کا جھنڈا:
    ذکر ہے اس رات کا۔۔!!!

    "قصہِ درد سناتے ہیں کہ مجبور ہیں ہم" بات صرف اتنی سی تھی کہ میں آج پھر دوستوں کے ساتھ گپ شپ ، رات کی سیر اور چہل قدمی کرنے کے بعد حسبِ معمول تھوڑا سا لیٹ گھر پہنچا تھا۔ لیکن گھر والوں کے لیے رات کا 3 بجے کا ٹائم شاید بہت ت ت ت ت ت لیٹ تھا۔ فراغت کے دن تھے جی بھر کے نیند پوری کرنے اور دوستوں کے ساتھ وقت گزارنے کے علاوہ کچھ مصروفیت نہیں تھی۔
    آہ ہ ہ ہ "دل ڈھونڈتا ہے پھر وہی فرصت کے رات دن" اکثر گھر لیٹ ہی آنا ہوتا تھا۔ وہ بھی ایسی ہی رات تھی۔ آوارہ گردی کرتے ہوئے اچانک ذہن میں منی بیگم کی آواز گونجی۔

    آوارگی میں حد سے گزر جانا چاہیے
    لیکن کبھی کبھار تو گھر جانا چاہیے

    سو میں دوستوں کو خدا حافظ کہتے ہوئے گھر کی طرف چل نکلا۔
    جن بےجان چیزوں پر مجھے بہت غصہ آتا ہے اور مجھے سخت نا پسند ہیں ان میں ہمارے گھر کی گھنٹی دوسرے نمبر پر ہے، پہلے نمبر پر ناپسند بےجان چیز کا ذکر آگے آئے گا۔ گھر کی اطلاعی گھنٹی رات کی مسحور کن خاموشی میں ایسے گونجتی تھی جیسے جنگ کا بگل بج گیا ہو۔ بٹن سے ہاتھ اٹھا لینے کے بعد بھی اسے چپ کرتے کرتے وقت لگ جاتا تھا۔ رات کے 3 بجے کا وقت تھا۔ میں نے آہستگی سے بٹن پر ہاتھ رکھا اور دھڑکتے دل کے ساتھ دبا دیا۔ نیل کنٹھ کی آواز پورے محلے میں گونجی، اور آہستہ آہستہ دم توڑ گئی۔ دل کی دھڑکن مجھے صاف سنائی دے رہی تھی۔ ایک ایک لمحہ آنے والے کٹھن وقت کی حشرسامانیاں میرے دماغ کے پردے پر جھماکے سے دکھا رہا تھا۔ اس جان لیوا انتظار کے کچھ لمحات بعد دروازہ کھلا اور ماں جی کی کی شفقت بھری آواز آئی۔
    "آگیا میرا سوہنا پتر کمائیاں کر کے! " (آ گیا میرا بیٹا کمائی کر کے!۔)
    اتنا کہہ کر ماں جی میری بلائیں لینے لگیں ، ماتھے کو چُوما اور سر پر ہاتھ پھیرا اور پھر روح فرسا خبر سنائی۔
    "تیرے ابو جُتی ہتھ وچ پھڑ کے بیٹھے تینوں اڈیک رہے نیں۔" (تمہارے ابو جوتی ہاتھ میں پکڑے تمہارا ہی انتظار کر رہے ہیں۔)
    یہ سن کر میرے رہے سہے اوسان بھی خطا ہو گئے۔ اور قریب تھا کہ میں گرجاؤں ، دیوار کا سہارا لیا۔ اماں نے اندر آنے کو کہا۔ بہ دقت تمام خود کو سیڑھیاں چڑھنے پر مجبور کیا۔ اوپر پہنچتے ہی سیدھا ٹوائلٹ کا رخ کیا۔ جس کا مقصد حوائجِ ضروریہ سے فراغت سے زیادہ خود کو پرسکون کرنا اور آنے والے وقت کے لیے تیار کرنا تھا۔ ادھر قبلہ والد صاحب پوری طرح مسلح ہو کر بےتابی سے میرا انتظار کر رہے تھے۔ جب کافی دیر ہو گئی تو ان کے صبر کا پیمانہ لب ریز ہو گیا۔ اور انہوں نے آ کر ٹوائلٹ کا دروازہ زور سے دھڑدھڑایا۔ میری تو جیسے جان نکل گئی۔ اتنے میں باہر سے غصے سے بھری آواز آئی۔
    "باہر نکل جلدی! تیرا سُوتر کر لینداں اج میں!" (جلدی باہر آؤ، آج تمہارا علاج کر کے رہوں گا!)
    شکر ہے اس وقت میں ٹوائلٹ میں تھا، باہر ہوتا تو یقینا کچھ نہ کچھ "خطا" ہو جاتی(ویسے ہو جاتا بھی ٹھیک رہے گا)۔ہمت کر کے ٹوائلٹ سے باہر نکلا ہاتھ دھو کر کمرے میں داخل ہوا ہی تھا کہ شاں ں ں ں ں کی آواز کے ساتھ کوئی چیز میرے سر کے اوپر سے گزری اور تڑاخ کی آواز کے ساتھ دیوار کو لگی۔ دیکھا تو برادرِ خورد کا جوتا تھا جو میرے سر کے اوپر سے ایسے گزرا جیسے گھر والوں کی نصیحتیں میرے سر کے اوپر سے گزرتی ہیں۔ یقینا یہ حملے کا اعلان تھا۔ میں نے سنبھل کر والد صاحب کی طرف دیکھا تو وہ کافی ساری "نعلین در بغلین" کیے ، مجھ پر نشانہ بازی کے لیے سشت باندھے کھڑے تھے۔ پہلے نشانہ خطا ہو جانے پر ان کا غصہ یقینا قابل قبول تھا۔ جس کا اظہار انہوں نے جوتوں کی مزید فائرنگ سے کیا۔
    یہ پارلیمنٹ اور قانون ساز ادارے بھی دفتروں میں بیٹھے پتا نہیں کیا کیا قانون بناتے رہتے ہیں۔ میں وزیر قانون ہوتا تو سب سے پہلا قانون یہ بناتا کہ "جو جگہ جوتا مارنے کی ہے وہاں مارا جائے۔" ابھی تک یہ میرے منصوبوں میں شامل ہے کہ اس کو پاکستان کے قانون کا حصہ بنانا ہے۔ چونکہ اس وقت بھی یہ فعل غیر آئینی نہیں تھا، چنانچہ میرے جسم نازک ، جسے ماں جی پیار سے "ڈھیٹ ہڈی" کہتی ہیں، کے کئی حصے اس حملے کی زد میں آ گر بری طرح سے گھائل ہوئے۔ سارے گھر کی جوتیوں کا ڈھیر میرے آس پاس لگنے کے بعد والد صاحب کا ہاتھ اپنے پاؤں کی طرف بڑھا تو میں سمجھا شاید سانس لینے اور پاؤں پر خارش کرنے لگے ہیں۔ لیکن جب ان کا ہاتھ ان کے کنکریٹ مارکہ کنگ کانگ جوتے کو اتارنے میں مصروف ہو گیا تو مجھے دال میں کچھ کالا محسوس ہوا۔ اور جوتا اتارے کے بعد والد صاحب میرے شک کو یقین میں بدلنے کے لیے تیار نظر آئے کہ دال میں کالا نہیں ساری دال ہی کالی ہے۔ مجھے سخت ناپسند بےجان اشیاء کی فہرست میں والد صاحب کا جوتا پہلے نمبر پر تھا۔ ان کا اچانک حملہ عراق کے کویت پر حملے جیسا تھا۔ اس حملے کے لیے میں بالکل تیار نہیں تھا، چنانچہ کافی سارا جانی و مالی نقصان ہوا۔ کچھ دیر تو ماں جی صورت حال کا جائزہ لیتی رہیں، جب انہوں نے دیکھ لیا کہ دونوں فریقین کی خاطر خواہ تسلی و تشفی ہو چکی ہے تو اچانک ان کی مامتا بیدار ہوئی، اور وہ اقوام متحدہ کا کردار ادا کرتے ہوئے جنگ بندی کرانے کے لیے میدان جنگ میں کُودپڑیں۔ حالانکہ اسے جنگ نہیں کہنا چاہیے۔ کیوں کہ یہ توایک کم سن اور نہتے فریق پر یک طرفہ پدرانہ شفقت تھی۔(جارحیت اس وجہ سے نہیں کہہ سکتا کہ قبلہ والد صاحب بھی نیٹ گردی کرتے ہیں اور چھٹیوں میں گھر بھی جانا ہے۔) خیر اماں کے درمیان میں آجانے کے بعد کچھ بچت ہو جانے کی امید پیدا ہو گئی تھی۔ اب ابو اور میں اماں کے ارد گرد محوری گردش میں چکر کاٹ رہے اس منظر کو کوئی اور دیکھتا تو سمجھتا ہم "کِکلی" ڈال رہے ہیں۔ اس عمل کے دوران ان کا جوتا مسلسل میری تاک میں تھا۔ نشانے پر آتے ہی رسید کر دیا جاتا۔ آخر مزید 8 بار ان کے تختہ ستم بننے کے بعد ایک نشانہ مس ہو کر اماں کی ٹانگ پر لگا۔ اور اماں "ہائےے ےےےےےے"کی آواز نکالتے ہوئے فرش پر بیٹھ گئیں۔ ساتھ ہی مجھے اشارہ کر دیا کہ جنگ بندی کرانے کے لیے میرے ساتھ اداکاری میں تھوڑا ساتھ دو۔میں نے بھی ان کا منصوبہ سمجھتے ہوئے فورا سے پیشتر اپنے چہرے پر سے مظلومیت کے تاثرات غائب کیے اور فکرمندانہ تاثرات طاری کرتے ہوئے ۔ "ماں جی! کیا ہوا۔۔۔۔!!!" کا نعرہ بلند کیا۔ ماں جی کی ہائے ے ے ے ے اور میری پریشان صورت دیکھ کر ابو جی بھی فکر مند ہو گئے اور جوتا پھینک کر ساتھ ہی بیٹھ گئے اور ماں جی کی پنڈلی کی طرف دیکھنے لگے جسے میں سہلا رہا تھا۔ اماں کو سہارا دے کر چارپائی پر بٹھایا۔ اور ٹانگیں دبانے لگ گیا۔ اماں نے ہلکے سے میرے کان میں کہا کہ "کچھ نہیں ہویا، تینوں بچانا سی" نہیں ہوا، تمہیں بچانا تھا۔) اور ساتھ ہی پھر تھوڑی سی ہائےےے کر دی۔ ابو جی بھی پاس ہی بیٹھ گئے غصہ بدستور موجود تھا لیکن اب ساتھ تھوڑے سے پشیمان بھی لگ رہے تھے۔ کچھ دیر بعد اماں نے کہا۔ بس کر اب ٹھیک ہوں۔ اماں کی بحالی صحت کا اعلان سن کر ابوجی کا دھیان میری طرف ہوا تو دوبارہ پارہ چڑھنے لگا۔ لیکن اب کچھ شدت کم تھی۔ مجھے اندازہ ہو گیا کہ زلزلہ گزر گیا ہے لیکن اس کے کچھ آفٹر شاکس باقی ہیں۔ چنانچہ والد صاحب نے مجھے مرغا بننے کا حکم دیا اور ساتھ ساتھ الو، گدھا و دیگر ناہنجار حیوانات کے ساتھ میری مماثلت پر روشنی ڈالنے لگے شاید وہ اس زمانے میں بھی ڈاکٹر آصف بھائی سے دعا سلام رکھتے ہوں جو انہیں شفاخانہ حیوانات سے معلومات بہم پہنچاتے رہتے ہیں۔ اور میں مرغا بنا سوچ رہا تھا کہ ایک مرغا کس طرح الو، گدھے وغیرہ وغیرہ جیسا ہو سکتا ہے۔ ،اب میں کان پکڑے مرغا بنا ہوا تھا وہ بھی ایڑیاں جوڑ کر۔ یوگا کے اس آسن پر ابھی تک ماہرین تحقیق نہیں کر سکے۔ لیکن یہ بہت مفید آسن ہے اس سے دماغ میں خون کی فراہمی بڑھتی ہے اور عقل ٹھکانے آ جاتی ہے۔ اور میں چونکہ گھر کے ساتھ ساتھ سکول میں بھی ان مراحل سے اکثر گزرتا رہتا تھا اس لیے مجھے اس کی کافی پریکٹس تھی۔ چنانچہ زیادہ مشکل پیش نہیں آئی۔ سوچا 2 منٹ کی سزا ہو گی۔ لیکن کہاں !!!!! جب 10 منٹ گزر گئے تو میری بھی بس ہو گئی۔ اس موقع پر ایک بار پھر مامتا بیدار ہوئی اور ماں جی نے والد صاحب کو کہا
    "چلو چھڈو ہن، معافی دے دیو، آئندہ ٹیم نال گھر آیا کرے گا۔" (چلیں چھوڑیں اب معاف کر دیں۔ آئندہ وقت سے گھر آ جایا کرے گا۔
    ابو نے مجھے سے تصدیق کرنے کو کہا اور میں نے سرِ تسلیم جو پہلے سے ہی خم تھا مزید خم کیا اور اثبات میں جنبش دی اور ساتھ "اقرار باللسان " بھی کیا۔ اس کے بعد مجھے کھڑا ہونے کا کہا گیا۔ کھڑا ہونے کے بعد بھی میرے کان سائیں سائیں کرتے رہے۔خدا خدا کر کے میں اس مشکل مرحلے میں سرخرو ہوا اور کمرے میں امن و امان قائم ہوا۔ اس کے بعد مجھے جوتے اکٹھے کرنے کا حکم دیا گیا۔ میں جوتے اکٹھے کرنے کے ساتھ ساتھ ان کا معائنہ کر رہا تھا ایک دو جوتے تو متعدد بار اس عملِ تطہیر میں استعمال ہو چکے تھے آج ٹوٹ گئے جنہیں یا تو مرمت کرایا جاتا یا ناکارہ ہوجانے کے بعد ہمارے گھر میں موجود ایک چھوٹی سی گیلری میں پھینک دیا جاتا۔ آپس کی بات ہے آدھی گیلری انہی ٹوٹے ہوئے جوتوں سے بھری پڑی ہے اور ان میں سے زیادہ تر کو اس عبرت انگیز مقام تک پہنچانے میں میرا کردار بہت اہم تھا۔ نافرمان ہونے کی مصدقہ سند تو مجھے اماں ابا سے مل چکی تھی۔ لیکن کئی محترم "بر" گزیدہ احباب کی صحبت سے اتنی عقل مجھ میں آ گئی ہے کہ تابع فرمان بیٹا تو شاید نہ بن سکا لیکن کوشش کروں گا کہ ان کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے تابع فرمان شوہر ضرور بنوں (بشرطیکہ شادی کا فیصلہ کر لیا تو۔) تاکہ جوتوں والی گیلری جو مجھ پر ابو جی کے جوتا بردار تابڑ توڑ حملوں میں استعمال ہونے کے بعد ٹوٹ جانے والے جوتوں سے آدھی بھری ہوئی ہے، شادی کے بعد باقی آدھی جگہ خالی ہی رہے۔ نہ کہ زوجہ محترمہ کے استعمال میں آئے۔اور ان کے ٹوٹے ہوئے جوتوں سے بھرے۔
    یہ تو خیر واقعہ ہے ایک رات کا۔۔۔۔۔۔!!!!
    اب ایسی کتنی راتیں زندگی میں آئیں یہ بتانا مشکل ہے، بس یہ اندازہ کر لیں اس سے اگلی رات بھی یہی ریہرسل کی گئی، اس سے اگلی رات بھی اور اس سے اگلی رات ۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور اور اور۔۔۔۔۔!!!!
    رات ہائے ہائے کرتے گزری۔

    ہم راتوں کو اٹھ اٹھ روتے ہیں
    جب سارا عالم سوتا ہے

    وجہ بتانے کی ضرورت نہیں ہے ۔ آپ سمجھ ہی گئے ہوں گے۔
    اگلے دن دوستوں نے صبح پوچھا کہ رات کیسی گزری تو میں نے وہی پسندیدہ فقرہ مکمل شعر کی صورت میں ان کی نذر کیا۔

    میں نے پوچھا کہ کل شب کہاں تھے؟ پہلے شرمائے، پھر ہنس کے بولے
    آپ وہ بات کیوں پوچھتے ہیں، جو بتانے کے قابل نہیں ہے!!!

    اب گھر والے ہمت ہار چکے ہیں اور میرا معمول جوں کا توں ہے۔
    کیوں کہ
    ہم سے قائم ہے شبِ آوارگی
    بہت عجیب لگتا ہے سرِ شام گھر جانا

    ملک بلال
     
    آصف احمد بھٹی اور زنیرہ عقیل .نے اسے پسند کیا ہے۔
  14. زنیرہ عقیل
    آف لائن

    زنیرہ عقیل ممبر

    شمولیت:
    ‏27 ستمبر 2017
    پیغامات:
    21,089
    موصول پسندیدگیاں:
    9,711
    ملک کا جھنڈا:
    آمین
     
  15. زنیرہ عقیل
    آف لائن

    زنیرہ عقیل ممبر

    شمولیت:
    ‏27 ستمبر 2017
    پیغامات:
    21,089
    موصول پسندیدگیاں:
    9,711
    ملک کا جھنڈا:
    اُف اللہ

    اتنی خوبصورت تحریر
    اتنی خوبصورت داستان
    ہر ہر جملے پر اتنی ہنسی ہوں کہ پیٹ میں درد ہونے لگا ہے

    زبردست ... امید ہے کہ اب بھی وہی جوتے ہونگے بس ماحول اور کردار بد ل چکے ہونگے
    ہاہاہاہا
     
    آصف احمد بھٹی اور ملک بلال .نے اسے پسند کیا ہے۔
  16. ملک بلال
    آف لائن

    ملک بلال منتظم اعلیٰ سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏12 مئی 2010
    پیغامات:
    22,404
    موصول پسندیدگیاں:
    7,506
    ملک کا جھنڈا:
    اب ہمارے دکھوں پر لوگوں کو ہنسی آئے گی :(

    جن پہ تکیہ تھا وہی پتے ہوا دینے لگے :(
     
    آصف احمد بھٹی اور زنیرہ عقیل .نے اسے پسند کیا ہے۔
  17. زنیرہ عقیل
    آف لائن

    زنیرہ عقیل ممبر

    شمولیت:
    ‏27 ستمبر 2017
    پیغامات:
    21,089
    موصول پسندیدگیاں:
    9,711
    ملک کا جھنڈا:
    آپ کے دکھ سن کے آنسو نکل پڑے ہیں
    آپ ہسننے پر توجہ نہ دیں
    آنسوؤں کی سچائی کو دیکھیں
     
    ملک بلال اور آصف احمد بھٹی .نے اسے پسند کیا ہے۔
  18. ھارون رشید
    آف لائن

    ھارون رشید برادر سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏5 اکتوبر 2006
    پیغامات:
    131,673
    موصول پسندیدگیاں:
    16,909
    ملک کا جھنڈا:
    آنسو ہوسکتا ہے کہ پلاسٹک کے ہوں
     
    زنیرہ عقیل اور آصف احمد بھٹی .نے اسے پسند کیا ہے۔
  19. زنیرہ عقیل
    آف لائن

    زنیرہ عقیل ممبر

    شمولیت:
    ‏27 ستمبر 2017
    پیغامات:
    21,089
    موصول پسندیدگیاں:
    9,711
    ملک کا جھنڈا:
    آنسو اور پلاسٹک کے؟
     
  20. زنیرہ عقیل
    آف لائن

    زنیرہ عقیل ممبر

    شمولیت:
    ‏27 ستمبر 2017
    پیغامات:
    21,089
    موصول پسندیدگیاں:
    9,711
    ملک کا جھنڈا:
    ہم بیبا منڈا کی کہانی سنیں گے
     
    آصف احمد بھٹی نے اسے پسند کیا ہے۔
  21. زنیرہ عقیل
    آف لائن

    زنیرہ عقیل ممبر

    شمولیت:
    ‏27 ستمبر 2017
    پیغامات:
    21,089
    موصول پسندیدگیاں:
    9,711
    ملک کا جھنڈا:
    معصوم سا کی کہانی کہاں ہے؟
     
  22. آصف احمد بھٹی
    آف لائن

    آصف احمد بھٹی ناظم خاص سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏27 مارچ 2011
    پیغامات:
    40,593
    موصول پسندیدگیاں:
    6,030
    ملک کا جھنڈا:
     
    زنیرہ عقیل نے اسے پسند کیا ہے۔
  23. زنیرہ عقیل
    آف لائن

    زنیرہ عقیل ممبر

    شمولیت:
    ‏27 ستمبر 2017
    پیغامات:
    21,089
    موصول پسندیدگیاں:
    9,711
    ملک کا جھنڈا:
    معصوم سا غلطی سے لکھا ہے
    کلموہے کی کہانی سننی ہے
     
  24. آصف احمد بھٹی
    آف لائن

    آصف احمد بھٹی ناظم خاص سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏27 مارچ 2011
    پیغامات:
    40,593
    موصول پسندیدگیاں:
    6,030
    ملک کا جھنڈا:
    خالہ خیرن ایک دن بھری محفل ہمری "تک بندی " سن کر کہنے لگی ۔
    اے کلموہے ! تو تو مرزا کالو کی طریو شعر ویر کہہ لیتا ہے ۔ بس اسی دن سے ہم مرزا کلموہے ہو گئے ۔
     
    زنیرہ عقیل نے اسے پسند کیا ہے۔
  25. زنیرہ عقیل
    آف لائن

    زنیرہ عقیل ممبر

    شمولیت:
    ‏27 ستمبر 2017
    پیغامات:
    21,089
    موصول پسندیدگیاں:
    9,711
    ملک کا جھنڈا:
    خالہ خیرن کون ہے یہ نام تو جانا پہچانا سا لگ رہا ہے
     
    آصف احمد بھٹی نے اسے پسند کیا ہے۔
  26. ھارون رشید
    آف لائن

    ھارون رشید برادر سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏5 اکتوبر 2006
    پیغامات:
    131,673
    موصول پسندیدگیاں:
    16,909
    ملک کا جھنڈا:
    آپ کی متوقع ساس تو نہیں
     
    زنیرہ عقیل اور آصف احمد بھٹی .نے اسے پسند کیا ہے۔
  27. زنیرہ عقیل
    آف لائن

    زنیرہ عقیل ممبر

    شمولیت:
    ‏27 ستمبر 2017
    پیغامات:
    21,089
    موصول پسندیدگیاں:
    9,711
    ملک کا جھنڈا:
    ہاہاہاہا............. اللہ نہ کرے
     
  28. آصف احمد بھٹی
    آف لائن

    آصف احمد بھٹی ناظم خاص سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏27 مارچ 2011
    پیغامات:
    40,593
    موصول پسندیدگیاں:
    6,030
    ملک کا جھنڈا:
    لیکن ! خالہ کیرن تو کچھ اور ہی کہہ رہی ہے ۔ ۔ ۔
     
  29. زنیرہ عقیل
    آف لائن

    زنیرہ عقیل ممبر

    شمولیت:
    ‏27 ستمبر 2017
    پیغامات:
    21,089
    موصول پسندیدگیاں:
    9,711
    ملک کا جھنڈا:
    خالہ خیرن تو سنا تھا
    اب کیرن کہاں سے آگئی؟
     
    آصف احمد بھٹی نے اسے پسند کیا ہے۔
  30. آصف احمد بھٹی
    آف لائن

    آصف احمد بھٹی ناظم خاص سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏27 مارچ 2011
    پیغامات:
    40,593
    موصول پسندیدگیاں:
    6,030
    ملک کا جھنڈا:
    ہائے اللہ ! کتنا خیال ہے خالہ جی کا ، ذرا سا نام کیا بگڑا ، آپ نے فورا بتا دیا ۔ ۔ ۔ لگتا ہے چاچا جی اور خالہ خیرن کی بات میں کچھ سچائی ضورو ہے ۔ ۔ ۔
     
    زنیرہ عقیل نے اسے پسند کیا ہے۔

اس صفحے کو مشتہر کریں