1. اس فورم پر جواب بھیجنے کے لیے آپ کا صارف بننا ضروری ہے۔ اگر آپ ہماری اردو کے صارف ہیں تو لاگ ان کریں۔

گلوبل ویلج گلوبل عذاب

'حالاتِ حاضرہ' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد اجمل خان, ‏6 اپریل 2020۔

  1. محمد اجمل خان
    آف لائن

    محمد اجمل خان ممبر

    شمولیت:
    ‏25 اکتوبر 2014
    پیغامات:
    175
    موصول پسندیدگیاں:
    163
    ملک کا جھنڈا:
    گلوبل ویلج گلوبل عذاب

    خوف کسی حقیقی یا تصوراتی خطرے کے پیشِ نظر انسانی ذہن میں پیدا ہونے والا ایک منفی جذبہ ہے اور منفی جذبہ ہونے کے باوجود خوف سے ہی دنیا میں انسانیت کی بقا ہے۔ اگر اللہ تعالٰی لوگوں کے دلوں میں خوف پیدا نہ کرتا تو کوئی زبردست کسی زیردست کو جینے نہ دیتا اور یوں دینا سے انسان ختم ہوجاتے۔

    اردو میں خطرہ، خدشہ، اندیشہ، دہشت، وعید، دھمکی، آگاہی، پیش گوئی، فکر، ڈر، بیم، ہول، رعب وغیرہ خوف کے مترادف الفاظ ہیں۔ خوف کا متضاد امن ہے۔ جہاں خوف ہوگا وہاں امن نہیں ہوگا۔ جب کسی بستی پر خوف طاری ہوجاتا ہے تو امن و امان کا مسلہ پیدا ہو جاتا ہے۔

    وہ دہریئے جو کہتے ہیں کہ مذہب کی بنیاد خوف ہے، وہ بھی آج خوف کے مارے دبکے بیٹھے ہیں۔ جبکہ اللہ کو ماننے والوں کا یہ ایمان ہے کہ یہ اللہ کی طرف سے ایک آزمائش ہے اور اس آزمائش میں قرآن و سنت کے مطابق مثبت عمل کرنا ہے اور مثبت سوج کے ساتھ نارمل زندگی گزارنی ہے۔

    صدیوں پہلے جب دنیا کی آبادی بہت تھوڑی تھی، آمد و رفت اور مواصلات کا کوئی خاص نظام نہیں تھا تب اگر کسی بستی کے لوگ برائی اور شرکشی میں مبتلا ہوتے تھے تو برائی و شرکشی صرف اسی بستی تک محدود رہتی تھی اور اللہ تعالٰی کا عذاب صرف اسی بستی میں آتا تھا۔ لیکن وقت کے ساتھ ساتھ سائنس و ٹیکنولوجی کی حیران کن ترقی کی وجہ کر آمد و رفت اور مواصلاتی نظام میں بھی ترقی ہوئی اور آج کا متکبر انسان کہنے لگا کہ ہم نے دنیا کو ایک گلوبل ویلج (عالمگیر بستی) بنا دیا ہے۔ اس بستی کے لوگوں نے اپنے رب کی نافرمانی و شرکشی میں گزشتہ تمام ریکارڈ توڑ دیئے اور اللہ کی عذاب کو دعوت دی۔ تو اللہ تعالٰی یکبارگی گلوبل ویلج پر گلوبل عذاب کا کوڑا گرا دیا:

    وَضَرَبَ اللَّـهُ مَثَلًا قَرْيَةً كَانَتْ آمِنَةً مُّطْمَئِنَّةً يَأْتِيهَا رِزْقُهَا رَغَدًا مِّن كُلِّ مَكَانٍ فَكَفَرَتْ بِأَنْعُمِ اللَّـهِ فَأَذَاقَهَا اللَّـهُ لِبَاسَ الْجُوعِ وَالْخَوْفِ بِمَا كَانُوا يَصْنَعُونَ (112) سورة النحل

    ’’اور اللہ نے ایک ایسی بستی کی مثال بیان فرمائی ہے جو (بڑے) امن اور اطمینان سے (آباد) تھی اس کا رزق اس کے (مکینوں کے) پاس ہر طرف سے بڑی وسعت و فراغت کے ساتھ آتا تھا پھر اس بستی (والوں) نے اللہ کی نعمتوں کی ناشکری کی تو اللہ نے اسے بھوک اور خوف کے عذاب کا لباس پہنا دیا ان (برے) اعمال کے سبب سے جو وہ کرتے تھے‘‘۔ (112) سورة النحل

    یاد کیجئے دنیا کو گلوبل ویلج بنانے والوں کے ظلم و ستم اور تشدد و بربریت کو جو ان لوگوں نے فلسطین، افغانستان، عراق، لیبیا، شام، برما، یمن وغیرہ میں کئے ہیں اور انسانیت کو شرما دینے والی وہ فحاشیاں اور برائیوں کو بھی جسے ان لوگوں نے اپنے پارلیمنٹ کے ذریعے قانونی شکل دی ہے۔

    وَإِذَا أَرَدْنَا أَن نُّهْلِكَ قَرْيَةً أَمَرْنَا مُتْرَفِيهَا فَفَسَقُوا فِيهَا فَحَقَّ عَلَيْهَا الْقَوْلُ فَدَمَّرْنَاهَا تَدْمِيرًا (16) سورة الإسراء
    ’’جب ہم کسی بستی کو ہلاک کرنے کا ارادہ کرتے ہیں تو اس کے خوشحال لوگوں کو حکم دیتے ’’ہیں اور وہ اس میں نافرمانیاں کرنے لگتے ہیں، تب عذاب کا فیصلہ اس بستی پر چسپاں ہو جاتا ہے اور ہم اسے برباد کر کے رکھ دیتے ہیں‘‘۔ (16) سورة الإسراء

    پچھلے پچاس ساٹھ سالوں میں اللہ تعالٰی کی جتنی نافرمانیاں کی گئی ہیں، کیا اس کے بعد بھی رب العالمین ناراض نہ ہو؟ یہ تو اس کی رحمت ہے کہ کورونا وائرس کے ذریعے خوف کا عذاب بھیج کر دنیا والوں کو سدھرنے کا ایک موقع دے رہا ہے۔

    دنیا میں بھوک اور خوف کا عذاب ساتھ ساتھ آتا ہے۔ آج خوف کا عذاب تو ہر کسی پر آیا ہوا ہے ہی لیکن لاک ڈاؤن کی وجہ کر اکثر ممالک میں بھوک کا عذاب بھی آگیا ہے۔ معیشت تباہ ہونے کے قریب ہے جس کی وجہ کر بھوک کے عذاب میں مزید تیزی آنے کا امکان ہے۔

    ہمیشہ بھوک اور خوف کا عذاب ایک بڑے عذاب کا پیش خیمہ ہوتا ہے۔ سقوط بغداد (1258ء)، سقوط غرناطہ (1492ء) اور سقوط دہلی (1804ء) وغیرہ سے پہلے ان علاقوں پر بھوک اور خوف کا عذاب ہی آیا تھا اور پھر ایسا بڑا عذاب آیا کہ مسلمانوں کے سر کاٹ کات کت مینار بنائے گئے، لاکھوں مسلمانوں کا قتل عام ہوا، یورپ سے ہمیشہ کیلئے مسلمانوں کا قلع قمع کر دیا گیا اور مسلمان صدیوں کیلئے غلام بن گئے اور آج بھی غلام ہیں۔

    حالیہ بھوک اور خوف کا عذاب بھی دنیا پر کسی بڑے عذاب کا پیش خیمہ ہی لگتا ہے اور وہ شاید دجال کی آمد ہو یا پھر اربوں انسانوں کو صفحۂ ہستی سے مٹا دینے کی کوئی سازش واللہ اعلم۔

    چاہے کوئی بھی فتنہ یا آزمائش رونما ہو مسلمان ہر حال میں مثبت سوچتا ہے اور قرآن و سنت کی روشنی میں حالات کا مقابلہ کرنے کیلئے تیار رہتا ہے۔ ہمیں بھی حالات کا مقابلہ کرنے کیلئے تیاری کرنی چاہئے۔ قرآن و سنت کا علم حاصل کرنا اور ان پر عمل کرنا ہی اصل تیاری ہے۔ اللہ تعالٰی ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔
    تحریر: محمد اجمل خان
    ۔​
     

اس صفحے کو مشتہر کریں