1. اس فورم پر جواب بھیجنے کے لیے آپ کا صارف بننا ضروری ہے۔ اگر آپ ہماری اردو کے صارف ہیں تو لاگ ان کریں۔

کیریئر میں کامیابی کے راز

'فروغِ علم و فن' میں موضوعات آغاز کردہ از intelligent086, ‏11 نومبر 2019 at 12:17 AM۔

  1. intelligent086
    آف لائن

    intelligent086 ممبر

    شمولیت:
    ‏28 اپریل 2013
    پیغامات:
    1,773
    موصول پسندیدگیاں:
    208
    ملک کا جھنڈا:
    کیریئر میں کامیابی کے راز
    upload_2019-11-11_0-16-37.jpeg
    سہیل بابر
    ہرانسان کے لیے لازم ہے کہ وہ سب سے پہلے اپنی منزل کا تعین کرے اور پھر اس کے حصول کے طریقہ کار اور تدابیر کا علم حاصل کرے۔ منزل کے حصول کے لیے ایک سے زیادہ راہیں ہو سکتی ہیں، اب یہ اس کا کام ہے کہ وہ اپنے وسائل اور توانائیوں کو مدِ نظر رکھ کر راستے کی مشکلات کا جائزہ لے کر کسی ایک راہ کا انتخاب کرے۔ لیکن کٹھن راستہ اور مشکلات سے دل برداشتہ ہونے کے بجائے عزم و ارادہ کو مستحکم کرے۔ زندگی اور کیریئر میں کامیابی کا ایک پہلو خاندان سے اور دوسرا ذات سے تعلق رکھتا ہے۔ بچوں کی منزل بچوں کی منزل کا تعین یا ان کے کیرئیر کا انتخاب زندگی کا اہم مرحلہ ہوتا ہے۔ اس کام میں والدین اور اساتذہ کا کردار کلیدی اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ کیرئیر کے انتخاب میں بچوں کی دلچسپیوں کو مدنظر رکھا جانا اشد ضروری ہے اور اس سے رجحان کا اندازہ ابتدائی تعلیم کے دوران ہی کیا جا سکتا ہے۔ تاہم والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کے ساتھ بیٹھ کر گفتگو کریں۔ اساتذہ کرام اسکول میں بچوں سے بات چیت کریں۔ اس سلسلہ میں مختلف شعبوں میں قابل رہنماؤں سے مشاورت بھی مفید ثابت ہوتی ہے۔ لیکن یہ خیال رہے کہ بچوں کے شوق اور رجحان کے بارے میں پتہ چلایا جائے۔ ان پر اپنی خواہشات اور احکامات مسلط کرنے سے گریز کریں، مگر مختلف پیشوں کے فوائد اور نقصانات سے آگاہ کرنا اور رہنمائی بھی لازم ہے۔ بعض والدین اپنی ناتمام خواہشات کی تکمیل اپنے بچوں کے ذریعہ کرنا چاہتے ہیں۔ بچہ اگر یہ کہتا ہے کہ وہ فوجی بنے گا تو ماں باپ کا یہ کہنا ہوتا ہے کہ وہ ڈاکٹر یا انجینئر بنے۔ وہ بچے کے رجحانات پر توجہ نہیں دیتے اور جذباتی ہو کر سوچ رہے ہوتے ہیں۔ ادھر بچہ بھی اپنے والدین کو ناراض نہیں کرنا چاہتا اور ایسی صورت میں وہ ایک تیسرا پیشہ اختیار کر لیتا ہے جس سے دونوں فریقوں کو مایوسی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایسی صورت حال درپیش ہو تو سمجھ بوجھ اور افہام و تفہیم سے کام لینے کی ضرورت ہے۔ اس کے علاوہ بعض بچوں میں کاروباری رجحان ہوتا ہے اور وہ اپنے اوپر کسی قسم کی پابندی برداشت نہیں کرنا چاہتے۔ ایسے بچوں کو مختلف جگہوں پر کام کرنے کا موقع فراہم کریں، اس سے آپ کو اس بچے کے رجحانات کا مطالعہ کرنے میں مدد ملے گی۔ خواتین اور لڑکیوں کی تعلیم کے بارے میں بھی سوچ میں توازن کی ضرورت ہے۔ ماں باپ کو چاہیے کہ وہ لڑکیوں کو ایسے شعبوں میں تعلیم دلوائیں کہ وہ مشکل حالات میں اپنے خاندان کے لیے روزی کما سکیں۔ ٹیچنگ، نرسنگ اور طب ایسے شعبے ہیں جہاں خواتین کے کام کرنے کی بہت گنجائش ہوتی ہے۔ ملبوسات، سلائی کڑھائی، کمپیوٹر وغیرہ بھی خواتین کے لیے مناسب کیریئر ثابت ہو سکتے ہیں۔ البتہ کیریئر کے متعلق لڑکیوں کے رجحان کو اتنی ہی اہمیت حاصل ہے جتنی لڑکوں کے۔ زندگی کے کسی موڑ پر اگر کیریئر میں تبدیلی ضروری ہو جائے تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔ جو لوگ سوچ سمجھ کر راستے بدل لیتے ہیں، وہ عاقبت اندیش ہوتے ہیں۔ ترقی میں معاون خصوصیات کسی بھی شعبہ کے انتخاب کے بعد انسان کو اس پر کامیابی سے گامزن ہونا ہوتا ہے۔ اس سلسلہ میں درج ذیل صلاحیتیں اور خصوصیات اس کی ترقی میں مدد گار ثابت ہوتی ہیں: بات چیت: مردم شناسی اور بات چیت کا ہنر انسان کی کامیابی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اپنے سے زیادہ تجربہ کار اور قابل لوگوں سے معلومات حاصل کرنا اور اپنے ہم منصب اور ماتحت لوگوں کے ساتھ مل جل کر کام کرنا درحقیقت بات چیت کے ذریعہ ہی ممکن ہے۔ تحریک کی طاقت: خود کو ہر وقت سرگرم رکھنا اور تنظیم یا ادارے کے مشترکہ نصب العین کو مدنظر رکھ کر تمام متعلقہ لوگوں کو متحرک رکھنا اشد ضروری ہے۔ وقت کا بہترین استعمال: زندگی کے ایک ایک لمحے سے کام لینے کی صلاحیت اور مؤثر طور پر کام سرانجام دینے سے کامیابی انسان کے قدم چومتی ہے۔ فیصلہ کرنے کی صلاحیت: تمام معاملات کو جذبات سے ہٹ کر منطق اور استدلال کے ساتھ جانچنے اور اجتماعی مفادات کے پیشِ نظر فیصلہ کرنے کی کوشش ازحد ضروری ہے۔ منصوبہ سازی اور نگرانی: ادارے کے لوگوں کی صلاحیتوں، وسائل اور درپیش کام کو مدنظر رکھتے ہوئے منصوبہ سازی اور اس کی نگرانی کا طریقہ کار بنیادی اہمیت کا حامل ہے۔ ذمہ داریوں کی تفویض: ادارے یا تنظیم کے تمام ارکان کی صلاحیتوں کو سمجھ کر، انہیں مناسب تربیت دے کر کام سونپنے کی قابلیت بھی کامیابی کی شاہراہ پر ممدومعاون ثابت ہوتی ہے۔ یکسوئی و انہماک: کام کو ارتکاز توجہ اور یکسوئی سے کرنا چاہیے۔ یکسوئی سے بڑے بڑے کارنامے سرانجام دیے جا سکتے ہیں۔ مہارتوں میں ترقی: آئے دن سائنس اور ٹیکنالوجی میں ترقی کے پیشِ نظر لازم ہو گیا ہے کہ انسان اپنی معلومات میں مسلسل اضافہ کرے ورنہ زندگی کی دوڑ میں پیچھے رہ جائے گا۔ شخصیت کے فکری عناصر کیریئر میں آگے بڑھنے کے لیے شخصیت میں بعض عناصر کی موجودگی بہت اہم ہے جن کا تعلق فکر اور سوچ سے ہے۔ ۱۔ مثبت اندازِ فکر، خوش گمانی اور حُسنِ ظن انسان کی شخصیت کی ترقی کے لیے نہایت اہمیت کے حامل ہیں۔ سوچ کا یہ انداز انسان کو مایوسی کے اندھیروں سے نکال کر طاقت اور توانائی فراہم کرتا ہے۔ مثبت سوچ کا حامل شخص مشکل حالات اور مصائب میں بھی امید اور اچھائی کے پہلو تلاش کرتا ہے، وہ مشکلات کو کامیابی کے مواقع سمجھتا ہے۔ اس کے برعکس منفی سوچ رکھنے والا شخص مایوسی، احساس کمتری اور قنوطیت کا شکار ہوتا ہے اور ہر وہ زمانے کی زیادتیوں کا رونا روتا رہتا ہے۔ ۲۔ قدرت نے ہر انسان کو بے شمار خوبیوں سے مالا مال کیا ہے، ان خوبیوں کے مثبت استعمال سے انسان کو اطمینانِ قلب اور سکون حاصل ہوتا ہے۔ اسی طرح بہترین صلاحیتوں کے حامل لوگوں سے معمولی کام لینا بھی درست نہیں۔ اس سے مایوسی اور احساس محرومی بڑھتی ہے اور لوگ بددل ہو کر ادارے چھوڑ کر دوسری تنظیموں میں چلے جاتے ہیں۔ انسانی وسائل کو مناسب طور پر استعمال کرنا ضروری ہے۔ ۳۔ حالات و واقعات کا ٹھنڈے دل سے تجزیہ کرنا، ان کے اسباب اور عواقب و مضمرات پر غور کرنا اور ان کی روشنی میں لائحہ عمل تیار کرنا نہایت ضروری ہے۔ ۴۔ محض ارادہ یا عزم کرنے سے ہی کامیابی نہیں مل جاتی بلکہ یہ تو انسان کی خفیہ صلاحیتوں کو بیدار کرنے کا سبب بنتا ہے۔ انسان کو خلوصِ نیت کے ساتھ کوشش لازماً کرنی چاہیے۔ برائی کے بدلے میں برائی نہ کریں بلکہ مکافاتِ عمل کا انتظار کریں۔ ۵۔ اس دنیا میں کسی بھی کام کو سرانجام دینے کے محنت درکار ہے۔ انسان میں یہ صلاحیت ہونی چاہیے کہ وہ اپنی محنت اور قابلیت کا درست اندازہ لگائے اور اپنے معاملات کی صحیح تیاری کرے اور تمام کام ذمہ داری کے احساس کے ساتھ سرانجام دے۔
     

اس صفحے کو مشتہر کریں