1. اس فورم پر جواب بھیجنے کے لیے آپ کا صارف بننا ضروری ہے۔ اگر آپ ہماری اردو کے صارف ہیں تو لاگ ان کریں۔

کیا پاکستان میں بھی یہی وقت آنے والا ہے؟

'حالاتِ حاضرہ اور ملکی و عالمی سیاست' میں موضوعات آغاز کردہ از نعیم, ‏14 جنوری 2014۔

  1. نعیم
    آف لائن

    نعیم مشیر

    شمولیت:
    ‏30 اگست 2006
    پیغامات:
    58,107
    موصول پسندیدگیاں:
    11,154
    ملک کا جھنڈا:
    کیا پاکستان میں بھی یہی وقت آنے والا ہے ؟

     
    پاکستانی55 اور احتشام محمود صدیقی .نے اسے پسند کیا ہے۔
  2. ھارون رشید
    آف لائن

    ھارون رشید برادر سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏5 اکتوبر 2006
    پیغامات:
    131,687
    موصول پسندیدگیاں:
    16,918
    ملک کا جھنڈا:
    اللہ نہ کرے
     
  3. پاکستانی55
    آف لائن

    پاکستانی55 ناظم سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏6 جولائی 2012
    پیغامات:
    98,397
    موصول پسندیدگیاں:
    24,234
    ملک کا جھنڈا:
    دعا کریں روپے کی قیمت زیادہ ہو کم نہ ہو
     
  4. ابو تیمور
    آف لائن

    ابو تیمور ناظم سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏25 مارچ 2012
    پیغامات:
    61,873
    موصول پسندیدگیاں:
    6,599
    ملک کا جھنڈا:
    ایسا وقت کبھی نہیں آئے گا۔ کیونکہ یہاں کی حکومت چالاک ہے۔ اگر ویلیو گرتی بھی ہے تو ہماری کرنسی کا آخری پانچ ہزار کے نوٹ کی بجائے ہماری کرنسی کا آخری نوٹ پانچ لاکھ کا ہوگا۔
     
    ھارون رشید نے اسے پسند کیا ہے۔
  5. نعیم
    آف لائن

    نعیم مشیر

    شمولیت:
    ‏30 اگست 2006
    پیغامات:
    58,107
    موصول پسندیدگیاں:
    11,154
    ملک کا جھنڈا:
    خوش فہم ہونا اور نیک امیدیں رکھنا اچھی بات ہے لیکن نیک امید بھی نیک اعمال کی متقاضی ہوتی ہے۔
    جبکہ عملی طور پر جائزہ لینے سے معلوم ہوتا ہے کہ پچھلی کئی دہائیوں سے تمام چالاکیوں کے باوجود آج اس حالت کو تو پہنچ چکے ہیں۔کہ ڈالر کے مقابلے میں کبھی 33 روپے آج 100 روپے سے بڑھ چکے ہیں۔
    اگر یہی کرپٹ اور استحصالی نظام برقرار رہتا ہے۔ اور سرمایہ داروں کی ذاتی فیکٹریوں کے منشی وزیر خزانہ بنتے رہے تو کیا عجب کہ آئندہ دو تین دہائیوں تک "خاکم بدہن" ہم یہ نوبت بھی دیکھ لیں ۔
     
    ھارون رشید اور پاکستانی55 .نے اسے پسند کیا ہے۔
  6. ابو تیمور
    آف لائن

    ابو تیمور ناظم سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏25 مارچ 2012
    پیغامات:
    61,873
    موصول پسندیدگیاں:
    6,599
    ملک کا جھنڈا:
    :)جی بالکل جب ہم سب کو نیک امیدیں ہی رکھنی چاہیں تاکہ اگلی بار الیکشن میں نیک بندوں کو ہی منتخب کریں۔ اگر منفی سوچ کو دماغ پر مسلط ہونے دیا تو پھر اگلی بار بھی ایسے ہی لوگ آتے رہیں گے۔ جیسے آتے رہے ہیں۔
     
    ھارون رشید نے اسے پسند کیا ہے۔
  7. پاکستانی55
    آف لائن

    پاکستانی55 ناظم سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏6 جولائی 2012
    پیغامات:
    98,397
    موصول پسندیدگیاں:
    24,234
    ملک کا جھنڈا:
    اگر تو صاف الیکشن ہوں گے تب ہی صحیح رائے حق دہی کا استعمال ہو گا ۔اور اگر دھاندلی ہو تو پھر تو بڑی مشکل ہے
     
    نعیم اور ھارون رشید .نے اسے پسند کیا ہے۔
  8. نعیم
    آف لائن

    نعیم مشیر

    شمولیت:
    ‏30 اگست 2006
    پیغامات:
    58,107
    موصول پسندیدگیاں:
    11,154
    ملک کا جھنڈا:
    اچھا یہ بھی ایک دلچپ و عجیب مخمصہ ہے۔
    مجھے ہماری اردو کے صارفین سمیت اپنے عزیز رشتہ داروں یا دوست احباب میں سے کوئی ایک شخص بتا دیں
    جو متوسط طبقے سے فی الواقع شریف ، ایماندار، دیانتدار، اہل ، محب وطن اور بےداغ کردار کا حامل ہو اور وہ قومی یا صوبائی الیکشن لڑنے کا ارادہ رکھتا ہو ؟ شاید ہزاروں افراد کے ڈھونڈنے سے 3 افراد بھی ایسے نہ مل سکیں گے جو موجودہ نظامِ انتخاب کے تحت الیکشن لڑنے کا ارادہ رکھتے ہوں گے۔
    البتہ ایسی مثالیں درجنوں ہیں کہ مندرجہ بالا خصائص کے حامل اگر کسی شخص نے ایسا ارادہ کر بھی لیا تو اسکو یا اسکے اہلِ خانہ کے ساتھ تذلیل و تضحیک کا ایسا سلوک کیا گیا کہ وہ نشانہء عبرت بن گیا۔
    موجودہ نظامِ انتخاب کے حلقہ جاتی نظام میں ہر حلقے میں امیر کبیر، وڈیرے، لٹیرے اور دہشتگرد غنڈے رکھنے والے ایسے 4-5 خاندان ہیں کہ کسی بھی پارٹی کو الیکشن لڑنے کے لیے انہیں چند خاندانوں میں سے کسی نہ کسی کو ٹکٹ دینا پڑے گا۔ کیونکہ جیتنے والے گھوڑے وہی ہیں۔ انکے علاوہ جو بھی الیکشن میں کھڑا ہوگا وہ اپنی شرافت، دیانت ، تقویٰ، اہلیت اور سفید پوشی کے باعث اپنی عزت و جان کو داؤ پر لگائے گا۔
    یہ نقشہ بالعموم ہمارے اس کرپٹ نظام کا ہے یقینا چند ایک حلقوں میں کچھ استثنی ہوسکتے ہیں۔
    یہی وجہ ہے کہ پچھلی 3 دہائیوں سے جماعتِ اسلامی، تحریک انصاف، تحریک استقلال، پاکستان عوامی تحریک سمیت سبھی دینی ، اسلامی اور ایمانداری کی شہرت رکھنے والی جماعتیں یا تو اپنے " ایماندار، شریف النفس اور اہل " امیدواروں کی ضمانتیں ضبط کروا بیٹھیں۔
    یا پھر مجبور ہو کر انہی جیتنے والے گھوڑوں کے کرپٹ خاندانوں میں سے ہی کسی نہ کسی کو ٹکٹ دینے پر مجبور ہوگئے۔
    ۔۔۔۔ ایک اور تلخ حقیقت یہ ہے کہ موجودہ نظام انتخاب صرف پیسے بہا کر ووٹ خریدنے کا کا نظام ہے۔ قومی اسمبلی کے لیے 15-20 کروڑ اور صوبائی اسمبلی کے لیے 10-15 کروڑ روپے کا خرچہ تو کم از کم ہے۔ پاکستان میں کس شریف اور دیانتدار آدمی کے پاس 20 کروڑ روپے صرف الیکشن لڑنے کے لیے ہوتے ہیں ؟ یہ کھیل بھی کرپٹ ٹیکس چوروں، بنک ڈیفالٹرز اور لوٹ مار کرنے والوں ہی کا ہے۔
    اور جب ایک امیدوار 18-20 کروڑ روپے لگا کر اسمبلی میں پہنچ بھی گیا تو وہ وہاں جا کر ایمانداری کرنے کے لیے تو نہیں بیٹھا رہے گا ؟ وہ تو اپنے 18-20 کروڑ بمعہ دوگنا و تین گنا نفع کے واپس لینے کے لیے کرپشن کرے گا۔ لوٹ مار کرے گا اور قومی خزانے پرہاتھ صاف کرے گا۔
    اب جب عوام الناس کے پاس ہر حلقے میں 3-4 کرپٹ، ٹیکس چور، لٹیرے اور بدعنوانوں میں سے ہی کسی نہ کسی کو منتخب کرنے کا حق ملنا ہے تو غریب عوام نے کس نیک، شریف اور دیانتدار کو منتخب کرنا ہے ؟
    اس لیے ضروری ہے کہ ہم اس حقیقت سے آگاہ ہوں کہ موجودہ نظام دراصل اشرافیہ سرمایہ داروں اور وڈیروں لٹیروں کا بنایا ہوا ایک جال ہے جس میں "جمہوریت " کے نام پر 18کروڑ عوام کو دھوکہ دیا جاتا ہے۔
    لازم ہے کہ موجودہ نظامِ انتخاب کو تبدیل کرکے اسکی اصلاح اس انداز میں کی جائے کہ پاکستانی عوام کے شریف، ایماندار اور دیانتدار نمائندے بھی پارلیمنٹ تک پہنچ سکنے کے قابل ہوں۔
     
    ملک بلال، پاکستانی55 اور ھارون رشید نے اسے پسند کیا ہے۔
  9. ابو تیمور
    آف لائن

    ابو تیمور ناظم سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏25 مارچ 2012
    پیغامات:
    61,873
    موصول پسندیدگیاں:
    6,599
    ملک کا جھنڈا:
    میرے بھائی کسی بھی نظام کو بدلنے کے دو ہی طریقے ہوتے ہیں
    پہلا یہ کہ عوامی طاقت استعمال کی جائے
    دوسرا یہ کہ اسی نظام میں رہ جدوجہد کی جائے

    پہلے طریقے کے مطابق طاقت اس وقت حاصل ہوگی جب ہم سب اس نظام کے خلاف یک زبان ہو کر اور طاقت کی قوت سے اس نظام کو بدلنے کے لئے نکلیں گے۔ اور پاکستان میں حالات کے تناظر میں یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ پاکستانیوں کی اکثریت اس نظام کو بدلنے کے لئے گھروں سے نکلے۔ اور کامیاب ہو۔ کیا آپ کو یقین ہے کہ پاکستان میں ایسا ہوگا؟

    اب دوسرا طریقہ یہ ہے کہ اسی نظام میں رہ کر اس نظام کو بدلا جائے۔اس کی مثالیں پاکستان میں ہی موجود ہیں جیسا کہ 1956 میں 1947 کے جاری آئین کو بدلا گیا۔ دوسری مرتبہ 1962 میں 1956 کے آئین کو بدلا گیا اور تیسری مرتبہ 1973 میں 1962کے آئین کو منسوخ کر کے پاکستانیوں کو نیا آئین دیا گیا۔

    چونکہ پاکستان کا آئین ہمارا قرآن نہیں ہے کہ اس میں تبدیلی ناممکن ہے۔ اگر ہماری اسمبلی اس بات پر متفق ہوجائے کہ کوئی بھی نظام پاکستان کی معشیت کے لئے ٹھیک نہیں ہے تو پھر پرانے نظام کی جگہ نیا نظام لایا جا سکتا ہے جیسا کہ 1956، 1962 اور 1973 میں کیا گیا۔
    پہلے طریقے کے مطابق پاکستان کی اکثریت تو ہمارے ساتھ نکل نہیں سکتی نظام بدلنے کے لئے۔ اس لئے ہمیں پورے پاکستان کے بہترین لوگوں کو منتخب کر کے اسمبلی میں لانا ہوگا تاکہ وہ آ کر اس فرسودہ نظام کو پاکستان کے نظریاتی بنیادوں پر تبدیل کریں جس کی وجہ سے ہم نے یہ ملک حاصل کیا تھا۔

    اب بہترین لوگوں کو کیسے آگے لانا ہے۔ یہ ہم لوگوں کا کام ہے۔ کہ ہم عوام میں سے ہی بہترین لوگوں کو الیکشن لڑوائیں۔
    اس کے لئے پہلے بلدیاتی الیکشن سے کونسلر کی سطح پر جدوجہد کرنی ہوگی تاکہ ہمارے بہترین لوگ دوسروں کے سامنے مثال قائم کر سکیں اور اگلی بار بلدیاتی کی بجائے صوبائی اور اس کے بعد قومی کی سطح پر ایسے لوگوں کو لایا جائے۔

    جہاں تک آپ کی بات کہ اس موجودہ نظام میں تمام کے تمام کرپٹ لوگ ہیں تو ایسا بھی نہیں ہے۔ آپ کے سامنے اس کی مثال بلوچستان کے وزیراعلیٰ ڈاکٹر عبدالمالک اور خیبر پختونخواہ کے وزیرخزانہ سراج الحق ہیں۔ جن کی شخصیت سے ہی ظاہر ہوتا ہے کہ انہوں نے دس پندرہ کروڑ تو کیا دس پندرہ لاکھ بھی اپنی جیب سے خرچ کیا ہو۔چونکہ یہ لوگ سب کے سامنے ہیں اس لئے مثال دی ہے ورنہ اس دور حکومت میں بھی اچھے لوگوں کی کمی نہیں ہے۔ مگر ان اچھے لوگوں کی تعداد ابھی بہت ہی کم ہے اور ان اچھے کو بھی ایک مقصد کے تحت لے کر چلنا ہوگا۔
     
    ملک بلال نے اسے پسند کیا ہے۔
  10. نعیم
    آف لائن

    نعیم مشیر

    شمولیت:
    ‏30 اگست 2006
    پیغامات:
    58,107
    موصول پسندیدگیاں:
    11,154
    ملک کا جھنڈا:
    جس طرح آپ کو الیکشن کے ذریعے ہی تبدیلی یا یقین یا گمان ہے۔
    اسی طرح مجھے اور مجھ جیسے کروڑوں لوگوں کو یقین ہے کہ موجودہ نظام انتخاب کے ذریعے کوئی تبدیلی نہیں آسکتی ۔ اسکا ثبوت یہ ہے کہ جعلی و اصلی ووٹ کل ملا کر بھی 40-45 فیصد سے زیادہ ووٹر اس نظام میں ووٹ ڈالنے نہیں جاتے ۔ اور جو جاتے بھی ہیں ان میں سے بھی 20۔25 فیصد ووٹرز کیسے پولنگ سٹیشنز تک پہنچاے جاتے ہیں وہ ہم سب کو بخوبی معلوم ہے۔
    یہ الیکشن کا نظام پچھلے 35-40 سال سے ملک کو تباہی کی طرف ہی لے کر گیا ہے ۔ اگر کسی کو " بہتری " نظر آتی ہے تو اسکی عقل اسی کو مبارک ۔
    کیونکہ اگلے الیکشن تو دوووور کی بات ہے ۔ خاکم بدہن ملک تو ابھی سے انتشار کا شکار ہوچکا ہے۔
    1971 میں سقوطِ ڈھاکہ والی تاریخ کراچی میں دہرائی جارہی ہے
    دہشت گردی کا عفریت پاکستانی عوام کو نگل رہا ہے اور باقی ماندہ کو نگلنے کو تیار کھڑا ہے۔ اور نادان لوگ "نفاذ شریعت" سمجھ کر اسکی حمایت بھی کررہے ہیں اور انہیں قانونی حیثیت دلوانے کے لیے " دفاتر" کھولنے کے نعرے بھی لگ رہے ہیں ۔
    مفلسی ، غربت، مایوسی جب قومی رویہ بن جائے تو قوم مفلوج ہوجاتی ہے اور مفلوج قوم کے مٹنے میں زیادہ دیر نہیں لگتی ۔
    امریکی افواج بحری ، بری اور فضائی راستوں سے پاکستان کی ناکہ بندی کو تیار بیٹھی ہیں۔ اور انکی مدد کو بھارت بھی پنجے پسارے ہوئے ہے۔
    ہاں اگر ہم کبوتر کی طرح آنکھیں بند کر " توکل علی اللہ " کرکے بیٹھے رہے تو پھر ہماری تقدیر ہے۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ہاں قوم کو جگانے کی ضرورت ہے ۔ اگر قوم کو اپنے حق کی ضرورت ہے اور قوم اپنی غلامانہ و مفاد پرستانہ غلطیوں کا ازالہ کرنا چاہتی ہے تو عوامی طاقت کے ذریعے اس نظام کے خلاف اٹھنا ہوگا۔ قوموں کی تاریخ یہی بتاتی ہے۔
    اب یہ قوم پر منحصر ہوتا ہے۔ پیغمبرانہ جدوجہد اور اسکے بعد تاریخ اسلام اور تاریخ اقوامِ عالم کے انقلابات گواہ ہیں کہ
    انقلاب یا قومی سطح کی بڑی تبدیلی کبھی ایک لیڈر، ایک رہنما یا اسکے کارکنان نہیں لے کر آتے ۔ بلکہ قوم کو اپنے حقوق کے لیے اٹھنا ہوتا ہے۔
    کیونکہ اللہ پاک بھی تو قوم کی تقدیر اسی وقت بدلتا ہے جب قوم خود اپنی تقدیر بدلنے کو تیار ہوجاتی ہے۔
     
    ملک بلال اور پاکستانی55 .نے اسے پسند کیا ہے۔
  11. ابو تیمور
    آف لائن

    ابو تیمور ناظم سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏25 مارچ 2012
    پیغامات:
    61,873
    موصول پسندیدگیاں:
    6,599
    ملک کا جھنڈا:
    1۔ یہ ناممکن نہ سہی انتہائی مشکل ضرور ہے کہ پاکستان کے موجودہ حالات میں انقلاب لایا جا سکے۔ جب تک کہ انقلاب کے لئے راہ ہموار نہ کی جائے۔ اور انقلاب کی راہ ہموار کرنا جمہوری جدوجہد سے بہت زیادہ کٹھن اور طویل مرحلہ ہے۔ انقلاب کے لئے پوری عوام کو گھروں سے نکالنا ہوتا ہے جبکہ پاکستان کی 18 کروڑ عوام میں سے 2 کروڑ عوام بھی نظام بدلنے کے لئے گھروں سے نہیں نکلے گی۔
    کیونکہ اس ملک میں ہر کسی کو اپنی اپنی پڑی ہوئی۔ بلوچستان کا مسئلہ، کراچی کا مسئلہ، سندھ میں جسقم کا مسئلہ، خیبر میں دہشتگردوں کا مسئلہ، پنجاب میں سرائیکی صوبے کا شوشا، اس کے علاوہ مہنگائی، بدامنی، بےروزگاری، جرائم کی بڑھتی ہوئی تعداد، بھوک و افلاس ہر کسی کو اپنی ذات یا اپنے خاندان یا اپنے قبیلے یا اپنی زبان والوں تک ہی محدود رکھے ہوئے ہے۔ اس صورت میں یا تو 18 کروڑ عوام میں شعور بیدار کیا جائے۔ اس بیداری کی تحریک کے نتیجے میں 18 کروڑ نہ سہی 2 کروڑ ہی اس نظام کو بدلنے کے لئے گھروں سے نکلنے پر تیار ہو جائیں تو بہت ہو۔

    2۔ لیکن اگر جمہوری جدوجہد مل کر کی جائے اور موجودہ آئین کے مطابق ہی قانون پر عمل درآمد کروانے کی کوشش کروائی جائے تو کوئی شک نہیں کہ کامیابی دور ہو۔
    جیسا کہ آپ کو علم ہے کہ پاکستان کا موجودہ آئین کرپشن، جعلی ووٹ، بدعنوان سرکاری اہلکار اور رشوت، کی بیخ کنی کرتا ہے۔ اور اس پر سزا تجویز کرتا ہے۔
    اس وقت مسئلہ یہ ہے کہ آئین کے مطابق قانون پر عمل درآمد نہیں ہو رہا۔ جب بہترین لوگ حکومت میں پہنچیں گے تو پھر وہ قانون پر عمل درآمد بھی یقیناً کروائیں گے۔ تاکہ آئندہ کرپشن، جعلی ووٹ، بدعنوان سرکاری اہلکار اور رشوت کا تدارک کیا جا سکے۔ جب ان چیزوں پر کنٹرول ہو جائے گا تب پورے پاکستان سے بہترین لوگ ہی اسمبلی تک پہنچیں گے۔ اور جب اسمبلی میں بہترین لوگوں کی تعداد اکثریت میں بدل جائے گی تب منزل آسان ہو جائے گی۔​

    اگر آپ کے نزدیک جمہوری جدوجہد کی نسبت انقلاب کا آسان عوام کے لئے آسان اور سہل ہے۔ تو یقیناً آپ کے ذہن میں کچھ ہوگا کہ یہ یہ کیا جائے تو پاکستان میں انقلاب آ سکتا ہے۔ اور اس انقلاب کے لئے عوام کو کتنا نقصان اٹھانا پڑے گا اور کتنا وقت درکار ہوگا۔ شاید میرے ذہن میں وہ باتیں نہ ہوں سامنے آنے پر ہی معلوم ہو سکتی ہے۔

    جبکہ سقوط ڈھاکہ نظریاتی بنیادوں پر نہیں ہوا۔ ایسے ہی بلوچستان کا مسئلہ بھی نظریاتی نہیں ہے۔ سندھ میں جسقم کا مسئلہ بھی نظریاتی نہیں ہے۔ لیکن دیکھا جائے تو سقوط ڈھاکہ کے بعد بھی ہمارے دلوں میں پاکستان سے محبت کم نہیں ہوئی۔ بلوچستان سندھ اور خیبر کے انتہائی خراب حالات کے باوجود بھی پاکستان سے ہماری محبت کم نہیں ہوئی اور نہ ہوگی۔ اور اگر عالمی طاقتیں پاکستان کو صرف پنجاب تک ہی محدود کر دیں(اللہ نہ کرے کبھی بھی ایسا ہو) تو پھر بھی پاکستان سے ہماری محبت کم نہ ہوگی اور پاکستان کا قیام دو قومی نظریہ پر ہی رہے گا۔ جس کے لئے ہمارے آباو اجداد نے قربانیاں دی ہیں
     
    Last edited: ‏16 جنوری 2014
    ملک بلال نے اسے پسند کیا ہے۔
  12. نعیم
    آف لائن

    نعیم مشیر

    شمولیت:
    ‏30 اگست 2006
    پیغامات:
    58,107
    موصول پسندیدگیاں:
    11,154
    ملک کا جھنڈا:

    حقیقی راہنما عوام کے پیچھے نہیں چلتا ۔ بلکہ راہ نما ہوتا ہی وہ ہے جو عوام کو سیدھی راہ دکھاتا ہے۔ چاہے عوام اس پر چلیں یا نہ چلیں یہ ان کی قسمت ۔ علامہ اقبال رح نے دو قومی نظریہ دیا جس پر آج ہم سب فخر کرتے ہیں لیکن اس وقت یہ انتہائی انوکھی راہ تھی جس پر قوم حتی کہ خود قائد اعظم بھی شروع میں متفق نہ تھے۔ کئی عشروں "بیداری شعور" کی تحریک کے بعد عوام دوقومی نظریہ پر متفق ہوئے اور قائد اعظم کی سیاسی مدبرانہ قیادت کے ذریعے کامیابی سے ہمکنار ہوئی ۔

    ایک تصحیح تو یہی کر لیجئے کہ انقلاب یا احتجاج کے لیے اٹھنا بھی عین جمہوری عمل ہے۔ جمہور یعنی عوام ۔۔ ہر وہ عمل جس میں جمہور شامل ہوں وہ جمہوری عمل ہوتا ہے۔
    جبکہ پاکستان میں ہمیں جمہوریت یہ پڑھائی اور سکھائی جاتی ہے جس میں عوام کو بھیڑ بکریوں کی مانند بریانی کی پلیٹوں، چند ہزار روپے کے لالچ، گلی محلوں میں پکی سڑکوں یا بجلی کے کھمبوں اور روزگار کے جھوٹے نعروں کے دھوکے میں ٹرالیوں ، ٹرکوں میں بھر کر پولنگ سٹیشن لایا جاتا ہے ۔۔ اور پھر وہاں بھی نادرا کی رپورٹ کے مطابق 80۔60۔40۔25 ہزار تک فی حلقہ جعلی ووٹ کاسٹ کیے جاتے ہیں اور چند خاص جماعتوں کے من پسند امیدواروں کو پری انجئیرڈ نتائج کے ذریعے کامیاب کروایا جاتا ہے۔
    اور عوام کو پھر 5 سال کے لیے ذلت، رسوائی، بھوک، افلاس، رشوت، کرپشن اور مایوسیوں کے اندھیروں میں دھکیل دیا جاتا ہے۔ اور وڈیرے، لٹیرے، سرمایہ دار، سردار بن کر اس قوم کا خزانہ 4-5 سال خوب لوٹتے ہیں۔ دبئی، لندن، فرانس، سوائس، انڈیا، کوریا، آسٹریلیا، اور دنیا بھر میں بزنس ایمپائر بنائی جاتی ہیں۔ محلات خریدے جاتے ہیں۔ 4-5کے بعد پھر سے میڈیا کے چینلز اور اینکرز خرید کر عوام کو پھر سے " جمہوری الیکشن " کی نوید سنائی جاتی ہے۔
    اور عوام اس جمہوریت کی ڈگڈی پر پھر سے ناچنا شروع کردیتے ہیں۔

    جناب اسی کے لیے تو ایک پرامن تبدیلی نظام کی ضرورت ہے۔ یاد رکھیں ڈاکٹر طاہرالقادری نے کبھی " تبدیلی آئین " کی بات نہیں کی۔ یہ بات ہر باشعور شہری کی معلوم ہے کہ پاکستان کا آئین کلیتا غیر اسلامی نہیں ہے بلکہ چند ایک شقوں کو چھوڑ کر مکمل اسلامی اور آئیڈیل جمہوری آئین ہے۔
    لیکن مسئلہ اسکے نفاذ ہی کا ہے۔ اور اسکےنفاذ کے لیے اہل، لائق لوگ ایوانِ اقتدار میں درکار ہیں۔ اور ملک میں کرپٹ نظام ہی اہل، لائق اور محب وطن دیانتدار لوگوں کے اقتدار تک پہنچنے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ اس لیے اس نظامِ انتخابات کو بدلنا ہوگا۔ اسکی جگہ نیا جمہوری نظامِ انتخاب متعارف کروانے کی ضرورت ہے جس میں عام باشعور، شریف النفس، تعلیم یافتہ اور دیانتدار انسان بھی پارلیمنٹ میں پہنچ سکے۔ ​

    تو کیا یہ سمجھا جائے کہ آپ چاہتے ہیں کہ پاکستان (خاکم بدہن) بے شک ٹکڑے ٹکڑے ہوجائے لیکن اسکو بچانے کے لیے جدوجہد نہ کی جائے؟ بلکہ صرف دل میں " پاکستان " کی محبت پالی جائے چاہے پاکستان لخت لخت ہوجائے ؟
     
    ملک بلال اور پاکستانی55 .نے اسے پسند کیا ہے۔
  13. ابو تیمور
    آف لائن

    ابو تیمور ناظم سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏25 مارچ 2012
    پیغامات:
    61,873
    موصول پسندیدگیاں:
    6,599
    ملک کا جھنڈا:
    آپ کے پہلے پیراگراف کے مطابق
    رہنما ضرور ہونا چاہیے۔ رہنما کا کام عوام کو شعور دینا ہے کہ عوام کے لئے کیا ٹھیک ہے۔ نہ کہ عوام کو لے کر سڑکوں پر طاقت کا مظاہرہ کرنا
    جب عوام میں شعور آجائے تب صحیح طریقے سے انقلاب کی راہ پر چلا جا سکتا ہے۔
    ورنہ تو ایسے ہی ہوگا جیسا کہ قائد اعظم کی وفات کے بعد کسی میں بھی اتنا شعور نہ تھا کہ پاکستان کی مستقبل کی راہ کا تعین کیسے اور کس طرف کیا جائے۔ پانچ سے چھ سالوں کے بعد عوام کو پہلا آئین دیا گیا۔ اور اس کے بعد یکے دیگرے پاکستان کے تین آئین تبدیل کئے گئے۔ رہنما کا کام ہے عوام میں شعور کو بیدار کرنا۔ جو ابھی تک عوام میں ناپید ہے


    دوسرے پیرا گراف کے مطابق
    انقلاب عوام یعنی جمہور نہیں، بلکہ جمہور + طاقت = انقلاب ہوتا ہے۔
    مزید میں بہت سی جگہوں پر پہلے ہی عرض کر چکا ہوں کہ پاکستان میں کسی بھی سطح کی برائی کو انتہائی بڑھا چڑھا کر بیان کیا جاتا ہے۔ جس کی وجہ سے ہمارے ذہنوں میں آپ کی تحریر شدہ رائے قائم ہو جاتی ہے۔


    تیسرے پیراگراف کے مطابق
    آپ نے خود ہی میری بات کی تائید کر دی کہ موجودہ نظام کو ہی اگر ٹھیک طریقے سے چلانے والے موجود ہوں تو کوئی وجہ نہیں کہ کم نہ ہوں۔ اس کے لئے وہی طریقہ کار کہ بہترین لوگوں کو آگے لانا ہوگا۔ اور اس کام کے لئے عوام میں شعور بیدار کرنا ہوگا

    چوتھے پیراگراف کے مطابق
    علامہ اقبال کا ایک شعر ہے۔ کہ چین وعرب ہمارا ہندوستان ہمارا- مسلم ہیں ہم وطن ہے سارا جہاں ہمارا
     
  14. فواد -
    آف لائن

    فواد - ممبر

    شمولیت:
    ‏16 فروری 2008
    پیغامات:
    613
    موصول پسندیدگیاں:
    14
    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    گزشتہ تين برسوں کے دوران پاکستان کو ملنے والی کل سويلين اور فوجی امريکی امداد کی ماليت چار ارب ڈالر سے زيادہ ہو چکی ہے۔ فراہم کی جانے والی اس اعانت ميں طبی امداد، اسکولوں کی تزئين و آرائش، پلوں اور کنوؤں کی تعمير نو، خوراک کی تقسيم اور زرعی وتعليمی منصوبے شامل ہيں۔ مخصوص دفاعی اعانت ميں 14 ايف سولہ لڑاکا طيارے، 10 ايم آئ سترہ ہيلی کاپٹر، پاکستان فرنٹير کور کے ليے 450 سے زيادہ گاڑياں، رات کو ديکھنے والی سينکڑوں عينکيں، دن اور رات کے اوقات ميں استعمال ہونے والی دوربينيں، ريڈيو، اور پاکستان کی مسلح افواج کے ليے ہزاروں کی تعداد ميں حفاظتی جيکٹيں اور ابتدائ طبی امداد کی اشياء شامل ہيں۔ امريکہ نے 370 سے زيادہ پاکستانی فوجی افسران کو انسداد دہشت گردی، اينٹيلی جينس، نقل وحمل، ميڈيکل، دوران پرواز حفاظت اور فوجی قوانين ايسے موضوعات کے بارے ميں قائدانہ صلاحيتوں کو ابھارنے کے پروگراموں کے لیے تربيت بھی فراہم کی ہے۔

    امريکہ پر بے بنياد الزامات لگانے سے پہلے ان زمينی حقائق اور گزشتہ چند برسوں کے دوران امريکہ کی جانب سے پاکستان کو دی جانے والی فوجی اور سول امداد کی تاريخ کو بھی مدنظر رکھنا چاہيے۔


    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    digitaloutreach@state.gov

    www.state.gov

    https://twitter.com/USDOSDOT_Urdu

    http://www.facebook.com/USDOTUrdu

    http://s24.postimg.org/sulh4j7f9/USDOTURDU_banner.jpg
     
  15. ملک بلال
    آف لائن

    ملک بلال منتظم اعلیٰ سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏12 مئی 2010
    پیغامات:
    22,418
    موصول پسندیدگیاں:
    7,511
    ملک کا جھنڈا:
    آ گئے امریکی ترجمان
    اور کریں امریکہ کا ذکر :)
     
    نعیم نے اسے پسند کیا ہے۔
  16. مخلص انسان
    آف لائن

    مخلص انسان ممبر

    شمولیت:
    ‏10 اکتوبر 2015
    پیغامات:
    5,415
    موصول پسندیدگیاں:
    2,746
    ملک کا جھنڈا:
    اور اگر عالمی طاقتیں پاکستان کو صرف پنجاب تک ہی محدود کر دیں(اللہ نہ کرے کبھی بھی ایسا ہو) تو پھر بھی پاکستان سے ہماری محبت کم نہ ہوگی
    واہ کیا بات کہی تھی آپ ابو تیمور بھائی نے ( جنوری 2014 ) ، ہوسکے تو اپنے جملوں پر غور کیجئے گا
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    دراصل پاکستان کا مسئلہ یہ ہی ہے کچھ لوگوں کی نظر میں صرف پنجاب ہی پاکستان ہے اور باقی اکائیاں اس کی زیر دست ، کیوں بھائی کیا پاکستان بنانے میں صرف پنجاب کی قربانیاں تھیں باقی لوگوں کو مفت میں پاکستان ملا ؟؟
    آپ نے کہا اللہ نہ کرے اللہ نہ کرے پاکستان 4 ، 5 حصوں میں تقسیم ہوگیا اور پنجاب تک محدود رہ گیا تو پھر بھی پاکستان کہلائے گا کیوں ؟؟ گریٹر پنجاب کیوں نہیں کہلائے گا ؟؟ 65 فیصد ریوینیو سندھ دے اور پنجاب مزے کرے ۔۔۔ بیرونی قرضوں سے میٹرو بنے لاہور میں پنڈی میں ملتان میں اور مزے کی بات کما کر کچھ نہ دے بلکہ الٹا سالنہ لاکھوں سبسٹڈی کے نام پر پاکستان کے جیب پر ڈاکہ ڈلے مگر میرے بھائی یہ قرضہ اتارے گا کون ؟؟ ظاہر ہے پاکستان یعنی 65 فیصد سندھ اور اگر سندھ اس پر اعتراض کرے تو پاکستان مخالف دوسرے الفاظ میں غدار ۔۔۔ محب وطن ہونے اور غدار ہونے کا سرٹیفیکٹ تو پنجاب ہی دیتا ہے جب ہی تو کبھی فاطمہ جناح غدار ہوتی ہیں کبھی جے ایم سید ، کبھی ولی خان تو کبھی ہمارے بلوچ بھائی اور اب الطاف بھی غدار ہے ۔۔۔۔ بے نطیر کی حکومت توٹے تو سپریم کورٹ کی نظر میں جائز وہ ہی سپریم کورٹ نواز شریف کی حکومت بحال کردے ۔ طالبان پالے پنجاب اور قیمت اتارے کے پی کے اپنا خون دے کر ،،
    بلوچستان کو پنجاب کالونی بنادو بلوچ اعتراض کریں تو ماردو ۔۔۔ ابھی کچھ دن قبل صفورہ گوٹھ کا ایک واقعہ ہوا ان ہی دنوں زمبابوے کی کرکٹ ٹیم پاکستان کے ٹور پر آرہی تھی اس سانحہ پر اس کا ارادہ ڈولنے لگا صرف لاہور میں پورا ٹور کرادیا گیا پاکستان کے نام پر کہا گیا دہشت گردی تو کراچی میں ہوئی ہے آپ تو لاہور آرہے ہو یعنی کراچی پاکستان کا حصہ نہیں ۔ مزے کی بات اس سانحہ کے دہشت گرد پکڑے گئے وہ بھی کہاں سے ؟؟ جی پنجاب سے
    پاکستان بنا ضرور تھا دو قومی نظریہ کی بنیاد پر مگر ہم لوگوں نے یہ اس ہی وقت دفن کردیا تھا جب بنگلہ دیش بنا ورنہ تو بنگالی بھی مسلمان ہی تھے
    دراصل برصغیر کے مسلمانوں اور قائد اعظم کو ہندؤں سے کوئی پریشانی نہیں تھی بلکہ مسئلہ یہ تھا کہ وہ تعداد میں زیادہ تھے اور قائد اعظم کو خدشہ یہ تھا کہ انگریزوں کے جانے کے بعد یہ ہندو مسلمانوں پر غالب آجائیں گے اپنی تعداد کے بل بوتے پر جب پاکستان بنا تو قائد اعظم نے یہاں پر موجود ہندؤں کو پاکستان چھوڑنے کا حکم نہیں دیا تھا بلکہ ان کو یہیں رکنے کی استدا کی تھی اور کہا تھا پاکستان میں ہر اقلیت کو مکمل آزادی ہوگی اگر ہندؤں سے کوئی خار ہوتی تو وہ یہ نہ کرتے ، میں یہ کہنا چاہ رہا ہوں جس بات کا خدشہ قائد اعظم کو ہندوں سے تھا وہ ہی حرکتیں اب پنجاب دوسری قوموں کے ساتھ کر رہا ہے اپنی تعداد کے زیادہ ہونے کا فائدہ
     
    ھارون رشید اور نعیم .نے اسے پسند کیا ہے۔
  17. مخلص انسان
    آف لائن

    مخلص انسان ممبر

    شمولیت:
    ‏10 اکتوبر 2015
    پیغامات:
    5,415
    موصول پسندیدگیاں:
    2,746
    ملک کا جھنڈا:
    اور اگر عالمی طاقتیں پاکستان کو صرف پنجاب تک ہی محدود کر دیں(اللہ نہ کرے کبھی بھی ایسا ہو) تو پھر بھی پاکستان سے ہماری محبت کم نہ ہوگی
    واہ کیا بات کہی تھی آپ ابو تیمور بھائی نے ( جنوری 2014 ) ، ہوسکے تو اپنے جملوں پر غور کیجئے گا
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    دراصل پاکستان کا مسئلہ یہ ہی ہے کچھ لوگوں کی نظر میں صرف پنجاب ہی پاکستان ہے اور باقی اکائیاں اس کی زیر دست ، کیوں بھائی کیا پاکستان بنانے میں صرف پنجاب کی قربانیاں تھیں باقی لوگوں کو مفت میں پاکستان ملا ؟؟
    آپ نے کہا اللہ نہ کرے اللہ نہ کرے پاکستان 4 ، 5 حصوں میں تقسیم ہوگیا اور پنجاب تک محدود رہ گیا تو پھر بھی پاکستان کہلائے گا کیوں ؟؟ گریٹر پنجاب کیوں نہیں کہلائے گا ؟؟ 65 فیصد ریوینیو سندھ دے اور پنجاب مزے کرے ۔۔۔ بیرونی قرضوں سے میٹرو بنے لاہور میں پنڈی میں ملتان میں اور مزے کی بات کما کر کچھ نہ دے بلکہ الٹا سالنہ لاکھوں سبسٹڈی کے نام پر پاکستان کے جیب پر ڈاکہ ڈلے مگر میرے بھائی یہ قرضہ اتارے گا کون ؟؟ ظاہر ہے پاکستان یعنی 65 فیصد سندھ اور اگر سندھ اس پر اعتراض کرے تو پاکستان مخالف دوسرے الفاظ میں غدار ۔۔۔ محب وطن ہونے اور غدار ہونے کا سرٹیفیکٹ تو پنجاب ہی دیتا ہے جب ہی تو کبھی فاطمہ جناح غدار ہوتی ہیں کبھی جے ایم سید ، کبھی ولی خان تو کبھی ہمارے بلوچ بھائی اور اب الطاف بھی غدار ہے ۔۔۔۔ بے نطیر کی حکومت توٹے تو سپریم کورٹ کی نظر میں جائز وہ ہی سپریم کورٹ نواز شریف کی حکومت بحال کردے ۔ طالبان پالے پنجاب اور قیمت اتارے کے پی کے اپنا خون دے کر ،،
    بلوچستان کو پنجاب کالونی بنادو بلوچ اعتراض کریں تو ماردو ۔۔۔ ابھی کچھ دن قبل صفورہ گوٹھ کا ایک واقعہ ہوا ان ہی دنوں زمبابوے کی کرکٹ ٹیم پاکستان کے ٹور پر آرہی تھی اس سانحہ پر اس کا ارادہ ڈولنے لگا صرف لاہور میں پورا ٹور کرادیا گیا پاکستان کے نام پر کہا گیا دہشت گردی تو کراچی میں ہوئی ہے آپ تو لاہور آرہے ہو یعنی کراچی پاکستان کا حصہ نہیں ۔ مزے کی بات اس سانحہ کے دہشت گرد پکڑے گئے وہ بھی کہاں سے ؟؟ جی پنجاب سے
    پاکستان بنا ضرور تھا دو قومی نظریہ کی بنیاد پر مگر ہم لوگوں نے یہ اس ہی وقت دفن کردیا تھا جب بنگلہ دیش بنا ورنہ تو بنگالی بھی مسلمان ہی تھے
    دراصل برصغیر کے مسلمانوں اور قائد اعظم کو ہندؤں سے کوئی پریشانی نہیں تھی بلکہ مسئلہ یہ تھا کہ وہ تعداد میں زیادہ تھے اور قائد اعظم کو خدشہ یہ تھا کہ انگریزوں کے جانے کے بعد یہ ہندو مسلمانوں پر غالب آجائیں گے اپنی تعداد کے بل بوتے پر جب پاکستان بنا تو قائد اعظم نے یہاں پر موجود ہندؤں کو پاکستان چھوڑنے کا حکم نہیں دیا تھا بلکہ ان کو یہیں رکنے کی استدا کی تھی اور کہا تھا پاکستان میں ہر اقلیت کو مکمل آزادی ہوگی اگر ہندؤں سے کوئی خار ہوتی تو وہ یہ نہ کرتے ، میں یہ کہنا چاہ رہا ہوں جس بات کا خدشہ قائد اعظم کو ہندوں سے تھا وہ ہی حرکتیں اب پنجاب دوسری قوموں کے ساتھ کر رہا ہے اپنی تعداد کے زیادہ ہونے کا فائدہ
     
    نعیم نے اسے پسند کیا ہے۔
  18. نعیم
    آف لائن

    نعیم مشیر

    شمولیت:
    ‏30 اگست 2006
    پیغامات:
    58,107
    موصول پسندیدگیاں:
    11,154
    ملک کا جھنڈا:
    مخلص انسان بھائی ۔ بہت ہی کڑوا لیکن درست تجزیہ ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے مفاد پرست، نا اہل اور ناعاقبت اندیش سیاستدانوں بالخصوص تختِ لاھور پر قابض حکمران اور بالعموم دیگر صوبہ جات کے حکمرانوں نے ماضی سے کوئی سبق سیکھا اور نہ ہی مستقبل میں ایسے سانحات سے بچنے کی کوئی منصوبہ بندی کی۔
    اور ہم سب عوام بھی برابر کے قصور وار ہیں۔ ہم مسلمان اور بالخصوص پاکستانی مسلمان دنیا کی واحد قوم ہیں جو چائے کی پیالی سامنے رکھ کر، مفکر و دانشور بن کر، امریکہ و یورپ کو سیاسی طور پر صلاح مشورے دیتے نظر آئیں گے۔ لیکن جب اپنے ملک میں حکمران منتخب کرنے کی باری آئے گی تو برادری، صوبائی ، لسانی اور مذہبی عصبیتوں کی بنیاد پر علاقے کے چوروں، رسہ گیروں، بدمعاشوں و بدقماشوں کے نام پر مہر لگا کر قیمے والے نان یا بریانی پلیٹ کھا کر گھر واپس لوٹ ائیں گے۔ اور اگلے 5 سال تک کرپٹ حکمرانوں کے جوتے چاٹیں گے۔ اور ان سے جو تے کھائیں گے
    اور سب کچھ تقدیرِ الہی کے کھاتے میں ڈال کر خود بےقصور بن جائیں گے۔
     
    ھارون رشید نے اسے پسند کیا ہے۔
  19. مخلص انسان
    آف لائن

    مخلص انسان ممبر

    شمولیت:
    ‏10 اکتوبر 2015
    پیغامات:
    5,415
    موصول پسندیدگیاں:
    2,746
    ملک کا جھنڈا:
    نعیم بھائی میری دعا ہے اللہ ہم سب کے حق میں بہتر کرے ۔۔۔
    آج تو پیرس میں بھی 9ـ11 ہوگیا ہے دیکھیں اس کا ملبہ کس پر گرتا ہے
     
    ھارون رشید اور نعیم .نے اسے پسند کیا ہے۔
  20. ابو تیمور
    آف لائن

    ابو تیمور ناظم سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏25 مارچ 2012
    پیغامات:
    61,873
    موصول پسندیدگیاں:
    6,599
    ملک کا جھنڈا:
    واقعی آپ کی بات بجا کہ صرف پنجاب ہی پاکستان کیوں
    لیکن آپ ذرا زمینی حقائق کا جائزہ لیں تو آپ کو صاف نظر آئے گا کہ ہر طرف سے ہر دور میں پاکستان سے مخالفت میں بیانات آتے رہے ہیں۔ بلکہ جدوجہد بھی چلتی رہی ہے۔جیسے سندھ میں جئے سندھ کی تحریک کہ سندھ ایک علیحدہ ملک ہونا چاہیے تھا۔ بلوچستان میں بلوچ رہنماؤں کی آزادی کی تحریکیں کہ پاکستان کے ساتھ بلوچستان ٰایک ساتھ نہیں رہ سکتا۔ خیبر میں بھی عوامی نیشنل پارٹی کی پختونوں کی پاکستان سے علیحدہ رکھنے کی سازش ہو چکی ہے۔
    پنجاب کے علاوہ ہر صوبہ میں کبھی نہ کبھی اور کسی نہ کسی دور میں پاکستان کے خلاف کسی نہ کسی رہنما کے بیانات سامنے آتے رہے ہیں۔
    اور یہ بات باقی صوبوں کے رہنماؤں کے بیانات سے ہی ظاہر ہوتی رہی ہے کہ کہ پاکستان شاید پنجاب کے سر پر ہی چل رہا ہے۔ اور یہی تاثر عوام میں بھی ابھار رہے ہیں یہ رہنما۔

    اس کے علاوہ پاکستان بنانے کی جدوجہد اس لئے کی گئی تھی کہ انگریزوں نے اپنے جانے کے بعد اپنا جانشین ہندوں کو بنانا تھا۔ اور قائداعظم سمیت بہت سے مسلم رہنماؤں کو یقین تھا کہ اول تو انگریزوں نے مسلمانوں سے اقتدار چھینا تھا تو مسلمانوں کوہی اقتدار ملنا چاہیے تھا۔ وگرنہ دوسری صورت میں مسلمان متحدہ ہندوستان میں ایک ساتھ نہیں رہ سکتے۔
     
    Last edited: ‏17 نومبر 2015
  21. نعیم
    آف لائن

    نعیم مشیر

    شمولیت:
    ‏30 اگست 2006
    پیغامات:
    58,107
    موصول پسندیدگیاں:
    11,154
    ملک کا جھنڈا:
    محترم بھائی جان۔ یہی تو سوال ہے کہ باقی صوبوں کے اندر یہ "احساسِ محرومیت" کیوں پیدا ہوا کہ سندھ جیسے صوبے جہاں پر سب سے زیادہ مسلمان ہندوستان سے ہجرت کرکے پاکستان آئے آج وہاں پر ہی قومیت کی سب سے بڑی تحریک پنپ چکی ہے؟ آخر کیوں ؟ اسکے پیچھے محرکات کیا ہیں ؟ کیوں وہ سب پنجاب سے نفرت کرتے ہیں ؟
    بلوچستان اور سرحد کے غیورپاکستانیوں نے کچھ کم قربانیاں تو نہیں دیں ۔ لیکن وہاں بھی آج احساسِ محرومی اور علیحدگی کی جراثیم کیوں ؟
     
    مخلص انسان نے اسے پسند کیا ہے۔
  22. ابو تیمور
    آف لائن

    ابو تیمور ناظم سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏25 مارچ 2012
    پیغامات:
    61,873
    موصول پسندیدگیاں:
    6,599
    ملک کا جھنڈا:
    احساس محرومی کا مطلب یہ نہیں کہ بغاوت کر دی جائے
    اگر کبھی کسی گھر میں فیملی ممبرز کے درمیان کوئی تنازہ پیدا ہوتا ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ باقی سب فیملی ممبرز کے خلاف انتہائی اقدامات اٹھانا شروع کر دے۔ اگر وہ حق پر ہے تو زیادہ سے زیادہ فیملی ممبرز کو اپنے ساتھ ملائے۔ تاکہ وہ اپنی بات پر سٹینڈ لے سکے۔
    ایسے ہی اگر ایک صوبہ من مانی کر رہا ہے تو باقی صوبوں کو آپس میں مل جانا چاہیے کہ ایک صوبے کی چوہدراہٹ برداشت نہیں کی جائے گی۔
     
    نعیم نے اسے پسند کیا ہے۔
  23. مخلص انسان
    آف لائن

    مخلص انسان ممبر

    شمولیت:
    ‏10 اکتوبر 2015
    پیغامات:
    5,415
    موصول پسندیدگیاں:
    2,746
    ملک کا جھنڈا:
    قومیں اور ملک یونہی راتوں رات نہیں ٹوٹ جاتے۔ طوفان اچانک نہیں آتے، انقلاب آسمان سے نہیں ٹپک پڑتے وقت ان کی آبیاری کرتا ہے اور ان کے پیچھے منطقی وجوہات ہوتی ہیں۔
    صرف پنجاب کی اتنی قومی اسمبلی کی سیٹیں ہیں اگر باقی تین صوبے مل بھی جائیں پھر بھی ان کی تعداد کم ہوتی ہیں
     
    نعیم نے اسے پسند کیا ہے۔
  24. نعیم
    آف لائن

    نعیم مشیر

    شمولیت:
    ‏30 اگست 2006
    پیغامات:
    58,107
    موصول پسندیدگیاں:
    11,154
    ملک کا جھنڈا:
    بہت سارے تلخ حقائق ہیں جنہیں فراغ دلی سے قبول کرکے اپنی غلطیوں کی تلافی کرنا ہوگی
    وگرنہ اندرونی و بیرونی دشمن پوری تاک میں بیٹھے ہیں۔
     
  25. umer1
    آف لائن

    umer1 ممبر

    شمولیت:
    ‏26 اپریل 2013
    پیغامات:
    5
    موصول پسندیدگیاں:
    2
    ملک کا جھنڈا:
    صبر کا دامن تھامے رکھو ۔۔۔ لوگوں کے جذبات مشتعل نا کرو ۔۔ شکریہ۔۔
     
    سعدیہ نے اسے پسند کیا ہے۔

اس صفحے کو مشتہر کریں