1. اس فورم پر جواب بھیجنے کے لیے آپ کا صارف بننا ضروری ہے۔ اگر آپ ہماری اردو کے صارف ہیں تو لاگ ان کریں۔

کیا بارہ ربیع الاول حضوراکرم ﷺ کی ولادت ہے ؟

'سیرتِ سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم' میں موضوعات آغاز کردہ از اسمعیٰل, ‏7 فروری 2012۔

  1. اسمعیٰل
    آف لائن

    اسمعیٰل ممبر

    شمولیت:
    ‏7 جنوری 2012
    پیغامات:
    32
    موصول پسندیدگیاں:
    0
    ملک کا جھنڈا:
    امام الانبیا ء محبوب خدا ﷺ کی تاریخ ولادت
    رسول اکرم ﷺ کی ولادت باسعادت بارہ ۱۲ ربیع الاوّل شریف کو ہوئی ۔ اس کے ثبوت ہم با سند صحیح روایت سے کرتے ہیں۔

    امام ابوبکر بن ابی شیبہ روایت کرتے ہیں کہ
    عن عقان عن سعید بن مینار عن جابر و ابن عباس انھما قال ولد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عام الفیل یوم الاثنین الثانی عشر من شھر ربیع الاول
    ترجمہ :عقان سے روایت ہے وہ سعید بن مینا سے روایت فرماتے ہیں اور وہ حضرت جابر اور ابن عباس رضی اللہ عنھم سے راوی کہ یہ دونوں (حضرت جابر اور ابن عباس رضی اللہ عنھم) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی ولادت باسعادت عام الفیل میں پیر کے روز بارہ کے روز بارہ ربیع الاول کو ہوئی۔
    (سیرۃ انبویہ لابن کثیر جلد ا صفحہ ۱۹۹، البدایہ والنھایہ جلد ۲، صفحہ ۲۶۰)

    اس روایت کی سند بھی صحیح ہے تو ثابت ہوا کہ جلیل القدر دو صحابہ کرام سے باسند صحیح یہ ثابت ہے کہ حضور اقدس ﷺ کی ولادت باسعادت بارہ ربیع الاول کو ہوئی۔ ۹ بیع الاول کے تاریخ ہونے کی رٹ لگانا باطل و مردود ہے۔تمام عالم میں ولادت کی تاریخ ۱۲ ہی ہے جس کا انکار کرنا ناممکن ہے
    جس حدیث کومیں نے پیش کیا جو تمام اہلسنت کے نزدیک معتبر ہے ۔ اس حدیث کے راویوں کی توثیق جلیل القدر آئمہ محدیثین کرام سے آپ ملاحظہ کریں۔

    (۱) اس کے پہلے راوی خود امام ابوبکر بن شیبہ ہیں جو امام بخاری و امام مسلم کے استاد ہیں ۔ جو جلیل القدر آئمہ محدیثین کی تصریحات کی رو سے ثقہ حافظ ہیں۔ (تہذیب التہذیب جلد ۶، صفحہ ۳۔۴،) متصل سند کے ساتھ امام بخاری نے ان سے ۲۲روایات صحیح بخاری میں ۔امام مسلم نے ۱۵۲۸ روایات صحیح مسلم میں امام نسائی نے ۶ روایات سنن نسائی میں امام ابوداؤد نے ۶۰ روایات سنن ابوداؤدمیں امام ابن ماجہ نے ۱۱۵۱ روایات سنن ابن ماجہ میں نقل کی ہیں۔

    (۲) اس روایت کے دوسرے راوی عقان ہیں جو کہ بلند پایہ امام ثقہ صاحب ضبط اور اتقان تھے۔ خلاصۃ التہذیب صفحہ ۲۶۸، امام عجلی نے کہا کہ وہ ثقہ اور صاحب سنت تھے (تہذیب التہذیب جلد ۷، صفحہ ۲۳۱، )امام ابن معین نے ان کو اصحاب الحدیث بلند پایہ میں شمار کیا ہے۔ (تہذیب التہذیب جلد ۷، صفحہ ۲۳۳، )امام ابن سعد نے کہا کہ وہ ثقہ ثبت حجت اور کثیر الحدیث تھے۔ امام ابن خراش نے کہاکہ وہ ثقۃ من خیار المسلمین تھے۔ ابن قانع نے کہا کہ وہ ثقہ اور مامون تھے۔ابن حبان نے ان کوثقات میں شمار کیا ہے ۔(تہذیب التہذیب جلد ۷، صفحہ ۲۳۴، )امام ذہبی نے کہا کہ وہ مشائخ الاسلامیں سے تھے ۔ آئمۃ العلام میں سے تھے۔ امام عجلی نے ثبت اور صاحب سنت کہا (میزان الاعتدال ،جلد ۳ ، صفحہ ۸۱) امام ابن معین نے ان کو پانچ بلند اصحاب الحدیث میں شمار کیا۔ امام ابو حاتم نے ثقہ متقن متین کہا (میزان الاعتدال ،جلد ۳ ، صفحہ ۸۲)

    (۳) تیسرے راوی سعید بن مینار ہیں۔ امام ابن معین اور امام ابو حاتم نے ان کو ثقہ کہا۔ ابن حبان نے ثقات میں شمار کیا ۔ امام نسائی نے الجرح و التعدیل میں ثقہ کہا (تہذیب التہذیب جلد ۴، صفحہ ۹۱)

    امام ابن کثیر رحمۃ اللہ تعالی علیہ اس روایت کو نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں کہ
    وھذا ھو المشھور عند الخمھور ۔ جمہور علماء کے نزدیک یہی مشہور ہے (سیرۃ النبویہ جلد ۱، صفحہ ۱۹۹)

    روایت دوسری (۲)​
    عن سعید بن جبیر عن ابن عباس ولد انبی صلی اللہ علیہ وسلم عام الفیل لا ثنتی عشرۃ لیلۃ مضت من ربیع الاوّل
    حضرت سعید بن جبیر نے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ بنی کریم ﷺ کی ولادت باسعادت عام الفیل میں۔ پیر کے روز ربیع الاوّل کی بارہ تاریخ کو ہوئی۔(تلخیص المستدرک ،جلد ۲، صفحہ ۶۰۳)

    امام ابن جریر طبری کا قول :
    امام ابن جریر طبری لکھتے ہیں کہ : ولد رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ و آلہ وسلم یوم الاثنین عام الفیل لا ثنتی عشرۃ لیلۃ مضت من شھر ربیع الاوّل۔
    رسول اللہ ﷺ کی ولادت باسعادت پیر کے روز ربیع الاوّل کی بار ہویں تاریخ کو عام الفیل میں ہوئی۔ (تاریخ طبری ، جلد ۲، صفحہ ۱۲۵)

    محمد بن اسحاق اور امام ابن ہشام
    امام ابن ہشام نے محمد بن اسحاق کا قول نقل فرمایا کہ
    ولد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یوم الاثنین لا ثنتی عشرۃ لیلۃ خلت من شھر ربیع الاوّل عام الفیل
    رسول اللہ ﷺ کی ولادت پیر کے دن بارہویں ربیع الاوّل کو عام الفیل میں ہوئی۔(السیرۃ النبویہ، لابن ہشام ، جلد۱، صفحہ ۱۸۱)

    محدث ابن جوزی علیہ الرحمۃ
    محدث ابن جوزی علیہ الرحمۃ لکھتے ہیں کہ
    قال ابن اسحاق ولد رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم یوم الاثنین عام الفیل لاثنتی عشرۃ لیلۃ مضت من شھر ربیع الاوّل
    امام ابن اسحاق نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ کی ولادت باسعادت پیر کے دن بارہ ربیع الاوّل کو عام الفیل میں ہوئی۔(الوفاء جلد ۱ صفحہ۹۰) امام ابن اسحاق کا یہ قول ان کتب میں بھی موجود ہے
    (سبل الھدیٰ و الرشاد جلد ۱، صفحہ ۳۳۴، شیعب الایمان بیہقی، جلد ۲، صفحہ ۴۵۸، السیرۃ النبویہ مع الروض الانف جلد ۳ ص ۹۳)

    امام ابن جوزی نے اپنی دیگر کتب میں بھی سرکار اقدس ﷺ کی تاریخ ولادت بارہ ربیع الاوّل کو قرار دیا ہے (بیان المیلاد النبوی، ص ۳۱۔مولد العروس ،ص ۱۴)

    علامہ ابن خِلدون
    علامہ ابن خِلدون لکھتے ہیں کہ
    ولد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عام الفیل لاثنتی عشرۃ لیلۃ خلت من ربیع الاوّل ۔
    رسول اللہ ﷺ کی ولادت عام الفیل کو بارہویں ربیع الاوّل کو ہوئی (تاریخ ابن خلدون، جلد ۲، صفحہ ۷۱۰)
    الحافظ امام ابو الفتح الشافعی
    امام ابو الفتح محمد بن محمد بن عبداللہ بن محمد بن یحییٰ بن سید الناس الشافعی الاندلسی لکھتے ہیں کہ
    ولد سیدنا و نبینا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یوم الاثنین لاثنتی عشرۃ مضت من شھر ربیع الاوّل عام الفیل (عیون الاثر، جلد ۱ ،ص۲۶)
    ہمارے سردار اور ہمارے نبی حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی ولادت باسعادت پیر کے دن بارہ ربیع الاوّل شریف کو عام الفیل میں ہوئی
    امام ابن حجر مکی
    امام ابن حجر مکی علیہ الرحمۃ لکھتے ہیں کہ
    وکان مولدہ لیلۃ الاثنین لاثنتی عشرۃ لیلۃ خلت من شھر ربیع الاوّل ( النعمۃ الکبری علی العالم ، ص ۲۰)
    اور آپ ﷺ کی ولادت باسعادت پیر کی رات بارہ ربیع الاوّل کو ہوئی
    امام حاکم
    عن محمد بن اسحاق ولد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لاثنتی عشرۃ لیلۃ مضت من شھر ربیع الاوّل (مستدرک جلد ۲،ص ۶۰۳)
    امام المغازی محمد بن اسحاق سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی ولادت باسعادت بارہ ربیع الاوّل کو ہوئی۔

    امام برہان الدین حلبی : حضرت سعید بن مسیّب
    امام برہان الدین حلبی علیہ الرحمۃ لکھتے ہیں
    عن سعید بن المسیب ولد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عندالبھار ای وسطہ و کان ذلک لمض اثنی عشرۃ لیلۃ مضت من شھر ربیع الاوّل (سیرت حلبیہ، جلد۱،ص ۵۷)
    حضرت سعید بن مسیّب سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی ولادت باسعادت بہار نہار کے قریب یعنی وسط میں ربیع الاوّل کی بارہ تاریخ کو ہوئی۔

    امام بیہقی (۳۸۴-۴۵۸ھ)
    جلیل القدرمحدث امام بیہقی لکھتے ہیں کہ
    ولد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یوم الاثنین عام الفیل لاثنتی عشرۃ لیلۃ مضت من شھر ربیع الاوّل
    رسول اللہﷺ پیر کے دن عام الفیل میں ربیع الاوّل کی بارہ تاریخ کو پیدا ہوئے (دلائل النبوت بیہقی، جلد ۱،ص ۷۴)

    امام ابن حبان(متوفی۳۵۴ھ)
    جلیل القدر محدث امام ابن حبان لکھتے ہیں کہ
    قال ابو حاتم ولد النبی صلی اللہ علیہ وسلم عام الفیل یوم الاثنین لاثنتی عشرۃ مضت من شھر ربیع الاوّل
    امام ابو حاتم نے فرمایا کہ نبی کریمﷺ کی ولادت عام الفیل کے سال پیر کے دن بارہ ربیع الاوّل کو ہوئی(سیرۃ البنویہ و اخیار الخلفاء، ص ۳۳)

    امام سخاوی (متوفی۹۰۲ھ)
    محدث جلیل امام سخاوی علیہ الرحمۃ لکھتے ہیں کہ
    (ولد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم) فی یوم الاثنین عند فجرہ لاثنتی عشرۃ لیلۃ مضت ربیع الاوّل عام الفیل
    رسول اللہ ﷺ عام فیل ربیع الاوّل پیر کے دن فجر کے وقت ۱۲ کی رات میں پیدا ہوئے (التحفۃ اللطیفۃ، جلد ۱، ص ۷)

    امام ابوالحسن علی بن محمد ماوردی (متوفی ۴۵۰ھ)
    امام ابوالحسن علی بن محمد ماوردی لکھتے ہیں کہ
    لانہ ولد بعد خمسین یومامن الفیل و بعد موت ابیہ فی یوم الاثنین الثانی عشرمن شھر ربیع الاوّل
    عام الفیل کے پچاس روز بعد والد گرامی کے وصال کے بعد رسول اللہ ﷺ ماہ ربیع الاوّل کی بارہ تاریخ کو پیدا ہوئے۔(اعلام النبوۃ، جلد ۱، ص ۳۷۹)

    ملا معین واعظ کاشفی
    معروف سیرت نگار ملامعین واعظ کاشفی لکھتے ہیں۔
    مشہور ہے کہ ربیع الاوّل کے مہینے میں آنحضرت ﷺ تشریف لائے اور اکثر کہتے ہیں کہ ربیع الاوّل کی بارہ تاریخ تھی۔(معارج النبوت،ج۱ ،ص ۳۷،باب سوم)

    مولانا عبدالرحمٰن جامی(متوفی ۸۹۸ھ)
    مولانا عبدالرحمٰن جامی ؒ لکھتے ہیں کہ
    ولادت رسول اکرم ﷺ بتاریخ ۱۲ ربیع الاوّل بروز پیر واقعہ خیل سے پچیس دن بعد ہوئی۔(شواہد البنوت فارس، ص،۲۲۔اردو،ص۵۶)

    سید جمال حسینی
    محدث جلیل سید جمال حسینیؒ رقمطراز ہیں کہ
    مشہور قول یہ ہے اور بعض نے اس پر اتفاق کیا ہے کہ آپ ﷺ ربیع الاوّل کے مہینہ میں پیدا ہوئے۔ ۱۲ ربیع الاوّل مشہور تاریخ ہے (رسالت مآب ترجمہ روضۃ الاحباب از مفتی عزیز الرحمٰن ص ۹)

    امام ابو معشر نجیع
    امام ذہبی لکھتے ہیں کہ :- و قال ابو معشر نجیع ولد لاثنتی عشرۃ لیلۃ خلت من ربیع الاوّل
    ابو معشر نجیع فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ بارہ ربیع الاوّل کو پیدا ہوئے (سیرت النبویہ للذہبی ،ج۱،ص،۷)
    ملاعلی قاری (متوفی ۱۰۱۴ھ)
    محدث جلیل ملا علی قاری لکھتے ہیں کہ:-
    و المشھور انہ ولد فی یوم الاثنین ثانی عشر ربیع الاوّل
    اور مشہور یہی ہے کہ حضور اقدسﷺ کی ولادت پیر کے روز بارہ ربیع الاوّل کو ہوئی ۔(الموردالروی،ص۹۸)
    امام قسطلانی (۸۵۱-۹۲۳ھ)
    شارح بخاری امام قسطلانی لکھتے ہیں کہ:-
    و المشھور انہ دلد یوم الاثنین ثانی عشر شھر ربیع الاوّل
    اور مشہور یہ ہے کہ رسول اکرم ﷺ پیر بارہ ربیع الاوّل کو پیدا ہوئے۔(مواہب اللدنیہ،ج۱،ص ۱۴۲)

    امام زرقانی (متوفی۱۱۲۲ھ)
    امام زرقانی لکھتے ہیں کہ:-
    و قال ابن کثیر وھو المشھور عند الجمھورو بالغ ابن جوزی و ابن الجزار نقلا فیہ الاجماع وھو الذی علہہ العمل
    امام ابن کثیر نے فرمایا کہ جمہور کے نزدیک بارہ ربیع الاوّل کو ولادت مشہور ہے۔ ابن جوزی اور ابن الجزار نے مبالغہ سے اس اجماع نقل کیا ہے۔یہ وہ قول ہےجس پر (امت کا ) عمل ہے (زرقانی علی المواہب، ج۱، ص۱۳۲)

    امام حسین بن محمد دیا ربکری(۹۸۲ھ)
    علامہ حسین بن محمد دیاربکری لکھتے ہیں کہ
    والمشھور انہ ولد فی ثانی عشر ربیع الاوّل وھو قول ابن اسحاق
    اور مشہور یہ ہے کہ حضور اکرم ﷺ کی ولادت بارہ ربیع الاوّل کو ہوئی اور یہ ابن اسحاق کا قول ہے ( تاریخ الخمیس، ج۱،ص ۱۹۲)

    شیخ عبدالحق محدث دہلوی(متوفی ۱۲۳۹ھ)
    حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی لکھتے ہیں کہ
    و قیل لاثنتی عشرۃ و ھو االمشھور۔
    اور کہا گیا ہے کہ حضور کریمﷺ کی تاریخ ولادت بارہ ربیع الاوّل ہے اور یہی مشہور قول ہے (ماثبت بالسنۃ،ص۱۴۹۔مدارج النبوت ،ج۲،ص ۲۳)

    علامہ یوسف بنھانی
    علامہ یوسف بن اسمعٰیل بنھانی لکھتے ہیں کہ
    فی یوم الاثنین ثانی عشرمن شھر ربیع الاوّل رسول اکرم ﷺ کی ولادت پیر کے دن بارہ ربیع الاوّل کو ہوئی۔(حجۃ اللہ علی العالمین ص ۱۷۶)

    دیگر حوالہ جات​

    ان کے علاوہ متعد د آئمہ نے باریخ ولادت بارہ ربیع الاوّل کی ہی صراحت کی ہے۔ مزید چند حوالہ جات درج ذیل ہیں۔
    نسیم الریاض،ج۳،ص۲۷۵۔صفۃ الصفوۃ ،ج۱،ص۵۲۔اعلام النبوۃ ،ج۱،ص ۱۹۲۔ فقہ السیرۃ للغزالی،ص ۲۰۔ تواریخ حبیب الہٰ ،ص ۱۲۔وسیلۃ الاسلام ،ج۱،ص۴۴۔ مسائل الامام احمد ،ج۱،ص ۱۴۔سرور المخزون ص۱۴۔
    اب ہم تمام مکتب فکر کے علماء کے قوال نقل کرتے ہیں​

    نواب صدیق حسن بھوپالی
    جماعت اہلحدیث کے مفسر مولوی نواب صدیق حسن بھوپالی لکھتے ہیں کہ
    ولادت شریف مکہ مکرمہ میں وقت طلوع فجر کے روز دو شنبہ شب دواز دہم ربیع الاوّل عام فیل کو ہوئی۔ جمہور علماء کا قول یہی ہے۔ ابن الجوزی نے اس پر اتفاق نقل کیا ہے ۔(اشمامۃ العنبریہ من مولد خیرالبریہ ،ص ۷)

    سلیمان ندوی
    دیوبند اور اہلحدیث کے معتمد عالم مولوی سلیمان ندوی لکھتے ہیں کہ
    (آپ ﷺ کی ) پیدائش ۱۲ تاریخ کو ربیع الاوّل کے مہینے میں پیرکے دن حضرت عیسٰی ؑسے پانچ سوا کہتر(۵۷۱) برس بعد ہوئی۔(رحمت عالم ،ص ۱۳،طبع مکتبہ دارارقم)

    عبدالستار
    اہلحدیث کے مشہور مولوی عبدالستار اپنے پنجابی اشعار پر مشتمل کتاب میں لکھتے ہیں کہ
    بارھویں ماہ ربیع الاوّل رات سو سوار نورانی
    فضل کنوں تشریف لیایا پاک حبیب حقانی
    (کرام محمدی، ص ۲۷۰)

    صادق سیالکوٹی
    اہلحدیث کے صادق سیالکوٹی لکھتے ہیں کہ
    بہار کے موسم بارہ ربیع الاوّل (۲۲اپریل ۵۷۱ء)سوسوار کے روز نور کےتڑکے........امت محمدیہ کے زہےنصیب کہ یہ آیہ رحمت اسے عطا ہوئی۔ (سیدالکونین ،ص ۵۹۔۶۰)

    ابو القاسم محمد رفیق دلاوری
    دیوبندی مسلک کے مشہور عالم ابو القاسم محمد رفیق دلاوری لکھتے ہیں کہ
    حضرت احمد مجتبیٰ محمد مصطفی ٰﷺ دوشنبہ کے دن ۱۲ ربیع الاوّل صبح صادق کے وقت مکہ معظمہ کے محلہ شعب بنو ہاشم میں اس مقام پرظہور فرماہوئے۔(سیرت کبریٰ، ج۱،ص۲۲۴)

    مفتی محمد شفیع آف کراچی
    دیوبند مسلک کے مفتی اعظم محمد شفیع آف کراچی لکھتے ہیں کہ
    ماہ ربیع الاوّل کی بارھویں تاریخ روز شنبہ دنیا کی عمر میں ایک نرالا دن ہے کہ آج پیدائش عالم کا مقصد لیل و نہار کے انقلاب کی اصلی غرض آدم اور اولادآدم کا فخر کشتی نوح کی حفاظت کا راز ابراہیم کی دعا اور موسیٰ و عیسیٰ کی پیشن گوئیوں کا مصداق یعنی ہمارے آقا ئے نامدار محمد رسول اللہ ﷺ رونق افروز عالم ہوتے ہیں۔(سیرت خاتم الانبیاء،ص ۲۰،طبع دارالاشاعت)
    مزید لکھتے ہیں کہ
    (آپ ﷺ کی ولادت کے متعلق)مشہور قول بارھویں تاریخ کا ہے۔ یہاں تک کہ ابن البزار نے اس پر اجماع نقل کر دیا اور اسی کو کامل ابن اثیر میں اختیار کیا ہے۔اور محمود پاشامکی مصری نے جو نویں تاریخ بذریعہ حسابات اختیار کیا ہے ۔ یہ جمہور کے خلاف بے سند قول ہے اور حسابات پر بوجہ اختلاف مطالع ایسا اعتماد نہیں ہوسکتا کہ جمہور کی مخالفت اس کی بناء پر کی جائے (سیرت خاتم الانبیا ،ص ۲۰)
    اشرف علی تھانوی

    اشرف علی تھانوی بیان کرتے ہیں کہ :جمہور کے قول کے موافق بارہ ربیع الاوّل تاریخ ولادت شریف ہے ( ارشاد العباد فی عیدالمیلاد،ص۵)

    اسلم قاسمی:-قاری محمد طیب کے فرزند محمد اسلم قاسمی لکھتے ہیں کہ بارہ ربیع الاوّل پیر کے روز بیس تاریخ اپریل ۵۷۱ء کو صبح کے وقت جناب آمنہ کے یہاں ولادت ہوئی۔(سیرت پاک ،ص۲۲)

    احمد علی لاہوری :- دیوبند مسلک کے امام التفسیر احمد علی لاہوری لکھتے ہیں کہ
    احمد مجتبیٰ محمد مصطفیٰ رحمۃ للعالمین ﷺ ۱۲ ربیع الاوّل بیس اپریل ۵۷۱ء پیر کے دن عرب دیس کے شہر مکہ میں پیدا ہوئے۔(ہفت روز خدام الدین ، ص ۷، ۱۸ مارچ ۱۹۷۷ء)

    مولانا مودودی:-جماعت اسلامی کے بانی مولانا مودودی لکھتے ہیں کہ
    ربیع الاوّل کی کون سی تاریخ تھی اس میں اختلاف ہے لیکن ابن ابی شیبہ نے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ اور جابربن عبداللہ ؓ کا قول نقل کیا ہے کہ آپ ۱۲ ربیع الاوّل کو پیدا ہوئے تھے ۔ اس کی تصریح محمد بن اسحاق نے کی ہے اور جمہور اہل علم میں یہی تاریخ مشہور ہے ۔(سیرت سرور عالم ، ص ۹۳،ج۱)

    سرسید احمد خان:-لکھتے ہیں کہ جمہور مورخین کی رائے یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ بارہویں ربیع الاوّل کو عام الفیل کے پہلے برس یعنی ابراہہ کی چڑھائی سے پچپن روز بعد پیدا ہوئے۔(سیرت محمدی ، ص۲۱۷)

    نوٹ مندرجہ بالا مضمون تاریخ عید میلادالنبی ﷺ از حضرت علامہ ابوحذیفہ محمد کاشف اقبال مدنی ۔میں سے درج کیا گیا ہے اس میں مزید اور حوالہ جات ہیں لیکن مضمون کی طول کو ختم کرنے کے لے اس پر اتفا کیا جاتا ہے
    نتیجہ کلام :-
    ان تمام دلائل و براہین سے ثابت ہوگیا کہ ہمارے آقا نامدار محمد ﷺ کی ولادت باسعادت ۱۲ ربیع الاوّل ہے اور اہل اسلام کے تمام علماء کا اس پر اتفاق ہے ۔
     
  2. نعیم
    آف لائن

    نعیم مشیر

    شمولیت:
    ‏30 اگست 2006
    پیغامات:
    58,062
    موصول پسندیدگیاں:
    11,100
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: کیا بارہ ربیع الاول حضوراکرم ﷺ کی ولادت ہے ؟

    السلام علیکم بھائی ۔ جزاک اللہ خیر۔ یقینا مفید معلومات ہیں۔ اللہ پاک آپ کو اس تحقیق و محنت کا اجرِ عظیم عطافرمائے۔ آمین
     

اس صفحے کو مشتہر کریں