1. اس فورم پر جواب بھیجنے کے لیے آپ کا صارف بننا ضروری ہے۔ اگر آپ ہماری اردو کے صارف ہیں تو لاگ ان کریں۔

کرکٹ

'ادبی طنز و مزاح' میں موضوعات آغاز کردہ از ھارون رشید, ‏20 جون 2010۔

  1. ھارون رشید
    آف لائن

    ھارون رشید برادر سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏5 اکتوبر 2006
    پیغامات:
    131,231
    موصول پسندیدگیاں:
    16,731
    ملک کا جھنڈا:
    اچھے سکولوں میں شروع سے ہی تربیت دی جاتی ہے کہ جس طرح مرغابی پر پانی کی بوند نہیں ٹھہرتی، اسی طرح اچھے کھلاڑی پر ناکامی کا کوئی اثر نہیں ہونا چاہیے۔ ہم نے دیکھا ہے کہ بعض کمزور طبیعتیں اس نصیحت کا اس قدر اثر لیتی ہیں کہ ہر قسم کے نتائج سے بے پرواہ ہو جاتی ہیں لیکن اگر کھلے خزانے پہ اعتراف کر لیں کہ ہمیں جیت سے رنج اور ہار سے خوشی نہیں ہوتی تو کون سے عیب کی بات ہے؟ انگلستان کا بادشاہ ولیم فاتح اس سلسلہ میں کمال بے ساختگی و صاف دلی کی ایک مردہ مثال قائم کر گیا ہے جو آج بھی بعضوں کے نزدیک لائق توجہ و تقلید ہے۔ ہوا یہ کہ ایک دفعہ جب وہ شطرنج کی بازی ہار گیا تو آؤ دیکھا نہ تاؤ ، جھٹ چوبی بساط جیتنے والے کے سر پر دے ماری جس سے اس گستاخ کی موت واقع ہو گئی۔ مورخین اس باب میں خاموش ہیں مگر قیاس کہتا ہے کہ درباریوں نے یوں بات بنائی ہو گی۔
    "سرکار ! یہ تو بہت ہی کم ظرف نکلا۔ جیت کی ذرا تاب نہ لا سکا، شادی مرگ ہو گیا۔"
    یہی قصہ ایک دن نمک مرچ لگا کر ہم نے مرزا کو سنایا، بگڑ گئے۔ کہنے لگے۔ "آپ بڑا فلسفہ چھانٹتے ہیں مگر یہ ایک فلسفی کا ہی قول ہے کہ کوئی قوم سیاسی عظمت کی قائل نہیں ہو سکتی جب تک کہ اس نے کسی نہ کسی عہد میں اپنے کھیل کا لوہا نہ منوایا ہو۔"
    ہم نے چھیڑا۔ "مگر قومیں پٹ پٹ کر ہی ہیکڑ ہوتی ہیں۔"
    قوموں کو جہاں کا تہاں چھوڑ کر ذاتیات پر اتر آئے۔ "جس شخص نے عمر بھر اپنے دامن صحت کو ہر قسم کی کسرت اور کھیل سے بچائے رکھا، وہ غریب کھیل کی اسپرٹ کو کیا جانے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ "
    اس کے بعد انہوں نے بتایا کہ مذکور الصدر مقام پر ہر ہفتے دوستانہ میچ ہوتے رہتے ہیں۔ (دوستانہ میچ سے مراد ایسا میچ ہے جس میں لوگ ہار کر بھی قائل نہیں ہوتے) ابھی گزشتہ سنیچر کو عینک لگانے والوں کی ٹیم نے سگار پینے والوں کو پوری نو وکٹوں سے شکست دی تھی اور پرسوں ان کی کمپنی کے کنوارے ملازمین اپنے افسروں اور ان کی بیویوں سے شوقیہ میچ کھیل رہے تھے۔ ہم نے کچھ ہچر مچر کی تو آنکھ مار کر کہنے لگے۔
    "بے پردگی کا خاص انتظام ہو گا، ضرور آنا۔"
    ہم ناشتہ کرتے ہی بغدادی جیم خانہ پہنچ گئے۔ پروگرام کے مطابق کھیل ٹھیک دس بجے شروع ہونا چاہیے تھا مگر ایمپائر کا سفید کوٹ استری ہو کر دیر سے آیا اس لئے چھپے ہوئے پروگرام کی بجائے ساڑھے گیارہ بجے تک کھلاڑی مونگ پھلی کھاتے رہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پندرہ منٹ کی ردوکد کے بعد یہ طے پایا کہ جو ٹیم "ٹاس" ہارے وہی بیٹنگ کرے۔ پھر کلدار روپیہ کھنکا، تالیاں بجیں، معطر رومال ہوا میں لہرائے اور مرزا کسے بندھے بیٹنگ کرنے نکلے۔
    ہم نے دعا دی۔ "خدا کرے ، تم واپس نہ آؤ۔"
    مرزا نے ہمارا شکریہ ادا کیا اور چلتے چلتے پھر تاکید کی۔ "کرکٹ مت دیکھو، کرکٹ کی اسپرٹ دیکھو۔"
    ہم یہ بتانا بھول ہی گئے کہ روانہ ہونے سے قبل مرزا نے اپنے بلے پر جملہ تماشائیوں کے دستخط لئے۔ ایک خاتون نے (جو کسی طرف سے ان پڑھ معلوم نہں ہوتی تھیں) دستخط کی جگہ بلے پر اپنے ترشے ترشائے سرخ سرخ ہونٹ ثبت کر دئیے اور مرزا پیچھے مڑ مڑ کر دیکھتے ہوئے وکٹ تک پہنچے بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ سارا راستہ الٹے قدموں طے کیا اور اگر بیچ میں وکٹ سے ٹکر نہ ہوتی تو شاید ساری فیلڈ اسی طرح پار کر جاتے۔
    مرزا نے کرکٹ میں بھی وہی تیہا اور تیور دکھائے جو ہم ان کے مچیٹوں اور معاشقوں میں دیکھتے چلے آئے تھے، یعنی تکنیک کم اور جوش زیادہ۔ ۔ ۔ ۔ روانگی سے چند منٹ پہلے پیڈ کے تسمے باندھتے ہوئے انہوں نے ایک مرکھنے سے کلرک کو یہ ہتھکنڈہ بتایا کہ چھکا لگانے کی سہل ترکیب یہ ہے کہ خوب کس کے ہٹ جاؤ۔ کلرک نے پھٹی پھٹی آنکھوں سے گھورتے ہوئے کہا۔
    "یہ تو سبھی جانتے ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ سوال یہ ہے کہ زور کا ہٹ کس طرح لگایا جائے؟"
    مرزا اپنی بڑی بڑی آنکھیں لال کرکے بولے ۔ "میں تو یہ کرتا ہوں کہ ہٹ لگاتے ہوئے آنکھ میچ کر اپنے افسر کا تصور کرتا ہوں۔ خدائی کی قسم ، ایسے زور کا ہٹ لگتا ہے کہ گیند تارا ہو جاتی ہے۔"
    مرزا کے کھیلنے بلکہ نہ کھیلنے کا انداز دیکھ کر ہمیں یقین ہو گیا کہ افسر کا ایک فوٹو نہیں بلکہ پورا کا پورا البم ان کی آنکھوں میں پھر رہا ہے اس لئے کہ وہ بلے کو پوری طاقت کے ساتھ گوپھن کی طرح گھمائے جا رہے تھے۔ تین اوور اسی طرح خالی گئے اور گیند کو ایک دفعہ بھی بلے سے ہمکنار ہونے کا موقع نہیں ملا۔ مرزا کے مسکرانے کا انداز صاف بتا رہا تھا کہ وہ اس صورت حال کو بولر کی نالائقی سے زیادہ اپنے استادانہ ہتھکنڈوں پر محمول کر رہے ہیں مگر اتفاق سے چوتھے اوور میں ایک گیند سیدھی بلے پر جا لگی۔ مرزا پوری طاقت سے بلا دور پھینک کر چیخے۔
    "ہاؤ ازٹ؟"
    ایمپائر دوڑا دوڑا آیا، بلا اٹھا کر انہیں پکڑایا اور بڑی مشکل سے سمجھا سمجھا کر دوبارہ کھیلنے پر رضامند کیا۔
    مصیبت اصل میں یہ تھی کہ مخالف ٹیم کا لمبا تڑنگا بولر، خدا جھوٹ نہ بلوائے تو پورے ایک فرلانگ سے ٹہلتا ہوا آتا۔ ایک بارکی جھٹکے کے ساتھ رک کر کھنکارتا ، پھر خلاف توقع نہایت تیزی سے گیند پھینکتا۔ اس کے علاوہ حالانکہ صرف دائیں آنکھ سے دیکھ سکتا تھا مگر گیند بائیں ہاتھ سے پھینکتا تھا۔ مرزا کا خیال تھا کہ اس بے ایمان نے یہ چکرا دینے والی صورت انتقاماً بنا رکھی ہے لیکن ایک مرزا ہی پر موقوف نہیں، کوئی بھی یہ اندازہ نہیں کر سکتا تھا کہ وہ گیند کیسے اور کہاں پھینکے گا بلکہ اس کی صورت دیکھ کر کبھی کبھی تو یہ شبہ ہوتا تھا کہ اللہ جانے پھینکے گا بھی یا نہیں۔"؟۔۔۔۔۔۔واقعہ یہ ہےکہ اس نے گیند سے اتنے وکٹ نہیں لئے جتنے گیند پھینکنےکے انداز سے۔۔۔ بقول مرزا۔
    "مشاق بولر سے کوئی خائف نہیں ہوتا۔ وہ زیادہ سے زیادہ وکٹ ہی تو لے سکتا ہے، جان تو اناڑی سے نکلتی ہے۔"
    سبھی کے چھکے چھوٹ گئے۔ گیند پھینکنے سے پہلے جب وہ اپنی ڈھائی گھر کی چال سے لہریا بناتا ہوا آتا تو اچھے اچھوں کے بلے ہاتھ کے ہاتھ میں رہ جاتے۔ ۔ ۔۔ ۔۔
    ؂
    آگے بڑھا کوئی ، تو کوئی ڈر کےرہ گیا
    سکتے میں کوئی ، منہ پہ نظر کرکے رہ گیا
    ہر مرتبہ ظالم کچھ ایسے غیر پیشہ وارانہ جذبے اور جوش کے ساتھ کچکچا کے گیند پھینکتا ، گویا یہ وہ پہلا پتھر ہے جس سے ایک گنہگار دوسرے گنہگار کو سنگ سار کرنے جا رہا ہے۔ اس کے باوجود مرزا انتہائی دندان شکن حالات میں ڈنڈے گاڑے کھڑے تھے لیکن یہ درست ہے کہ رن نہ بننے کی بڑی وجہ مرزا کے اپنے پینترے تھے۔ وہ اپنا وکٹ ہتھیلی پر لئے پھر رہے تھے۔ وہ کرتے یہ تھے کہ اگر گیند اپنی طرف آتی ہوتی تو صاف ٹل جاتے لیکن اگر ٹیڑھی آتی دکھائی دیتی تو اس کے پیچھے بلا لے کر نہایت جوش و خروش سے دوڑتے (کپتان نے بہتیرا اشاروں سے منع کیا مگر وہ دو دفعہ گیند کو باؤنڈری لائن تک چھوڑنے گئے) البتہ ایک دفعہ جب وہ اپنے بلے پر لپ اسٹک سے بنے ہوئے ہونٹوں کو محویت سے دیکھ رہے تھے تو گیند اچانک بلے سے آ لگی اور وہ چمک کر ہوا میں گیند سے زیادہ اچھلے ۔ وکٹ کیپر اگر بڑھ کر بیچ میں نہ پکڑ لیتا تو ایسے اوندھے منہ گرتے کہ ہفتوں اپنی شکل آپ نہ پہچان پاتے۔ ۔۔ ۔ ۔ یوں بھی بعض کھلاڑی گیند کو دیکھتے نہیں، سنتے ہیں۔ یعنی ان کو اپنے قرب و جوار میں گیند کی موجودگی کا احساس پہلے پہل اس آواز سے ہوتا ہے جو گیند اور وکٹ کے ٹکرانے سے پیدا ہوتی ہے۔
    چند اوور کے بعد کھیل کا رنگ بدلتا نظر آیا اور یوں محسوس ہونے لگا گویا وکٹ گیند کو اپنی جانب اس طرح کھینچ رہا ہے جیسے مقناطیس لوہے کو۔ ہم نے دیکھا کہ ساتویں اوور کی تیسری گیند پر مرزا نے اپنی مسلح و مسلم ران درمیان میں حائل کر دی۔ سب یک زبان ہو کر چیخ اٹھے۔
    "مرزا انے دانستہ اپنی ٹانگ اس جگہ رکھی جہاں میں ہمیشہ گیند پھینکتا ہوں۔ " بولر نے الزام لگایا۔
    "بکواس ہے۔ ۔۔۔۔ بات یوں ہے کہ اس نے جان بوجھ کر اس جگہ گیند پھینکی جہاں میں ہمیشہ اپنی ٹانگ رکھتا ہوں۔" مرزا نے جواب دیا۔
    "اگر میرا نشانہ ایسا ہی ہوتا تو مرزا کبھی کے پویلین میں براجمان ہوتے۔" بولر بولا۔
    "تو یوں کہو کہ تہماری گیند وکٹ سے الرجک ہے۔ " مرزا نے کہا۔
    "میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ مرزا نے عمداً ٹانگ آگے کی۔" یک چشم بولر نے خلیفہ سے کہا۔
    ایمپائر نے دونوں کو سمجھایا کہ بحثابحثی کرکٹ کی اسپرٹ کے خلاف ہے۔ پھر یہ فیصلہ صادر فرمایا کہ بیٹس مین کے کھیل کے محتاط اسٹائل سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ اگر اسے ذرا بھی احتمال ہوتا کہ گیند اس طرف آ رہی ہے تو وہ کھٹاک سے وکٹ کو اپنی ٹانگ کے آگے کر دیتا۔ اس فیصلہ پر مرزا نے اپنی ٹوپی اچھالی اور جب وہ اپنی مرکز کی طرف واپس آ گئی تو پھر کھیل شروع ہوا لیکن دوسرے ہی اوور میں بولر نے گیند ایسی کھینچ کے ماری کے مرزا کے سر سے ایک آواز (اور منہ سے کئی) نکلی اور ٹوپی اڑ کر وکٹ کیپر کے قدموں پر جا پڑی۔ پھر جب ایمپائر نے دوبارہ مرزا کو ٹوپی پہنانے کی کوشش کی تو وہ ایک انچ تنگ ہو چکی تھی۔ اس کے باوجود مرزا خوب جم کر کھیلے اور ایسا جم کے کھیلے کہ ان کی اپنی ٹیم کے پاؤں اکھڑ گئے۔ اس اجمال پر ملال کی تفصیل یہ ہے کہ جیسے ہی ان کا ساتھی گیند پر ہٹ لگاتا ویسے ہی مرزا اسے رن بنانے کی پر زور دعوت دیتے اور جب وہ کشاں کشاں تین چوتھائی پچ طے کر لیتا تو اسے ڈانٹ ڈپٹ کر ، بلکہ دھکیل کر اپنے وکٹ کی جانب واپس بھیج دیتے مگر اکثر یہی ہوا کہ گیند اس غریب سے پہلے وہاں پہنچ گئی اور وہ مفت میں رن آؤٹ ہو گیا۔ جب مرزا نے یکے بعد دیگرے اپنی ٹیم کے پانچ کھلاڑیوں کا بشمول کپتان ذی شان ، اس طرح جلوس نکال دیا تو کپتان نے پس ماندگان کو سختی سے تنبیہہ کر دی کہ خبردار ! اب مرزا کے علاوہ کوئی رن نہ بنائے ۔ لیکن مرزا آخری وکٹ تک اپنی وضع احتیاط پر ثابت قدمی سے قائم رہے اور ایک رن بنا کے نہیں دیا۔ اس کے باوجود ان کا اسکور اپنی ٹیم میں سب سے اچھا رہا۔ اس لئے کہ رن تو کسی اور نے بھی نہیں بنائے مگر وہ سب آؤٹ ہو گئے ، اس کے برعکس مرزا خود کو بڑے فخر کے ساتھ "زیرو ناٹ آؤٹ" بتاتے تھے۔ ناٹ آؤٹ ، اور یہ بڑی بات ہے۔
    کھیل کے مختصر وقفے کے ساتھ طویل لنچ شروع ہوا جس میں بعض شادی شدہ افسروں نے چھپ کر بئیر پی اور اونگھنے لگے۔ جنہوں نے نہیں پی وہ ان کی بیویوں سے بدتمیزیاں کرنے لگے۔ جب چائے کے وقت میں کل دس منٹ باقی رہ گئے اور بیرےچھپ چھپ کر پیالیاں لگانے لگے تو مجبوراً کھیل شروع کرنا پڑا۔ دو کھلاڑی ایمپائر کو سہارا دے کر پچ تک لے گئے اور مرزا نے بولنگ سنبھالی۔ پتہ چلا کہ وہ بولنگ کی اس نایاب صنف میں ید طولٰی رکھتے ہیں جسے ان کے بدخواہ "وائڈ بال" کہنے پر مصر تھے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ہٹ لگے بغیر بھی دھڑا دھڑ رن بننے لگے۔ تین اوور کے بعد یہ حال ہو گیا کہ مرزا ہر گیند پر گالی دینے لگے۔ (شکار میں بھی ان کا سدا سے یہی دستور رہا کہ فائر کرنے سے پہلے دانت پیس کر تیتر کو کوستے ہیں اور فائر کرنے کے بعد بندوق بنانے والے کارخانے کو گالیاں دیتے ہیں) ہم بولنگ کی مختلف قسموں اور باریکیوں سے واقف نہیں، تاہم اتنا ضرور دیکھا کہ جس رفتار سے مرزا وکٹ کی طرف گیند پھینکتے ، اس سے چوگنی رفتار سے واپس کر دی جاتی۔ وہ تھوڑی دیر کج رفتار گیند کو حیرت اور حسرت سے دیکھتے۔ بار بار اس پر اپنا دایاں کف افسوس ملتے ، پھر بھدر بھدر دوڑتے اور جب اور جہاں سانس بھر جاتی، وہیں اور اسی لمحے ہاتھ سے گیند پھینک دیتے۔
    "منہ پھیر کر ادھر کو، ادھر کو بڑھا کے ہاتھ"
    ابتدا میں تو مخالف ٹیم ان کی بولنگ کے معیار سے نہایت مطمئن و محظوظ ہوئی لیکن جب اس کے پہلے ہی کھلاڑی نے پندرہ منٹ میں تیس رن بنا ڈالے تو کپتان نے اصرار کیا کہ ہمارے دوسرے بیٹس مین رہے جاتے ہیں۔ ان کو بھی موقع ملنا چاہیے اس لئے آپ اپنا بولر بدلئے۔
    مرزا بولنگ چھوڑ کر پویلین میں آ گئے۔ مارے خوشی کے کانوں تک باچھیں کھلی پڑ رہی تھیں۔ جب وہ اپنی جگہ پر واپس آگئیں تو منہ ہمارے کان سے بھڑا کر بولے۔
    "کہو ، پسند آئی؟"
    "کون۔۔۔۔۔ کدھر ؟ " ہم نے پوچھا۔
    ہمارا ہاتھ جھٹک کر بولے۔ " نرے گاؤدی ہو تم بھی۔۔۔۔۔۔ میں کرکٹ کی اسپرٹ کی بات کر رہا ہوں۔"
    (مشتاق احمد یوسفی)
     
  2. خوشی
    آف لائن

    خوشی ممبر

    شمولیت:
    ‏21 ستمبر 2008
    پیغامات:
    60,337
    موصول پسندیدگیاں:
    36
    جواب: کرکٹ

    واہ بہت خوب

    آج آپ نے ناظم خاصونے کا حق ادا کر دیا

    بہت خوب
    مزید تعریف چائے پینے کے بعد
     
  3. ھارون رشید
    آف لائن

    ھارون رشید برادر سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏5 اکتوبر 2006
    پیغامات:
    131,231
    موصول پسندیدگیاں:
    16,731
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: کرکٹ

    چائے کی دیگ ابھی ختم نہیں‌ہوئی کیا
     

اس صفحے کو مشتہر کریں