1. اس فورم پر جواب بھیجنے کے لیے آپ کا صارف بننا ضروری ہے۔ اگر آپ ہماری اردو کے صارف ہیں تو لاگ ان کریں۔

ڈاکٹر مصطفیٰ حلمی کی کتاب تاریخ تصوف ایک نظر میں

'تاریخِ اسلام : ماضی ، حال اور مستقبل' میں موضوعات آغاز کردہ از کنعان, ‏11 فروری 2018۔

  1. کنعان
    آف لائن

    کنعان ممبر

    شمولیت:
    ‏25 جولائی 2009
    پیغامات:
    412
    موصول پسندیدگیاں:
    465
    ملک کا جھنڈا:
    ڈاکٹر مصطفیٰ حلمی کی کتاب تاریخ تصوف ایک نظر میں
    تحریر: قاسم محمود
    5 فروری 2018

    "قرطاس، کراچی نے ایک مصری عالم ڈاکٹر محمد مصطفیٰ حلمی کی تصوف پر کتاب "تاریخ تصوف" کے نام سے شائع کی ہے۔ جس کا اردو ترجمہ رئیس احمد جعفری صاحب نے کیا ہے۔ یہ کتاب 210 صٖفحات پر مشتمل ہے۔ یہ کتاب 60 سال سے دستیاب نہیں تھی اور ادارہ "قرطاس" نے دوسری دفعہ نئی طباعت و پروف ریڈنگ کے بعد شائع کیا ہے۔ ادارہ "قرطاس" کی ناظمہ ڈاکٹر نگار سجاد ظہیر صاحبہ نے کتاب کو شائع کر کے ایک عمدہ کام کیا ہے جس کی وجہ سے وہ داد کی مستحق ہیں۔ اللہ 'قرطاس" کو مزید ترقی عطا کرے۔

    اسلام میں تصوف کے آغاز کے بارے میں ڈاکٹر مصطفیٰ حلمی کہتے ہیں کہ اس کا آغاز آپ ﷺ کے مبارک دور سے ہوا، اور تصوف دراصل اسلام کی روحانی زندگی ہے۔ آپﷺ اور آپ ﷺ کے اصحابؓ حب دنیا سے بے زار تھے ان کی زندگی کا مقصد فقط رب کریم کی خوشنودی تھا۔ آپ ﷺ کی سیرت مقدسہ کے مطالعے کے دوران بھی یہ بات ہمیں نظر آتی ہے کہ آپ ﷺ غار حرا جاتے تھے اور یہ معمول نزول وحی سے پہلے کا تھا جس کا مطلب ہے کہ اس وقت بھی آپؐ کی روحانی زندگی کا آغاز ہو چکا تھا۔ آپ ﷺ نے لوگوں سے دور رہ کر خلوت نفس کے بعد کائنات کی علت غائی پر غور کرکے جو زندگی اختیار کی، بعد کے زہاد و صوفیہ کے ریاضات اور مجاہدات اس کے تابع ہی آتے ہیں۔

    آپ ﷺ کی غار حرا کی تنہائی اور بعد کے زہاد و صوفیہ کے مجاہدات کا اصل الاصول رب کی معرفت تھا۔ لہٰذا جو تصوف اس اصول سے دور ہوا وہ اسلام سے بھی دور ہوا۔ وہ ہندی تصوف، یونانی تصوف یا مسیحی تصوف تو کہلایا جا سکتا ہے مگر یہ اسلام کے بالکل معارض ہے۔ اصل تصوف وہ ہی ہے جو قرآن و سنت اور آپ ﷺ کی حیات کے تابع ہو۔ ڈاکٹر حلمی لکھتے ہیں کہ آپ ﷺ کی غار حرا کی زندگی ہی تصوف کا پہلا بیج ہے جس کو بعد میں صوفیاء نے ایک تناور درخت بنا دیا۔ ڈاکٹر مصطفیٰ حلمی نے بار بار آپ ﷺ کی غار حرا کی زندگی کا ذکر کیا ہے جہاں آپ ﷺ کو یکسوئی قلب میسر آئی، پھر معرفت نفس حاصل ہوئی، پھر اس قلب صافی میں زیادہ سے زیادہ جلا پیدا ہوئی، اور آپ ﷺ کو رویائے صادقہ نظر آنے لگے، یوں جب دنیا باطل اور شر پر چل رہی تھی آپ ﷺ حق اور خیر پر ڈٹ گئے۔ بعد میں آنے والے صوفیاء کی زندگی آپ ﷺ کی اس زندگی ہی کی پیروی ہے جس کا مقصد و منشاء تصفیہ نفس اور تنقیہ نفس تھا۔

    ڈاکٹر صاحب نے اس اعتراض کو کہ یہ عزلت نشینی جو آپ ﷺ نے اختیار کی اس وقت آپ ﷺ منصب رسالت پر فائز نہیں تھے کو لغو قرار دے کر مسترد کر دیا ہے اور کہا ہے کہ یہ زندگی جاہل عرب جیسی نہیں تھی بلکہ نبوت و رسالت کی تمہید تھی۔ لہٰذا اس کو جاہلیت سے تعبیر کرنا از خود جہالت ہے۔

    مصنف نے یہاں ایک روایت نقل کی ہے کہ آپ ﷺ پر ایک دفعہ وجد کی کیفیت طاری تھی تو سیدہ عائشہ صدیقہؓ کو دیکھ کر آپ ﷺ نے فرمایا تم کون ہو؟ سیدہ عائشہ صدیقہؓ نے فرمایا میں عائشہ ہوں۔ آپؐ نے دریافت فرمایا کون عائشہ؟ سیدہ عائشہ نے فرمایا ابوبکرؓ کی بیٹی۔ آپ ﷺ نے دریافت فرمایا کون ابوبکرؓ؟ وہ بولیں محمد ﷺ کے دوست۔ آپ ﷺ نے دریافت فرمایا کون محمد ﷺ۔ اب سیدہ عائشہ خاموش ہو گئیں کیونکہ انہوں نے جان لیا تھا کہ آپ ﷺ دوسری کیفیت میں ہیں۔

    اس حدیث کے ماخذ کے بارے میں میں نے کئی علما کرام سے پوچھا مگر تاحال نہیں مل سکا۔ مصنف کہتے ہیں کہ اگر یہ حدیث درست ہے تو یہ دلیل ہے کہ رب کریم کی یاد میں بندے پر ایسی منزل آتی ہے کہ وہ اپنے وجود تک کو فراموش کر دیتا ہے اور یہ ہمیں صوفیہ زہاد کی زندگی میں نظر آتا ہے۔ ایسے ہی ایک گروہ اسریٰ اور معراج کے روحانی ہونے کا قائل ہے انہیں کی بات کو مان لیا جائے تو یہ اس بات کی دلیل کہ آپ ﷺ کا تصفیہ قلب اور تنقیہ روح اور اشراق بصیرت اس درجہ مکمل ہو چکا تھا کہ آپﷺ کی روح لطیف، آسمان اور جہاں چاہے منتقل ہو سکتی تھی وہ تمام عالموں پر محیط تھی اور عالموں کے جملہ حقائق خفیہ اور دقائق غیبیہ آپ ﷺ کی روح پر منکشف تھے۔ اسی سے صوفیہ کے مکاشفات، فتوحات و مشاہدات عالم شہادت سے عالم ملکوت و جبروت تک کی بنیاد اور اساس ملتی ہے۔ آپ ﷺ کے صحابہ کرام میں بھی زہد و ورع اور کشف کا مادہ بدرجہ اتم موجود تھا۔ مصنف نے اس سلسلے میں چند جلیل القدر صحابہ کرامؓ کا ذکر کیا ہے۔

    سب سے پہلے سیدنا صدیق اکبرؓ کا ذکر ہے آپؓ کا فرمایا کرتے تھے کہ ”تقویٰ کا نتیجہ کرم ہے، یقین ( ایمان) کا غنا اور واضح کا شرف“۔ آپ ؓ کا یہ قول بھی نقل کیا ہے ”جس نے معرفت الٰہی کا ذائقہ چکھ لیا وہ اللہ کے سوا سب سے بے پروا ہو جاتا ہے لوگوں سے اسے وحشت ہونے لگتی ہے۔ “

    پھر سیدنا عمرؓ کے بارے میں مصنف نے بتایا کہ وہ یاد الٰہی میں کس قدر غرق رہا کرتے تھے جس سے ان کی روح پاکیزہ اور قلب طہارت سے پر تھا۔ ایسے ہی سیدنا عثمان غنیؓ کے بارے میں بتایا کہ ان کا زیادہ وقت عبادت اور ریاضت میں بسر ہوتا۔ قرآن کریم کی تلاوت ان کا محبوب مشغلہ تھا جو ان کی شہادت تک جاری رہا۔ سیدنا علی بن ابی طالبؓ کی زندگی بھی زہد و تقوی سے بھرپور تھی اور کئی لوگوں سے آپ کا زہد و ورع بڑھا ہوا تھا۔ اس کے بعد اصحاب صفہ کا مقدس گروہ جو کہ رب کریم کی یاد میں ہر وقت مستغرق رہتا جن کو دنیا سے کچھ کھونے کا کوئی غم نا تھا۔ یہ مثالیں اس بات کا وافر ثبوت ہیں کہ زہد و تصوف اسلام میں کوئی نئی چیز ہرگز نہیں۔

    اسلام کی حیات روحیہ کا مصدر خود اسلام ہے جس کے سب سے بڑے دعویدار خود صوفیاء ہیں، جبکہ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ اس کا مصدر ہندی تصوف ہے اس کی تائید میں وہ نظری اور عملی مظاہر پیش کرتے ہیں جو کہ اسلامی تصوف اور ہندی تصوف میں مشترک پائے جاتے ہیں یا باہمی مشابہت رکھتے ہیں۔

    اس بارے میں ابو ریحان البیرونی نے بہت کچھ لکھا ہے۔ انہوں نے ہندوؤں کے احوال، عقائد، علوم اور دینی و فلسفی مسالک کا بہت باریک بینی سے جائزہ لیا ہے اور ان کا فلسفہ یونان اور اس کے ساتھ مسلمان صوفیاء کے اقوال وطریق سے تقابل کیا ہے۔ البیرونی نے حکماء ہند و یونان اور صوفیہ مسلمین کے درمیان کئی چیزوں کو مماثل قرار دیا جیسے کہ ترک وسائط اور خلع علائق… اس کے بعد ڈاکٹر حلمی لکھتے ہیں کہ ہندو مت کے تناسخ کے عقیدے کو وحدت الوجود کے مماثل قرار دے کر سمجھا جانے لگا اور بعض لوگوں نے یہ نتیجہ اخذ کر لیا کہ حلول اور وحدت الوجود ایک ہی چیز ہے۔ ڈاکٹر مصطفیٰ حلمی کہتے ہیں کہ البیرونی کے نظریہ کی تائید کئی یورپی مستشرقین نے بھی کی جن میں ہارٹن، گولڈ زیہر اور اولیری نمایاں ہیں. گولڈ زیہر نے کہا کہ حضرت ابراہیم بن ادھم کی زندگی کا واقعہ کہ انہوں نے بادشاہت اور امارت ترک کر کے فقر و فاقہ کی زندگی اختیار کی اور یہ ہو بہو گوتم بدھ کی سوانح زندگی سے ماخوذ ہے۔ پروفیسر اولیری کا بھی خیال ہے کہ تصوف میں ترک دنیا، امور دنیا سے بے فکری یہ سب چیزیں بدھ مت کے اثر سے اسلامی تصوف میں داخل ہوئی ہیں۔

    مسئلہ وحدۃ الوجود پر بات کرتے ہوئے مصنف کہتے ہیں کہ یہ توحید کی ہی ایک شاخ ہے۔ حقیقت صرف ایک ہے البتہ اس کی تعبیریں اور تشریحیں الگ الگ اور جدا جدا ہیں۔ ان تعبیروں اور تشریحوں میں تنوع اور تجدد کا جو رنگ نظر آتا ہے صرف اس بارے میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ ہندو تصوف مطالعہ کی اثر پذیری کا نتیجہ ہے، سو یہ کوئی بات نہیں جس کو اہمیت دی جائے۔ بلکہ اگر نظر کو ذرا وسعت دی جائے تو یونان کے فلسفہ کی اثر پذیری کا رنگ بھی اس میں جاری و ساری نظر آئے گا۔ مسئلہ وحدۃ الوجود اور اس تشریح و تعبیر ایک مشکل معاملہ ہے اور میں اس بارے میں بات کرنے کی بالکل صلاحیت نہیں رکھتا اس لیے میں نے مصنف کے لکھے الفاظ پر ہی اکتفا کیا ہے۔

    مصنف کہتے ہیں کہ اسلامی تصوف کے دو دور گزرے ہیں ایک آپ ﷺ کے عہد سے تعلق رکھتا ہے۔ جبکہ دوسرا وہ جو بعد کے میل جول سے عمل میں آیا۔ پہلا دور تو خالص اسلامی ہے جس میں کسی قسم کی آمیزش نہیں اس عہد کے زہاد کے سامنے تصوف کا جو نمونہ تھا وہ آپ ﷺ کی ذات گرامی تھی۔ اس دور میں یعنی کہ صدر اول میں تصوف اپنے اذواق، مجاہدات، حقائق اور مشاہدات کے اعتبار سے ایک مستقل فن نہیں بنا تھا کبھی اس کو علم تصوف، کبھی علم باطن اور کبھی سلوک اور احسان سے یاد کیا جاتا تھا۔ بدھ مت اور تصوف کے درمیان گو کہ چند امور پر مماثلت پائی جاتی ہے تو اس کا ہرگز مطلب نہیں کہ تصوف بدھ مت سے متاثر ہے کیونکہ فنا یا احساس سے غیبت یا روح کا ادھر سے ادھر انتقال مکانی اگر صوفیہ کے ہاں کوئی درجہ رکھتے ہیں تو بدھ مت میں ان کی کوئی حیثیت نہیں جو کہ تصوف اور بدھ مت میں بنیادی فرق ہے۔ مصنف یہ بھی کہتے ہیں کہ تصوف اسلامی پر ہندی علوم و افکار کا کوئی قابل ذکر اثر نہیں پڑھا ہاں اس کے برعکس اسلام نے ضرور اپنے اثرات دوسرے مذاہب اور ان کے علوم پر ڈالے ہیں۔


    کیونکہ عربی زبان میں کتب کے تراجم کے موجد خود مسلمان ہیں، جس زمانے میں یہ علوم دوسری زبانوں میں منتقل ہو رہے تھے اس وقت مسلمان ایک شاندار تہذیب و تمدن اور ناقابل تسخیر دین کے حامل تھے۔ یہ دوسروں سے اتنا حاصل نہیں کرتے تھے جتنا دوسروں کی جھولی میں ڈالتے تھے۔ اس کے علم کے سر چشمے سے مسلسل فیض حاصل کیا جاتا رہا ہے اور ابتدائی تصوف کا اگر مطالعہ کیا جائے تو ہم کو اس سنت نبوی ﷺ سے مستعار نظر آتا ہے جس میں کسی قسم کی آمیزش نہ تھی۔

    ایسے ہی بعض لوگوں کا خیال ہے کہ تصوف اسلامی دراصل فارسی تصوف کا آئنیہ دار ہے۔ ان کا استدلال یہ ہے کہ عرب اور فارس کے درمیان ثقافتی اور دینی تعلقات موجود تھے۔ عرب وقتاً فوقتاً فارسی علوم و تصوف سے اپنا دامن بھرتے رہتے تھے۔ مصنف اس بات کو بھی مکمل طور پر رد کرتے ہیں کہ اصل صورتحال اس کے برعکس ہے عربوں نے تہذیبی اور علمی اعتبار سے فارس پر اثر ڈالا جس کے کافی تاریخی شواہد بھی ملتے ہیں جبکہ اس بات کا کوئی ثبوت نہیں کہ عربوں کی تہذیب و علم پر فارس کا کوئی اثر پڑا ہو۔ بے شک کئی صوفیائے اسلام جس میں حضرت معروف کرخی، حضرت بایزید بسطامی جیسے جلیل القدر صوفیا پائے جاتے ہیں فارسی تھے اور ان کی اثر آفرینی سے کوئی انکار نہیں کر سکتا۔ مگر اس کے ساتھ کئی اہم صوفیاء جیسے حضرت سیلمان الدرانی عراقی الاصل، حضرت ذالنون مصری جن کا تصوف میں بڑا نام ہے بلند پایہ صوفی مشرب بزرگ تھے۔ مصر، عراق، شام اور حجاز میں کثرت سے صوفیا کی موجودگی اس الزام کی تردید کے لیے کافی ہے۔ جبکہ اگر ہم فارسی مسلم صوفیا کو دیکھیں تو وہ سب سے زیادہ شیخ اکبر محی الدین ابن عربی اور شیخ شرف الدین عمر بن الفارض سے متاثر نظر آتے ہیں اور یہ دونوں خالص عرب تھے جن کی عربیت ہر قسم کے شک و شبہ سے بالاتر ہے۔ بے شک فارس کے مسلم صوفیا نے تصوف اسلامی پر بہت اچھا اور مثبت اثر ڈالا لیکن یہ یاد رکھنا چاہیے انہوں نے جو کچھ حاصل کیا وہ اسلام قبول کرنے کے بعد ہی حاصل کیا۔

    ایسے ہی تصوف کی بابت ایک خیال یہ بھی پایا جاتا ہے کہ یہ نصرانیت سے متاثر ہے۔ دلیل وہی سابقہ پیش کی جاتی ہے جو فارسی اثر کے بارے میں دی گئی کہ عربوں کے ساتھ عیسائیوں کے گہرے روابط تھے اور کیونکہ عیسائیوں کا علمی پس منظر عربوں سے بہت مضبوط تھا اس لیے اس کے خیالات و افکار کا عربوں پر اثر پڑا۔ یہ تعلقات جاہلیت اور اسلام کی آمد کے بعد بھی قائم رہے۔ اس نظریے کے حامی کئی مستشرقین جیسے کہ گولڈ زیہر، نکلسن اور اولیری وغیرہ نے بھی وکالت کی کہ تصوف اسلامی کا تعلق رہبانیت سے ہے۔
    پاکستانی55 اور زنیرہ عقیل .نے اسے پسند کیا ہے۔
  2. کنعان
    آف لائن

    کنعان ممبر

    شمولیت:
    ‏25 جولائی 2009
    پیغامات:
    412
    موصول پسندیدگیاں:
    465
    ملک کا جھنڈا:

    اس کے علاوہ مصنف کہتے ہیں ایک اور گروہ بھی یہی نظریہ رکھتا ہے کہ صوفیاء کی کتب کا اگر باریک بینی سے جائزہ لیا جائے تو ان کے زیادہ تر اقوال حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے مروی ہیں۔ مصنف نے اس بات کا جواب دیتے ہوئے ابو طالب مکی کی کتاب قوت القلوب سے سیدنا حضرت عیسیؑ کی ایک حکایت نقل کی ہے جس میں جہنم کا خوف اور جنت کی طمع کی تعلیم ملتی ہے جب کہ تصوف اسلامی میں حب الٰہی بنیاد ہے اور لب لباب ہے، جنت کی طلب اور جہنم کا خوف بے شک بہت اہمیت کے حامل ہے مگر تصوف کی بنیاد حب الٰہی ہے۔ یہ لطیف فرق بہت اہمیت کا حامل ہے جس سے اس نظریے کا رد ہوتا ہے کہ تصوف اسلامی رہبانیت سے ماخوذ ہے۔ اسلام کا نظام تصوف اپنی روحانی زندگی، تربیت و تکمیل کے اعتبار سے بالکل الگ اور جداگانہ ہے۔

    میں یہاں ایک اور بات کا اضافہ کرنا چاہوں گا کہ بالفرض اگر افکار صوفیاء کا ماخذ سیدنا ٰ علیہ السلام کےاقوال ہیں تو یہ کوئی بری بات نہیں بلکہ سیدنا ٰ علیہ السلام ہمارے بھی نبی ہیں اور ان سے منسوب اگر کوئی قول بھی شریعت اسلامی کے خلاف نا ہو تو اس کو قبول کرنا چاہیے۔ پہلے الزام کے جواب میں مصنف کہتے ہیں کہ اگر جاہل عربوں کے میلان اور فطرت پر نظر ڈالی جائے تو وہاں ہمیں سادہ زندگی کے ساتھ ساتھ تمدنی اور مالی برتری موجود نہیں ملتی جبکہ اس کے برعکس عیسائیت میں یہ چیزیں نہیں ملتی، دوسرا عیسائیوں سے متاثر ہوئے بغیر جاہلیت میں بنی صوفہ ملتے ہیں جو اپنی زندگی بیت الحرام کے لیے وقف کر چکے تھے اور دنیا سے اپنا ناطہ توڑ چکے تھے۔ یہاں ایک اور اعتراض جنم لیتا ہے کہ اگر اسلامی تصوف نصرانیت سے ماخوذ نا مانا جائے تو جاہلیت کا فیض قرار پائے گا۔ اس کے جواب میں مصنف کہتے ہیں کہ جاہل عرب کسی جگہ گوشہ نشین ہو کر سب سے اپنا رشتہ توڑ لیتے تھے اور بتوں سے قرب رکھتے تھے اور انہی کی عبادت کرتے تھے، جبکہ تصوف اسلامی ایسی تمام شرکیہ آمیزشوں سے پاک ہے جس میں تصفیہ نفس پر زور دیا گیا اور ریاضت کے اصول و ضوابط مقرر کیے اور عبادت کے آداب سکھائے اور خدا واحد کی طرف قلوب کو متوجہ کرنا لازم قرار دیا اور دنیا میں رہ کر دنیا سے الگ رہنے کی تعلیم دی۔


    ایسے ہی صوف کے لباس بارے میں خیال ظاہر کیا جاتا کہ یہ خالص نصرانی لباس ہے مصنف کہتے ہیں روایات و اخبار سے یہ بات تصدیق کو پہنچ گئی ہے کہ صوف کا لباس آپ ﷺ کے زمانہ میں عرب عام استعمال کرتے تھے اور خود آپ ﷺ نے بھی اسے استعمال کیا۔ ایسے ہی نصرانیت میں سکوت کو ذکر پر ترجیح ہے جبکہ تصوف میں ذکر کو بہت اہمیت حاصل ہے جیسا کہ قرآن کریم کی آیات (سورہ بقرہ آیت نمبر 152 اور سورہ احزاب آیت نمبر 41-43 ) سے واضح ہے۔ اس بحث کو سمیٹتے ہوئے مصنف کہتے ہیں کہ اسلام کا تصوف اپنا ایک مستقل وجود رکھتا ہے اور وہ کسی سے متاثر نہیں اگر اس کی بعض چیزیں نصرانیت سے مماثلت رکھتی ہیں تو یہ اتفاقی ہیں نا کہ اس سے یہ نتیجہ اخذ کیا جائے کہ تصوف اس سے متاثر ہے۔
    فَاذْكُرُونِي أَذْكُرْكُمْ وَاشْكُرُواْ لِي وَلاَ تَكْفُرُونِ
    سو تم مجھے یاد کیا کرو میں تمہیں یاد رکھوں گا اور میرا شکر ادا کیا کرو اور میری ناشکری نہ کیا کرو
    2:152

    يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اذْكُرُوا اللَّهَ ذِكْرًا كَثِيرًا
    اے ایمان والو! تم اللہ کا کثرت سے ذکر کیا کرو
    وَسَبِّحُوهُ بُكْرَةً وَأَصِيلًا
    اور صبح و شام اس کی تسبیح کیا کرو
    هُوَ الَّذِي يُصَلِّي عَلَيْكُمْ وَمَلَائِكَتُهُ لِيُخْرِجَكُم مِّنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ وَكَانَ بِالْمُؤْمِنِينَ رَحِيمًا
    وہی ہے جو تم پر درود بھیجتا ہے اور اس کے فرشتے بھی، تاکہ تمہیں اندھیروں سے نکال کر نور کی طرف لے جائے اور وہ مومنوں پر بڑی مہربانی فرمانے والا ہے
    33:41,42,43

    تصوف کے اوپر یونانی اثرات کے بارے میں بات کرتے ہوئے ڈاکٹر مصطفیٰ حلمی لکھتے ہیں کہ یونانی علم و دانش اور فلسفے نے دنیا کے علوم و روایات پر گہرا اثر ڈالا ہے مگر اس بات کا کوئی ثبوت نہیں کہ اسلام کا نظام تصوف و روحانیت یونان کے تابع ہے۔ ایک اور اہم بات کہ اسلام نے دوسروں کی اچھی باتوں کے قبول کرنے میں کبھی بخل سے کام نہیں لیا ہے۔ صدر اول کے تصوف میں دوسرے خیالات کی آمیزش نہیں تھی بعد میں جب حالات بدلے اور تصوف نے ایک مستقل علمی حیثیت اختیار کی تو اس پر فلسفے کا اثر پڑا۔ اس زمانہ میں اس کی ضرورت بھی تھی کہ علمی طور پر ریاضت، مجاہدات، سعادت نفس اور نجات روح کے مسائل حل کیے جائیں۔ یونان کے فلاسفہ میں افلاطون کے فلسفے کو مسلمانوں نے کافی دلچسپی سے دیکھا، اس نے کہا تھا کہ حقیقت اعلیٰ تک رسائی فکر اور عقل کے ذریعہ سے نہیں ہو سکتی اس کے لیے مشاہدہ اور حضور نفس بھی ضروری ہے۔

    بالکل یہ ہی نظریہ صوفیائے اسلام کا ہے کہ حقیقت کی معرفت حس اور عقل سے نہیں ہو سکتی اس کے حصول کے لیے وہ نور ضروری ہے جو اللہ تعالی خود اپنی مرضی سے بندہ کے دل میں ڈالتا ہے۔ نور کی یہ تجلی تب حاصل ہوتی ہے جب وہ نفس کی آلائشوں سے پاک ہوتا ہے۔ صوفیاء نے اس اصول کو بہت زیادہ اپنایا اور اپنے سامنے یہ حدیث رکھی کہ

    "جس نے اپنے نفس کو پہچانا اس نے اپنے رب کو پہچان لیا

    مصنف کہتے ہیں کہ صوفیا کا نظریہ وحدۃ الوجود درحقیقت ایک فلسفیانہ مسئلہ ہے اس میں افلاطونی موثرات کافی حد تک پائے جاتے ہیں۔ اس عقیدہ کی رو سے اللہ تعالی کا پہلا فیض عقل اول ہے۔ اسی پر تمام موجودات کا مرکز کار فرما ہے۔ اسی سے اللہ تعالی کے سوا تمام فیوض برآمد ہوتے ہیں، یہ نظریہ شیخ اکبر کی صورت میں ہمیں نظر آتا ہے۔ جیسے جیسے مسلمان فلسفہ سے قریب آتے گئے، ان کے تصوف میں فلسفہ کا رنگ بڑھنے لگا، یہاں تک کہ اپنے مشاہدہ و وجدان اور خیال کے اظہار و دانش تک کے لیے انہوں نے فلسفیانہ مصطلحات استعمال بھی کیے اور ایجاد بھی کیے۔ جن میں اہم اصطلاحات جیسے کہ حقیقت، کلمہ، علت و معلول، وحدت و کثرت، عقل اول وغیرہ خالص فلسفیانہ ہیں۔ اس کے وہ معنی و مفہوم مراد نہیں جو ظاہر الفاظ سے سمجھ آتے ہیں۔ ڈاکٹر حلمی لکھتے ہیں کہ اسلامی تصوف کے آخری دور پر یونانی فلسفہ عام طور پر اور افلاطونی فلسفے کا خاص طور پر بہت گہرا اثر پڑا مگر صدر اول کا اسلامی تصوف کسی درجہ میں بھی یونانی فلسفہ سے متاثر تھا۔

    ڈاکٹر حلمی ایک دفعہ پھر بہت زور دے کر یہ بات کہتے ہیں کہ جیسے اسلام کی اصل آمیزش و اشتراک سے پاک ہے ایسے ہی اس کا تصوف بھی اپنی انفرادیت میں یگانہ اور ممتاز ہے۔ اس کا پیام اس کے سوا کچھ نہیں کہ اس دنیا کے پیدا کرنے والے سے زیادہ سے زیادہ لو لگائی جائے، جاہ و دنیا میں کم سے کم توجہ دی جائے۔

    پہلی دو صدیوں میں کوئی مربوط اور مرتب نظام تصوف موجود نہیں تھا نا ہی عبادت و ریاضت کا کوئی ایسا علمی نظام تھا اس وقت ہر چیز دین سے وابستہ تھی اور اس میں سب برابر کے شریک تھے مگر یہ صورت صرف عبادت اور عبادت کے ظاہری اشغال تک محدود تھی روحانیت کے ارتقاء اور فروغ کے لیے نظام موجود تھا۔ پہلی اور دوسری صدی میں دو طرح کے مکاتب خیال تصوف سے متعلق تھے۔ جن کو مصنف نے مدرسہ کوفہ اور مدرسہ بصرہ کے نام سے ذکر کیا ہے۔ جہاں پر فقہ، حدیث، علم الکلام سے زیادہ ریاضت قلب، مجاہدہ نفس اور روح کی صفائی پر توجہ دی جاتی تھی۔

    ان میں سے کوفہ کے مدرسے کے بارے میں ڈاکٹر مصطفیٰ پروفیسر ماسینیون کے حوالے سے لکھتے ہیں یہ مدرسہ شعیہ شیوخ کی سربراہی میں کام کر رہا تھا ساتھ ہی اس میں مرجیہ عقائد رکھنے والے لوگ بھی شامل تھے۔ اس مدرسہ کے اہم شیوخ میں ربیع بن خثم، جابر بن حیان، منصور بن عمار قابل ذکر ہیں۔
    جبکہ بصرہ کا مدرسہ جہاں پر منطق و نحو اور حدیث کے نقد و تمحیص کو بھی پیش نظر رکھا جاتا تھا۔ یہ مدرسہ اہل سنت کے اصول پر تھا، مگر یہاں پر معتزلی اور قدری عناصر بھی پائے جاتے تھے۔ یہاں کے شیوخ میں سے حسن بصری، مالک بن دینار، فضل الرقاشی، عبدالواحد بن زید قابل ذکر ہیں۔ اس وقت کوفہ اور بصرہ کے علاوہ دوسرے شہروں میں بھی شیوخ زہد پیدا ہو رہے تھے۔ جیسے خراسان میں جناب ابراہیم بن ادھم، شفیق بلخی وغیرہ۔ یہ دور اول کے چند نمایاں نام ہیں ان کے بعد آنے والے جو صوفیہ کے نام سے ملقب ہوئے وہ اس ہی شجر کی شاخیں اور ٹہنیاں تھیں جس کی مضبوط جڑ آپ ﷺ کی حیات کے چشمہ نور سے سیراب ہو کر مستحکم ہوئی، صحابہ کرام کی حیات سے اس کی شاخیں فیض یاب ہوئیں۔

    اول دور کے تصوف کے بنیادی اجزاء یہ تھے

    1. ترک دنیا، لیکن دنیا میں رہ کر
    2. حبِّ دنیا سے نفرت
    3. یاد الٰہی
    4. توکل
    5. اللہ کا خوف
    6. ذات حق اور ذات خود کے مابین فکر دائم
    7. معرفت نفس کے لیے تفحص کامل۔

    حضرت حسن بصری کے بارے میں مصنف لکھتے ہیں کہ ان کا زہد صرف صفائے قلب، مجاہدہ اور ریاضت تک محدود نہیں تھا بلکہ وہ فکر و تامل اور تنقیہ کردار پر بھی زور دیتے تھے۔ ان کا زہد عبارت تھا حزن و دائم سے ان کی آنکھیں ہر وقت پرنم رہتی تھیں۔ ان کے بارے میں علامہ شعرانی نے لکھا ہے کہ ان پر خوف خدا کی ایسی خشیت طاری رہتی تھی کہ گویا جہنم کی آگ صرف انہی کے لیے تخلیق کی گئی ہے۔ امام حسن بصری کا اپنا قول بھی مصنف نے لکھا ہے کہ "جو شخص یہ جانتا ہے کہ موت آ کر رہے گی، جو یہ جانتا ہے کہ قیامت واقع ہو کر رہے گی، جو شخص یہ عقیدہ رکھتا ہے کہ اسے بہرحال ایک نہ ایک دن خدا کے حضور میں پیش ہونا ہے، وہ خوش کس طرح رہ سکتا ہے؟ اس کے حزن و الم کی کیفیت تو برابر بڑھتی ہی چلی جائے گی"۔
    مصنف کہتے ہیں کہ اگر یہ کہا جائے کہ زہد و ریاضت میں نظریہ خوف و الم کے بانی امام حسن بصری تھے تو مبالغہ نہیں ہو گا۔ یہ بھی اندازہ ہوتا ہے کہ خوارج کا طبقہ زہاد اور امام حسن بصری کے زہد میں کسی حد تک مماثلت ہے یہ مماثلت و مشابہت زیادہ تر زہد اور خوف کے مسئلہ میں ہیں حالانکہ امام حسن بصری اور خوارج کے مابین فکر و عقائد کے لحاظ سے سنگین اختلاف رکھتے تھے۔ ایسے ہی زہد میں محبت کی آمیزش بھی ایک اصول ہے جو کہ حضرت رابعہ بصری کی ایجاد ہے۔ اس حب الٰہی سے مراد یہ نہیں کہ خشیت الٰہی کافور ہوجائے، اپنی جگہ پر وہ بھی موجود ہے خود حضرت رابعہ کی زندگی کے آثار و عناصر بکثرت نظر آتے ہیں۔ لیکن جنت کے لالچ اور جہنم کے خوف کے ماسوا ایک اور جذبہ ان کے اندر بڑی شدت سے کام کر رہا تھا اور یہ حب الٰہی کے سوا کچھ اور نہیں تھا۔ ان کے اس سلسلے میں کچھ اشعار جو مصنف نے نقل کیے ہیں ان کا ترجمہ ملاحظہ ہو

    "میں تجھ سے محبت کرتی ہوں۔
    دو طرح کی محبت
    ایک محبت ہے آرزو اور تمنا کی
    اور دوسری ہے، صرف تیری ذات کی
    میری وہ محبت جو آرزو اور تمنا سے معمور ہے
    وہ کوئی اہمیت نہیں رکھتی
    لیکن وہ محبت جو صرف تیری ذات سے ہے
    تو اسی کا واسطہ، تو حجاب دور کردے، تاکہ آنکھیں تیرا جلوہ دیکھ سکیں۔ "
    ایسے ہی حضرت رابعہ بصری نفس کو مخاطب کرتے ہوئے کہتی ہیں
    " اے نفس
    تو اللہ سے اپنی محبت کا اظہار کرتا ہے
    حالانکہ تو اس کی نافرمانی بھی کرتا ہے
    اس سے بڑھ کر بھی کوئی عجیب اور نادر بات ہو سکتی ہے؟
    اگر تیری محبت صادق ہے
    تو، تو اپنے رب کی اطاعت کر
    کیونکہ محبت کرنے والا
    جس سے محبت کرتا ہے
    اس کی اطاعت ضرور کرتا ہے"

    ایسے ہی اپنی مناجات میں رب سے مخاطب ہو کر ایک بات بہت زور سے کرتی نظر آتی ہیں کہ وہ رب کریم کی عبادت جنت کی طلب یا جہنم کے خوف سے نہیں کرتی بلکہ میری عبادت کی بنیاد اپنے معبود سے محبت ہے۔ رابعہ بصری کی ان مناجات سے محبت الٰہی کا اصول تصوف کا حصہ بن گیا۔
    پاکستانی55 نے اسے پسند کیا ہے۔
  3. کنعان
    آف لائن

    کنعان ممبر

    شمولیت:
    ‏25 جولائی 2009
    پیغامات:
    412
    موصول پسندیدگیاں:
    465
    ملک کا جھنڈا:

    یہ پہلی صدی کے حالات تھے جب تصوف ایک انسٹی ٹیوشن کے طور پر مرتب نہیں ہوا تھا دوسری صدی ہجری میں یہ منظم و مرتب ہوا اور اس نے زیادہ استحکام اور ثبات حاصل کیا اور وقت کے زہاد، عباد، نساک ایک ہی نام سے یاد کیے جانے لگے اور یہ نام تھا صوفی۔ یہاں پر مصنف علامہ ابن خلدون کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ تصوف کا شمار درحقیقت علوم شرعیہ میں ہی ہونا چاہیے، اگرچہ اس نے ملت اسلامیہ میں ایک نیا روپ اختیار کر لیا، کیونکہ اس کی اصل وہی ہے جو سلف صالحین کی تھی۔

    مصنف کہتے ہیں کہ صوفی کا نام دوسری صدی ہجری میں کثرت سے استعمال ہوا کیونکہ اس سے پہلے زہاد اور عباد کا نام زیادہ معروف تھا۔ لفظ "صوفی" کے بارے میں ڈاکٹر حلمی کہتے ہیں کہ یہ تاریخی طور پر سب سے پہلے ابو ہاشم کوفی جن کی وفات 150 ہجری کی ہے نے استعمال کیا تھا وہ کوفہ کے متوطن تھے مگر ان کی زندگی کا بڑا حصہ شام میں گزرا، ان کی زندگی آپ ﷺ کی حیات طیبہ سے بہت متاثر تھی۔ البیرونی کا کہنا ہے کہ "سوف" کے معنی یونانی زبان میں حکمت کے ہیں یونان کے ایک فلسفی کا نام "پیلا سوفا" یعنی "حکمت دوست" ہے۔ اس رائے کی روشنی میں یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے مسلمان جب دوسرے علوم بالخصوص یونانی علوم سے آشنا ہوئے تو انہوں نے یہ لفظ لے لیا جو عربی میں آکر "صوف" بن گیا اور جو لوگ اس مفہوم تک نہیں پہنچ سکے انھوں نے اس کی نسبت "اصحاب صفہ" سے کر دی۔

    صوفی کی تعریف میں چند صوفیاء کے اقوال پیش کیے گئے ہیں جن میں سے دو تین قول میں بھی نقل کرتا ہوں۔ حضرت بشر بن حافی کہتے ہیں
    " صوفی وہ شخص ہے جو اللہ عزوجل کے لیے اپنے قلب کو تمام کثافتوں سے پاک کرلے، بس وہی اصل اور کھرا صوفی ہے"

    جناب سہل بن عبداللہ کا ارشاد ہے
    "صوفی وہ ہے جو گندگی سے پاک و صاف ہو، جس کا سینہ فکر و تامل کا گنجینہ ہو، جو مخلوق سے رشتہ قطع کرکے خالق کا ہو رہے، جس کے نزدیک سونا اور کنکر برابر ہو"

    حضرت معروف کرخی
    "تصوف کے معنی ہیں حقائق کا حاصل کرنا۔ مخلوق کے ہاتھ میں از قبیل لفائم و اقتدار جو کچھ ہے اس سے یکسر روگرداں ہو جانا"

    حضرت جنید بغدادی فرماتے ہیں
    "تصوف یہ ہے کہ حق تجھے تیرے وجود سے الگ کر کے ہلاک کر دے اور پھر جو زندگی وہ تجھے دے، وہ صرف اسی کے لیے ہو"

    ان مختلف تعریفوں میں کہیں بھی ایسی بات نظر نہیں آتی جو اسلام کے اصولوں سے ٹکراتی ہو بلکہ تصفیہ قلب، معرفت، حقائق، خالق کا قرب اور حق پر استقامت تمام ایسی صفات ہیں جو اسلام کی مطلوب ہیں۔

    دور حاضر کے معروف صوفی دانشور سید سرفراز شاہ صاحب کی بھی تصوف پر رائے نقل کرنا فائدہ سے خالی نہیں، وہ فرماتے ہیں " بدقسمتی سے عام آدمی تصوف کے بارے میں بڑے غلط تصورات لیے بیٹھا ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ تصوف کی بدولت انسان ماورائے فطرت قوتوں کا مالک ہو جاتا ہے۔ حالانکہ یہ تصوف نہیں مداری پن اور شعبدہ بازی ہے۔ تصوف تو یہ ہے کہ انسان تعلیم و تربیت کے ذریعے اپنے آپ کو شریعت کو سمجھنے اور اُس پر عمل کرنے کے لیے تیار کرنے لگے۔ "

    تصوف کے بطور ایک علمی نظم میں آنے کی تاریخ کا ذکر کرتے ہوئے اول اسلام میں احکام شرعیہ مدون اور منظم نہیں تھے بلکہ احکام عبادات، معاملات اور عقائد کی صورت میں ملے جلے ہوئے تھے۔ پھر ہر شعبے پر توجہ کی گئی علم شریعت کا جو حصہ ظاہری اور علمی احکام کے متعلق تھا تو فقہا نے فقہ اور اصول فقہ پر کتب تالیف کیں، ایسے ہی علم کلام، تفسیر، حدیث پر الگ سے کام ہوا، یوں ہی شریعت کے باطنی علم کو منظم کیا گیا اور اس کو مدون اور مرتب کرنے والے صوفیاء کرام تھے جس میں مجاہدات، ریاضیات، مراقبات اور محاسبات کے بارے میں بتایا گیا۔

    مصنف کہتے ہیں کہ تیسری اور چوتھی ہجری کی تاریخ تصوف کے مطالعہ سے ایک لفظ جس کا استعمال بار بار ہوتا ہے وہ ہے "محبت" یعنی محبت الہی، ڈاکٹر حلمی کہتے ہیں کہ حسین بن منصور حلاج کا دور جب آیا تب ہم کو اتحاد، حلول، آثار باقیہ اور نفحات صادقہ جیسی باتیں نظر آتی ہیں۔ مگر اس دور میں بھی صوفیا کی کثرت ایسی تھی جو کہ محبت الٰہی کو چشمہ ہدی سمجھتے تھے۔ تیسری اور چوتھی صدی کے چند اہم صوفیاء جیسے کہ حضرت سری سقطی جنہوں نے بغداد میں توحید و ورع کا جھنڈا گاڑا یہ ایک تاجر پیشہ تھے، بغداد میں حقائق، مقامات اور احوال کے متعلق سب سے پہلے آپ ہی نے بات کی، ایسے ابو حمزہ کوفی نے اصطلاحات صوفیا مثلا" صفا، ذکر، محبت، انس خداوندی اس طرح کے دوسرے مسائل پر باقاعدہ گفتگو کی، ایسے حضرت معروف کرخی نے تصوف کی ماہیت اور نوعیت پر غور کرکے اس کو بیان کرنے کی کوشش کی، ابو سیلمان درانی بھی ایک بڑے صوفی جن کا حب الٰہی مسلک تھا اور اس پر بہت سختی سے کاربند تھے، ایک اور بڑا نام حضرت حارث محاسبی کا ہے آپ نے حقائق کے منکشف ہونے اور معارف کی جلوہ گستری سے فیض یاب ہونے پر بات کی۔


    ایک اور اہم نام حضرت ذوالنون مصری ہیں انھوں نے تصوف کے احوال و مقامات بھی مرتب اور مدون کیے، ان کا اصول حیات یہ تھا
    1. حب الخلیل
    2. بغض القلیل
    3. اتباع التنزیل
    4. خوف التحویل
    حضرت ذوالنون مصری نے اتباع سنت کی پیروی پر زور دیا اور کہا کہ اللہ اور آپ ﷺ سے عشق کی پہلی علامات ہی اتباع شریعت ہے۔ آپ نے کہا کہ معرفت کی تین قسمیں ہیں
    1. عوام مومنین کی معرفت: جو لوگ عقیدہ کے لحاظ سے خدا کو مانتے ہیں
    2. متکلمین اور حکماء کی معرفت: جو لوگ عقل کی رہبری میں خدا کی معرفت حاصل کرتے ہیں
    3. خواص اور مقربین بارگاہ الٰہی کی معرفت جو دل کی بصیرت سے رب کو پہچانتے ہیں۔
    اس کے بعد ابو یزید بسطامی قابل ذکر ہیں استغراق ذات، فنا، نفس اور اتحاد ذات کے جذبہ میں حد سے زیادہ بڑھ کر ان سے عالم جذب و سکر میں ایسے کلمات صادر ہوئے جن کو صوفیاء کی اصطلاح میں شطحیات کہتے ہیں جن کا ظاہری معنی ایمان کے لیے مضر ہوتا ہے۔ آپ نے سکر(نشہ و مستی) کا لفظ استعمال فرمایا جس نے بعد میں تصوف پر گہرا اثر ڈالا آپ کے معاصرین میں سے یحیی بن معاذ بھی تھے جن کے بارے میں حضرت با یزید بسطامی نے فرمایا کہ اگر یہ رابعہ عدویہ کے زمانے میں ہوتے تو حب الٰہی میں ان سے بھی کہیں آگے بڑھ جاتے۔ ایک اور بڑا نام حضرت جنید بغدادی کا ہے جنہوں نے مسلک سکر اور فنا سے ہٹ کر صحو (ہوشیاری) پر زور دیا۔ آپ نے کہا کہ صحو کو سکر پر فضیلت حاصل ہے کیونکہ صحو میں شعور زندہ رہتا ہے جبکہ سکر میں عقل غافل ہو جاتی ہے۔ آپ نے تصوف کی تعلیم و تدریس کو بھی اہمیت دی مگر اس کو لوگوں کے لیے عام نہیں کیا بلکہ خواص مریدین تک محدود رکھا جن کی فہم و ذکا اور دانش و حکمت پر ان کو بھروسہ تھا۔ ایک اور بڑا نام علی بن موفق کا ہے تھا جنہوں نے رابعہ عدویہ کے مسلک حب الٰہی کو ایک نئی زندگی بخشی۔ ایک اور اہم نام ابو صالح حمدون کا ہے جن کو ملامتیہ مسلک کا بانی کہا جاتا ہے ان کا کہنا یہ تھا یہ کافی ہے کہ بندے اور رب کے درمیان جو کچھ ہے کسی دوسرے کو ان کیفیات سے آشنا کرنا درست نہیں۔ تیسری اور چوتھی صدی میں تصوف نے علمی و فنی لحاظ سے نشوونما پائی۔ اس دور میں شیخ کے گرد مریدین کی جماعت بیٹھتی تھے اور مرشد ان کی راہنمائی کرتا اور برابر ان کو ہدایت اور راہبری کرتا۔

    علم شریعت کی دو قسمیں علم ظاہر و علم باطن کا ذکر پہلے ہو چکا ہے۔ ڈاکٹر مصطفیٰ حلمی لکھتے ہے کہ ایک وقت ایسا آیا کہ جب فقہاء (علم ظاہر کے حاملین) اور صوفیاء (علم باطن کے حاملین) کے مابین اختلاف شدت اختیار کر گیا۔ فقہاء کے نزدیک صوفیاء نےکچھ الہام اور وجدان کے نام پر ایسی باتیں کی جو احکام شریعت اور قرآنی تعلیمات کے سراسر خلاف ہیں۔ اس پر انہوں نے صوفیا کی شدید مخالفت کی اس خلیج کو ان صوفیا نے ختم کیا جو کہ بیک وقت اہل ظاہر بھی تھے اور اہل باطن بھی، مگر صوفیا اور فقہاء کے درمیان موجود اختلاف اس وقت شدید ہو جاتا ہے جب منصور حلاج کی ذات پر بات آتی ہے۔
    پاکستانی55 نے اسے پسند کیا ہے۔
  4. کنعان
    آف لائن

    کنعان ممبر

    شمولیت:
    ‏25 جولائی 2009
    پیغامات:
    412
    موصول پسندیدگیاں:
    465
    ملک کا جھنڈا:

    حلاج جید صوفیاء کرام سے فیض صحبت میں رہے جیسے کہ سہل بن عبداللہ تستری، عمرو مکی اور جناب جنید بغدادی کے حلقہ تلمذ میں تھے۔ ان کی شخصیت کا تعارف کراتے ہوئے مصنف لکھتے ہیں کہ ان کی طبعیت بیباک تھی، جو بات دل میں آتی اس کو زبان پر لے آتے، اپنے عقیدے اور مسلک کے حوالے سے بے لچک تھے۔ ان پر سب سے پہلے سیلمان بن داؤد ظاہری نے فتوی لگایا جس پر یہ گرفتار بھی ہوئے اس کے بعد بھی یہ کئی دفعہ زنداں میں رہے بالاخر 309 ہجری میں ان کے متعلق آخری فیصلہ سنا دیا گیا کہ ان کی زندگی ختم کر دی جائے۔
    انہوں نے "انا الحق" کا نعرہ بلند کیا جو کہ ان کا جرم بن گیا کہ یہ حلول کے قائل ہیں۔
    ان کی وفات کے بعد دو گروہ بن گئے
    ایک تو ان کو زندیق اور کافر کہتا تھا جن میں اکثریت علمائے ظوایر کی تھی
    جبکہ دوسرا گروہ ان کو ولی اللہ اور مقدس ہستی خیال کرتا تھا، مولانا روم اور شیخ فرید الدین عطار بھی ان سے عقیدت رکھنے والوں میں شامل ہیں۔


    مصنف نے حلاج کے کچھ اشعار نقل کیے ہیں جن سے بظاہر یہ اندازہ ہوتا ہے کہ حلاج حلول کے قائل تھے جبکہ حلاج کے حامی حلاج کو اس الزام سے بری سمجھتے ہیں، بہرحال ایک بات پر دونوں جانب سے اتفاق پایا جاتا ہے کہ حلول کا نظریہ اسلام کے منافی ہے۔ حلاج نے آپ ﷺ کی شان اقدس میں بھی لکھا ہے جس کے کچھ اقتباسات مصنف نے ان کی کتاب "الطواسین" سے نقل کیے ہیں۔ حلاج لکھتے ہیں

    "تمام علوم آپ ﷺ کے بحرعلم کا قطرہ ناچیز تھے۔ تمام حکمتیں آپ ﷺ کے سمندر کے سامنے ایک چھوٹی سی نہر تھیں۔ تمام زمانے آپ ﷺ کے زمانے کے سامنے ایک ساعت سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتے"

    ایک اور جگہ لکھا

    "حق آپ ﷺ کا وجود ہے اور آپ کے وجود ہی سے حقیقت نمودار ہوئی ہے، آپ ﷺ وصلت میں اول اور نبوت میں آخر تھے، آپ ﷺ حقیقت کے باطن معرفت کے ظاہر تھے"

    حلاج کے بارے میں ڈاکٹر حلمی یہ بھی کہتے ہیں کہ وہ وحدت ادیان کے قائل تھے وہ اسلام، یہودیت اور عیسائیت میں کوئی فرق نہیں سمجھتے تھے، اور کہتے تھے کہ ان کے صرف نام جدا جدا ہیں مقصود اصلی ایک ہے اور اس میں کوئی اختلاف نہیں۔ فقہاء کے حلاج کے بارے میں شدید تحفظات تھے جس سے صوفیاء کے متعلق انہوں نے شدید رویہ اختیار کرنا شروع کر دیا۔ معروف دیوبندی عالم مفتی رشید احمد گنگوہی نے فتاوی رشیدیہ میں منصور کو ولی لکھا ہے اور یہ بھی لکھا کے وہ معذور تھے اور ان پر فتوی کفر دینا بے جا ہے، ان کے باب میں مولانا گنگوہی لکھتے ہیں کہ سکوت کرنا چاہیے، مگر اس وقت دفع فساد کے لیے قتل کرنا ضروری تھا۔ اعلی حضرت فاضل بریلوی بھی حلاج کو اولیا میں شمار کرتے ہیں۔

    پانچویں صدی تصوف کی تاریخ میں اہم ترین شمار ہوتی ہے کیونکہ اس صدی میں صوفیاء اور فقہاء کے درمیان بڑھتی مخالفت کو ختم کرنے کی کامیاب کوشش ہوئی جس کا سہرا امام غزالی کے سر جاتا ہے۔ ابتداء میں امام غزالی کو بھی چند فقہاء کی مخالفت کا سامنا کرنا پڑا، اس مخالفت کی وجہ اس دور کے صوفیاء کے تعلیمات کا جو لب لباب تقلید سے آزادی، مکلفات شرعیہ سے احتراز اور بعض صوفیا کا اسماعیلیہ باطنیہ کے بعض عقائد سے امتزاج تھا۔ امام غزالی کے لیے دوسری مخالفت ارباب علم الکلام والے تھے جو کہ پہلے سے ہی صوفیاء کے مخالف تھے۔ امام غزالی کی دعوت پر بات کرتے ہوئے مصنف کہتے ہیں کہ انہوں نے کہا کہ دین صحیح کی طرف رجوع کیا جائے، اور لوگ دین کا دامن پکڑ کر تصوف سے ربط پیدا کریں، کتاب و سنت کی اقتداء کے بغیر حصول معرفت اور تزکیہ قلب ممکن نہیں۔

    امام غزالی نے صوفیاء کی تعلیمات اور اذواق کو اہل سنت کے مسلک توحید کا جز بنایا اور ان کے درمیان ربط پیدا کرنے کی کوشش کی، امام غزالی کی بدولت فقہاء تصوف کی طرف مائل ہونے لگے، انہی کی وجہ سے پانچویں اور چھٹی صدی ہجری میں تصوف کو وہ مقام ملا جو اس سے پہلے علمی و عملی طور پر حاصل نہیں ہوا تھا۔ امام غزالی نے فلاسفہ پر بھی نقد کیا وہ جو عقل کو آخری حجت قرار دیتے تھے ان کے سامنے عقل کا عجز ثابت کیا، امام غزالی کہتے تھے کہ ہر چیز کی ایک خاص حد اور اس کا خاص دائرہ ہے اسی طرح عقل کا بھی ایک دائرہ اور اس کی حد ہے، ایسے ہی وجدان کی بھی ایک خاص حد اور دائرہ ہے۔ ان دونوں کی حدود الگ الگ ہیں۔ اس لیے معرفت حق کے ادراک سے عقل عاجز ہے وہ اس لطف و لذت سے آشنا نہیں ہے، ادراک حقیقت قلب و روح کا کام ہے جہاں عقل کا گزر نہیں۔

    امام غزالی نے یہ بھی کہا ہر شخص اس کا مستحق نہیں جو علم باطن کو حاصل کرے ایک عام انسان کو قرآن اور حدیث پر ہی اکتفا کرنا چاہیے۔ امام غزالی نے جہاں فقہاء کو تصوف کے قریب کیا وہاں آپ نے متکلمین کے دلائل کی کمزوری بھی آشکار کی۔ چھٹی صدی ہجری میں اس کا نتیجہ سامنے آیا کہ بڑی تعداد میں صوفیاء کی جماعت وجود میں آگئی مگر پھر مسئلہ یہ ہوا کہ کچھ لوگوں نے علم کلام اور فلاسفہ کے مسائل تصوف میں خلط ملط کر دئیے، جس کے نتیجے میں نئی بحثیں ہونے لگیں جیسے کہ روح کے عوالم، صانع کی حقیقت، موجودات کی نوعیت و کیفیت کیا ہے؟

    اس دور میں تصوف کے اندر کلامی اور فلسفیانہ رنگ سے نئے مسائل پر غور شروع ہو گیا، اس دور میں صوفیاء کے کلام میں قطب کا ذکر ملنے لگا، مصنف کا خیال ہے کہ قطب کا نظریہ اسماعیلیہ باطنیہ سے متاثر لگتا ہے۔ قطب سے مراد وہ شخص ہوتا ہے جو علم و عمل میں کمال کی انتہا تک پہنچا ہوتا ہے اس کے درجے تک کسی کی رسائی نہیں ہو سکتی یہاں تک کہ اللہ تعالی اسے اپنے جوار رحمت میں بلا لے، مصنف کہتے ہیں کہ یہ ہی نظریہ شعیہ حضرات کا اپنے "امام معصوم" کے بارے میں ہے۔ قطب کے بعد صوفیاء ابدال کے قائل ہیں جیسے اہل تشیع کے ہاں امام کے نقباء ہوتے ہیں۔ برحال یہ مصنف کی رائے ہے جس سے یقینا" اتفاق کرنا مشکل ہے لیکن باطنیہ کے خیالات کی اس دور میں تصوف میں آمیزش قرین قیاس ہے کیونکہ کچھ معاملات میں دونوں کے درمیان کچھ اقدار مشترک ہیں۔

    چھٹی اور ساتویں صدی ہجری کی کچھ اہم شخصیات میں ایک شیخ شہاب الدین سہروردی شیخ الاشراق (یہ سلسلہ سہروردیہ کے بانی شیخ شہاب الدین سہروردی سے علیحدہ) اہم شخصیت ہیں، حلب کے متعدد فقہاء سے آپ کے مناظرے ہوئے جس سے فقہاء کے ساتھ آپ کے تعلقات انتہائی کشیدہ ہو گئے یہاں تک کہ آپ کی شکایت سلطان صلاح الدین ایوبی کو کی گئی، سلطان صلاح الدین کے بیٹے الظاہر نے آپ کو اپنے والد کے حکم پر قتل کرا دیا۔

    مصنف کہتے ہیں کہ سہروردی کی کتاب "حکمتہ الاشراق" نے مسلمانوں کی فکر و تاریخ پر گہرا اثر ڈالا یہ کتاب نا تو خالص تصوف کی کتاب ہے نا ہی فقط فلسفہ کی بلکہ یہ دونوں کا امتزاج ہے، سہروردی نے کتاب کے آغاز میں ہی لکھ دیا ہے کہ ان کی کتاب صرف اسی طالب علم کے لیے ہے الہیت اور بحث دونوں سے سروکار رکھتا ہوں ان دونوں میں سے کسی چیز کی کمی سے یہ کتاب اس کے لیے بے معنی ہو جائے گی۔

    فلسفہ اور تصوف کے امتزاج کی دوسری شخصیت شیخ اکبر محی الدین ابن عربی کی ہے آپ نے 560 ہجری میں اندلس میں پیدا ہوئے، حدیث اور فقہ میں غیر معمولی درک حاصل کر کے اپنے زمانے کے ممتاز اصحاب میں شمار ہوتے تھے، ان کی ذات مسئلہ "وحدت الوجود" کے بارے میں خصوصی شہرت کی حامل ہے جس کی وجہ سے کئی فقہاء نے آپ کی تکفیر بھی کی اور آپ کی وفات کے بعد بھی کئی فقہاء آپ کی تکفیر کرتے رہے جن جن میں بالخصوص شیخ ابن تیمیہ اور علامہ برہان الدین البقاعی قابل ذکر ہیں۔ بالخصوص علامہ بقاعی جنہوں نے نظم قرآن پر بہت وقیع کام بھی کیا تھا نے علامہ ابن عربی کے معاملے میں بہت شدت دکھائی اور ان کے خلاف کتابیں لکھیں۔ ایسے ہی کئی جلیل القدر فقہاء، محدثین و صوفیاء نے شیخ اکبر کا دفاع بھی کیا جن میں امام رازی، علامہ سیوطی، شیخ شہاب الدین سہروردی، قطب الدین حموی قابل ذکر ہیں۔

    مسئلہ وحدت الوجود ایسا مسئلہ ہے جس کو سجھنے سے تاحال میں قاصر ہوں اس کے اوپر علما کی کچھ وضاحتیں گو کہ نظر سے گزری ہیں مگر اپنی کم علمی کی وجہ سے ان کا مفہوم بھی مجھ پر واضح نہیں ہوسکا۔ مصنف کے بقول شیخ اکبر بھی وحدت ادیان کے قائل تھے جیسے کہ حلاج قائل تھے کہ ہر دین کی حقیقت ایک ہے، میرا گمان غالب ہے کہ ڈاکٹر صاحب کو اس معاملے میں مغالطہ لاحق ہوا ہو گا اور شیخ اکبر کی کتب کے بارے میں یہ بات بھی پائی جاتی ہے کہ اس میں کچھ الحاقی باتیں بھی شامل ہیں ہو سکتا ہے یہ نظریہ بھی ان ہی میں سے ہو۔ شیخ اکبر کے ایک اور نظریہ "حقیقت محمدیہ" بارے میں مصنف لکھتے ہیں کہ حقیقت محمدیہ کے بارے میں وہ دو لفظ استعمال کرتے ہیں کبھی قطب اور کبھی روح خاتم، یہ کمالات علمیہ و عملیہ کا قدیم ترین منبع ہے، حضرت آدمؑ سے لے کر آپ ﷺ تک یہی حقیقت، جو حقیقت محمدیہ کے رنگ میں جلوہ گر رہی ہے اور آپ ﷺ کے بعد اس کا وجود آپ ﷺ کی پیروی کرنے والے میں نظر آتا ہے۔ مصنف نے شیخ الاشراق اور شیخ اکبر کے بعد شیخ عمر بن الفارض اور شیخ عبدالحق بن سبعین کا مختصر ذکر کیا یے جو کہ صوفی ہونے کے ساتھ ساتھ بہت بڑے فلسفی بھی تھے، دونوں حضرات نے ذات الٰہی کو اپنی محبت کا موضوع بنایا ہے۔

    کتاب کے آخر میں مصنف کہتے ہیں کہ ساتویں صدی ہجری کے بعد تصوف کے باب میں وہ کچھ اضافہ نا ہو سکا جو پہلے ہو رہا تھا گوکہ بعد میں بھی کئی جلیل القدر صوفیاء جیسے کہ شیخ عبدالکریم الجیلی، امام عبدالوہاب شعرانی، عبدالغنی نابلوسی نظر آتے ہیں مگر جو روایت متقدمین چھوڑ گئے تھے یہ اس کو آگے نا بڑھا سکے یوں تصوف انحطاط پذیر ہو گیا۔

    مصنف نے برصغیر کا ذکر نہیں کیا حالانکہ شیخ مجدد الف ثانی جسا بڑا نام لازمی ذکر کرتے ویسے کتاب میں بالعموم ہند و پاک کے صوفیاء کرام کا ذکر نہیں ملتا۔ مگر مصنف کی اس بات سے انکار شاید مشکل ہے کہ تصوف میں انحطاط آگیا۔ اب خام صوفیاء کے غلبے نے تو اس کو مذید زوال پذیر کردیا ہے۔ گو کہ اس بات کا انکار مصنف کو بھی نہیں کہ ہر دور میں ایسے صوفی موجود رہے ہیں جو کہ ذاتی خوبیوں اور کمال کے حامل ہوتے ہیں اس کی سب سے بڑی مثال پیر مہر علی شاہ گولڑوی ہیں جنہوں نے عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کے لیے بے مثال اور لازوال کام کیا ہے۔ انفرادی سطح پر صاحب کمال لوگوں کا وجود رہا ہے مگر تصوف کا اجتماعی نظام اصلاح کا شدید طلب گار ہے اور اس کے لیے مستند علما و مشائخ کو اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔
  5. زنیرہ عقیل
    آن لائن

    زنیرہ عقیل ممبر

    شمولیت:
    ‏27 ستمبر 2017
    پیغامات:
    4,100
    موصول پسندیدگیاں:
    2,541
    ملک کا جھنڈا:
    السلام علیکم
    بہت معلوماتی لڑی ہے محترم کنعان صاحب اور تصوف کے بارے میں ذاتی طور پر مجھے جو زیادہ دل کے قریب محسوس ہوئی وہ حضرت ذوالنون مصری ہیں کیوں کہ بحثیت مسلمان ہم پہلے انبیاء کی شریعت کی بجائے شریعتِ محمدی کی پیروی کرتے ہیں اور جب تک نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کو نہیں اپنائیںگے زندگی کے ہر ہر عمل ہر ہر قدم پر شریعت سے رہنمائی نہیں لینگے تو تصوف کا خیال ہی ادھورا ہے.

    آپ کی لڑی کے مطابق
    "حضرت ذوالنون مصری نے تصوف کے احوال و مقامات بھی مرتب اور مدون کیے، ان کا اصول حیات یہ تھا
    حب الخلیل
    بغض القلیل
    اتباع التنزیل
    خوف التحویل
    حضرت ذوالنون مصری نے اتباع سنت کی پیروی پر زور دیا اور کہا کہ اللہ اور آپ ﷺ سے عشق کی پہلی علامات ہی اتباع شریعت ہے۔ آپ نے کہا کہ معرفت کی تین قسمیں ہیں
    عوام مومنین کی معرفت: جو لوگ عقیدہ کے لحاظ سے خدا کو مانتے ہیں
    متکلمین اور حکماء کی معرفت: جو لوگ عقل کی رہبری میں خدا کی معرفت حاصل کرتے ہیں
    خواص اور مقربین بارگاہ الٰہی کی معرفت جو دل کی بصیرت سے رب کو پہچانتے ہیں۔"

    آج کے دور میں کچھ لوگ شعبدہ بازی کو تصوف کا نام دے کر اپنے ساتھ دوسروں کو بھی گمراہ کر دیتے ہیں اللہ ہم سب کو صراط مستقیم پر چلنے اور گمراہی سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے آمین

اس صفحے کو مشتہر کریں