1. اس فورم پر جواب بھیجنے کے لیے آپ کا صارف بننا ضروری ہے۔ اگر آپ ہماری اردو کے صارف ہیں تو لاگ ان کریں۔

چور کا ہاتھ شریعت کی رو سے کاٹنا اور تن سے جدا کر دینا واجب ہے

'سیرتِ سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم' میں موضوعات آغاز کردہ از زنیرہ عقیل, ‏20 فروری 2018۔

  1. زنیرہ عقیل
    آف لائن

    زنیرہ عقیل ممبر

    شمولیت:
    ‏27 ستمبر 2017
    پیغامات:
    17,939
    موصول پسندیدگیاں:
    8,607
    ملک کا جھنڈا:
    فرمانِ باری تعالی ہے

    وَالسَّارِقُ وَالسَّارِقَةُ فَاقْطَعُوا أَيْدِيَهُمَا جَزَاءً بِمَا كَسَبَا نَكَالًا مِنَ اللَّهِ وَاللَّهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ

    چور مرد اور چوری کرنے والی عورت دونوں کے ہاتھ کاٹ دو، یہ بدلہ ہے ان کے کئے کا، سزا ہے اللہ کی جانب سے، اور اللہ تعالی غالب حکمت والا ہے۔
    [المائدة: 38]

    چور کا ہاتھ غاصب اور زیادتی کرنے والا ہوتا ہے ایسے ہاتھ کو شریعت کی رو سے کاٹنا اور تن سے جدا کر دینا واجب ہے، تا کہ دوسروں کو عبرت ملے اور ایسی گری ہوئی حرکت سے باز رہیں، نیز اموال اور املاک کو تحفظ بھی ملے

    سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: (چور پر اللہ کی لعنت ہو جو ایک انڈا چرائے اور اس کا ہاتھ کاٹ دیا جاتا ہے ۔یا رسی چرائے تو اس کا ہاتھ کاٹ دیا جاتا ہے) متفق علیہ

    چور اور فاسق شخص کو وبال، سزا اور عذاب کی وعیدیں سنائی گئی ہیں؛ چنانچہ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نماز کسوف والی حدیث میں کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

    (تمہیں جس چیز کا بھی وعدہ دیا جاتا ہے وہ میں نے اپنی اس نماز میں دیکھ لی ہے۔ یقیناً آگ کو [میرے قریب]لایا گیا، یہ اس وقت تھا جب تم نے مجھے دیکھا کہ میں پیچھا ہٹا تھا؛ مبادا آگ کے شعلے مجھے جھلسا نہ دیں، حتی [کہ اتنا قریب لایا گیا] کہ میں نے آگ میں کھونڈی والا شخص بھی دیکھا وہ اپنی آنتوں کو کھینچ رہا تھا، وہ اپنی کھونڈی کے ساتھ حاجیوں کی چوری کرتا، اگر کوئی پکڑ لیتا تو کہتا میری کھونڈی سے [سامان]اٹک گیا تھا، اور اگر اس کی طرف توجہ نہ جاتی تو چیز لے نکلتا تھا ) مسلم

    سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا:

    (تم میں سے کوئی کسی کے جانور کا دودھ اس کی اجازت کے بغیر مت نکالے۔ کیا تم یہ پسند کرتے ہو کہ کوئی تمہارے کمرے میں آئے اور صندوق توڑ کر وہاں سے کھانے پینے کا سامان لے جائے؟ اسی طرح جانوروں کے تھن بھی لوگوں کی خوراک محفوظ کرتے ہیں، اس لیے تم میں سے کوئی بھی کسی کے جانور کا دودھ اس کے مالک کی اجازت کے بغیر مت دوہے) متفق علیہ

    ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ : ایک بار ہم رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ سفر میں تھے تو ہم نے کچھ اونٹ دیکھے جن کے تھن درختوں کی چھال سے بندھے ہوئے تھے، تو ہم ان اونٹوں کی جانب کود پڑے، اس پر آپ ﷺ نے ہمیں آواز لگائی اور ہم آپ ﷺ کے پاس واپس آ گئے۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا: (یہ اونٹ مسلمانوں کے ہیں اور یہی ان کی روزی روٹی ہے، اللہ کے بعد یہی ان کے لیے خیر کا ذریعہ ہیں، تو کیا تمہیں یہ بات اچھی لگے گی کہ اگر تم اپنے زادِ راہ تک پہنچو اور تمہیں زادہ راہ ختم ہوا ملے، تو کیا تم اسے عدل سمجھو گے؟ ) صحابہ کرام نے کہا: "نہیں" تو پھر آپ ﷺ نے فرمایا: (اونٹ کا دودھ دوہنا بھی اسی طرح عدل نہیں ہوگا)
    احمد ، ابن ماجہ

    ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا کسی بھی آدمی کیلیے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ اپنے بھائی کی رضا مندی کے بغیر اس کی لاٹھی لے لے)اس کی وجہ یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک مسلمان کیلیے دوسرے کے مال کو سختی کے ساتھ قابل احترام قرار دیا۔
    مسند احمد اور ابن حبان

    اگر اتنی معمولی چیزوں کے بارے میں اتنی سختی ہے کہ جن کی مالکان کے ہاں کوئی زیادہ قدر و قیمت نہیں ہوتی ، جیسے کہ لاٹھی وغیرہ ہے تو اس سے زیادہ قیمتی چیزوں کا کیا حکم ہو گا؟ یقیناً ان کے بارے میں متنبہ رہنا اور ان سے بچنا زیادہ ضروری ہے۔

    چنانچہ اگر کوئی شخص کسی کی زمین جبراً بغیر حق کے ہتھیا لیتا ہے ، یا مسلمانوں کے راستے سے ایک بالشت یا ایک ہاتھ جگہ کاٹ لیتا ہے، یا عوامی مشترکہ املاک کو بنا حق مال ہڑپ کرتا ہے تو وہ شخص اپنے آپ کو شدید وعید اور سخت مذمت کے درپے کرتا ہے؛

    چنانچہ حکم بن حارث سلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
    (جو شخص مسلمانوں کے راستے میں سے ایک بالشت جگہ بھی ہتھیا لے تو قیامت کے دن ساتوں زمینوں کا اتنا حصہ اٹھائے ہوئے آئے گا)

    ایسے ہی ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
    (اللہ کی قسم! تم میں سے کوئی بھی بغیر حق کے کوئی بھی چیز ہتھیائے تو وہ روزِ قیامت اس کو اٹھائے ہوئے اللہ سے ملے گا، تو میں جانتا ہوں کہ تم میں سے کوئی اللہ تعالی کو بڑبڑاتے اونٹ ، ڈکراتی گائے یا منمناتی بکری اٹھائے ہوئے ملے گا ، پھر آپ ﷺ نے اپنا ہاتھ بلند فرمایا یہاں تک کہ آپ کی بغلوں کی سفیدی نظر آنے لگی آپ فرما رہے تھے: یا اللہ! کیا میں نے تیرا پیغام پہنچا دیا ہے؟!)
    بخاری

    اسی طرح ابو مالک اشجعی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا بیشک اللہ تعالی کے ہاں عظیم ترین خیانت وہ ایک ہاتھ زمین یا مکان ہے جس [کے کل حصے ]میں دو شراکت دار ہوں تو ان میں سے ایک اپنے شریک کے حصے میں سے ایک ہاتھ زمین زیادہ ہتھیا لیتا ہے، اگر وہ ہتھیا لے تو اسے قیامت کے دن ساتوں زمینوں کا طوق پہنایا جائے گا)احمد، طبری

    اور اگر چور ، چوری اور جرم سے توبہ کر لے تو اللہ تعالی اس کی توبہ اس معاملے میں قبول فرما لیتا ہے جو اللہ اور بندے کے درمیان ہے، جبکہ لوگوں کے مال کو لوگوں تک لوٹانا ضروری ہے، لہذا اگر چوری شدہ مال اس کے پاس ہو تو بعینہٖ اس مال کو مالک کے حوالے کرے، وگرنہ اس کی متبادل چیز دے یا اس کی قیمت ادا کر دے یا جا کر مالک سے تصفیہ کر لے۔

    اللہ تعالی ہمیں اور آپ سب کو ایسے رزق سے بچائے جو مہلک ہو، جس کا ماخذ خبیث ہو اور حرام طریقے سے کمایا گیا ہو۔ اللہ تعالی ہم سب کو عافیت میں رکھے ہمیں حلال روزی سے غنی فرما دے بیشک وہی سخی اور کرم کرنے والا ہے۔ آمین
     
    نعیم نے اسے پسند کیا ہے۔

اس صفحے کو مشتہر کریں