1. اس فورم پر جواب بھیجنے کے لیے آپ کا صارف بننا ضروری ہے۔ اگر آپ ہماری اردو کے صارف ہیں تو لاگ ان کریں۔

پنجابی محاورے (ترجمہ محمد یعقوب آسی)

'پنجابی چوپال' میں موضوعات آغاز کردہ از سید شہزاد ناصر, ‏2 مئی 2019۔

  1. سید شہزاد ناصر
    آف لائن

    سید شہزاد ناصر ناظم سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏24 مئی 2015
    پیغامات:
    1,459
    موصول پسندیدگیاں:
    2,245
    ملک کا جھنڈا:
    ۔1۔ ویہلی رَن پروہنیاں جوگی ۔
    ویہلی : مؤنث جسے کوئی کام نہ ہو، فارغ ۔۔ رَن : عورت ۔۔ پروہنا : مہمان ۔۔ جوگی : کے لئے، کے قابل، تک
    یہ کسی عورت نے دوسری کو جس کے مہمان بہت آتے ہوں طعنہ دیا ہو گا۔ اس میں ایک سے زیادہ پہلو ہیں سو خاموشی اولیٰ۔

    ۔2۔ ڈھِڈ بھَر گیا پر اکھاں نہ بھَریاں ۔
    پیٹ بھر گیا مگر آنکھ نہ بھری، سیر نہ ہوئی، مزید کی طلب رہی۔
    متمول مگر لالچی کہنا ہو تو ایسے کہتے ہیں۔

    ۔3۔ شیر ساریاں نوں کھاوے پر شیر نوں کوئی نہ کھاوے
    شیر سب کو کھائے مگر شیر کو کوئی نہ کھائے
    کسی بڑے یعنی سردار وغیرہ پر طنز کرنا مقصود ہو تو ایسے کہتے ہیں۔ کہ وہ جس سے جیسے چاہے پیش آتا ہے اور کرتا ہے، اس کے ساتھ ایسا نہیں ہوتا۔

    ۔4۔ ماں نی ماں! میں رَہ نہ سکاں۔
    اے ماں! میں نہیں رہ سکتی (اس کی اصل عورتوں کی زبان میں ہے)۔ اس کی ایک صورت یہ بھی ہے: بچہ! رَہ نہ سکدی۔
    کسی کی عادت کو نشانہ بنانا ہو تو کہتے ہیں۔

    ۔5۔ نہ نیتی نہ قضا کیتی
    بنیادی اشارہ نماز کی طرف ہے۔ نہ نیت کی اور نہ قضا کی (قضا کی ذومعنویت اس کو دوہرے معانی دیتی ہے)
    جب کسی کو یہ کہنا مقصود ہو کہ تمہارا تو یہ کام کرنے کا ارادہ ہی نہیں تھا۔

    ۔6۔ راہ پیا جانے یا واہ پیا جانے
    راہ پیا: راستے پر پڑا، سفر پر نکلا ہوا ۔۔ واہ پیا: واسطہ پڑا ہوا ۔۔ جانے: جاننا سے ہے۔
    لوگوں کے بارے میں تجربہ تب ہوتا ہے جب انسان سفر میں ہوتا ہے یا پھر کسی سے واسطہ پڑتا ہے۔

    ۔7۔ ویلا نہ وقت بی بی چڑھ بیٹھی تخت
    ویلا، وقت : ہم معنی ہیں۔ چڑھ بیٹھی تخت: اس کے کئی معانی ہو سکتے ہیں، بن سنور کر بیٹھ جانا، اپنی اہمیت کا اظہار کرنا وغیرہ
    کسی کے رویے پر بولتے ہیں جو موقع بے موقع اپنی اہمیت جتلائے۔

    ۔8۔ کہنیاں دھی نوں سنانیاں نونہہ نوں
    کہنیاں: باتیں کرنی، ۔۔ دھی : بیٹی ۔۔ سنیانیاں: سنانی ۔۔ نونہہ : بہو ۔۔ نوں: کو
    جب بات بظاہر کسی اور سے کی جا رہی ہو اور اصل مخاطب کوئی اور ہو۔

    ۔9۔ ویلے دی نماز کویلے دیاں ٹکراں
    ویلا : وقت، ویلے دی : وقت کی، بر وقت ۔۔ کویلا : کاف حرفِ تضاد، ناوقت، تاخیر سے ۔۔ ٹکراں : ٹکریں، طنز کے طور پر سجدے کو کہا گیا ہے۔
    نماز وہ ہے جو وقت پر ادا کی جائے، ناوقت ہو تو ٹکریں ہیں بس۔

    ۔10۔ باندر ہتھ کٹورا لگیا پانی پی پی آپھریا
    کٹورا : پیالہ، آپھرنا: پیٹ کی گنجائش سے زیادہ کھا یا پی لینا اور تکلیف میں مبتلا ہو جانا، باندر: بندر
    بندر کو پیالہ مل گیا تو اس نے اپنی ضرورت اور گنجائش سے زیادہ پانی پی لیا اور مشقت میں پڑ گیا۔
    نا اہل اور ترسے ہوئے شخص کو اقتدار و اختیار مل جائے تو وہ چاہے مصیبت میں ہی کیوں نہ پڑ جائے، لوٹ مار کرتا ہے یا مال بناتا ہے۔

    ۔11۔ کرتوت نہ کوئی پلے، کرنی بلے بلے
    پلے: دامن میں، بلے بلے: شاباش، خود ستائی کو بھی کہتے ہیں ۔۔ کرتوت: کام، کارنامہ وغیرہ کو طنزیہ پیرائے میں کرتوت کہا ہے، ویسے یہ برے اور شنیع کام کو کہتے ہیں۔
    کچھ بھی کئے کرائے بغیر اپنی ستائش کرنا۔

    ۔12۔ پلے نہیں دھیلا تے کردی میلہ میلہ
    دھیلا: آدھا پیسہ، بہت کم مالیت کی شے۔
    جیب میں آدھا پیسہ بھی نہیں اور میلے کا شوق چرایا ہے۔

    ۔14۔ بھاویں ماسی بنے سس اوہنوں وی ڈین والا چس
    ماسی: خالہ ۔۔ سَس : ساس ۔۔ اوہنوں وی: اسے بھی ۔۔ ڈَین: ڈائن ۔۔ چَس : شوق، چسکا، میلان۔
    خالہ کو ماں کی مثل کہا جاتا ہے۔ اور ساس بہو کا جھگڑا معمول کی بات سمجھی جاتی ہے۔
    خالہ بھی ساس بن جائے تو بہو کے حق میں ڈائن بن جاتی ہے۔


    ۔15۔ سادھو نوں کی سواداں نال
    سادھاں نوں کیہ سواداں نال،سنے ملائی چلن دے۔
    سادھ: سادہ مزاج شخص، سواد: ذائقہ، سنے: سمیت، ملائی: دودھ کی بالائی، چلن دے: چلنے دیں
    کہتے ہیں ایک شخص کسی کا مہمان ہوا۔ میزبان نے اسے دودھ پیش کرنا چاہا، تاہم سوچا کہ بالائی بچا لی جائے۔ عذر یہ بنایا کہ بالائی سے دودھ کا ذائقہ متاثر ہوتا ہے۔ اس پر مہمان نے یہ جملہ کہا کہ: سادہ مزاج لوگوں کو ذائقے کی پروا نہیں ہوتی، بالائی سمیت ہی دے دیں۔

    ۔16۔ کاواں ٹولی اِکو بولی
    کانواں ٹولی اِکو بولی ۔ کووں کی ٹولی ایک ہی بولی بولتی ہے۔ سب کووں کی بولی ایک ہی ہوتی ہے (کائیں کائیں)۔
    ہم خیال لوگوں کے گروہ یا جماعت کے لئے کہا جاتا ہے۔

    ۔18۔ گنا نہیں بوٹا ای ماریا
    ایک گنا نہیں بلکہ پورا پودا اکھاڑ دیا ہے۔ گنے کے ایک پودے میں سات آٹھ گنے ہوتے ہیں۔ ک
    م کی بجائے زیادہ نقصان کر بیٹھنا۔

    ۔19۔ ذات دی کوڑھ کرلی تے شہتیراں نوں جپھے
    کوڑھ کرلی : چھپکلی، جپھے : معانقہ، گلے ملنا، چمٹ جانا، شہتیر یہاں بلندی کی علامت ہے، چھت کے حوالے سے بھی کہ اسی پر چھت کا انحصار ہوتا ہے۔
    کسی کو کم ذات اور نیچ قرار دیتے ہوئے بلند مرتبت لوگوں سے چمٹنے کا طعنہ دیتے ہیں۔ موقع کے مطابق خود کو کبھی چھپکلی کہتے ہیں اور کبھی شہتیر بھی کہہ لیتے ہیں۔

    ۔20۔ اوہ دن ڈبُا جدن گھوڑی چڑّھیا کبّا
    کُبا : کُبڑا ۔۔ گھوڑی چڑھنا : دولھا بننا، بارات لے کر نکلنا
    وہ دن ڈوب چکا جس دن کبڑا بارات لے کر نکلا۔ یعنی کبڑے کو تو رشتہ کوئی نہیں دینے کا، اس کی بارات کیوں کر نکلے گی!
    یہ ایک طعنہ ہے کہ جسے دیا جائے اس کی کسی بہت بڑی خامی کی طرف اشارہ ہوتا ہے، اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ فلاں کام تمہارے بس کا نہیں۔


    ۔21۔ ویلھے توں ونگار بھلی
    ویہلا، ویلھا (دونوں ہجے درست مانے جاتے ہیں): بے کار، فارغ ۔۔ ونگار : بیگار۔
    اردو میں ہے: بیکار سے بیگار بھلی۔


    22. گوڈے ڈھڈ توں اگے نہیں ہوندے
    گھٹنے پیٹ سے آگے نہیں ہوتے۔ اپنا مفاد اپنے ہی عزیزوں کے مفاد سے زیادہ عزیز ہوتا ہے۔


    23. جناں نِکّا اُنا تِکّھا
    جتنا چھوٹا، اتنا تیز (چالاک، سیانا) مثبت منفی کسی بھی لحاظ سے بولا جاتا ہے۔
     
    زنیرہ عقیل اور آصف احمد بھٹی .نے اسے پسند کیا ہے۔
  2. سید شہزاد ناصر
    آف لائن

    سید شہزاد ناصر ناظم سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏24 مئی 2015
    پیغامات:
    1,459
    موصول پسندیدگیاں:
    2,245
    ملک کا جھنڈا:
    24۔ جناں زمین دے باہر اوناں زمین دے اندر
    جتنا زمین سے باہر اتنا ہی زمین کے اندر۔ ایسے شخص کے بارے میں بولتے ہیں جس کو سمجھنا مشکل ہو (مشکل شخصیت)۔

    25. سُکّے نوں ویکھ کے لڑ ناں ، موٹے نوں ویکھ کے ڈر ناں
    سکا : کمزور، موٹا: طاقت ور
    مقابل کمزور دکھائی دے تو اس سے لڑائی جھگڑے پر اتر آنا اور طاقت ور دکھائی دے تو پس پائی اختیار کرنا۔

    26. مونہہ نہ متھا جنْ پہاڑوں لتّھا
    لتھا: اترا، مونہہ (منہ) ماتھا۔ بدصورت قرار دینا۔


    27. جتّھے دی کھوتی اوتھے آن کھلوتی
    جہاں کی گدھی تھی، وہیں آن کھڑی ہوئی۔ انسان اپنی اصل کی طرف لَوٹتا ہے۔
    ع: پہنچی وہیں پہ خاک جہاں کا خمیر تھا

    28. اَنھّے ہتھ بٹیرا
    اردو میں کہتے ہیں: اندھے کے ہاتھ بٹیر لگنا

    29۔ بھکھے نوں چند وی روٹی ورگا لگدا اے
    بھوکے شخص کو چاند بھی روٹی جیسا لگتا ہے۔ غربت میں جمالیات بھول جاتی ہے۔

    30. جناں گُڑ پاؤ گے اُوناں مٹھا ہووے گا
    31۔ اوناں (اُتنا) ۔۔ اُوناں یا اُونا یہاں درست نہیں۔ اس کا معنیٰ ہوتا ہے: پورے سے کم بھرا ہوا برتن، نیچا، جھکاؤ؛ وغیرہ
    جتنا گڑ ڈالیں گے مٹھاس بھی اتنی ہو گی۔
    جتنی محنت کریں گے، اس کا پھل پا لیں گے۔ جتنے پیسے خرچ کریں گے اتنی اچھی یا زیادہ چیز ملے گی۔ وغیرہ

    32. سدی نہ بلائی میں لاڑے دی تائی
    نہ کسی نے دعوت دی نہ بلایا، آنے والی خود کو دولھا کی تائی کہہ رہی ہے۔ کسی تقریب وغیرہ میں بن بلائے شخص کے لئے بولتے ہیں۔ اور کسی معاملے میں ٹانگ اڑانے والے کے لئے بھی۔

    32. ڈٹھی نہ بھالی میں لاڑے دی سالی
    یہ تو اختراع لگتی ہے، کل کلاں محاورے کی حیثیت بھی حاصل کر لے گی۔کہنے والی خود کو دلھن کی بہن کہہ رہی ہے جب کہ اسے کوئی بھی نہ جانتا ہے نہ پہچانتا ہے۔

    33. آٹا گُنھدی ہِلدی کیوں ایں؟
    آٹا گوندھتے ہوئے ہِل کیوں رہی ہو؟ اعتراض برائے اعتراض، ناروا، بلاجواز یا بے سروپا روک ٹوک۔


    34. اَنھا ونڈے ریوڑیاں ، مُڑ مُڑ کے گھَر دیاں نوں۔
    اندھا ریوڑیاں بانٹ رہا ہے اور بار بار اپنے ہی گھر والوں کو دے رہا ہے۔ جانتے بوجھتے اپنے ہوتوں سوتوں کو فائدہ پہنچانا

    35. ماواں ٹھنڈیاں چھاواں
    بہت معروف ہے، ہر ماں کی مثل ٹھنڈی چھاؤں کی ہوتی ہے۔ ماں سے تعلق قلبی سکون دیتا ہے۔

    36۔ چور نالوں پَنڈ کالھی
    پَنڈ : گٹھڑی، یہاں اشارہ اس مال کی طرف ہے جو ایک چور کسی گھر سے چرا لیتا ہے اور اس کی گٹھڑی سی بنا لیتا ہے۔
    کالھ : جلدی، کالھا، کالھی، کالھے : جو جلدی میں ہو۔ اس کو عربی والے کاہل، کہولت اور اس کے مشتقات مثلاً کاہلی سے گڈمڈ نہ کریں۔
    مفادپرست تو جلدی کرتا ہی ہے، جس کو لوٹا جا رہا ہے وہ بھی لٹنے پر آمادہ ہو۔

    37. چور تے کُتی رل گئے
    رَل گئے: مل گئے، ساز باز کر لی، کُتی: کُتیا، یہاں نگران اور محافظ مراد ہیں۔
    محافظ بھی چوروں کے ساتھ مل گئے ہیں۔

    38. اک تے بنو سوہنی، اتوں سُتی اُٹھی
    بنو: دلھن، بنا: دلھا (ب مفتوح، نون مشدد) سُتی اٹھی: نیند سے جاگی۔ (انسان نیند سے جاگے تو اس کے بال وغیرہ پریشان ہوئے ہوتے ہیں) سوہنی: خوب صورت
    بدصورتی کا طعنہ دینے کو کہتے ہیں کہ : دلھن پہلے کون سی خوبصورت ہے، اس پر نیند سے جاگی۔

    39. بنوں ناتی دھوتی رہ گئی تے نک تے مکھی بہ گئی
    یہ کوئی بہت ہی مقامی انداز رہا ہو گا بلکہ شخصی۔ معروف کچھ یوں ہے: نہاتی دھوتی رہ گئی، اتے مکھی بہہ گئی
    یہ بھی خواتین کی زبان سے ہے، کسی کو کہا جاتا ہے کہ وہ نہائی دھوئی اور اس پر مکھی بیٹھ گئی یعنی صفائی جاتی رہی۔

    40. ہیجڑیاں گھر منڈا جمیا تے چم چم مار سُٹیا
    ہیجڑا، خُسرا، مخنث، خواجہ سرا۔ مار سُٹیا : مار ڈالا ۔ خواجہ سراؤں کے ہاں بیٹا پیدا ہو گیا تو انہوں نے اسے اتنا چُوما اتنا چوما کہ وہ مر گیا۔
    کسی غیر متوقع خوشی کے مل جانے اور اس کو برداشت نہ کر پانے کے مواقع پر بولتے ہیں۔
    بندر اور کٹورے والی مثال بھی کچھ اسی مفہوم کی ہے۔ ایک اور بھی ہے:
    بھکھے نوں تھیاں پنیاں تے کھاندا کھاندا مر گیا۔ (بھوکے کو پِنیاں مل گئیں اور اس نے اتنی کھا لیں کہ مر گیا، بے صبری اور لالچ کی طرف اشارہ ہے)۔
    پِنی (پ مکسور نون مشدد) پنجاب میں بنائی جانے والی ایک قوت بخش مگر ثقیل اور دیر ہضم غذا ہوتی ہے۔

    41. کالھیاں اگے ٹوئے
    کالھی: جلدبازی، عجلت ۔۔ ٹوئے، ٹویا: گڑھا ۔ جلد بازی میں رکاوٹیں درپیش ہوا کرتی ہیں۔

    42. رب نیڑے کے گھسُن
    نیڑے: نزدیک، گھسُن: گھونسا ۔ خدا نزدیک ہے یا گھونسا۔ خدا تو گناہ کی سزا دے گا جب دے گا، یہ جو جابر سر پر کھڑا گناہ کا حکم دے رہا ہے، یہ ابھی سزا دے دے گا۔کسی کی دھونس میں آ کر غلط کام کرنے کے موقع پر بولتے ہیں۔

    49۔ بوہے تے جنج، وِنھو! کُڑی دے کن
    بوہا: دروازہ، جنج: بارات، کُڑی: لڑکی مراد ہے دلھن، کن وِنھنا: کان چھیدنا
    بارات پہنچ گئی ہے، لڑکی کے کان چھیدے جائیں۔ کسی امر میں بہت زیادہ تاخیر ہو جانے پر بولا جاتا ہے۔ لڑکی کے کان چھیدنے کا مرحلہ تو بچپن میں سر ہو جانا چاہئے، کجا آنکہ اس کو لے جانے والے سر پر آ پہنچیں۔

    45. ذات دا تیلی تے شوق نوابی
    یوں سمجھ لیجئے یہ وہی ہے: ذات دی کوڑھ کرلی ۔۔ ۔۔ ۔۔

    48. جنہاں دے گھر دانے ، اوہناں دے کملے وی سیانے
    جس گھرانے میں غلہ ہو، اس کے احمقوں کو بھی دانا مانا جاتا ہے۔
    دولت و امارت کی چکاچوند میں میں بہت ساری برائیاں اور کمزوریاں چھپ جاتی ہیں۔

    49. آب آب کر موہیوں بچڑا ، تیریاں فارسیاں گھر گالے
    اس کے پیچھے ایک لوک کہانی ہے، جس کی طوالت کے سبب اسے مؤخر کرتے ہیں۔ مختصر مفہوم یہ ہے کہ زبان وہ بولئے جس کو آپ کے مخاطبین سمجھ سکتے ہوں۔

    50. نیتاں نال مراداں
    مرادیں نیتوں سے مشروط ہیں۔ مراد کے معانی عربی اور اردو کے مطابق ہیں: جو ارادہ ہو، کسی لفظ بات کا جو مطلوبہ مفہوم ہو وغیرہ۔ پنجابی ڈکشن میں مراد کے معانی حاصل کے بھی ہوتے ہیں۔ عرف عام میں کہتے ہیں:
    جیسی نیت ویسی مراد۔ انسان کو اس کی نیت کا پھل ملا کرتا ہے۔
     
    زنیرہ عقیل اور آصف احمد بھٹی .نے اسے پسند کیا ہے۔
  3. سید شہزاد ناصر
    آف لائن

    سید شہزاد ناصر ناظم سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏24 مئی 2015
    پیغامات:
    1,459
    موصول پسندیدگیاں:
    2,245
    ملک کا جھنڈا:
    51۔ جیہدی باندری اوہوای نچاوے
    جس کی بندریا ہے وہی نچائے۔ اس کے پیچھے کوئی لوک کہانی رہی ہو گی جو میرے علم میں نہیں۔ اس کے کئی مفاہیم ہو سکتے ہیں۔ مثلاً:
    کسی شے پر اختیار تب ہی پورا ہوتا ہے جب وہ شے آپ کی ملکیت ہو
    جس کو آپ پالتے پوستے ہیں اس کو نچا بھی سکتے ہیں، کوئی بھی کام لے سکتے ہیں
    وغیرہ

    52. جہنوں رب رکھے اوہنوں کون چکھے
    معروف ہے: جسے مولا رکھے، اسے کون چکھے، جسے خدا رکھے اسے کون چکھے۔ اس کے پیچھے بھی ایک کہانی ہے: سانپ اور بچے والی۔

    53. چڑیاں دی موت تے گواراں دا ہاسا
    گوار: گنوار، جاہل، اجڈ ۔۔ ہاسا: ہنسی، مذاق، ٹھٹھا، تفریح
    اس کے پیچھے بھی ایک کہانی ہے جو مجھے معلوم نہیں۔ سامنے کا مفہوم ہے کسی دوسرے کو مصیبت میں دیکھ کر خوش ہونا گنوارپن ہے۔

    54. جہدی ہوے عطاری تے کیہ کر تھانے داری
    اس کے پیچھے بھی کوئی کہانی ہے، میرے علم میں نہیں۔

    55. چلھے پچھے پردیس
    چولھے کے پیچھے پردیس۔ دیس اور پردیس، قریب یا دور کی کیفیت خبرگیری سے مشروط ہے۔ اگر قریب رہتا ہوا ایک شخص بھی خبرگیری سے محروم ہے تو وہ ویسا ہی ہے جیسے کسی دوسرے ملک میں یا کہیں دور دراز رہ رہا ہو۔ یہ کہاوت رابطوں کی اہمیت کا بیان ہے۔

    56. چندرا گواہنڈ تے لائی لگ خصم دونویں بھیڑے ہوندے نیں
    چندرا : بد طینت، گواہنڈ: پڑوس، پڑوسی، لائی لگ: دوسروں کی باتوں میں کر اپنے گھر میں فساد ڈالنے والا، خصم: شوہر، بھَیڑا: بُرا
    بدطینت پڑوسی اور دوسروں کی باتوں میں آ جانے والا شوہر، گھر کو تباہ کر دیتے ہیں۔ اس کے پیچھے بھی ایک کہانی ہے۔ یہی کہاوت ان الفاظ میں بھی معروف ہے: لائی لگ نہ ہووے گھر والا، تے چندرا گواہنڈ نہ ہووے۔

    57. چوراں دے کپڑے، ڈانگاں دے گز
    ڈانگ: لَٹھ، عام طور پر آدمی کے قد سے زیادہ (تقریباً چھ فٹ) لمبا ڈنڈا ہوتا ہے۔ ایک زمانے میں یہ مسافر، چرواہے وغیرہ کے پاس ہوتا تھا۔ گز تین فٹ کا ہوتا ہے۔
    خریدنے والے کو علم ہو کہ اس کے پاس جو کپڑا بِکنے کو آیا ہے چوری کا مال ہے تو وہ ایک گز کے مول میں ایک ڈانگ کپڑا خرید لیتا ہے۔

    58۔ چوراں نوں مور
    کہتے ہیں کچھ چوروں نے کسی کے مور چُرانے کی کوشش کی تو موروں نے چوروں پر حملہ کر دیا۔ چوراں نوں پَے گئے مور؛ بھی کہتے ہیں۔

    59. چور دے پیر نہیں ہوندے
    چور کے پاؤں نہیں ہوتے۔ یہاں پاؤں سے مراد قائم رہنا ہے۔ اس کے بہت سارے مفاہیم ہیں۔ بے بنیاد بات کو دلیل بنانے والا ہار جاتا ہے؛ وغیرہ۔

    60. خاناں دے خان پروہنے
    پروہنے: مہمان ۔۔ میل جول برابر کی سطح کے لوگوں سے ہوا کرتا ہے۔

    61. دو گھراں دا پروہنا بُھکھا رہندا اے
    دو گھروں کا مہمان بھوکا رہتا ہے۔

    62. دھی موئی ، جوائی چور
    دھی: بیٹی، موئی: مر گئی، جوائی: داماد، چور: جس کا گھر میں آنا جانا پسندیدہ نہ ہو۔ ایک آدمی کا تعلق اپنے سسرال سے اُن کی بیٹی کی وجہ سے ہوتا ہے، وہ مر گئی تو تعلق ختم۔
    ایک شخص جو دو جماعتوں گروہوں فریقوں میں واسطہ یا وسیط (باہمی تعلق کا باعث) ہو، اس کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

    63. ڈگی کھوتی توں تے غصہ کمہار تے
    ایک کمہار گدھے لے کر کہیں جا رہا تھا، راہ چلتی کسی عورت نے اس سے "لفٹ" مانگی تو اُس نے ایک گدھی پر بٹھا دیا۔ کسی وجہ سے وہ عورت گدھی پر سے گر پڑی تو کمہار پر بگڑنے لگی۔ یہی کہاوت تذکیر و تانیث کے فرق سے یوں بھی معروف ہے:
    ڈِگا کھوتے توں، غصہ کمہار تے

    64۔ ڈُلھے بیراں دا کچھ نہیں وگڑیا
    وِگڑیا : بگڑا ۔۔ ڈُلھے: برتن سے گر گئے۔ بیر برتن سے گر بھی جائیں تو خراب نہیں ہوتے۔
    ایسے مواقع پر بولتے ہیں جب ایک بہت چھوٹا نقصان کسی بڑے نقصان سے بچاؤ کا سبب بن جائے، یا کوئی نقصان ہوتے ہوتے ٹل جائے۔

    65. ڈومنی دا پُت چپنی وجائے
    چَپنی: گھڑے کا مٹی کا بنا ہوا ڈھکنا۔ اس کو گھڑے پر بجائیں تو گونج پیدا ہوتی ہے۔
    ڈومنی (گائیکا) کا بیٹا چپنی بجا کر موسیقی کا لطف لیتا ہے۔ انسان، خاص طور پر بچہ، اپنے ماحول کا اثر قبول کرتا ہے۔

    66. سپاں دے پتر متر نہیں بن دے
    سانپ کے بچے (انسان کے) دوست نہیں بن سکتے۔ فطری طور پر ڈنک مارنے والا شخص کسی کا دوست نہیں ہو سکتا۔

    67. اپنا مارے گا وی تے چھانویں سٹے گا
    چھانویں: سائے میں، چھاں: سایہ، سٹے گا: پھینکے گا۔ اپنا: عزیز، دوست، تعلق دار
    اپنا کوئی یار دوست عزیز، تعلق دار نقصان بھی پہنچائے تو ہمدردی کا اظہار تو کرے گا ہی۔

    68. اپنیاں دے میں گٹے بھناں ، چماں پیر پرایاں دے
    گٹے (گاف مکسور، ٹ مشدد): ٹخنے، بھناں: میں توڑوں، توڑتا ہوں۔
    میں اپنوں کے ٹخنے توڑتا ہوں اور غیروں کے پاؤں چومتا ہوں۔

    69۔ اجڑیاں باغاں دے گالھڑ پٹواری
    گالھڑ: گلہری، گلہریاں۔ پٹواری: یہاں حساب کتاب رکھنے والا مقصود ہے۔
    اجڑے ہوئے باغوں کا حساب گلہریاں رکھتی ہیں، یعنی اچھلتی کودتی پھرتی ہیں۔ کوئی معاملہ بگڑ جائے اور اس کو سُدھارنے والا کوئی نہ ہو تو ایسے کہتے ہیں۔

    70. اُدھل گئی نوں داج کیہا
    اُدھل گئی: وہ لڑکی جو کسی کے ساتھ بھاگ جائے، داج: جہیز، کیہا: کیسا؟
    جو لڑکی ماں باپ کی عزت کو بٹا لگائے (کسی کے ساتھ بھاگ جائے) اس کے لئے جہیز کیسا؟ جہیز کا تصور تو باضابطہ رخصتی کے ساتھ ہے۔
    ایسے مواقع پر بولتے ہیں جب کوئی شخص اپنے مفاد وغیرہ کے لئے اپنے احباب کو دھوکا دے کر چلتا بنے۔ مقصود کہ وہ کسی رواداری کا مستحق نہیں رہتا۔

    71۔ اندر ہووے سچ تے باہر کھلو کے نچ
    انسان کے اندر سچ ہو تو سرِعام ناچے۔ جو شخص حق پر ہے اسے کسی جھجک کی ضرورت نہیں۔

    72. بارہیں ورھیں مکان آئیاں ، ہسدیاں نوں روان آئیاں
    ورھا: سال، برس، مکان آنا: کسی کے مر جانے پر تعزیت کے لئے آنا۔ بارہ برس بعد تعزیت کے لئے آنے والیاں گویا ہنستے ہوؤں کو رُلانے آتی ہیں۔
    ایک شخص پر کوئی مصیبت ٹوٹی، دکھ اترا، ایک مدت بعد وہ اس کو بھول بھال گیا، اور کچھ لوگوں نے عرصے بعد وہ دکھ یاد دلا دیا۔

    73. آپ نہ ونجے سوہرے ، لوکاں متیں دے
    خود سسرال نہیں جاتا اور دوسروں کو سمجھاتا ہے۔ یہ بھی کثیرالمعانی کہاوت ہے، اس کے کئی پہلو ہو سکتے ہیں۔

    74. برے نوں نہ مارئیے ، برے دی ماں نوں مارئیے
    برے کو نہ مارو، اس کی ماں کو مارو ۔۔ برائی کو جڑ سے ختم کرنا مراد ہے کہ برائی کا ذریعہ باقی نہ رہے۔

    75. بندے دا بندہ دارو
    بندہ: انسان، دارو: دوا، علاج ۔۔ انسان انسان کے کام آتا ہے، ایک دوجے کے دکھ درد میں شریک ہوتا ہے۔

    76. پانی پئیے پُن کے تے مرشد پھڑئیے چن کے
    پانی پُن کر پیا جائے اور راہنما کا سوچ سمجھ کر انتخاب کیا جائے

    77. پتھر نوں جوک نہیں لگدی
    پتھر میں جونک نہیں لگتی مطلب ڈھیٹ انسان پر کوئی اثر نہیں ہوتا۔
     
    آصف احمد بھٹی نے اسے پسند کیا ہے۔
  4. سید شہزاد ناصر
    آف لائن

    سید شہزاد ناصر ناظم سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏24 مئی 2015
    پیغامات:
    1,459
    موصول پسندیدگیاں:
    2,245
    ملک کا جھنڈا:
    78۔ تریل چٹیاں تریہہ نہیں لتھدی
    تریل: اوس، شبنم، تریہہ: پیاس، لتھدی، لہندی: اترتی ۔ اوس چاٹنے سے پیاس نہیں اترتی۔

    79. تیل ہٹی دا تے گھیو جٹی دا
    میرے نزدیک ناقابلِ تبصرہ و تشریح

    80. ٹر ناں سکاں تے فٹے منہ گوڈیاں دا
    اس کا ایک اور ورژن ہے: ٹُریا آپ توں نہ جائے، فٹے منہ گوڈیاں دا۔
    ٹُرنا: چلنا، فٹے منہ: تف ہے، گوڈے: گھٹنے۔ چلا خود سے نہیں جاتا اور کہنا یہ کہ گھٹنے ساتھ نہیں دے رہے (چلنے کا عمل محض گھٹنوں پر منحصر نہیں ہوتا)۔
    اپنی کسی کمزوری، ناکامی، غلطی کو دوسروں پر ڈال دینا، کہ فلاں کی وجہ سے ایسا ہوا ہے۔

    81. جتھے پئی پھُٹ اوتھے پئی لُٹ
    جہاں پھوٹ پڑی، وہاں لُوٹ پڑی

    82. جنہاں کھادیاں گاجراں ڈھڈ انہاں دے پیڑ
    جنہوں نے گاجریں کھائیں، ان کے پیٹ میں درد۔ گاجر ثقیل ہوتی ہے، آسانی سے ہضم نہیں ہوتی۔
    غیرمحتاط رویہ تکلیف دہ ہوا کرتا ہے۔

    83. جناں گڑ پاؤ گے اونہاں مٹھا
    اس پر پہلے بات ہو چکی
    84. جنی گوڈی اونی ڈوڈی
    اسی سے ملتی جلتی بات ہے۔ یہ فصل کے حوالے سے ہے کہ گوڈی چوکی زیادہ ہو گی تو پیداوار زیادہ ہو گی۔

    85. جیہڑا بولے اوہو کنڈی کھولے
    جو بولے گا وہی کُنڈی کھولے گا۔ اس کے پیچھے ایک خاص لمبی لوک کہانی ہے۔

    86۔ جیہدے ڈھگے ماڑے اوہدے کرم وی ماڑے
    ڈھگے: بَیل، ماڑے: کمزور، بُرے، کرم: کام اور قسمت دونوں کے معانی دیتا ہے۔
    جس کے بیل کمزور ہوں اس کی قسمت بھی کمزور ہوتی ہے۔ کاشتکاری کے ماحول سے ابھری ہوئی کہاوت ہے۔ ذرائع کی اہمیت کا بیان ہے۔

    87. خواجے دا گواہ ڈڈّو
    اس کے پیچھے ایک لوک کہانی ہے۔ ڈڈو: مینڈک۔ کسی ایسے شخص کو گواہ بنانا جس کی بات کسی کی سمجھ میں نہ آتی ہو اور اس کے کہے کو کوئی بھی معانی دئے جا سکتے ہوں۔

    89۔ نانی نے خصم کیتا بُرا کیتا،کر کے چھڈ دتا ہوروی بُرا کیتا
    نانی نے شوہر کیا (شادی کر لی) سو بُرا کِیا۔ اس سے بھی بُرا یہ کِیا کہ اسے چھوڑ دیا (طلاق لے لی)۔
    ہر کام کا ایک تو مناسب موقع محل ہوتا ہے اور ایک وہ کام کرنے والے کی حیثیت اور شناخت۔ اس سے ہٹ کے جو بھی کیا جائے، نامناسب لگتا ہے۔

    105۔ کانواں دے آکھیاں ڈھور نہیں مردے۔
    کاں: کوا، آکھیاں: کہنے پر، ڈھور: ڈنگر مویشی ۔ کوئی مویشی مر جائے تو کووں کو بھی خوب کھانے کو مل جاتا ہے۔
    کووں کے کہنے پر (چاہنے پر) مویشی نہیں مرا کرتے۔
    ایسے موقعے پر بولتے جب کوئی کسی دوسرے کے نقصان سے فائدہ حاصل کرنے کے چکر میں ہو۔

    106۔ جیہڑے ایتھے بَلھے اوہ لھور وی بَلھے۔
    بَلھا (مذکر): وہ مویشی جس کے ماتھے پر کچھ حصہ سفید ہو، باقی جسم کا رنگ کوئی اور ہو۔ یہ ایسی خوبی بھی ہو سکتی ہے خامی بھی جو نمایاں نظر آئے۔
    جو یہاں بَلھے ہیں وہ لاہور میں بھی بَلھے ہی رہیں گے۔
    آدمی کہیں بھی چلا جائے اس کی خوبیاں خامیاں چھپی نہیں رہتیں۔

    107۔ مُوت چوں مَچھیاں پھڑنا۔
    مُوت: پیشاب۔ مطلب ہے بہت تھوڑا سا پانی۔ مچھیاں: مچھلیاں ۔۔ مچھلیوں کو رہنے کے لئے بہت پانی درکار ہوتا ہے۔ اتنے تھوڑے سے پانی میں مچھلی کہاں۔
    بہت کنجوسی کے عمل پر بولتے ہیں۔

    108۔ کدیں کدائیں چور پھڑیا، اوہ نکلیا جولاہیا۔
    کدیں کدائیں: شاذ و نادر۔ پھڑیا: پکڑا، وہ جولاہا نکلا۔ یعنی گاؤں کا خدمتگار یا جسے کمی کہتے ہیں (کاف مفتوح، میم مشدد)۔
    اپنا ہی خادم کبھی کبھار کوئی نقصان پہنچا دے تو اس کو کچھ سزا نہیں بھی دیتے۔

    109۔ جِن نکل جاندا اے، جَن نہیں نکلدا۔
    جَن: وہی عربی اور اردو والا ظَن ہے، گمان۔ جِن کا نکل جانا: کسی مصیبت کا ٹل جانا۔
    مصیبت آ کر ٹل بھی جائے تو دھڑکا لگا رہتا ہے۔

    110۔ ہن بہہ موٹھاں دی چھانویں۔
    چھاں: سایہ، چھانویں: سائے میں۔ ہن: اب۔ موٹھ: موٹھ کی دال بہت معروف تھی کبھی، اب تو تقریباً ناپید ہے۔ اس کا پودا بہت چھوٹا اور جھاڑی جیسا ہوتا ہے۔ اتنے چھوٹے سے پودے کا سایہ ہوتا ہی کتنا ہے اور وہ بھی اس کے اپنے وجود کے نیچے۔ بہہ: بیٹھو۔
    اب موٹھ کے سائے میں بیٹھو۔ مفہوم: اب کچھ نہیں بچا، یا کچھ نہیں ہو سکتا، اب بھگتو؛ وغیرہ وغیرہ۔

    111۔ آندراں بھکھیاں تے مچھاں تے چول (چاول)
    آندراں: آنتیں، بھوکی، مچھاں تے: مونچھوں پر ۔ پیٹ خالی ہے مونچھوں پر چاول لگے ہوئے ہیں۔
    کوئی غریب و نادار شخص خود کو مال دار ظاہر کرے۔

    112-آئی تے روزی نئیں تے روزہ
    مل گئی تو روزی نہ ملی تو روزہ (فاقہ یا بہت کم کھانے کو ملنا)۔ جس کا گزارہ اس کی روز کی روز مگر محدود کمائی پر ہو۔

    113-اکڑ پھوں تے فٹے منہ۔
    آکڑ پھوں: اردو میں اکڑپھوں کہتے ہیں، فٹے منہ: لعنت، گالی، اہانت، نفرت کا اظہار
    مغرور شخص کو توہین کا سامنا ہوتا ہے، یا اس سے عام لوگ نفرت کرتے ہیں۔

    114-اپنا گڑ وی شریکاں کولوں چوری کھائی دا اے
    شریک: دیہی ثقافت میں ایک دادے کی نرینہ اولاد اور ان کی نرینہ اولادوں کو کہتے ہیں۔ وہ لوگ جو کسی نہ کسی طور بزرگوں کے وراثت اور ترکے میں شریک ہوتے ہیں، اس بناء پر ان میں باہمی رقابت کا جذبہ پایا جاتا ہے باوجودے کہ وہ معاشرتی معاملات میں ایک دوسرے کے ساتھ شریک بھی رہتے ہیں، اور خود کو برتر ثابت کرنے کے مواقع کی تلاش میں رہتے ہیں۔ اس صورتِ حال کے لئے لفظ "شریکا" بولا جاتا ہے۔ فلاں اور فلاں کا شریکا ہے یار، وہ ایک دوجے سے پیچھے نہیں رہیں گے۔
    گُڑ چاہے اپنا ہو اسے کھاتے بھی شریکوں کو خبر نہ ہو۔ مناقشانہ احتیاط کے لئے کہتے ہیں۔

    115-اتوں آلے بھولے تے وچوں اَگ دے گولے
    آلے بھولے ۔۔ معصوم بچے ۔ اتوں: اوپر اوپر سے، ظاہراً، وچوں: اندر سے، در اصل، در حقیقت۔ اوپر سے معصوم اور اندر سے بہت خطرناک۔ منافقت کا طعنہ دینا۔

    116۔ستے کتے نوں وٹا نئیں ماری دا
    سُتا: سویا ہوا۔ وٹا: پتھر ۔ سوئے ہوئے کتے کو پتھر نہیں مارا کرتے۔

    117-دھی دھریک تے پتر امب
    دھی: بیٹی، دھریک: ایک کڑوا درخت ہے، اس کو بعض علاقوں میں بکائین بھی کہتے ہیں۔ اَمب: آم۔ بیٹی کی مثال دھریک کی سی ہے اور بیٹے کی آم کی سی۔
    اس کہاوت سے متفق ہونے یا نہ ہونے سے قطع نظر، اس میں ایمائیت کمال کی ہے۔
    دھریک: بہت جلد بڑھنے والا پودا ہے، دو تین سال میں پورا درخت بن جاتا ہے اور چھاؤں بھی خوب دیتا ہے۔ اس کی ہر چیز کڑوی ہوتی ہے، جڑ، لکڑی، چھال، پتے، پھول، دھرکونے (بیچ کی گٹھلیاں) سب کڑوے۔ بکری اس کو شوق سے کھاتی ہے۔ دھریک کی طبی اہمیت بھی بہت ہے۔ اس میں زخموں کو جلد مندمل کرنے والے اور جراثیم کُش اجزا ہوتے ہیں۔
    آم: عرفِ عام میں پھلوں کا بادشاہ ہے۔ اس کی سینکڑوں قسمیں ہیں جو رنگ، مہک، ذائقے اور دیگر خصوصیات کی بناء پر ممتاز ہیں۔ آم کا اچار بھی بناتے ہیں، مربے، چٹنیاں، جَیم وغیرہ بھی۔ یہ صحت بخش اور قوت بخش پھل ہے، یعنی اس کی غذائی اہمیت بہت ہے۔ اور ہاں ۔۔۔ "گٹھلیاں تو ہوتی ہیں، ہر طرح کے آموں میں" ۔۔۔ اس طرح تو ہوتا ہے ۔۔ ۔۔
    ان دونوں کا موازنہ کرنے سے بات زیادہ کھل سکتی ہے۔

    118-ڈانگ ماریاں پانی دو نئیں ہو جاندا
    ڈانگ: پہلے بیان ہو چکا۔ بڑا سا ڈنڈا ہوتا ہے۔ پانی میں ڈنڈا مارنے وہ دو الگ الگ حصوں میں نہیں بٹ جاتا، مائعات اپنی سطح ہموار رکھتے ہیں۔
    باہمی محبت، ایکتا اور بھائی چارے میں حادثاتی طور پر کوئی رنجش ہو بھی جائے تو تادیر قائم نہیں رہتی۔

    119-پروٹھا کہن نال ڈھڈ نہیں بھردا
    پراٹھا کہنے سے پیٹ نہیں بھرتا۔ کسی کی محنت کا عوضانہ دینے کی بجائے کوئی شکریہ قسم کے الفاظ یا تعریفی کلمات پر ٹرخائے، تب کہتے ہیں۔

    120-تاولا سو باولا۔
    تاولا: جلدی کرنے والا، یا جو جلدی میں ہو ۔۔ باولا: باؤلا ۔ نیم پاگل، پاگل۔ جلدبازی پاگل پن ہے۔
     
    زنیرہ عقیل اور آصف احمد بھٹی .نے اسے پسند کیا ہے۔
  5. آصف احمد بھٹی
    آف لائن

    آصف احمد بھٹی ناظم خاص سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏27 مارچ 2011
    پیغامات:
    40,593
    موصول پسندیدگیاں:
    6,028
    ملک کا جھنڈا:
    بہت خوب ۔ ۔ ۔ آسی صاحب یقینا علیم کا بحر ذخار ہیں ۔ ۔ ۔
     
    سید شہزاد ناصر نے اسے پسند کیا ہے۔
  6. سید شہزاد ناصر
    آف لائن

    سید شہزاد ناصر ناظم سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏24 مئی 2015
    پیغامات:
    1,459
    موصول پسندیدگیاں:
    2,245
    ملک کا جھنڈا:
    آپ نے میرے منہ کی بات چھین لی
    انہوں نے کچھ فارسی کلام کا منظوم پنجابی ترجمہ کیا ہے جو کبھی شریک کروں گا
     
    آصف احمد بھٹی نے اسے پسند کیا ہے۔
  7. آصف احمد بھٹی
    آف لائن

    آصف احمد بھٹی ناظم خاص سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏27 مارچ 2011
    پیغامات:
    40,593
    موصول پسندیدگیاں:
    6,028
    ملک کا جھنڈا:
    انتظار رہے گا ۔ ۔ ۔
     
    سید شہزاد ناصر نے اسے پسند کیا ہے۔

اس صفحے کو مشتہر کریں