1. اس فورم پر جواب بھیجنے کے لیے آپ کا صارف بننا ضروری ہے۔ اگر آپ ہماری اردو کے صارف ہیں تو لاگ ان کریں۔

پروین شاکر

'اردو ادب و شعر و شاعری' میں موضوعات آغاز کردہ از سيد خادم سبحان ڈاڈاھی, ‏7 جون 2017۔

  1. سيد خادم سبحان ڈاڈاھی
    آف لائن

    سيد خادم سبحان ڈاڈاھی ممبر

    شمولیت:
    ‏6 جون 2017
    پیغامات:
    10
    موصول پسندیدگیاں:
    6
    ملک کا جھنڈا:
    شعر
    جب حرف ناشناس یہاں لفظ فہم ہیں
    کیوں ذوق شعر دے کے ، تماشہ کیا مجھے

    پروین شاکر
     
    پاکستانی55 نے اسے پسند کیا ہے۔
  2. ناصر إقبال
    آف لائن

    ناصر إقبال ممبر

    شمولیت:
    ‏6 دسمبر 2017
    پیغامات:
    1,670
    موصول پسندیدگیاں:
    346
    ملک کا جھنڈا:
    وہ جب سے شہر خرابات کو روانہ ہُوا
    براہِ راست مُلاقات کو زمانہ ہُوا
    وہ شہر چھوڑ کے جانا تو کب سے چاہتا تھا
    یہ نوکری کا بُلاوا تو اِک بہانہ ہوا
    خُدا کرے تری آنکھیں ہمیشہ ہنستی رہیں
    یہ آنکھیں جن کو کبھی دُکھ کا حوصلہ نہ ہُوا
    کنارِ صحن چمن سبز بیل کے نیچے
    وہ روز صبح کا مِلنا تو اَب فسانہ ہُوا
    میں سوچتی ہوں کہ مُجھ میں کمی تھی کِس شے کی
    کہ سب کا ہوکے رہا وہ، بس اِک مرا نہ ہُوا
    کِسے بُلاتی ہیں آنگن کی چمپئی شامیں
    کہ وہ اَب اپنے نئے گھر میں بھی پرانا ہُوا
    دھنک کے رنگ میں ساری تو رنگ لی میں نے
    اب یہ دُکھ ، کہ پہن کرکِسے دِکھاناہُوا
    میں اپنے کانوں میں بیلے کے پُھول کیوں پہنوں
    زبانِ رنگ سے کِس کو مُجھے بُلانا ہُوا
     
  3. زنیرہ عقیل
    آف لائن

    زنیرہ عقیل ممبر

    شمولیت:
    ‏27 ستمبر 2017
    پیغامات:
    20,118
    موصول پسندیدگیاں:
    9,332
    ملک کا جھنڈا:
    اب کس کا جشن مناتے ہو، اس دیس کا جو تقسیم ہوا

    اب کس کے گیت سناتے ہو، اس تن من کا جو دونیم ہوا

    اس خواب کا جو ریزہ ریزہ ان آنکھوں کی تقدیر ہوا

    اس نام کا جو ٹکڑا ٹکڑا گلیوں میں بے توقیر ہوا

    اس پرچم کا جس کی حرمت بازاروں میں نیلام ہوئی

    اس مٹی کا جس کی حرمت منسوب عدو کے نام ہوئی

    اس جنگ کو جو تم ہار چکے، اس رسم کا جو جاری بھی نہیں

    اس زخم کا جو سینے پہ نہ تھا، اس جان کا جو واری بھی نہیں

    اس خون کا جو بدقسمت تھا راہوں میں بہا یا تن میں رہا

    اس پھول کا جو بے قیمت تھا، آنگن میں کھلا یا بن میں رہا

    اس مشرق کا جس کو تم نے نیزے کی انی، مرہم سمجھا

    اس مغرب کا جس کو تم نے جتنا بھی لوٹا، کم سمجھا

    ان معصوموں کا جن کے لہو سے تم نے فروزاں راتیں کیں

    یا ان مظلوموں کا جس سے خنجر کی زباں میں باتیں کیں

    اس مریم کا جس کی عفت لٹتی ہے بھرے بازاروں میں

    اس عیسیٰ کا جو قاتل ہے اور شامل ہے غم خواروں میں

    ان نوحہ گروں کا جس نے ہمیں خود قتل کیا خود روتے ہیں

    ایسے بھی کہیں دم ساز ہوئے، ایسے جلاد بھی ہوتے ہیں

    ان بھوکے ننگے ڈھانچوں کا جو رقص سر بازار کریں

    یا ان ظالم قزاقوں کا جو بھیس بدل کر وار کریں

    یا ان جھوٹے اقراروں کا جو آج تلک ایفا نہ ہوئے

    یا ان بے بس لاچاروں کا جو اور بھی دکھ کا نشانہ ہوئے

    اس شاہی کا جو دست بدست آئی ہے تمہارے حصے میں

    کیوں ننگ وطن کی بات کرو، کیا رکھا ہے اس قصے میں

    آنکھوں میں چھپائے اشکوں کو، ہونٹوں میں وفا کے بول لیے

    پروین شاکر
     
  4. زنیرہ عقیل
    آف لائن

    زنیرہ عقیل ممبر

    شمولیت:
    ‏27 ستمبر 2017
    پیغامات:
    20,118
    موصول پسندیدگیاں:
    9,332
    ملک کا جھنڈا:
    خواب،آنکھوں کی عبادت ہیں

    گئی رات کے سناٹے میں

    اپنے ہونے کا یقیں بھی ہیں

    گُل و نغمہ کا اثبات بھی ہیں

    خواب کے رنگ دھنگ سے بڑھ کر

    کبھی پلکوں پہ ستارہ،کبھی آنکھوں میں سحاب

    کبھی رُخسار پہ لالہ،کبھی ہونٹوں پہ گلاب

    کبھی زخموں کا،کبھی خندۂ گل کا موسم

    کبھی تنہائی کا چاند اور کبھی پچھلے پہر کی شبنم

    خواب،جو تجزیۂ ذات ہوئے

    ان کو جب فرد کی نیندوں کی نفی کر کے لکھا جائے

    تو اک قوم کا ناقابل تردید تشخص بن جائیں !

    وہ خزاں زاد تھا

    اور بنتِ بہار

    اُس کی آنکھوں کے لیے خوابِ حیات

    اپنے اس خواب کی تقدیس بچانے کے لئے

    وہ اماوس کی گھنی راتوں میں

    رت جگا کرتا رہا

    اورایسے،کہ نیا موسمِ گُل آیاتوسب نے دیکھا

    جھلملاتے ہُوئے اِک تارے کی اُنگلی تھامے

    چاند پرچم پہ اُتر آیا ہے

    سنگریزوں میں گلاب اُگتے ہیں

    شہرِ آذر میں اذاں گونجتی ہے

    خوشبو آزاد ہے

    جنگل کی ہَوا بن کے سفر کرتی ہے

    نئی مٹی کا،نئی خواب زمینوں کا سفر

    یہ سفر____رقصِ زمیں ،رقصِ ہَوا،رقصِ محبت ہے

    جواَب لمحہ موجود تک آ پہنچاہے

    پروین شاکر
     
  5. زنیرہ عقیل
    آف لائن

    زنیرہ عقیل ممبر

    شمولیت:
    ‏27 ستمبر 2017
    پیغامات:
    20,118
    موصول پسندیدگیاں:
    9,332
    ملک کا جھنڈا:
    اُجلے آج کی سّچائی کو

    مَیلی کل کی دُھندلاہٹ میں

    کیا اوروں کی صُورت تم بھی پرکھو گے ؟

    خیر___تمھاری مرضی

    لیکن اِتنا دھیا ن میں رکھنا

    سُور ج پر بھی رات کی ہم آغوشی کا الزام رہا ہے

    پروین شاکر
     
  6. زنیرہ عقیل
    آف لائن

    زنیرہ عقیل ممبر

    شمولیت:
    ‏27 ستمبر 2017
    پیغامات:
    20,118
    موصول پسندیدگیاں:
    9,332
    ملک کا جھنڈا:
    اپنے بستر پہ بہت دیر سے میں نیم دراز

    سوچتی تھی کہ وہ اس وقت کہاں پر ہو گا

    میں یہاں ہوں مگر اُس کوچہ رنگ وبُو میں

    روز کی طرح سے وہ آج بھی آیا ہ وگا

    اور جب اُس نے وہاں مُجھ کو نہ پایا ہو گا!؟

    آپ کو عِلم ہے، وہ آج نہیں آئی ہیں ؟

    میری ہر دوست سے اُس نے یہی پُوچھا ہو گا

    کیوں نہیں آئی وہ کیا بات ہُوئی ہے آخر

    خُود سے اِس بات پہ سو بار وہ اُلجھا ہو گا

    کل وہ آئے گی تو میں اُس سے نہیں بولوں گا

    آپ ہی آپ کئی بار وہ رُوٹھا ہو گا

    وہ نہیں ہے تو بلندی کا سفر کتنا کٹھن

    سیڑھیاں چڑھتے ہُوئے اُس نے یہ سوچا ہو گا

    راہداری میں ، ہرے لان میں ،پُھولوں کے قریب

    اُس نے ہر سمت مُجھے آن کے ڈھونڈا ہو گا

    نام بُھولے سے جو میرا کہیں آیا ہو گا

    غیر محسوس طریقے سے وہ چونکا ہو گا

    ایک جملے کو کئی بار سُنایا ہو گا

    بات کرتے ہُوئے سو بار وہ بُھولا ہو گا

    یہ جو لڑکی نئی آئی ہے،کہیں وہ تو نہیں

    اُس نے ہر چہرہ یہی سوچ کے دیکھا ہو گا

    جانِ محفل ہے، مگر آج، فقط میرے بغیر

    ہائے کس درجہ وہی بزم میں تنہا ہو گا

    کبھی سناٹوں سے وحشت جو ہُوئی ہو گی اُسے

    اُس نے بے ساختہ پھر مُجھ کو پُکارا ہو گا

    چلتے چلتے کوئی مانوس سی آہٹ پاکر

    دوستوں کو بھی کسی عُذر سے روکا ہو گا

    یاد کر کے مجھے، نَم ہو گئی ہوں گی پلکیں

    ’’آنکھ میں پڑ گیا کچھ‘‘ کہہ کے یہ ٹالا ہو گا

    اور گھبرا کے کتابوں میں جو لی ہو گئی پناہ

    ہر سطر میں مرا چہرہ اُبھر آیا ہو گا

    جب ملی ہوئی اسے میری علالت کی خبر

    اُس نے آہستہ سے دیوار کو تھاما ہو گا

    سوچ کہ یہ، کہ بہل جائے پریشانی دل

    یونہی بے وجہ کسی شخص کو روکا ہو گا!

    اتفاقاً مجھے اُس شام مری دوست ملی

    مَیں نے پُوچھا کہ سنو۔آئے تھے وہ۔کیسے تھے؟

    مُجھ کو پُوچھا تھا؟مُجھے ڈُھونڈا تھا چاروں جانب؟

    اُس نے اِک لمحے کو دیکھا مجھے اور پھر ہنسی دی

    اس ہنسی میں تو وہ تلخی تھی کہ اس سے آگے

    کیا کہا اُس نے ۔۔ مُجھے یاد نہیں ہے لیکن

    اِتنا معلوم ہے ،خوابوں کا بھرم ٹُوٹ گیا

    پروین شاکر
     
  7. زنیرہ عقیل
    آف لائن

    زنیرہ عقیل ممبر

    شمولیت:
    ‏27 ستمبر 2017
    پیغامات:
    20,118
    موصول پسندیدگیاں:
    9,332
    ملک کا جھنڈا:
    اتنے اچھے موسم میں

    روٹھنا نہیں اچھا

    ہار جیت کی باتیں

    کل پہ ہم اُٹھا رکھیں

    آج دوستی کر لیں !!!

    پروین شاکر
     
  8. ناصر إقبال
    آف لائن

    ناصر إقبال ممبر

    شمولیت:
    ‏6 دسمبر 2017
    پیغامات:
    1,670
    موصول پسندیدگیاں:
    346
    ملک کا جھنڈا:
    وہ مجبوری نہیں تھی یہ اداکاری نہیں ہے
    مگر دونوں طرف پہلی سی سرشاری نہیں ہے


    بہانے سے اسے بس دیکھ آنا پل دو پل کو

    یہ فرد جرم ہے اور آنکھ انکاری نہیں ہے

    میں تیری سرد مہری سے ذرا بددل نہیں ہوں

    مرے دشمن ترا یہ وار بھی کاری نہیں ہے

    میں اس کے قول پر ایمان لا کر خوف میں ہوں

    کہیں لہجے میں تو ظالم کے عیاری نہیں ہے

    پروین شاکر
     
  9. زنیرہ عقیل
    آف لائن

    زنیرہ عقیل ممبر

    شمولیت:
    ‏27 ستمبر 2017
    پیغامات:
    20,118
    موصول پسندیدگیاں:
    9,332
    ملک کا جھنڈا:
    بخت سے کوئی شکایت نہ افلاک سے ہے
    یہی کیا کم ہے کہ نسبت مجھے اس خاک سے ہے
     
  10. ناصر إقبال
    آف لائن

    ناصر إقبال ممبر

    شمولیت:
    ‏6 دسمبر 2017
    پیغامات:
    1,670
    موصول پسندیدگیاں:
    346
    ملک کا جھنڈا:
    اک ہنر تھا کمال تھا کیا تھا
    مجھ میں تیرا جمال تھا کیا تھا

    تیرے جانے پہ اب کے کچھ نہ کہا
    دل میں ڈر تھا ملال تھا کیا تھا

    برق نے مجھ کو کر دیا روشن
    تیرا عکس جلال تھا کیا تھا

    ہم تک آیا تو بہر لطف و کرم
    تیرا وقت زوال تھا کیا تھا

    جس نے تہہ سے مجھے اچھال دیا
    ڈوبنے کا خیال تھا کیا تھا

    جس پہ دل سارے عہد بھول گیا
    بھولنے کا سوال تھا کیا تھا

    تتلیاں تھے ہم اور قضا کے پاس
    سرخ پھولوں کا جال تھا کیا تھا

    پروین شاکر
     
  11. زنیرہ عقیل
    آف لائن

    زنیرہ عقیل ممبر

    شمولیت:
    ‏27 ستمبر 2017
    پیغامات:
    20,118
    موصول پسندیدگیاں:
    9,332
    ملک کا جھنڈا:
    جگنو کو دن کے وقت پکڑنے کی ضد کریں
    بچے ہمارے عہد کے چالاک ہو گئے

    میں سچ کہوں گی مگر پھر بھی ہار جاؤں گی
    وہ جھوٹ بولے گا اور لاجواب کر دے گا

    حسن کو سمجھنے کو عمر چاہئے جاناں
    دو گھڑی کی چاہت میں لڑکیاں نہیں کھلتیں

    وہ کہیں بھی گیا لوٹا تو مرے پاس آیا
    بات اچھی ہے یہی بس مرے ہر جائی کی

    مجھے ہر کیفیت میں کیوں نہ سمجھے
    وہ میرے سب حوالے جانتا ہے

    میں اس کی دسترس میں ہوں مگر وہ
    مجھے میری رضا سے مانگتا ہے
     
  12. ناصر إقبال
    آف لائن

    ناصر إقبال ممبر

    شمولیت:
    ‏6 دسمبر 2017
    پیغامات:
    1,670
    موصول پسندیدگیاں:
    346
    ملک کا جھنڈا:
    چراغ راہ بجھا کیا کہ رہ نما بھی گیا
    ہوا کے ساتھ مسافر کا نقش پا بھی گیا

    میں پھول چنتی رہی اور مجھے خبر نہ ہوئی

    وہ شخص آ کے مرے شہر سے چلا بھی گیا

    بہت عزیز سہی اس کو میری دل داری

    مگر یہ ہے کہ کبھی دل مرا دکھا بھی گیا

    اب ان دریچوں پہ گہرے دبیز پردے ہیں

    وہ تانک جھانک کا معصوم سلسلہ بھی گیا

    سب آئے میری عیادت کو وہ بھی آیا تھا

    جو سب گئے تو مرا درد آشنا بھی گیا

    یہ غربتیں مری آنکھوں میں کیسی اتری ہیں

    کہ خواب بھی مرے رخصت ہیں رتجگا بھی گیا
     
  13. زنیرہ عقیل
    آف لائن

    زنیرہ عقیل ممبر

    شمولیت:
    ‏27 ستمبر 2017
    پیغامات:
    20,118
    موصول پسندیدگیاں:
    9,332
    ملک کا جھنڈا:
    عکسِ شکستِ خواب بہر سُو بکھیریے
    چہرے پہ خاک ،زخم پہ خوشبو بکھیریے
    کوئی گزرتی رات کے پچھلے پہر کہے
    لمحوں کو قید کیجئے ، گیسو بکھیریے
    دھیمے سُروں میں کوئی مدھر گیت چھیڑیے
    ٹھہری ہُوئی ہَواؤں میں جادُو بکھیریے
    گہری حقیقتیں بھی اُترتی رہیں گی پھر
    خوابوں کی چاندنی تو لبِ جُو بکھیریے
    دامانِ شب کے نام کوئی روشنی تو ہو
    تارے نہیں نسصیب تو آنسو بکھیریے
    دشتِ غزال سے کوئی خوبی تو مانگیے
    شہرِ جمال میں رمِ آہو بکھیریے
    پروین شاکر
     
  14. ناصر إقبال
    آف لائن

    ناصر إقبال ممبر

    شمولیت:
    ‏6 دسمبر 2017
    پیغامات:
    1,670
    موصول پسندیدگیاں:
    346
    ملک کا جھنڈا:
    قریۂ جاں میں کوئی پھُول کھِلانے آئے
    وہ مرے دِل پہ نیا زخم لگانے آئے
    میرے ویران دریچوں میں بھی خوشبو جاگے
    وہ مرے گھر کے دَر و بام سجانے آئے
    اُس سے اِک بار تو رُوٹھوں میں اُسی کی مانند
    اور مری طرح سے وہ مُجھ کو منانے آئے
    اِسی کوچے میں کئی اُس کے شناسا بھی تو ہیں
    وہ کسی اور سے ملنے کے بہانے آئے
    اب نہ پُوچھوں گی میں کھوئے ہوئے خوابوں کا پتہ
    وہ اگر آئے تو کُچھ بھی نہ بتانے آئے
    ضبط کی شہر پناہوں کی، مرے مالک!خیر
    غم کا سیلاب اگر مجھ کو بہانے آئے
    پروین شاکر
     
    زنیرہ عقیل نے اسے پسند کیا ہے۔

اس صفحے کو مشتہر کریں