1. اس فورم پر جواب بھیجنے کے لیے آپ کا صارف بننا ضروری ہے۔ اگر آپ ہماری اردو کے صارف ہیں تو لاگ ان کریں۔

پاکستان میں تہذیب کی شروعات

'فروغِ علم و فن' میں موضوعات آغاز کردہ از intelligent086, ‏2 اکتوبر 2019۔

  1. intelligent086
    آف لائن

    intelligent086 ممبر

    شمولیت:
    ‏28 اپریل 2013
    پیغامات:
    1,442
    موصول پسندیدگیاں:
    190
    ملک کا جھنڈا:
    پاکستان میں تہذیب کی شروعات
    [​IMG]
    سبطِ حسن
    پروفیسر عبدالحمید دانی لکھتے ہیں کہ ’’انسان اوزار ساز ہونے پر مجبور ہے، انہیں اوزاروں کی مدد سے اور ان کے ارتقا سے ہم زمانہ قبل از تاریخ کے انسان کا، اس کے خیالات اور اعمال کے ارتقا کا، قدرت کے خلاف اس کی جدوجہد کا اور اپنے لیے بہتر ماحول پیدا کرنے اور سہولتیں فراہم کرنے کا… مختصر یہ کہ اس کی پوری تہذیبی تشکیل کا سراغ لگاتے ہیں۔ چنانچہ قدیم انسان کے بارے میں معلومات کا بنیادی ذریعہ اوزار ہوتے ہیں۔‘‘ یہ ابتدائی اوزار راولپنڈی سے تقریباً 10 میل کے فاصلے پر سُوان ندی کے کنارے کثیر تعداد میں دستیاب ہوئے ہیں۔ اسی لیے پاکستان کے قدیم ترین باشندوں کے لیے ’’سوانی تہذیب‘‘ کی اصطلاح استعمال ہوتی ہے۔ اوزاروں کی ساخت بتاتی ہے کہ وادیٔ سُوان (پوٹھوہار) کے لوگ ان سے کلہاڑی، گوشت کاٹنے کے چھرے اور کھال کھرچنے کا کام لیتے تھے۔ سوانی تہذیب کے ان آثار سے یہ نتیجہ اخذ کرنا چنداں دشوار نہیں ہے کہ پاکستان کے ابتدائی باشندوں کا رہن سہن اور فکرواحساس کا نظام حجری دور کے دوسرے معاشروں سے مختلف نہیں تھا۔ وہ چھوٹے چھوٹے گروہوں میں درختوں پر یا غاروں میں رہتے تھے۔ ہزارہ، پشاور اور مردان کے اضلاع میں ایسے کئی غار دریافت ہو چکے ہیں۔ مردان کے ایک غار میں تو اوزاروں کے علاوہ چولھے کے پاس جانوروں کی جلی ہوئی ہڈیاں بھی ملی ہیں۔ وہ جنگلی پھل پھول کھاتے تھے۔ جانوروں کا شکار کرتے تھے اور ان کی کھال سے اپنا تن ڈھانکتے تھے۔ وہ درندوں اور دوسرے گروہوں کے خوف سے ایک ساتھ رہتے تھے۔ ایک ساتھ شکار کرتے تھے اور پھر اسے آپس میں مل بانٹ کر کھاتے تھے۔ البتہ ہم ان آثار کی مدد سے یہ نہیں بتا سکتے کہ سوانی تہذیب کے لوگ کس نسل سے تعلق رکھتے تھے۔ کون سی زبان بولتے تھے۔ ان کا رنگ کیسا تھا اور ان کے چہرے کی بناوٹ کیا تھی۔ یہ پہلا حجری دور کب ختم ہوا اور پوٹھواریوں نے کھیتی باڑی کب شروع کی، ان سوالات کے جواب کے لیے ہمیں شاید انتظار کرنا پڑے۔ پاکستان میں دوسرا حجری دور کھیتی باڑی سے شروع ہوا۔ کھیتی باڑی انسان کا نہایت انقلاب آفریں تجربہ تھا بلکہ یہ کہنا زیادہ صحیح ہو گا کہ اس فن کی ایجاد ہی کی بدولت انسان انسان کہلانے کا مستحق ہوا۔ زراعت کا فن سیکھنے کے بعد وہ اپنی ضروریات زندگی خود پیدا کرنے لگا۔ اس طرح انسان کو اپنی ذاتی صلاحیتوں کا شعور ہوا اور وہ اپنی تخلیقی قوتوں سے کام لے کر اپنے لیے ایک جہان تازہ پیدا کرنے پر قادر ہوا۔ پہلے حجری دور کے ذہنی اور حسی محرکات کا محور اگر انسانوں اور جانوروں کی افزائش نسل کی آرزو تھی تو دوسرے حجری دور کے رسوم و افسوں کا محرک افزائش نسل اور افزائش فصل کے تقاضے تھے۔ انہیں تقاضوں کی تکمیل کے دوران میں بلوچستان کے کاشت کاروں نے دھات کا استعمال معلوم کر لیا۔ تب ہم دیہی تہذیب سے ترقی کر کے وادیٔ سندھ کی شہری تہذیب تک پہنچ گئے۔ تہذیب نے تمدن کا لباس فاخرہ زیب تن کر لیا اور طبقات میں بٹ گئی۔ محققین نے سوانی تہذیب اور موہن جو ڈرو؍ہڑپہ کی شہری تہذیب کے درمیان چار دیہی یا زرعی تہذیبیں دریافت کی ہیں۔ ان تہذیبوں میں بعض باتیں مشترک ہیں اور بعض باتیں فرق ہیں۔ مثلاً زراعت ان کی مشترکہ خصوصیت تھی۔ وہ کھیت جوتنے کے لیے ہل اور کدال، جن کے پھل نوکیلے پتھر کے ہوتے تھے، استعمال کرتے تھے۔ وہ جَو، گیہوں اور دالیں بوتے تھے۔ فصل پتھر کی ہنسیوں سے کاٹتے تھے اور اناج کو پتھر کی چکیوں میں پیستے تھے۔ انہیں پتھر کے چاک پر مٹی کے نقشی برتن بنانے اور ان برتنوں کو آگ میں پکانے کا ہنر بھی آتا تھا۔ ان کی بستیوں کا رقبہ زیادہ سے زیادہ ڈھائی ایکڑ ہوتا تھا۔ … سندھ اور بلوچستان کے آثار قدیمہ سے پتہ چلتا ہے کہ اس خطے کے لوگ موہن جو دڑو؍ہڑپہ تہذیب سے پیشتر بہت ترقی یافتہ تھے بلکہ موہن جو دڑو والوں نے بعض باتیں انہیں سے سیکھی تھیں۔ موہن جو دڑو؍ہڑپہ کی تہذیب کو عرف عام میں وادیٔ سندھ کی تہذیب کہتے ہیں۔ یہ پاکستان میں کانسی کے دور کا نقطۂ عروج تھی۔ یہ تہذیب کوہ ہمالیہ کے دامن سے کاٹھیاواڑ تک اور کوئٹہ سے راجپوتانہ تک پھیلی ہوئی تھی۔ یہ دنیا کی سب سے بڑی تہذیبی تھی کیونکہ اس کا دائرہ ہم عصر مصری، سومیری اور ایرانی تہذیبوں سے کہیں زیادہ وسیع تھا۔ یہ تہذیب تقریباً ایک ہزار برس تک بڑی آن بان سے زندہ رہی۔ اس کے آثار میں دو بڑے شہر موہن جو دڑو اور ہڑپہ ہیں۔ بقیہ چھوٹی چھوٹی بستیاں جو پورے سندھ، پنجاب اور بلوچستان میں پھیلی ہوئی ہیں۔ موہن جو دڑو دریائے سندھ کے کنارے آباد تھا اور ہڑپہ دریائے راوی کے کنارے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ دونوں شہر وادیٔ سندھ کے دارالسلطنت تھے۔ موہن جو دڑو تجارتی بندرگاہ بھی تھا جس کی آبادی ایک لاکھ کے لگ بھگ تھی۔ آج کل کی طرح اس زمانے میں وادیٔ سندھ کے باشندوں کی غالب اکثریت گاؤں میں رہتی اور کھیتی باڑی کرتی تھی۔ یہ لوگ جَو، گیہوں، رائی اور تِل کی کاشت کرتے تھے۔ گائے، بیل، بھینس، بھیڑ، بکری، اونٹ، گھوڑے، گدھے اور کتے پالتے تھے۔ کپاس اگاتے اور سوت کے کپڑے پہنتے تھے۔ کپاس ان کی اجارہ داری تھی چنانچہ وہ بھی ہمارے طرح کپاس اور سوتی سامان دساور بھیج کر زرمبادلہ کماتے تھے۔ وادیٔ سندھ کے برتن بھانڈے عموماً مٹی کے ہوتے تھے۔ اسی وضع کے جیسے آج کل بنتے ہیں۔ حتیٰ کہ ان کے نقش و نگار میں تین ہزار برس گزر جانے کے بعد بھی فرق نہیں آیا۔ ان لوگوں کو سونے، چاندی، تانبا، ٹن اور جست کو گلا کر اوزار اور زیورات بنانا آتا تھا۔ اونچے طبقے کی عورتوں کو آرائش و زیبائش کا بڑا شوق تھا، چنانچہ ہڑپہ اور موہن جو دڑو سے سونے چاندی کے بکثرت ہار، مالائیں، گلوبند، کڑے، جھومر، کرن پھول، ناک کی کیلیں اور سرمہ دانیاں ملی ہیں۔ کانسی کے آلات میں کلہاڑیاں، استرے، چاقو اور بلم بھالوں کے چھوٹے چھوٹے پھل دستیاب ہوئے ہیں۔ البتہ ڈھال تلوار، خود، زرہ بکتر یعنی جنگی اسلحہ ایک بھی نہیں ملا۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ وادیٔ سندھ کا معاشرہ محفوظ معاشرہ تھا۔ لوگ بڑے امن پسند اور صلح جُو تھے۔ لوٹ مار، قتل و غارت گری ان کا شیوہ نہ تھا۔​
     

اس صفحے کو مشتہر کریں