1. اس فورم پر جواب بھیجنے کے لیے آپ کا صارف بننا ضروری ہے۔ اگر آپ ہماری اردو کے صارف ہیں تو لاگ ان کریں۔

وزیراعظم عمران خان کا دورہ ملائیشیا، بھارتی فضائی حدود استعمال نہ کرنے کا فیصلہ

'خبریں' میں موضوعات آغاز کردہ از intelligent086, ‏3 فروری 2020۔

  1. intelligent086
    آف لائن

    intelligent086 ممبر

    شمولیت:
    ‏28 اپریل 2013
    پیغامات:
    3,731
    موصول پسندیدگیاں:
    537
    ملک کا جھنڈا:
    وزیراعظم عمران خان کا دورہ ملائیشیا، بھارتی فضائی حدود استعمال نہ کرنے کا فیصلہ

    وزیراعظم عمران خان کے دورہ ملائیشیا کیلئے بھارتی فضائی حدود استعمال نہ کرنے فیصلہ کرتے ہوئے چینی حدود استعمال کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے دورہ ملائیشیا کیلئے بھارتی فضائی حدود نہیں بلکہ چینی حدود استعمال کرینگے۔ چین کی فضائی حدود استعمال کرنے سے وزیراعظم کا سفر 4گھنٹے مزید طویل ہو جائے گا۔
    خیال رہے کہ وزیراعظم کے ہمراہ اعلیٰ سطح کا وفد بھی ملائیشیا روانہ ہوگا۔ پاکستان اور ملائیشیا کے درمیان وفود کی سطح پر مذاکرات 4 فروری کو ہوں گے۔ دورے میں دونوں ممالک کے درمیان مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے جائیں گے۔

    ترجمان وزیراعظم آفس کے مطابق عمران خان کی ملائیشین ہم منصب مہاتیر محمد سے ون آن ون ملاقات ہوگی۔ وزیراعظم ملائیشیا کے انسٹی ٹیوٹ آف سٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل سٹڈیز کے زیر اہتمام ایک تقریب سے بھی خطاب کریں گے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ وزیراعظم کا دورہ دونوں ممالک کے مابین مضبوط تعلقات اور سٹریٹجک شراکت داری کو مزید تقویت دینے کی علامت ہے۔ اگست 2018ء میں وزارت عظمیٰ سنبھالنے کے بعد یہ وزیراعظم عمران خان کا ملائیشیا کا دوسرا دورہ ہے۔

    اس سے قبل وزیراعظم عمران خان نے نومبر 2018ء میں ملائشیا کا دورہ کیا تھا جبکہ ملائیشین وزیراعظم مہاتیر محمد نے گزشتہ برس مارچ 2019ء میں پاکستان کا دورہ کیا تھا۔دونوں وزرائے اعظم نے ستمبر 2019ء میں نیویارک میں اقوام متحدہ کے جنرل اسمبلی اجلاس کے موقع پر بھی ملاقات کی تھی۔ دونوں ممالک کی قیادت کے وژن کے مطابق حالیہ برسوں میں دو طرفہ تعلقات مزید گہرے ہوئے ہیں۔دونوں ممالک کے مابین تجارت، سرمایہ کاری، صنعت، دفاع، تعلیم اور مختلف بین الاقوامی فورموں میں قریبی تعاون کا آغاز ہوا ہے۔ وزیراعظم عمران خان اپنے دورے میں مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کو اجاگر کریں گے جبکہ علاقائی امن واستحکام کے لیے خطرات کو روکنے کی اہمیت پر بھی زور دیں گے۔​
     

اس صفحے کو مشتہر کریں