1. اس فورم پر جواب بھیجنے کے لیے آپ کا صارف بننا ضروری ہے۔ اگر آپ ہماری اردو کے صارف ہیں تو لاگ ان کریں۔

واقعہ ءمعراج اور مقامِ عبدیت محمدی

'سیرتِ سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم' میں موضوعات آغاز کردہ از برادر, ‏17 جولائی 2008۔

  1. برادر
    آف لائن

    برادر ممبر

    شمولیت:
    ‏21 اپریل 2007
    پیغامات:
    1,227
    موصول پسندیدگیاں:
    78
    مقام عبدیت​


    اللہ رب العزت کائنات ارض و سماوات کا خالق ہے۔ ہر چیز اس کے دائرہ قدرت میں ہے۔ اس نے معراج کی شب اپنے بندے اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر عنایات کی بارش کر دی اور اسے وہ عظمت عطا کی جو آج تک نہ کسی رسول کا مقدر بن سکی اور نہ قیامت تک بن سکے گی۔

    اس مقام پر پہنچ کر جہاں تمام دوریاں ختم ہو گئی تھیں قرآن زبان حال سے یوں گویا ہوا۔

    فَاَوْحَى اِلَى عَبْدِہِ مَا اَوْحَىO (النجم، 53 : 10)
    پھر (اللہ رب العزت نے بلاواسطہ) اپنے بندہ کو جو وحی فرمانا تھا فرمائی (جو دینا تھا دیا جو بتانا تھا بتایا)

    معلوم ہوا کہ مخلوق میں عبدیت سے بہتر کوئی مقام نہیں
    مگر افسوس کہ آج لوگ اسی پر جھگڑتے پھرتے ہیں۔ اے کاش! انہیں حقیقت عبدیت سمجھ آ جاتی۔

    متاع بے بہا ہے درد و سوز آرزو مندی
    مقام بندگی دے کر نہ لوں شان خداوندی

    عقیدہ توحید اور واقعہ معراج

    عقیدہ توحید مومن کے ایمان کا مرکز و محور ہے۔ شرک کا سایہ بھی انسان کو دائرہ ایمان سے خارج کر دیتا ہے۔ سفر معراج حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ایک معجزہ ہے اور معجزہ رب کائنات کی قدرت مطلقہ کا مظہر ہوتا ہے۔ سفر معراج میں بھی توحید ربانی کے پرچم ہر طرف دکھائی دیتے ہیں۔ آدم سے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک تمام انبیاء جس آسمانی ہدایت کے ساتھ مبعوث ہوتے رہے اس کا مرکزی نقطہ بھی توحید ہی تھا کہ وہی ذات بندگی کے لائق ہے اور اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ وہ وحدہ لاشریک ہے، کوئی اس کا ہمسر ہے نہ ثانی، نہ اس کی کوئی انتہا ہے اور نہ ابتداء ہے۔ وہ ازل سے ہے اور ابد کے بعد بھی وہی ہے۔ جب کچھ نہ تھا تو وہ تھا جب کچھ نہ ہو گا تو پھر بھی اس کی ذات یکتا و تنہا ہو گی۔ اس ذات کو نہ اونگھ ہے نہ زوال، وہ ہر حاجت سے پاک اور مبرا ہے اور وہ ہر کسی کا حاجت روا ہے۔

    امم سابقہ نے اکثر و بیشتر مسئلہ توحید کے بارے میں ٹھوکر کھائی ہے۔ ان کے اکثر افراد (الا ماشاء اللہ) نے اپنے نبی کو اس کے کمالات و روحانی تصرفات دیکھ کر الوہیت کے درجہ پر پہنچا دیا۔ ان میں سے کسی نے نبی کو خدا کا بیٹا کہا اور کوئی تمثلیث کا قائل ہو گیا۔ گویا نبی کو مقام نبوت سے ہٹا کر خدا کا شریک ٹھہرا لیا تاہم امت مصطفوی کو یہ شرف و افتخار حاصل ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عطا کردہ عقیدہ توحید کی تعلیم ان کے قلوب و اذہان میں اس درجہ راسخ ہو گئی کہ اس پر شرک کی گرد پڑنے کا بھی کوئی احتمال باقی نہ رہا۔

    اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو قرب کا انتہائی مقام تفویض کر کے ارشاد ہوتا ہے اوحی الی عبدہ ما اوحی ’’ہم نے اپنے بندے کی طرف وحی کی‘‘

    اللہ اللہ! بندگی کا کیا مقام ہے کہ خدائی کا مختارِ کُل بنا دیا جائے، سارے الوہی خزانوں کی کنجیاں محبوب کے ہاتھوں میں تھما دی جائیں، جہاں تک اپنی شانِ ربوبیت ہو وہاں وہاں تک محبوب کو رحمت اللعلمینی کا تاج پہنا دیا جائے، مقامِ قاب قوسین اوادنی پر بلا کر جلوہء مطلق سے بہرہ یاب کر دیا جائے۔۔۔ اور پھر بھی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم " بندہ" ہی رہے۔ عقیدہ توحید میں کسی قسم کے خلجان اور التباس کی کوئی گنجائش نہیں کہ خالصیت اور عبدیت کے فاصلے کا پاٹنا ناممکنات میں سے ہے۔ اس فاصلے کو برقرار رکھنا بہرحال ناگزیر ہے۔


    ماخوذ از : معراج مصطفیٰ اور شانِ‌عبدیت
    شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری
     
    عبدالرحمن حاجی خانی زمان نے اسے پسند کیا ہے۔
  2. ھارون رشید
    آف لائن

    ھارون رشید برادر سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏5 اکتوبر 2006
    پیغامات:
    130,796
    موصول پسندیدگیاں:
    16,618
    ملک کا جھنڈا:
    جزاک اللہ برادر صاحب
     
  3. نعیم
    آف لائن

    نعیم مشیر

    شمولیت:
    ‏30 اگست 2006
    پیغامات:
    58,062
    موصول پسندیدگیاں:
    11,100
    ملک کا جھنڈا:
    جزاک اللہ برادر صاحب ! آپ نے بہت ہی ایمان افروز تحریر ارسال کی ہے۔ بلاشبہ عبدیت (اللہ تعالی کا بندہء خاص) بن جانا ایک عظیم مرتبہ ہے۔ اور ہمارے آقا ، سرکارِ دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم اس مرتبے پر اعلی ترین شان سے فائز تھے۔
     
  4. عبدالرحمن حاجی خانی زمان
    آف لائن

    عبدالرحمن حاجی خانی زمان ممبر

    شمولیت:
    ‏10 جون 2014
    پیغامات:
    78
    موصول پسندیدگیاں:
    92
    ملک کا جھنڈا:
  5. پاکستانی55
    آف لائن

    پاکستانی55 ناظم سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏6 جولائی 2012
    پیغامات:
    98,397
    موصول پسندیدگیاں:
    24,224
    ملک کا جھنڈا:
    جزاک اللہ
     

اس صفحے کو مشتہر کریں