1. اس فورم پر جواب بھیجنے کے لیے آپ کا صارف بننا ضروری ہے۔ اگر آپ ہماری اردو کے صارف ہیں تو لاگ ان کریں۔

نمبر 4: احساسِ ذمہ داری سے مثبت سوچ

'حالاتِ حاضرہ' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد اجمل خان, ‏15 اپریل 2020۔

  1. محمد اجمل خان
    آف لائن

    محمد اجمل خان ممبر

    شمولیت:
    ‏25 اکتوبر 2014
    پیغامات:
    175
    موصول پسندیدگیاں:
    163
    ملک کا جھنڈا:
    نمبر 4: احساسِ ذمہ داری سے مثبت سوچ

    دین سے دوری کا نتیجہ انسان کے ذہن میں منفی سوچ پیدا کرتا ہے۔ بعض مرد حضرات اپنے بیوی بچوں کو کہہ دیتے ہیں:
    ’’میں نہ کماؤں تو تم سب بھوکے مر جاؤ‘‘۔
    یہ منفی سوچ ہے اور خالق کو ناراض کرنے والی بات ہے۔
    سارے جہان کی پرورش کرنے والا اور سب کو رزق دینے والا اللہ تعالیٰ ہے، جیسا کہ فرمایا:

    وَمَا مِن دَابَّةٍ فِي الْأَرْضِ إِلَّا عَلَى اللَّـهِ رِزْقُهَا ۔ ۔ ۔(6) سورة هود

    ’’زمین میں چلنے والا کوئی جاندار ایسا نہیں ہے جس کا رزق اللہ کے ذمے نہ ہو‘‘ ۔ ۔ ۔(6) سورة هود

    اور یہ بھی فرمایا:

    إِنَّ اللَّـهَ هُوَ الرَّزَّاقُ ذُو الْقُوَّةِ الْمَتِينُ ﴿٥٨﴾ سورة الذاريات
    ’’بیشک اﷲ ہی رزق دینے والا ہے، بڑی قوت والا (اور) زبردست ہے‘‘(58)۔ سورة الذاريات

    ہم اور آپ تو صرف وسیلہ بنے ہوئے ہیں۔
    لہذا مثبت سوچ رکھیں۔
    اپنے رب کو چیلنج نہ کریں۔
    اور اپنی ذمہ داری کو سمجھیں۔

    فرمانِ الٰہی ہے:

    لِيُنفِقْ ذُو سَعَةٍ مِّن سَعَتِهِ ۖ وَمَن قُدِرَ عَلَيْهِ رِزْقُهُ فَلْيُنفِقْ مِمَّا آتَاهُ اللَّـهُ ۚ لَا يُكَلِّفُ اللَّـهُ نَفْسًا إِلَّا مَا آتَاهَا ۚ سَيَجْعَلُ اللَّـهُ بَعْدَ عُسْرٍ يُسْرًا ﴿٧﴾ سورة الطلاق
    ’’اور کشادگي والا اپنی کشادگي کے مطابق خرچ کرے اور جس کے رزق میں تنگی ہے وہ اسی میں سے خرچ کرے جو اللہ نے اسے دیا ہے کہ اللہ کسی نفس کو اس سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا ہے جتنا اسے عطا کیا گیا ہے، عنقر یب اللہ تنگی کے بعد آسانی اور کشادگی پیدا کرے گا‘‘(7)۔ سورۃ الطلاق

    اور رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:

    ’’تم میں سے ہر ایک ذمہ دار ہے اور اس کی ذمہ داری کے متعلق پوچھا جائے گا۔ امیر اپنی رعایا کا، مرد اپنے اہل وعیال کا، عورت اپنے شوہر کے گھر اور بچوں کی ذمہ دار ہے‘‘۔ (بخاری ومسلم)

    جب انسان اپنی ذمہ دارویوں کو سمجھتا ہے تو اسے انجام دینا آسان ہو جاتا ہے۔ اپنی بیوی، بچے اور والدین وغیرہ کی ضروریات پوری کرنا مثلا کھانا ، پینا ، رہائش وغیرہ، یہ سب کچھ آپ کی ذمہ داری ہے۔ اگر آج آپ کی رزق میں تنگی ہے تو مثبت انداز میں اپنی اخراجات کم کرنے کی اور اپنی آمدنی بڑھانے کی سوچئے۔ اگر آپ کسی اور وجہ سے پریشان ہیں تو اس کا حل ڈھونڈھئے۔ منفی سوچ کو ذہن میں لاکر اس کا غصہ اپنے گھروالوں پر نہ نکالئے۔ اور اللہ کی ناشکری اور نافرمانی کرنے سے بچئے۔

    جب آپ اپنی ذمہ دارویوں کو سمجھیں گے تو آپ میں مثبت سوچ پیدا ہوگی اور آپ کو منفی سوچ سے نجات ملے گی۔ مثبت سوچ آپ کو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرنے سے بچائے گی اور آپ کو ایک اچھا انسان بننے میں مدد دے گی۔ نتیجتاً آپ اپنے گھر والوں سے اچھے اخلاق سے پیش آ سکیں گے۔

    یاد رکھئے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
    ”تم میں سے بہتر وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے لیے بہتر ہو اور میں اپنے گھر والوں کے لیے سب سے بہتر ہوں‘‘۔ (سنن ترمذي، حدیث نمبر: 3895)

    اسی طرح آپ ﷺ نے یہ بھی فرمایا:

    ”ایمان میں سب سے کامل مومن وہ ہے جو سب سے بہتر اخلاق والا ہو، اور تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو اخلاق میں اپنی عورتوں کے حق میں سب سے بہتر ہو“۔ (سنن ترمذي، حدیث نمبر: ١١٦٢)

    لہذا سب سے بہتر اخلاق والا بننے کیلئے ہمیں اپنے گھر میں بہتر برتاؤ کرنا ضروری ہے جو کہ اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ ﷺ کا تفویض کردہ احساسِ ذمہ داری سے ہی ممکن ہے۔ جب انسان اپنی ذمہ داریوں کو سمجھتا ہے تو اس میں مثبت سوچ پیدا ہوتی ہے۔ مثبت سوچ سے کام میں لگن اور ذمہ داریوں کو پوری کرنے میں آسانی پیدا ہوتی ہے۔

    لہذا اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں اور اپنے اندر مثبت سوچ پیدا کریں۔ مثبت سوچ سے ہی انسان اچھے اخلاق والا بن سکتا ہے۔

    اصول: ذمہ داریوں کو سمجھنا، مثبت سوچ کیلئے ضروری ہے۔

    تحریر: محمد اجمل خان
    ۔
     

اس صفحے کو مشتہر کریں