1. اس فورم پر جواب بھیجنے کے لیے آپ کا صارف بننا ضروری ہے۔ اگر آپ ہماری اردو کے صارف ہیں تو لاگ ان کریں۔

میرے باپ کی سختیاں ( ایک بگڑے بچے کی کہانی) ۔۔۔۔۔۔ افتخار شوکت ایڈووکیٹ

'اردو ادب' میں موضوعات آغاز کردہ از intelligent086, ‏17 ستمبر 2020۔

  1. intelligent086
    آف لائن

    intelligent086 ممبر

    شمولیت:
    ‏28 اپریل 2013
    پیغامات:
    4,895
    موصول پسندیدگیاں:
    751
    ملک کا جھنڈا:
    میرے باپ کی سختیاں ( ایک بگڑے بچے کی کہانی) ۔۔۔۔۔۔ افتخار شوکت ایڈووکیٹ

    یہ مضمون صرف ان والدین کے لئے ہے جو اپنے ہی بچوں کو سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے اور ان میں ہر وقت کیڑے نکالتے رہتے ہیں۔اپنی ڈانٹ ڈپٹ سے ان کے اندر جنم لینے والے خوف اور پریشانیوں کو سمجھنے کی بجائے لٹھ لے کر ان کے پیچھے پڑے رہتے ہیں ،ایسے والدی ہمارے معاشرے میں کم ہیں لیکن ہیں۔ اس قسم کی باتیں کرنے والے والدین سمجھ لیں یہ رویہ کبھی مفید نہیں ہوتا۔اس میں آپ کا تو کچھ نہیں جائے گالیکن بچے کی زندگی برباد ہو جائے گا وہ کبھی اٹھ نہیں سکے گا۔
    کافی پرانی بات ہے، میرا واسطہ ایک ایسے نوجوان سے پڑا جو گناہوں کی دلدل میں دھنستا جا رہا تھا۔میرا دل چاہا کہ اس کا ہاتھ پکڑ لوں،لیکن بے بس تھا کچھ نہیں ہو سکتا تھا۔لیکن میں نے اس سے اجازت چاہی اور اس کی کہانی آپ کے سامنے بیان کر رہا ہوں ۔اس امید پر کہ بہت سے بچوں کی زندگی سنور جائے گی۔ میرے سامنے بیٹھا نوجوان کہہ رہا تھا،
    ایسا ہرگز نہیں ہے کہ میں ان کی عزت نہیں کرتا۔ میرے دل میں میری ماں او رباپ کا بے پناہ احترام ہے۔ میں مانتا ہوں کہ مجھ میں کافی ساری کامیاں پیدا ہو گئی ہیں لیکن میں خامیوں کے ساتھ پیدا ہی کہاں ہوا تھا ، میں صحت مند ٹھیک ٹھاک نوجوان تھا،یہ سب غلطیاں کرنا میں نے اسی دنیا میں اپنے بڑوں سے سیکھا ہے۔
    ''میں جب چھوٹا سا بچہ تھا تو بھی ہر کام غلط کیا کرتا تھا، یہ بات مجھے میرے باپ نے بتائی ۔اور وہ ہر خود مرتبہ سچے ہوتے تھے یہ مجھے ان کے رویے نے سمجھایا۔ان کی بولی کے مطابق میں نے پورے بچپن میں ایک کام بھی ٹھیک سے نہیں کیا۔ مجھے یا ہے کہ میں جس کام میں ہاتھ ڈالتا، وہ پکڑ لیتے۔ میرے باپ کا انگوٹھا ہمیشہ میری گردن پر ہوتا تھا،وہ ہر بات ہر ٹوکتنے لگے تھے۔ 'یہ کام ایسے نہیں کرتے ،یوں کرتے ہیں۔ فلاں بچہ تم سے بہتر کام کرتا ہے‘۔ یا یہ کہ 'تم کبھی نہیں دھرو گے ۔ پتہ نہیں، تمہیں کب عقل آئے گی۔ بڈھے ہو گئے ہو لیکن غلطیاں کرنے سے باز نہیں آتے ‘۔یہ اور ایسے بہت سے الفاظ میرے کانوں میں چبھتے رہتے تھے۔
    اور میری ماں ،وہ ہمیشہ دوسروں کے بچوں کے ساتھ مقابلہ کرنے میں لگی رہتی تھی۔ فلاں دوست کابیٹایہ کام کر رہا ہے اور فلاں رشتے دار کے بیٹے نے فلاں کورس مکمل کر لیا۔تم تو وہیں کھڑے ہو۔ انہیں کوئی کام نہیں تھا سوائے دوسروں کے بچوں پہ نظر رکھنے کے، تاکہ وہ مجھے یہ بتا سکیں کہ میں کس قدر ناکام بچہ ہوں۔ وہ کہا کرتی تھیں ۔۔۔'اس کے بیٹے کو دیکھو ،تم سے کتنا چھوٹا ہے مگر تم سے آگے نکل گیا ہے، پڑھائی میں بھی تیز ہے اور گھر کے کام بھی کرتا ہے۔ فلاں رشتے دار کا بیٹا دیکھو، تم سے تو وہی اچھا ہے ۔تم کب اپنی ذمہ داریوں کو سمجھو گئے؟‘
    مجھے یہ جان کر بھی حیرت ہوتی تھی کہ میرا باپ ہی ہمیشہ حق پر ہوتے ہیں ان کی کوئی بات غلط نہیں ہوتی، وہ سچ کے سوا کچھ نہیں کہتے ۔ میں جانتا تھا کہ انہوں نے بھوکے ننگے رہ کر ہماری پرورش کی ہے وہ زمین سے اٹھے اور مقام بنانے میں کامیاب ہو گئے ،میں ان کمی قابلیتوں کو مانتا ہوں لیکن میری قابلیت کو کو ن پہچانے گا؟
    ہم میں کوئی ایک قدر بھی تو مشترک نہ تھی۔ میں جب بھی کچھ کہنے کے لئے زبان کھولتا تو مجھے وہیں ڈھیر کر دیا جاتا۔۔ بڑوں کے سامنے زبانیں چلاتے ہو ،شرم نہیں آتی؟وہ ایسا کیوں کرتے ہیں،یہی سوچنے میں میرا وقت گزر جاتا۔
    روز روز کی جھک جھک سے تنگ آنے کے بعد میں نے ابو سے ملنا چھوڑ دیا،اپنے کمرے کی جانب ان کے قدموں کی چاپ سنتے ہی میں واش روم میں گھس جاتا۔میرے اندر کی تمام خوہشات ایک ایک کرکے دم توڑنے لگیں ۔میں نے اپنی زندگی میں یہی دیکھا کہ جتنے والدین زمین سے اٹھتے ہیں،ترقی کرتے ہیں ،ان میں سے بہت دوں کا رویہ اسی قسم کا ہوتا ہے۔ انہیں لگتا ہے کہ جتنی ترقی وہ کر چکے ہیں ان کے بچوں میں اتنا ' سپارک‘ یعنی آگے بڑھنے کا جذبہ نہیں ہے!
    اس نوجوان سے میں نے جو سیکھا ،وہ آج آپ کے گوش گزار کر رہا ہوں۔
    غلط کا احساس
    کچھ والدین دانستہ یا نا دانستہ طور پر بچوں کو ان کی غلطیوں کی وجہ سے دبانے کی کوشش کرتے ہیں،ایسا مت کیجئے،انہیں بار باتر غلطیوں کا احساس دلانا الٹا نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ وہ جب بھی آپ کو دیکھیں گے تو یہی سوچیں کہ انہوں نے فلاں غلطی کی تھی ،اس سے ذہنی نشو و نما رک سکتی ہے۔عین ممکن ہے کہ احساس گناہ یا غلطی کو بڑھانے سے آپ انہیں کھو دیں۔
    غیر منصفانہ تقابلی جائزہ
    علامہ اقبال کے شعر کو ذہن میں لائیے ۔آپ نے کہا تھا ۔۔نہیں کوئی چیز نکمی قدرت کے کارخانے میں۔اللہ تعالیٰ نے ہر بچے کو الگ صلاحیتوں کے ساتھ پیدا کیا ہے ۔آپ کا کام ان صلاحیتوں کو پہچاننا ہے نہ پہچاننے کی صورت میں بھی آپ نادانستگی میں ان کا نقصان کر سکتے ہیں۔ اس ضمن میں اہم بات بچوں کاآپس میں تقابلی جائزہ لینے سے متعلق ہے۔یہ مت ہیے کہ فلاں بچہ تو فرسٹ آ گیا ہے تم کیوں نہیں آئے؟ پہلی پوزیشن لینے کا جذبہ بیدار کرنے کے اور بھی کئی اچھے طریقے ہیں۔یا یہ کہ آپ کا بھائی بہت کما رہا ہے تم کیوں نہیں زیادہ کمائی کر سکتے؟ ہر بچہ چونکہ الگ ہے، لہٰذا سمیں خوبیاں بھی الگ ہیں ۔اپنی توجہ دوسروں سے مقابلہ کرنے کی بجائے اس کی صلا حیتوں کو اجاگر کرنے پر مرکوز کیجئے۔
    غیر معمولی اہداف
    کسی جماعت میں اگر ایک سو بچے ہیں تو وہ سب کے سب پہلی پوزیشن نہیں لے سکتے،نہ ہی سب کو معطون کرنا چاہیے کہ تم فرسٹ کیوں نہیں آئے۔اپنے بچے کی تمام صلاحیتوں کو پرکھنے کے بعد اپنا ہدف متعین کرنے میں اس کی مدد کیجئے۔ ناممکنات کے پیچھے بھگانے کی بجائے جو ممکن ہو اسے حاصل کرنے کاجذبہ بیدار کیجئے۔
    براہِ راست سخت جملے اور مار پیٹ
    مار پیٹ اورسخت جملے کہنے سے گریز کیجئے۔کچھ والدین بچوں سے ناراض ہو کر بات چیت بند کر دیتے ہیں اس سے وہ تنہائی محسوس کرتا ہے ،کچھ بچے بری صحبت میں پھنس جاتے ہیں۔ کبھی کبھی وہ اپنی نظروں میں خود بھی گرنا جاتا ہے ۔
    کرفیو جیسی زندگی
    بچوں پر اچھی طرح نظر رکھیے ،لیکن یوں کہ انہیں محسوس نہ ہو۔ یا انہیں اچھا لگے کہ کوئی ان کا تحفظ کررہا ہے۔ انہیں یہ احساس نہ ہوکہ کوئی انہیں غلط جان کر ان کی ٹوہ میں لگا ہوا ہے،۔ ان کی زندگی میں بہت زیادہ دخل نہ دیجئے۔اور نہ ہی بہت زیادہ کنٹرول کیجئے۔کچھ درست کام انہیں ان کی مرضی سے بھی کرنے دیجئے ۔ خود مختاری اور انتخاب کی کمی سے ان کی نشو و نما پر اثر پڑ سکتاہے۔ لہٰذا کسی ان پر کرفیو جیسی پابندیاں لگانے سے گریز کیجئے ۔

     

اس صفحے کو مشتہر کریں