غوریات ایک دن موت کے اس پار سے دیکھا بڑے غور سے دیکھا پیار سے دیکھا اشتیاق سے دیکھا انہماک سے دیکھا ہر ایک ایک فرد کو افلاک سے دیکھا ہمارے لئے کون کس طرح سوچتا ہے کون ہمارے لئے سچے دل سے روتا ہے سچ یہ ہے کہ دنیا خود غرض ہو گئی ضمیر نہ رہا اور غیرت کہیں کھو گئی کسی کو بھی میں کسی طرح یاد نہیں مرے نہ ہونے پر کوئی عزیز ناشاد نہیں میری قربانیاں اور میری جاں فشانیاں فی الفور بھلا دی گئیں میری مہربانیاں انسانیت کی یوں بےتوقیری ٹھیک نہیں انسانیت کی یوں بے قدری ٹھیک نہیں غوری 17 مئی 21