1. اس فورم پر جواب بھیجنے کے لیے آپ کا صارف بننا ضروری ہے۔ اگر آپ ہماری اردو کے صارف ہیں تو لاگ ان کریں۔

مجموعہ کلام در دستک سے چند اشعار

'آپ کی شاعری' میں موضوعات آغاز کردہ از بزم خیال, ‏26 اگست 2009۔

  1. بزم خیال
    آف لائن

    بزم خیال ناظم سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏12 جولائی 2009
    پیغامات:
    2,736
    موصول پسندیدگیاں:
    312
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: مجموعہ کلام در دستک سے چند اشعار

    جلتاپھر یہ زمان کیوں​


    کھلتا جو گلاب ہے جلتاپھر یہ زمان کیوں
    گزرا ہر نشیدہ پل بہکاتا نیا شیطان کیوں

    تجھے آنا مشکل نہیں جانا ہی پھر امتحان کیوں
    جگر کا گرم لہو قلب ہی پھر ارمان کیوں

    چبھتا نہیں خار بھی ، پھول پھر پشیمان کیوں
    ڈرتا تاریکی سے چاندنی مجھ پہ مہربان کیوں

    کٹتا رہا قلب تنہا ، میرا تن نادان کیوں
    بیتابیء جاناں میں پٹخنا سر ہی آسان کیوں

    چاہتے شب وروز مسیحائی کم پھر انسان کیوں
    لکھتا لوح قلم پہ ، پڑھتے نہیں پھر قرآن کیوں



    خیال رست / در دستک
    محمودالحق​
     
    پاکستانی55 نے اسے پسند کیا ہے۔
  2. بزم خیال
    آف لائن

    بزم خیال ناظم سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏12 جولائی 2009
    پیغامات:
    2,736
    موصول پسندیدگیاں:
    312
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: مجموعہ کلام در دستک سے چند اشعار

    میرے گھر کے بادل گرج کر گزر گئے


    میرے گھر کے بادل گرج کر گزر گئے
    تیرے گھر کے بادل برس کر بکھر گئے

    میری شاخِ شجر کے پتے اتر گئے
    تیرے پھول بھی کھل کر نکھر گئے


    میری مٹی میں فراقِ ہجر گئے
    مہک بنی ہوا تیری جدھر گئے

    بھولِ آنکھ میں میری اشکِ تر گئے
    آنسو بھی تیرے بن اَبر گئے

    میری کھلتی کلی سے بھی ثمر گئے
    تیرے گرتے بیج بھی بن شجر گئے

    پیالہ میرے میں بھر وہ زہر گئے
    کشکول تیرے میں ڈال اثر گئے

    خاکِ سکوت میں خوف ٹھہر گئے
    روحِ رواں میں تیرے مد و جزر گئے

    میرے عشق میں بینا بھی تو نظر گئے
    تیرے حسن کے تارے بن اطہر گئے

    شکوہ نہیں رہ اب عزر گئے
    رحمت سے بھی اب ہو احمر گئے

    دبیز تہہ بھی اب بن راہ گزر گئے
    رکتے شب میں دن میں سفر گئے

    دل لگی رکھی تو چلے دلبر گئے
    نظر سے جو چوکے تو قلب میں نشتر گئے

    ڈھونڈھتے ہم انہیں نہ جانے کدھر گئے
    کچھ اِدھر تو کچھ رہ اُدھر گئے

    نفرت نشاں رہ اب بشر گئے
    شاھین کے دوست بن کبوتر گئے

    بچاتے نہیں جو جل شرر گئے
    قلم سے جب نکلے تو بن نشر گئے

    کبود انعام سے بھی وہ مکر گئے
    سانس لینے میں ہی وہ سجدہ شکر گئے

    نام لینے سے جن کے جھک سر گئے
    سجدہ میں ہی ان کے ہو بلند فخر گئے



    بر عنبرین / محمودالحق
     
    پاکستانی55 اور آصف احمد بھٹی .نے اسے پسند کیا ہے۔
  3. فیصل سادات
    آف لائن

    فیصل سادات ممبر

    شمولیت:
    ‏20 نومبر 2006
    پیغامات:
    1,713
    موصول پسندیدگیاں:
    156
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: مجموعہ کلام در دستک سے چند اشعار

    ماشاءاللہ ! بہت ہی خوبصورت کلام ہے آپکا۔ بہت درد ہے۔ لفظ گواہی دیتے ہیں کہ دل سے لکھتے ہیں آپ۔ اللہ آپکو دین و دنیا دونوں میں ترقیاں عطا فرمائے۔
     
    پاکستانی55 نے اسے پسند کیا ہے۔
  4. بزم خیال
    آف لائن

    بزم خیال ناظم سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏12 جولائی 2009
    پیغامات:
    2,736
    موصول پسندیدگیاں:
    312
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: مجموعہ کلام در دستک سے چند اشعار

    بہت شکریہ بھائی سادات
    آپ کی دعاؤں کا بھی شکریہ اللہ تبارک تعالی آپ کو بھی زندگی کے ہر میدان میں سرخرو فرمائے ۔ آمین
     
    پاکستانی55 نے اسے پسند کیا ہے۔
  5. بزم خیال
    آف لائن

    بزم خیال ناظم سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏12 جولائی 2009
    پیغامات:
    2,736
    موصول پسندیدگیاں:
    312
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: مجموعہ کلام در دستک سے چند اشعار


    شبِ سیاہ پر پڑتی کرنوں سے بنتے جاتے سائے ہیں
    محبوب پر حقِ احسان کہ ہم تو اسکے ہمسائے ہیں

    تمازتِ آفتاب بھی رکھتا باری رحمت کا اجمال ہے
    ایک شاخِ پتے میں جذب اس کی قوتِ عطائے ہیں

    مدفن خزینوں سے مہرباں حسنِ زن و زمین آراستہ
    محبت میں ہیں سب مہمان نہیں کوئی بن بلائے ہیں

    گرتے پانیوں سے پھیلتی روشنیوں تک کے فاصلے
    شمعِ جہاں کے سب پروانے کچھ اپنے کچھ پرائے ہیں

    بہت مشکل میں ہے انسان عالمِ جاودانی کے محور میں
    بندھے ہوئے یہ سب جہاں روشنیوں کے سدھائے ہیں

    کھینچی کاغذ کی لکیروں پر زائچہ بازیچہ، اطفال ہے
    قوس و قزح کے رنگوں میں ذرّے سے ذرّے جمائے ہیں

    خشکی ہوا پانی پر ہماری اختراعِ ایجاد ہیں
    چلنے کے واسطے ایندھن بھی تو اسی کے بنائے ہیں



    روشن عطار / محمودالحق
     
    پاکستانی55 اور آصف احمد بھٹی .نے اسے پسند کیا ہے۔
  6. بزم خیال
    آف لائن

    بزم خیال ناظم سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏12 جولائی 2009
    پیغامات:
    2,736
    موصول پسندیدگیاں:
    312
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: مجموعہ کلام در دستک سے چند اشعار


    متزلزل ایمان ،بچھڑا معبود تو کبھی تحریف کتاب
    پالنا گروہی تو اب دکھائی دیتے ہیں استعجاب

    کرنوں کی برسات ہے یہ مہتاب و آفتاب
    رحمتوں کی سوغات ہے یہ جہانِ آب و تاب

    نہیں رکھتا شہباز شوقِ ہما سرخاب
    جینے کی جان نکال لیتی ہے اذیتِ خواب

    دیتا ہے وہ چھپر پھاڑ کر بے حساب
    شعور زمان سے اونچا ہے علم الکتاب

    یقین محکم ہو تو ریگستان بھی ہو آب الباب
    عقلِ خرد کو تو بہتی برستی دنیا بھی ہے سراب

    عشقِ جنوں میں ہے دل بیقرار و بیتاب
    ذرا سا خمیر اُٹھے تو ہے مے بھی آب


    محمودالحق
     
    پاکستانی55 اور آصف احمد بھٹی .نے اسے پسند کیا ہے۔
  7. بزم خیال
    آف لائن

    بزم خیال ناظم سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏12 جولائی 2009
    پیغامات:
    2,736
    موصول پسندیدگیاں:
    312
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: مجموعہ کلام در دستک سے چند اشعار

    راستے میں جو کٹا وہ زادِ سفر میرا نہ تھا
    ہوش میں نہ تھا جو کھویا وہ صبر میرا نہ تھا

    پروازمیں کوتاہِ نگاہی نے یوں شرمسار کیا
    نشانہ پر جو نہ لگا وہ دعائے اثر میرا نہ تھا

    یہ ہاتھ خود چھوٹ کر ہاتھ سے جدا ہو گیا
    گلستان جلا جس سے وہ شرر میرا نہ تھا

    آس نے یاس سے ہٹ کر خود کو پاس کر لیا
    بارانِ رحمت میں پھیلتا ہر ابر میرا نہ تھا

    مجھے میری تلاش ہے تو اپنے انتظار میں
    نسیمِ جاں میں جو رہ گیا وہ ثمر میرا نہ تھا

    اتنا بھی کیا کم ملا پھر انتظار میں بیٹھ گیا
    یہ فلکِ جہاں اس کا کوئی امبر میرا نہ تھا

    جب لوٹنا ہی لکھا تقدیر میں منزل تا حدِ نگاہ
    محمود بس تو لکھتا جا وہ نشر میرا نہ تھا


    بر عنبرین / محمودالحق​
     
    پاکستانی55 اور آصف احمد بھٹی .نے اسے پسند کیا ہے۔
  8. بزم خیال
    آف لائن

    بزم خیال ناظم سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏12 جولائی 2009
    پیغامات:
    2,736
    موصول پسندیدگیاں:
    312
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: مجموعہ کلام در دستک سے چند اشعار

    بہت مشکل میں ڈال دیا میرے کلامِ انتخاب کو

    بہت مشکل میں ڈال دیا میرے کلامِ انتخاب کو
    زمین کو ہے پردہ کھلا ہے سب آفتاب کو

    چلو آج ایسے ہی میزان میں بات کرتے ہیں
    روکو شاخِ شجر کو پھیلے جو گلِ بیتاب کو

    جذباتِ قلب کو میری عقلِ گرہ سے نہ باندھو
    قید میں رکھو ارمان جانے دو وصلِ سحاب کو

    میرا گھر مجھے اچھا رہو اپنے محلِ پوشیدہ میں
    چراغ تو جلتا نہیں روکو ہوا یا حباب کو

    کھلی آنکھ سے جو دیکھتے وہ منظر میرا نہیں
    قلب کو چیر دے قلم میرا انجمن احباب کو

    ساز ردھم رنگ دھنک نہیں موم اشک بار میں
    کاغذی پھولوں سے بھرتے کس خوشنما کتاب کو

    ۔۔۔٭۔۔۔

    بر عنبرین / محمودالحق

     
    پاکستانی55 اور آصف احمد بھٹی .نے اسے پسند کیا ہے۔
  9. بزم خیال
    آف لائن

    بزم خیال ناظم سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏12 جولائی 2009
    پیغامات:
    2,736
    موصول پسندیدگیاں:
    312
    ملک کا جھنڈا:
    رہنے کو ٹھکانہ نہیں جاڑا سر کو آیا
    راہیں مشکل کٹتی نہیں تھکا سفر کو آیا
    تو چل میں آیا بن کے تیرا خود کا سایہ
    دیوانگی بنا تب ہوش جب صبر کو آیا
    بدن اپنے کو ہاتھ اپنا ہی کھجاتا ہے
    عشق بنا دل صحرا انتظارِ ابر کو آیا
    ہنستے موجِ مستی، سوتے قفسِ ہستی
    سازِ ردھم میں صنم حاضری قبر کو آیا
    چلتا ہے کارواں سستاتا جب زمانِ جہاں
    چاند چھپ جائے تو تارا بن کے ازہر کو آیا
    کچے دھاگوں سے پروتا ایک لڑی میں ہر گھڑی
    جمع اتنا کیا کہ ٹوٹنا من تو شر کو آیا
    سوچتا ہوں تو آ یا اب میں چلا آؤں
    سجدہ میں تو ، میں رینگتا تیرے در کو آیا
    محمودالحق
     
  10. بزم خیال
    آف لائن

    بزم خیال ناظم سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏12 جولائی 2009
    پیغامات:
    2,736
    موصول پسندیدگیاں:
    312
    ملک کا جھنڈا:
    01.jpg
     
    پاکستانی55 اور ملک بلال .نے اسے پسند کیا ہے۔
  11. پاکستانی55
    آف لائن

    پاکستانی55 ناظم سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏6 جولائی 2012
    پیغامات:
    98,397
    موصول پسندیدگیاں:
    24,232
    ملک کا جھنڈا:
    جزاک اللہ جناب
     
    بزم خیال نے اسے پسند کیا ہے۔
  12. بزم خیال
    آف لائن

    بزم خیال ناظم سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏12 جولائی 2009
    پیغامات:
    2,736
    موصول پسندیدگیاں:
    312
    ملک کا جھنڈا:
    02ab.jpg
     
    پاکستانی55 نے اسے پسند کیا ہے۔

اس صفحے کو مشتہر کریں