1. اس فورم پر جواب بھیجنے کے لیے آپ کا صارف بننا ضروری ہے۔ اگر آپ ہماری اردو کے صارف ہیں تو لاگ ان کریں۔

ماں‌ جی بھی کتنی سادہ ہیں… محمد عرفان

'اردو ادب' میں موضوعات آغاز کردہ از intelligent086, ‏22 جنوری 2021۔

  1. intelligent086
    آف لائن

    intelligent086 ممبر

    شمولیت:
    ‏28 اپریل 2013
    پیغامات:
    6,465
    موصول پسندیدگیاں:
    777
    ملک کا جھنڈا:

    ماں‌ جی بھی کتنی سادہ ہیں… محمد عرفان
    گائوں کے لوگ کافی دلچسپ اور سادہ ہوتے ہیں، یقیناً آپ کا کبھی نہ کبھی گائوں جانا ضرور ہوا ہو گا کیونکہ شہر میں رہنے والے اکثر لوگ تازہ ہوا کھانے گائوں‌ کا رخ‌ کرتے ہیں. آپ جب بھی گائوں جائیں، وہاں چند ایسے دلچسپ لوگ ضرور ملیں گے جو آپ کو حکمت سے بھرپورایسی بات ضرور سنائیں گے جس میں‌ زندگی بھر کا سبق پوشیدہ ہو یا اپنی سادگی میں‌ ایسی بات کہہ دیں‌ گے جو آپ کو بہت کچھ سوچنے پر مجبور کر دے گی۔

    گائوں کے لوگوں کی ایک دلچسپ بات اور بھی ہے کہ حکومت چاہے کسی کی بھی ہو، اُن کو فرق نہیں پڑتا۔ بس اُن کے نزدیک مہنگائی نہیں ہونی چاہیے۔ بس جس حکومت نے مہنگائی کر دی، وہ حکومت گائوں کے لوگوں کے نزدیک ایسی آمرانہ سرکار ہے جسے لوگوں کی ذرہ بھر بھی پرواہ نہیں۔

    راقم بھی گائوں سے ہی تعلق رکھتا ہے اور سارا بچپن گائوں میں ہی گزارا، اس لیے فرصت ملنے پر کبھی کبھار اپنے گھر بھی چکر لگ جاتا ہے۔ رات کا کھانا ماں جی کے ساتھ بیٹھ کر کھاتے ہوئے ملکی حالات سے باخبر رہنے کے لیے خبریں سن رہا تھا کہ اتنے میں مہنگائی سے متعلق ایک خبر چلی۔ جس میں بتایا گیا کہ “وزیراعظم پاکستان کا ملک کی غریب عوام کے لیے بڑا اعلان، مہنگائی جلد از جلد کنٹرول کرنے کے لیے ایک ٹیم تشکیل دے دی گئی”۔

    مہنگائی کا نام آتے ہی ماں جی کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا۔ بولیں! بس پچھلی حکومت میں بھی تم نے ایسے ہی کہا تھا۔ یہ الفاظ جوں ہی میرے کانوں تک پہنچے، میں نے بہت تعجب کے ساتھ ان کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔ اماں جی! پچھلی حکومت میں یہ وزیراعظم نہیں تھے۔ ماتھے پہ تعجب کے بل ڈالتے ہوئے اماں بولیں! نہیں تھے۔۔۔۔؟ بیٹا پچھلی حکومت میں بھی بالکل ایسی ہی باتیں ہوتی تھیں، ہم مہنگائی کو کم کر رہے ہیں یا مہنگائی کو کنٹرول کرنے کے لیے ٹیمیں بنا رہے ہیں۔ اماں جی یقین کو اپنے چہرے پہ لاتے ہوئے جارحانہ انداز میں بولیں، جب سے میں خبریں سننے لگی ہوں تب سے یہی وزیراعظم ہے۔

    میں نے کہا ایسا بالکل نہیں ہے، اماں جی۔۔۔ آپ ٹی وی پر دیکھیں۔ یہ پی-ٹی-آئی کی حکومت ہے۔ اس سے پہلے نوازشریف کی حکومت تھی اور اُس سے پہلے پاکستان پیپلز پارٹی کی اور یہ سب الگ تھلگ پارٹیوں سے تعلق رکھتے ہیں اور سیاست کے سمندر میں ایک دوسرے پر مخالفت، لعن طعن کی لہریں ایک دوسرے کی طرف بھیجتے رہتے ہیں۔ اماں جی نے سر پر ہاتھ رکھ کر کہا، اوہ میڈا اللہ! اچھا اگر ایسی بات ہے تو پھر سب ایک جیسی ہی باتیں کیوں کرتے ہیں۔ یہ بھی تو ہو سکتا ہے کہ یہ صرف پارٹی کا نام تبدیل کر لیتا ہو مگر بندہ وہی ہو۔ یہ سننے کے بعد میں نے ادب کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے خاموشی اختیار کر لی اور خیالی دنیا میں خود کو سامنے بٹھا کر کہا، اماں جی بھی کتنی سادہ ہیں، بھلا ایسا بھی کہیں ہوتا ہے۔

     

اس صفحے کو مشتہر کریں