1. اس فورم پر جواب بھیجنے کے لیے آپ کا صارف بننا ضروری ہے۔ اگر آپ ہماری اردو کے صارف ہیں تو لاگ ان کریں۔

قائد اعظم رحمۃاللہ علیہ ۔۔ اپنے والدین کی فرمانبردار اولاد

'اردو ادب' میں موضوعات آغاز کردہ از نعیم, ‏2 فروری 2009۔

  1. نعیم
    آف لائن

    نعیم مشیر

    شمولیت:
    ‏30 اگست 2006
    پیغامات:
    58,106
    موصول پسندیدگیاں:
    11,152
    ملک کا جھنڈا:
    قائد اعظم :ra: ۔۔۔۔ اپنے والدین کی فرمانبردار اولاد

    شاید بہت کم لوگ اس بات سے واقف ہوں کہ جب قائد اعظم لندن بیرسٹری پڑھنے کے لیے گۓ تو وہاں ایک ایکٹر کی ضرورت کا اشتہار آیا۔ یہ اشتہار ایک Shakespearean Theatre Company کی طرف سے تھا۔ اب قائد اعظم کو بھی اپنی انگریزی دانی اور اپنی آواز پر ناز تھا اور وہ بھی وہاں چلے گۓ۔ وہاں تمام امیدوار گورے تھے جو ستّر کے قریب تھے۔ قائد اعظم نے ایک مکالمہ پڑھ کر سنایا اور اتنے سارے امیدواروں میں جس کو چنا گیا وہ قائد اعظم ہی تھے۔ قائد اعظم اس انتخاب پر بہت خوش تھے اور وہ اپنا مستقبل ایک کامیاب اور نامور ایکٹر کا دیکھ رہے تھے۔ انہوں نے اس کمپنی کا ڈرامہ سائن کر لیا اور گھر آ کر اپنے والد کے نام خط لکھا کہ “میں اتنے زیادہ لوگوں میں سے منتخب کر لیا گیا ہوں اور ایک انٹر نیشنل تھیٹریکل کمپنی میں جگہ بنانے میں کامیاب ہو گیا ہوں“۔ اب ان کے والد پونجا جناح پرانی وضع کے آدمی تھے۔ انہوں نے جوابی خط لکھا (اب مجھے یاد نہیں کہ وہ خط بذریعۂ جہاز گیا یا تار کے ذریعے بھیجا گیا) اور اس میں کہا کہ تم کو جس کام کے لیے بھیجا گیا ہے تم اس کی طرف توجہ دو۔ یہ تم نے کیا نیا پیشہ اختیار کر لیا ہے۔ “خبردار اگر تم نے اس طرح کی کسی سرگرمی میں حصہ لیا تو“
    قائد اعظم بڑے نیک اور تابع فرمان تھے چنانچہ خط ملتے ہی قائد اعظم کو فکر پڑ گئی اور اس کمپنی کے مالک سے کہا کہ سر میں بہت شرمسار ہوں اور میں وعدہ کے مطابق پرفارم نہ کر پاؤں گا۔انہوں نے پوچھا کہ آخر تمہیں ہوا کیا ہے؟قائد اعظم نے کہا کہ سر میرے والد صاحب نے منع کیا ہے اور میرا اس طرح تھیٹر میں کام کرنا انہیں پسند نہیں ہے۔ کمپنی کے مالک نےکہ تمھارے والد کو کیا اعتراض ہے۔ یہ تمہاری زندگی ہے اور تم جو چاہو پیشہ اختیار کر سکتے ہو۔

    قائد اعظم نے کہا کہ Sir you do not understand ہماری زندگی میں والد بڑے اہم ہوتے ہیں اور میں معافی چاہتا ہوں۔

    اقتباس :- زاویہ 2، باب 45
     
  2. خوشی
    آف لائن

    خوشی ممبر

    شمولیت:
    ‏21 ستمبر 2008
    پیغامات:
    60,337
    موصول پسندیدگیاں:
    37
    خدا کبھی ہماری قوم کو ایک قائد جیسا لیڈر عطا کر دے
     
  3. نعیم
    آف لائن

    نعیم مشیر

    شمولیت:
    ‏30 اگست 2006
    پیغامات:
    58,106
    موصول پسندیدگیاں:
    11,152
    ملک کا جھنڈا:
    آمین ثم آمین
    اور ہماری قوم کو ایسے لیڈر پہچاننے کی توفیق بھی عطا کردے۔ آمین
     
  4. گجر123
    آف لائن

    گجر123 ممبر

    شمولیت:
    ‏1 دسمبر 2008
    پیغامات:
    177
    موصول پسندیدگیاں:
    0
    آمین ثم آمین
    اور ہماری قوم کو ایسے لیڈر پہچاننے کی توفیق بھی عطا کردے۔ آمین[/quote:1v1qj7qz]

    آپ کی مراد ڈاکٹر طاہرالقادری صاحب سے تو نہیں :soch:

    ویسے آپ نے جو بات لکھی ہے یہ میں پہلی مرتبہ اس طرح سے پڑھ رہا ہوں۔ ہو سکتا ہے کہ قائداعظم رحمتہ اللہ علیہ کو خود ہی یہ کام پسند نہ ہو۔ آپ اپنے والد کی خواہش کے برعکس ہی کاروباری معاملات کی تعلیم چھوڑ کو وکالت میں داخل ہو گئے تھے۔ اسی طرح کراچی کی بجائے بمبئی میں پریکٹس کا فیصلہ بھی انہوں نے شاید اپنے والد کے مشورے کے برعکس ہی کیا تھا۔

    کہنا مقصد قائداعظم رحمتہ اللہ علیہ کو والدین کا نافرمان ثابت کرنا نہیں بلکہ یہ اس روٹین کے خلاف احتجاج ہے کا تاریخی واقعات کو بھی نئے نئے انداز سے پیش کیا جاتا رہے۔ میں نے زاویہ 2 نہیں پڑھی۔ ویسے یہ کوئی تاریخی کتاب تو ہے نہیں اس لیے اس اقتباس میں ہو سکتا ہے کہ اشفاق صاحب کوئی اور بات سمجھانا چاہ رہے ہوں۔
     
  5. عبدالرحمن سید
    آف لائن

    عبدالرحمن سید مشیر

    شمولیت:
    ‏23 جنوری 2007
    پیغامات:
    7,417
    موصول پسندیدگیاں:
    21
    ملک کا جھنڈا:
    اس میں تو میں یہی سمجھ سکا ھوں کہ قائداعظم نے اپنے والد کی خواھش کا احترام کیا تھا،!!!!!
     

اس صفحے کو مشتہر کریں