1. اس فورم پر جواب بھیجنے کے لیے آپ کا صارف بننا ضروری ہے۔ اگر آپ ہماری اردو کے صارف ہیں تو لاگ ان کریں۔

غزوہ ٔ خندق

'تاریخِ اسلام : ماضی ، حال اور مستقبل' میں موضوعات آغاز کردہ از زنیرہ عقیل, ‏19 جنوری 2019۔

  1. زنیرہ عقیل
    آن لائن

    زنیرہ عقیل ممبر

    شمولیت:
    ‏27 ستمبر 2017
    پیغامات:
    20,099
    موصول پسندیدگیاں:
    9,320
    ملک کا جھنڈا:
    یہ غزوہ تاریخ اسلام کا اہم غزوہ ہے۔ جب ہر مرتبہ کفار کو شکست کا سامنا کرنا پڑا تو پورے عرب کے یہودی اور مشرک اکٹھے ہوگئے اور اسلام کو جڑ سے اکھاڑنے کے ناپاک عزائم لیے ماہ ذی قعدہ ٥ ھ کو دس ہزار کا لشکر لے کرمدینہ پر حملہ آور ہوئے۔ مسلمانوں کو جب معلوم ہوا کہ کفار حملے کے لیے آرہے ہیں اور ان کی تعداد مسلمانوں سے کہیںزیادہ ہے، اس کے علاوہ منافقین علیحدہ آستین کا سانپ بنے ہوئے ہیں،مدینہ منورہ کے باقی ماندہ یہودیوں (یہودِبنو قریظہ )نے بھی مسلمانوں سے غداری کرکے کفار کا ساتھ دینے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ اس صورت حال میںیہ مناسب نہیں تھا کہ مدینہ منورہ سے باہر نکل کر جنگ کی جائے، چناں چہ مدینہ منورہ میں رہتے ہوئے مقابلہ کرنے کا فیصلہ ہوا۔لہٰذا حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کی رائے کے مطابق خطرناک ناکوں پر خندق کھودی گئی۔ یہ تدبیر کامیاب ہوئی، کفار اس کو پھاند نہ سکے اور مسلمان محفوظ رہے۔ جب کفار کا تقریباَ پندرہ ہزار کا لشکر مدینہ پہنچا، تو کسی کو جرأت نہ ہوئی کہ خندق پھلانگ سکے اور انھوں نے وہیں پڑائو ڈال دیا، اورخندق کے پار سے ہی مسلمانوں پر تیر برسانے شروع کردیے، جس سے چھے مسلمان شہید ہوگئے اور دس کفار قتل کردیے گئے۔ ایک دو کافر پھاند بھی آئے، جن سے تلوار کی دو بدو جنگ ہوئی۔ پندرہ روز کے محاصرہ کے بعد کفار کا سامانِ رسد ختم ہوگیا اور ساتھ ہی ساتھ آسمانی آفتوں،ان کی باہمی پھوٹ اورسامانِ رسد کے ختم ہونے کی وجہ سے ان کے قدم لڑ کھڑا گئے اور وہ بھاگنے پر مجبور ہوگئے۔
     

اس صفحے کو مشتہر کریں