1. اس فورم پر جواب بھیجنے کے لیے آپ کا صارف بننا ضروری ہے۔ اگر آپ ہماری اردو کے صارف ہیں تو لاگ ان کریں۔

غزوئہ تبوک

'تاریخِ اسلام : ماضی ، حال اور مستقبل' میں موضوعات آغاز کردہ از زنیرہ عقیل, ‏19 جنوری 2019۔

  1. زنیرہ عقیل
    آن لائن

    زنیرہ عقیل ممبر

    شمولیت:
    ‏27 ستمبر 2017
    پیغامات:
    20,117
    موصول پسندیدگیاں:
    9,332
    ملک کا جھنڈا:
    یہ غزوہ ماہ رجب ٩ ھ میں واقع ہوا، لشکرِ اسلام کی سرداری حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھی، مدینہ منورہ میں آپ کی غیر موجودگی میں خلیفہ حضرت محمد بن مسلمہ انصاری رضی اللہ عنہ مقرر کیے گئے تھے، جب کہ بال بچوں کی نگرانی کے لیے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو مقرر کیا گیا تھا، جب اس بات کی خبر مدینہ منورہ میں پہنچی کہ ہر قل بادشاہِ روم، موتہ کی جنگ کا بدلہ لینے کے لیے مسلمانوں پر حملہ کی تیاریاں کر رہا ہے، تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم پہلے ہی سے اس کی روک تھام کے لیے تیس ہزار(30000) مسلمانوں کی فوج لے کر مدینہ طیبہ سے روانہ ہوگئے۔ گرمی کا زمانہ تھا، اور مسلمان بے حد تنگ دستی اور قحط کا شکار تھے،اس لیے چندے سے فوج کی ضروریات کا انتظام کیا گیا، حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اپنے گھر کا سارا سامان لاکر پیش کردیا، حضرت عمر رضی اللہ عنہ اپنے گھر کا آدھا سامان لے کر آگئے۔ غرض یہ کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم وعلیہنّ نے اپنی اپنی حیثیت سے بڑھ چڑھ کر کر چندے دیے۔ جب وہاں کوئی نہ رہا تھا تو ہرقل بادشاہ حمص چلاگیا تھااوروہاں کوئی نہ تھا۔ اس سفر سے رومیوں پر بے حد رعب چھا گیا۔ایلہ کا والی خدمت ِ اقدس میں حاضر ہوا،امان مانگی اور صلح کے بدلے ٹیکس دینے پر تیار ہوا۔ اس قیام کے زمانے میں نواب اکیدر کو گرفتار کرکے لایا گیا اور دوسرے نوابوں سے بھی معاہدے ہوئے۔ پندرہ روز حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں قیام فرمایا، پھر واپس تشریف لے آئے اور رمضان المبارک کے مہینے میں مدینہ منورہ پہنچے۔ اسی معرکے سے واپسی پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد ضرار کو جلوانے کا حکم دیا، یہ مسجد کے نام پر مسلمانوں کے خلاف منافقین کا ہیڈ کوارٹرتھا، جو منافقوں نے مسلمانوں کے برخلاف مشورہ کرنے کے لیے بنایا تھا۔
     

اس صفحے کو مشتہر کریں