1. اس فورم پر جواب بھیجنے کے لیے آپ کا صارف بننا ضروری ہے۔ اگر آپ ہماری اردو کے صارف ہیں تو لاگ ان کریں۔

غزل کی اصلاح درکار ہے

'آپ کی شاعری' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد ابراہیم کوثر, ‏22 مئی 2020۔

  1. محمد ابراہیم کوثر
    آف لائن

    محمد ابراہیم کوثر ممبر

    شمولیت:
    ‏18 مئی 2020
    پیغامات:
    21
    موصول پسندیدگیاں:
    10
    ملک کا جھنڈا:
    سر ازراہ کرم نظر فرمائیں شکیل احمد خان

    یہ زندگی سفر ہے میاں توبہ کیجیے
    جا بیٹھیے جہاں پہ وہاں توبہ کیجیے

    ہے کون سا وہ ظلم جو تو نے نہیں کیا
    تم اور سادگی کا بیاں توبہ کیجیے

    بازارِ عشق میں کبھی کاذب نہیں ہوئے
    ایسی تجارتوں میں زیاں توبہ کیجیے

    میخانے پر تجھے کوئی کل کہہ رہا تھا یار
    چھوڑیں منافقت کو یہاں توبہ کیجیے

    گر ہو سکے تو باغِ محبت اگائیے
    اور موسم خزاں میں وہاں توبہ کیجیے

    میں نے کہا تھا دنیا مکافات کا ہے گھر
    اب ڈھونڈتے ہو گوشہ کہاں توبہ کیجیے

    توبہ ہو بے الم تو دل اپنا جلائیے
    سوئے درونِ قلبِ نہاں توبہ کیجیے

    شاید کسی کا ہو گا جو ہم سے نہیں ملا
    ہمدم کے بارے ایسے گماں توبہ کیجیے
     
    Last edited: ‏22 مئی 2020
    ًمحمد سعید سعدی اور زنیرہ عقیل .نے اسے پسند کیا ہے۔
  2. شکیل احمد خان
    آف لائن

    شکیل احمد خان ممبر

    شمولیت:
    ‏10 نومبر 2014
    پیغامات:
    1,344
    موصول پسندیدگیاں:
    1,083
    ملک کا جھنڈا:
    یہ زندگی سفر ہے میاں ،توبہ کیجیے
    ہر موڑ ہر ڈگر پہ یہاں توبہ کیجیے
     
  3. شکیل احمد خان
    آف لائن

    شکیل احمد خان ممبر

    شمولیت:
    ‏10 نومبر 2014
    پیغامات:
    1,344
    موصول پسندیدگیاں:
    1,083
    ملک کا جھنڈا:
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اب تک کھنچے ہیں تیر کماں توبہ کیجیے
     
    زنیرہ عقیل اور محمد ابراہیم کوثر .نے اسے پسند کیا ہے۔
  4. شکیل احمد خان
    آف لائن

    شکیل احمد خان ممبر

    شمولیت:
    ‏10 نومبر 2014
    پیغامات:
    1,344
    موصول پسندیدگیاں:
    1,083
    ملک کا جھنڈا:
    ’’بے الم ‘‘ سے کیا مراد لی اور ’’سوئے دُرونِ قلبِ نہاں ‘‘ میں کیا رمز ہے؟ ذرا وضاحت کیجیے
     
    زنیرہ عقیل اور محمد ابراہیم کوثر .نے اسے پسند کیا ہے۔
  5. محمد ابراہیم کوثر
    آف لائن

    محمد ابراہیم کوثر ممبر

    شمولیت:
    ‏18 مئی 2020
    پیغامات:
    21
    موصول پسندیدگیاں:
    10
    ملک کا جھنڈا:
    سر یعنی اگر اس میں غم نہیں ہے تو دل سے توبہ کی جائے
    ویسے ذہن میں جو آیا میں نے لکھا دیا ہے مجھے اتنی گہرائی میں نہیں سمجھا
    آپ رہنمائی فرما دیں تو جو اسقام ہیں ان سے بچ سکوں
     
  6. شکیل احمد خان
    آف لائن

    شکیل احمد خان ممبر

    شمولیت:
    ‏10 نومبر 2014
    پیغامات:
    1,344
    موصول پسندیدگیاں:
    1,083
    ملک کا جھنڈا:
    سُو کا مطلب کی طرف،کی سمت ، جانب جیسے چارسو(چاروں طرف)اسی سے سوئے مدینہ یعنی مدینے کی طرف
    درون کا مطلب اندر،بیرون اور برون کی ضد جیسے بیرونِ ملک اور اندرونِ ملک
    قلب کا مطلب دل
    نہاں کا مطلب چھپا ہوا،پوشیدہ ، نظر سے اوجھل
    سوئے درونِ قلبِ نہاں کا لفظی مطلب (سینے میں )پوشیدہ دل کی طرف۔۔۔۔۔۔۔۔۔تو یہ کیا بات ہوئی،جبکہ (سینے میں )پوشیدہ دل کی طرح ،کہیں تو ایک بات ہے
    اگر آپ یہ کہنا چاہتے تھے کہ دل ہی دل میں چپکے چپکے توبہ کیجیے تو صاف اور براہِ راست کہہ دیتے۔۔۔۔۔۔۔۔مضمون بندھ جاتامگر پہلے مصرعے میں ’’توبہ کا بے الم ‘‘
    اِس مضمون کا ساتھ نہیں دیتا۔۔۔۔۔۔۔
    ایسی وہاں ہو کوئی دکاں ،توبہ کیجیے
    ۔۔۔۔۔حالانکہ انداز عام سا ہے مگر غوروفکر سے یہی مضمون زیادہ بہترانداز اور الفاظ میں لاسکتےہیں۔
     
    Last edited: ‏23 مئی 2020
  7. شکیل احمد خان
    آف لائن

    شکیل احمد خان ممبر

    شمولیت:
    ‏10 نومبر 2014
    پیغامات:
    1,344
    موصول پسندیدگیاں:
    1,083
    ملک کا جھنڈا:
    عام بات چیت میں بھی ہوگیا ہوگا ہی کہتے ہیں یا (کہیں) گیا ہوگایا کسی کا ہوگیا ہے جیسا انداز اختیار کیا جاتا ہے،
    ہمدم کے بارے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بارے میں ہوتا ہے(پہلا مصرع یوں کردیکھیں: آیا نہیں وہ غیر کا شاید ہے ہو گیا)
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ہمدم سے کوئی ایسا گماں، توبہ کیجیے
     
    Last edited: ‏23 مئی 2020
    محمد ابراہیم کوثر نے اسے پسند کیا ہے۔
  8. شکیل احمد خان
    آف لائن

    شکیل احمد خان ممبر

    شمولیت:
    ‏10 نومبر 2014
    پیغامات:
    1,344
    موصول پسندیدگیاں:
    1,083
    ملک کا جھنڈا:
    میخانے میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    کل میکدے میں کوئی اُنھیں کہہ رہا تھا یہ
    چھوڑیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    پہلے مصرعے میں تجھے ،یار
    دوسرے مصرعے میں چھوڑیں ، کیجیے۔۔۔۔۔یہ ہے شترگربگی یعنی اونٹ کے گلے میں بلی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    گویا ایک مصرعے میں تم اور دوسرے میں تو ۔۔۔۔۔۔۔۔مناسب نہیں۔
     
    Last edited: ‏23 مئی 2020
    محمد ابراہیم کوثر نے اسے پسند کیا ہے۔
  9. محمد ابراہیم کوثر
    آف لائن

    محمد ابراہیم کوثر ممبر

    شمولیت:
    ‏18 مئی 2020
    پیغامات:
    21
    موصول پسندیدگیاں:
    10
    ملک کا جھنڈا:
    سر اب نظر فرمائیں

    یہ زندگی سفر ہے میاں توبہ کیجیے
    جو سنگ میل آئے وہاں توبہ کیجیے

    جو جی میں ظلم آیا وہ ہم پر روا کیا
    قاصر ہے بولنے سے زباں توبہ کیجیے

    بازارِ عشق میں کبھی کاذب نہیں ہوئے
    کھولی ہو کوئی جھوٹی دکاں توبہ کیجیے

    میخانے میں تجھے کوئی کل کہہ رہا تھا یار
    چھوڑیں منافقت کو یہاں توبہ کیجیے

    گر ہو سکے تو باغِ محبت اگائیے
    اور موسم خزاں میں وہاں توبہ کیجیے

    میں نے کہا تھا دنیا مکافات کا ہے گھر
    اب ڈھونڈتے ہو گوشہ کہاں توبہ کیجیے

    توبہ ہو بے الم تو دل اپنا جلائیے
    آنکھوں سے جب ہوں آنسو رواں توبہ کیجیے

    غیروں کا ہو گیا ہے تبھی جاتا ہے اُدھر
    ہمدم سے کوئی ایسا گماں توبہ کیجیے
     
  10. شکیل احمد خان
    آف لائن

    شکیل احمد خان ممبر

    شمولیت:
    ‏10 نومبر 2014
    پیغامات:
    1,344
    موصول پسندیدگیاں:
    1,083
    ملک کا جھنڈا:
    دونوں مصرعے دولخت ہیں ۔انھیں کسی ایک لفظ سے یکلخت کیجیے تاکہ یہ باہم مربوط ہوکر آپ کے مافی الضمیر کے ترجمان ہوجائیں
    مثال:
    ہر ظلم تو نے ہم پہ کیا پھر بھی اے حسیں
    کھولی کبھی ہو ہم نے زباں ، توبہ کیجیے
     
    محمد ابراہیم کوثر نے اسے پسند کیا ہے۔
  11. شکیل احمد خان
    آف لائن

    شکیل احمد خان ممبر

    شمولیت:
    ‏10 نومبر 2014
    پیغامات:
    1,344
    موصول پسندیدگیاں:
    1,083
    ملک کا جھنڈا:
    اونٹ کے گلے میں بلی بندھی رہ گئی۔۔۔۔۔۔پہلے مصرعے میں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تجھے ۔۔۔۔۔واحد کا صیغہ۔۔۔۔۔۔۔۔اوردوسرے مصرعے میں چھوڑیں ۔۔۔۔۔جمع۔۔۔۔۔۔یا ۔۔۔۔وہاں تُو اور یہاں آپ ۔۔۔۔
     
    Last edited: ‏23 مئی 2020
    ًمحمد سعید سعدی اور محمد ابراہیم کوثر .نے اسے پسند کیا ہے۔
  12. شکیل احمد خان
    آف لائن

    شکیل احمد خان ممبر

    شمولیت:
    ‏10 نومبر 2014
    پیغامات:
    1,344
    موصول پسندیدگیاں:
    1,083
    ملک کا جھنڈا:
    بے الم پر سوالیہ نشان برقرار ۔۔۔۔۔۔۔۔۔بے اثر ہوسکتا ہے ،بے غم ہوسکتا ہے ،بے دم کہہ سکتے ہیں،بے عَلم(بے نشاں) بھی سنا ہے،بے عِلم (بیخبر)بھی نیا نہیں۔۔مگر یہ بے الم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔معروف چیزوں کی طرف جائیں ،ابھی مشکلات کو مت للکاریں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آگے چل کر وہ خود آپ کو دعوتِ مبارزت دیں گی تو۔۔۔۔۔۔۔۔ڈٹ جائیے گا اور انشاء اللہ ثابت کردکھائیں گے کہ:
    جلوہ گاہِ وصال کی شمعیں
    وہ بجھا بھی چکے اگر تو کیا
    چاند کو گُل کریں تو ہم جانیں!
     
    Last edited: ‏23 مئی 2020
    محمد ابراہیم کوثر نے اسے پسند کیا ہے۔
  13. شکیل احمد خان
    آف لائن

    شکیل احمد خان ممبر

    شمولیت:
    ‏10 نومبر 2014
    پیغامات:
    1,344
    موصول پسندیدگیاں:
    1,083
    ملک کا جھنڈا:
    ۔۔کیا ہمدم ۔۔۔۔۔۔آپ کا تخلص ہے؟

    سچ پوچھیں سب سے بڑا اور صحیح ترین رہبر ،استاد اور نقاد تخلیق کار کے اندر موجود ہے۔غزل یا نظم کچھ بھی لکھیں کچھ وقت ، دوچار دن بلکہ ہفتہ دس دن اُسے پیشِ نظر اور زیرِ غور رکھیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اب جبکہ نیٹ یعنی انٹرنیٹ کی سہولت میسر ہے تو کسی لفظ کے مطلب اور محلِ استعمال میں مشکل ہو تو ریختہ پر جائیں وہ لفظ لکھیں اور دیکھیں اساتذہ شعرا اور دیگر شاعروں نے اُسے کیسے برتا ہے،حتیٰ کہ گوگل سرچ پر بھی وہ لفظ لکھ دیں گے تووہ اس کے استعمال کی کتنی ہی مثالیں ڈھونڈ نکالے گا۔ آن لائین لغات مطالب مع اسناد کام کررہی ہیں ، اُن سےبھی فائدہ اُٹھائیں ۔۔۔۔۔۔ اچھے اچھے شاعروں کو دیکھا کہ علمِ عروض میں کورے ہیں مگر طبیعت کی موزونیت اُن کی رہنما رہی مگر اب یہ مشکل عروض ڈاٹ کام نے پوری کردی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔گو مشین ،مشین ہے اور سافٹ وئر بھی کل پرزہ ہی سمجھیں مگر میں نے خود تجربہ کیا کہ اِس کے پیچھے جو دماغ کارفرما رہے وہ عروض اور آئی ٹی پر بیک وقت حاوی ہیں اور اُن کی صلاحیتوں پر شبہ نہیں کیا جاسکتا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
     
    Last edited: ‏23 مئی 2020
    زنیرہ عقیل اور محمد ابراہیم کوثر .نے اسے پسند کیا ہے۔
  14. محمد ابراہیم کوثر
    آف لائن

    محمد ابراہیم کوثر ممبر

    شمولیت:
    ‏18 مئی 2020
    پیغامات:
    21
    موصول پسندیدگیاں:
    10
    ملک کا جھنڈا:
    دوسرا مصرع : اب ہم سے الفتوں کا گماں توبہ کیجیے
     
  15. محمد ابراہیم کوثر
    آف لائن

    محمد ابراہیم کوثر ممبر

    شمولیت:
    ‏18 مئی 2020
    پیغامات:
    21
    موصول پسندیدگیاں:
    10
    ملک کا جھنڈا:
    تھا آپ سے حرم میں کوئی محو گفتگو
    چھوڑیں منافقت کو یہاں توبہ کیجیے
     
  16. محمد ابراہیم کوثر
    آف لائن

    محمد ابراہیم کوثر ممبر

    شمولیت:
    ‏18 مئی 2020
    پیغامات:
    21
    موصول پسندیدگیاں:
    10
    ملک کا جھنڈا:
    توبہ ہو بے اثر تو دل اپنا جلائیے
    آنکھوں سے جب ہوں آنسو رواں توبہ کیجیے
     
  17. محمد ابراہیم کوثر
    آف لائن

    محمد ابراہیم کوثر ممبر

    شمولیت:
    ‏18 مئی 2020
    پیغامات:
    21
    موصول پسندیدگیاں:
    10
    ملک کا جھنڈا:
    ایسا نہ ہو بچ
    ایسا نہ ہو بچھڑ کے چلا جائے وہ کہیں
    ہمدم سے کوئی ایسا گماں توبہ کیجیے

    جی سر سوچ رہا ہوں
    آپ نے جو بھی فرمایا وہ میرے لیے بہت اہمیت کا حامل ہے انشاءاللہ مستقبل میں ان باتوں پر عمل کروں گا ۔آپ کی نصیحتوں کا بے حد مشکور ہوں !
    صدا خوش رہیں !
     
  18. شکیل احمد خان
    آف لائن

    شکیل احمد خان ممبر

    شمولیت:
    ‏10 نومبر 2014
    پیغامات:
    1,344
    موصول پسندیدگیاں:
    1,083
    ملک کا جھنڈا:
    توبہ نہ ہو جو دل سے تو کیوں جی جلائیے
    جب اشک آنکھ سے ہوں رواں،توبہ کیجیے
     
    Last edited: ‏25 مئی 2020
  19. شکیل احمد خان
    آف لائن

    شکیل احمد خان ممبر

    شمولیت:
    ‏10 نومبر 2014
    پیغامات:
    1,344
    موصول پسندیدگیاں:
    1,083
    ملک کا جھنڈا:
    ’’ہے ہے خدانخواستہ وہ اور دشمنی‘‘۔۔۔۔۔۔۔۔۔(غالب کے مصرعے کی گرہ لگائی جاسکتی ہے)
    ہمدم یہ آپ اور یہ گماں ،توبہ کیجیے۔۔۔۔یا۔۔۔۔۔۔۔ہمدمؔ یہ ایسے ویسے گماں، توبہ کیجیے۔۔۔۔۔۔یا ۔۔۔ہمدم یہ جیسے تیسے گماں، توبہ کیجیے!
    غالب.png
     
    Last edited: ‏25 مئی 2020
  20. محمد ابراہیم کوثر
    آف لائن

    محمد ابراہیم کوثر ممبر

    شمولیت:
    ‏18 مئی 2020
    پیغامات:
    21
    موصول پسندیدگیاں:
    10
    ملک کا جھنڈا:
    سر اب نظر فرمائیں

    یہ زندگی سفر ہے میاں توبہ کیجیے
    جو سنگ میل آئے وہاں توبہ کیجیے

    جو جی میں ظلم آیا وہ ہم پر روا کیا
    اب ہم سے الفتوں کا گماں توبہ کیجیے

    بازارِ عشق میں کبھی کاذب نہیں ہوئے
    کھولی ہو کوئی جھوٹی دکاں توبہ کیجیے

    تھا آپ سے حرم میں کوئی محوِ گفتگو
    چھوڑیں منافقت کو یہاں توبہ کیجیے

    گر ہو سکے تو باغِ محبت اگائیے
    اور موسم خزاں میں وہاں توبہ کیجیے

    میں نے کہا تھا دنیا مکافات کا ہے گھر
    اب ڈھونڈتے ہو گوشہ کہاں توبہ کیجیے

    ’’ہے ہے خدانخواستہ وہ اور دشمنی‘‘(غالب)
    ہمدم یہ آپ اور یہ گماں ،توبہ کیجیے
     
  21. شکیل احمد خان
    آف لائن

    شکیل احمد خان ممبر

    شمولیت:
    ‏10 نومبر 2014
    پیغامات:
    1,344
    موصول پسندیدگیاں:
    1,083
    ملک کا جھنڈا:
    یہ زندگی سفر ہے میاں توبہ کیجیے
    جو سنگ میل آئے وہاں توبہ کیجیے
    ۔۔۔۔۔درست
    جو جی میں ظلم آیا وہ ہم پر روا کیا
    اب ہم سے الفتوں کا گماں توبہ کیجیے
    ۔۔۔۔۔کس نے؟
    بازارِ عشق میں کبھی کاذب نہیں ہوئے
    کھولی ہو کوئی جھوٹی دکاں توبہ کیجیے۔۔۔۔۔۔۔۔۔کس نے؟
    شعرکا مطلب صاف ظاہر ہے کہ پورے شعور سے کہی ایک بات ہے۔اِسے غالباً سنسکرت میں چھند اور عربی میں بیت، فرد کہتے ہیں۔چھندکا مطلب گہری اور نکتے کی بات جبکہ بیت کا مطلب گھر ہے اور فرد کا مطلب ذاتِ واحد،اس لیے بعض وہ اشعار جن کی کوئی مکمل غزل نہیں ہوتی اور وہ اکلوتے شعر کسی ایک خاص وقت اور خاص حال میں شاعر کی فکر کا نتیجہ ہوں ،فرد کہلاتے ہیں۔غزل کا ہر شعر اپنے اندر معانی اور مفاہیم کی ایک مکمل دنیا سمیٹے ہوتا ہے جیسے ایک گھر جہاں سب کچھ موجود ہو یا ایک شخص جو اپنی ذات میں ایک مکمل دنیا ہے ۔شعرکے معنی و مفہوم کے پیچھے شاعرکا گہرا شعور ،صحیح ادراک اور مکمل آگہی کارفرماہوتی ہے۔چنانچہ کبھی کبھی یوں ہو ا ہے کہ غزل اتنی مشہور نہیں مگر اس کا کوئی شعر ایسا مشہور ہو ا کہ شاعر کی پہچان بن گیا۔اور غزل کے اشعار میں شاعر کو یہ آزادی نصیب ہے کہ وہ ہر شعر میں ایک الگ بات کہہ سکتا ہے مگر وہ بات ایسی گہری اور مکمل ہو کہ کم ازکم زبان و بیان کی غَلَطی تو نہ پائی جاتی ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    تھا آپ سے حرم میں کوئی محوِ گفتگو
    چھوڑیں منافقت کو یہاں توبہ کیجیے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔درست مگر کیا عام بول چال میں اسے یوں کہتے ہیں کہ آپ سے کوئی محوِکلام تھا اور منافقت چھوڑ کر توبہ کرنے کا کہہ رہا تھا نہیں بلکہ سیدھا انداز یہ ہے کہ حرم میں کوئی آپ سے منافقت چھوڑ کر وہیں ، اُسی جگہ اور اور اُسی وقت اِس برائی سے توبہ کرنے کا کہہ رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔”محوِ کلام‘‘ قدرے سطحی بلکہ مصنوعی لگ رہا ہے
    گر ہو سکے تو باغِ محبت اگائیے
    اور موسم خزاں میں وہاں توبہ کیجیے
    ۔۔۔۔۔۔۔محبت کا باغ اُگانا اگر سینچنے سے مبدل ہوجائے تو اچھا ہےورنہ اِسے یوں کردیں:گر ہوسکے تو باغِ محبت لگائیے
    میں نے کہا تھا دنیا مکافات کا ہے گھر
    اب ڈھونڈتے ہوگوشہ کہاں توبہ کیجیے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اب ڈھونڈتے ہیں گوشہ کہاں ، توبہ کیجیے۔کیا یہ بات یوں کہی جاتی ہے کہ آگئے ہو تو کھالیجیے؟شعر کی زبان اردو روزمرہ اور محاورے
    کے عین مطابق ہونی چاہیے ۔

    ’’ہے ہے خدانخواستہ وہ اور دشمنی‘‘(غالب)
    ہمدم یہ آپ اور یہ گماں ،توبہ کیجیے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔گرہ لگانے میں شاعر کاحوالہ ضروری نہیں انورٹڈ کاماز سے ظاہر ہوجاتا ہے کہ مصرع کہیں سے لیا گیا ہے
    ہمد م کا لفظ پہلے بھی ایک غزل کے آخری شعر میں آیا تھا اور اب بھی غزل کے آخری شعرمیں یہ لفظ موجود ہے تو کیا یہ آپ کا تخلص ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟
    ۔۔۔۔اور سن لیجیے غزل کا پہلا شعر اس وقت مطلع ہے کہ جب اِس کے دونوں مصرعوں میں قافیہ اور ردیف ہوں اور غزل کا آخری شعر اس وقت مقطع ہے جب اِس میں شاعر کا تخلص پایا جائے وگر نہ اُسے پہلا اور اِسے غزل کا آخری شعر کہا جائے گا اور وہ غزل ،غزل نہیں قطعہ کہلائے گی۔
     
    Last edited: ‏5 جون 2020
    زنیرہ عقیل اور محمد ابراہیم کوثر .نے اسے پسند کیا ہے۔
  22. محمد ابراہیم کوثر
    آف لائن

    محمد ابراہیم کوثر ممبر

    شمولیت:
    ‏18 مئی 2020
    پیغامات:
    21
    موصول پسندیدگیاں:
    10
    ملک کا جھنڈا:
    اب
    تو نے ازل سے
    تو نے ازل سے ہم پہ ستم پر ستم کیے
    اب ہم سے الفتوں کا گماں توبہ کیجیے

    بازار عشق میں کبھی کاذب نہیں ہوئے
    کھولی ہو ہم نے جھوٹی دکاں توبہ کیجیے

    ہے آپ سے حرم میں کوئی محو گفتگو
    چھوڑیں منافقت کو یہاں توبہ کیجیے

    ع :گر ہو سکے تو باغ محبت لگائیے

    ع:اب ڈھونڈتے ہیں گوشہ کہاں توبہ کیجیے
    ؟؟؟؟
    جی ہمدم تخلص ہے
     
  23. شکیل احمد خان
    آف لائن

    شکیل احمد خان ممبر

    شمولیت:
    ‏10 نومبر 2014
    پیغامات:
    1,344
    موصول پسندیدگیاں:
    1,083
    ملک کا جھنڈا:
    بیٹھا حرم میں آپ سے یہ کہہ رہا تھا وہ
    چھوڑیں منافقت کو ،یہاں توبہ کیجیے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ذرا غورکیجیے میں نے سرخ رنگ کا کومہ (کوما) کہاں لگایا ہے۔۔۔۔
     
    محمد ابراہیم کوثر نے اسے پسند کیا ہے۔
  24. شکیل احمد خان
    آف لائن

    شکیل احمد خان ممبر

    شمولیت:
    ‏10 نومبر 2014
    پیغامات:
    1,344
    موصول پسندیدگیاں:
    1,083
    ملک کا جھنڈا:
    اُس میں گزر خزاں کا کہاں توبہ کیجیے۔۔۔۔۔۔۔۔یا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہوگا گزر خزاں کا وہاں ، توبہ کیجیے
     
    محمد ابراہیم کوثر نے اسے پسند کیا ہے۔
  25. محمد ابراہیم کوثر
    آف لائن

    محمد ابراہیم کوثر ممبر

    شمولیت:
    ‏18 مئی 2020
    پیغامات:
    21
    موصول پسندیدگیاں:
    10
    ملک کا جھنڈا:
    غزل پیش ہے
    یہ زندگی سفر ہے میاں توبہ کیجیے
    جو سنگ میل آئے وہاں توبہ کیجیے

    تو نے ازل سے ہم پہ ستم پر ستم کیے
    اب ہم سے الفتوں کا گماں توبہ کیجیے

    بازارِ عشق میں کبھی کاذب نہیں ہوئے
    کھولی ہو ہم نے جھوٹی دکاں توبہ کیجیے

    بیٹھا حرم میں آپ سے یہ کہہ رہا تھا وہ
    چھوڑیں منافقت کو ، یہاں توبہ کیجیے

    گر ہو سکے تو باغِ محبت لگائیے
    ہو گا گزر خزاں کا وہاں، توبہ کیجیے یا جب ہو گزر خزاں کا وہاں ، توبہ کیجیے

    ’’ہے ہے خدانخواستہ وہ اور دشمنی‘‘
    ہمدمۧ یہ آپ اور یہ گماں، توبہ کیجیے
     
    زنیرہ عقیل نے اسے پسند کیا ہے۔
  26. شکیل احمد خان
    آف لائن

    شکیل احمد خان ممبر

    شمولیت:
    ‏10 نومبر 2014
    پیغامات:
    1,344
    موصول پسندیدگیاں:
    1,083
    ملک کا جھنڈا:
    شاباش!
    اچھے خاصے محنتی بچے ہیں آپ،خدا خوش رکھے!
     
    زنیرہ عقیل اور محمد ابراہیم کوثر .نے اسے پسند کیا ہے۔
  27. محمد ابراہیم کوثر
    آف لائن

    محمد ابراہیم کوثر ممبر

    شمولیت:
    ‏18 مئی 2020
    پیغامات:
    21
    موصول پسندیدگیاں:
    10
    ملک کا جھنڈا:
    بے حد شکریہ استاد محترم
     
  28. شکیل احمد خان
    آف لائن

    شکیل احمد خان ممبر

    شمولیت:
    ‏10 نومبر 2014
    پیغامات:
    1,344
    موصول پسندیدگیاں:
    1,083
    ملک کا جھنڈا:
    سیکھنے اور آگے بڑھنے کے لیے ۔۔۔۔۔۔۔
    MAK 5.png
     
  29. محمد ابراہیم کوثر
    آف لائن

    محمد ابراہیم کوثر ممبر

    شمولیت:
    ‏18 مئی 2020
    پیغامات:
    21
    موصول پسندیدگیاں:
    10
    ملک کا جھنڈا:
    ماشاءاللہ بہت خوب ہے مگر اتنی تبدیلی کے بعد یہ میری غزل تو نہ ہوئی
     
    شکیل احمد خان نے اسے پسند کیا ہے۔
  30. شکیل احمد خان
    آف لائن

    شکیل احمد خان ممبر

    شمولیت:
    ‏10 نومبر 2014
    پیغامات:
    1,344
    موصول پسندیدگیاں:
    1,083
    ملک کا جھنڈا:
    یہ غزل آپ کے لیے مشعلِ راہ ، رہبر اور راہ نما ہے ۔آپ اِسے کام میں لائیں ۔ آپ اِسے کام میں لاسکتے ہیں ۔یہ آپ کے ہی لیے ہے ،یہ آپ پر ہے کے اِس سے پھوٹنے والی کرنوں سے
    راستے کی تیرگیوں کو کیسے پاٹتے ہیں اور راہ بناتے بناتے منزل تک پہنچ جاتے ہیں ،یہ آپ پر ہے:
    گفتگو میں جستجو ،جستجو میں آرزو!​
    کتنے ہی لفظ اور مصرعے آپ کواپنا مفہوم اور مآخذ اور منابع جاننے کے لیے نہیں اکسائیں گے ؟جستجو کے جہاز پر سوار ہوں اور سرچشموں تک پہنچ جائیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تب آپ خود کہیں گے یہ میری غزل ہے ، یہ میری کاوش ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور میں کب سے کہہ رہا ہوں یہ آپ کہہ سکتے ہیں یہ آپ کرسکتے ہیں۔۔۔۔۔کوئی ایک مصرع ایسا نہیں جس میں آپ کے دئیے ہوئے لفظ سے کام نہ لیا گیا ہو۔۔۔۔۔۔اور سب سے بڑی اور آخری بات کہ اس دنیا میں کوئی ایسا ہے نہیں کہ جو یہ کہے کہ یہ اُس کی غزل ہے سوائے آپ ،عزت مآب جناب محمد ابراہیم کوثرصاحب صرف آپ۔خدا آپ کو ترقی وکمال سے ہمکنار فرمائے،آمین۔
     
    Last edited: ‏29 مئی 2020

اس صفحے کو مشتہر کریں