1. اس فورم پر جواب بھیجنے کے لیے آپ کا صارف بننا ضروری ہے۔ اگر آپ ہماری اردو کے صارف ہیں تو لاگ ان کریں۔

غزل برائے اصلاح - زنیرہ گل

'آپ کی شاعری' میں موضوعات آغاز کردہ از زنیرہ عقیل, ‏25 جولائی 2020۔

  1. زنیرہ عقیل
    آف لائن

    زنیرہ عقیل ممبر

    شمولیت:
    ‏27 ستمبر 2017
    پیغامات:
    20,558
    موصول پسندیدگیاں:
    9,508
    ملک کا جھنڈا:
    بھاگنا چھوڑ دو اس طرح سرابوں سے نکل
    سامنا کر لو حقیقت سے حجابوں سے نکل
    کب تلک قید رہوگے یوں کتب خانوں میں
    مان لو تم بھی مری بات کتابوں سے نکل
    اپنی خوش فہمی کو خوش بختی سمجھنے والے
    جان لو کچھ تو حقیقت ذرا خوابوں سے نکل
    چند سانسیں ہی تو باقی ہیں عمر بیت گئی
    یاد اللہ کو کرو اور حسابوں سے نکل
    جیت اور ہار کا یہ کھیل نہیں ہے لیکن
    آگ سے خود کو بچا اورعذابوں سے نکل
    خواب کا شہر اُجڑنے نہیں دوں گی لیکن
    تم بھی اک بار مگر اس کے خرابوں سے نکل
    ایک اندیشۂ بے نام ہے دل کا باسی
    تم بھی گل زیست کے بے وجہ عذابوں سے نکل

    زنیرہ گل
     
  2. زنیرہ عقیل
    آف لائن

    زنیرہ عقیل ممبر

    شمولیت:
    ‏27 ستمبر 2017
    پیغامات:
    20,558
    موصول پسندیدگیاں:
    9,508
    ملک کا جھنڈا:
  3. شکیل احمد خان
    آف لائن

    شکیل احمد خان ممبر

    شمولیت:
    ‏10 نومبر 2014
    پیغامات:
    1,333
    موصول پسندیدگیاں:
    1,080
    ملک کا جھنڈا:
    بھاگنا چھوڑ تو اس طرح سرابوں سے نکل
    سامنا کرلے حقیقت کا حجابوں سے نکل
     
    حنا شیخ 2 اور زنیرہ عقیل .نے اسے پسند کیا ہے۔
  4. شکیل احمد خان
    آف لائن

    شکیل احمد خان ممبر

    شمولیت:
    ‏10 نومبر 2014
    پیغامات:
    1,333
    موصول پسندیدگیاں:
    1,080
    ملک کا جھنڈا:
    کب تلک قید رہے گا یوں کُتب خانوں میں
    مان لے بات مری اور کتابوں سے نکل
     
    زنیرہ عقیل نے اسے پسند کیا ہے۔
  5. شکیل احمد خان
    آف لائن

    شکیل احمد خان ممبر

    شمولیت:
    ‏10 نومبر 2014
    پیغامات:
    1,333
    موصول پسندیدگیاں:
    1,080
    ملک کا جھنڈا:
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    جان لے کچھ تو حقیقت ذرا خوابوں سے نکل
     
    زنیرہ عقیل نے اسے پسند کیا ہے۔
  6. شکیل احمد خان
    آف لائن

    شکیل احمد خان ممبر

    شمولیت:
    ‏10 نومبر 2014
    پیغامات:
    1,333
    موصول پسندیدگیاں:
    1,080
    ملک کا جھنڈا:
    چند سانسیں ہی تو باقی ہیں گئی عمر گزر(عمر جو کہ زندگی کے معنوں میں ہے ع پر پیش م پر جزم اور اردو کے ہر لفظ کا آخری حَرف تو ہوتا ہی ساکن ہے)
    یاد اللہ کو تو کر اور حسابوں سے نکل
    عمر.png
     
    Last edited: ‏28 جولائی 2020
    زنیرہ عقیل نے اسے پسند کیا ہے۔
  7. شکیل احمد خان
    آف لائن

    شکیل احمد خان ممبر

    شمولیت:
    ‏10 نومبر 2014
    پیغامات:
    1,333
    موصول پسندیدگیاں:
    1,080
    ملک کا جھنڈا:
    ۔۔۔۔دُرست
     
    زنیرہ عقیل نے اسے پسند کیا ہے۔
  8. شکیل احمد خان
    آف لائن

    شکیل احمد خان ممبر

    شمولیت:
    ‏10 نومبر 2014
    پیغامات:
    1,333
    موصول پسندیدگیاں:
    1,080
    ملک کا جھنڈا:
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تو بھی اک بار مگر اِس کے خرابوں سے نکل
     
    زنیرہ عقیل نے اسے پسند کیا ہے۔
  9. شکیل احمد خان
    آف لائن

    شکیل احمد خان ممبر

    شمولیت:
    ‏10 نومبر 2014
    پیغامات:
    1,333
    موصول پسندیدگیاں:
    1,080
    ملک کا جھنڈا:
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تو بھی گل زیست کے بےوجہ عذابوں سے نکل۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔( ایک اندیشۂ بے نام ہے دل کا باسی) ۔۔۔واہ واہ واہ!
     
    Last edited: ‏28 جولائی 2020
    زنیرہ عقیل نے اسے پسند کیا ہے۔
  10. زنیرہ عقیل
    آف لائن

    زنیرہ عقیل ممبر

    شمولیت:
    ‏27 ستمبر 2017
    پیغامات:
    20,558
    موصول پسندیدگیاں:
    9,508
    ملک کا جھنڈا:
    بھاگنا چھوڑ تو اس طرح سرابوں سے نکل
    سامنا کرلے حقیقت کا حجابوں سے نکل
    کب تلک قید رہے گا یوں کُتب خانوں میں
    مان لے بات مری اور کتابوں سے نکل
    اپنی خوش فہمی کو خوش بختی سمجھنے والے
    جان لے کچھ تو حقیقت ذرا خوابوں سے نکل
    چند سانسیں ہی تو باقی ہیں عمر بیت گئی
    یاد اللہ کو کرو اور حسابوں سے نکل
    جیت اور ہار کا یہ کھیل نہیں ہے لیکن
    آگ سے خود کو بچا اورعذابوں سے نکل
    خواب کا شہر اُجڑنے نہیں دوں گی لیکن
    تو بھی اک بار مگر اِس کے خرابوں سے نکل
    ایک اندیشۂ بے نام ہے دل کا باسی
    تو بھی گل زیست کے بےوجہ عذابوں سے نکل

    زنیرہ گل
    جہاں پہنچنے کی خواہش میں عمر بیت گئی
    وہیں پہنچ کے حیات اک خیال خام ہوئی
    عبید الرحمان

    مسافرت کی صعوبت میں عمر بیت گئی
    بچی تو پاؤں سے کانٹے نکالتے گزری
    یعقوب تصور

    ----------------
    دنیا داری کی محبت میں عمر بیت گئی
    یاد اللہ کو کرو اور حسابوں سے نکل
    زنیرہ گلؔ

    فانی دنیا کی محبت میں جو گزری ہے حیات
    یاد اللہ کو کرو اور حسابوں سے نکل
    زنیرہ گلؔ


    ٹوٹنے والی ہے اب ڈور مگر سانسوں کی
    یاد اللہ کو کرو اور حسابوں سے نکل
    زنیرہ گلؔ
     
  11. شکیل احمد خان
    آف لائن

    شکیل احمد خان ممبر

    شمولیت:
    ‏10 نومبر 2014
    پیغامات:
    1,333
    موصول پسندیدگیاں:
    1,080
    ملک کا جھنڈا:
    آپ عُ+مَ+ر =عُمَر باندھ رہی ہیں ۔۔۔۔۔۔چند سانسیں ہی تو باقی ہیں عُمَر بیت گئی(اساتذۂ کرام سے تصدیق کرانی چاہیے)
    درست.png
    مسافرت.png مسافرت۲.png درست.png
    مسافرت.png درست.png
     
    Last edited: ‏29 جولائی 2020
    زنیرہ عقیل نے اسے پسند کیا ہے۔
  12. شکیل احمد خان
    آف لائن

    شکیل احمد خان ممبر

    شمولیت:
    ‏10 نومبر 2014
    پیغامات:
    1,333
    موصول پسندیدگیاں:
    1,080
    ملک کا جھنڈا:
    یاد اللہ کو کرو اور حسابوں سے نکل ۔۔۔۔۔۔کرو ۔۔۔۔۔۔کے بعد نکل کیسے ہوسکتا ہے؟خدا کو یاد کرو اور یہاں سے نکلویا خدا پر بھروسہ کر اور یہاں سے نکل۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    یاد اللہ کو تُو کر اور حسابوں سے نکل۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہی زبان وبیان کے اعتبار سے دُرسُت اور اُردُو محاورے کے مطابق ہے۔
     
    Last edited: ‏29 جولائی 2020
    زنیرہ عقیل نے اسے پسند کیا ہے۔
  13. زنیرہ عقیل
    آف لائن

    زنیرہ عقیل ممبر

    شمولیت:
    ‏27 ستمبر 2017
    پیغامات:
    20,558
    موصول پسندیدگیاں:
    9,508
    ملک کا جھنڈا:
    بہت بہت شکریہ محترم
    پہلے میری ناقص عقل میں بات نہیں آئی تھی
    لیکن اب عُمَر اور عمر کی حقیقت مجھ پر آشکار ہو چکی ہے
    میں آپ کی مشکور و ممنون ہوں
    اللہ آپ کو جزائے خیر دے آمین
     
    شکیل احمد خان نے اسے پسند کیا ہے۔
  14. شکیل احمد خان
    آف لائن

    شکیل احمد خان ممبر

    شمولیت:
    ‏10 نومبر 2014
    پیغامات:
    1,333
    موصول پسندیدگیاں:
    1,080
    ملک کا جھنڈا:
    حتیٰ کہ جب اُردُو لغت تاریخی اصولوں پر مبنی ویب گاہ جاکر عمر لکھا تو
    تو جو مطالب درج دیکھے وہ اور جو محاورے نظر آئے اُنھیں دیکھ کر یہ
    ایک نئی بات علم میں آئی لکھا تو عُمَر جارہا ہے مگر ساتھ ہی لاؤڈسپیکر پر
    لفظ کی آواز سنی تو عُمْر ہی کہا گیا :
    ۔۔۔۔کس سے کریں شکایت اور کس کی دیں دُہائی؟
    لنک نیچے دیا جارہا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!
    http://udb.gov.pk/result_details.php?word=166190
    Screenshot (1528).png
     
    Last edited: ‏31 جولائی 2020
    زنیرہ عقیل نے اسے پسند کیا ہے۔
  15. زنیرہ عقیل
    آف لائن

    زنیرہ عقیل ممبر

    شمولیت:
    ‏27 ستمبر 2017
    پیغامات:
    20,558
    موصول پسندیدگیاں:
    9,508
    ملک کا جھنڈا:
    بھاگنا چھوڑ تو اس طرح سرابوں سے نکل
    سامنا کرلے حقیقت کا حجابوں سے نکل
    کب تلک قید رہے گا یوں کُتب خانوں میں
    مان لے بات مری اور کتابوں سے نکل
    اپنی خوش فہمی کو خوش بختی سمجھنے والے
    جان لے کچھ تو حقیقت ذرا خوابوں سے نکل
    ٹوٹنے والی ہے اب ڈور مگر سانسوں کی
    یاد اللہ کو تُو کر اور حسابوں سے نکل
    جیت اور ہار کا یہ کھیل نہیں ہے لیکن
    آگ سے خود کو بچا اورعذابوں سے نکل
    خواب کا شہر اُجڑنے نہیں دوں گی لیکن
    تو بھی اک بار مگر اِس کے خرابوں سے نکل
    ایک اندیشۂ بے نام ہے دل کا باسی
    تو بھی گل زیست کے بےوجہ عذابوں سے نکل

    زنیرہ گل
     

اس صفحے کو مشتہر کریں