1. اس فورم پر جواب بھیجنے کے لیے آپ کا صارف بننا ضروری ہے۔ اگر آپ ہماری اردو کے صارف ہیں تو لاگ ان کریں۔

عیش ہی عیش ہے نہ سب غم ہے

'اردو شاعری' میں موضوعات آغاز کردہ از intelligent086, ‏22 نومبر 2019۔

  1. intelligent086
    آن لائن

    intelligent086 ممبر

    شمولیت:
    ‏28 اپریل 2013
    پیغامات:
    2,153
    موصول پسندیدگیاں:
    236
    ملک کا جھنڈا:
    عیش ہی عیش ہے نہ سب غم ہے
    زندگی اک حسین سنگم ہے

    جام میں ہے جو مشعل گل رنگ
    تیری آنکھوں کا عکس مبہم ہے

    اے غم دہر کے گرفتارو
    عیش بھی سرنوشت آدم ہے

    نوک مژگاں پہ یاد کا آنسو
    موسم گل کی سرد شبنم ہے

    درد دل میں کمی ہوئی ہے کہیں
    تم نے پوچھا تو کہہ دیا کم ہے

    مٹتی جاتی ہے بنتی جاتی ہے
    زندگی کا عجیب عالم ہے

    اک ذرا مسکرا کے بھی دیکھیں
    غم تو یہ روز روز کا غم ہے

    پوچھنے والے شکریہ تیرا
    درد تو اب بھی ہے مگر کم ہے

    کہہ رہا تھا میں اپنا افسانہ
    کیوں ترا دامن مژہ نم ہے

    غم کی تاریکیوں میں اے زیدیؔ
    روشنی وہ بھی ہے جو مدھم ہے

    علی جواد
     

اس صفحے کو مشتہر کریں