1. اس فورم پر جواب بھیجنے کے لیے آپ کا صارف بننا ضروری ہے۔ اگر آپ ہماری اردو کے صارف ہیں تو لاگ ان کریں۔

علم غیب مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

'سیرتِ سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم' میں موضوعات آغاز کردہ از شہباز حسین رضوی, ‏5 ستمبر 2013۔

  1. شہباز حسین رضوی
    آف لائن

    شہباز حسین رضوی ممبر

    شمولیت:
    ‏1 اپریل 2013
    پیغامات:
    839
    موصول پسندیدگیاں:
    1,321
    ملک کا جھنڈا:

    اللہ تعالی نے اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنی بارگاہ سے خصوصی علم عطا فرما یاہے،آپ اللہ تعالی کی عطا سے جو کچھ ہوچکا اور جوکچھ ہونے والا ہے سب جانتے ہیں۔

    سورہ آل عمران کی آیت نمبر 44 میں اللہ تعالی کا ارشاد ہے:ذَلِكَ مِنْ أَنْبَاءِ الْغَيْبِ نُوحِيهِ إِلَيْكَ۔
    ترجمہ:یہ غیب کی خبریں ہیں جس کی ائے نبی ہم آپ کی طرف وحی کرتے ہیں۔( سورة آل عمران:44)
    سورہ تکویر کی آیت نمبر 24 میں اللہ تعالی کا ارشاد ہے:وَمَا هُوَ عَلَى الْغَيْبِ بِضَنِينٍ۔ترجمہ:اور وہ نبی غیب بتانے میں بخیل نہیں۔

    (سورة التكوير:24)

    سورۃ النساء آیت 113 میں ارشاد باری تعالی ہے:

    وَأَنْزَلَ اللَّهُ عَلَيْكَ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَعَلَّمَكَ مَا لَمْ تَكُنْ تَعْلَمُ وَكَانَ فَضْلُ اللَّهِ عَلَيْكَ عَظِيمًا-

    ترجمہ: اور اللہ نے آپ پر کتاب وحکمت نازل فرمائی اور اس نے آپ کو وہ سب علوم عطا کردئیے جو آپ نہیں جانتے تھے،اور یہ آپ پر اللہ کا بہت بڑا فضل ہے۔ جامع ترمذی میں حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہےکہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم دونوں دستہائے مبارکہ میں دو کتابیں لے ہوئے برآمد ہوئے اور فرمایا :تم جانتے ہو کہ یہ دو کتابیں کیا ہیں؟ ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ ! آپ کے بتلائے بغیر ہم نہیں جان سکتے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدھے دست مبارک کی کتاب کے متعلق فرمایا کہ یہ رب العالمین کی طرف سے ایک کتاب ہے، اس میں جنتیوں کے نام اور ان کے باپ دادا اور قبیلوں کے نام ہیں اور پھر آخر میں سب کی جملہ تعداد بتلادی گئی ہے، ان میں نہ کبھی اضافہ کیا جائے گا اور نہ کمی‘ پھر اس کتاب کی نسبت فرمایا جو بائیں دست مبارک میں تھی: یہ رب العالمین کی طرف سے ایک کتاب ہے اس میں دوزخیوں کے نام اور ان کے آباء اور قبائل کے نام ہیں، جس کے آخر میں سب کی جملہ تعداد درج کردی گئی ہے‘ ان میں نہ تو کبھی اضافہ کیا جائے گا اور نہ کمی

    (جامع ترمذی: 2291) ۔

    عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَفِى يَدِهِ كِتَابَانِ فَقَالَ : أَتَدْرُونَ مَا هَذَانِ الْكِتَابَانِ. فَقُلْنَا لاَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِلاَّ أَنْ تُخْبِرَنَا. فَقَالَ لِلَّذِى فِى يَدِهِ الْيُمْنَى هَذَا كِتَابٌ مِنْ رَبِّ الْعَالَمِينَ فِيهِ أَسْمَاءُ أَهْلِ الْجَنَّةِ وَأَسْمَاءُ آبَائِهِمْ وَقَبَائِلِهِمْ ثُمَّ أُجْمِلَ عَلَى آخِرِهِمْ فَلاَ يُزَادُ فِيهِمْ وَلاَ يُنْقَصُ مِنْهُمْ أَبَدًا. ثُمَّ قَالَ لِلَّذِى فِى شِمَالِهِ هَذَا كِتَابٌ مِنْ رَبِّ الْعَالَمِينَ فِيهِ أَسْمَاءُ أَهْلِ النَّارِ وَأَسْمَاءُ آبَائِهِمْ وَقَبَائِلِهِمْ ثُمَّ أُجْمِلَ عَلَى آخِرِهِمْ فَلاَ يُزَادُ فِيهِمْ وَلاَ يُنْقَصُ مِنْهُمْ أَبَدًا.

    صحیح بخاری شریف میں انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:

    عَنْ أَنَسٍ رضى الله عنه أَنَّ النَّبِىَّ صلى الله عليه وسلم� نَعَى زَيْدًا وَجَعْفَرًا وَابْنَ رَوَاحَةَ لِلنَّاسِ قَبْلَ أَنْ يَأْتِيَهُمْ خَبَرُهُمْ ، فَقَالَ أَخَذَ الرَّايَةَ زَيْدٌ فَأُصِيبَ ، ثُمَّ أَخَذَ جَعْفَرٌ فَأُصِيبَ ، ثُمَّ أَخَذَ ابْنُ رَوَاحَةَ فَأُصِيبَ ، وَعَيْنَاهُ تَذْرِفَانِ ، حَتَّى أَخَذَ سَيْفٌ مِنْ سُيُوفِ اللَّهِ حَتَّى فَتَحَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ.

    حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زید ‘ حضرت جعفر اور حضرت ابن رواحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی شہادت کی خبر‘ ان کے بارے میں وہاں سے باضابطہ اطلاع آنے سے قبل ہی صحابہ کو عطافرمائی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: پرچم اسلام کو زید رضی اللہ عنہ نے لیا اور وہ شہید ہوگئے‘ پھر جعفر رضی اللہ عنہ نے پرچم اسلام تھام لیا اور جام شہادت نوش کرلیا‘ پھر ابن رواحہ رضی اللہ عنہ نے عَلم اسلام سنبھالا اور وہ بھی شہید ہوگئے۔ اس وقت حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی چشمان اقدس سے آنسو رواں تھے۔ (پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا) یہاں تک کہ اللہ کی تلواروں میں سے ایک تلوار خالد ابن ولید رضی اللہ عنہ نے اسلام کا جھنڈا لیا اور اللہ نے اہل اسلام کو فتح و نصرت سے ہمکنار کیا۔

    (صحیح بخاری ‘ حدیث نمبر: 3757)۔

    مسند امام احمد میں روایت ہے:عَنْ مُنْذِرٍ حَدَّثَنَا أَشْيَاخٌ مِنَ التَّيْمِ قَالُوا قَالَ أَبُو ذَرٍّ لَقَدْ تَرَكَنَا مُحَمَّدٌ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا يُحَرِّكُ طَائِرٌ جَنَاحَيْهِ فِى السَّمَاءِ إِلاَّ أَذْكَرَنَا مِنْهُ عِلْماً.

    حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ نے فرمایا:حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حال ميں ہمیں رخصت کیا کہ فضا میں محو پرواز ہر قسم کے�� پرندوں تک کے بارے میں آپ نے ہمیں آگہی بخشی ہے

    (مسند امام احمد‘ حدیث نمبر: 21970)۔

    صحیح بخاری شریف میں روایت ہے کہ نبی کریم علیہ الصلوٰۃ والتسلیم کا گذر دو قبروں پر سے ہوا تو آپ نے فرمایا کہ ان دونوں کو عذاب ہورہا ہے اور عذاب کسی ایسی وجہ سے نہیں ہورہا ہے جس سے بچنا دشوار تھا ‘ان میں سے ایک توپیشاب سے نہیں بچتا تھا اور دوسرا چغلخوری کرتا پھرتا تھا، پھر آپ نے ایک سبز شاخ منگواکر اس کے دو حصے کئے اور ہر ایک ٹکڑا ہر قبر پر لگادیا‘ صحابہ نے عرض کیا: اس کی حکمت کیا ہے؟ یا رسول اللہ ! ارشاد فرمایا: جب تک یہ ٹہنیاں خشک نہ ہوں ان کے عذاب میں تخفیف ہوتی رہے گی ۔

    (صحیح بخاری شریف،کتاب الجنائز، باب الجريد على القبر،حدیث نمبر:1361)

    عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍرضى الله عنهما ، عَنِ النَّبِىِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ مَرَّ بِقَبْرَيْنِ يُعَذَّبَانِ فَقَالَ : إِنَّهُمَا لَيُعَذَّبَانِ ۔ وَمَا يُعَذَّبَانِ فِى كَبِيرٍ ، أَمَّا أَحَدُهُمَا فَكَانَ لاَ يَسْتَتِرُ مِنَ الْبَوْلِ ، وَأَمَّا الآخَرُ فَكَانَ يَمْشِى بِالنَّمِيمَةِ� . ثُمَّ أَخَذَ جَرِيدَةً رَطْبَةً فَشَقَّهَا بِنِصْفَيْنِ ، ثُمَّ غَرَزَ فِى كُلِّ قَبْرٍ وَاحِدَةً . فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لِمَ صَنَعْتَ هَذَا ؟ فَقَالَ : لَعَلَّهُ أَنْ يُخَفَّفَ عَنْهُمَا مَا لَمْ يَيْبَسَا.

    اس موقع پر آپ نے بیک وقت ماضی ، حال و مستقبل کی خبر دی کہ حالیہ قبر میں ہورہے عذاب کو بھی ملاحظہ فرمایا اور ماضی میں کئے گئے ان کی خطاؤں کی بھی نشاندہی فرمائی اور مستقبل کے بارے میں فرمایا کہ جب تک یہ ٹہنیاں خشک نہ ہوں اُن کے عذاب میں تخفیف ہوتی رہے گی۔
     
    نعیم, بہرام, ملک بلال اور مزید ایک رکن نے اسے پسند کیا ہے۔
  2. پاکستانی55
    آف لائن

    پاکستانی55 ناظم سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏6 جولائی 2012
    پیغامات:
    98,397
    موصول پسندیدگیاں:
    24,234
    ملک کا جھنڈا:
    جزاک اللہ جناب
     
    شہباز حسین رضوی نے اسے پسند کیا ہے۔
  3. ملک بلال
    آف لائن

    ملک بلال منتظم اعلیٰ سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏12 مئی 2010
    پیغامات:
    22,388
    موصول پسندیدگیاں:
    7,493
    ملک کا جھنڈا:
    جزاک اللہ بھائی
    بہت شکریہ
     
    پاکستانی55 اور شہباز حسین رضوی .نے اسے پسند کیا ہے۔
  4. کاکا سپاہی
    آف لائن

    کاکا سپاہی ممبر

    شمولیت:
    ‏24 مئی 2007
    پیغامات:
    3,796
    موصول پسندیدگیاں:
    596
    ملک کا جھنڈا:
    سرکارِ دو عالم حضرت محمد صلی اللہ عليہ وسلم اپنے صحابہ کرام رضی اللہ تعالٰی عنہما کے درمیان تشریف فرما تھے کہ ایک یتیم جوان شکایت لیئے حاضر خدمت ہوا۔ کہنے لگا یا رسول اللہ؛ میں اپنی کھجوروں کے باغ کے ارد گرد دیوار تعمیر کرا رہا تھا کہ میرے ہمسائے کی کھجور کا ایک درخت دیوار کے درمیان میں آ گیا۔ میں نے اپنے ہمسائے سے درخ...واست کی کہ وہ اپنی کھجور کا درخت میرے لیئے چھوڑ دے تاکہ میں اپنی دیوار سیدھی بنوا سکوں، اُس نے دینے سے انکار کیا تو میں نے اُس کھجور کے درخت کو خریدنے کی پیشکس کر ڈالی، میرے ہمسائے نے مجھے کھجور کا درخت بیچنے سے بھی انکار کر دیا ہے۔سرکار صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس نوجوان کے ہمسائے کو بلا بھیجا۔ ہمسایہ حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُسے نوجوان کی شکایت سُنائی جسے اُس نے تسلیم کیا کہ واقعتا ایسا ہی ہوا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُسے فرمایا کہ تم اپنی کھجور کا درخت اِس نوجوان کیلئے چھوڑ دو یا اُس درخت کو نوجوان کے ہاتھوں فروخت کر دو اور قیمت لے لو۔ اُس آدمی نے دونوں حالتوں میں انکار کیا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بات کو ایک بار پھر دہرایا؛ کھجور کا درخت اِس نوجوان کو فروخت کر کے پیسے بھی وصول کر لو اور تمہیں جنت میں بھی ایک عظیم الشان کھجور کا درخت ملے گا جِس کے سائے کی طوالت میں سوار سو سال تک چلتا رہے گا۔دُنیا کےایک درخت کے بدلے میں جنت میں ایک درخت کی پیشکش ایسی عظیم تھی جسکو سُن کر مجلس میں موجود سارے صحابہ کرام رضی اللہ عنہما دنگ رہ گئے۔ سب یہی سوچ رہے تھے کہ ایسا شخص جو جنت میں ایسے عظیم الشان درخت کا مالک ہو کیسے جنت سے محروم ہو کر دوزخ میں جائے گا۔ مگر وائے قسمت کہ دنیاوی مال و متاع کی لالچ اور طمع آڑے آ گئی اور اُس شخص نے اپنا کھجور کا درخت بیچنے سے انکار کردیا۔مجلس میں موجود ایک صحابی (ابا الدحداح) آگے بڑھے اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، اگر میں کسی طرح وہ درخت خرید کر اِس نوجوان کو دیدوں تو کیا مجھے جنت کا وہ درخت ملے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا ہاں تمہیں وہ درخت ملے گا۔ابا الدحداح اُس آدمی کی طرف پلٹے اور اُس سے پوچھا میرے کھجوروں کے باغ کو جانتے ہو؟ اُس آدمی نے فورا جواب دیا؛ جی کیوں نہیں، مدینے کا کونسا ایسا شخص ہے جو اباالدحداح کے چھ سو کھجوروں کے باغ کو نہ جانتا ہو، ایسا باغ جس کے اندر ہی ایک محل تعمیر کیا گیا ہے، باغ میں میٹھے پانی کا ایک کنواں اور باغ کے ارد گرد تعمیر خوبصورت اور نمایاں دیوار دور سے ہی نظر آتی ہے۔ مدینہ کے سارے تاجر تیرے باغ کی اعلٰی اقسام کی کھجوروں کو کھانے اور خریدنے کے انتطار میں رہتے ہیں۔ابالداحداح نے اُس شخص کی بات کو مکمل ہونے پر کہا، تو پھر کیا تم اپنے اُس کھجور کے ایک درخت کو میرے سارے باغ، محل، کنویں اور اُس خوبصورت دیوار کے بدلے میں فروخت کرتے ہو؟اُس شخص نے غیر یقینی سے سرکارِ دوعالم کی طرف دیکھا کہ کیا عقل مانتی ہے کہ ایک کھجور کے بدلے میں اُسے ابالداحداح کے چھ سو کھجوروں کے باغ کا قبضہ بھی مِل پائے گا کہ نہیں؟ معاملہ تو ہر لحاظ سے فائدہ مند نظر آ رہا تھا۔ حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم اور مجلس میں موجود صحابہ کرام رضی اللہ عنہما نے گواہی دی اور معاملہ طے پا گیا۔ابالداحداح نے خوشی سے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا اور سوال کیا؛ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، جنت میں میرا ایک کھجور کا درخت پکا ہو گیا ناں؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں۔ ابالدحداح سرکار صلی اللہ علیہ وسلم کے جواب سے حیرت زدہ سے ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بات کو مکمل کرتے ہوئے جو کچھ فرمایا اُس کا مفہوم یوں بنتا ہے کہ؛ اللہ رب العزت نے تو جنت میں ایک درخت محض ایک درخت کے بدلے میں دینا تھا۔ تم نے تو اپنا پورا باغ ہی دیدیا۔ اللہ رب العزت جود و کرم میں بے مثال ہیں اُنہوں نے تجھے جنت میں کھجوروں کے اتنے باغات عطاء کیئے ہیں کثرت کی بنا پر جنکے درختوں کی گنتی بھی نہیں کی جا سکتی۔ ابالدحداح، میں تجھے پھل سے لدے ہوئے اُن درختوں کی کسقدر تعریف بیان کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی اِس بات کو اسقدر دہراتے رہے کہ محفل میں موجود ہر شخص یہ حسرت کرنے لگا اے کاش وہ ابالداحداح ہوتا۔ابالداحداح وہاں سے اُٹھ کر جب اپنے گھر کو لوٹے تو خوشی کو چُھپا نہ پا رہے تھے۔ گھر کے باہر سے ہی اپنی بیوی کو آواز دی کہ میں نے چار دیواری سمیت یہ باغ، محل اور کنواں بیچ دیا ہے۔ بیوی اپنے خاوند کی کاروباری خوبیوں اور صلاحیتوں کو اچھی طرح جانتی تھی، اُس نے اپنے خاوند سے پوچھا؛ ابالداحداح کتنے میں بیچا ہے یہ سب کُچھ؟ ابالداحداح نے اپنی بیوی سے کہا کہ میں نے یہاں کا ایک درخت جنت میں لگے ایسے ایک درخت کے بدلے میں بیچا ہے جِس کے سایہ میں سوار سو سال تک چلتا رہے۔ ابالداحداح کی بیوی نے خوشی سے چلاتے ہوئے کہا؛ ابالداحداح، تو نے منافع کا سودا کیا ہے۔ ابالداحداح، تو نے منافع کا سودا کیا ہے۔دنیا کی قُربانی کے بدلے میں آخرت کی بھلائی یا دُنیا میں اُٹھائی گئی تھوڑی سی مشقت کے بدلے کی آخرت کی راحت۔۔۔۔ کون تیار ہے ایسے سودے کیلئے؟؟؟
     
    نعیم، بہرام اور پاکستانی55 نے اسے پسند کیا ہے۔

اس صفحے کو مشتہر کریں