1. اس فورم پر جواب بھیجنے کے لیے آپ کا صارف بننا ضروری ہے۔ اگر آپ ہماری اردو کے صارف ہیں تو لاگ ان کریں۔

عرب کا چاند

'سیرتِ سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم' میں موضوعات آغاز کردہ از فرح ناز, ‏31 مئی 2010۔

  1. فرح ناز
    آف لائن

    فرح ناز ممبر

    شمولیت:
    ‏26 مئی 2010
    پیغامات:
    236
    موصول پسندیدگیاں:
    2
    رسول پاک صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات گرامی کی مدح میں یوں تو بہت سے کتابیں لکھی گئیں ہیں مگر ایک ہِند و مصنف کی عشق رسول میں ڈوبی ہوئی یہ نگارش ایک منفرد اور اچھوتی تحریر ہے۔
    یہی خصوصیت وجہ انتخاب بھی بن گئی،،،،،،،
    آخر وہ روز سعید اور مبارک گھڑی آپہنچی جس کے انتظار میں زمین و آسمان کا ذرہ ذرہ بیتاب تھا۔بہار ابھی کم سن تھی۔باغ و راغ کے اندر قافلہ گل آپہنچا تھا۔حد نظر تک زمین کا دامن پھولوں سے پٹا پڑا تھا۔نسیم خوشبو سے مہکی ہوئی تھی کہ حصرت عبداللہ کے کاشانہ میں وہ ماہتاب طلوع ہو گیا جس کی ضیا پاشیوں سے شب دیجور کی تاریکیاں اس طرح کافور ہو گئیں جس طرح اس کے عملی نور افشانیوں سے آگے چل کر جہالت کی تاریکیاں دور ہو جانے والی تھیں۔
    صبح صادق کا وقت تھا۔آفتاب عالمتاب ابھی افق عالم پر طلوع نہیں ہوا تھا کہ ابو لہب کی لونڈی ثوبیہ نے مبارک و مسعود نو مولود کا مثردہ جانفرا ابو لہب کو سنایا۔اس نے مسرت میں آکر اس لونڈی کو آزاد کر دیا۔عبدالمطلب نے جب سنا تو ان کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ رہا۔اپنے نور نظر حضرت عبداللہ کی محبوب یادگار کو دیکھنے کے اشتیاق نے بے تاب کر دیا۔حضور انور صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایک چادر اطہر میں لپیٹ کر آپ کے پاس لایا گیا۔آپ اس عظیم المرتبت بت شکن کو گود میں اٹھا کر خوشی خوشی بتوں کا طواف کرانے کیلئے کعبتہ اللہ میں لے گئے۔اس وقت قریش کے اس بزرگ حضرت عبدالمطلب کے حاشیہ خیال میں بھی نہ گزرا ہو گا کہ اس وقت جس ننھی سی ہستی کو میں گود میں اٹھا کر بتوں کے حضور اس کی درازی عمر اور خوشحالی و فارغ البالی کے لئے دعا مانگنے آیا ہوں۔سن بلوغت کو پہنچ کر وہی مہتم بالشان ہستی ان بتوں کی پرستش کے خلاف ایک ایسی انقلاب آفرین صدا بلند کرے گی جسے سن کر یہ سب بت منہ کے بل گر گئے ہو اللہ احمد کہنے لگیں گے۔
    کائنات کا ذرہ ذرہ اس نو مولود مسعود کی خوشی میں‌سر شار تھا۔ملائکہ اہل زمین کو مبارک باد دینے کے لئے آسمان سے روح پرور پھولوں کی بارش کر رہے تھے۔لیکن کاخ کسریٰ میں ایک زبردست زلزلہ آیا اور اس اس کے چودہ کنگرے گر گئے۔استحز کا مشہور آتش کدہ یکایک بجھ گیا۔یہ اس انقلاب عظیم کی پیش گوئی تھی۔جو اس جلیل القدر مولود کی حیات مطہرہ کے ساتھ وابستہ تھا۔
    ابھی جاری ہے،،،،،
    ابھی نماز کا وقت ہو رہا ہے نماز پڑھ لوں،،،،،باقی انشاءاللہ بشط زندگی صبح لکھوں گی،،،،،
     
  2. نعیم
    آف لائن

    نعیم مشیر

    شمولیت:
    ‏30 اگست 2006
    پیغامات:
    58,094
    موصول پسندیدگیاں:
    11,138
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: عرب کا چاند

    سبحان اللہ فرح ناز بہن۔
    عمدہ تحریر ہے پڑھ کر روح تک خوشی سے جھوم اٹھی ۔ جزاک اللہ خیرا
     
  3. فرح ناز
    آف لائن

    فرح ناز ممبر

    شمولیت:
    ‏26 مئی 2010
    پیغامات:
    236
    موصول پسندیدگیاں:
    2
    جواب: عرب کا چاند

    نعیم صاحب پڑھنے کا اور پسند فرمانے کا شکریہ،،،،،،
     
  4. فرح ناز
    آف لائن

    فرح ناز ممبر

    شمولیت:
    ‏26 مئی 2010
    پیغامات:
    236
    موصول پسندیدگیاں:
    2
    جواب: عرب کا چاند

    کائنات کا ذرہ ذرہ اس نو مولود مسعود کی خوشی میں‌سر شار تھا۔ملائکہ اہل زمین کو مبارک باد دینے کے لئے آسمان سے روح پرور پھولوں کی بارش کر رہے تھے۔لیکن کاخ کسریٰ میں ایک زبردست زلزلہ آیا اور اس اس کے چودہ کنگرے گر گئے۔استحز کا مشہور آتش کدہ یکایک بجھ گیا۔یہ اس انقلاب عظیم کی پیش گوئی تھی۔جو اس جلیل القدر مولود کی حیات مطہرہ کے ساتھ وابستہ تھا۔
    آپ کی آفرینش والی رات شہاب ثاقب اس قدر ٹوٹے کہ لوگ حیرت اور خوف کے مارے گھروں سے باہر نکل آئے۔قریش نے ولید بن مغیرہ سے دریافت کیا کہ یہ کیا بات ہے؟اس نے کہا جب شہاب ثاقب اس طرح ٹوٹا کرے ہیں تو ضرور کوئی عظیم الشان واقع پیش آیا کرتا ہے۔یوسف یہودی نے کہا کہ وہ نبی صل اللہ علیہ وآلہ وسلم آخر الزمان جس کی آمد خوش آئند کی بشارتیں آسمانی کتابیں دے رہی ہیں۔آج کی رات منصہ شہود پر جلوہ گر ہو جائے گی۔اس طرح اور بہت سے حیرت انگیز واقعات ظہور پزیر ہوئے۔کہا جاتا ہے کہ آپ شکم مادرسے مختون پیدا ہوءے تھے اور آپ کیساتھ کچھ آلائش بھی نہیں نکلی تھی۔
    حضور انور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی دعوت عقیقہ کے بعد قوم ہوازن کے قبیلہ سعد کی ایک عورت حلیمہ کے کاشانہ کو اپنے نور سے منور فرمایا۔میرے خیال ناقص میں عرب اپنے ایام جاہلیت میں اپنے بچوں کی صحت جسمانی کی طرف خاص توجہ مبذول کرنے کے اعتبار سے موجودہ دور کے متمدن اور مذہب ہندوستان سے کہیں افضل تھا۔قدیم ایام سے شرفائے عرب میں دستور چلا آتا تھا کہ اپنے بچوں ان کی پیدائش کے چند روز بعد ہی بدوی عورتوں کے حوالے کر دیتے تھت تاکہ صحرا کہ صحت بخش کھلی ہوا میں نشوونما پائین۔
    علاوہ ازیں ایام جاہلیت کا عرب'زبان کی فصاحت و بلاغت میں اپنا ثانی نہیں رکھتا تھا۔
    مناظر فطرت کے درمیان اپنی زندگی کے ایام گذارنے والے بدوی اپنے کلام کی فصاحت کے لئے شہر کے باشندوں سے بھی گوئے سبقت لے گئے تھے۔اس لءے امرائے عرب کا یہ خیال بھی ہوتا تھا کہ صحت جسمانی کے علاوہ بچہ کی دماغی قوتیں بھی پورے طور پر بدوی عورتوں کے آغوش میں پرورش پا سکیں گی۔اور ان کی زبان کو فصاحت کی چاٹ لگ جائے گی۔
    اس قدیم قابل رشک رواج کے مطابق حضور انور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی حلیمہ سعدیہ کے سپرد کر دیئے گئے۔تاکہ مناظر فطرت کے درمیان صحرا کی کوثر پاش نسیم میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صحت جسمانی قابل رشک بن سکے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زبان مبارک پر بدووّں کی فصیح زبان کے الفاظ چڑھ جائیں۔
    ابھی جاری ہے،،،،
     
  5. ھارون رشید
    آف لائن

    ھارون رشید برادر سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏5 اکتوبر 2006
    پیغامات:
    131,462
    موصول پسندیدگیاں:
    16,833
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: عرب کا چاند

    [​IMG]
    [​IMG]
     
  6. فرح ناز
    آف لائن

    فرح ناز ممبر

    شمولیت:
    ‏26 مئی 2010
    پیغامات:
    236
    موصول پسندیدگیاں:
    2
    جواب: عرب کا چاند

    ھارون صاحب پڑھ کر پسند کرنے کا شکریہ
     
  7. فرح ناز
    آف لائن

    فرح ناز ممبر

    شمولیت:
    ‏26 مئی 2010
    پیغامات:
    236
    موصول پسندیدگیاں:
    2
    جواب: عرب کا چاند

    اس قدیم قابل رشک رواج کے مطابق حضور انور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی حلیمہ سعدیہ کے سپرد کر دیئے گئے۔تاکہ مناظر فطرت کے درمیان صحرا کی کوثر پاش نسیم میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صحت جسمانی قابل رشک بن سکے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زبان مبارک پر بدووّں کی فصیح زبان کے الفاظ چڑھ جائیں۔
    بدوعورتیں اکثر شہروں میں آتی رہتی تھیں۔تاکہ نومولود بچوں کی پرورش کے لئے لے جائیں حضور انور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت باسعادت کے چند یوم بعد چند بدوی عورتیں مکہ میں آئیں اور حضور انور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تیم سمجھ کر لے جانے میں کچھ تامل کیا کیونکہ ان کی آنکھوں پر طمع نے ٹھیکری باندھ رکھی تھی۔ان کو ایک یتیم بچے کی پرورش کے عوض کسی گراں قدر معاوضہ اور بیش قرار انعام کی توقع نہ تھی۔وہ نہ جانتی تھیں کہ اس ننھی سے ہستی کے قدموں پر دین و دنیا کی برکتیں نثار ہوتی ہیں اور اس کی پرورش کیساتھ رحمت خداوندی بھی ان کے شامل حال ہو جائے گی آخر ایک عورت حلیمہ نے حضور انور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو لے جانے کا شرف حاصل کرنے کا تہیہ کر لیا۔کیونکہ اس شہر میں کسی اور امیر شخص کا لڑکا پرورش کے لئے نہ مل سکا۔
    حلیمہ کہتی ہیں جب اس مبارک ہستی کو میں دیکھنے کے لئے گئی جس کی عظیم المنزلت شخصیت کا مجھے خواب میں بھی علم نہ تھا۔تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک چادر میں لپیٹے ہوئے محو خواب ناز تھے۔میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سینہ مبارک پر ہاتھ رکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی ننھی ننھی آنکھین جن کی گہرائیوں میں ایک دلکش اور سحر کار چمک تھی،واکردیں۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لبوں پر ایک دلربا اور دلفریب تبسم کھیلنے لگا۔یہ دیکھ کر میری روح پر ایک عجیب و غریب مسرت کا عالم طاری ہو گیا میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیشانی مبارک پر جس میں سعادت انسانی اور قوت روحانی کا ایک درخشاں ستارہ چمک رہا تھا ایک محبت بحرا بوسہ دیا۔اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اٹھا کر اپنے سینے سے چمٹا لیا۔اس چاند سے صورت نے میرا من موہ لیا تھا اور میں اس کی پرورش کو اپنی مسرت کا سرمایہ کمال سمجھنے لگی۔
    بت شکن پیغمبر بتوں کے حضور میں​

    حضور انور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دادا حضرت عبدالمطلب اپنے جگر گوشہ حضرت عبداللہ کی محبت بھری یاد گار کو گود میں اٹھائے ہوئے حلیمہ سعدیہ کو ہمراہ لے کر کعبتہ اللہ میں جسے قریش مکہ نے اب بیت الصنام بنا چھوڑا تھا پہنچے اور بتوں کے حضور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی درازی عمر کی دعا مانگی پھر ان بےجان پتھر کے بتوں کا شاہد عادل بنا کر حلیمہ سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پوری پوری حفاظت کا عمد و پیمان لیا۔اور اس خوش قسمت بدوی عورت کی گود میں دنیا کی یہ عظیم الشان اور رفیع المرتبت ہستی دے دی گئی۔
    انسان کی نگاہیں مستقبل کے واقعات کا مطالعہ کرنے سے قاصر ہیں۔حضرت عبدالمطلب کو خواب میں بھی اس بات کا یقین نہ ہو گا کہ یہ ننھی سی ہستی جسے آج میں بتوں کے حضور میں لے کر ان سے اس کی درازی عمر کی دعا مانگ رہا ہوں اور جن کو گواہ کر کے اسے میں حلیمہ سعدیہ کے سپرد کر رہا ہوں کسی دن انہی بتوں کی پرستش کو انسانی حماقت کا ایک نہایت افسوسناک مظاہرہ بتائے گی۔اور ہمارے یہ مخلوق خداوند اس کی ایک جنبش نگاہ سے سرنگوں ہو جائیں گے۔
    ابھی جاری ہے،،،،کچھ کام کر لوں انشاءاللہ فارغ ہو کر باقی بھی لکھوں گی،،،،
     
  8. کنورخالد
    آف لائن

    کنورخالد ممبر

    شمولیت:
    ‏17 مئی 2010
    پیغامات:
    648
    موصول پسندیدگیاں:
    4
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: عرب کا چاند

    اس پیاری اردو میں ایسا ٹیلینٹ دیکھ کر خوشی ھوی
    بہت پیاری تحریر ھے
     
  9. اقرا ناز
    آف لائن

    اقرا ناز ممبر

    شمولیت:
    ‏31 اگست 2009
    پیغامات:
    147
    موصول پسندیدگیاں:
    6
    جواب: عرب کا چاند

    جزاک اللہ خیر بہت عمدہ شیرنگ
     
  10. ھارون رشید
    آف لائن

    ھارون رشید برادر سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏5 اکتوبر 2006
    پیغامات:
    131,462
    موصول پسندیدگیاں:
    16,833
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: عرب کا چاند

    صلےٰ اللہ عیلک یا رسول اللہ :saw:

    [​IMG]
     
  11. فرح ناز
    آف لائن

    فرح ناز ممبر

    شمولیت:
    ‏26 مئی 2010
    پیغامات:
    236
    موصول پسندیدگیاں:
    2
    جواب: عرب کا چاند

    خالد صاحب۔اقرا صاحبہ۔ہارون صاحب۔سب کا شکریہ،،،،
     
  12. فرح ناز
    آف لائن

    فرح ناز ممبر

    شمولیت:
    ‏26 مئی 2010
    پیغامات:
    236
    موصول پسندیدگیاں:
    2
    جواب: عرب کا چاند

    انسان کی نگاہیں مستقبل کے واقعات کا مطالعہ کرنے سے قاصر ہیں۔حضرت عبدالمطلب کو خواب میں بھی اس بات کا یقین نہ ہو گا کہ یہ ننھی سی ہستی جسے آج میں بتوں کے حضور میں لے کر ان سے اس کی درازی عمر کی دعا مانگ رہا ہوں اور جن کو گواہ کر کے اسے میں حلیمہ سعدیہ کے سپرد کر رہا ہوں کسی دن انہی بتوں کی پرستش کو انسانی حماقت کا ایک نہایت افسوسناک مظاہرہ بتائے گی۔اور ہمارے یہ مخلوق خداوند اس کی ایک جنبش نگاہ سے سرنگوں ہو جائیں گے۔
    رحمت خداوندی کی پہلی جھلک​

    حضور انور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جب حلیمہ سعدیہ نے گود میں اٹھایا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی والدہ ماجدہ نے اسے بتایا کہ یہ ننھی سی ہستی کسی دن تاریخ عالم کی ایک جلیل القدر شخصیت بننے والی ہے تم اس کی پرورش خوب اچھی طرح سے کرو۔پرہ غیب سے تمہاری محنت کا معاوضہ تمہاری توقعات سے کہیں بڑھ کر ملے گا۔اس وقت تو شاید حلیمہ کو ان حقیقت نواز الفاظ کی صداقت کا یقین آیا یا نہیں۔لیکن جب وہ آپ کو گود میں لئے اپنے گھر کو پلٹ رہی تھیں تو راستے میں اس خداوندی کی پہلی جھلک نظر آگئی اور اسے یقین ہو گیا کہ بلاشبہ یہ چاند سی صورت کسی دن دنیا کے آسمان پر چاند بن کر ہی چمکے گی۔
    حلیمہ کہتی ہے کہ میری سواری کا جانور بلکل مریل سا تھا۔اور سب عورتوں کی سواریوں سے پیچھے رہتا تھا۔لیکن جب حضور انور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو گود میں لے کر اس پر بیٹھی تو خبر نہیں کہاں سے اس میں طاقت آگئی اس کی قدموں میں ایسی سرعت پیدا ہوگئی کہ کسی کی سواری اس کی گرد کو بھی پہنچ نہیں سکتی تھی۔یہ تعجب انگیز بات دیکھ کر مجھے یقین ہو گیا کہ آمنہ کے الفاظ صداقت سے لبریز تھے۔
    ابھی جاری ہے،،،،،،،
     
  13. فرح ناز
    آف لائن

    فرح ناز ممبر

    شمولیت:
    ‏26 مئی 2010
    پیغامات:
    236
    موصول پسندیدگیاں:
    2
    جواب: عرب کا چاند

    دوسری جھلک​

    حضور انور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اپنی شمع وجود سے حلیمہ رضی اللہ عنہا کا تاریک گھر منور کے لئے ابھی چند روز بھی نہ گذر پائے تھے کہ اس کے گھر کے حالات میں ایک انقلاب پیدا ہو گیا۔پہلے حلیمہ اور اس کا شوہر باوجود اپنا پسینہ بہانے کے بھی تنگی اور عسرت میں بسر کرتے تھے۔اب یہ حال ہو گیا کہ مٹی کو بھی باتھ لگاتے تو سونا ہو جاتی تھی ہر طرف خوشحالی اور فارغ البالی کا دور دو رہ گیا بکریاں اس قدر دودھ دینے لگیں کہ سبس سیر ہو کر پیتے تھے یہ حال دیکھ کر گاوں کے دوسرے لوگ بھی اپنے چرواہوں پر زور دینے لگے تم بھی اپنی بکریاں اس چراگاہ میں لے جایا کرو جس میں حلیمہ کی بکریاں چرتی ہیں۔کچھ تو حضور انور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صورت ہی من موہنی تھی اس گلدستہ جمال اس پیکر حسن کو دیکح کس کے دل میں محبت کے جذبات نہ پیدا ہو جاتے اس حسن و جمال پر مستزادیہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آنے سے حلیمہ کے گھر کی کایا ہی پلٹ گئی۔اس لئے گھر بھر آپ کا گرویدہ ہو گیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خاطرداری اور پرورش میں کوئی دقیقہ باقی نہ چھوڑا جانے لگا۔جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس قابل ہوئے کہ زبان مبارک سے اپنے شیدائی پرورش کرنے والوں کی مسرت میں اضافہ کرنے کے لئے کچھ ارشاد فرما سکیں تو سبحان اللہ اور اللہ اکبر کے توحید پرور کلمات آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ورد زبان پایا گیا۔جب ذرا اور ہوش سنبھالا تو جس وقت کھانا تباول فرمانے لگتے یا کوئی اور کام شروع کرنے لگتے تو بسم اللہ الرحمن الرحیم ضرور پڑھ لیتے۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زبان حقیقت ترجمان سے اس چھوٹی سی عمر میں ایسے کلمات نکلنا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی روح کی رفعتوں پر دال ہے۔حضور انور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنی رضائی ماں حلیمہ رضی اللہ عنہہ سے بے انتہا محبت تحی۔یہاں تک کہ منصب نبوت پر سرفراز ہونے کے بعد جب حلیمہ آپ کو ملنے آئی تو تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جوش مسرت میں بے خود ہو کر دوڑے اور فورا اپنی چارد مبارک آپ کے بیٹھنے کے لئے بچھا دی۔اس کے بعد ایک جگہ کسی جنگ میں قبیلہ بنی سعد کے بہت سے آدمی گرفتار ہو کے آئے تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حلیمہ کی سفارش پر سب کو رہا کر دیا۔عہد طفولیت کے اوائل میں بھی جب آپ کاشانہ حلیمہ میں پرورش پا رہے تھے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حلیمہ کو کبھی شکایت کا موقع نہ دیا۔بلکہ اپنے اخلاق پسندیدہ اور اوصاف حمیدہ نے ان کے تمام خاندان کے لوگوں کے دل میں محبت کا ایسا گہرا نقش پیدا کیا کہ ان کو آپ کے دم بھر کی جدائی شاق ہو جاتی تھی آپ نے اپنی بھولی بھالی لیکن حقیقت پرورم باتوں اور محبت بھرے دل سے ان کے دل اپنی مٹھی میں لے لئے تھے۔اپنے رضائی بھائی اور بہن نے آپ کو ازحد محبت تھی اور کبھی ان کا دل میلا نہ کرتے تھے۔
    جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حلیمہ رضی اللہ عنہہ کے کاشانہ کو اپنی شمع وجود سے منور فرما رہے تھے تو آپ کے تعلق میں بہت سی عجیب و غریب باتیں اور مافوق العادت واقعات ظہور میں آئے جنہوں نے دیکھنے والوں کو انگشت بدنداں ہونے پر مجبور کر دیا۔ایک روز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی رضائی بہن شیما کے ہمراہ کہیں باہر نکل گئے حلیمہ کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عدم موجودگی کا پتہ چلا تو بہت گھبرائیں۔اور فورا آپ کی تلاش میں روانہ ہو گئیں۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی بہن کے ساتھ گھر کو تشریف لاتے ہوئے ملے۔حلیمہ کی جان میں جان آئی اور انہوں نے شیما کو بہت ڈانٹا کہ تو اس پھول سے بچے کو دھوپ میں لے کر کیوں آئی؟شیما نے کہا "اماں جان"ہم کو تو ذرا سی بھی دھوپ نہیں لگی۔ہم جس طرف بھی جاتے تھے ایک ابر ہم پر سایہ کئے رہتا تھا۔حلیمہ کو یہ سن کر زیادہ تعجب نہیں ہوا۔وہ پہلے سے ایسے بہت سے عجیب و غریب واقعات آپ کے تعلق سے دیکھ چلی تھیں اور جانتی تھیں کہ یہ ننھی سی ہستی کسی دن دنیا کی ایک جلیل القدر ہستی بننے والی ہے اور رحمت خداوندی اس کے شریک حال ہے۔
     
  14. فرح ناز
    آف لائن

    فرح ناز ممبر

    شمولیت:
    ‏26 مئی 2010
    پیغامات:
    236
    موصول پسندیدگیاں:
    2
    جواب: عرب کا چاند

    جملہ معترضہ
    قارئین کرام اتنی چھوٹی سی عمر میں اس ہونے والی عظیم الشان ہستی کو ایسی علوہمتی کو مشکوک نگاہوں سے نہ دیکھیں۔راقم الحروف کو اپنی گزشتہ زندگی پر طائرانہ نظر دالنے کے بعد کئی ایسے واقعات یاد آجاتے ہیں جو اس کے تین یا چار سال کی عمر سے تعلق رکھتے ہیں۔اور جن میں وہ کئی بڑے بڑے کاموں میں والدین کا ہاتھ بٹانے کی کوشش کرتا رہا ہے یہ تو ہم پست ہمت اور سست روحوں کی باتیں ہیں۔ورنہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نادرہ روزگار ہستیاں اس عمر میں بھی مافوق البشری کمالات کا اظہار کریں تو کوئی تعجب انگیز بات نہیں ہے۔
    مشہور ہندو مصلح شنکر اچاریہ نے اپنی آٹھ سال کی عمر میں چاروں ویدوں کو پڑھ کر اس کی فلاسفی میں کمال حاصل کر لیا تھا دس سال کی عمر ہسدوستان کے طول و عرض میں کوئی ہندووں کا پنڈت ایسا نہ تھا جو اس نو عمر عالم کے ساتھ بحث و مباحثہ کر کے اس پر فتح حاصل کر سکے۔بات یہ ہے کہ یہ نادرہ روزگار ہسپتال مبدہ فیاض سے دل و دماغ کی غیر معمولی قوتیں لے کر آتی ہیں۔
    تحریر ختم ہو چکی ہے امید ہے پڑھنے والوں کو کافی کچھ سیکھنے کو ملا ہو گا اور آپ نے سیکھا بھی ہو گا،،،،،،دعاگو ہوں اللہ تمام مسلمانوں کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا عاشق بنا دے اور ان کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین،،،،،
     
  15. ھارون رشید
    آف لائن

    ھارون رشید برادر سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏5 اکتوبر 2006
    پیغامات:
    131,462
    موصول پسندیدگیاں:
    16,833
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: عرب کا چاند

    اللہ کریم آپ کی کاوش کو قبول کریں اور ہم سب کو سرکار کل عالم صلےٰ اللہ علیہ وسلم کی سچی اطاعت کی توفیق عطا فرمائیں
     
  16. عارف عارف
    آف لائن

    عارف عارف ممبر

    شمولیت:
    ‏13 جنوری 2010
    پیغامات:
    729
    موصول پسندیدگیاں:
    2
    جواب: عرب کا چاند

    :salam:

    جزاک اللہ خیرا
    بہت پیاری تحریر ھے
    بہت بہت بہت شکریہ آپکا
     
  17. بزم خیال
    آف لائن

    بزم خیال ناظم سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏12 جولائی 2009
    پیغامات:
    2,753
    موصول پسندیدگیاں:
    334
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: عرب کا چاند

    [​IMG]

    تحریر پڑھ کر جھوم اٹھے بہت شکریہ
     
  18. خوشی
    آف لائن

    خوشی ممبر

    شمولیت:
    ‏21 ستمبر 2008
    پیغامات:
    60,337
    موصول پسندیدگیاں:
    37
    جواب: عرب کا چاند

    جزاک اللہ
    اس خوبصورت تحریر کو شئیر کرنے کا بے حد شکریہ ناز جی ، اللہ تعالی آپ کو اپنی رحمتوں سے نوازے
     
  19. ملک بلال
    آف لائن

    ملک بلال منتظم اعلیٰ سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏12 مئی 2010
    پیغامات:
    22,159
    موصول پسندیدگیاں:
    7,385
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: عرب کا چاند

    سبحان اللہ
    ماشاء اللہ
    جزاک اللہ
     
  20. فرح ناز
    آف لائن

    فرح ناز ممبر

    شمولیت:
    ‏26 مئی 2010
    پیغامات:
    236
    موصول پسندیدگیاں:
    2
    جواب: عرب کا چاند

    ھارون رشید صاحب۔عارف عارف صاحب۔بزم خیال صاحب۔خوشی صاحب۔ملک بلال صاحب۔سب نے تحریر پڑھی اور پسند کی،،،،سب کا شکریہ،،،،
     
  21. معصوم
    آف لائن

    معصوم ممبر

    شمولیت:
    ‏27 مئی 2010
    پیغامات:
    59
    موصول پسندیدگیاں:
    0
    جواب: عرب کا چاند

    جزاک اللہ خیرا۔بہت پیاری تحریر ھے۔تحریر بھیجنے کا شکریہ:a191:
     
  22. کنورخالد
    آف لائن

    کنورخالد ممبر

    شمولیت:
    ‏17 مئی 2010
    پیغامات:
    648
    موصول پسندیدگیاں:
    4
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: عرب کا چاند

    بس اتنا کہنا ھے کے
    کی محمد(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے وفا تو نے تو ھم تیرے ھیں
    یہ جہاں چیز ھے کیا لوح و قلم تیرے ھیں
    آپ وفا کر کے تو دیکھیں
     
  23. فرح ناز
    آف لائن

    فرح ناز ممبر

    شمولیت:
    ‏26 مئی 2010
    پیغامات:
    236
    موصول پسندیدگیاں:
    2
    جواب: عرب کا چاند

    معصوم صاحب۔کنور خالد صاحب۔آپ دونوں کا شکریہ،،،،،
     
  24. نعیم
    آف لائن

    نعیم مشیر

    شمولیت:
    ‏30 اگست 2006
    پیغامات:
    58,094
    موصول پسندیدگیاں:
    11,138
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: عرب کا چاند

    فرح ناز بہن ۔ اتنی ایمان افروز تحریر ہم تک منتقل فرمانے کے لیے بہت شکریہ ۔
    اللہ تعالی ہم سب کو اپنے پیارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سچی محبت اور اتباع کی توفیق دے۔ آمین
     
  25. فرح ناز
    آف لائن

    فرح ناز ممبر

    شمولیت:
    ‏26 مئی 2010
    پیغامات:
    236
    موصول پسندیدگیاں:
    2
    جواب: عرب کا چاند

    نعیم شیر صاحب آپ نے تحریر کو پڑھا پسند کیا شکریہ،،،،
     
  26. زاہرا
    آف لائن

    زاہرا ---------------

    شمولیت:
    ‏17 نومبر 2006
    پیغامات:
    4,208
    موصول پسندیدگیاں:
    11
    جواب: عرب کا چاند

    فرح بہن۔ آپ نے بہت پیاری باتیں لکھیں۔ اللہ آپکو بہت جزا دے۔ آمین
     
  27. فرح ناز
    آف لائن

    فرح ناز ممبر

    شمولیت:
    ‏26 مئی 2010
    پیغامات:
    236
    موصول پسندیدگیاں:
    2
    جواب: عرب کا چاند

    زاہرا صاحبہ آپ نے پسند کیا شکریہ،،،،،
     
  28. نادیہ۔رضا
    آف لائن

    نادیہ۔رضا ممبر

    شمولیت:
    ‏25 اپریل 2009
    پیغامات:
    1,091
    موصول پسندیدگیاں:
    1
    جواب: عرب کا چاند

    فرح ناز جی اس ایمان افروز تحریر کو ہم تک پہنچانے پر شکریہ:222:
     
  29. فرح ناز
    آف لائن

    فرح ناز ممبر

    شمولیت:
    ‏26 مئی 2010
    پیغامات:
    236
    موصول پسندیدگیاں:
    2
    جواب: عرب کا چاند

    نادیہ صاحبہ اپ نے پسند کی شکریہ،،،،
     
  30. حسن رضا
    آف لائن

    حسن رضا ممبر

    شمولیت:
    ‏21 جنوری 2009
    پیغامات:
    28,857
    موصول پسندیدگیاں:
    592
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: عرب کا چاند

    فرح جی بہت ہی اچھی تحریر ہے شکریہ شیئر کرنے کا اللہ تعالی آپ کو جزا عطاء فرمائے آمین

    امید ہے آپ آئندہ بھی اس بزم کو ایسی تحریروں سے نوازتی رہیں گی ۔ انشاءاللہ
     

اس صفحے کو مشتہر کریں