1. اس فورم پر جواب بھیجنے کے لیے آپ کا صارف بننا ضروری ہے۔ اگر آپ ہماری اردو کے صارف ہیں تو لاگ ان کریں۔

صحرا سے پوچھتا ہے کوئی سوگوار پیڑ

'اردو شاعری' میں موضوعات آغاز کردہ از intelligent086, ‏12 دسمبر 2020۔

  1. intelligent086
    آف لائن

    intelligent086 ممبر

    شمولیت:
    ‏28 اپریل 2013
    پیغامات:
    6,400
    موصول پسندیدگیاں:
    776
    ملک کا جھنڈا:
    صحرا سے پوچھتا ہے کوئی سوگوار پیڑ
    کیا اَب بھی ڈھونڈتے ہیں مجھے سبزہ زار، پیڑ؟
    مٹی میں اتنی تاب کہاں پیڑ بن سکے
    دیوار سے نکال کوئی سایہ دار پیڑ
    تہذیب اپنی آپ نمو کر رہی ہے آج
    پیپل سے اُگ پڑے ہیں کھجوروں کے چار پیڑ
    بڑھتے چلو کہ راہ نکل آئے خود بخود
    اُگتے ہیں جیسے دوست سرِ کوہسار پیڑ
    پھولوں کی جستجو میں ہتھیلی ہے تار تار
    دنیا ہو جیسے دست میں اک خاردار پیڑ
    بوئے ہیں میں نے بیج روّیوں کی فصل کے
    دیکھے گی اگلی نسل جہاں بے شمار پیڑ
    اے وقت، اے عظیم درختوں کی خود نوشت
    فہرست میں ہے اب بھی کوئی شاندار پیڑ
    اس نے چھوا تھا باغ میں بس ایک پیڑ کو
    اب تک کھڑے ہوئے ہیں وہاں مشکبار پیڑ
    گو تم نے اپنی ذات کے عرفان کے لیے
    انسان کی بجائے کیا اختیار پیڑ
    تاریخ انقلاب کی محتاج کب ہوئی
    پتھر سے اُگ پڑے ہیں کئی شاہکار پیڑ
    وحشت کی تیز دھوپ نے جھُلسا کے رکھ دیا
    یا رب کوئی فلک سے ہی مجھ پر اُتار پیڑ
    ہجرت کے وقت باپ نے مجھ سے کہا منیرؔ
    ساماں تو سب سمیٹ لیا اور یار، پیڑ؟
    منیر جعفری​
     

اس صفحے کو مشتہر کریں