1. اس فورم پر جواب بھیجنے کے لیے آپ کا صارف بننا ضروری ہے۔ اگر آپ ہماری اردو کے صارف ہیں تو لاگ ان کریں۔

شبیہِ حُجرۂ وحشت بنا کے لایا تھا

'اردو شاعری' میں موضوعات آغاز کردہ از intelligent086, ‏12 نومبر 2019۔

  1. intelligent086
    آف لائن

    intelligent086 ممبر

    شمولیت:
    ‏28 اپریل 2013
    پیغامات:
    2,126
    موصول پسندیدگیاں:
    234
    ملک کا جھنڈا:
    شبیہِ حُجرۂ وحشت بنا کے لایا تھا
    پھر اُس کے بعد پرندے نے گھر بنایا تھا
    لہو کا رنگ یقینا” سفید ہے بھائی!
    کہ اُس ذلیل نے ماں پر بھی ہاتھ اُٹھایا تھا
    ہوا سے باندھ کے بن میں گھسیٹ لایا ہوں
    مرے چِراغ نے تیرا مذاق اُڑایا تھا
    میں سینہ تان کے نکلا تھا جانبِ مقتل
    کئی ہزار دعاؤں کا مجھ پہ سایہ تھا
    یہاں پہ رقص کا مطلب ہے زندگی پیارے!
    کہ اس جگہ مرے مُرشد نے سر جھُکایا تھا
    مرے پڑوس میں رہتی ہے وہ پری پیکر
    سُنا ہے جس نے محبت میں زہر کھایا تھا
    حیا فروش محلّے کی عورتوں نے مجھے
    تمھارے نام سے چھیڑا تھا ، ورغلایا تھا
    مجھے تو آج بھی لگتا ہے میں پرندہ ہوں
    کہ مجھ پہ بانجھ درختوں نے حق جتایا تھا
    افتخار فلک​
     

اس صفحے کو مشتہر کریں