1. اس فورم پر جواب بھیجنے کے لیے آپ کا صارف بننا ضروری ہے۔ اگر آپ ہماری اردو کے صارف ہیں تو لاگ ان کریں۔

سیرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا مطالعہ - کیوں؟ (دوسرا حصہ)

'سیرتِ سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم' میں موضوعات آغاز کردہ از دیوان, ‏24 جون 2015۔

  1. دیوان
    آف لائن

    دیوان ممبر

    شمولیت:
    ‏21 فروری 2008
    پیغامات:
    63
    موصول پسندیدگیاں:
    56
    چو تھی خصو صیت
    یہ صرف محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت ہے جو ہمیں وہ دلیلیں فراہم کرتی ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت اور نبوت کی سچائی میں کوئی شبہ باقی نہیں رہنے دیتیں۔ یہ ایک انسان کامل کی سیر ت ہے جو اپنی دعوت کو لے کر مر حلہ وار آگے بڑھا۔ معجزوں کے بل پر نہیں بلکہ فطری طریقے سے سارے مراحل طے کیے۔ دعوت دی تو ستا ئے گئے۔ تبلیغ کی تو ساتھیوں کی جماعت فراہم ہوئی۔ فاقے کیے، وطن چھوڑا۔جنگ پر مجبور ہوئے تو اس سے بھی نہ رکے۔ خود زخم کھائے ساتھیوں نے جانیں قربان کیں، آپ کی قیادت حکمت اور عقل مندی کا شاہکار تھی۔ چنانچہ جس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی ہے آپ کی دعوت تلوار کے زور پر نہیں بلکہ دعوت و عمل کے راستے سے پورے عر ب پر چھا چکی تھی۔ جس شخص کو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کی تاریخ معلوم ہے وہ جانتا ہے کہ عربوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی جس طر ح مخالفت کی، آپ کو قتل کرنے کی جو سازشیں کیں، آپ پر جنگ مسلط کی۔ اس کے باوجود ہر معرکہ میں افرا د اور اسلحہ کی کمی کے باوجود آپ کو فتح نصیب ہوئی، صلح اور معاہدوں کو تا وفات آپ نے جس طرح نبھایا اور تئیس (۲۳) سال کی مختصر مدت میں جس طرح آپ کی دعوت پھیلی، اور جو قوت و طاقت حاصل ہوئی وہ اس وجہ سے ہوئی کہ آپ درحقیقت اﷲ کے نبی تھے اور یہ کہ جو شخص جھوٹا ہو اس کی اس طرح کی مدد اللہ نہیں کر سکتا۔ چنانچہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت عقل کی بنیاد پر بھی اپنی نبوت کی سچائی و حقانیت ثابت کرتی ہے۔
    یہاں یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ جو معجزات آپ سے صادر ہوئے، وہ عربوں کے ایمان لانے کا بنیادی سبب نہیں تھے بلکہ ہمیں کوئی ایسا معجزہ نظر نہیں آتا جس کی وجہ سے کافروں نے اسلام قبول کر لیا ہو، بلکہ جو لوگ بھی مسلمان ہوئے عقل و وجدان کے اطمینان کے ذریعہ ہی مسلمان ہوئے۔ اور جب کفار قریش نے پچھلی قوموں کی طرح معجزات کا مطالبہ کیا تو اﷲ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا کہ جواب میں کہیں:
    {اور انھوں نے کہا ہم تیری بات نہ مانیں گے جب تک کہ تو ہمارے لیے زمین کو پھاڑ کر ایک چشمہ جاری نہ کر دے یا تیرے لیے کھجوروں اور انگوروں کا ایک باغ پیدا ہو اور تو اس میں نہریں نکال دے۔ یا تو آسمان کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے ہمارے اوپر گرا دے جیسا کہ تیرا دعویٰ ہے یا اللہ اور فر شتوں کو ہمارے سامنے لے آئے یا تیرے لیے سونے کا ایک گھر بن جائے یا تو آسمان پر چڑھ جائے، اور تیرے چڑھنے کا بھی ہم یقین نہ کریں گے جب تک کہ تو ہمارے پاس ایک ایسی تحریر نہ ا تار لائے جسے ہم پڑھیں، اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان سے کہو: پاک ہے میرا پروردگار،کیا میں ایک پیغام لانے والے انسان کے سوا اور کچھ بھی ہوں۔} (بنی اسرائیل:۹۰تا۹۳)
    مزید یہ کہ معجزات بس دیکھنے والوں کے خلاف ہی دلیل بن سکتے ہیں اور بعد کے جن لوگوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں دیکھا، نہ آپ کے معجزات کو دیکھا وہ محض عقلی و قطعی دلائل کی وجہ سے آپ پر ایمان لائے اور ان عقلی دلائل میں سرفہرست قرآن کر یم ہے۔ یہ کتاب ایک عقلی معجزہ ہے جو ہر انصاف پسند اور صاحب عقل کو اس امر پر مجبور کر دیتی ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی صدق و سچّائی اور نبوت و رسالت کی صداقت پر ایمان لائے۔ سورہ عنکبوت میں اﷲ تعالیٰ صاف کہتا ہے :
    {یہ لوگ کہتے ہیں کہ کیوں نہ ا تاری گئیں اس شخص پر نشانیاں اس کے رب کی طرف سے؟ کہو نشانیاں تو اﷲ کے پاس ہیں اور میں صرف خبردار کرنے والا ہوں کھول کھول کر۔ اور کیا ا ن لوگوں کے لیے یہ نشانی کافی نہیں ہے کہ ہم نے تم پر کتاب نازل کی جو انہیں پڑھ کر سنائی جاتی ہے؟ درحقیقت اس میں رحمت ہے اور نصیحت ان لوگوں کے لیے جوایمان لاتے ہیں۔} (عنکبوت:۵۰،۵۱)
    جو شخص قرآن کا مطالعہ گہرائی سے کرے گا وہ یہ محسوس کرے گا کہ اس کتاب نے اطمینان وسکون بخشنے کے لیے عقل کے فیصلے، محسوس و نظر آنے والے مناظر اور مکمل معرفت کا سہارا لیا ہے کیونکہ رسول امی تھے اور اس ا میّت کو قرآن نے آپ کی نبوت کی صداقت پر دلیل کے طور پر پیش کیا ہے۔
    آپ کی سیرت اس حوالے سے تمام دوسرے انبیاء کی سیرتوں سے قطعی مختلف ہے جن کی سیرتیں ہمیں بتاتی ہیں کہ عوام ان پر ایمان اسی وقت لا ئے جب ان کے ہاتھوں انہوں نے معجزات و خوارق دیکھ لیے۔ ان کی دعوت کے اصولوں اور قواعد کی سچائی میں انہوں نے عقل کے فیصلہ کو نہیں مانا۔ اس کے برخلاف آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر کوئی ایک فرد بھی معجزات یا خارق عادت کسی چیز کو دیکھ کر ایمان نہیں لایا اسی طرح قرآن بالکل واضح اعلان کرتا ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم انسان ہیں، رسول ہیں اور یہ کہ رسالت کے دعوے میں معجزات و خوارق پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا۔ وہ تو عقلوں اور دلوں کو مخاطب کرتا ہے:
    {پس جسے اﷲ ہدا یت بخشنے کا ارادہ کرتا ہے اس کا سینہ اسلام کے لیے کھول دیتا ہے۔} (انعام:۱۲۵)
    پا نچویں خصوصیت
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت انسانی زندگی کے تمام گوشوں اور شعبوں کے لیے تعلیمات دیتی ہے۔ یہ ہما رے سامنے اس نو جوان کی زندگی پیش کرتی ہے جو رسالت سے پہلے سچے اور امانت دار کی حیثیت سے پہچانا جاتا تھا۔ اس رسول کی زندگی ہمارے سامنے رکھتی ہے جو ایک اﷲ کی دعوت دیتا تھا اور اپنی دعوت کو پھیلانے کے لیے بہترین طریقے اختیار کرتا تھا۔ اپنے پیغام کو پہنچا نے میں ا نتہا درجہ کی طاقت اور صلاحیت اور محنت صرف کرتا تھا۔ اسی طرح ہمارے سامنے ایک ایسے سربراہ مملکت کی تصویر آ تی ہے جو اپنی مملکت کے لیے بہترین اور صحیح ترین انتظام کرتا تھا اور اپنی سمجھ داری اور ہوش مندی، اخلاص و صداقت کے ذریعہ اس کی حفاظت کرتا تھا جس سے اس کی کا میابی یقینی ہو جاتی تھی۔ اسی طرح ہمارے سامنے ایک ایسے نبی کی زندگی ہے جو شوہر تھا، باپ تھا، شفقت و محبت کا پیکر، معاملات کا درست شوہر، بیوی بچوں کے تمام حقوق و ذمہ داریوں کو ادا کرنے والا تھا۔ ا یسا رسول جو مرشد مربی تھا، اپنے ساتھیو ں کی ایسی مثالی تربیت کرتا تھا کہ اپنا دل ان کے دلوں میں اتار دیتا اور اپنی روح ا ن کی ارواح میں بسا دیتا تھا جس کی وجہ سے چھوٹے بڑ ے تما م معاملات میں اس کے حکم کی اتباع کرتے تھے۔ بہترین دوست جو دوستی کی ذمہ داریاں پہچانتا اور انہیں اچھی طرح ادا کرتا تھا جس کی وجہ سے اس کے ساتھی اس سے اپنی جان سے ز یادہ محبت کرتے تھے، ا پنے اہل عیال اورعزیزوں سے زیادہ اسے محبوب رکھتے تھے۔ ایک سپہ سالار، ایک کامیاب جج، ایک کامیاب معلم، ایک کامیاب رہبر، ایک کامیاب سیاسی قائد، امانت دار تا جر اور سچا معاہدہ کرنے والا، غرض یہ کہ اللہ کے رسول کی سیرت زندگی کے تمام گوشوں پر محیط ہے اور ہر داعی، ہر رہبر، ہر باپ، ہر شوہر، ہر دوست، ہر مربی، سیا ستداں، سربراہ مملکت وغیرہ کے لیے بہترین نمو نہ ہے۔
    ہم اس درجہ مکمل یا اس سے ملتی جلتی جامعیت کہیں نہیں پاتے۔ تاریخ ہمارے سامنے جن افراد کو کامیاب بنا کر پیش کرتی ہے وہ زندگی کے کسی ایک ہی میدان میں نمایاں ہوئے اور اس میں شہرت پائی۔ وہ تنہا انسان جو تمام طبقوں، گروہوں اور ہر فرد کے لیے نمونہ بن سکتا ہے بس محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شخصیت ہے۔
     
    پاکستانی55 اور ھارون رشید .نے اسے پسند کیا ہے۔
  2. ھارون رشید
    آف لائن

    ھارون رشید برادر سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏5 اکتوبر 2006
    پیغامات:
    131,673
    موصول پسندیدگیاں:
    16,910
    ملک کا جھنڈا:
  3. پاکستانی55
    آف لائن

    پاکستانی55 ناظم سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏6 جولائی 2012
    پیغامات:
    98,397
    موصول پسندیدگیاں:
    24,234
    ملک کا جھنڈا:

اس صفحے کو مشتہر کریں