1. اس فورم پر جواب بھیجنے کے لیے آپ کا صارف بننا ضروری ہے۔ اگر آپ ہماری اردو کے صارف ہیں تو لاگ ان کریں۔

سوہنی مہینوال

'اردو ادب' میں موضوعات آغاز کردہ از intelligent086, ‏27 دسمبر 2020۔

  1. intelligent086
    آف لائن

    intelligent086 ممبر

    شمولیت:
    ‏28 اپریل 2013
    پیغامات:
    6,489
    موصول پسندیدگیاں:
    777
    ملک کا جھنڈا:
    سوہنی مہینوال


    کہتے ہیں کہ شاہ جہاں کے دور حکومت میں یہاں ایک کمہار عطاء اللہ رہتا تھا اور تلا کے نام سے مشہور تھا۔ کوزہ گری کے فن میں وہ اس قدر طاق تھا کہ اس کے فنی کمالات کی شہرت نے اس کے اردگرد دولت کے انبار لگا دیئے تھے۔ دولت کے ساتھ ساتھ خدا تعالیٰ نے اسے ایک اور نعمت سے بھی نوازا تھا اور وہ اس کی چاند ایسی نوجوان خوبصورت بیٹی ’’ سوہنی‘‘ تھی۔اسی زمانے میں بلخ بخارا کے ایک دولت مند سوداگر کا بیٹا عزت بیگ سیرو تفریح کے لیے گجرات آیا۔ یہاں اس کے ایک دوست نے اس کی دعوت کی۔ دعوت کے دوران میں پیالیوں کا ذکر زیر بحث آیا۔عزت بیگ کو پیالیاں بہت پسند آئیں، اس نے بری تعریف کی نوکر جو پیالیاں خرید کر لایا تھا ،اس نے عزت بیگ سے مخاطب ہو کر کہا حضور پیالیوں سے تو پیالیاں بنانے والی زیادہ حسین ہے۔ یہ سن کر عزت بیگ کے دل میں سوہنی کمہارن کے حسن کا ایک عجیب خمار پیدا ہوا۔ وہ برتن خریدنے کے لیے تلے کے دکان پر آیا۔ اس کی دست کاری کے نمونوں میں قدرت کا شاہکار بھی دیکھا۔ سوہنی پر نظر پڑی۔ دونوں میں پیار کی آگ بھڑک اٹھی۔ عزت بیگ، تلے کے ہاں ملازم ہو گیا ۔ تلا نے بھینس رکھی ہوتئی تھیں، وہ بھینس چَرانے پر مامور ہو گیا اور مہینوال مشہور ہوا۔ لیکن ان کی محبت نے ابھی وحشت کا روپ بھی نہ دھارا تھا کہ اس بے رحم دنیانے ان کو رسوا کر نا شروع کردیا۔ سوہنی کے والدین تک جب یہ خبر پہنچی تو انہوں نے اس کی شادی کسی اور جگہ رچا دی ، مہینوال فقیر ہو گیا اور چناب کے کنارے جھونپڑی بنا کر رہنے لگا۔ وہ روزانہ رات کے وقت چناب کو عبور کرتا اور سوہنی سے چوری چوری ملاقات کر آتا۔ مچھلی سوہنی کو بہت مرغوب تھی۔ مہینوال روزانہ اس کے لیے مچلیاں بھون کر لاتا۔ روایت ہے کہ ایک رات مہینوال جب سوہنی سے ملنے کے لیے روانہ ہونے لگا تو اسے مچھلی یاد آگئی۔ اس نے بہت کوشش کی مگر تلاش بسیار کے باوجود مچھلی اسے ہاتھ نہ لگی۔ بالاخر اس نے اپنی ران سے گوشت کا ایک ٹکڑا کاٹا اور اسے بھون کر لے گیا۔ جب مہینوال‘ سوہنی کے پاس پہنچاتو اس میں قدرے نقاہت تھی، اس کی ٹانگوں سے خون بہہ رہاتھا۔ سوہنی والہانہ محبت کا یہ انداز دیکھ کر سہم گئی‘ اس نے مہینوال کو منع کر دیا کہ اب وہ اسے ملنے کے لیے نہ آیا کر ے بلکہ وہ خود گھڑے کے سہارے تیر کر آیا کرے گی چنانچہ روزانہ رات کو وہ گھڑے سے تیر کر مہینوال سے ملنے آتی۔ بظاہر تیرنا بہت مشکل ہوتا لیکن اس کا جنون اور پھر سچی محبت اس کا بہت بڑا سہاراتھی۔ سوہنی کی نند کو جب ان ملاقاتوں کا علم ہوا تو اس نے ایک چال چلی اور پکے گھڑے کی جگہ وہاں ایک کچا گھڑا رکھ دیا۔ اگلی رات حسب معمول سوہنی چناب کے کنارے آئی تو آسمان پر مہیب بادلوں کا جھرمٹ تھا۔ فضا میں ہولناک طوفان کا شور بپا تھا۔ بجلی کوند رہی تھی۔ سوہنی مہینوال کو ملنے کے لیے اس قدر بیقرار تھی کہ اسے اپنی نند کی جعلسازی کا بھی احساس نہ ہوا۔ وہ دریا کی طرف بڑھی لیکن قبل اس کے کہ وہ اپنے محبوب سے ملتی ، موت کی ظالم لہروں نے اسے اپنی آغوش میں لے لیا۔ مہینوال بھی دور کنارے پر کھڑا یہ سب منظر دیکھ رہا تھا۔ اسے جب سوہنی کو بہتی ہوئی نعش نظر آئی تو وہ بھی بے خوف و خطر دریا میں کود پڑا اور ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اپنی سوہنی سے مل گٖیا۔​
     

اس صفحے کو مشتہر کریں