1. اس فورم پر جواب بھیجنے کے لیے آپ کا صارف بننا ضروری ہے۔ اگر آپ ہماری اردو کے صارف ہیں تو لاگ ان کریں۔

سلطان صلاح الدین ایوبی اور گستاخ رسولﷺ

'متفرقات' میں موضوعات آغاز کردہ از intelligent086, ‏15 فروری 2020۔

  1. intelligent086
    آف لائن

    intelligent086 ممبر

    شمولیت:
    ‏28 اپریل 2013
    پیغامات:
    4,596
    موصول پسندیدگیاں:
    738
    ملک کا جھنڈا:
    سلطان صلاح الدین ایوبی اور گستاخ رسولﷺ


    ۔1179ء میں مسلمانوں کا ایک قافلہ شام سے مصر کی طرف معمول کے سفر پر تھا ،یہ ان دنوں کی بات ہے جب صلاح الدین کی ایوبی سلطنت پر حکومت تھی کہ راستہ میں صلیبی جنرل جس کا نام برنس تھا جو نصرانی حکمران تھا نے اپنے ساتھیوں کے ہمرا قافلہ کو روکا اور ان سے مال و اسباب سمیت سب مویشی ضبط کر لئے۔
    تقریباََ دو لاکھ دینار لوٹ لیے ۔اس بے بس قافلے میں عورتیں اور بچے بھی سوار تھے، ان سب کو بے دردی سے لوٹا گیا۔یہ صلح کا دور تھا ، بیت المقدس اور یروشلم کا حکمران عیسائی تھا جس کا نام بالڈون تھا۔کچھ عرصہ بعد اس واقعہ کی اطلاع صلاح الدین ایوبیؒ تک پہنچی ،وہ ان دنوں شدید علیل تھے ۔طبیعت اس قدر ناساز تھی کہ گھر سے باہر نہیں جاسکتے تھے ۔صلاح الدین ایوبیؒ نے اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائی کہ یا پروردگار مجھے صحت نصیب فرما اور مجھے اس وقت تک موت نہ دینا جب تک بیت المقدس کی آزادی نصیب نہ ہو ۔مجھے اس گستاخ رسولﷺ صلیبی جرنل برنس کو شکست دینے کی توفیق عطا فرما۔
    صلاح الدین ایوبی کی یہ دعا اللہ تعالیٰ نے قبول فرمالی ۔ صلاح الدین صحت یاب ہوگئے۔ مورخ لکھتے ہیں کہ صلاح الدین 2سال تک سیدھے لیٹ کر نہیں سوئے ،وہ ہر وقت غم و غصہ میں رہتے کہ کب اس جنرل برنس کا سامنا ہو۔ وقت گزرتا گیا۔1183ء میں صلاح الدین ایوبیؒ نے پوری طاقت کے ساتھ صلیبی فوجوں کا مقابلہ کیا اور بیت المقدس آزاد کروالیا جب جنگ کا اختتام ہوا تو بیت المقدس کے باہر صلاح الدین ایوبی ؒکھڑے ہو گئے اور اپنے ساتھیوں کو حکم دیا کہ برنس کو تلاش کرکے میرے پاس لائو۔ تمام جنگی قیدی خیموں میں محصور کر دیئے گئے انہیں حکم دیا گیا جو جانا چاہتا ہے ،چلا جائے ، جو یہاں قیام کرنا چاہتا ہے قیام کرے ۔صلاح الدین ایوبیؒ کے ساتھی جنرل برنس کو تلاش کرتے رہے۔ وہ ایک خیمہ میں چھپا بیٹھا تھا ۔اس کو پکڑاگیا اور صلاح الدین ایوبیؒ کے پاس لے گئے جب صلاح الدین ایوبیؒ کی نظر اس گستاخ پر پڑی تو آپ فوری کھڑے ہوگئے اور چہرے پر شدید غم و غصہ کے ساتھ بولے ۔۔میں تجھے بہت عرصے سے تلاش کر رہا تھا تو نے کہا تھا،’’ کہاں ہیں پیغمبر ﷺ؟ ۔سن ، آپﷺ نے مجھے بھیجا ہے ‘‘۔جنرل خوف سے کانپ رہا تھا ،صلاح الدین ایوبیؒ آگے بڑھے اور اس کا سر تن سے جد اکر دیا ۔
    صلاح الدینؒ نے اپنے ساتھیوں کو حکم دیا کہ تمام جنگی قیدیوں سے کہہ دو کہ فتح مکہ کی پیروری کرتے ہوئے فتح بیت المقدس کے موقع پر سب کو معافی ہے۔ آپ لوگ جا سکتے ہیں ۔ جنگی قیدی آہستہ آہستہ روانہ ہوگئے ،پورا فلسطین اور بیت المقدس آزاد ہوگیا۔ صلاح الدین ایوبیؒ کی خواہش فلسطین اور بیت المقدس آزاد ہونے سے پوری ہوگئی۔ صلاح الدین ایوبیؒ کی دوسری خواہش تھی کہ وہ مکہ کی طرف ہجرت کریں اور حج کا فریضہ ادا کریں لیکن نہ کر سکے کیونکہ ان کے پاس اتنے پیسے ہی نہ تھے ۔وفات کے دن گھر سے تقریباََ دو دینار ملے، ان کے سواکچھ نہ تھاجسے فروخت کر کے کفن دفن کیا جاسکے۔ لیکن خلفائے راشدینؓ کے بعد مسلمان قوم پر اگر کوئی کاری ضرب لگی تو وہ تھی سلطان صلاح الدین ایوبیؒ کی وفات۔ صلاح الدین ایوبیؒ اکثر کہا کرتے تھے کہ سلطنت اسلامیہ کی کوئی حد نہیں تم نے جس روز خدا کے عظیم مذہب اسلام کو سرحدوں میں پابند کر لیااس روز سے یوں سمجھو کہ تم اپنے ہی قید خانے میں قید ہو جائو گے پھر تمہاری سرحدیں سکڑنے لگیں گی ـ۔خلفائے راشدینؓ کے بعد اگرطاغوت کا کسی نے مقابلہ کیا ہے تو وہ ہے صلاح الدین ایو بی ؒ جس کا نام سن کر آج بھی پورا یورپ اور یہودی کانپ اٹھتے ہیں۔

    فلسطین کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی سازش
    تحریر : نصیر احمد ورک
    سے انتخاب
     

اس صفحے کو مشتہر کریں