1. اس فورم پر جواب بھیجنے کے لیے آپ کا صارف بننا ضروری ہے۔ اگر آپ ہماری اردو کے صارف ہیں تو لاگ ان کریں۔

ستائیسویں پارے کا خلاصہ .... علامہ ابتسام الہی ظہیر

'متفرقات' میں موضوعات آغاز کردہ از intelligent086, ‏21 مئی 2020۔

  1. intelligent086
    آف لائن

    intelligent086 ممبر

    شمولیت:
    ‏28 اپریل 2013
    پیغامات:
    3,742
    موصول پسندیدگیاں:
    541
    ملک کا جھنڈا:
    ستائیسویں پارے کا خلاصہ .... علامہ ابتسام الہی ظہیر

    قرآن پاک کے ستائیسویں پارے کا آغاز سورہ اَلذَّارِیَات سے ہوتا ہے ۔اس سورت میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے انسانوں اور جنات کی تخلیق کے مقصد کا بھی ذکر کیا ہے کہ جنات اور انسان کی تخلیق کا مقصد صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت اور بندگی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ نہ تو مجھے ان سے رزق کی طلب ہے اور نہ میں نے کبھی ان سے کھا نامانگا ہے ۔
    اس کے بعد سور ت طور ہے ۔سورہ طور میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے طور پہاڑ‘ بیت معمور‘ بلندو بالا آسمان ‘سمندر کی لہروں اور کتاب مقدس کی قسم اٹھا کر کہا ہے کہ قیامت کا دن ضرور آ ئے گا اور اس دن پہاڑ چلنے لگیں گے اس دن یوم جزا کو جھٹلانے والوں کو جہنم کی آگ کا سامنا کرنا پڑے گا اور ان کو کہا جائے گا کہ یہ وہ آگ ہے ‘جس کا تم انکار کیا کرتے تھے ۔
    اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اس بات کاذکرکیاہے کہ اہل تقویٰ جنت اورنعمتوں میں پروردگارکی عطاؤں سے بہرہ مندہورہے ہوں گے اوران کارب ان کوعذاب جہنم سے بچالے گا ۔ان سے کہاجائے گا کہ اپنے اعمال کے بدلے جوجی چاہے کھاؤ اورپیواوروہ ایک دوسرے سے جُڑے قطارمیں بچھے تختوں پرٹیک لگائے ہوں گے اوراللہ تعالیٰ کشادہ اوربڑی آنکھوں والی حوروںکوان کی زوجیت میں د ے گااوراہل ایمان کی اولاد نے بھی ‘اگر ایمان اوراعمال صالحہ میں اپنے آباکی پیروی کی ہوگی‘ تواللہ تعالی جنت میں ان کی اولاد کوان سے ملادیں گے۔
    اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے اس امر کا بھی ذکر کیا ہے کہ رسول کریم ﷺ نہ تو(معاذ اللہ) کاہن تھے اور نہ ہی شاعر ۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اگر کافر اپنے الزامات میں سچے ہیں تو ان کو چاہیے کہ قرآن مجید جیسی کو ئی بات پیش کریں۔ جو لوگ اللہ تعالیٰ کو نہیں مانتے ‘ان کو سوچنا چاہیے کہ ان کو کس نے بنایا ہے یا وہ خو د ہی اپنے خالق ہیں‘ در حقیقت اللہ تعالیٰ کی ذات کا انکار کرنے والوں کے دلائل انتہائی کمزور اور کھوکھلے ہیں ۔
    اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کو صبر کی تلقین بھی کی اور کہا کہ آپ اپنے پروردگار کے حکم پر صبر کریں‘ بے شک آپ میری آنکھوں کے سامنے ہیں ‘یعنی جو صبر بھی رسول کریمﷺ کریں گے ۔اللہ تعالیٰ اس سے بخوبی آگاہ ہوں گے اور اللہ تعالیٰ کی محبت اورمعیت ہمیشہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہوتی ہے ۔سورہ طور کے بعد سورہ النجم ہے اور سورہ النجم میں پروردگار عالم نے فرمایا ہے کہ رسول اللہ ﷺ اس وقت تک کوئی کلام نہیں کرتے ‘جب تک مالک کائنات ان پر وحی کا نزول نہیں فرماتے ۔اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے رسول کریم ﷺ کے سفر معراج کا بھی ذکر کیا ہے اور یہ بھی ارشاد فرمایا ہے ‘کے انہوں نے سفر معراج میں اپنے پروردگار کی بہت سی نشانیوں کو دیکھاتھا ‘اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کیا جو میرے بندے نے اپنی آنکھوں سے دیکھا تم اس پر شک کرتے ہو؟
    اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے اہل کفرکے اس باطل عقیدے کابھی ذکرکیاہے کہ وہ فرشتوں کوعورتیں قراردیتے تھے ۔ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ جولوگ آخرت پرایمان نہیں لاتے ‘وہ فرشتوں کوعورتیں قراردیتے ہیں اوران کے پاس اس حوالے سے کچھ بھی علم نہیں۔ وہ لوگ صرف وہم اورگمان کی پیروی کرتے ہیں‘جبکہ گمان حق کے مقابلے میں کوئی فائدہ نہیں دیتا۔
    اس سورت میں اللہ تعا لیٰ نے فرمایا کہ جو لوگ کبیرہ گناہوں اور فحاشی کے کاموں سے اجتناب کرتے ہیں‘ اللہ تعالیٰ ان کو معاف فرمادے گا ساتھ ہی اللہ تعالیٰ نے اپنے علم کی وسعت کابھی ذکر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ انسانوں کو اس وقت سے جانتے ہیں ‘جب ان کے خمیروں کو مٹی سے اٹھایاگیا اور جب وہ اپنی مائوں کے پیٹوں میں جنین کی حیثیت سے موجود تھے ۔اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے ابراہیم علیہ السلام کے صحیفوں اور موسیٰ علیہ السلام پر نازل ہونے والی وحی کے اہم مضامین کا ذکر کیا کہ ان صحیفوں میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمادیا تھا کہ بے شک انسان کے لیے وہی کچھ ہے‘ جس کی وہ کوشش کرتا ہے اور وہ اپنی کوشش کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لے گا ۔
    اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کی مذمت کی ہے ‘جو قرآن مجید پر تعجب کرتے ہیں اور رونے کی بجائے ہنسی مذاق میں اپنا وقت بتا رہے ہیں اور موسیقی سننے میں اور دیگر لغویات میں اپنا وقت ضائع کر رہے ہیں ۔پس ‘اللہ تعالیٰ کے سامنے سجدہ ریز ہونا چاہیے اور اُسی کی عبادت کرنی چاہیے ۔
    اس کے بعد سورت القمرہے ‘ جس کے شروع میں اللہ تعالی ارشاد فرماتے ہیں کہ قیامت قریب آگئی اورچاندپھٹ گیا۔شق قمرکاواقعہ رسول اللہ ﷺ کی ہجرت سے تقریباً پانچ برس قبل رونماہوااورچاندجبل حراکے دونوں طرف ہوگیا۔ اتنی بڑی نشانی کودیکھ کر ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ کافرایمان لے آتے ‘لیکن وہ سرکشی پرتلے رہے‘ جس پراللہ تعالی نے اعلان فرمادیا۔ کفاراگرکوئی نشانی دیکھتے ہیں تومنہ پھیرلیتے ہیں اورکہتے ہیں کہ یہ توایک جادوہے ‘جوپہلے سے چلاآرہاہے ۔
    سورہ القمر میں اللہ تعالیٰ نے قوم نوح ‘ قوم لوط کا ‘قوم عاد اور قوم ثمود کا ذکر کیا کہ جو اللہ تعالیٰ کی نافرمانیوں کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کے غضب کا نشانہ بنے ۔قوم نوح پر سیلاب ‘قوم عاد پر ہوا‘ قوم ثمود پر چیخ اور قوم لوط پر پتھروں کی بارش کو برسایا گیا۔اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے متعدد مقامات پر اس حقیقت کا بھی ذکر کیا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کو سمجھنے والوں کے لیے آسان بنادیا پس ہے‘ کوئی جو نصیحت کو حاصل کرے ۔
    اس سورت میں اللہ تعالی نے متقیوں کے مقام کاذکرکیا کہ بے شک پرہیزگارلوگ جنت اورنہروں میں ہوں گے ‘اپنے حقیقی گھروں میں مقتدربادشاہ کے پاس ۔
    سورہ الرحمن میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ رحمن نے قرآن مجید سکھلایا‘ انسان کو بنایا اور اس کو بیان کرنے کی صلاحیت عطا فرمائی۔ سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کی تسبیح کو بیان کرتے ہیں اور ستارے اور درخت اللہ کو سجدہ کرتے ہیں۔ اسی نے آسمان کو بنایا اور ترازو کو قائم کیا ۔اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ انسانوں کو چاہیے کہ ترازو کو صحیح طریقے سے قا ئم کیا کریں اور تولنے میں کوتاہی نہ کیا کریں ۔اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے زمین کی تخلیق کا بھی ذکر کیا اور اس میں مختلف طرح کے پھلوں اور خوشبوئوں کو پیدا فرمایا اور انسانوں اور جنات کو مخاطب ہو کر کہاکہ تم دونوں گروہ پروردگار کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلائو گے ؟
    اللہ تبارک وتعالی نے اس سورت میں جنت کے حسین مناظرکوبیان کیا ہے کہ جوشخص اپنے رب کے مقام سے ڈرتاہے‘ اس کے لیے دوباغ ہیں۔وہ دونوں باغ سبز شاخوں والے ہوں گے۔ ان دونوں باغوں میں دوچشمے رواں ہوں گے۔ ان دونوں میں ہرپھل کی دوقسمیں ہوں گی ۔
    سورت کے آخر میں اللہ تبارک وتعالیٰ ذوالجلال والاکرام نے اپنے نام کے بابرکت ہونے کا بھی ذکر کیا ہے ۔
    سورہ الرحمن کے بعد سورہ واقعہ ہے ۔سورہ واقعہ میں اللہ تعالیٰ نے تین گروہوں کا ذکر کیا ۔ایک گروہ مقربین کا دوسرا عام جنتیوں کا اورتیسرا گروہ جہنمیوں کا ہے ۔مقربین کے لیے اللہ تعالیٰ نے ہر طرح کی نعمتوں کو تیار کیا ہے‘ جبکہ عام جنتی بھی اللہ تعالیٰ کی عنایات پر شاداں و فر حاں ہوں گے ‘جبکہ جہنمیوں کو تھوہر کا درخت کھانا پڑے گا‘ جس سے ان کے معدے ابل اورپگھل جائیں گے اور ان کو پیپ اور بھاپ والا پانی پلایا جائے گا ۔
    سورۃ واقعہ کے بعد سورہ الحدید ہے او ر سورہ حدید میں اللہ تعالیٰ نے اپنی صفات کا ذکر کیا کہ وہ اول بھی ہے اور آخر بھی اور ظاہر بھی ہے اور پوشیدہ بھی اور وہ ہر چیز کوجاننے والا ہے۔
    اس سورت میں اللہ تبارک وتعالیٰ نے صحابہ کرام ؓکی دو جماعتوں کا بھی ذکر کیا کہ فتح مکہ سے پہلے اسلام لانے والے صحابہؓ کا مقام فتح مکہ کے بعد ایمان لانے والوں کے مقابلے میں زیادہ ہے‘ لیکن دونوں گروہ جنتی ہیں ۔
    اس سورت میں اللہ تعالی نے اہل کتاب کی ایمانی حالت کابھی ذکرکیاہے کہ کتاب کے نزول کاایک عرصہ بیت جانے کے بعد ان کے دل سخت ہوگئے اوران کی اکثریت گناہ گارہوگئی۔ اللہ تعالیٰ اہل ایمان کوتلقین فرماتے ہیںکہ ان کی مانند مت ہوجانا۔ اللہ سے دعاہے کہ اللہ تعالی ہمیں قرآن مجید میں مذکورمضامین سے اورحقائق سے نصیحت حاصل کرنے کی توفیق دے ۔(آمین!)​
     

اس صفحے کو مشتہر کریں