1. اس فورم پر جواب بھیجنے کے لیے آپ کا صارف بننا ضروری ہے۔ اگر آپ ہماری اردو کے صارف ہیں تو لاگ ان کریں۔

سانس لیتا تو ہے اک پتھر میں تُو

'اردو شاعری' میں موضوعات آغاز کردہ از intelligent086, ‏23 نومبر 2019۔

  1. intelligent086
    آف لائن

    intelligent086 ممبر

    شمولیت:
    ‏28 اپریل 2013
    پیغامات:
    2,126
    موصول پسندیدگیاں:
    234
    ملک کا جھنڈا:
    سانس لیتا تو ہے اک پتھر میں تُو
    ڈھل بھی جا اب جسم کے پیکر میں تُو

    شاخ پر جیسے نظر آتا نہ تھا
    سج اٹھا ہے کوٹ کے کالر پہ تُو

    سوچتے رہتے ہیں تنہا رات بھر
    جاگتا شاید نہ ہو بِستر میں تُو

    نیند کیا آئے بھلا اِس فکر میں
    جانے باہر ہے یا اپنے گھر میں تُو

    ہِجر میں بھی وصل کا ہے امتزاج
    گویا منظر ہے پسِ منظر میں تُو
    ٭٭٭

    یاسمین حبیب​
     

اس صفحے کو مشتہر کریں