1. اس فورم پر جواب بھیجنے کے لیے آپ کا صارف بننا ضروری ہے۔ اگر آپ ہماری اردو کے صارف ہیں تو لاگ ان کریں۔

زبان کی خرابی

'ادبی طنز و مزاح' میں موضوعات آغاز کردہ از intelligent086, ‏24 اکتوبر 2019۔

  1. intelligent086
    آف لائن

    intelligent086 ممبر

    شمولیت:
    ‏28 اپریل 2013
    پیغامات:
    1,773
    موصول پسندیدگیاں:
    208
    ملک کا جھنڈا:
    زبان کی خرابی
    upload_2019-10-24_2-1-42.jpeg
    ابن انشا
    ہم لوگوں کے دلوں میں تو خیر بھانت بھانت کی بولیاں سنتے سنتے بڑی سمائی آ گئی ہے اور میرے کو، تیرے کو، ہم کہتا ہے، چھوٹا والا، بڑا والا…سب سن لیتے ہیں… لیکن بعض بزرگ اس معاملے میں اب بھی تانا شاہ ہیں۔ حضرت میر تقی میر کی طرح ایک صاحب آدھا بھاڑا دے کر تانگے میں کسی بھلے مانس کے شریک سفر ہو گئے تھے۔ اس نے راستے میں خلوص بگھارنے کے لیے علیک سلیک اور بات چیت کا ڈول ڈالنا چاہا۔ یہ بے مزہ ہو کر بولے کہ ’’… چپ بیٹھو۔ شریک سفر ہونے کا یہ مطلب نہیں کہ تم سے بات چیت بھی کریں۔ ہماری زبان خراب ہوتی ہے‘‘… ایسے لوگ آج کل کم ہیں پھر بھی ایک بزرگ کے متعلق سنا ہے ان کے سامنے کسی زبان سے چھاتی پر ماش دلنا یا چنے دلنا نکل گیا جبکہ محاورے میں چھاتی پر صرف مونگ دلنے کا حکم ہے۔ ان بزرگ نے افسوس میں ایک سانس اتنی کھینچی کہ دم نہ لوٹا۔ بیٹھے بیٹھے غریق رحمت ہو گئے۔ ہمارے ایک دوست جو کہ لکھنؤ کے رہنے والے ہیں، ہم سے اکثر آ کر شکایت کرتے ہیں کہ جناب ہم گھر میں بامحاورہ گفتگو کو ترس گئے ہیں۔ ہماری بیگم ہیں تو اہل زبان مگر تعلیم ان کی سینٹ جوزف سکول میں ہوئی ہے۔ ایک روز کسی نے دورانِ گفتگو ان کے سامنے کہہ دیا کہ ’’میرے تو ہاتھوں کے طوطے اڑ گئے۔‘‘ یہ اس کو پکڑ کر بیٹھ گئیں کہ کیسے اڑ گئے، کتنے طوطے تھے؟ کسی رنگ کے تھے؟ پھر مل گئے کہ نہیں؟… اب ان سوالوں کا جواب خضر کیسے بتائے، کیا بتائے؟ ایک دن تو غضب ہی ہو گیا۔ ہماری امی بازار سے آئیں اور گرانی کی شکایت کرنے لگیں کہ بازار میں جس چیز کو دیکھو آگ لگ رہی ہے۔ ہماری بیگم کے کانوں میں بھنک پڑی تو چونکیں اور اٹھ کر فائربریگیڈ والوں کو فون کر دیا کہ دوڑو… بازار میں آگ لگ رہی ہے… پھر نہ کہنا ہمیں خبر نہ ہوئی۔ بے شک یہ زمانہ زبان و ادب کے معاملے میں کم سوادی کا ہے۔ ہمارے ایک دوست کے پاس میٹرک کے اردو کے پرچے آتے ہیں۔ ایک روز ہم نے دیکھا کہ انہیں جانچتے جاتے ہیں اور زار و قطار روتے جاتے ہیں۔ سوال یہ تھا کہ فلاں فلاں محاوروں کو فقروں میں باندھو۔ مثلاً الو سیدھا کرنا، لائق طالب علم نے لکھا ’’ایک لڑکے کے پاس ایک لاجواب الّو تھا جس کی گردن ٹیڑھی تھی۔ وہ ایک پہلوان کے پاس گیا اور کہا۔ بھاجی میرا الّو سیدھا کر دو۔ اس نے جو زور لگایا تو گردن ٹوٹ گئی اور الو مر گیا۔‘‘ ایک محاورہ ہے ’’کچی گولیاں کھیلنا۔‘‘ اسے ایک عزیز نے ادب کے میدان میں یوں لڑھکایا کہ ’’آج صبح میں نے بھائی سے کہا آؤ کچی گولیاں کھیلیں۔ اس نے کہا جاؤ جاؤ میں کچی گولیاں نہیں کھیلتا۔ بارش ہو گئی تو سب کا ناس ہو جائے گا۔‘‘​
     

اس صفحے کو مشتہر کریں