1. اس فورم پر جواب بھیجنے کے لیے آپ کا صارف بننا ضروری ہے۔ اگر آپ ہماری اردو کے صارف ہیں تو لاگ ان کریں۔

ریچھوں کے بارے میں جانیں

'متفرقات' میں موضوعات آغاز کردہ از intelligent086, ‏10 اکتوبر 2019۔

  1. intelligent086
    آف لائن

    intelligent086 ممبر

    شمولیت:
    ‏28 اپریل 2013
    پیغامات:
    1,402
    موصول پسندیدگیاں:
    188
    ملک کا جھنڈا:
    ریچھوں کے بارے میں جانیں
    [​IMG]
    محمد ریاض

    چار پاؤں پر چلنے والے میمل جانور ریچھ کو ہمارے ہاں خاص اہمیت حاصل رہی ہے۔ کچھ عرصہ قبل تک انہیں گلیوں میں گھمانے یا کتوں سے لڑانے کا رواج عام تھا۔ اب ہم انہیں چڑیا گھروں میں دیکھتے ہیں۔ ریچھ قطب شمالی جیسے برفانی علاقے سے لے کر منطقہ حارہ کے جنگلوں تک مختلف ماحول میں پائے جاتے ہیں۔ انٹارکٹیکا کے علاوہ یہ ہر براعظم میں موجود ہیں۔ یہ کم گھنے جنگلات، گھاس کے میدانوں، صحراؤں وغیرہ میں پائے جاتے ہیں۔ ان کی عمر 20 سے 35 برس ہوتی ہے۔ چار کے علاوہ یہ انسانوں کی طرح دو ٹانگوں پر چلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ریچھ کی آٹھ بڑی انواع ہیں۔ ان انواع کی ظاہری صورت میں زیادہ فرق نہیں ہوتا۔ ریچھ کا رنگ اس کی نوع کے لحاظ سے ہوتا ہے۔ یہ سیاہ، بھورے، سفید اور سرخی مائل ہوتے ہیں۔ ان کا وزن اور قد بھی نوع کے لحاظ سے ہوتا ہے۔ چھوٹا سیاہ ریچھ (سن بیئر) 47 انچ لمبا ہوتا ہے اور اس کا وزن 37 پاؤنڈ ہوتا ہے۔ قطبی ریچھ کا قد تقریباً 10 فٹ ہوتا ہے اور وزن 1500پاؤنڈ ہوتا ہے۔ سائنس دانوں کے مطابق ریچھ کی آٹھ بڑی انواع کے علاوہ بہت سی ذیلی اقسام ہیں جو مختلف علاقوں میں بکھری پڑی ہیں۔ سیاہ امریکی ریچھ: یہ شمالی امریکا اور میکسیکو میں رہتا ہے۔ اس کی بنیادی خوراک پتے، کونپلیں، بیریز اور پھلیاں ہیں۔ سیاہ ایشیائی ریچھ: یہ جنوب مشرقی ایشیا اور روسی مشرق بعید میں رہتا ہے۔ اس کے سینے کی فر پر زرد اور سفید دھبے ہوتے ہیں۔ یہ سیاہ امریکی ریچھ سے جسم، عادات اور خوراک میں مشابہت رکھتا ہے۔ بھورا ریچھ: شمالی امریکا، یورپ اور ایشیا میں پائے جانے والے یہ ریچھ زمین پر سب سے بڑے گوشت خور جانوروں میں سے ہیں۔ ان کی بہت سی ذیلی اقسام ہیں۔ قطبی ریچھ:قطب شمالی کے یہ ریچھ برف کی سفید تہ پر رہنے اور یخ بستہ پانیوں میں تیرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ یہ وہاں سیل جیسے جانوروں کا شکار کرتے ہیں۔ جائنٹ پانڈا:یہ بھی ریچھ کی نسل سے ہے اور زیادہ تر بانس اور اس کے پتے کھا کر گزارا کرتا ہے۔ یہ چین کے بعض علاقوں میں پایا جاتا ہے۔ اس کا جسم سفید اور سیاہ ہوتا ہے۔ سلاتھ ریچھ:یہ جنوب مشرقی ایشیا کے گھاس اور سبزے کے میدانوں اور جنگلوں میں رہتا ہے۔ ان کے جسم پر فر کی موٹی تہ ہوتی ہے اور سینے پر سفید نشان ہوتے ہیں۔ سپکٹیگلڈ ریچھ: یہ ریچھوں کی واحد نوع ہے جو جنوبی امریکا کی مقامی ہے اور تین ہزار فٹ سے بھی اونچے بادلوں میں گھرے جنگلوں میں رہتی ہے۔ یہ ریچھ ساحلی صحراؤں میں بھی رہتے ہیں۔ انسانی آبادی کی وجہ سے ان کا علاقہ کم ہو گیا ہے۔ سن ریچھ: جنوب مشرقی ایشیا کے منطقہ حارہ کے زیریں جنگلات میں رہنے والے ان ریچھوں کی فر سب سے چھوٹی ہوتی ہے۔ ان کے سینے پر ہلکے سرخ اور بھورے نشان ہوتے ہیں۔ زیادہ تر ریچھ پھل، پودے، سبزیاں اور گوشت سب کھانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ قطبی ریچھ گوشت خور ہیں جبکہ پانڈا بانس کا شیدائی ہے۔ ریچھوں کی ایک بڑی تعداد شمالی علاقوں میں رہتی ہے اس لیے انہیں سخت سردیوں میں بقا کا اہتمام کرنا ہوتا ہے کیونکہ ان مہینوں میں خوراک کی قلت ہوتی ہے۔ ارتقا کے عمل سے ان میں طویل نیند یا ہائبرنیشن کی صلاحیت پیدا ہو چکی ہے۔ یہ گہری لمبی نیند سو جاتے ہیں جو کئی ماہ تک جاری رہ سکتی ہے۔ اس دوران ان کے دل کی دھڑکن اور نظام انہضام کی رفتار بہت سست ہو جاتی ہے۔ اگر انہیں اچھی طرح جگایا جائے تو یہ اس نیند سے بیدار ہو جاتے ہیں۔ فاسل کے ثبوتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ آئس ایج میں غاروں میں رہنے والے شیر طویل نیند سونے والے ریچھوں کا شکار کرتے تھے۔ البتہ بروقت جاگنے پر ریچھ شیر کو مار بھی ڈالتے تھے۔ ریچھ شاید دنیا میں سب سے زیادہ معاشرت کی نفی کرنے والے میمل ہیں۔ بالغ ہونے پر ریچھ کم و بیش بالکل تنہا زندگی بسر کرتے ہیں۔ نر اور مادہ ریچھ کی جسامت میں بہت زیادہ فرق ہوتا ہے۔ نر بہت بڑا ہوتا ہے اس کے باوجود مادہ بچوں کو بگڑے ہوئے نروں سے دلیری کے ساتھ بچاتی ہے۔ گزشتہ 10 ہزار برس سے انسان بلیوں، کتوں اور مویشیوں کو پالتو بناتا آ رہا ہے تو پھر ریچھ کو کیوں نہیں پالتو بنایا جاتا؟ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ ریچھ بالکل تنہائی پسند جانور ہے، یہ انسان کا کہا بڑی مشکل سے مانتا ہے، نیز دباؤ میں آنے پر جارحانہ رویہ بھی اختیار کرتا ہے۔

     

اس صفحے کو مشتہر کریں