1. اس فورم پر جواب بھیجنے کے لیے آپ کا صارف بننا ضروری ہے۔ اگر آپ ہماری اردو کے صارف ہیں تو لاگ ان کریں۔

ذہن پر اس طرح سے چھائے ہو

'اردو شاعری' میں موضوعات آغاز کردہ از intelligent086, ‏25 نومبر 2019۔

  1. intelligent086
    آف لائن

    intelligent086 ممبر

    شمولیت:
    ‏28 اپریل 2013
    پیغامات:
    2,159
    موصول پسندیدگیاں:
    236
    ملک کا جھنڈا:
    ذہن پر اس طرح سے چھائے ہو
    گاہ پیکر ہو گاہ سائے ہو

    بھول جانے کی آرزو کی ہے
    اور شدت سے یاد آئے ہو

    یوں بھی ہونے لگا جنوں میں کبھی
    میرے ہونٹوں سے مسکرائے ہو

    کس طرح میں تمہیں چھپا رکھوں
    تم مری روح میں سمائے ہو

    کیسے مانوں کہ تم نہیں میرے
    کیسے کہہ دوں کہ تم پرائے ہو

    میں سمندر کے پار کیا آؤں
    تم تو اک ساحلی سرائے ہو
    یاسمین حبیب​
     

اس صفحے کو مشتہر کریں